TrueHadith

بیع کے مختلف مسائل کا بیان

Muwatta Imam MalikHadith 1191

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا ذَکَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ قَالَ فَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ لَا خِلَابَة

عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ مجھ کو لوگ فریب دیتے ہیں خرید وفروخت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تو خرید و فروخت کیا کرے تو کہہ دیا کر کہ فریب نہیں ہے وہ شخص جب معاملہ کرتا تو یہی کہا کرتا کہ فریب نہیں ہے ۔

-

Permalink

Muwatta Imam MalikHadith 1192

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ يَقُولُ أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا إِنْ بَاعَ سَمْحًا إِنْ ابْتَاعَ سَمْحًا إِنْ قَضَی سَمْحًا إِنْ اقْتَضَی

یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ محمد بن منکدر کہتے تھے اللہ اس بندے کو چاہتا ہے جو بیچتے وقت نرمی کرتا ہے اور خریدتے وقت بھی نرمی کرتا ہے قرص ادا کرتے وقت بھی نرمی کرتا ہے اور قرض وصول کرتے وقت بھی ۔

-

Permalink

Muwatta Imam MalikHadith 1193

عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ إِذَا جِئْتَ أَرْضًا يُوفُونَ الْمِکْيَالَ وَالْمِيزَانَ فَأَطِلْ الْمُقَامَ بِهَا وَإِذَا جِئْتَ أَرْضًا يُنَقِّصُونَ الْمِکْيَالَ وَالْمِيزَانَ فَأَقْلِلْ الْمُقَامَ بِهَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْإِبِلَ أَوْ الْغَنَمَ أَوْ الْبَزَّ أَوْ الرَّقِيقَ أَوْ شَيْئًا مِنْ الْعُرُوضِ جِزَافًا إِنَّهُ لَا يَكُونُ الْجِزَافُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يُعَدُّ عَدًّا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُعْطِي الرَّجُلَ السِّلْعَةَ يَبِيعُهَا لَهُ وَقَدْ قَوَّمَهَا صَاحِبُهَا قِيمَةً فَقَالَ إِنْ بِعْتَهَا بِهَذَا الثَّمَنِ الَّذِي أَمَرْتُكَ بِهِ فَلَكَ دِينَارٌ أَوْ شَيْءٌ يُسَمِّيهِ لَهُ يَتَرَاضَيَانِ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ تَبِعْهَا فَلَيْسَ لَكَ شَيْءٌ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا سَمَّى ثَمَنًا يَبِيعُهَا بِهِ وَسَمَّى أَجْرًا مَعْلُومًا إِذَا بَاعَ أَخَذَهُ وَإِنْ لَمْ يَبِعْ فَلَا شَيْءَ لَهُ قَالَ مَالِك وَمِثْلُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ إِنْ قَدَرْتَ عَلَى غُلَامِي الْآبِقِ أَوْ جِئْتَ بِجَمَلِي الشَّارِدِ فَلَكَ كَذَا وَكَذَا فَهَذَا مِنْ بَابِ الْجُعْلِ وَلَيْسَ مِنْ بَابِ الْإِجَارَةِ وَلَوْ كَانَ مِنْ بَابِ الْإِجَارَةِ لَمْ يَصْلُحْ قَالَ مَالِك فَأَمَّا الرَّجُلُ يُعْطَى السِّلْعَةَ فَيُقَالُ لَهُ بِعْهَا وَلَكَ كَذَا وَكَذَا فِي كُلِّ دِينَارٍ لِشَيْءٍ يُسَمِّيهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ كُلَّمَا نَقَصَ دِينَارٌ مِنْ ثَمَنِ السِّلْعَةِ نَقَصَ مِنْ حَقِّهِ الَّذِي سَمَّى لَهُ فَهَذَا غَرَرٌ لَا يَدْرِي كَمْ جَعَلَ لَهُ

سعید بن مسیب کہتے تھے جب تو ایسے ملک میں آئے جہاں کے لوگ پورا پورا ناپتے اور تولتے ہوں تو وہاں زیادہ رہ جب ایسے ایسے ملک میں آئے جہان کے لوگ ناپ تول میں کمی کر تے ہوں تو وہاں کم رہ۔ کہا مالک نے کوئی شخص اونٹ یا بکریاں یا کپڑا یا غلام لونڈی بے گنے جھنڈکے جھنڈخریدلے اچھا نہیں جو چیزیں گنتی ہے بکتی ہیں ان کو گن لینا بہترہے۔ ابن شہاب سے سوال ہوا کوئی شخص ایک جانور کو لے پھر دوسرے شخص کو اس سے زیادہ پر کرایہ کو دے انہوں نے کہا کچھ قباحت نہیں ۔

-

Permalink