عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ
ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت امام خطبہ پڑھتا ہے اگر تو اپنے پاس والے سے کہے چپ رہ تو تو نے بھی ایک لغو حرکت کی ۔
-
عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِکٍ الْقُرَظِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ کَانُوا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُصَلُّونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّی يَخْرُجَ عُمَرُ فَإِذَا خَرَجَ عُمَرُ وَجَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ قَالَ ثَعْلَبَةُ جَلَسْنَا نَتَحَدَّثُ فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُونَ وَقَامَ عُمَرُ يَخْطُبُ أَنْصَتْنَا فَلَمْ يَتَکَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَخُرُوجُ الْإِمَامِ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ وَکَلَامُهُ يَقْطَعُ الْکَلَامَ
ثعلبہ بن ابی مالک قرظی سے روایت ہے کہ لوگ نماز پڑھا کرتے تھے جمعہ کے دن یہاں تک کہ نکلیں عمر بن خطاب پھر جب نکلتے عمر اور بیٹھے ہوئے باتیں کیا کرتے جب موذن چپ ہو رہتے اور عمر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تو کوئی بات نہ کرتا کہا ابن شہاب نے جب امام نکلے خطبے کے لئے تو نماز موقوف کرنا چاہئے اور جب خطبہ شروع کرے تو بات موقوف کرنا چاہئے۔
-
عَنْ مَالِکِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ قَلَّ مَا يَدَعُ ذَلِکَ إِذَا خَطَبَ إِذَا قَامَ الْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِي لَا يَسْمَعُ مِنْ الْحَظِّ مِثْلَ مَا لِلْمُنْصِتِ السَّامِعِ فَإِذَا قَامَتْ الصَّلَاةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بِالْمَنَاکِبِ فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ ثُمَّ لَا يُکَبِّرُ حَتَّی يَأْتِيَهُ رِجَالٌ قَدْ وَکَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَيُخْبِرُونَهُ أَنْ قَدْ اسْتَوَتْ فَيُکَبِّرُ
مالک بن ابی عامر سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان جب خطبہ کو کھڑے ہوئے تو اکثر کہا کرتے بہت کم چھوڑ دیتے یہ بات اے لوگو! جب امام کھڑا ہو خطبہ کے لئے تو سنو خطبہ کو اور چپ رہو کیونکہ جو شخص چپ رہے گا اور خطبہ اس کو نہ سنائی دے گا اس کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جو چپ رہے اور خطبہ اس کو سنائی دے اور جب تکبیر ہو نماز کی تو برابر کرو صفوں کو اور برابر کرو مونڈھوں کو کیونکہ صفیں برابر کرنا نماز کا تتمہ ہے پھر تکبیر تحریمہ نہ کہتے تھے عثمان یہاں تک کہ خبر دیتے آکر ان کو وہ لوگ جن کو مقرر کیا تھا صفیں برابر کرنے پر اس بات کی صفیں برابر ہو گئیں اس وقت تکبیر تحریمہ کہتے تھے ۔
-
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَأَی رَجُلَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَصَبَهُمَا أَنْ اصْمُتَا حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَشَمَّتَهُ إِنْسَانٌ إِلَی جَنْبِهِ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِکَ وَقَالَ لَا تَعُدْ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے دیکھا دو مردوں کو خطبہ کے وقت باتیں کر رہے ہیں تو کنکر پھینکے ان پر اس لئے کہ چپ رہیں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص چھینکا دن جمعہ کے اور امام خطبہ پڑھتا تھا تو جواب دیا اس کو ایک آدمی نے پھر پوچھا سعید بن مسیب سے تو منع کیا انہوں نے اس سے اور کہا کہ پھر ایسا نہ کرنا۔
-
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ الْکَلَامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا نَزَلَ الْإِمَامُ عَنْ الْمِنْبَرِ قَبْلَ أَنْ يُکَبِّرَ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ
امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا ابن شہاب زہری سے کہا جب امام منبر سے اترے خطبہ پڑھ کر تو قبل تکبیر کے بات کہنا کیسا ہے کہ ابن شہاب نے کچھ قباحت نہیں ہے ۔
-