TrueHadith

ابو عمرو قرشی حضرت عثمان بن عفان کے مناقب کا بیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی تھا کہ جس نے چاہ رومہ کھدوایا اس کے لئے جنت ہے اور اس کو حضرت عثمان نے کھدوایا تھا اور جس نے جیش عسرت کا سامان درست کر دیا وہ بھی جنت کا مستحق ہے اور اس کا حضرت عثمان نے تمام سامان تیار کیا تھا۔

Sahih BukhariHadith 3419

Narrated by Abu Musa

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي بِحِفْظِ بَابِ الْحَائِطِ فَجَائَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَإِذَا أَبُو بَکْرٍ ثُمَّ جَائَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَإِذَا عُمَرُ ثُمَّ جَائَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ فَسَکَتَ هُنَيْهَةً ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَی بَلْوَی سَتُصِيبُهُ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَالَ حَمَّادٌ وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ وَعَلِيُّ بْنُ الْحَکَمِ سَمِعَا أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَی بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِيهِ عَاصِمٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ قَاعِدًا فِي مَکَانٍ فِيهِ مَائٌ قَدْ انْکَشَفَ عَنْ رُکْبَتَيْهِ أَوْ رُکْبَتِهِ فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ غَطَّاهَا

سلیمان حماد ایوب ابوعثمان حضرت ابوموسیٰ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی باغ میں تشریف لے گئے اور مجھ کو دروازہ کی حفاظت کا حکم دیا پھر ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت طلب کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو اجازت دے دو اور اس کو جنت کی بشارت بھی دے دو، دروازہ کھول کر میں نے دیکھا تو وہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے پھر ایک اور شخص نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا اس کو بھی آنے کی اجازت دو اور اس کو بھی جنت کی بشارت دے دو دروازہ کھول کر دیکھا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے پھر ایک اور شخص نے اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے اور اس کے بعد فرمایا کہ اس کو آنے کی اجازت دو اور اسکو جنت کی بشارت دو اس مصیبت پر جو اس کو پہنچے گی دیکھا تو حضرت عثمان بن عفان تھے اور عاصم نے اتنا اور زیادہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے جہاں پانی تھا آپ نے اپنے دونوں گھٹنے یا ایک کھول دیئے پھر جب حضرت عثمان آئے تو آپ نے ان کو چھپا لیا۔

Narrated Abu Musa: The Prophet entered a garden and ordered me to guard its gate. A man came and asked permission to enter. The Prophet said, "Admit him and give him the glad tidings of entering Paradise." Behold! It was Abu Bakr. Another man came and asked the permission to enter. The Prophet said, "Admit him and give him the glad tidings of entering Paradise." Behold! It was 'Umar. Then another man came, asking the permission to enter. The Prophet kept silent for a short while and then said, "Admit him and give him the glad tidings of entering Paradise with a calamity which will befall him." Behold! It was 'Uthman bin 'Affan. 'Asim, in another narration, said that the Prophet was sitting in a place where there was water, and he was uncovering both his knees or his knee, and when 'Uthman entered, he covered them (or it).

