TrueHadith

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حدیثیں

Musnad AhmadHadith 20926

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ قَالَ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ نَعَمْ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھاجب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 20927

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى حَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنْشِدُ الشِّعْرَ قَالَ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ أَوْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھاجب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 20928

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ مَرَّ عُمَرُ عَلَى حَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَهْ قَالَ لَهُ حَسَّانُ قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ قَالَ فَانْصَرَفَ عُمَرُ وَهُوَ يَعْرِفُ أَنَّهُ يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جوکہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھاجب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

-

Permalink