TrueHadith

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

Musnad AhmadHadith 11503

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنْ كَانَتْ الْأَمَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهِ فِي حَاجَتِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک عام باندی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جایا کرتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11504

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ وَإِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11505

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ أَوْلَمَ قَالَ فَأَطْعَمَنَا خُبْزًا وَلَحْمًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ولیمہ کیا اور ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11506

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم نہ اٹھا لیا جائے، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، مردوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک آدمی ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11507

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بُرْدَةِ حِبَرَةٍ قَالَ أَحْسَبُهُ عَقَدَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یمنی چادر میں نماز پڑھی اور غالباً اس کے دونوں پلوؤں میں گرہ لگا لی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11508

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى جَمِيعِ نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11509

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! میں خبیث جنات مردوں اور عورتوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11510

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل کتاب تمہیں سلام کیا کریں تو تم صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11511

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَنَا عَنْ أَنَسٍ وَيُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ إِذَا كَانَ ظَالِمًا قَالَ تَحْجُزُهُ تَمْنَعُهُ فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کیا کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے،ظالم کی کیسے مدد کریں ؟ فرمایا اسے ظلم کرنے سے روکو، یہی اس کی مدد ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11512

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَإِسْمَاعِيلُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو ، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11513

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ رَأَيْتُ خَاتَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی دیکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11514

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا وَكَانَتْ ثَيِّبًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کے یہاں تین راتیں قیام فرما لیا، وہ پہلے سے شوہر دیدہ تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11515

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ قَالَ شَهِدْتُ وَلِيمَتَيْنِ مِنْ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَمَا أَطْعَمَنَا فِيهَا خُبْزًا وَلَا لَحْمًا قَالَ قُلْتُ فَمَهْ قَالَ الْحَيْسَ يَعْنِي التَّمْرَ وَالْأَقِطَ بِالسَّمْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے دو کے ولیمے میں شامل ہوا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روٹی کھلائی اور نہ ہی گوشت، راوی نے پوچھا پھر کیا کھلایا؟ فرمایا کھجور اور پنیر کا گھی میں بنا ہوا حلوہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11516

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ حَدَّثَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ وَلَا تَنْقُشُوا خَوَاتِيمَكُمْ عَرَبِيًّا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل نہ کیا کرو اور اپنی انگوٹھیوں میں " عربی" نقش نہ کروایا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11517

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَةً بَيْنَ يَدَيَّ فَإِذَا هِيَ الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں (جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں ۔ )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11518

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِي جَبْهَتِهِ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بھی زخم آیا تھا، حتیٰ کہ اس کا خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہو؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں ۔ "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11519

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11520

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا يَقُولُ لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک عمرۃ و حجا "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11521

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ وَأَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَأَظُنُّنِي قَدْ سَمِعْتُ مِنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہو جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11522

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ وَكَانَ يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11523

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا فَحَدَّثْتُ ابْنَ عُمَرَ بِذَلِكَ فَقَالَ لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ مَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا

بکر بن مزنی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے، تو میں نے یہ حدیث حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کی، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف حج کا تلبیہ پڑھا تھا، جب میری ملاقات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات بتائی، وہ کہنے لگے کہ تم لوگ ہمیں بچہ سمجھتے ہو؟ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو " لبیک عمرۃ وحجا " کہتے ہوئے سنا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11524

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ حَسِبْتُهُ قَالَ عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا أَوْ قَالَ سَمَّتَ وَتَرَكَ الْآخَرَ فَقِيلَ رَجُلَانِ عَطَسَ أَحَدُهُمَا فَشَمَّتَّهُ وَلَمْ تُشَمِّتْ الْآخَرَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دے دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا، کسی نے پوچھا کہ دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو جواب دیا دوسرے کو کیوں نہ دیا؟ فرمایا کہ اس نے " الحمدللہ " کہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11525

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر کھڑے ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11526

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا وَلْيَمْسَحْ مَا بِهَا مِنْ الْأَذَى وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو وہ اس پر لگنے والی چیز کو ہٹا دے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11527

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ وَخَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11528

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَخَفَّفُوا عَنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو طیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سینگی لگائی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک صاع گندم دی اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کر دی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11529

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَتَمِّ النَّاسِ صَلَاةً وَأَوْجَزِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ نماز کو مکمل اور مختصر کرنے والے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11530

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ الْأَخْضَرَ بْنَ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِيمَنْ يَزِيدُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الْأَخْضَرِ قَالَ و حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ يَعْنِي صَاحِبَ شُعْبَةَ عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بولی لگا کر ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ بیچا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11531

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا غَالِبٌ الْقَطَّانُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنْ الْأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَيَسْجُدُ عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ ہم لوگ سخت گرمی میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کر تے تھے اگر ہم میں سے کسی میں زمین پر اپنا چہرہ رکھنے کی ہمت نہ ہوتی تو وہ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کر لیتا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11532

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھالو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11533

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11534

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَإِنَّمَا كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا قَالَ يَزِيدُ فَكَفَّارَتُهَا أَنْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے ، تو اسکا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آجائے، اسے پڑھ لے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11535

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَرْضَى عَنْ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأُكْلَةَ فَيَحْمَدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے سے صرف اتنی بات پر بھی راضی ہوجاتے ہیں کہ وہ کوئی لقمہ کھائے یا پانی کا گھونٹ پی کر اللہ کا شکر ادا کر دے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11536

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ک خدمت نو سال تک کی ہے ، مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ فرمایا ہو کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟ اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ میں کوئی عیب نکالا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11537

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقِلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنًى وَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالْأَبْطَحِ قَالَ ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ

عبدالعزیز بن رفیع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اگر آپ کو یہ بات معلوم ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ ذی الحجہ کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی تو مجھے بتا دیجئے ؟ انہوں نے فرمایا منیٰ میں ، میں نے پوچھا کہ کوچ کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی ؟ فرمایا مقام ابطح میں ، پھر فرمایا کہ تم اسی طرح کرو جیسے تہمارے امراء کرتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11538

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ وَغَسَّانُ بْنُ مُضَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ

سعید بن یزید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11539

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو خِدَاشٍ الْيُحْمَدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا أَعْرِفُ شَيْئًا الْيَوْمَ مِمَّا كُنَّا عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا لَهُ فَأَيْنَ الصَّلَاةُ قَالَ أَوَلَمْ تَصْنَعُوا فِي الصَّلَاةِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم جو کچھ کرتے تھے ، آج مجھے ان میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ، لوگوں نے کہا کہ نماز کہاں گئی ؟ (ہم نماز تو پڑھتے ہیں ) فرمایا کہ یہ تم بھی جانتے ہو کہ تم نماز میں کیا کرتے ہو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11540

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو زعفران کی خوشبو لگانے سے منع فرمایا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11541

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيَ الْمَوْتِ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے ، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے ، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ ، اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11542

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ وَلَا يَقُلْ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یقین اور پختگی کے ساتھ دعاء کرے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر آپ چاہیں تو مجھے یہ عطاء فرما دیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11543

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ أَكْثَرَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ دَعَا بِهَا فِيهِ

ایک مرتبہ قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کثرت کے ساتھ کون سی دعا مانگتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعاء مانگا کرتے تھے اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما ، اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما ، خود خضرت انس رضی اللہ عنہ بھی یہی دعا مانگا کرتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11544

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَقَالَ مَرَّةً أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مُعَاذٌ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَهُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ صَلَاتَهُ قِيلَ لَهُ إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت فرماتے تھے ، ایک مرتبہ وہ نماز پڑھا رہے تھے حضرت حرام رضی اللہ عنہ جو اپنے باغ کو پانی لگانے جارہے تھے " نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوئے، جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ تو نماز لمبی کر رہے ہیں تو وہ اپنی نماز مختصر کر کے اپنے باغ کو پانی لگانے کے لئے چلے گئے ، ادھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو انہیں کسی نے بتایا کہ حضرت حرام رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے تھے۔ فائدہ : یہ مکمل حدیث عنقریب آرہی ہے ، ملاحظہ کیجئے حدیث نمبر ١٢٢٧٢۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11545

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ! میں خبیث جنات مردوں اور عورتوں سے آپ کی پناء میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11546

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ قَالَ أَنَسٌ وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے قربانی میں پیش کیا کرتے تھے ، اور میں بھی یہی کرتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11547

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے ، وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11548

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ فَقَالَ حُلُّوهُ ثُمَّ قَالَ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے ، پوچھا یہ کیسی رسی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ زینب کی رسی ہے ، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو ، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکا وٹ محسوس ہو تو رک جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11549

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى قَامَ الْقَوْمُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے ، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو لوگ سو چکے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11550

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ قَالَ فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پآس لے گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ انس سمجھدار لڑکا ہے ، یہ آپ کی خدمت کیا کرے گا ، چنانچہ میں نے سفر وخضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے ، میں نے اگر کوئی کام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا ؟ اور اگر کوئی کام نہیں کیا تو کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے کیوں نہیں کیا ؟ ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11551

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا فَقَالَ إِنَّا قَدْ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا فَلَا يَنْقُشُ أَحَدٌ عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک عبارت (محمد رسول اللہ ) نقش کروائی ہے ، لہٰذا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کروائے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11552

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجِزُ الصَّلَاةَ وَيُكْمِلُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مکمل اور مختصر کرتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11553

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم نماز میں قراءت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11554

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتَيَّ لَتَمَسُّ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا الْخُمُسُ قَالَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجُمِعَ السَّبْيُ قَالَ فَجَاءَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ قَالَ اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً قَالَ فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ وَاللَّهِ مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُوهُ بِهَا فَجَاءَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ غَيْرَهَا ثُمَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنْ اللَّيْلِ وَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا فَقَالَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ وَبَسَطَ نِطَعًا فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ قَالَ فَحَاسُوا حَيْسًا وَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے گئے، ہم نے خیبر میں فجر کی نماز منہ اندھیرے پڑھی، نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی گلیوں میں چکر لگانے لگے، بعض اوقات میرا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے چھو جاتا تھا، اور بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے ذرا سا تہبند کھسک جاتا تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کی سفیدی نظر آجاتی۔ الغرض! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں داخل ہوئے تو اللہ اکبر کہہ کر فرمایا خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، یہ جملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر ہم نے خیبر کو بزور شمشیر فتح کرلیا، اور قیدی اکٹھے کئے جانے لگے، اسی اثناء میں حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی! مجھے قیدیوں میں سے کوئی باندی عطاء فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر ایک باندی لے لو، چنانچہ انہوں نے حضرت صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ یہ دیکھ کر ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی سردار صفیہ کو دحیہ کے حوالے کر دیا، بخدا! وہ تو صرف آپ کے ہی لائق ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ، چنانچہ وہ انہیں لے کر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا پر ایک نظر ڈالی اور حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔ راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کتنا مہر دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے کر ان سے نکاح کیا تھا، حتیٰ کہ راستے میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو دلہن بنا کر تیار کیا اور رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ صبح دولہا ہونے کی حالت میں ہوئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہے وہ ہمارے پاس لے آئے اور ایک دستر خوان بچھا دیا، چنانچہ کوئی پنیر لایا، کوئی کھجور لایا اور کوئی گھی لایا، لوگوں نے اس کا حلوہ بنالیا، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11555

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ دِرْعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْهُونَةً مَا وَجَدَ مَا يَفْتَكُّهَا حَتَّى مَاتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی، اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ اسے چھڑوا سکتے حتیٰ کہ اسی حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11556

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " کوثر " جنت کی ایک نہر ہے جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11557

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِي إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَتَسَاءَلُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَ النَّاسَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا ہے آپ کی امت کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے حتیٰ کہ یہاں تک کہنے لگیں گے کہ یہ تو اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11558