Permalink

Sahih BukhariHadith 3420

Narrated by 'Ubaid-ullah bin 'Adi bin Al-Khiyar

حَدَّثَنِاأَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يُونُسَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ قَالَا مَا يَمْنَعُکَ أَنْ تُکَلِّمَ عُثْمَانَ لِأَخِيهِ الْوَلِيدِ فَقَدْ أَکْثَرَ النَّاسُ فِيهِ فَقَصَدْتُ لِعُثْمَانَ حَتَّی خَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ قُلْتُ إِنَّ لِي إِلَيْکَ حَاجَةً وَهِيَ نَصِيحَةٌ لَکَ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَرْئُ قَالَ مَعْمَرٌ أُرَاهُ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ فَانْصَرَفْتُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ إِذْ جَائَ رَسُولُ عُثْمَانَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا نَصِيحَتُکَ فَقُلْتُ إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْکِتَابَ وَکُنْتَ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَاجَرْتَ الْهِجْرَتَيْنِ وَصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ وَقَدْ أَکْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ الْوَلِيدِ قَالَ أَدْرَکْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَا وَلَکِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ مَا يَخْلُصُ إِلَی الْعَذْرَائِ فِي سِتْرِهَا قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ فَکُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَآمَنْتُ بِمَا بُعِثَ بِهِ وَهَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ کَمَا قُلْتَ وَصَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتُهُ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ أَبُو بَکْرٍ مِثْلُهُ ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُهُ ثُمَّ اسْتُخْلِفْتُ أَفَلَيْسَ لِي مِنْ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي لَهُمْ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَمَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَبْلُغُنِي عَنْکُمْ أَمَّا مَا ذَکَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيدِ فَسَنَأْخُذُ فِيهِ بِالْحَقِّ إِنْ شَائَ اللَّهُ ثُمَّ دَعَا عَلِيًّا فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِدَهُ فَجَلَدَهُ ثَمَانِينَ

احمد شبیب سعد یونس ابن شہاب عروہ عبیداللہ بن عدی بن خیار سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث نے ان سے کہا کہ تم کو حضرت عثمان سے ان کے بھائی ولید کے بارہ میں گفتگو کرنے سے کیا امر مانع ہے؟ حالانکہ لوگوں نے ان کے بارہ میں بہت گفتگو کی ہے لہذا میں نے حضرت عثمان سے کہنے کا ارادہ کیا وہ نماز ادا کرنے کے لئے آئے تو میں نے ان سے کہا مجھے آپ سے کچھ کام ہے جس میں آپ ہی کی بھلائی ہے انہوں نے کہا تم سے خدا کی پناہ چنانچہ میں لوٹ آیا اور ان لوگوں کے پاس لوٹا ہی تھا کہ حضرت عثمان کا قاصد آیا میں حضرت عثمان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کیا بات کہنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ خدا تعالیٰ نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی آپ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے خدا تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانی پھر آپ نے دو مرتبہ ہجرت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے اور ان کی روش کو دیکھا لوگ عام طور پر ولید کے بارے میں بہت کچھ کہہ رہے ہیں حضرت عثمان نے فرمایا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تو نہیں لیکن مجھے آپ کا علم پہنچا ہے جس طرح کنواری لڑکی کو اس کے پردہ میں پہنچتا ہے اس پر حضرت عثمان نے فرمایا، خدا تعالیٰ نے یقینا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی بات مانی اور میں اس چیز پر بھی ایمان لایا جو سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی تھی اور میں نے دو دفعہ ہجرت کی جیسا کہ تم نے بیان کیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بھی اٹھائی اور آپ سے بیعت کی لیکن خدا کی قسم! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ آپ سے فریب کیا خدا تعالیٰ نے آپ کو وفات دی پھر اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت سے فیض یاب ہوا پھر اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت سے اس کے بعد میں خلیفہ بنایا گیا تو کیا میرا وہ حق نہیں ہے جیسا ان لوگوں کا تھا میں نے عرض کیا ہاں ضرور ہے تو حضرت عثمان نے کہا پھر یہ کیسی باتیں ہیں جو مجھ سے تم کہہ رہے ہو ولید کا معاملہ جس کو تم نے بیان کیا ہے تو ان شاء اللہ تعالیٰ اس میں ہم حق پر عمل کریں گے اس کے بعد انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور ان کو حکم دیا کہ ولید کے اسی درے لگائیں چنانچہ انہوں نے اس کے اسی (80) درے مارے۔

