TrueHadith

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کی حدیثیں

Musnad AhmadHadith 17322

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ أَخِي بَنِي فِهْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمِثْلِ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَا يَرْجِعُ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17323

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ يَعْنِي الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17324

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِىِّ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو اپنی انگلیوں کا خلال چھنگلیا سے فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17325

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا وَقَّاصُ بْنُ رَبِيعَةَ أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً وَقَالَ مَرَّةً أُكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ اكْتَسَى بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ثَوْبًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کا کوئی لقمہ زبردستی کھالیا تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا ہی کھانا جہنم سے کھلائے گا، جس شخص نے کسی مسلمان کے کپڑے (زبردستی چھین کر) پہن لیے، اللہ تعالیٰ اسے ویسا ہی جہنمی لباس پہنائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کو مقام ریاء و شہرت پر کھڑا کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے مقام شہرت (تشہیر) پر کھڑا کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17326

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ إِلَيْهِ

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17327

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ كُنْتُ فِي رَكْبٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ بِسَخْلَةٍ مَيْتَةٍ مَنْبُوذَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمِّدٍ بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک مردار بکری پر ہوا جس کی کھال اتار کر اسے پھینک دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس بکری کو اس کے مالک حقیر سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! حقیر سمجھ کر ہی تو اسے انہوں نے پھینک دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جتنی حقیر یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں ہے، دنیا اللہ کی نظروں میں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17328

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ إِلَيْهِ

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17329

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ والْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ بْنَ شَدَّادٍ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا وَلَيْسَ لَهُ مَنْزِلٌ فَلْيَتَّخِذْ مَنْزِلًا أَوْ لَيْسَتْ لَهُ زَوْجَةٌ فَلْيَتَزَوَّجْ أَوْ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا أَوْ لَيْسَتْ لَهُ دَابَّةٌ فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ

حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ہماری طرف سے گورنر نامزد ہو اور اس کے پاس متعلقہ شہر میں کوئی گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو شادی کر سکتا ہے، خادم نہ ہو تو رکھ سکتا ہے، سواری نہ ہو تو رکھ سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ جو کچھ لے گا، وہ اللہ کے یہاں خائن شمار ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17330

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَابْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِىِّ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو اپنی انگلیوں کا خلال چھنگلیا سے فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17331

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ وَعَمْرُو بْنُ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ فَسَمِعَ الْمُسْتَوْرِدَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا فَلَمْ يَكُنْ لَهُ زَوْجَةً فَلْيَتَزَوَّجْ أَوْ خَادِمًا فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا أَوْ مَسْكَنًا فَلْيَتَّخِذْ مَسْكَنًا أَوْ دَابَّةً فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً فَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ وَعَمْرُو بْنُ غَيْلَانَ فَسَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ الْحَارِثِ

حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ہماری طرف سے گورنر نامزد ہو اور اس کے پاس متعلقہ شہر میں کوئی گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو شادی کرسکتا ہے، خادم نہ ہو تو رکھ سکتا ہے، سواری نہ ہو تو رکھ سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ جو کچھ لے گا، وہ اللہ کے یہاں خائن اور چور شمار ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17332

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَرَجُلٍ وَضَعَ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ثُمَّ رَجَعَهَا قَالَ وَإِنِّي لَفِي الرَّكْبِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ عَلَى كُنَاسٍ فَقَالَ أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا فَقَالُوا مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا هَاهُنَا قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَهْوَنُ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ اور ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک مردار بکری پر ہوا جس کی کھال اتار کر اسے پھینک دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس بکری کو اس کے مالک حقیر سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم حقیر سمجھ کر ہی تو اسے انہوں نے پھینک دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جتنی حقیر یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں ہے، دنیا اللہ کی نظروں میں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17333

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي الْمُهَلَّبِيَّ حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَرَجُلٍ وَضَعَ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَيْهِ فَمَا أَخَذَ مِنْهُ قَالَ وَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ أَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ الرَّكْبِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَرَّ بِمَنْزِلِ قَوْمٍ قَدْ ارْتَحَلُوا عَنْهُ فَإِذَا سَخْلَةٌ مَطْرُوحَةٌ فَقَالَ أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا قَالُوا مِنْ هَوَانِهَا عَلَيْهِمْ أَلْقَوْهَا قَالَ فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ اور ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک مردار بکری پر ہوا جس کی کھال اتار کر اسے پھینک دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس بکری کو اس کے مالک حقیر سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم حقیر سمجھ کر ہی تو اسے انہوں نے پھینک دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جتنی حقیر یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں ہے، دنیا اللہ کی نظروں میں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17334

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ أَبْصِرْ مَا تَقُولُ قَالَ أَقُولُ لَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِنْ تَكُنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعًا إِنَّهُمْ لَأَسْرَعُ النَّاسِ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ وَإِنَّهُمْ لَخَيْرُ النَّاسِ لِمِسْكِينٍ وَفَقِيرٍ وَضَعِيفٍ وَإِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَالرَّابِعَةُ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ وَإِنَّهُمْ لَأَمْنَعُ النَّاسِ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ

حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا قیامت جب قائم ہوگی تو رومیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی؟ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھی طرح سوچ سمجھ کر کہو کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے فرمایا میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ کہہ رہے ہیں تو ایسا ہی ہوگا، ان لوگوں میں چار خصلتیں ہیں ۔ (١) یہ لوگ بھاگنے کے بعد سب سے زیادہ تیزی سے پلٹ کر حملہ کرنے والے ہیں ۔ (٢) یہ لوگ مسکین، فقیر اور کمزور کے حق میں سب سے بہترین ہیں ۔ (٣) یہ لوگ آزمائش کے وقت سب سے زیادہ بردبار ہوتے ہیں ۔ (٤) اور چوتھی خصلت سب سے عمدہ ہے کہ یہ لوگ بادشاہوں کے ظلم سے دوسروں کو بچاتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17335

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ قَالَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَشَدُّ النَّاسِ عَلَيْكُمْ الرُّومُ وَإِنَّمَا هَلَكَتُهُمْ مَعَ السَّاعَةِ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو أَلَمْ أَزْجُرْكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا

حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، دوران گفتگو میں نے ان سے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم پر سب سے زیادہ سخت لوگ رومی ثابت ہوں گے، ان کی ہلاکت قرب قیامت میں ہی مکمل ہوگی، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں نے آپ کو ایسی باتیں کرنے سے منع نہیں کیا تھا؟

-

Permalink