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ أَغْفَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً فَرَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا إِمَّا قَالَ لَهُمْ وَإِمَّا قَالُوا لَهُ لِمَ ضَحِكْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هُوَ نَهْرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ يَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ آنِيَتُهُ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ يُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيُقَالُ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھے بیٹھے اونگھ کی کیفیت طاری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، لوگوں نے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے " بسم اللہ" پڑھ کر پوری سورت کوثر پڑھ کر سنائی، اور فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کوثر کیا چیز ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ، فرمایا یہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کر رکھا ہے، اس پر خیر کثیر ہوگی، اور قیامت کے دن میرے امتی وہاں آئیں گے اور اس نہر کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے ان میں سے ایک بندے کو کھینچ کر نکالا جائے گا تو میں کہوں گا کہ پروردگار! یہ تو میرا امتی ہے، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے پیچھے کیا کیا بدعات ایجاد کر لی تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11559

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ انْصَرَفَ مِنْ الصَّلَاةِ فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالْقُعُودِ وَلَا بِالِانْصِرَافِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي وَايْمُ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رَأَيْتَ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگو! میں تمہارا امام ہوں ، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی، اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11560

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا، اور اس کے دس گناہ معاف فرمائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11561

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ حِينَ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ فَدَعَا الْجَارِيَةَ بِوَضُوءٍ فَقُلْنَا لَهُ أَيُّ صَلَاةٍ تُصَلِّي قَالَ الْعَصْرَ قَالَ قُلْنَا إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ يَتْرُكُ الصَّلَاةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ صَلَّى لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا

علاء ابن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ایک انصاری آدمی کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کچھ ہی دیر بعد انہوں نے باندی سے وضو کا پانی منگوایا، ہم نے ان سے پوچھا کہ اس وقت کون سی نماز پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نمازِ عصر، ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر پڑھ کر آئے ہیں (عصر کی نماز اتنی جلدی؟) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11562

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ فَتَأْخُذُ مِنْ عَرَقِهِ فَتَجْعَلُهُ فِي طِيبِهَا وَتَبْسُطُ لَهُ الْخُمْرَةَ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ ان کے لئے چٹائی بچھاتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر قیلولہ فرماتے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ لے کر اپنی خوشبو میں شامل کر لیتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائے نماز بچھا دیتیں ، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11563

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم تھا کہ اذان کے کلمات جفت عدد میں اور اقامت کے کلمات طاق عدد میں کہا کریں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11564

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُوقَدَ لَهُ نَارٌ فَيُقْذَفَ فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں ، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے ، اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11565

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ غَيْرَ الشَّهِيدِ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ فَيُقْتَلَ لِمَا يَرَى مِنْ الْكَرَامَةِ أَوْ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11566

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بُعِثَ نَبِيٌّ إِلَّا أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11567

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي حُجْرَتِهِ فَجَاءَ أُنَاسٌ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَخَفَّفَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ خَرَجَ فَعَادَ مِرَارًا كُلَّ ذَلِكَ يُصَلِّي فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْتَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ قَالَ قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ رات کے وقت اپنے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، کچھ لوگ آئے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز مختصر کر کے اپنے گھر تشریف لے گئے، ایسا کئی دفعہ ہوا حتیٰ کہ صبح ہوگئی تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نماز پڑھ رہے تھے، ہماری خواہش تھی کہ آپ اسے لمبا کر دیتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری موجودگی کا علم تھا لیکن میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11568

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11569

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ فَسَأَلَ عَنْهُ مَتَى دُفِنَ هَذَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ دُفِنَ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ وَقَالَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قبر سے آواز سنائی دی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس قبر میں مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص زمانہ جاہلیت میں دفن ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر تعجب ہوا اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذابِ قبر کی آواز سنا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11570

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِنَهْرٍ حَافَتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى مَا يَجْرِي فِيهِ الْمَاءُ فَإِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ قُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ اللَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبرئیل امین سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11571

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنْ الْمَدِينَةِ قَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا، وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے؟ فرمایا ہاں ! مدینہ میں ہونے کے باوجود کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک رکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11572

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سُبِقَتْ الْعَضْبَاءُ فَقَالَ إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی " جس کا نام عضباء تھا " کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہی تھی، ایک مرتبہ ایک دیہاتی اپنی اونٹنی پر آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا، مسلمانوں میں یہ بات بڑی گراں گذری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں کا اندازہ لگالیا، پھر لوگوں نے خود بھی کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عضباء پیچھے رہ گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر حق ہے کہ دنیا میں جس چیز کو وہ بلندی دیتا ہے پست بھی کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11573

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کر لو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11574

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنْ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَكَانَ يَصُومُ مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ مِنْهُ شَيْئًا

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11575

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ لَا صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ قَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بَعْدَ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ مَا فَرِحُوا بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں اس بات سے بڑی خوشی ہوتی تھی کہ کوئی دیہاتی آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرے، چنانچہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11576

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَقَدْ كَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ شَيْءٌ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْضَهُنَّ عَنْ بَعْضٍ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ احْثُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت قریب آگیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے درمیان کچھ تلخی ہو رہی تھیں ، اور ازواج مطہرات ایک دوسرے کا دفاع کر رہی تھیں ، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے منہ میں مٹی ڈالئے اور نماز کے لئے باہر چلئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11577

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ، اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہے تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11578

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يُكْثِرُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُفْطِرُ إِلَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مَرَضٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں تو کچھ زیادہ نفلی روزے نہ رکھتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد وہ سوائے سفر یا بیماری کے کسی حال میں روزہ نہ چھوڑتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11579

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مُقِيمًا اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ وَإِذَا سَافَرَ اعْتَكَفَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِينَ قَالَ أَبِي لَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مقیم ہوئے تو ماہِ رمضان کے عشرہ اخیر کا اعتکاف کر لیتے اور مسافر ہوتے تو اگلے سال بیس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11580

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَصَبِيٌّ فِي الطَّرِيقِ فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّهُ الْقَوْمَ خَشِيَتْ عَلَى وَلَدِهَا أَنْ يُوطَأَ فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى وَتَقُولُ ابْنِي ابْنِي وَسَعَتْ فَأَخَذَتْهُ فَقَالَ الْقَوْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ قَالَ فَخَفَّضَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَلَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُلْقِي حَبِيبَهُ فِي النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، راستے میں ایک بچہ پڑا ہوا تھا، اس کی ماں نے جب لوگوں کو دیکھا تو اسے خطرہ ہوا کہ کہیں بچہ لوگوں کے پاؤں میں روندا نہ جائے، چنانچہ وہ دوڑتی ہوئی " میرا بیٹا میرا بیٹا" پکارتی ہوئی آئی اور اسے اٹھالیا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ عورت اپنے بیٹے کو کبھی آگ میں نہیں ڈال سکتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاموش کروا دیا اور فرمایا اللہ بھی اپنے دوست کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11581

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فَقَالَ قِيلَ لَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَجْدَبَتْ الْأَرْضُ وَهَلَكَ الْمَالُ قَالَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَاسْتَسْقَى وَلَقَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ فَاسْتَسْقَى وَلَقَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنَّ قَرِيبَ الدَّارِ الشَّابَّ لَيُهِمُّهُ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ فَلَمَّا كَانَتْ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ وَاحْتُبِسَتْ الرُّكْبَانُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ وَقَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَتَكَشَّطَتْ عَنْ الْمَدِينَةِ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اور جب دعاء سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گر گئیں اور سوار مدینہ سے باہر رکنے پر مجبور ہو گئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم کی اکتاہٹ پر مسکرا پڑے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! یہ بارش ہمارے اردگرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11582

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَادِي عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یہ آواز لگاتے ہوئے سنا اے ابوجہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11583

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِي أَلَمْ آتِكُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمْ اللَّهُ بِي أَلَمْ آتِكُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ بِي قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا تَقُولُونَ جِئْتَنَا خَائِفًا فَآمَنَّاكَ وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ فَقَالُوا بَلْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمَنُّ بِهِ عَلَيْنَا وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ انصار سے فرمایا اے گروہِ انصار! کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم بے راہ تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت عطاء فرمائی؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم آپس میں متفرق تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں اکٹھا کیا؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تھا تو تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا پھر تم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے تھے، ہم نے آپ کو امن دیا، آپ کی قوم نے آپ کو نکال دیا تھا، ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا، اور آپ بے یارومددگار ہوچکے تھے، ہم نے آپ کی مدد کی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ہم پر اللہ اور اس کے رسول کا ہی احسان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11584

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَكَتَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا نَكُونُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَ الْإِبِلِ حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَكُنَّا مَعَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں ، اس پر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بخدا! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں ، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11585

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا قَالَ ثُمَّ رَجَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ فَأَتَى حُجَرَ نِسَائِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ فَدَعَوْنَ لَهُ قَالَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ وَأَنَا مَعَهُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَيْتِ فَإِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا بَصَرَ بِهِمَا وَلَّى رَاجِعًا فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَلَّى عَنْ بَيْتِهِ قَامَا مُسْرِعَيْنِ فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ بِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش کے یہاں رہے، اس کی صبح کو میں نے مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوت ولیمہ دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، پھر حسبِ معمول واپس تشریف لے گئے اور ازواج مطہرات کے گھر میں جا کر انہیں سلام کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعائیں کیں ، جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان گھر کے ایک کونے میں باہم گفتگو جاری ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر پھر واپس چلے گئے، جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر سے پلٹتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے ، اب مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر میں نے دی یا کسی اور نے، بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر واپس آکر میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11586

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ لِيَنْظُرَ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ قَالَ فَتَطَاوَلَ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہوئے تیر اندازی کر رہے تھے، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیروں کی بوچھاڑ دیکھنے کے لئے پیچھے سے سر اٹھاتے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سینہ سپر ہو جاتے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر سکیں اور عرض کیا کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے سینے کے سامنے میرا سینہ پہلے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11587

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ انصار کے گھروں میں سب سے بہترین گھر کون سا ہے؟ بنو نجار کا گھر، پھر بنو عبدالاشہل کا گھر، پھر بنو حارث بن خزرج کا اور پھر بنی ساعدہ کو اور یوں بھی انصار کے ہر گھر میں خیر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11588

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ أَقْوَامٌ هُمْ أَرَقُّ مِنْكُمْ قُلُوبًا قَالَ فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَرْتَجِزُونَ يَقُولُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11589

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ قَالَ أَظُنُّهَا عَائِشَةَ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمٍ لَهَا بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ قَالَ فَضَرَبَتْ الْأُخْرَى بِيَدِ الْخَادِمِ فَكُسِرَتْ الْقَصْعَةُ بِنِصْفَيْنِ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غَارَتْ أُمُّكُمْ قَالَ وَأَخَذَ الْكَسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَ فِيهَا الطَّعَامَ ثُمَّ قَالَ كُلُوا فَأَكَلُوا وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا فَدَفَعَ إِلَى الرَّسُولِ قَصْعَةً أُخْرَى وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ مَكَانَهَاٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ غالباً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، دوسری اہلیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھجوایا جس میں کھانے کی کوئی چیز تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خادم کے ہاتھ پر مارا، جس سے اس کے ہاتھ سے پیالہ نیچے گر کر ٹوٹ گیا اور دو ٹکڑے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری ماں نے اسے برباد کر دیا، پھر برتن کے دونوں ٹکڑے لے کر انہیں جوڑا اور ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کھانا اس میں سمیٹا اور فرمایا اسے کھاؤ، اور فارغ ہونے تک اس خادم کو روکے رکھا، اس کے بعد خادم کو دوسرا پیالہ دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اسی گھر میں چھوڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11590