Narrated 'Ubaid-ullah bin 'Adi bin Al-Khiyar: Al-Miswar bin Makhrama and 'Abdur-Rahman bin Al-Aswad bin 'Abu Yaghuth said (to me), "What forbids you to talk to 'Uthman about his brother Al-Walid because people have talked much about him?" So I went to 'Uthman and when he went out for prayer I said (to him), "I have something to say to you and it is a piece of advice for you " 'Uthman said, "O man, from you." (Umar said: I see that he said, "I seek Refuge with Allah from you.") So I left him and went to them. Then the messenger of Uthman came and I went to him (i.e. 'Uthman), 'Uthman asked, "What is your advice?" I replied, "Allah sent Muhammad with the Truth, and revealed the Divine Book (i.e. Quran) to him; and you were amongst those who followed Allah and His Apostle, and you participated in the two migrations (to Ethiopia and to Medina) and enjoyed the company of Allah's Apostle and saw his way. No doubt, the people are talking much about Al-Walid." 'Uthman said, "Did you receive your knowledge directly from Allah's Apostle ?" I said, "No, but his knowledge did reach me and it reached (even) to a virgin in her seclusion." 'Uthman said, "And then Allah sent Muhammad with the Truth and I was amongst those who followed Allah and His Apostle and I believed in what ever he (i.e. the Prophet) was sent with, and participated in two migrations, as you have said, and I enjoyed the company of Allah's Apostle and gave the pledge of allegiance him. By Allah! I never disobeyed him, nor did I cheat him till Allah took him unto Him. Then I treated Abu Bakr and then 'Umar similarly and then I was made Caliph. So, don't I have rights similar to theirs?" I said, "Yes." He said, "Then what are these talks reaching me from you people? Now, concerning what you mentioned about the question of Al-Walid, Allah willing, I shall deal with him according to what is right." Then he called 'Ali and ordered him to flog him, and 'Ali flogged him (i.e. Al-Walid) eighty lashes.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3421

Narrated by Ibn 'Umar

حَدَّثَنِامُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا شَاذَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَکْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُکُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ

محمد بن حاتم بن بزیع شاذان عبدالعزیز بن ابی سلمہ الماجشون عبیداللہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہ سمجھتے تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کے بعد ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیتے تھے یعنی ان میں باہم کسی کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دیتے تھے۔

Narrated Ibn 'Umar: During the lifetime of the Prophet we considered Abu Bakr as peerless and then 'Umar and then 'Uthman (coming next to him in superiority) and then we used not to differentiate between the companions of the Prophet

Permalink

Sahih BukhariHadith 3422

Narrated by 'Uthman

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فَقَالُوا هَؤُلَاءِ قُرَيْشٌ قَالَ فَمَنْ الشَّيْخُ فِيهِمْ قَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْ قَالَ نَعَمْ قَالَ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ فَقَالَ هَذِهِ لِعُثْمَانَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ اذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَكَ

موسی ابوعوانہ عثمان بن موہب سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مصر والوں میں سے آیا اور اس نے حج کیا بیت اللہ کا تو ایک جگہ چند لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھ کر کہا یہ کون لوگ ہیں؟ کسی نے کہا یہ قریش ہیں اس نے پوچھا ان کا شیخ کون ہے؟ لوگوں نے کہا عبداللہ بن عمر اس شخص نے ابن عمر کی طرف متوجہ ہو کر کہا ابن عمر! میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں تم اس کا جواب دو کیا تم کو معلوم ہے کہ عثمان جنگ احد میں بھاگ گئے تھے ابن عمر نے کہا ہاں! ایسا ہی ہوا تھا پھر اس نے پوچھا تم کو معلوم ہے کہ عثمان بدر کے معرکہ سے غائب تھے اور جنگ میں شریک نہ تھے ابن عمر نے کہا ہاں! پھر اس نے کہا تم کو معلوم ہے کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیعت رضوان میں بھی شریک نہ تھے اور غائب رہے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہاں! اس پر اس شخص نے اللہ اکبر کہا تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا کہ ادھر آئیں تجھ سے حقیقت حال بیان کروں احد کے دن عثمان کا بھاگ جانا تو اس کے متعلق یہ ہے کہ خدا نے ان کے اس قصور کو معاف فرما دیا اور ان کو بخش دیا اور بدر کے دن عثمان کا غائب ہونا اس کا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری صاحبزادی (حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) ان کی بیوی تھیں اور وہ (اس زمانہ میں) بیمار تھیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کو ان کی خبر گیری کے لئے مدینہ میں چھوڑ دیا) اور فرمایا عثمان کو بدر میں حاضر ہونے والے شخص کا ثواب ملے گا اور مال غنیمت میں سے بھی پورا حصہ ملے گا رہا بیعت رضوان سے عثمان کا غائب رہنا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر مکہ میں عثمان سے زیادہ ہر دل عزیز باعزت کوئی شخص ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کو مکہ روانہ فرماتے لیکن ایسا نہ تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مکہ روانہ کیا اور ان کے جانے کے بعد بیعت رضوان کا واقعہ پیش آیا اور بیعت کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کو اٹھا کر کہا یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اس ہاتھ کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا یہ عثمان کی بیعت ہے اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تو میرے اس بیان کو لے جا جو میں نے تیرے سامنے دیا ہے یہی بیان تیرے سوالات کا مکمل جواب ہے۔

