TrueHadith

نیند کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں سوجاتی اور دل بیدار رہتا تھا سعید بن میناء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔

Sahih BukhariHadith 3304

Narrated by Abu Salama bin 'Abdur-Rahman

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ قَالَتْ مَا کَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ قَالَ تَنَامُ عَيْنِي وَلَا يَنَامُ قَلْبِي

عبداللہ مالک سعید حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں کتنی رکعت نماز پڑھتے تھے؟۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گیارہ رکعت سے زیادہ نہ پڑھتے تھے نہ رمضان میں نہ غیر رمضان میں آپ چار رکعت پڑھتے تھے اس کی خوبی اور درازی کی کیفیت نہ پوچھو پھر چار رکعت نماز پڑھتے تھے تم ان کی خوبی اور درازی کی کیفیت نہ پوچھو اس کے بعد تین رکعت پڑھتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر پڑھنے سے پہلے آرام فرماتے ہیں۔ فرمایا میری آنکھ سو جاتی ہے لیکن میرا دل بیدار رہتا ہے۔

Narrated Abu Salama bin 'Abdur-Rahman: That he asked 'Aisha "How was the prayer of Allah's Apostle in the month of Ramadan?" She replied, "He used not to pray more than eleven Rakat whether in Ramadan or in any other month. He used to offer four Rakat, let alone their beauty and length, and then four Rakat, let alone their beauty and length. Afterwards he would offer three Rakat. I said, 'O Allah's Apostle! Do you go to bed before offering the Witr prayer?' He said, 'My eyes sleep, but my heart does not sleep."'

Permalink

Sahih BukhariHadith 3305

Narrated by Sharik bin 'Abdullah bin Abi Namr

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْکَعْبَةِ جَائَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَی إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَالَ أَوَّلُهُمْ أَيُّهُمْ هُوَ فَقَالَ أَوْسَطُهُمْ هُوَ خَيْرُهُمْ وَقَالَ آخِرُهُمْ خُذُوا خَيْرَهُمْ فَکَانَتْ تِلْکَ فَلَمْ يَرَهُمْ حَتَّی جَائُوا لَيْلَةً أُخْرَی فِيمَا يَرَی قَلْبُهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمَةٌ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ وَکَذَلِکَ الْأَنْبِيَائُ تَنَامُ أَعْيُنُهُمْ وَلَا تَنَامُ قُلُوبُهُمْ فَتَوَلَّاهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ عَرَجَ بِهِ إِلَی السَّمَائِ

اسماعیل برادر اسماعیل سلیمان شریک حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے ہم سے رات کی کیفیت بیان کی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کعبہ سے معراج ہوئی وحی نازل ہونے سے پیشتر تین شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے (اس وقت) آپ مسجد حرام میں سو رہے تھے تو ان تین شخصوں میں سے ایک نے کہا کہ وہ کون شخص ہیں دوسرے نے کہا جو درمیان میں ہیں وہی سب سے بہتر ہیں اور تیسرے نے کہا جو ان سب میں بہتر ہو۔ اسی کو لو پس اتنی ہی باتیں ہوئی تھیں کہ وہ غائب ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نہیں دیکھا پھر دوسری رات کو وہ آئے اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلب جاگ رہا تھا آپ کی ظاہری آنکھیں سو جاتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلب نہیں سوتا تھا تمام انبیاء کا یہی حال ہے کہ ان کی آنکھیں سوجاتی ہیں اور ان کے قلب نہیں سوتے پھر جبریل نے پورا انتظام و اہتمام اپنے ذمہ لیا اس کے بعد وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمان کی طرف چڑھا لے گئے۔

Narrated Sharik bin 'Abdullah bin Abi Namr: I heard Anas bin Malik telling us about the night when the Prophet was made to travel from the Ka'ba Mosque. Three persons (i.e. angels) came to the Prophet before he was divinely inspired was an Aspostle), while he was sleeping in Al Masjid-ul-Haram. The first (of the three angels) said, "Which of them is he?" The second said, "He is the best of them." That was all that happened then, and he did not see them till they came at another night and he perceived their presence with his heart, for the eyes of the Prophet were closed when he was asleep, but his heart was not asleep (not unconscious). This is characteristic of all the prophets: Their eyes sleep but their hearts do not sleep. Then Gabriel took charge of the Prophet and ascended along with him to the Heaven.

Permalink