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ اشْتَكَى ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتُوُفِّيَ الْغُلَامُ فَهَيَّأَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ الْمَيِّتَ وَقَالَتْ لِأَهْلِهَا لَا يُخْبِرَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ أَبَا طَلْحَةَ بِوَفَاةِ ابْنِهِ فَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ مَا فَعَلَ الْغُلَامُ قَالَتْ خَيْرٌ مِمَّا كَانَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِمْ عَشَاءَهُمْ فَتَعَشَّوْا وَخَرَجَ الْقَوْمُ وَقَامَتْ الْمَرْأَةُ إِلَى مَا تَقُومُ إِلَيْهِ الْمَرْأَةُ فَلَمَّا كَانَ آخِرُ اللَّيْلِ قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَلَمْ تَرَ إِلَى آلِ فُلَانٍ اسْتَعَارُوا عَارِيَةً فَتَمَتَّعُوا بِهَا فَلَمَّا طُلِبَتْ كَأَنَّهُمْ كَرِهُوا ذَاكَ قَالَ مَا أَنْصَفُوا قَالَتْ فَإِنَّ ابْنَكَ كَانَ عَارِيَةً مِنْ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِنَّ اللَّهَ قَبَضَهُ فَاسْتَرْجَعَ وَحَمِدَ اللَّهَ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا فَحَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ فَوَلَدَتْهُ لَيْلًا وَكَرِهَتْ أَنْ تُحَنِّكَهُ حَتَّى يُحَنِّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمَلْتُهُ غُدْوَةً وَمَعِي تَمَرَاتُ عَجْوَةٍ فَوَجَدْتُهُ يَهْنَأُ أَبَاعِرَ لَهُ أَوْ يَسِمُهَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ اللَّيْلَةَ فَكَرِهَتْ أَنْ تُحَنِّكَهُ حَتَّى يُحَنِّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَعَكَ شَيْءٌ قُلْتُ تَمَرَاتُ عَجْوَةٍ فَأَخَذَ بَعْضَهُنَّ فَمَضَغَهُنَّ ثُمَّ جَمَعَ بُزَاقَهُ فَأَوْجَرَهُ إِيَّاهُ فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِ قَالَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ فَأَتَيْتُهُ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ وَهُوَ فِي الْحَائِطِ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فَقَالَ رُوَيْدَكَ أَفْرُغُ لَكَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِىٍّ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِتُّمَا عَرُوسَيْنِ قَالَ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي عُرْسِكُمَا وَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ كَيْفَ ذَاكَ الْغُلَامُ قَالَتْ هُوَ أَهْدَأُ مِمَّا كَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ وَالْبَرَاءِ فَوَلَدَتْ لَهُ وَلَدًا وَكَانَ يُحِبُّهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِتُّمَا عَرُوسَيْنِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِكُمَا فَقَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مسجد کے لئے نکلے تو ان کے پیچھے ان کا بیٹا فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اسے کپڑا اوڑھا دیا اور گھر والوں سے کہا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کے ساتھ مسجد سے ان کے کچھ دوست بھی آئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بچے کے بارے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے سے بہتر ہے، پھر ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا سب نے کھانا کھایا، لوگ چلے گئے تو وہ ان کاموں میں لگ گئیں جو عورتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں ۔ جب رات کا آخری پہر ہوا تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہوا تو وہ اس پر ناگواری ظاہر کرنے لگے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا یہ لوگ انصاف نہیں کر رہے، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر تمہارا بیٹا بھی اللہ کی طرف سے عاریت تھا، جسے اللہ نے واپس لے لیا ہے اس پر انہوں نے "انا للہ وانا الیہ راجعون" کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہوگئیں ، جب ان کے یہاں بچے کی ولادت ہوئی تو وہ رات کا وقت تھا۔ انہوں نے اس وقت بچے کو گھٹی دینا اچھا نہ سمجھا اور یہ چاہا کہ اسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھٹی دیں ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر اپنے ساتھ کچھ عجوہ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج رات ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا، انہوں نے خود اسے گھٹی دینا مناسب نہ سمجھا اور چاہا کہ اسے آپ گھٹی دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا عجوہ کھجوریں ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا، اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا نام رکھ دیجئے، فرمایا اس کا نام عبداللہ ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11591

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ وَيَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الْمَعْنَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ كُلُّ قَرِيبِ الدَّارِ مِنْ الْمَسْجِدِ وَبَقِيَ مَنْ كَانَ أَهْلُهُ نَائِيَ الدَّارِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَصَغُرَ أَنْ يَبْسُطَ أَكُفَّهُ فِيهِ قَالَ فَضَمَّ أَصَابِعَهُ قَالَ فَتَوَضَّأَ بَقِيَّتُهُمْ قَالَ حُمَيْدٌ وَسُئِلَ أَنَسٌ كَمْ كَانُوا قَالَ ثَمَانِينَ أَوْ زِيَادَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کے لئے اذان ہوئی، مسجد کے قریب جتنے لوگوں کے گھر تھے وہ سب آگئے، اور دور والے نہ آسکے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی ہتھیلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکلا کہ سب نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسی یا کچھ زیادہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11592

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْ مَنَازِلِهِمْ فَيَسْكُنُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهَ أَنْ تُعْرَى الْمَدِينَةُ فَقَالَ يَا بَنِي سَلِمَةَ أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقَامُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے بنو سلمہ نے ایک مرتبہ یہ ارادہ کیا کہ اپنی پرانی رہائش گاہ سے منتقل ہو کر مسجد کے قریب آکر سکونت پذیر ہوجائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کا خالی ہونا اچھا نہ لگا، اس لئے فرمایا اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد کے طرف اٹھنے والے قدموں کا ثواب حاصل نہیں کرنا چاہتے؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر وہ یہیں اقامت پذیر رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11593

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَسُهَيْلُ بْنُ يُوسُفَ الْمَعْنَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى فَانْتَهَى وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ أَوْ انْبَهَرَ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ فَإِنَّهُ قَالَ خَيْرًا أَوْ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَسْرَعْتُ الْمَشْيَ فَانْتَهَيْتُ إِلَى الصَّفِّ فَقُلْتُ الَّذِي قُلْتُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا ثُمَّ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَلْيَقْضِ مَا سُبِقَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا، اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11594

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ بَيْنَ يَدَيَّ خَشْفَةً فَإِذَا أَنَا بِالْغُمَيْصَاءِ بِنْتِ مِلْحَانَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں (جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں ۔ )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11595

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَالُوا وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ قَالَ يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ مَوْتِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے استعمال فرماتے ہیں ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ کیسے استعمال فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مرنے سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطاء فرما دیتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11596

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11597

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ قَالَ مَا هَذَا قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ أَنْ يُعَذِّبَ هَذَا نَفْسَهُ فَأَمَرَهُ فَرَكِبَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11598

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً قَدْ جَهَدَهُ الْمَشْيُ فَقَالَ ارْكَبْهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَإِنْ كَانَتْ بَدَنَةً

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو اونٹ ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا اور چلنے سے عاجز تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ سوار ہو جاؤ اگرچہ یہ قربانی ہی کا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11599

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَسُوقُ بِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَاشْتَدَّ فِي السِّيَاقَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انحشہ تھا " امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی سے ہانکنا شروع کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجشہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11600

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَسْلَمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا قَالَ حُمَيْدٌ وَقَالَ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ وَأَبْوَالِهَا فَفَعَلُوا فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا أَوْ مُسْلِمًا وَسَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11601

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ اللَّهُ اللَّهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11602

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثْتُكُمْ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ فَقَالَتْ أُمُّهُ مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا قَالَ أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَرِيحَ قَالَ وَكَانَ يُقَالُ فِيهِ قَالَ حُمَيْدٌ وَأَحْسَبُ هَذَا عَنْ أَنَسٍ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضِبِ اللَّهِ وَغَضِبِ رَسُولِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے متعلق تم مجھ سے اس وقت تک سوال نہ کیا کرو جب تک میں تم سے خود بیان نہ کر دوں ، اس کے باوجود عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے، ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کی باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا، دراصل ان کے متعلق کچھ باتیں مشہور تھیں ۔ بہرحال! ان کے سوال پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ناراض ہوگئے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش اور مطمئن ہیں اور ہم اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11603

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین علاج سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے اور تم اپنے بچوں کے گلے میں انگلیاں ڈال کر انہیں تکلیف نہ دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11604

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ قُلْتُ لِمَنْ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ فَلَوْلَا مَا عَلِمْتُ مِنْ غَيْرَتِكَ لَدَخَلْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے کا ایک محل نظر آیا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے پوچھا وہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، مجھے اگر تمہاری غیرت کے بارے معلوم نہ ہوتا تو میں ضرور اس میں داخل ہو جاتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ پر غیرت کا اظہار کروں گا؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11605

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ لَيْسَ ذَاكَ كَرَاهِيَةَ الْمَوْتِ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حُضِرَ جَاءَهُ الْبَشِيرُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ صَائِرٌ إِلَيْهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْفَاجِرَ أَوْ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ جَاءَهُ بِمَا هُوَ صَائِرٌ إِلَيْهِ مِنْ الشَّرِّ أَوْ مَا يَلْقَاهُ مِنْ الشَّرِّ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے، یہ سن کر ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے تو ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے موت کی ناپسندیدگی مراد نہیں ہے، بلکہ مومن کے پاس جب اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ اس کے بہترین انجام کی خوش خبری لے کر آتا ہے تو اس کے نزدیک اللہ کی ملاقات سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی، پھر اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اور جب کافر کے پاس اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ اس کے بدترین انجام کی خبر لے کر آتا ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، پھر اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11606

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ مَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ خَزًّا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمَمْتُ رَائِحَةً أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے نرم کوئی ریشم بھی نہیں چھوا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے عمدہ کوئی مہک نہیں سونگھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11607

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ قَالَ نَعَمْ كُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تُطِيقُهُ وَلَا تَسْتَطِيعُهُ فَهَلَّا قُلْتَ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالَ فَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَشَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسلمان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، وہ چوزے کی طرح ہوچکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم کوئی دعا مانگتے تھے؟ اس نے کہا جی ہاں ! میں یہ دعاء مانگتا تھا کہ اے اللہ! تو نے مجھے آخرت میں جو سزا دینی ہے وہ دنیا ہی میں دے دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! تمہارے اندر اس کی ہمت ہے اور نہ طاقت، تم نے یہ دعاء کیوں نہ کی کہ اے اللہ! مجھے دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس نے اللہ سے یہ دعاء مانگی اور اللہ نے اسے شفا عطاء فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11608

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسْلِمُ لِشَيْءٍ يُعْطَاهُ مِنْ الدُّنْيَا فَلَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ وَأَعَزَّ عَلَيْهِ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی شخص آکر اسلام قبول کرتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے دنیا کا مال و دولت عطاء فرمائیں گے اور شام تک اس کے نزدیک اسلام دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب اور معزز ہوچکا ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11609

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا عَلَى الْإِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاهُ قَالَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِشَاءٍ كَثِيرٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ مِنْ شَاءِ الصَّدَقَةِ قَالَ فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي عَطَاءً مَا يَخْشَى الْفَاقَةَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبول اسلام پر جو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کا بھی سوال کرتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے عطاء فرما دیتے، اسی تناظر میں ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کی بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو! اسلام قبول کر لو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقر وفاقہ کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11610

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَجِدْهُ وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ صَنَعَ لَهُ طَعَامًا قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ يَأْكُلُ فَدَعَانِي لِآكُلَ مَعَهُ قَالَ وَصَنَعَ لَهُ ثَرِيدًا بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ قَالَ وَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ قَالَ فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ وَأُدْنِيهِ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا طَعِمَ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ قَالَ وَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے میرے ہاتھ ایک تھیلی میں تر کھجوریں بھر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں نہ پایا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے یہاں گئے ہوئے تھے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی تھی، میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی کھانے کے لئے بلا لیا، دعوت میں صاحب خانہ نے گوشت اور کدو کا ثرید تیار کر رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا رہا، جب کھانے سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لائے تو میں نے وہ تھیلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کھاتے گئے اور تقسیم کرتے گئے یہاں تک کہ وہ تھیلی خالی ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11611

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ أَعِيدُوا تَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ وَسَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَلِأَهْلِهَا بِخَيْرٍ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً قَالَ وَمَا هِيَ قَالَتْ خَادِمُكَ أَنَسٌ قَالَ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا لِي بِهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ قَالَ فَمَا مِنْ الْأَنْصَارِ إِنْسَانٌ أَكْثَرُ مِنِّي مَالًا وَذَكَرَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً غَيْرَ خَاتَمِهِ قَالَ وَذَكَرَ أَنَّ ابْنَتَهُ الْكُبْرَى أُمَيْنَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ نَيِّفًا عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ چھوڑی جو میرے لئے نہ مانگی ہو، اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، چنانچہ اس کے بعد انصار میں سے کوئی شخص مجھ سے زیادہ مالدار نہ تھا، حالانکہ قبل ازیں وہ اپنی انگوٹھی کے علاوہ کسی سونا چاندی کے مالک نہ تھے، اور خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بڑی بیٹی امینہ نے بتایا ہے کہ حجاج بن یوسف کے آنے تک میری نسل میں سے ایک سو بیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11612

