قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَنَّهُ نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حَمْدِي زَيْنٌ وَإِنَّ ذَمِّي شَيْنٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ ذَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت اقرع بن حابس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجروں کے باہر سے پکار کر آواز دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہ دیا انہوں نے پھریا رسول اللہ کہہ کر آواز لگائی اور کہا کہ میری تعریف باعث زینت اور میری مذمت باعث عیب وشرمندگی ہوتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کام تو صرف اللہ کا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ أُمِّ رُومَانَ وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ قَاعِدَةٌ فَدَخَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَتْ فَعَلَ اللَّهُ بِفُلَانٍ وَفَعَلَ تَعْنِي ابْنَهَا قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا وَمَا ذَلِكَ قَالَتْ ابْنِي كَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا وَمَا الْحَدِيثُ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَسَمِعَ بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ أَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ فَوَقَعَتْ أَوْ سَقَطَتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا فَأَفَاقَتْ حُمَّى بِنَافِضٍ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهَا الثِّيَابَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِهَذِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَتْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ قَالَ لَعَلَّهُ مِنْ الْحَدِيثِ الَّذِي تُحُدِّثَ بِهِ قَالَتْ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَفَعَتْ عَائِشَةُ رَأْسَهَا وَقَالَتْ إِنْ قُلْتُ لَمْ تَعْذِرُونِي وَإِنْ حَلَفْتُ لَمْ تُصَدِّقُونِي وَمَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ حِينَ قَالَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ فَلَمَّا نَزَلَ عُذْرُهَا أَتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهَا بِذَلِكَ فَقَالَتْ بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ أَوْ قَالَتْ وَلَا بِحَمْدِ أَحَدٍ
حضرت ام رومان سے مروی ہے کہ جو کہ حضرت عائشہ کی والدہ تھیں کہتی ہیں کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری عورت آکر کہنے لگی اللہ فلاں کے ساتھ " مراد اس کا بیٹا تھا " ایسا کرے میں نے اس سے وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میرا بیٹا بھی چہ میگوئیاں کرنے والوں میں شامل ہے، میں نے پوچھا کیسی چہ میگوئیاں؟ اس نے ساری تفصیل بتادی تو عائشہ نے پوچھا کہ کیا حضرت ابوبکرنے بھی یہ باتیں سنی ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا کہ نبی علیہ السلام نے بھی سنی ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! غش کھا کر گرپڑیں اور انہیں نہایت تیز بخارچڑھ گیا میں نے انہیں چادریں اوڑھادیں نبی علیہ السلام آئے تو پوچھا کہ اسے کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اسے نہایت تیز بخارچڑھ گیا ہے نبی علیہ السلام نے فرمایا شاید ان باتوں کی وجہ سے جو جاری ہیں ، میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ اسی دوران عائشہ نے سر اٹھایا اور کہا اگر میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو عیب سے پاک کہوں گی تو آپ کو یقین نہیں آسکتا اور اگر میں نا کردہ گناہ کا آپ کے سامنے اقرار کردوں ( اور خدا گواہ ہے کہ میں اس سے پاک ہوں ) تو آپ مجھ کو سچاجان لیں گے خدا کی قسم مجھے اپنی اور آپ کی مثال سوائے حضرت یعقوب کے کوئی نہیں ملتی انہوں نے کہا تھا، فصبر جمیل و اللہ المستعان علی ما تصفون جب ان کا عذرنازل ہوا تو نبی علیہ السلام ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی خبردی تو وہ کہنے لگیں کہا کہ اس پر اللہ کا شکر ہے، آپ کا نہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ أُمِّ رُومَانَ قَالَتْ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ عَائِشَةَ إِذْ دَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَتْ فَعَلَ اللَّهُ بِابْنِهَا وَفَعَلَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَلِمَ قَالَتْ إِنَّهُ كَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَأَيُّ حَدِيثٍ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ وَقَدْ بَلَغَ ذَاكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ وَبَلَغَ أَبَا بَكْرٍ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ فَخَرَّتْ عَائِشَةُ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا فَمَا أَفَاقَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ قَالَتْ فَقُمْتُ فَدَثَّرْتُهَا قَالَتْ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَتْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ قَالَ لَعَلَّهُ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ بِهِ قَالَتْ فَاسْتَوَتْ لَهُ عَائِشَةُ قَاعِدَةً فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لَكُمْ لَا تُصَدِّقُونِي وَلَئِنْ اعْتَذَرْتُ إِلَيْكُمْ لَا تَعْذِرُونِي فَمَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ قَالَتْ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ قَالَتْ بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ قَالَتْ قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ تَقُولِينَ هَذَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ فَكَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ رَجُلٌ كَانَ يَعُولُهُ أَبُو بَكْرٍ فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَصِلَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلَى فَوَصَلَهُ
حضرت ام رومان سے مروی ہے کہ جو کہ حضرت عائشہ کی والدہ تھیں کہتی ہیں کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری عورت آکر کہنے لگی اللہ فلاں کے ساتھ " مراد اس کا بیٹا تھا " ایسا کرے میں نے اس سے وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میرا بیٹا بھی چہ میگوئیاں کرنے والوں میں شامل ہے، میں نے پوچھا کیسی چہ میگوئیاں؟ اس نے ساری تفصیل بتادی تو عائشہ نے پوچھا کہ کیا حضرت ابوبکرنے بھی یہ باتیں سنی ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا کہ نبی علیہ السلام نے بھی سنی ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! غش کھا کر گرپڑیں اور انہیں نہایت تیز بخارچڑھ گیا میں نے انہیں چادریں اوڑھادیں نبی علیہ السلام آئے تو پوچھا کہ اسے کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اسے نہایت تیز بخارچڑھ گیا ہے نبی علیہ السلام نے فرمایا شاید ان باتوں کی وجہ سے جو جاری ہیں ، میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ اسی دوران عائشہ نے سر اٹھایا اور کہا اگر میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو عیب سے پاک کہوں گی تو آپ کو یقین نہیں آسکتا اور اگر میں نا کردہ گناہ کا آپ کے سامنے اقرار کردوں ( اور خدا گواہ ہے کہ میں اس سے پاک ہوں ) تو آپ مجھ کو سچاجان لیں گے خدا کی قسم مجھے اپنی اور آپ کی مثال سوائے حضرت یعقوب کے کوئی نہیں ملتی انہوں نے کہا تھا، فصبر جمیل و اللہ المستعان علی ما تصفون جب ان کا عذرنازل ہوا تو نبی علیہ السلام ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی خبردی تو وہ کہنے لگیں کہا کہ اس پر اللہ کا شکر ہے، آپ کا نہیں۔
-
حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ حُمَيْدٍ امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهَا جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ قَالَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلَاةَ مَعِي وَصَلَاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ وَصَلَاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي دَارِكِ وَصَلَاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ وَصَلَاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِي قَالَ فَأَمَرَتْ فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ بَيْتِهَا وَأَظْلَمِهِ فَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ام حمید زوجہ ابوحمید ساعدی مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپ کی معیت میں نماز پڑھنا محبوب رکھتی ہوں، نبی علیہ السلام نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنے کو پسند کرتی ہو لیکن تمہارا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا حجرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے چنانچہ ان کے حکم پر ان کے گھر کے سب سے آخری کونے میں جہاں سب سے زیادہ اندھیرا ہوتا تھا نماز پڑھنے کے لئے جگہ بنادی گئی اور وہ آخری دم تک وہیں نماز پڑھتی رہیں۔
-