TrueHadith

حضرت معقل بن سنان اشجعی کی حدیثیں ۔

Musnad AhmadHadith 15378

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ ثُمَّ مَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا قَالَ فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَى لَهَا مِثْلَ صَدَاقِ نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَشَهِدَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بِرْوَعَ ابْنَةِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ مَا قَضَى

علقمہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا کہ ایک عورت ہے جس سے ایک شخص نے نکاح کیا اور تھوڑی دیر بعد فوت ہوگیا اس نے ابھی اس کا مہر مقرر کیا تھا اور نہ ہی تخلیہ کیا تھا اس کا کیا حکم ہے۔ مختلف صحابہ نے مختلف آراء پیش کی حضرت ابن مسعود نے فرمایا میری رائے یہ ہے کہ اس عورت کو مہر مثل ملے گا اس کو وراثت میں بھی حصہ ملے گا اور وہ عدت بھی گذارے گی اس فیصلے کو سن کر حضرت معقل بن سنان نے گواہی دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعینہ اس طرح کا فیصلہ بروع بنت واشق کے بارے میں بھی کیا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 15379

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ شَهِدَ عِنْدِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَحْتَجِمُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ قَالَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ

حضرت معقل بن سنان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان کی اٹھارہویں رات کو سینگی لگارہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے مجھے اس حال میں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 15380

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا قَالَ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ قَالَ سَمِعْتُ سَيَّارَ بْنَ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ بُهَيْسَةَ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

بھیسہ کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی اور آپ کی مبارک قمیص کے نیچے سے جسم کو چوسنے اور چمٹنے لگا پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی ، میں نے پھریہی سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا تیسری مرتبہ پوچھنے پر فرمایا تمہارے لیے نیکی کے کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 15381

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُهَيْسَةَ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَدْنُو مِنْهُ وَيَلْتَزِمُهُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمِلْحُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ فَانْتَهَى قَوْلُهُ إِلَى الْمَاءِ وَالْمِلْحِ قَالَ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا وَإِنْ قَلَّ

بھیسہ کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی اور آپ کی مبارک قمیص کے نیچے سے جسم کو چوسنے اور چمٹنے لگا پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی ، میں نے پھر یہی سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا تیسری مرتبہ پوچھنے پر فرمایا تمہارے لیے نیکی کے کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔

-

Permalink