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَرَ مِنْ الشَّيْبِ إِلَّا نَحْوًا مِنْ سَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ عِشْرِينَ شَعْرَةً فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ وَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَشِنْ بِالشَّيْبِ فَقِيلَ لِأَنَسٍ أَشَيْنٌ هُوَ قَالَ كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ وَلَكِنْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے، اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11613

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ مَعَهُ فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی اسے دے ماری تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11614

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ فَحَمَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ تَحْمِلَنِي قَالَ فَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے؟ فرمایا اب قسم کھالیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11615

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ سَلْ قَالَ مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ مِنْهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمِنْ أَيْنَ يُشْبِهُ الْوَلَدُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام آنِفًا قَالَ ذَلِكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنْ الْمَلَائِكَةِ قَالَ أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ الْمَشْرِقِ فَتَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ وَأَمَّا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ مِنْهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ وَأَمَّا شَبَهُ الْوَلَدِ أَبَاهُ وَأُمَّهُ فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ إِلَيْهِ الْوَلَدُ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَ إِلَيْهَا قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ وَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي يَبْهَتُونِي عِنْدَكَ فَأَرْسِلْ إِلَيْهِمْ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي أَيُّ رَجُلٍ ابْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ قَالُوا خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا وَأَفْقَهُنَا وَابْنُ أَفْقَهِنَا قَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ تُسْلِمُونَ قَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَخَرَجَ ابْنُ سَلَامٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَجَاهِلُنَا وَابْنُ جَاهِلِنَا فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَتَخَوَّفُ مِنْهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پوچھو، انہوں نے کہا کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا چیز ہوگی؟ اور بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا جواب مجھے ابھی ابھی حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے بتایا ہے، عبداللہ کہنے لگے وہ تو فرشتوں میں یہودیوں کا دشمن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو مشرق سے نکل کر تمام لوگوں کو مغرب میں جمع کرلے گی، اور اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہوگا، اور بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ مشابہہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر مرد کا " پانی''عورت کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے، یہ سن کر عبداللہ کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہودی بہتان باندھنے والی قوم ہیں ، اگر انہیں میرے اسلام کا پتہ چل گیا تو وہ آپ کے سامنے مجھ پر طرح طرح کے الزام لگائیں گے، اس لئے آپ ان کے پاس پیغام بھیج کر انہیں بلائیے اور میرے متعلق ان سے پوچھئے کہ تم میں ابن سلام کیسا آدمی ہے؟چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا، اور ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن سلام تم میں کیسا آدمی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں سب سے بہتر ہے اور سب سے بہتر کا بیٹا ہے، ہمارا عالم اور عالم کا بیٹا ہے، ہم میں سب سے بڑا فقیہہ ہے اور سب سے بڑے فقیہہ کا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ، اگر وہ اسلام قبول کر لے تو کیا تم بھی اسلام قبول کر لو گے؟ وہ کہنے لگے اللہ اسے بچا کر رکھے، اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر نکل آئے اور ان کے سامنے کلمہ پڑھا، یہ سن کر وہ کہنے لگے کہ یہ ہم میں سب سے بدتر ہے اور سب سے بدتر کا بیٹا ہے اور ہم میں جاہل اور جاہل کا بیٹا ہے، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسی چیز کا مجھے اندیشہ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11616

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا انْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ نَادَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا انْهَزَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَى قَالَ فَأَتَاهَا أَبُو طَلْحَةَ وَمَعَهَا مِعْوَلٌ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ بَعَجْتُهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْظُرْ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أُسْلِمَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي سَائِلُكَ فَقَالَ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ قَالَ قُلْتُ مَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ حنین کے دن مسلمان ابتدائی طور پر شکست خوردہ ہو کر بھاگنے لگے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پکار کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ، انہیں قتل کروا دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ کافی ہے، تھوڑی دیر بعد حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاتھ میں ایک کدال تھی، انہوں نے پوچھا ام سلیم! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، یہ سن کر وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دیکھیں تو سہی کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہیں ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11617

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ وَيَزِيدُ قَالَا أَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ عَلَيْنَا وَأَخَذَ بِيَدِي فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ وَقَعَدَ فِي ظِلِّ حَائِطٍ أَوْ جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَبَلَّغْتُ الرِّسَالَةَ الَّتِي بَعَثَنِي فِيهَا فَلَمَّا أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ مَا حَبَسَكَ قُلْتُ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ قَالَتْ وَمَا هِيَ قُلْتُ سِرٌّ قَالَتْ احْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ قَالَ فَمَا حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا اور وہ پیغام پہنچا دیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دے کر مجھے بھیجا تھا، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، چنانچہ اس کے بعد میں نے کبھی وہ کسی کے سامنے بیان نہ کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11618

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَسْلِمْ قَالَ أَجِدُنِي كَارِهًا قَالَ أَسْلِمْ وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے اسلام قبول کرنے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ مجھے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پسند نہ بھی ہوتب بھی اسلام قبول کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11619

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11620

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلَا يَتْفُلَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَنْ يَمِينِهِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فَلَا يَتْفُلُ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11621

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ أَتَاهُ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ وَعُصَيَّةُ وَبَنُو لِحْيَانَ فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا فَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ فَأَمَدَّهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَوْمَئِذٍ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ أَنَسٌ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ فِي زَمَانِهِمْ الْقُرَّاءَ كَانُوا يَحْطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ فَانْطَلَقُوا بِهِمْ حَتَّى إِذَا أَتَوْا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ فَقَتَلُوهُمْ فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى هَذِهِ الْأَحْيَاءِ رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لِحْيَانَ قَالَ قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِهِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ أَوْ رُفِعَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ رعل ، ذکوان ، عصبہ اور بنو لحیان کے کچھ لوگ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوم پر تعاون کا مطالبہ کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم تعاون کے لئے بھیج دیئے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں " قراء " کہا کرتے تھے ، یہ لوگ دن کو لکڑیاں کاٹتے اور رات کو نماز میں گذار دیتے تھے ، وہ لوگ ان تمام حضرات کو لے کر روانہ ہوگئے ، راستے میں جب وہ " بیر معونہ " کے پاس پہنچے انہوں نے صحابہ کرا م رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ کیا اور انہیں شہید کر دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل ، ذکوان ، عصبہ اور بنولحیان کے قبائل پر بد دعا کرتے رہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان صحابہ رضی اللہ عنہ کے یہ جملے کہ " ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے ، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہمیں بھی راضی کر دیا " ایک عرصے تک قرآن کریم میں پڑھتے رہے ، بعد میں ان کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11622

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَالْخَفَّافُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ وَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دوران نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11623

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11624

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ إِنِّي لَأَدْخُلُ الصَّلَاةَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطِيلَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَاوَزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات میں نماز شروع کرتا ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ لمبی نماز پڑھاؤں ، لیکن پھر کسی بچے کے رونے کی آواز آتی ہے تو میں اپنی نماز کو مختصر کر دیتا ہوں ، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کی ماں اس کے رونے کی وجہ سے کتنی پریشان ہو رہی ہوگی؟ ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11625

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ يَعْنِي مَالِكٍ قَالَ وَلَمْ يَكُنْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا ، کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کر دو۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے جو حدیث پڑھی تھی ، اس میں یہ بھی تھا کہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں نہ تھے ، و اللہ اعلم ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11626

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَعْنِي يَوْمَ عَرَفَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ

محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے خضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عرفہ کے دن آپ لوگ کیا کر رہے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے ، ان پر بھی کوئی نکیر نہ ہوتی تھی اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان پر بھی کوئی نکیر نہ کی گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11627

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11628

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَأَنْ يُنْبَذَ فِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت سے اور اس میں پینے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11629

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ كَشَفَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ فَأَرَادَ النَّاسُ أَنْ يَتَحَرَّكُوا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اثْبُتُوا وَيَلْقَى السَّجْفَ وَتُوُفِّيَ فِي آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ آخری نظر جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیر کے دن ڈالی ، وہ اس طرح تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارکہ کا پردہ ہٹایا ، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا ، لوگوں نے اپنی جگہ سے حرکت کرنا چاہی ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا، اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11630

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی ، بغض ، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو، اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11631

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا وَصَلَّيْنَا قُعُودًا فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے جس سے دائیں حصے پر زخم آگیا ، ہم لوگ عیادت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اسی دوران نماز کا وقت آگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی ، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، (جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو) جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو ، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑ ھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11632

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّاعَةِ فَقَالَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ شَيْءٍ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَثِيرَ شَيْءٍ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11633

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھالو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11634

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي تَحُثُّنِي عَلَى خِدْمَتِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ نَاحِيَةً فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ فَنَاوَلَ الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ و قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنَا أَنَسٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا ، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو میں بیس سال کا تھا ، میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں ، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنوئیں میں پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا، اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ایک کونے میں تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو ، پھر اس کے بعد والے کو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11635

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِتَمْرٍ وَسَوِيقٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ کھجوروں اور ستو سے کیا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11636

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَيْسَرَةَ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُهُمَا يَقُولَانِ سَمِعْنَا أَنَسًا يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11637

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ سَمِعَ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عَمَلُهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں اس کے اہل خانہ، مال ، اور اعمال ، دو چیزیں واپس آجاتی ہیں اور ایک چیز اس کے ساتھ رہ جاتی ہیں ، اہل خانہ اور مال واپس آجاتا ہے اور اعمال باقی رہ جاتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11638

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ كَانَ عِنْدَنَا فِي الْبَيْتِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فِي بَيْتِنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِهِمْ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک یتیم بچے کے ساتھ " جو ہمارے گھر میں تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تھے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11639

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ ذَنُوبًا أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11640

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11641

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَكَانُوا يَفْتَتِحُونَ بِ الْحَمْدُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11642

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى قِيلَ لِسُفْيَانَ يَعْنِي سَمِعَ مِنْ أَنَسٍ يَقُولُ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ الْبَحْرَيْنِ فَقَالُوا لَا حَتَّى تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَنَا فَقَالَ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ انہیں تقسیم کر دیں ، لیکن وہ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کو ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن تم صبر کرنا تاکہ آنکہ مجھ سے آملو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11643

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَبَّحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ثُمَّ أَحَالُوا يَسْعَوْنَ إِلَى الْحِصْنِ وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ فَأَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجَةً مِنْ الْقَرْيَةِ فَاطَّبَخْنَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ قَالَ سُفْيَانُ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ يَقُولُ وَالْجَيْشُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے لئے صبح کے وقت تشریف لے گئے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر وہ اپنے قلعے کی طرف بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، وہاں بستی میں ہمیں گدھے ہاتھ لگے، ہم نے انہیں پکا لیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول تمہیں پالتو گدھوں سے روکتے ہیں ، کیونکہ یہ ناپاک اور شیطانی عمل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11644

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ قَالَ سُفْيَانُ نَزَلَ فِيهِمْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا قِيلَ لِسُفْيَانَ فِيمَنْ نَزَلَتْ قَالَ فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا، اس لشکر کے لوگوں کا نام ہی " قراء " پڑ گیا تھا، اور ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے پروردگار سے راضی ہوگئے اور اس نے ہمیں خوش کردیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11645

قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ عَاصِمًا قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11646

قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ عَاصِمًا عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا قَالَ سُفْيَانُ كَأَنَّهُ يَقُولُ آخَى

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11647

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ لَهُ حَادٍ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسٍ مَعَهُمْ فَقَالَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حدی خوان تھا " جس کا نام انجشہ تھا " وہ امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ بھی ان کے ساتھ تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجشہ ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11648

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْبَيْدَاءِ لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام بیداء میں حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک بعمرۃ وحجۃ معاً''

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11649

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ أَنَسٍ وَابْنُ سِيرِينَ قَالَ لَمَّا رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَنَحَرَ هَدْيَهُ حَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَأَعْطَى الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ ثُمَّ حَلَقَ الْأَيْسَرَ فَأَعْطَاهُ النَّاسَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی اور جانور کی قربانی کر چکے تو سینگی لگوائی اور وہاں کاٹنے والے کے سامنے پہلے سر کا داہنا حصہ کیا، اس نے اس حصے کے بال تراشے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے ، پھر بائیں جانب کے بال منڈوائے تو عام لوگوں کو دے دیئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11650

