TrueHadith

فرمان الٰہی بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف (یہ پیغام دیکر) بھیجا کہ اپنی قوم کو ان پر درد ناک عذاب آنے سے پہلے ڈرائیے۔ آخر سورت تک اور آیت کریمہ اور ان کو نوح علیہ السلام کا قصہ پڑھا کر سنائیے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم اگر تمہیں میرا مقام اور احکام الٰہی کی تمہیں نصیحت کرنا شاق گزرتا ہے مسلمین تک کا بیان۔

Sahih BukhariHadith 3089

Narrated by Ibn Umar

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَالِمٌ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَکَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنِّي لَأُنْذِرُکُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَکِنِّي أَقُولُ لَکُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ

عبدان عبداللہ یونس زہری سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں کھڑے ہو کر پہلے اللہ کی ایسی تعریف کی جس کا وہ مستحق تھا پھر دجال کا ذکر کر کے فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے اور نوح نے بھی اپنی قوم کو ڈرایا ہے لیکن میں تمہیں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی (اور وہ یہ ہے) کہ بیشک دجال کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔

Narrated Ibn Umar: Once Allah's Apostle stood amongst the people, glorified and praised Allah as He deserved and then mentioned the Dajjal saying, "l warn you against him (i.e. the Dajjal) and there was no prophet but warned his nation against him. No doubt, Noah warned his nation against him but I tell you about him something of which no prophet told his nation before me. You should know that he is one-eyed, and Allah is not one-eyed."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3090

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُحَدِّثُکُمْ حَدِيثًا عَنْ الدَّجَّالِ مَا حَدَّثَ بِهِ نَبِيٌّ قَوْمَهُ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّهُ يَجِيئُ مَعَهُ بِمِثَالِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ هِيَ النَّارُ وَإِنِّي أُنْذِرُکُمْ کَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ

ابو نعیم شیبان یحیی ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں دجال کے متعلق ایسی بات نہ بتاؤں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی بیشک وہ کانا ہے اور وہ اپنے ساتھ جنت اور دوزخ کی ایک شبیہ لائے گا پس جسے وہ جنت کہے گا درحقیقت وو دوزخ ہوگی اور میں تمہیں دجال سے ایسا ہی ڈراتا ہوں جیسے نوح نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "Shall I not tell you about the Dajjal a story of which no prophet told his nation? The Dajjall is one-eyed and will bring with him what will resemble Hell and Paradise, and what he will call Paradise will be actually Hell; so I warn you (against him) as Noah warned his nation against him."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3091

Narrated by Abu Said

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيئُ نُوحٌ وَأُمَّتُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَی هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ أَيْ رَبِّ فَيَقُولُ لِأُمَّتِهِ هَلْ بَلَّغَکُمْ فَيَقُولُونَ لَا مَا جَائَنَا مِنْ نَبِيٍّ فَيَقُولُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَکَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتُهُ فَنَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ وَهُوَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِکْرُهُ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُهَدَائَ عَلَی النَّاسِ وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ

موسی بن اسماعیل عبدالواحد بن زیاد اعمش ابوصالح حضرت ابوسعید سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے دن) نوح مع اپنی قوم کے تشریف لائیں گے تو اللہ پوچھے گا کیا تم نے (ہمارا پیغام) پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے کہ ہاں اے پروردگار پھر اللہ تعالیٰ ان کی امت سے پوچھے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں ہمارا پیغام دیا تھا؟ تو وہ کہیں گے نہیں ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام سے سے فرمائے گا تمہاراگواہ کون ہے؟ وہ کہیں گے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی امت تو وہ گواہی دیں گے کہ ہاں انہوں نے حکم پہنچا دیا ہے یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ اور اسی طرح ہم نے تمہیں متوسط امت بنایا کہ تم لوگوں پر گواہ رہو وسط کے معنی درمیان کے ہیں۔

Narrated Abu Said: Allah's Apostle said, "Noah and his nation will come (on the Day of Resurrection and Allah will ask (Noah), "Did you convey (the Message)?' He will reply, 'Yes, O my Lord!' Then Allah will ask Noah's nation, 'Did Noah convey My Message to you?' They will reply, 'No, no prophet came to us.' Then Allah will ask Noah, 'Who will stand a witness for you?' He will reply, 'Muhammad and his followers (will stand witness for me).' So, I and my followers will stand as witnesses for him (that he conveyed Allah's Message)." That is, (the interpretation) of the Statement of Allah: "Thus we have made you a just and the best nation that you might be witnesses Over mankind .." (2.143)

Permalink

Sahih BukhariHadith 3092

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَعْوَةٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَکَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً وَقَالَ أَنَا سَيِّدُ الْقَوْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَلْ تَدْرُونَ بِمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُبْصِرُهُمْ النَّاظِرُ وَيُسْمِعُهُمْ الدَّاعِي وَتَدْنُو مِنْهُمْ الشَّمْسُ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ أَلَا تَرَوْنَ إِلَی مَا أَنْتُمْ فِيهِ إِلَی مَا بَلَغَکُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَی مَنْ يَشْفَعُ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ أَبُوکُمْ آدَمُ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ وَأَسْکَنَکَ الْجَنَّةَ أَلَا تَشْفَعُ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی مَا نَحْنُ فِيهِ وَمَا بَلَغَنَا فَيَقُولُ رَبِّي غَضِبَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَنَهَانِي عَنْ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَی أَهْلِ الْأَرْضِ وَسَمَّاکَ اللَّهُ عَبْدًا شَکُورًا أَمَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی إِلَی مَا بَلَغَنَا أَلَا تَشْفَعُ لَنَا إِلَی رَبِّکَ فَيَقُولُ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ نَفْسِي نَفْسِي ائْتُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَأَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ لَا أَحْفَظُ سَائِرَهُ

