Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلَاقَهَا فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ فَجَائَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا کَانَتْ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ لِهُدْبَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ جِلْبَابِهَا قَالَ وَأَبُو بَکْرٍ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ لِيُؤْذَنَ لَهُ فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَکْرٍ يَا أَبَا بَکْرٍ أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی التَّبَسُّمِ ثُمَّ قَالَ لَعَلَّکِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَی رِفَاعَةَ لَا حَتَّی تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَکِ
حبان بن موسی، عبداللہ ، معمر، زہری، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر نے اس سے نکاح کرلیا اور عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ میں رفاعہ کے پاس تھی اس نے مجھے تین طلاقیں دیدیں پھر مجھ سے عبدالرحمن بن زبیر نے نکاح کرلیا اور بخدا یا رسول اللہ ان کے پاس اس پھندے کی طرح ہے اور اپنی چادر پکڑ کر دکھائی۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ابن سعید بن عاص حجرے کے دروازے پر کھڑے تھے تاکہ ان کو داخلے کی اجازت ملے، خالد ابوبکر کو آواز دینے لگے کہ اے ابوبکر اس عورت کو کیوں نہیں روکتا کہ بہ آواز بلند رسول اللہ کے سامنے بول رہی ہے اور رسول اللہ صرف مسکرا دیے اور فرمایا کہ شاید تو رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہے لیکن تو نہیں جاسکتی جب تک کہ تو اس سے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہوسکے۔
Narrated 'Aisha: Rifa'a Al-Qurazi divorced his wife irrevocably (i.e. that divorce was the final). Later on 'Abdur-Rahman bin Az-Zubair married her after him. She came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! I was Rifa'a's wife and he divorced me thrice, and then I was married to 'Abdur-Rahman bin AzZubair, who, by Allah has nothing with him except something like this fringe, O Allah's Apostle," showing a fringe she had taken from her covering sheet. Abu Bakr was sitting with the Prophet while Khalid Ibn Said bin Al-As was sitting at the gate of the room waiting for admission. Khalid started calling Abu Bakr, "O Abu Bakr! Why don't you reprove this lady from what she is openly saying before Allah's Apostle?" Allah's Apostle did nothing except smiling, and then said (to the lady), "Perhaps you want to go back to Rifa'a? No, (it is not possible), unless and until you enjoy the sexual relation with him ('Abdur Rahman), and he enjoys the sexual relation with you."
Narrated by Sa'd
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسْأَلْنَهُ وَيَسْتَکْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ عَلَی صَوْتِهِ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ فَقَالَ أَضْحَکَ اللَّهُ سِنَّکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَقَالَ عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَائِ اللَّاتِي کُنَّ عِنْدِي لَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَکَ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَقَالَ أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَمْ تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ إِنَّکَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَکَ الشَّيْطَانُ سَالِکًا فَجًّا إِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّکَ
اسماعیل، ابراہیم، صالح بن کیسان، ابن شہاب، عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب، محمد بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے داخلہ کی اجازت چاہی، اس وقت قریش کی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، جو کچھ دریافت کر رہی تھیں، اور بہت زیادہ سوال کر رہی تھیں ان عورتوں کی آواز آپ کی آواز پر غالب تھی، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت چاہی تو یہ عورتیں جلدی سے پردہ میں چلی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکو اجازت دی جب یہ اندر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس رہے تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اللہ آپ کو ہنساتا ہوا رکھے (کیا بات ہے) آپ نے فرمایا مجھے ان عورتوں پر تعجب ہے کہ جونہی انہوں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے پردہ میں چلی گئیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ یہ آپ سے ڈریں، پھر ان عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ اے اپنی جان کی دشمن عورتوں! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ ان عورتوں نے جواب دیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ سخت اور غضب والے ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب ادھر سنو! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان تم سے کبھی راہ چلتے ہوئے نہیں ملتا، جس راہ پر تم چلے ہو وہ دوسری طرف چل دیتا ہے۔
Narrated Sa'd: 'Umar bin Al-Khattab asked permission of Allah's Apostle to see him while some Quraishi women were sitting with him and they were asking him to give them more financial support while raising their voices over the voice of the Prophet. When 'Umar asked permission to enter, all of them hurried to screen themselves the Prophet admitted 'Umar and he entered, while the Prophet was smiling. 'Umar said, "May Allah always keep you smiling, O Allah's Apostle! Let my father and mother be sacrificed for you !" The Prophet said, "I am astonished at these women who were with me. As soon as they heard your voice, they hastened to screen themselves." 'Umar said, "You have more right, that they should be afraid of you, O Allah's Apostle!" And then he ('Umar) turned towards them and said, "O enemies of your souls! You are afraid of me and not of Allah's Apostle?" The women replied, "Yes, for you are sterner and harsher than Allah's Apostle." Allah's Apostle said, "O Ibn Al-Khattab! By Him in Whose Hands my life is, whenever Satan sees you taking a way, he follows a way other than yours!"