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَهْدَى أُكَيْدِرُ دُومَةَ لِلنَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَعْنِي حُلَّةً فَأَعْجَبَ النَّاسَ حُسْنُهَا فَقَالَ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ أَوْ أَحْسَنُ مِنْهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکید رومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11651

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ قَالَ قَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ يَا أَنَسُ مَسِسْتَ يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَرِنِي أُقَبِّلُهَا

ابن جدعان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ثابت رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے انس! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ سے چھوا ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو ثابت رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ مجھے وہ ہاتھ دکھائیے کہ میں اسے بوسہ دوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11652

قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ مِنِ ابْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز میں ہی کئی لوگوں سے بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11653

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعَ قَاسِمٌ الرَّحَّالُ أَنَسًا يَقُولُ دَخَلَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ خَرِبًا لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ يَقْضِي فِيهَا حَاجَةً فَخَرَجَ إِلَيْنَا مَذْعُورًا أَوْ فَزِعًا وَقَالَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَسَأَلْتُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ أَهْلِ الْقُبُورِ مَا أَسْمَعَنِي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی ویرانے میں تشریف لے گئے، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جایا کرتے تھے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے ہمارے پاس آئے اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11654

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُطِيفُ بِنِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ يَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11655

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَيْسَرَةَ وَمُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يَقُولَانِ سَمِعْنَا أَنَسًا يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11656

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَفَّتَةِ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ وَمَا الْمُزَفَّتَةُ قَالَ الْمُقَيَّرَةُ قَالَ قُلْتُ فَالرَّصَاصُ وَالْقَارُورَةُ قَالَ مَا بَأْسٌ بِهِمَا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَهُمَا قَالَ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ لَهُ صَدَقْتَ السُّكْرُ حَرَامٌ فَالشَّرْبَةُ وَالشَّرْبَتَانِ عَلَى طَعَامِنَا قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ وَقَالَ الْخَمْرُ مِنْ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ فَمَا خَمَّرْتَ مِنْ ذَلِكَ فَهِيَ الْخَمْرُ

مختار بن نوفل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " مزفت" سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، میں نے پوچھا کہ مزفت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا لک لگایا ہوا برتن، میں نے پوچھا کہ شیشی اور بوتل کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں میں کوئی حرج نہیں ، میں نے کہا کہ لوگ تو انہیں اچھا نہیں سمجھتے؟ انہوں نے فرمایا کہ پھر جس چیز میں تمہیں شک ہو اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرلو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو، کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ نے بجا فرمایا کہ نشہ حرام ہے، لیکن کھانے کے بعد ایک دو گھونٹ پی لینے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا نشہ آور چیز خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے اور فرمایا کہ شراب انگور سے بھی بنتی ہے، کھجور، شہد، گندم، جو اور مکئی سے بھی بنتی ہے، ان میں سے جس چیز سے بھی بنے، وہ بہر حال شراب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11657

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں پانی پیش کرتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے استنجاء فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11658

قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ ابْنَ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی اواز ہی کئی لوگوں سے بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11659

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ قَالَ عَمْرٌو فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ فَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ يُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اہل و عیال پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو شفیق نہیں پایا، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ عوالی مدینہ میں دودھ پیتے بچے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ملنے جایا کرتے تھے، ہم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس گھر میں داخل ہوتے تو وہ دھوئیں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ خاتونِ خانہ کا شوہر لوہار تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پکڑ کر پیار کرتے اور کچھ دیر بعد واپس آجاتے، جب حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابراہیم میرا بیٹا تھا، جو بچپن میں ہی فوت ہوگیا، اس کے لئے دو دائیاں مقرر کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی مدت رضاعت کی تکمیل کریں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11660

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي وَتُصَلِّيَ فِيهِ قَالَ فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ فَأَمَرَ بِجَانِبٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ایک چچا نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور اس میں نماز پڑھیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہاں گھر میں ایک چٹائی پڑی ہوئی تھی جو پرانی ہو کر کالی ہوچکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک کونے میں رکھنے کا حکم دیا، اسے جھاڑا گیا اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی اور ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11661

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں ، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11662

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرمالیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11663

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ الْجَبَلُ فَقَالَ اسْكُنْ عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے، ایک دم پہاڑ ہلنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے پہاڑ! تھم جا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11664

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا قَالَ فَقَالَ نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے، کہ اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لائے ہیں ، کیا آپ کو ہمارے متعلق کسی چیز سے خطرہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! کیونکہ دل اللہ کی انگلیوں میں سے صرف دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں بدل دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11665

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصْنَعِينَ بِهِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْهُمْ طَعَنْتُهُ بِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسانے کے لئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ام سلیم کو دیکھیں کہ ان کے پاس خنجر ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے ام سلیم! تم اس کا کیا کرو گی؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11666

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ قُلْنَا لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا أَنْكَرْتَ مِنْ حَالِنَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْكَرْتُ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ الصُّفُوفَ

بشیر بن یسار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کو دورِ نبوت کے حالات سے ہمارے حالات میں کیا تبدیلی محسوس ہو رہی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ چیز عجیب لگتی ہے کہ تم لوگ صفیں سیدھی نہیں رکھتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11667

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11668

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا مِسْحَاجٌ الضَّبِّيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فِي سَفَرٍ فَقُلْنَا زَالَتْ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ ارْتَحَلَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو کہتے تھے کہ زوال شمس ہوگیا یا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر پڑھ کر کوچ فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11669

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ فَقَالَ لَهُ وَمَا لَكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ وَفَعَلُوا قَالَ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً قَالَ نَعَمْ قَالَ فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي فَقَالَ ادْعُ بِتِلْكَ الشَّجَرَةِ فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْبِي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غمگین بیٹھے تھے اور خون میں لت پٹ تھے، کچھ اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کو ایک معجزہ دکھاؤں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا اور کہا کہ اس درخت کو بلائیے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی تو وہ چلتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوگیا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اب اسے واپس جانے کا حکم دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا تو وہ واپس چلا گیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یہی کافی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11670

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں لاچاری، سستی، بزدلی، بڑھاپے، بخل اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11671

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدٌ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَمَا يَسُرُّنِي أَنَّهُمْ عِنْدَنَا أَوْ قَالَ مَا يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ہمیں خبر دی کہ زید نے جھنڈا پکڑا لیکن شہید ہوگئے، پھر جعفر نے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر خالد بن ولید نے کسی سالاری کے بغیر جھنڈا پکڑا اور اللہ نے ان کے ہاتھوں پر مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی، اور مجھے اس بات کی خوشی نہیں ہے کہ وہ ہمارے پاس ہی رہتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11672

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ زَاذَوَيْهِ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ نُهِينَا أَوْ قَالَ أُمِرْنَا أَنْ لَا نَزِيدَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَلَى وَعَلَيْكُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اہل کتاب کے سلام کے جواب میں وعلیکم سے زیادہ کچھ نہ کہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11673

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَدَّ عُمَرُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری نمازیں قریب قریب برابر ہوتی تھیں ، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11674

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ ثُمَّ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا

ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! رکوع کے بعد، دوبارہ یہی سوال ہوا کہ نماز فجر میں قنوت نازلہ پڑھی ہے؟ تو فرمایا ہاں ! کچھ عرصے کے لئے رکوع کے بعد پڑھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11675

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال نصف کان تک ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11676

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ فَأَمَرَ بِلَالًا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَسْفَرَ مِنْ الْغَدِ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ أَوْ قَالَ هَذَيْنِ وَقْتٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کر دی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی، اور فرمایا نمازِ فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان نمازِ فجر کا وقت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11677

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَا أَدْرِي بَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لَا قَالَ ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کرلی ہو، اسے دوبارہ قربانی کر لینی چاہئے ، ایک آدمی یہ سن کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ دن ایسا ہے جس میں لوگوں کو عام طور پر گوشت کی خواہش ہوتی ہے پھر اس نے اپنے کسی پڑوسی کے اس معاملے کا تذکرہ کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق کر رہے ہیں ، پھر اس نے کہا کہ میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے، جو مجھے دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ محبوب ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس ہی کی قربانی کرنے کی اجازت دے دی، اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کے لئے بھی ہے یا نہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح فرمایا، لوگ " مال غنیمت " کے انتظار میں کھڑے تھے، سو انہوں نے اسے تقسیم کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11678

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ شَرِبَ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَنَاوَلَهُ وَقَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب ایک دیہاتی تھا، اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11679

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ وَحُرِّمَتْ النَّارُ عَلَيْهِ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَحُبُّ اللَّهِ وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ فَيُحْرَقَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ

نوفل بن مسعود رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے ، جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہو، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس آدمی میں ہوں ، وہ جہنم کی آگ پر حرام ہوگا اور جہنم کی آگ اس پر حرام ہوگی، اللہ پر ایمان، اللہ سے محبت اور آگ میں گر کر جل جانا کفر کی طرف لوٹ کر جانے سے زیادہ محبوب ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11680

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ فَقَالَ مَتَى مَاتَ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ قَالُوا مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قبر سے آواز سنائی دی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس قبر میں مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص زمانہ جاہلیت میں دفن ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر تعجب ہوا اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذابِ قبر کی آواز سنا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11681

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ جَاءَ أَنَسٌ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقُلْنَا لَهُ مَا أَنْكَرْتَ مِنَّا مِنْ عَهْدِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَنْكَرْتُ مِنْكُمْ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ صُفُوفَكُمْ

بشیر بن یسار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کو دورِ نبوت کے حالات سے ہمارے حالات میں کیا تبدیلی محسوس ہو رہی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ چیز عجیب لگتی ہے کہ تم لوگ صفیں سیدھی نہیں رکھتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11682

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت رکھ دی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11683

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنْ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بات سنتے اور مانتے رہو، خواہ تم پر ایک حبشی " جس کا سر کشمش کی طرح ہو " گورنر بنا دیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11684

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا لِنَفْسِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11685

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ حَتَّى نَعَسَ أَوْ كَادَ يَنْعَسُ بَعْضُ الْقَوْمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، حتیٰ کہ کچھ لوگ سونے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11686

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَ مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11687

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَقِيعِ فَنَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَمْ أَعْنِكَ قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابو القاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11688

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ عِشْرِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11689

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَالَ فَنَهَوْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ وَأَمَرَ أَنْ يُصَبَّ عَلَيْهِ أَوْ أُهَرِيقَ عَلَيْهِ الْمَاءُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دورِ نبوت میں ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کر دیا، لوگوں نے اسے روکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، اور حکم دیا کہ اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11690

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي إِنَائِهِ ثَلَاثًا وَكَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے، خود حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی تین سانس لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11691

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَشْتَرِي هَذَا فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ قَالَ مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ قَالَ هُمَا لَكَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثٍ ذِي دَمٍ مُوجِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی تنگدستی کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ وہ ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون خریدے گا؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں ایک درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون دے گا؟ لوگ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعلان دہرایا، اس پر ایک آدمی کہنے لگا کہ میں دو درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں چیزیں تمہاری ہوئیں ، پھر فرمایا سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک صورت میں حلال ہے، وہ آدمی جو مرنے کے قریب ہو، وہ قرض جو ہلا دینے والا ہو اور وہ فقر جو خاک نشین کر دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11692

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم نماز میں قرأت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11693

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُنَا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11694

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ لِأَبِي طَلْحَةَ ابْنٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ قَالَ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا " جس کا نام ابوعمیر تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مر گئی تھی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11695

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ثَمَرَةِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ قِيلَ لِأَنَسٍ مَا تَزْهُو قَالَ تَحْمَرُّ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے تھے کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پھلوں کی بیع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے سے پہلے ان کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11696

