TrueHadith

اللہ تعالیٰ کے احکام میں غضب اور سختی جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو

Sahih BukhariHadith 5644

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ قِرَامٌ فِيهِ صُوَرٌ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَکَهُ وَقَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُصَوِّرُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ

یسرہ بن صفوان، ابراہیم، زہری، قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت گھر پر ایک پردہ پڑا ہوا تھا، جس میں تصویریں تھیں، آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر اس پردے کو لیا اور اس کو پھاڑ دیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو یہ تصویریں بناتے ہیں۔

Narrated 'Aisha: The Prophet entered upon me while there was a curtain having pictures (of animals) in the house. His face got red with anger, and then he got hold of the curtain and tore it into pieces. The Prophet said, "Such people as paint these pictures will receive the severest punishment on the Day of Resurrection ."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5645

Narrated by Abu Mas'ud

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَی رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا قَالَ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ قَالَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّکُمْ مَا صَلَّی بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ فَإِنَّ فِيهِمْ الْمَرِيضَ وَالْکَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ

مسدد، یحیی ، اسماعیل بن ابی خالد، قیس بن ابی حازم، ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں عشاء کی نماز میں فلاں فلاں شخص کے طویل نماز پڑھانے کی وجہ سے شریک نہیں ہوتا ہوں، ابومسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ میں اس سے زیادہ غصے میں نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! ہم میں سے بعض وہ ہیں، جو دوسروں کو بھگاتے ہیں (نفرت دلاتے ہیں) اس لئے تم میں سے جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو مختصر پڑھے، اس لئے کہ ان میں مریض اور بوڑھے اور حاجت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔

Narrated Abu Mas'ud: A man came to the Prophet and said "I keep away from the morning prayer only because such and such person prolongs the prayer when he leads us in it. The narrator added: I had never seen Allah's Apostle more furious in giving advice than he was on that day. He said, "O people! There are some among you who make others dislike good deeds) cause the others to have aversion (to congregational prayers). Beware! Whoever among you leads the people in prayer should not prolong it, because among them there are the sick, the old, and the needy." (See Hadith No. 670, Vol 1)

Permalink

Sahih BukhariHadith 5646

Narrated by 'Abdullah bin 'Umar

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَأَی فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَحَکَّهَا بِيَدِهِ فَتَغَيَّظَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا کَانَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ اللَّهَ حِيَالَ وَجْهِهِ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ حِيَالَ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ

موسی بن اسماعیل، جویریہ، نافع، عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے سامنے سجدہ کرنے کی جگہ کھنگار (بلغم) دیکھا تو اس کو اپنے ہاتھ سے صاف کردیا اور غصے ہو کر فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ نماز میں اپنے چہرہ کے سامنے ناک وغیرہ کی رطوبت نہ پھینکے۔

Narrated 'Abdullah bin 'Umar: While the Prophet was praying, he saw sputum (on the wall) of the mosque, in the direction of the Qibla, and so he scraped it off with his hand, and the sign of disgust (was apparent from his face) and then said, "Whenever anyone of you is in prayer, he should not spit in front of him (in prayer) because Allah is in front of him."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5647

Narrated by Zaid bin Khalid Al-Juhani

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِکَائَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَائَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوْ احْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ مَا لَکَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّی يَلْقَاهَا رَبُّهَا وَقَالَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ

محمد، اسماعیل بن جعفر، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، یزید (منبعث کے آزاد کردہ غلام) زید بن خالد جہنی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ (گری پڑی ہوئی چیز) کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو ایک سال تک مشتہر کرو، پھر اس کے سربندھن کو پہچان رکھ، پھر اس کو خرچ کر ڈال، پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو دے دو، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے، آپ نے فرمایا تو اس کو لے لے، اس لئے کہ وہ تیرا ہے یا تیرے بھائی کا یا بھڑیئے کا ہے، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! کھوئے ہوئے اونٹ کا کیا حکم ہے؟ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ بہت غصہ ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں رخسار یا چہرہ سرخ ہوگیا، پھر فرمایا کہ تجھے اس سے کیا سروکار! جب کہ اس کا کھانا اور پانی اس کے ساتھ ہے، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پالیتا ہے،

Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani: A man asked Allah's Apostle about "Al-Luqata" (a lost fallen purse or a thing picked up by somebody). The Prophet said, "You should announce it publicly for one year, and then remember and recognize the tying material of its container, and then you can spend it. If its owner came to you, then you should pay him its equivalent." The man said, "O Allah's Apostle! What about a lost sheep?" The Prophet said, "Take it because it is for you, for your brother, or for the wolf." The man again said, "O Allah's Apostle! What about a lost camel?" Allah's Apostle became very angry and furious and his cheeks became red (or his face became red), and he said, "You have nothing to do with it (the camel) for it has its food and its water container with it till it meets its owner."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5648

Narrated by Zaid bin Thabit

وَقَالَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَيْرَةً مُخَصَّفَةً أَوْ حَصِيرًا فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيهَا فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَائُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ ثُمَّ جَائُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ بِکُمْ صَنِيعُکُمْ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُکْتَبُ عَلَيْکُمْ فَعَلَيْکُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِکُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْئِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَکْتُوبَةَ

اور مکی نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا کہ محمد بن زیاد بواسطہ محمد بن جعفر، عبداللہ بن سعید، سالم ابوالنضر (عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام) بسر بن سعید، زید بن ثابت کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک حجرہ کھجور کی شاخ یا بوریئے سے بنالیا تھا، (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور جا کر اس میں نماز پڑھنے لگے، تو لوگ بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے، پھر ایک رات (دوسرے) لوگ تو آگئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے میں دیر کردی، اور آپ باہر تشریف نہیں لائے، تو لوگوں نے اپنی آواز بلند کی اور دروازے پر کنکریاں پھینکیں، غصے کی حالت میں آپ باہر تشریف لائے اور ان لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے برابر اس طرح کرتے رہنے کی وجہ سے میں نے خیال کیا کہ کہیں تم پر فرض نہ کردیا جائے، اس لئے تم اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، اس لئے کہ فرض کے سوا دوسری نمازیں وہ بہتر ہیں جو گھر میں پڑھی جائیں۔

Narrated Zaid bin Thabit: Allah's Apostle made a small room (with a palm leaf mat). Allah's Apostle came out (of his house) and prayed in it. Some men came and joined him in his prayer. Then again the next night they came for the prayer, but Allah's Apostle delayed and did not come out to them. So they raised their voices and knocked the door with small stones (to draw his attention). He came out to them in a state of anger, saying, "You are still insisting (on your deed, i.e. Tarawih prayer in the mosque) that I thought that this prayer (Tarawih) might become obligatory on you. So you people, offer this prayer at your homes, for the best prayer of a person is the one which he offers at home, except the compulsory (congregational) prayer."

Permalink