TrueHadith

حسن خلق اور سخاوت کا بیان اور یہ کہ بخل مکروہ ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں معمول سے زیادہ سخی ہوجاتے، حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ جب ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کی خبر ملی تو اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی میں جاؤ اور آپ کی باتیں سنو، جب وہ لوٹا تو اس نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہوئے دیکھا

Sahih BukhariHadith 5573

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاسَ إِلَی الصَّوْتِ وَهُوَ يَقُولُ لَنْ تُرَاعُوا لَنْ تُرَاعُوا وَهُوَ عَلَی فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ فِي عُنُقِهِ سَيْفٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ

عمرو بن عون، حماد بن زید، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی، حسین اور شجاع تھے، ایک رات مدینہ والے ڈرے لوگ اس آواز کی طرف چل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سب سے زیادہ آگے تھے، آپ آگے آگے تشریف لے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے کہ بالکل نہ ڈرو بالکل نہ ڈرو، آپ ابوطلحہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بغیر زین کے سوار تھے اور آپ کی گردن میں تلوار لٹکی ہوئی تھی، ابوطلحہ کا بیان ہے کہ میں نے اس کے بعد سے اس گھوڑے کو دریا کی طرح (تیز رفتار) پایا، (لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ کہا) ۔

Narrated Anas: The Prophet was the best among the people (both in shape and character) and was the most generous of them, and was the bravest of them. Once, during the night, the people of Medina got afraid (of a sound). So the people went towards that sound, but the Prophet having gone to that sound before them, met them while he was saying, "Don't be afraid, don't be afraid." (At that time) he was riding a horse belonging to Abu Talha and it was naked without a saddle, and he was carrying a sword slung at his neck. The Prophet said, "I found it (the horse) like a sea, or, it is the sea indeed."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5574

Narrated by Jabir

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ قَطُّ فَقَالَ لَا

محمد بن کثیر، سفیان، ابن مکندر، جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی تو آپ نے کبھی نہیں نہ فرمایا۔

Narrated Jabir: Never was the Prophet asked for a thing to be given for which his answer was 'no'.

Permalink

Sahih BukhariHadith 5575

Narrated by Masruq

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يُحَدِّثُنَا إِذْ قَالَ لَمْ يَکُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَإِنَّهُ کَانَ يَقُولُ إِنَّ خِيَارَکُمْ أَحَاسِنُکُمْ أَخْلَاقًا

عمرو بن حفص، اعمش، شقیق، مسروق کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ نہ تو فحش گوئی کی عادت تھی اور نہ قصدا فحش کلامی فرماتے تھے اور آپ فرماتے تھے کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے بہتر ہو۔

Narrated Masruq: We were sitting with 'Abdullah bin 'Amr who was narrating to us (Hadith): He said, "Allah's Apostle was neither a Fahish nor a Mutafahhish, and he used to say, 'The best among you are the best in character (having good manners)."'

Permalink

Sahih BukhariHadith 5576

Narrated by Abu Hazim

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ فَقَالَ الْقَوْمُ هِيَ الشَّمْلَةُ فَقَالَ سَهْلٌ هِيَ شَمْلَةٌ مَنْسُوجَةٌ فِيهَا حَاشِيَتُهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکْسُوکَ هَذِهِ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا فَلَبِسَهَا فَرَآهَا عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ الصَّحَابَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ فَاکْسُنِيهَا فَقَالَ نَعَمْ فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَامَهُ أَصْحَابُهُ قَالُوا مَا أَحْسَنْتَ حِينَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا فَيَمْنَعَهُ فَقَالَ رَجَوْتُ بَرَکَتَهَا حِينَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلِّي أُکَفَّنُ فِيهَا

سعید بن ابی مریم، ابوغسان، ابوحازم ، سہل بن سعد، کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بردہ لے کر حاضر ہوئی، سہل نے لوگوں سے پوچھا کہ تم جانتے ہو بردہ کیا چیز ہے، تو لوگوں نے کہا کہ وہ شملہ ہے، سہل نے کہا کہ اس چادر کو کہتے ہیں کہ جس پر حاشیے بنے ہوئے ہوں، اس عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپ کو یہ پہننے کے لئے دیتی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لے لیا اور آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی، چنانچہ آپ نے اس کو پہن لیا، صحابہ میں سے ایک شخص نے دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کتنا عمدہ ہے آپ یہ مجھے دے دیں، آپ نے فرمایا اچھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے (اور اندر تشریف لے گئے) تو صحابہ نے ان کو ملامت کی اور کہا کہ تو نے اچھا نہیں کیا، جب تو نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو قبول کرلیا اور آپ کو اسکی ضرورت بھی تھی، لیکن آپ نے اس کے باوجود مانگ لیا اور تجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ سے جب کوئی چیز مانگی جاتی ہے تو اسے روکتے نہیں، انہوں نے کہا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا تو میں اس کی برکت کا امیدوار ہوا تاکہ اس میں اپنا کفن بنالوں۔

Narrated Abu Hazim: Sahl bin Sa'd said that a woman brought a Burda (sheet) to the Prophet. Sahl asked the people, "Do you know what is a Burda?" The people replied, "It is a 'Shamla', a sheet with a fringe." That woman said, "O Allah's Apostle! I have brought it so that you may wear it." So the Prophet took it because he was in need of it and wore it. A man among his companions, seeing him wearing it, said, "O Allah's Apostle! Please give it to me to wear." The Prophet said, "Yes." (and gave him that sheet). When the Prophet left, the man was blamed by his companions who said, "It was not nice on your part to ask the Prophet for it while you know that he took it because he was in need of it, and you also know that he (the Prophet) never turns down anybody's request that he might be asked for." That man said, "I just wanted to have its blessings as the Prophet had put it on, so l hoped that I might be shrouded in it."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5577

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعَمَلُ وَيُلْقَی الشُّحُّ وَيَکْثُرُ الْهَرْجُ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ

ابوالیمان، شعیب، زہری، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (قیامت کا) زمانہ قریب ہوتا جائے گا تو عمل کم ہوتا جائے گا، اور بخل بڑھتا جائے گا، اور ہرج میں اضافہ ہوجائے گا، لوگوں نے پوچھا کہ ہرج کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا قتل، قتل۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "Time will pass rapidly, good deeds will decrease, and miserliness will be thrown (in the hearts of the people), and the Harj (will increase)." They asked, "What is the Harj?" He replied, "(It is) killing (murdering), (it is) murdering (killing).

Permalink

Sahih BukhariHadith 5578

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ سَمِعَ سَلَّامَ بْنَ مِسْکِينٍ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ وَلَا لِمَ صَنَعْتَ وَلَا أَلَّا صَنَعْتَ

موسی بن اسماعیل، سلام بن مسکین، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی تو آپ نے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی فرمایا کہ کیوں تو نے ایسا کیا اور نہ یہ فرمایا کہ کیوں تو نے ایسا نہیں کیا۔

Narrated Anas: I served the Prophet for ten years, and he never said to me, "Uf" (a minor harsh word denoting impatience) and never blamed me by saying, "Why did you do so or why didn't you do so?"

Permalink