حَدَّثَنَا يَحْيَى وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ دَنَا النَّاسُ مِنْ الرِّيفِ وَالْقُرَى قَالَ لِأَصْحَابِهِ مَا تَرَوْنَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ اجْعَلْهَا كَأَخَفِّ الْحُدُودِ فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی سزا میں ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (چالیس کوڑے) مارے ہیں ، لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں لوگ مختلف شہروں اور بستیوں کے قریب ہوئے (اور ان میں وہاں کے اثرات آنے لگے) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد کے برابر اس کی سزا مقرر کر دیجئے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11697

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ أَكَلْتُ الْحُمُرَ مَرَّتَيْنِ قَالَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ أَفْنَيْتُ الْحُمُرَ قَالَ فَنَادَى إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر میں آیا اور دو مرتبہ کہا کہ گدھوں کا گوشت کھایا جارہا ہے، پھر آیا تو کہنے لگا کہ گدھے ختم ہوگئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرادی کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں کیونکہ ان کا گوشت ناپاک ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11698

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ وَحَجَّاجٌ مِثْلَهُ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ أَسْأَلْ قَتَادَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ هَلْ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11699

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں ، ایک حرص اور ایک امید۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11700

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ قَدْ ضَرَبَاهُ حَتَّى بَرَدَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَهُ قَوْمُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مار مار کر ٹھنڈا کر دیا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11701

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَحَائِطِي الَّذِي كَانَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهِ لَوْ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهَا لَمْ أُعْلِنْهَا قَالَ اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " تم نیکی کے اعلیٰ درجے کو اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو، اور یہ آیت کہ " کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دیتا ہے " تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا فلاں باغ جو فلاں جگہ پر ہے، وہ اللہ کے نام پر دیتا ہوں اور بخدا! اگر یہ ممکن ہوتا کہ میں اسے مخفی رکھوں تو کبھی اس کا پتہ نہ لگنے دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنے خاندان کے فقراء میں تقسیم کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11702

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الشِّمَالِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ قَالَ وَكُفْرٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی، اس پر موٹی پھیلی ہوگی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11703

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دوران نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11704

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11705

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي وَرُبَّمَا قَالَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں بخدا تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11706

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11707

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے کچھ قبائل پر بددعاء کرتے رہے پھر اسے ترک کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11708

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِنَهْرٍ حَافَتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ فَضَرَبْتُ بِيَدِي فِي مَجْرَى الْمَاءِ فَإِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ أَوْ أَعْطَاكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی میں نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11709

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَقَالَ عُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے اور فرمایا کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11710

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْهَمُونَ ذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَأَرَاحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ يُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا فَيَقُولُ لَهُمْ آدَمُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ ذَنْبَهُ الَّذِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَقُولُ وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى الْأَرْضِ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ وَسُؤَالَهُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ بِذَلِكَ وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأْتُونَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ لَهُمْ النَّفْسَ الَّتِي قَتَلَ بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْ ذَلِكَ وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَتَهُ وَرُوحَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَأْتُونِي قَالَ الْحَسَنُ هَذَا الْحَرْفَ فَأَقُومُ فَأَمْشِي بَيْنَ سِمَاطَيْنِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَنَسٌ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيُؤْذَنَ لِي فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي قَالَ ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ فَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سارے مسلمان اکٹھے ہوں گے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے پروردگار کے سامنے کسی کی سفارش لے کر جائیں تو شاید وہ ہمیں اس جگہ سے راحت عطاء فرما دے، چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں اور ان سے کہیں گے کہ اے آدم! آپ ابو البشر ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا، اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، لہٰذا آپ ہمارے رب سے سفارش کر دیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے دے۔ حضرت آدم علیہ السلام جواب دیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں اور انہیں اپنی لغزش یاد آجائے گی اور وہ اپنے رب سے حیاء کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کر دیجئے، وہ جواب دیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے وہ بھی یہی کہیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے البتہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے ان سے براہِ راست کلام فرمایا ہے اور انہیں تورات دی تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کرلیں گے کہ میں نے ایک ناحق شخص کو قتل کر دیا تھا البتہ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ کے بندے ، اس کے رسول اور اس کا کلمہ اور روح تھے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کر لیں گے اور فرمائیں گے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہاری سفارش کریں گے جن کی اگلی پچھلی لغزشیں اللہ نے معاف فرما دی ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے پاس حاضری کی اجازت چاہوں گا جو مجھے مل جائے گی میں اپنے رب کو دیکھ کر سجدہ ریز ہو جاؤں گا، اللہ جب تک چاہے گا مجھے سجدے ہی کی حالت میں رہنے دے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سر اٹھائیے ، آپ جو کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی، جو مانگیں گے وہ ملے گا اور جس کی سفارش کریں گے قبول کر لی جائے گی، چنانچہ میں اپنا سر اٹھا کر اللہ کی ایسی تعریف کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا پھر میں سفارش کروں گا تو اللہ میرے لئے ایک حد مقرر فرما دے گا اور میں انہیں جنت میں داخل کروا کر دوبارہ آؤں گا، تین مرتبہ اسی طرح ہوگا، چوتھی مرتبہ میں کہوں گا کہ پروردگار! اب صرف وہی لوگ باقی بچے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔ چنانچہ وہ جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو اور جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11711

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ التَّيْمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ قَالَهُ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ مَرَّةً مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے ۔ یہ بات دو مرتبہ فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11712

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ قَالَ فَاشْتَدَّ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں ، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11713

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرمالیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11714

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا قَالَ أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا قَضَى الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ خَلْقَهَا قَالَ أَيْ رَبِّ أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى فَمَا الرِّزْقُ وَمَا الْأَجَلُ قَالَ فَيَكْتُبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ بِمَكَّةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ أَبُو مُعَاذٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ماں کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، جو اپنے اپنے وقت پر یہ کہتا رہتا ہے کہ پروردگار! اب نطفہ بن گیا، پروردگار! اب گوشت کی بوٹی بن گیا، پھر جب اللہ اسے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار! یہ شقی ہوگا یا سعید؟ مذکر ہوگا یا مونث؟ اور عمر کتنی ہوگی؟ یہ سب چیزیں ماں کے پیٹ میں لکھ دی جاتی ہیں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11715

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ بَرِيرَةَ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11716

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَقْضِ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے تو مسلمان پر تعجب ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے جو فیصلہ بھی فرماتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11717

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11718

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا هُوَ شَرٌّ مِنْ الزَّمَانِ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم پر جو وقت بھی آئے گا، وہ پہلے سے بدترین ہی ہوگا، ہم نے تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں ہی سنا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11719

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ نَفِيعٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غَنِيٍّ وَلَا فَقِيرٍ إِلَّا وَدَّ أَنَّمَا كَانَ أُوتِيَ مِنْ الدُّنْيَا قُوتًا قَالَ يَعْلَى فِي الدُّنْيَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ہر فقیر اور مالدار کی تمنا یہی ہوگی کہ اسے دنیا میں بقدر گذارہ دیا گیا ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11720

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11721

حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ فَأَتَى عَلَيْهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْ أَوْ يَا أَنْجَشَةُ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا دورانِ سفر ازواجِ مطہرات کے ساتھ تھیں ، ایک آدمی " جس کا نام انجشہ تھا " وہ امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، ان کے پاس آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجشہ ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11722

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَقَدْ ذَكَرَ فِيهِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں لاچاری، سستی، بزدلی، بڑھاپے، بخل اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11723

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَوْ سَمَّتَ أَحَدَهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ ذَاكَ لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ قَالَ يَحْيَى وَرُبَّمَا قَالَ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو اس کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دے دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا، کسی نے پوچھا کہ دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو کیوں نہ دیا؟ فرمایا کہ اس نے الحمدللہ کہا تھا اور دوسرے نے نہیں کہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11724

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْضَى عَنْ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأُكْلَةَ أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے سے صرف اتنی بات پر بھی راضی ہوجاتے ہیں کہ وہ کوئی لقمہ کھا کر یا پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کر دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11725

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ عَامَّةُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ حَتَّى جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغَرْغِرُ بِهَا صَدْرُهُ وَمَا يَكَادُ يُفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دنیا سے رخصتی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی وصیت نماز اور غلاموں کا خیال رکھنے سے متعلق تھی حتیٰ کہ جب غرغرہ کی کیفیت طاری ہوئی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہی الفاظ جاری تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11726

حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنْ النَّارِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَّا قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنِّي وَلَا يَسْأَلُ الْجَنَّةَ إِلَّا قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ إِيَّايَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ سے بچالے اور جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11727

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَوْ لَا قَالَ ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کرلی ہو، اسے دوبارہ قربانی کر لینی چاہئے ، ایک آدمی یہ سن کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ دن ایسا ہے جس میں لوگوں کو عام طور پر گوشت کی خواہش ہوتی ہے پھر اس نے اپنے کسی پڑوسی کے اس معاملے کا تذکرہ کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق کر رہے ہیں ، پھر اس نے کہا کہ میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے، جو مجھے دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ محبوب ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس ہی کی قربانی کرنے کی اجازت دے دی، اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کے لئے بھی ہے یا نہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح فرمایا، لوگ " مال غنیمت " کے انتظار میں کھڑے تھے، سو انہوں نے اسے تقسیم کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11728

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدٌ عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ مَا يَسُرُّهُمْ أَوْ قَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُمْ عِنْدَنَا قَالَ وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ہمیں خبر دی کہ زید نے جھنڈا پکڑا لیکن شہید ہوگئے، پھر جعفر نے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر خالد بن ولید نے کسی سالاری کے بغیر جھنڈا پکڑا اور اللہ نے ان کے ہاتھوں پر مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی، اور مجھے اس بات کی خوشی نہیں ہے کہ وہ ہمارے پاس ہی رہتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11729

حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ الرُّؤَاسِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ يُوسُفَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْعَيْنِ وَالْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد، ڈنک اور نملہ (جس کی بیماری میں پسلی دانوں سے بھر جاتی ہے) کے لئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11730

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرٌ يُصِيبُ مَنْكِبَيْهِ وَقَالَ بَهْزٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11731

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطِيبٍ لَمْ يَرُدَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11732

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَإِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ قَالَ أَخْبَرَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ أَهْلِ بَيْتٍ قَالَ أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے یہاں روزہ افطار کرتے تو فرماتے تمہارے یہاں روزہ داروں نے روزہ کھولا، نیکوں نے تمہارا کھانا کھایا اور رحمت کے فرشتوں نے تم پر نزول کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11733

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ نَخْلُ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَامِنُونِي بِهِ فَقَالُوا لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ وَهُوَ يَقُولُ أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ دراصل بنونجار کی تھی، یہاں ایک درخت اور مشرکین کی چند قبریں ہوا کرتی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے فرمایا کہ میرے ساتھ اس کی قیمت طے کرلو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے، مسجد نبوی کی تعمیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شریک تھے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اینٹیں پکڑا تے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے کہ اصل زندگی تو آخرت کی ہے، اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما اور مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہیں نماز پڑھ لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11734

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ وَالدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالَ وَالْفَأْلُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ الطَّيِّبَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11735

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي هَمَّامٌ عَنْ غَالِبٍ هَكَذَا قَالَ وَكِيعٌ غَالِبٍ وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو غَالِبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ أُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِيرِ ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةِ امْرَأَةٍ فَقَامَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ حِذَاءَ السَّرِيرِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنْ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ نَحْوًا مِمَّا رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ فَقَالَ احْفَظُوا

مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرد کا جنازہ لایا گیا وہ اس کی چارپائی کے سرہانے کھڑے ہوئے اور عورت کا جنازہ لایا گیا تو چارپائی کے سامنے اس سے نیچے ہٹ کر کھڑے ہوئے، نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو علاء بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے کہ اے ابوحمزہ! جس طرح کرتے ہوئے میں نے آپ کو دیکھا ہے کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مرد و عورت کے جنازے میں اسی طرح کھڑے ہوتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! تو علاء نے ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ اسے محفوظ کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11736

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الْيَوْمَ جَنَازَةً قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ مَنْ عَادَ مِنْكُمْ مَرِيضًا قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ مَنْ تَصَدَّقَ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ آج تم میں سے کس نے جنازے میں شرکت کی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم میں سے کسی نے کسی مریض کی عیادت کی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے کی ہے، پھر فرمایا کسی نے صدقہ دیا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر اپنے آپ کو پیش کیا، پھر پوچھا کہ کسی نے روزہ رکھا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11737

