TrueHadith

حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں

Musnad AhmadHadith 17269

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَيْتَنِي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ قَالَ فَلَمَّا كَانَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنْهُمْ عُمَرُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخًا بِطِيبٍ قَالَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ فَجَاءَهُ الْوَحْيُ فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى أَنْ تَعَالَ فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ كَذَلِكَ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنْ الْعُمْرَةِ آنِفًا فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ

صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ کاش! میں نبی صلی اللہ علیہ کو نزول وحی کی کیفیت میں دیکھ پاتا، ایک مرتبہ وہ جعرانہ میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا گیا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم تھے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اسی دوران ایک آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تھا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا ، اس نے آکر پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اس شخص کے بارے آپ کی کیا رائے ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگانے کے بعد ایک جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے سوچا پھر خاموش ہوگئے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بلایا، وہ آئے اور اپنا سر خیمے میں داخل کر دیا، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور سرخ ہو رہا ہے، کچھ دیر تک اسی طرح سانس کی آواز آتی رہی، پھر وہ کیفیت ختم ہوگئی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص کہاں گیا جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ اس آدمی کو تلاش کر کے لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17270

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا فَعَضَّ يَدَهُ فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهُ وَقَالَ فَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا كَمَا يَقْضِمُ الْفَحْلُ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے مزدور (کرایہ دار) کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، اس نے اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ لیا، اس نے جو اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ کر گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دعوی باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا تو کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے سانڈ کی طرح چباتے رہتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17271

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ أَوْ قَالَ فَادْفَعْ إِلَيْهِمْ ثَلَاثِينَ دِرْعًا وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جب میرے قاصد تمہارے پاس آئیں تو تم انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا (یا اس سے کم تعداد فرمائی) انہوں نے پوچھا یاسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا یہ عاریۃ ہیں جنہیں واپس لوٹا دیا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17272

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ قَالَ يَعْلَى وَكُنْتُ مِمَّا يَلِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا بَلَغْتُ الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ وَحَدَرْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ لِأَسْتَلِمَ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ قُلْتُ أَلَا تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ قَالَ أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بَلَى قَالَ أَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ يَعْنِي الْغَرْبِيَّيْنِ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَانْفُذْ عَنْكَ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، میں بیت اللہ کے قریب تھا، جب میں حجر اسود کے ساتھ مغربی کونے پر پہنچا اور استلام کرنے کے لئے اپنے ہاتھ کو اٹھایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا کیا آپ ان دونوں کونوں کا استلام نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف نہیں کیا؟ میں نے کہا کیوں نہیں ، انہوں نے فرمایا کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں مغربی کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں ، انہوں نے فرمایا تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں تمہارے لیے اسوہ حسنہ نہیں ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں ؟ انہوں نے فرمایا تو پھر اسے ختم کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17273

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ ابْنِ يَعْلَى عَنْ يَعْلَى قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بِرِدَاءٍ حَضْرَمِيٍّ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موت کی چادر سے اضطباع کرتے ہوئے (حالت احرام میں دائیں کندھے سے کپڑا ہٹائے ہوئے) دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17274

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ بِذِرَاعِهِ فَاجْتَبَذَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ فَذَهَبَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْعَقْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ يَعَضُّهُ عَضِيضَ الْفَحْلِ ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ لَا دِيَةَ لَكَ قَالَ فَأَطَلَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَبْطَلَهَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ يَعْلَى عَنْ يَعْلَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ عِمْرَانَ فِي الَّذِي يُعَضُّ أَحَدُهُمَا

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، راستے میں میرے مزدور (کرایہ دار) کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، اس نے اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ لیا، اس نے جو اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ کر گر گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دعوی باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا تو کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے سانڈ کی طرح چباتے رہتے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17275

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ أَبُو حَفْصٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بِبُرْدٍ لَهُ نَجْرَانِيٍّ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نجران کی چادر سے صفا مروہ کے درمیان اضطباع کرتے ہوئے (حالت احرام میں دائیں کندھے سے کپڑا ہٹائے ہوئے) دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17276

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ مُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نجران کی چادر سے صفا مروہ کے درمیان اضطباع کرتے ہوئے (حالت احرام میں دائیں کندھے سے کپڑا ہٹائے ہوئے) دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17277

حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ طَلْحَةَ أَبُو نَصْرٍ الْحَضْرَمِيُّ أَوْ الْخُشَنِيُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنِي فِي سَرَايَا فَبَعَثَنِي ذَاتَ يَوْمٍ فِي سَرِيَّةٍ وَكَانَ رَجُلٌ يَرْكَبُ بَغْلًا فَقُلْتُ لَهُ ارْحَلْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَعَثَنِي فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ مَا أَنَا بِخَارِجٍ مَعَكَ قُلْتُ وَلِمَ قَالَ حَتَّى تَجْعَلَ لِي ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ قُلْتُ الْآنَ حَيْثُ وَدَّعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَيْهِ ارْحَلْ وَلَكَ ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ فَلَمَّا رَجَعْتُ مِنْ غَزَاتِي ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ لَهُ مِنْ غَزَاتِهِ هَذِهِ وَمِنْ دُنْيَاهُ وَمِنْ آخِرَتِهِ إِلَّا ثَلَاثَةُ الدَّنَانِيرِ

حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سرایا میں بھیجتے رہتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سریہ پر روانہ فرمایا، ایک شخص میری سواری پر سوار ہوتا تھا، میں نے اسے ساتھ چلنے کے لئے کہا، اس نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا، میں نے پوچھا کیوں ؟ تو اس نے کہا کہ پہلے مجھے تین دینار دینے کا وعدہ کرو، میں نے کہا کہ اب تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہو کر آگیا ہوں اس لئے اب ان کے پاس واپس نہیں جاسکتا، تم چلو، تمہیں تین دینار مل جائیں گے، جب میں جہاد سے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے اس غزوے اور دنیا و آخرت میں تین دیناروں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17278

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى قَالَ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أُمَيَّةُ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ فَقَدْ انْقَطَعَتْ الْهِجْرَةُ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں اور میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے والد سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں ، کیونکہ ہجرت کی فرضیت ختم ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17279

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُيَيِّ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ يَعْلَى يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَوْ قِيلَ لَهُ أَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ يَعْلَى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ قَالَ لَهُ يَعْلَى فَأَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَنْتَ فِي أَمْرِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ لَاهٍ

حیی بن یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کو طلوع آفتاب سے قبل نفلی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، ایک آدمی نے یہ دیکھ کر کہا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو کر طلوع آفتاب سے پہلے نماز پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اس دوران اگر تم کسی عبادت میں مصروف ہو، یہ اس سے بہتر ہے کہ سورج طلوع ہو اور تم غافل ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17280

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُيَيٍّ قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَحْرُ هُوَ جَهَنَّمُ قَالُوا لِيَعْلَى فَقَالَ أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا قَالَ لَا وَالَّذِي نَفْسُ يَعْلَى بِيَدِهِ لَا أَدْخُلُهَا أَبَدًا حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يُصِيبُنِي مِنْهَا قَطْرَةٌ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سمندر جہنم ہے لوگوں نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں پڑھا، نارا احاط بہم سرادقہا، پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں یعلی کی جان ہے، میں اس میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گا، جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ ہو جاؤ اور اس کا ایک قطرہ بھی مجھے نہیں چھو سکتا جب تک میں اللہ سے ملاقات نہ کر لوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17281

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ وَنَادَوْا يَا مَالِكُ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ آیت تلاوت فرماتے ہوئے سنا، " وَنَادَوْا يَا مَالِكُ "۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17282

حَدَّثَنَا هَارُونُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ابْنِ أَخِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ قَالَ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يَوْمَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ وَقَدْ انْقَطَعَتْ الْهِجْرَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ بِإِسْنَادٍ مِثْلَهُ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں اور میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے والد سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں ، کیونکہ ہجرت کی فرضیت ختم ہوگئی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17283

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَعَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ فِيمَا تَرَى وَالنَّاسُ يَسْخَرُونَ مِنِّي وَأَطْرَقَ هُنَيْهَةً قَالَ ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ اخْلَعْ عَنْكَ هَذِهِ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا الزَّعْفَرَانَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تھا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا ، اس نے آکر پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ میں نے کس طرح احرام باندھا ہوا ہے اور لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہیں ، اس شخص کے بارے آپ کی کیا رائے ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگانے کے بعد ایک جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے سوچا پھر خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17284

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ قَالَ انْزِعْ هَذِهِ وَاغْتَسِلْ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تھا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17285

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَانْتَزَعَ أُصْبُعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا قَالَ أَحْسَبُهُ كَمَا يَقْضِمُ الْفَحْلُ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھا، میرے نزدیک یہ انتہائی مضبوط عمل ہے، راستے میں میرے مزدور (کرایہ دار) کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، اس نے اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ لیا، اس نے جو اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ کر گر گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دعوی باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا تو کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے سانڈ کی طرح چباتے رہتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17286

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عُمَرَ فِي سَفَرٍ وَأَنَّهُ طَلَبَ إِلَى عُمَرَ أَنْ يُرِيَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُزِّلَ عَلَيْهِ قَالَ فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَعَلَيْهِ سِتْرٌ مَسْتُورٌ مِنْ الشَّمْسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهَا رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَإِنَّ النَّاسَ يَسْخَرُونَ مِنِّي فَكَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْمَأَ إِلَيَّ عُمَرُ بِيَدِهِ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُمْ فِي السِّتْرِ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرٌّ وَجْنَتَاهُ لَهُ غَطِيطٌ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَجَلَسَ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ الْعُمْرَةِ فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ انْزِعْ جُبَّتَكَ هَذِهِ عَنْكَ وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ إِذَا أَحْرَمْتَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ

صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ کاش! میں نبی صلی اللہ علیہ کو نزول وحی کی کیفیت میں دیکھ پاتا، ایک مرتبہ وہ جعرانہ میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا گیا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم تھے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اسی دوران ایک آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا ، اس نے آکر پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اس شخص کے بارے آپ کی کیا رائے ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگانے کے بعد ایک جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے سوچا پھر خاموش ہوگئے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بلایا، وہ آئے اور اپنا سر خیمے میں داخل کر دیا، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور سرخ ہو رہا ہے، کچھ دیر تک اسی طرح سانس کی آواز آتی رہی، پھر وہ کیفیت ختم ہوگئی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص کہاں گیا جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ اس آدمی کو تلاش کر کے لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17287

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17288

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ مُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موت کی چادر سے اضطباع کرتے ہوئے (حالت احرام میں دائیں کندھے سے کپڑا ہٹائے ہوئے) دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 17289

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ بہت زیادہ حیاء اور پردہ پوشی والا ہے اس لئے جب تم میں سے کسی کا غسل کرنے کا ارادہ ہو تو اسے کسی چیز سے آڑ لینی چاہئے۔

-

Permalink