عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سَرَقَ وَهُوَ آبِقٌ فَأَرْسَلَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَی سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ لِيَقْطَعَ يَدَهُ فَأَبَی سَعِيدٌ أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ وَقَالَ لَا تُقْطَعُ يَدُ الْآبِقِ السَّارِقِ إِذَا سَرَقَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي أَيِّ کِتَابِ اللَّهِ وَجَدْتَ هَذَا ثُمَّ أَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ
نافع سے روایت ہے کہ ایک غلام عبداللہ بن عمر کا بھاگا ہوا تھا اس نے چوری کی عبداللہ بن عمر نے اس غلام کو سعید بن العاص کے پاس بھیجا جو حاکم تھے مدینہ کے ہاتھ کاٹنے کو، سعید بن عاص نے نہ مانا اور کہا جب کوئی بھاگ جائے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ تو نے یہ حکم کس کتاب اللہ میں پایا، پھر عمد اللہ بن عمر نے حکم کیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا ۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that a slave of Abdullah ibn Umar stole while he was a runaway. Abdullah ibn Umar sent him to Said ibn al-As, who was the amir of Madina, to cut off his hand. Said refused to cut off his hand. He said, "The hand of a runaway slave is not cut off when he steals." Abdullah ibn Umar said to him, "In what Book of Allah did you find this?" Then Abdullah ibn Umar gave the order, and his hand was cut off.
عَنْ زُرَيْقِ بْنِ حَکِيمٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَخَذَ عَبْدًا آبِقًا قَدْ سَرَقَ قَالَ فَأَشْکَلَ عَلَيَّ أَمْرُهُ قَالَ فَکَتَبْتُ فِيهِ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِکَ وَهُوَ الْوَالِي يَوْمَئِذٍ قَالَ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّنِي کُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّ الْعَبْدَ الْآبِقَ إِذَا سَرَقَ وَهُوَ آبِقٌ لَمْ تُقْطَعْ يَدُهُ قَالَ فَکَتَبَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ نَقِيضَ کِتَابِي يَقُولُ کَتَبْتَ إِلَيَّ أَنَّکَ کُنْتَ تَسْمَعُ أَنَّ الْعَبْدَ الْآبِقَ إِذَا سَرَقَ لَمْ تُقْطَعْ يَدُهُ وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَائً بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِنْ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَکِيمٌ فَإِنْ بَلَغَتْ سَرِقَتُهُ رُبُعَ دِينَارٍ فَصَاعِدًا فَاقْطَعْ يَدَهُ عَنْ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ کَانُوا يَقُولُونَ إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ الْآبِقُ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ قُطِعَ قَالَ مَالِک وَذَلِکَ الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا
زر یق بن حکیم نے ایک بھاگے ہوئے غلام کو گر فتار کیا جس نے چوری کی تھی پھر ان کو یہ مسئلہ مشکل معلوم ہوا انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا وہ اس زمانے میں امیرالمو منین تھے اور یہ بھی لکھا کہ میں سنتا تھا جو غلام بھاگ جائے پھر وہ چوری کرے تو اسکا ہاتھ نہ کاٹا جائے عمر بن عبد العز یز نے جواب میں لکھا اور میری تحریر کا حوالہ دیا اور کہا کہ تو نے لکھا ہے کہ تو سنتا تھا جو غلام بھاگا ہوا ہو وہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے کہ جو مرد چوری کرے یا عورت چوری کرے تو ان کے ہاتھ کاٹو یہ بدلہ ہے ان کے کام کا اور عذاب ہے اللہ کی طرف سے اللہ غالب ہے حکمت والا پس اگر اس غلام نے ربع دینار کے موافق یا اس سے زیادہ چوری کی ہو اس کا ہاتھ کاٹ ڈال۔ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اور عروہ بن الزبیر کہتے تھے بھاگا ہوا غلام جب اس قدر چرائے جس میں ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔
Yahya related to me from Malik that Zurayq ibn Hakim informed him that he had a runaway slave who had stolen. He said, "The situation was obscure for me, so I wrote to Umar ibn Abd al-Aziz to ask him about it. He was the governor at that time. I informed him that I had heard that if a runaway slave stole while he was a fugitive, his hand was not cut off. 'Umar ibn Abd al-Aziz wrote to contradict my letter, 'You wrote to me that you have heard that when the runaway slave steals, his hand is not cut off. Allah, the Blessed, the Exalted, says in His Book, 'The thief, male and female, cut off the hands of both, as a recompense for what they have earned, and an exemplary punishment from Allah. Allah is Mighty, Wise.' (Sura 5 ayat 41) When his theft reaches a quarter of a dinar, and upwards, his hand is cut off.' "