اسحاق بن نصر محمد بن عبید ابوحیان ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دست پیش کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت مرغوب تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے نوچ نوچ کر کھانے لگے اور فرمایا کہ میں قیامت کے دن تمام آدمیوں کا سردار ہوں گا کیا تم جانتے ہو کس لئے؟ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام اگلے پچھلے لوگوں کو ہموار میدان میں جمع کرے گا اس طرح کہ دیکھنے والا ان سب کو دیکھ سکے اور پکارنے والا انہیں اپنی آواز سنا سکے اور آفتاب ان کے (بہت) قریب آجائے گا پس بعض آدمی کہیں گے کہ تم دیکھتے نہیں کہ تمہاری کیا حالت ہو رہی ہے اور تمہیں کتنی مشقت پہنچ رہی ہے یا تم ایسے شخص کو نہیں دیکھو گے جو اللہ سے تمہاری سفارش کرے دوسرے لوگ کہیں گے، اپنے باپ آدم کے پاس چلو، تو وہ انکے پاس آکر کہیں گے، کہ آدم آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں آپ کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کر کے اپنی روح آپ کے اندر پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا اور آپ کو جنت میں ٹھہرایا کیا اپنے رب سے آپ ہماری سفارش نہیں کرینگے؟ کیا آپ ہماری حالت اور ہماری مشقت کا مشاہدہ نہیں فرما رہے وہ فرمائیں گے کہ آج اللہ اتنا غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے ایسا غضبناک ہوا نہ آئندہ ہوگا اور اس نے مجھے درخت کا پھل کھانے سے منع کیا تھا مگر میں نے نافرمانی کی مجھے تو خود اپنی جان کی پڑی ہے لہذا کسی دوسرے کے پاس جاؤ (ہاں) نوح کے پاس چلے جاؤ تو وہ نوح کے پاس آکر کہیں گے کہ اے نوح آپ دنیا میں سب سے پہلے (تشریعی) رسول ہیں اور اللہ نے آپ کو شکر گزار بندہ کا خطاب عطا فرمایا ہے کیا آپ ہماری حالت کا معائنہ نہیں فرما رہے کیا آپ اپنے رب سے ہماری سفارش نہیں کریں گے وہ فرمائیں گے کہ آج اللہ اتنا غضبناک ہے کہ اس سے قبل ایسا غضبناک نہ ہوا نہ آئندہ ہوگا مجھے تو خود اپنی فکر ہے (یہاں تک کہ ان سے کہا جائے گا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ تو وہ میرے پاس آئیں گے میں عرش کے نیچے سجدہ میں گر پڑوں گا تو مجھ سے کہا جائے گا اے ہمارے محبوب اپنا سر اٹھائیے اور سفارش کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش مقبول ہوگی اور مانگے گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا۔ محمد بن عبید نے کہا کہ مجھے پوری حدیث محفوظ نہیں۔

Narrated Abu Huraira: We were in the company of the Prophet at a banquet and a cooked (mutton) forearm was set before him, and he used to like it. He ate a morsel of it and said, "I will be the chief of all the people on the Day of Resurrection. Do you know how Allah will gather all the first and the last (people) in one level place where an observer will be able to see (all) of them and they will be able to hear the announcer, and the sun will come near to them. Some People will say: Don't you see, in what condition you are and the state to which you have reached? Why don't you look for a person who can intercede for you with your Lord? Some people will say: Appeal to your father, Adam.' They will go to him and say: 'O Adam! You are the father of all mankind, and Allah created you with His Own Hands, and ordered the angels to prostrate for you, and made you live in Paradise. Will you not intercede for us with your Lord? Don't you see in what (miserable) state we are, and to what condition we have reached?' On that Adam will reply, 'My Lord is so angry as He has never been before and will never be in the future; (besides), He forbade me (to eat from) the tree, but I disobeyed (Him), (I am worried about) myself! Myself! Go to somebody else; go to Noah.' They will go to Noah and say; 'O Noah! You are the first amongst the messengers of Allah to the people of the earth, and Allah named you a thankful slave. Don't you see in what a (miserable) state we are and to what condition we have reached? Will you not intercede for us with your Lord? Noah will reply: 'Today my Lord has become so angry as he had never been before and will never be in the future Myself! Myself! Go to the Prophet (Muhammad). The people will come to me, and I will prostrate myself underneath Allah's Throne. Then I will be addressed: 'O Muhammad! Raise your head; intercede, for your intercession will be accepted, and ask (for anything). for you will be given. "

Permalink

Sahih BukhariHadith 3093

Narrated by 'Abdullah

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فَهَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ مِثْلَ قِرَائَةِ الْعَامَّةِ

نصر بن علی بن نصر ابواحمد سفیان ابواسحاق اسود بن یزید حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فَهَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ(یعنی کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا) مشہور قرات کے موافق پڑھا۔

Narrated 'Abdullah: Allah's Apostle recited the following Verse) in the usual tone: 'Fahal-Min-Muddalkir.' (54.15)

Permalink