TrueHadith

بڑے پن میں رضاعت کا بیان

Muwatta Imam MalikHadith 1113

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْکَبِيرِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَکَانَ تَبَنَّی سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَالِمٌ مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ کَمَا تَبَنَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَأَنْکَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَی أَنَّهُ ابْنُهُ أَنْکَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ وَهِيَ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَی قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِي کِتَابِهِ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَائَهُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيکُمْ رُدَّ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْ أُولَئِکَ إِلَی أَبِيهِ فَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ رُدَّ إِلَی مَوْلَاهُ فَجَائَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ کُنَّا نَرَی سَالِمًا وَلَدًا وَکَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا فُضُلٌ وَلَيْسَ لَنَا إِلَّا بَيْتٌ وَاحِدٌ فَمَاذَا تَرَی فِي شَأْنِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَحْرُمُ بِلَبَنِهَا وَکَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنْ الرَّضَاعَةِ فَأَخَذَتْ بِذَلِکَ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فِيمَنْ کَانَتْ تُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنْ الرِّجَالِ فَکَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَهَا أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ وَبَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنْ الرِّجَالِ وَأَبَی سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْکَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ وَقُلْنَ لَا وَاللَّهِ مَا نَرَی الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلَّا رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ لَا وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ فَعَلَی هَذَا کَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ الْکَبِيرِ

ابن شہاب سے سوال ہوا کہ بڑھ پن میں کوئی آدمی عورت کو دودھ پئے تو اس کا کیا حکم ہے انہوں نے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ خذیفہ بن عتبہ بن ریبعہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور جنگ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے انہوں نے بیٹا بنایا تھا سالم کو تو سالم مولی کہتے تھے انہوں بی خذیفہ کے جیسے زید کو بیٹا کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ابوخذیفہ نے سالم کا نکاح اپنی بھتجی فاطمہ بنت ولد سے کر دیا تھا جو پہلے ہجرت کرنے والوں میں تھی اور تمام قریش کی ثیبہ عورتوں میں افضل تھی جب اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں اتارا زید بن حارثہ کے حق میں کہ ان کو کے باپو کا نام معلوم نہ ہوتا اپنے مالک کی طرف نسبت کئے جانے تو سہلہ بنت سہیل ابوحذیفہ کی جورو جو بنی عامر بن لوی کی اولاد میں سے تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو حضرت سالم رضی اللہ عنہ کو اپنا بچہ سمجھتے تھے ہم ننگے کھلے ہوتے تھے وہ اندر چلا آتا تھا اب کیا کرنا چاہئیے دوسرا گھر بھی ہمارے پاس نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانچ بار دودھ پلادے تو وہ تیرا محرم ہوجائے گا ۔ پھر حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور سالم کو اپنا رضائی بیٹا سمجھنے لگی حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اسی حدیث پر عمل کرتیں تھی اور جس مرد کو چاہتیں کہ اپنے پاس آیا جایا کرے تو اپنی بہن ام کلثوم کو حکم کرتیں اور اپنی بھتیجیوں کو کہ اس شخص کو اپنا دودھ پلادیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بیبیاں اس کا انکار کرتی تھیں کہ بڑے پن میں کوئی دودھ پی کر ان کا محرم بن جائے اور ان کے پاس آیا جایا کرے اور وہ یہ کہتی تھیں کہ یہ خاص رخصت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قسم خدا کی ایس رضاعت کی وجہ سے ہمارا کوئی محرم نہیں ہوسکتا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that he was asked about the suckling of an older person. He said, ''Urwa ibn az-Zubayr informed me that Abu Hudhayfa ibn Utba ibn Rabia, one of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, who was present at Badr, adopted Salim (who is called Salim, the mawla of Abu Hudhayfa) as the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, adopted Zayd ibn Haritha. He thought of him as his son, and Abu Hudhayfa married him to his brother's sister, Fatima bint al-Walid ibn Utba ibn Rabia, who was at that time among the first emigrants. She was one of the best unmarried women of the Quraysh. When Allah the Exalted sent down in His Book what He sent down about Zayd ibn Haritha, 'Call them after their true fathers. That is more equitable in the sight of Allah. If you do not know who their fathers were then they are your brothers in the deen and your mawali,' (Sura 33 ayat 5) people in this position were traced back to their fathers. When the father was not known, they were traced to their mawla. "Sahla bint Suhayl who was the wife of Abu Hudhayfa, and one of the tribe of Amr ibn Luayy, came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, 'Messenger of Allah! We think of Salim as a son and he comes in to see me while I am uncovered. We only have one room, so what do you think about the situation?' The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'Give him five drinks of your milk and he will be mahram by it.' She then saw him as a foster son. A'isha umm al-muminin took that as a precedent for whatever men she wanted to be able to come to see her. She ordered her sister, Umm Kulthum bint Abi Bakr as-Siddiq and the daughters of her brother to give milk to whichever men she wanted to be able to come in to see her. The rest of the wives of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, refused to let anyone come in to them by such nursing. They said, 'No! By Allah! We think that what the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered Sahla bint Suhayl to do was only an indulgence concerning the nursing of Salim alone. No! By Allah! No one will come in upon us by such nursing!' "This is what the wives of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, thought about the suckling of an older person."