Narrated by 'Abdullah bin 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفِ قَالَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّهُ فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَبْرَحُ أَوْ نَفْتَحَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْدُوا عَلَی الْقِتَالِ قَالَ فَغَدَوْا فَقَاتَلُوهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا وَکَثُرَ فِيهِمْ الْجِرَاحَاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّهُ قَالَ فَسَکَتُوا فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِالْخَبَرِ کُلِّهِ
قتیبہ بن سعید، سفیان، عمرو، ابوالعباس، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف میں جہاد کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ کل ان شاء اللہ ہم واپس ہوجائیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے کسی نے کہا کہ ہم بغیرفتح کئے ہوئے نہیں ٹلیں گے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا پھر کل جنگ کرو چنانچہ دوسرے دن ان لوگوں نے سخت جنگ کی اور بہت سے آدمی زخمی ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کل ہم ان شاء اللہ واپس ہوجائیں گے اب لوگ خاموش ہو رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس دئیے، حمیدی کا بیان ہے کہ ہم سے سفیان نے یہ پوری حدیث بیان کی۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar: When Allah Apostle was in Ta'if (trying to conquer it), he said to his companions, "Tomorrow we will return (to Medina), if Allah wills." Some of the companions of Allah's Apostle said, "We will not leave till we conquer it." The Prophet said, "Therefore, be ready to fight tomorrow." On the following day, they (Muslims) fought fiercely (with the people of Ta'if) and suffered many wounds. Then Allah's Apostle said, "Tomorrow we will return (to Medina), if Allah wills." His companions kept quiet this time. Allah's Apostle then smiled.
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَی رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلَکْتُ وَقَعْتُ عَلَی أَهْلِي فِي رَمَضَانَ قَالَ أَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ لَيْسَ لِي قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ لَا أَجِدُ فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْعَرَقُ الْمِکْتَلُ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ تَصَدَّقْ بِهَا قَالَ عَلَی أَفْقَرَ مِنِّي وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ فَأَنْتُمْ إِذًا
موسی، ابر ہیم، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں تو ہلاک ہوگیا رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کرلی، آپ نے فرمایا ایک غلام آزاد کر، اس نے کہا میرے پاس غلام نہیں، فرمایا پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ اس نے کہا اسکی صلاحیت نہیں رکھتا فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا، اس نے کہا میرے پاس یہ بھی نہیں ایک عرق لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں (ابراہیم نے کہا کہ عرق ایک پیمانہ ہے) آپ نے پوچھا وہ سائل کہاں ہے؟ اس کو لے جا اور صدقہ کر دے اس نے پوچھا کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں! خدا کی قسم مدینہ کے ان ریگستانوں کے درمیان کوئی گھر ایسا نہیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کی کچلیاں کھل گئیں (اور فرمایا کہ) پھر تم ہی سہی۔
Narrated Abu Huraira: A man came to the Prophet and said, "I have been ruined for I have had sexual relation with my wife in Ramadan (while I was fasting)" The Prophet said (to him), "Manumit a slave." The man said, " I cannot afford that." The Prophet said, "(Then) fast for two successive months continuously". The man said, "I cannot do that." The Prophet said, "(Then) feed sixty poor persons." The man said, "I have nothing (to feed them with)." Then a big basket full of dates was brought to the Prophet. The Prophet said, "Where is the questioner? Go and give this in charity." The man said, "(Shall I give this in charity) to a poorer person than l? By Allah, there is no family in between these two mountains (of Medina) who are poorer than we." The Prophet then smiled till his premolar teeth became visible, and said, "Then (feed) your (family with it).
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَکَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً قَالَ أَنَسٌ فَنَظَرْتُ إِلَی صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَائِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَکَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِکَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَائٍ
عبدالعزیزبن عبداللہ اویسی، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلاجارہا تھا اس حال میں کہ آپ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے حاشیے گھنے بنے ہوئے تھے ایک اعرابی آپ سے ملا اور آپ کی چادرپکڑ کر زور سے کھینچی۔ انس کا بیان ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاندھے پر دیکھا کہ زرو سے کھینچی۔ انس کا بیان ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاندھے پر دیکھا کہ زور سے کھینچنے کے سبب سے نشان پڑگئے تھے، پھر اس نے کہا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا مال جوتیرے پاس ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلاؤ، میں نے آپ کی طرف مڑ کر دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکو دئیے جانے کا حکم دیا۔
Narrated Anas bin Malik: While I was going along with Allah's Apostle who was wearing a Najrani Burd (sheet) with a thick border, a bedouin overtook the Prophet and pulled his Rida' (sheet) forcibly. I looked at the side of the shoulder of the Prophet and noticed that the edge of the Rida' had left a mark on it because of the violence of his pull. The bedouin said, "O Muhammad! Order for me some of Allah's property which you have." The Prophet turned towards him, (smiled) and ordered that he be given something.
