TrueHadith

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ آسانی کرو سختی نہ کرو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ساتھ تخفیف اور آسانی برتنے کو پسند فرماتے تھے۔

Sahih BukhariHadith 5659

Narrated by Abu Musa

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَهُمَا يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا قَالَ أَبُو مُوسَی يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنْ الْعَسَلِ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ وَشَرَابٌ مِنْ الشَّعِيرِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ

اسحاق نضر شعبہ سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب ان کو اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یمن بھیجنے لگے تو دونوں سے فرمایا کہ آسانی کرنا سختی نہ کرنا اور خوش خبری سنانا نفرت نہ دلانا بلکہ رغبت دلانا ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے جس کو مزر کہا جاتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

Narrated Abu Musa: that when Allah's Apostle sent him and Mu'adh bin Jabal to Yemen, he said to them, "Facilitate things for the people (treat the people in the most agreeable way), and do not make things difficult for them, and give them glad tidings, and let them not have aversion (i.e. to make the people hate good deeds) and you should both work in cooperation and mutual understanding, obey each other." Abu Musa said, "O Allah's Apostle! We are in a land in which a drink named Al Bit' is prepared from honey, and another drink named Al-Mizr is prepared from barley." On that, Allah's Apostle said, "All intoxicants (i.e. all alcoholic drinks) are prohibited."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5660

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَسَکِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا

آدم شعبہ ابوالتیاح حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آسانی کرو سختی نہ کرو اور لوگوں کو آرام دو اور نفرت نہ دلاؤ۔

Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, "Make things easy for the people, and do not make it difficult for them, and make them calm (with glad tidings) and do not repulse (them )."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5661

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْئٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَکَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ بِهَا لِلَّهِ

عبداللہ بن مسلمہ مالک ابن شہاب عروہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو امر کے درمیان جب بھی اختیار دیا تو ان میں جو آسان صورت تھی اس کو اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو اگر وہ گناہ ہوتا تو لوگوں میں سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے (یعنی سب سے زیادہ اس سے پرہیز کرتے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا مگر جو شخص حرمت الہیہ کی پردہ دری کرتا یعنی احکام الٰہی کے خلاف کرتا تو اللہ کی خاطر اس سے انتقام لیتے۔

Narrated 'Aisha: Whenever Allah's Apostle was given the choice of one of two matters he would choose the easier of the two as long as it was not sinful to do so, but if it was sinful, he would not approach it. Allah's Apostle never took revenge over anybody for his own sake but (he did) only when Allah's legal bindings were outraged, in which case he would take revenge for Allah's sake." (See Hadith No. 760. Vol. 4)

Permalink

Sahih BukhariHadith 5662

Narrated by Al-Azraq bin Qais

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ کُنَّا عَلَی شَاطِئِ نَهَرٍ بِالْأَهْوَازِ قَدْ نَضَبَ عَنْهُ الْمَائُ فَجَائَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ عَلَی فَرَسٍ فَصَلَّی وَخَلَّی فَرَسَهُ فَانْطَلَقَتْ الْفَرَسُ فَتَرَکَ صَلَاتَهُ وَتَبِعَهَا حَتَّی أَدْرَکَهَا فَأَخَذَهَا ثُمَّ جَائَ فَقَضَی صَلَاتَهُ وَفِينَا رَجُلٌ لَهُ رَأْيٌ فَأَقْبَلَ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَی هَذَا الشَّيْخِ تَرَکَ صَلَاتَهُ مِنْ أَجْلِ فَرَسٍ فَأَقْبَلَ فَقَالَ مَا عَنَّفَنِي أَحَدٌ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّ مَنْزِلِي مُتَرَاخٍ فَلَوْ صَلَّيْتُ وَتَرَکْتُهُ لَمْ آتِ أَهْلِي إِلَی اللَّيْلِ وَذَکَرَ أَنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَی مِنْ تَيْسِيرِهِ

ابو النعمان حماد بن زید ازرق بن قیس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم اہواز میں نہر کے کنارے ٹھہرے ہوئے تھے جس کا پانی خشک ہوگیا تھا ابوبرزہ ایک گھوڑے پر سوار آئے آپ نماز پڑھنے لگے اور گھوڑے کو کھلا چھوڑ دیا وہ گھوڑا چلنے لگا تو نماز چھوڑ کر اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ اس گھوڑے تک پہنچ کر اسکو پکڑ لیا پھر واپس آئے اور باقی نماز پوری کی اور ہم میں ایک آدمی عقلمند تھا وہ کہنے لگا کہ اس بڈھے کو دیکھو کہ گھوڑے کے لئے نماز چھوڑ دی تو ابوبرزہ کہنے لگے کہ جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہوا ہوں کسی نے مجھ کو ایسی سخت بات نہیں کہی اور بیان کیا کہ میرا گھر بہت دور ہے اگر میں نماز پڑھتا اور اس گھوڑے کو چھوڑ دیتا تو میں رات تک بھی اپنے گھر والوں میں نہ پہنچ سکتا اور بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسانی اختیار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

Narrated Al-Azraq bin Qais: We were in the city of Al-Ahwaz on the bank of a river which had dried up. Then Abu Barza Al-Aslami came riding a horse and he started praying and let his horse loose. The horse ran away, so Abu Barza interrupted his prayer and went after the horse till he caught it and brought it, and then he offered his prayer. There was a man amongst us who was (from the Khawari) having a different opinion. He came saying. "Look at this old man! He left his prayer because of a horse." On that Abu Barza came to us and said, "Since the time I left Allah's Apostle, nobody has admonished me; My house is very far from this place, and if I had carried on praying and left my horse, I could not have reached my house till night." Then Abu Barza mentioned that he had been in the company of the Prophet, and that he had seen his leniency.

Permalink

Sahih BukhariHadith 5663

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَثَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ ليَقَعُوا بِهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَی بَوْلِهِ ذَنُوبًا مِنْ مَائٍ أَوْ سَجْلًا مِنْ مَائٍ فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ

ابو الیمان شعیب زہری لیث یونس ابن شہاب عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک اعرابی مسجد میں پیشاب کرنے لگا تو لوگ اس کی طرف دوڑے تاکہ اس کو ماریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا اس کو چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی کا بہا دو اس لئے کہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے نہیں بھیجے گئے۔

Narrated Abu Huraira: A bedouin urinated in the mosque, and the people rushed to beat him. Allah's Apostle ordered them to leave him and pour a bucket or a tumbler (full) of water over the place where he has passed urine. The Prophet then said, " You have been sent to make things easy (for the people) and you have not been sent to make things difficult for them."

Permalink