Permalink

Muwatta Imam MalikHadith 1114

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَنَا مَعَهُ عِنْدَ دَارِ الْقَضَائِ يَسْأَلُهُ عَنْ رَضَاعَةِ الْکَبِيرِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنِّي کَانَتْ لِي وَلِيدَةٌ وَکُنْتُ أَطَؤُهَا فَعَمَدَتْ امْرَأَتِي إِلَيْهَا فَأَرْضَعَتْهَا فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ دُونَکَ فَقَدْ وَاللَّهِ أَرْضَعْتُهَا فَقَالَ عُمَرُ أَوْجِعْهَا وَأْتِ جَارِيَتَکَ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ رَضَاعَةُ الصَّغِيرِ

عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا میں ان کے ساتھ تھا دارالقضا کے پا پوچھنے لگا بڑے آدمی کی رضاعت کا کیا حکم ہے عبداللہ بن عمر نے کہا ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا بولا میری ایک لونڈی تھی اس سے میں صحبت کیا کرتا تھا میری جورو نے قصدا اسے دودھ پلایا دیا جب میں اس کے پاس جانے لگا بولی سن لے قسم خدا کی میں اس کو دودھ پلا چکی ہوں حضرت عمر نے فرمایا اپنی بی بی کو سزادے اور اپنی لونڈی سے صحبت کر رضاعت چھوٹے پن میں ہوتی ہے ۔

Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Dinar said, "A man came to Abdullah ibn Umar when I waswith him at the place where judgments were given and asked him about the suckling of an older person. Abdullah ibn Umar replied, 'A man came to Umar ibn al-Khattab and said, 'I have a slave-girl and I used to have intercourse with her. My wife went to her and suckled her. When I went to the girl, my wife told me to watch out, because she had suckled her!' Umar told him to beat his wife and to go to his slave-girl because kinship by suckling was only by the suckling of the young.' "

Permalink

Muwatta Imam MalikHadith 1115

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا مُوسَی الْأَشْعَرِيَّ فَقَالَ إِنِّي مَصِصْتُ عَنْ امْرَأَتِي مِنْ ثَدْيِهَا لَبَنًا فَذَهَبَ فِي بَطْنِي فَقَالَ أَبُو مُوسَی لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَرُمَتْ عَلَيْکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ انْظُرْ مَاذَا تُفْتِي بِهِ الرَّجُلَ فَقَالَ أَبُو مُوسَی فَمَاذَا تَقُولُ أَنْتَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لَا رَضَاعَةَ إِلَّا مَا کَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ فَقَالَ أَبُو مُوسَی لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْئٍ مَا کَانَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ

یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابوموسیٰ اشعری سے کہا میں اپنی عورت کا دودھ چھاتی سے چوس رہا تھا وہ میرے پیٹ میں چلا گیا ابوموسیٰ نے کہا وہ میرے نزدیک وہ عورت تجھ پر حرام ہوگئی عبداللہ بن مسعود نے کہا دیکھو کیا مسئلہ بتاتے ہو اس شخص کو ابوموسیٰ بولے اچھا تم کیا کہتے ہو عبداللہ بن مسعود نے کہا رضاعت وہ ہے جو دو برس کے اندر ہو جب ابومویس نے کہا مجھ سے کچھ مت پوچھا کرو جب تک یہ عالم تم میں موجود ہے ۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that a man said to Abu Musa al-Ashari, "I drank some milk from my wife's breasts and it went into my stomach." Abu Musa said, "I can only but think that she is haram for you." Abdullah ibn Masud said, "Look at what opinion you are giving the man." Abu Musa said, "Then what do you say?" Abdullah ibn Masud said, "There is only kinship by suckling in the first two years." Abu Musa said, "Do not ask me about anything while this learned man is among you."

Permalink