Narrated 'Uthman: (the son of Muhib) An Egyptian who came and performed the Hajj to the Kaba saw some people sitting. He enquire, "Who are these people?" Somebody said, "They are the tribe of Quraish." He said, "Who is the old man sitting amongst them?" The people replied, "He is 'Abdullah bin 'Umar." He said, "O Ibn Umar! I want to ask you about something; please tell me about it. Do you know that 'Uthman fled away on the day (of the battle) of Uhud?" Ibn 'Umar said, "Yes." The (Egyptian) man said, "Do you know that 'Uthman was absent on the day (of the battle) of Badr and did not join it?" Ibn 'Umar said, "Yes." The man said, "Do you know that he failed to attend the Ar Ridwan pledge and did not witness it (i.e. Hudaibiya pledge of allegiance)?" Ibn 'Umar said, "Yes." The man said, "Allahu Akbar!" Ibn 'Umar said, "Let me explain to you (all these three things). As for his flight on the day of Uhud, I testify that Allah has excused him and forgiven him; and as for his absence from the battle of Badr, it was due to the fact that the daughter of Allah's Apostle was his wife and she was sick then. Allah's Apostle said to him, "You will receive the same reward and share (of the booty) as anyone of those who participated in the battle of Badr (if you stay with her).' As for his absence from the Ar-Ridwan pledge of allegiance, had there been any person in Mecca more respectable than 'Uthman (to be sent as a representative). Allah's Apostle would have sent him instead of him. No doubt, Allah's Apostle had sent him, and the incident of the Ar-Ridwan pledge of Allegiance happened after 'Uthman had gone to Mecca. Allah's Apostle held out his right hand saying, 'This is 'Uthman's hand.' He stroke his (other) hand with it saying, 'This (pledge of allegiance) is on the behalf of 'Uthman.' Then Ibn 'Umar said to the man, 'Bear (these) excuses in mind with you.'

Permalink

Sahih BukhariHadith 3423

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا وَمَعَهُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ وَقَالَ اسْکُنْ أُحُدُ أَظُنُّهُ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَلَيْسَ عَلَيْکَ إِلَّا نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ

مسدد یحیی سعید قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ایک روز) احد پہاڑ پر چڑھے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عثمان بھی تھے جب وہ (جوش مسرت سے) ہلنے لگا تو آپ نے فرمایا اے احد ٹھیرجا خیال ہے کہ آپ نے اس کے ایک ٹھوکر لگائی اور فرمایا تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔

Narrated Anas: The Prophet ascended the mountain of Uhud and Abu Bakr, 'Umar and 'Uthman were accompanying him. The mountain gave a shake (i.e. trembled underneath them) . The Prophet said, "O Uhud ! Be calm." I think that the Prophet hit it with his foot, adding, "For upon you there are none but a Prophet, a Siddiq and two martyrs."

Permalink