Narrated by Jarir
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي وَلَقَدْ شَکَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَی الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا
ابن نمیر، ابن ادریس، اسماعیل، قیس، جریر کہتے ہیں کہ جب سے میں مسلمان ہوا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس آنے سے نہیں روکا اور جب بھی مجھے دیکھتے تو مسکرا تے، میں نے آپ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر بیٹھ نہیں سکتا، آپ نے ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا اے اللہ اس کو ثابت قدم رکھ اور اس کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا۔
Narrated Jarir: The Prophet did not screen himself from me (had never prevented me from entering upon him) since I embraced Islam, and whenever he saw me, he would receive me with a smile. Once I told him that I could not sit firm on horses. He stroked me on the chest with his hand, and said, "O Allah! Make him firm and make him a guiding and a rightly guided man.
Narrated by Zainab bint Um Salama
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنْ الْحَقِّ هَلْ عَلَی الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ قَالَ نَعَمْ إِذَا رَأَتْ الْمَائَ فَضَحِکَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِمَ شَبَهُ الْوَلَدِ
محمد بن مثنی، یحیی ، ہشام اپنے والد سے وہ زینب بنت ام سلمہ سے، ام سلمہ ام سلیم سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا، کیا عورت پر غسل واجب ہے، جب کہ اس کو احتلام ہوجائے، آپ نے فرمایا ہاں! بشرطیکہ پانی دیکھے، ام سلمہ ہنسیں اور عرض کیا کیا عورت بھی محتلم ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ کیوں ماں کے مشابہ ہوتا ہے؟
Narrated Zainab bint Um Salama: Um Sulaim said, "O Allah's Apostle! Verily Allah is not shy of (telling you) the truth. Is it essential for a woman to take a bath after she had a wet dream (nocturnal sexual discharge)?" He said, "Yes, if she notices discharge. On that Um Salama laughed and said, "Does a woman get a (nocturnal sexual) discharge?" He said, "How then does (her) son resemble her (his mother)?"
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِکًا حَتَّی أَرَی مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا کَانَ يَتَبَسَّمُ
یحیی بن سلیمان، ابن وہب، عمرو، ابوالنضر، سلیمان بن یسار، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی سارے دانت کھول کر اس طرح ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کا حلق نظر آنے لگے بلکہ آپ صرف تبسم فرماتے تھے۔
Narrated 'Aisha: I never saw the Prophet laughing to an extent that one could see his palate, but he always used to smile only.
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ ح و قَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ قَحَطَ الْمَطَرُ فَاسْتَسْقِ رَبَّکَ فَنَظَرَ إِلَی السَّمَائِ وَمَا نَرَی مِنْ سَحَابٍ فَاسْتَسْقَی فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضُهُ إِلَی بَعْضٍ ثُمَّ مُطِرُوا حَتَّی سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِينَةِ فَمَا زَالَتْ إِلَی الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ ثُمَّ قَامَ ذَلِکَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ غَرِقْنَا فَادْعُ رَبَّکَ يَحْبِسْهَا عَنَّا فَضَحِکَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنْ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا يُمْطَرُ مَا حَوَالَيْنَا وَلَا يُمْطِرُ مِنْهَا شَيْئٌ يُرِيهِمْ اللَّهُ کَرَامَةَ نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِجَابَةَ دَعْوَتِهِ
محمد بن محبوب، ابوعوانہ، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ، ح، خلیفہ، یزید بن زریع، سعید، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جمعہ کے دن حاضر ہوا، اس وقت آپ مدینہ میں خطبہ دے رہے تھے، اس نے عرض کیا بارش رک گئی ہے، اس لئے اپنے رب سے پانی کی دعا کیجئے، آپ نے آسمان کی طرف دیکھا تو اس وقت ابر کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آرہا تھا، آپ نے بارش کی دعا کی، بادل کے ٹکڑے نمودار ہوئے اور ایک دوسرے سے مل گئے، پھر بارش دوسرے جمعہ تک اسی طرح ہوتی رہی کہ تھمتی ہی نہ تھی، پھر وہی آدمی یا اس کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی کھڑا ہوا، آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے عرض کیا کہ ہم تو اب غرق ہوئے، اس لئے اپنے رب سے دعا کریں کہ اب بارش روک دے، آپ ہنسے پھر فرمایا یا اللہ ہمارے اردگرد برسا اور ہم پر نہ برسا، یہ دو یا تین بار آپ نے ارشاد فرمایا، بدلی مدینہ سے دائیں یا بائیں پھٹکنے لگی اور ہمارے ارد گرد بارش ہوتی رہی لیکن مدینہ میں بارش نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کرامت اور ان کی دعاؤں کی مقبولت دکھاتا ہے۔
Narrated Anas: A man came to the Prophet on a Friday while he (the Prophet) was delivering a sermon at Medina, and said, "There is lack of rain, so please invoke your Lord to bless us with the rain." The Prophet looked at the sky when no cloud could be detected. Then he invoked Allah for rain. Clouds started gathering together and it rained till the Medina valleys started flowing with water. It continued raining till the next Friday. Then that man (or some other man) stood up while the Prophet was delivering the Friday sermon, and said, "We are drowned; Please invoke your Lord to withhold it (rain) from us" The Prophet smiled and said twice or thrice, "O Allah! Please let it rain round about us and not upon us." The clouds started dispersing over Medina to the right and to the left, and it rained round about Medina and not upon Medina. Allah showed them (the people) the miracle of His Prophet and His response to his invocation.