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ قَالَ فَسَعَى عَلَيْهَا الْغِلْمَانُ حَتَّى لَغِبُوا قَالَ فَأَدْرَكْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا ثُمَّ بَعَثَ مَعِي بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرالظہران نامی جگہ پر اچانک ہمارے سامنے ایک خرگوش آگیا، بچے اس کی طرف دوڑے، لیکن اسے پکڑ نہ سکے یہاں تک کہ تھک گئے، میں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا ایک پہلو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11738

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11739

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَيْهِ وَمَنْ أُجْبِرَ عَلَيْهِ نَزَلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ فَيُسَدِّدُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص عہدہ قضاء کو طلب کرتا ہے، اسے اس کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور جسے زبردستی عہدہ قضاء دیا جائے، اس پر ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے جو اسے سیدھی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11740

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پانی پیے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11741

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ أَبِي عِصَامٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ هَذَا أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیاہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11742

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَسَمِعْتَ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ قَالَ نَعَمْ

شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت لقمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11743

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ ابْنَةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْ فِيهَا وَهُوَ قَائِمٌ قَالَ فَقَطَعَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَ الْقِرْبَةِ فَهُوَ عِنْدَنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے، گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی نوش فرمایا، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مشکیزے کا منہ کاٹ کر (تبرک کے طور پر) اپنے پاس رکھ لیا اور وہ آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11744

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا فَقَالَ أَهْرِقْهَا قَالَ أَفَلَا نَجْعَلُهَا خَلًّا قَالَ لَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کو وراثت میں شراب ملے تو کیا حکم ہے؟ فرمایا اسے بہا دو، انہوں نے عرض کیا کہ کیا ہم اسے سرکہ نہیں بناسکتے؟ فرمایا نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11745

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَكُونِي مِنْ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُكِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جگہ راستے میں ایک کھجور پڑی ہوئی ملی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو صدقہ کی نہ ہوتی تو میں تجھے کھا لیتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11746

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اخد عین اور کامل نامی کندھوں کے درمیان مخصوص جگہوں پر سینگی لگوائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11747

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ أَبِي قَالَ فِي النَّارِ قَالَ فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے والد کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں ، پھر جب اس کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ میرا اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11748

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11749

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ يُوسُفَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد، ڈنک اور نملہ (جس کی بیماری میں پسلی دانوں سے بھر جاتی ہے) کے لئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11750

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ فَيُكَبِّرُونَ إِذَا سَجَدُوا وَإِذَا رَفَعُوا قَالَ يَحْيَى أَوْ خَفَضُوا قَالَ كَبَّرُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11751

حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَفَّتَةِ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ

مختار بن نوفل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " مزفت" سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11752

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ امْرَأَةً لَقِيَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ يَا أُمَّ فُلَانٍ اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ أَجْلِسْ إِلَيْكِ قَالَ فَقَعَدَتْ فَقَعَدَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاتون ملی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جس گلی میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا چنانچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کا کام کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11753

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ مَدًّا

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11754

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ طَائِرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ قَالَ وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفَّنَا خَلْفَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر؟ چڑیا، جو مرگئی تھی اور ہمارے لئے ایک چادر بچھائی گئی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ہم نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بنالی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11755

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي إِيَاسٍ يَعْنِي مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11756

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ مِنْ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُكَلِّمُهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ فَيُكَلِّمُهُ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر سے نیچے اتر رہے ہوتے تھے اور کوئی آدمی اپنے کسی کام کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرنا چاہتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بات کر لیتے تھے، پھر بڑھ کر مصلیٰ پر چلے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھا دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11757

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں ، ایک حرص اور ایک امید۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11758

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَتَّابٍ مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَقَالَ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں حسبِ طاقت کی قید لگا دی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11759

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ لِأَنَسٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ قَالَ وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی منزل پر پڑاؤ کرتے تو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے وہاں سے کوچ نہیں کرتے تھے، محمد بن عمر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! اگرچہ نصف النہار کے وقت میں ہو؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگرچہ نصف النہار کے وقت ہی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11760

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي أَبُو خُزَيْمَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ الْمَنَّانَ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِاسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اس طرح دعاء کرتے ہوئے سنا کہ (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ الْمَنَّانَ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ) " اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں ، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11761

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو مزدوری کے معاملے میں اس پر ظلم نہیں فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11762

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ قَالَ تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَشْرًا وَتَحْمَدِينَهُ عَشْرًا وَتُكَبِّرِينَهُ عَشْرًا ثُمَّ سَلِي حَاجَتَكِ فَإِنَّهُ يَقُولُ قَدْ فَعَلْتُ قَدْ فَعَلْتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئے جن کے ذریعے میں دعاء کر لیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر اپنی ضرورت کا اللہ سے سوال کرو، اللہ فرمائے گا کہ میں نے تمہارا کام کر دیا، میں نے تمہارا کام کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11763

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الْمَاجِشُونَ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ الْنُمَيْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ افْتَرَقَتْ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَأَنْتُمْ تَفْتَرِقُونَ عَلَى مِثْلِهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا فِرْقَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور تم بھی اتنے ہی فرقوں میں تقسیم ہو جاؤ گے اور سوائے ایک فرقے کے سب جہنم میں جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11764

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ فِي الْخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد بڑھ نہ جائے، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11765

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى فَرَأَيْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11766

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالُوا خُطَبَاءُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا كَانُوا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ دنیا کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11767

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ وَأُخِفْتُ مِنْ اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثَةٌ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلِعِيَالِي طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا مَا يُوَارِي إِبِطَ بِلَالٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ستایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ستایا گیا اور اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ڈرایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسا وقت بھی آیا ہے کہ تین دن اور تین راتیں گذر گئیں اور میرے پاس اپنے لئے اور اپنے اہل خانہ کے لئے اتنا کھانا بھی نہ تھا کہ جسے کوئی جگر رکھنے والا جاندار کھا سکے، سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں ہوتا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں تیس دن رات کا ذکر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11768

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْجَبُوا بِأَحَدٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَ يُخْتَمُ لَهُ فَإِنَّ الْعَامِلَ يَعْمَلُ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ أَوْ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ صَالِحٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا سَيِّئًا وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ سَيِّئٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ قَالَ يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص پر اس وقت تک تعجب نہ کیا کرو، جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ اس کا خاتمہ کس عمل پر ہو رہا ہے؟ کیونکہ بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ تک اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلاء ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلاء رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مر جائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے اس کی موت سے پہلے استعمال فرماتے ہیں ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ کیسے استعمال فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مرنے سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطاء فرما دیتے ہیں ۔ پھر اس کی روح قبض کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11769

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ جَدَّ فِينَا يَعْنِي عَظُمَ فَكَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يُمْلِي عَلَيْهِ غَفُورًا رَحِيمًا فَيَكْتُبُ عَلِيمًا حَكِيمًا فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ اكْتُبْ كَذَا وَكَذَا اكْتُبْ كَيْفَ شِئْتَ وَيُمْلِي عَلَيْهِ عَلِيمًا حَكِيمًا فَيَقُولُ أَكْتُبُ سَمِيعًا بَصِيرًا فَيَقُولُ اكْتُبْ اكْتُبْ كَيْفَ شِئْتَ فَارْتَدَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَنْ الْإِسْلَامِ فَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ وَقَالَ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِمُحَمَّدٍ إِنْ كُنْتُ لَأَكْتُبُ مَا شِئْتُ فَمَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْأَرْضَ لَمْ تَقْبَلْهُ و قَالَ أَنَسٌ فَحَدَّثَنِي أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهُ أَتَى الْأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا ذَلِكَ الرَّجُلُ فَوَجَدَهُ مَنْبُوذًا فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا شَأْنُ هَذَا الرَّجُلِ قَالُوا قَدْ دَفَنَّاهُ مِرَارًا فَلَمْ تَقْبَلْهُ الْأَرْضُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَكْتُبُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ يُعَدُّ فِينَا عَظِيمًا فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، وہ آدمی جب بھی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کرتا تو ہم میں بہت آگے بڑھ جاتا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے " غفوراً الرحیما " لکھواتے اور وہ اس کی جگہ " علیما حکیما " لکھ دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اس اس طرح لکھو، لیکن وہ کہتا کہ میں جیسے چاہوں لکھوں ، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے " علیما حکیما " لکھواتے تو وہ اس کی جگہ " سمیعا بصیرا " لکھ دیتا، اور کہتا کہ میں جیسے چاہوں لکھوں ، کچھ عرصے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا کر مل گیا، اور کہنے لگا کہ میں تم سب میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بڑا عالم ہوں ، میں ان کے پاس جو چاہتا تھا لکھ دیتا تھا، جب وہ آدمی مرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین اسے قبول نہیں کرے گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ اس جگہ پر گئے تھے جہاں وہ آدمی مرا تھا، انہوں نے اسے باہر پڑا ہوا پایا، لوگوں سے پوچھا کہ اس شخص کا ماجرا کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اسے کئی مرتبہ دفن کیا لیکن زمین اسے قبول نہیں کرتی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11770

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَلْحَةَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ يُنَادِي إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ قَالَ فَأُكْفِئَتْ الْقُدُورُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو یہ منادی کرنے کا حکم دیا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں ، کیونکہ ان کا گوشت ناپاک ہے، چنانچہ ہانڈیاں الٹا دی گئیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11771

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَقِيعِ فَنَادَى رَجُلٌ رَجُلًا يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الرَّجُلُ لَمْ أَعْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا عَنَيْتُ فُلَانًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ تَسَمَّوْا بِاسْمِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابو القاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11772

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ أَخَّرَ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يُقِيمَ فَصَلَّى ثُمَّ دَعَا الرَّجُلَ فَقَالَ مَا بَيْنَ هَذَا وَهَذَا وَقْتٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازِ فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کر دی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی، اور فرمایا نمازِ فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان نمازِ فجر کا وقت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11773

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْبَدَ بَعْدَ الْيَوْمِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ غزوہ حنین کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11774

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَأَتَاهُ آتٍ فَأَخَذَهُ فَشَقَّ صَدْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَرَمَى بِهَا وَقَالَ هَذِهِ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَشْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ فَأَقْبَلَ الصِّبْيَانُ إِلَى ظِئْرِهِ قُتِلَ مُحَمَّدٌ قُتِلَ مُحَمَّدٌ فَاسْتَقْبَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ انْتَقَعَ لَوْنُهُ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ كُنَّا نَرَى أَثَرَ الْمَخِيطِ فِي صَدْرِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اچانک ایک شخص آیا اور اس نے مجھے پکڑ کر میرا پیٹ چاک کیا، اور اس میں سے خون کا جما ہوا ایک ٹکڑا نکالا اور اسے پھینک کر کہنے لگا کہ یہ آپ کے جسم میں شیطان کا حصہ تھا، پھر اس نے سونے کی طشتری میں رکھے ہوئے آب زم زم سے پیٹ کو دھویا اور پھر اسے سی کر ٹانکے لگا دیے ، یہ دیکھ کر سب بچے دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) قتل ہوگئے، والدہ دوڑتی ہوئی آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو رہا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشان دیکھا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11775

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ امْرَأَةٍ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَأَتْ ذَلِكَ مِنْكُنَّ فَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَوَ يَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ فَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَهَهُ الْوَلَدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت بھی اسی طرح " خواب دیکھے " جسے مرد دیکھتا ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت ایسا " خواب دیکھے " اور اسے انزال ہو جائے تو اسے غسل کرنا چاہئے ، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا ہوتا ہے، دونوں میں سے جو غالب آجائے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11776

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ مُحَمَّدٌ وَكَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَأَعْظَمِهِمْ وَأَطْوَلِهِمْ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لِي مَنْ أَنْتَ قُلْتُ أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ إِنَّكَ بِسَعْدٍ أَشْبَهُ ثُمَّ بَكَى وَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ فَقَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى سَعْدٍ كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ ثُمَّ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرَ دُومَةَ فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةٍ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٍ فِيهِ الذَّهَبُ فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَوْ جَلَسَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ ثُمَّ نَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَ الْجُبَّةَ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا قَالُوا مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ

واقد بن عمرو بن سعد رحمۃ اللہ علیہ (جو بڑے خوبصورت اور ڈیل ڈول والے آدمی تھے) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے گھر گیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ میں نے بتایا کہ میرا نام واقد ہے اور میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پوتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ تم سعد کے بہت ہی مشابہہ ہو، پھر ان پر گریہ طاری ہوگیا اور وہ کافی دیر تک روتے رہے، پھر کہنے لگے کہ سعد پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں وہ لوگوں میں بڑے عظیم اور طویل القامت تھے۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اکید رومہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ " جس پر سونے کا کام کیا ہوا تھا " بھجوایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن کر منبر پر تشریف لے گئے، کھڑے رہے یا بیٹھ گئے، لیکن کوئی بات نہیں کہی، تھوڑی دیر بعد نیچے اترے تو لوگ اس جبے کو ہاتھ لگاتے اور دیکھتے جاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہم نے قبل ازیں اس سے بہتر لباس نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو دیکھ رہے ہو جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے صرف رومال ہی اس سے بہت بہتر ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11777

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَهْدَى الْأُكَيْدِرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرَّةً مِنْ مَنٍّ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ مَرَّ عَلَى الْقَوْمِ فَجَعَلَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ قِطْعَةً فَأَعْطَى جَابِرًا قِطْعَةً ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَعْطَاهُ قِطْعَةً أُخْرَى فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَرَّةً قَالَ هَذَا لِبَنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکید رومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں " من " کا ایک مٹکا بھجوایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر ایک جماعت پر سے گذرتے ہوئے ان میں سے ہر آدمی کو ایک ایک حصہ دینا شروع کر دیا، ان میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک حصہ دے دیا، پھر ان کے پاس کچھ دیر بعد واپس آکر ایک اور حصہ دیا، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ تو آپ مجھے دے چکے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عبداللہ کی بچیوں (تمہاری بہنوں) کا حصہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11778

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ ثَمَانٍ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَغَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے،غم، پریشانی، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضہ کا غلبہ اور دشمن کا غلبہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11779

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا قَالَ الْمُسْلِمُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَنِيئًا لَكَ مَا أَعْطَاكَ اللَّهُ فَمَا لَنَا فَنَزَلَتْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر ویتم نعمتہ علیک ویھدیک صراطا مستقیما " مسلمانوں نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ویکفر عنھم سیئاتھم وکان ذلک عند اللہ فوزا عظیما "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11780

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ هَبَطَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فِي السِّلَاحِ مِنْ قِبَلِ جَبَلِ التَّنْعِيمِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَأُخِذُوا وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ قَالَ يَعْنِي جَبَلَ التَّنْعِيمِ مِنْ مَكَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن جبل تنعیم کی جانب سے اسلحہ سے لیس اَسی اہل مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف بڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بددعاء فرمائی اور انہیں پکڑ لیا گیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی " وھو الذی کف ایدیھم عنکم" اور اس میں بطن مکہ سے مراد جبل تنعیم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11781

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ نَزَلَ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ يَقُولُهُ وَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ قرآن کی آیت تھی یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11782

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ نِعَالُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا قِبَالَانِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11783

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ فَرَأَيْتُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَمِيصًا مِنْ حَرِيرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی، چنانچہ میں نے ان میں سے ہر ایک کو ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11784

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11785

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11786

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي مَاشِيًا أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا بندہ بالشت برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوتا جاتا ہوں ، اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11787

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ وَأَبُو بَكْرٍ رَدِيفُهُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُعْرَفُ فِي الطَّرِيقِ لِاخْتِلَافِهِ إِلَى الشَّامِ وَكَانَ يَمُرُّ بِالْقَوْمِ فَيَقُولُونَ مَنْ هَذَا بَيْنَ يَدَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ هَادٍ يَهْدِينِي فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ وَأَصْحَابِهِ فَخَرَجُوا إِلَيْهِمَا فَقَالُوا ادْخُلَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَدَخَلَا قَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَنْوَرَ وَلَا أَحْسَنَ مِنْ يَوْمِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الْمَدِينَةَ وَشَهِدْتُ وَفَاتَهُ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَظْلَمَ وَلَا أَقْبَحَ مِنْ الْيَوْمِ الَّذِي تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر آگے بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پیچھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو راستوں کا علم تھا کیونکہ وہ شام آتے جاتے رہتے تھے، جب بھی کسی جماعت پر ان کا گذر ہوتا اور وہ لوگ پوچھتے کہ ابوبکر! یہ آپ کے آگے کون بیٹھے ہوئے ہیں ؟ تو وہ فرماتے کہ یہ رہبر ہیں جو میری رہنمائی کر ر ہے ہیں ، مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر انہوں نے مسلمان ہونے والے انصاری صحابہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے پاس پیغام بھیجا، وہ لوگ ان دونوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ دونوں امن و امان کے ساتھ مدینہ میں داخل ہو جائیے ، آپ کی اطاعت کی جائے گی، چنانچہ وہ دونوں مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11788

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ فَأَخَذَهُ قَوْمٌ فَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ فَقَالَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكٌ أَنَا آخُذُ بِحَقِّهِ فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ هَامَ الْمُشْرِكِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تلوار پکڑی اور فرمایا یہ تلوار کون لے گا؟ کچھ لوگ اسے لے کر دیکھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا حق ادا کرنے کے لئے اسے کون لے گا؟ یہ سن کر لوگ پیچھے ہٹ گئے، حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ " جن کا نام سماک تھا " کہنے لگے کہ میں اس کا حق ادا کرنے کے لئے لیتا ہوں ، چنانچہ انہوں نے اسے تھام لیا اور مشرکین کی کھوپڑیاں اڑانے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11789

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ رَجُلًا فَلَهُ سَلَبُهُ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ عِشْرِينَ رَجُلًا فَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کا ساز وسامان حاصل کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11790

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ وَبَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ الْمَعْنَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُعْطَى عَلَيْهَا فِي الدُّنْيَا وَيُثَابُ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعْطِيهِ حَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کسی مسلمان کی نیکی ضائع نہیں کرتا، دنیا میں بھی اس پر عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ثواب دیتا ہے، اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا وہاں اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11791

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَصَابِعَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى الْأَرْضِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ ثُمَّ رَفَعَهَا خَلْفَ ذَلِكَ قَلِيلًا وَقَالَ هَذَا أَجَلُهُ ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ أَمَامَهُ قَالَ وَثَمَّ أَمَلُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا کہ یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے فرمایا کہ اس کی امیدیں ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11792

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا جَعَلَ ظَاهِرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ وَبَاطِنَهُمَا مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دعاء کرتے تو ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ چہرہ کی جانب کر لیتے اور نچلا حصہ زمین کی طرف۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11793

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ صَفِيَّةَ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ فَجَعَلَهَا عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ حَتَّى تَهَيَّأَ وَتَعْتَدَّ فِيمَا يَعْلَمُ حَمَّادٌ فَقَالَ النَّاسُ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَسَرَّاهَا فَلَمَّا حَمَلَهَا سَتَرَهَا وَأَرْدَفَهَا خَلْفَهُ فَعَرَفَ النَّاسُ أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا فَلَمَّا دَنَا مِنْ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ النَّاسُ وَأَوْضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ فَعَثَرَتْ النَّاقَةُ فَخَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَّتْ مَعَهُ وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرْنَ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ وَفَعَلَ بِهَا وَفَعَلَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَهَا وَأَرْدَفَهَا خَلْفَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي قَسْمِهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں ، کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دحیہ کے حصے میں ایک نہایت خوبصورت باندی آئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات افراد کے عوض انہیں خرید لیا، اور خرید کر انہیں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں ، اس دوران لوگ یہ سوچنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح فرمائیں گے یا انہیں باندی بنائیں گے؟ لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا تو لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرما لیا ہے۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گر گئے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی گر گئیں ، دیگر ازواج مطہرات دیکھ رہی تھیں وہ کہنے لگی کہ اللہ اس یہودیہ کو دور کرے اور اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11794

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَخِرَبٌ وَقُبُورٌ مِنْ قُبُورِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَامِنُونِي فَقَالُوا لَا نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَبِالْحَرْثِ فَأُفْسِدَ وَبِالْقُبُورِ فَنُبِشَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ در اصل بنو نجار کی تھی، ایک درخت، کھیت اور مشرکین کی چند قبریں ہوا کرتی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے فرمایا کہ میرے ساتھ اس کی قیمت طے کر لو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر درختوں کو کاٹ دیا گیا، کھیت اجاڑ دیا گیا، اور قبروں کو اکھاڑ دیا گیا، اور مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11795

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهُ يَدْعُوهُ فَقَالَ وَهَذِهِ لِعَائِشَةَ فَقَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پڑوسی فارس کا رہنے والا تھا، وہ سالن بڑا اچھا پکاتا تھا، ایک دن اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا پکایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینے کے لئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی میرے ساتھ ہوں گی، اس نے انکار کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا، اور وہ چلا گیا، پھر تین مرتبہ اسی طرح چکر لگائے بالآخر اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی ساتھ لانے کے لئے ہامی بھر لی، چنانچہ وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے اس کے گھر چلے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11796

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا فَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، انشاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہو سکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11797

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں ، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11798

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرکین کے ساتھ اپنی جان، مال اور زبان کے ذریعے جہاد کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11799

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ وَقَالَ مَرَّةً أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَهُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَآكَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ قَالَ إِنَّهُ لَمُنَافِقٌ أَيَعْجَلُ عَنْ الصَّلَاةِ مِنْ أَجْلِ سَقْيِ نَخْلِهِ قَالَ فَجَاءَ حَرَامٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ عِنْدَهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَسْقِيَ نَخْلًا لِي فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِأُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا طَوَّلَ تَجَوَّزْتُ فِي صَلَاتِي وَلَحِقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ لَا تُطَوِّلْ بِهِمْ اقْرَأْ بِسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت فرماتے تھے، ایک مرتبہ وہ نماز پڑھا رہے تھے کہ حضرت حرام رضی اللہ عنہ " جو اپنے باغ کو پانی لگانے جا رہے تھے" نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوئے، جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ تو نماز لمبی کر رہے ہیں تو وہ اپنی نماز مختصر کر کے اپنے باغ کو پانی لگانے چلے گئے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے منہ سے نکل گیا کہ وہ منافق ہے، اپنے باغ کو سیراب کرنے کے لئے نماز سے جلدی کرتا ہے۔ اتفاق سے حضرت حرام رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو وہاں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، حضرت حرام رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی! میں اپنے باغ کو پانی لگانے کے لئے جا رہا تھا، باجماعت نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوا، جب انہوں نے نماز لمبی کر دی تو میں مختصر نماز پڑھ کر اپنے باغ کو پانی لگانے چلا گیا، اب ان کا خیال یہ ہے کہ میں منافق ہوں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر دو مرتبہ فرمایا کیا تم لوگوں کو امتحان ڈالتے ہو؟ انہیں لمبی نماز نہ پڑھایا کرو، سورت اعلیٰ اور سورت شمس وغیرہ سورتیں پڑھ لیا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11800

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ وَاصَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ الشَّهْرِ وَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا، کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11801

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ قَالَ يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ وَمِنْ شَرِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی سفر یا غزوہ میں ہوتے اور رات کا وقت آجاتا تو یہ دعاء فرماتے کہ اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیرے شر سے، تجھ میں موجود شر، تیرے اندر پیدا کی گئی چیزوں کے شر اور تجھ پر چلنے والوں کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ، میں ہر شیر اور کالی چیز سے، سانپ اور بچھو سے، اہلیان شہر کے شر سے اور والد اور اولاد کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11802

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَمَّرَ مِائَةَ سَنَةٍ غَيْرَ سَنَةٍ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عمر ایک کم سو سال تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11803

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَخَذَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِيَدِي مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَتْ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنِي وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ قَالَ فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ قَطُّ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا میرا ہاتھ پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے اور لکھنا جانتا ہے، چنانچہ میں نے نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کر لیا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11804

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ حَارِثَةَ خَرَجَ نَظَّارًا فَأَتَاهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ فَقَالَتْ أُمُّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنِّي فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَإِلَّا رَأَيْتَ مَا أَصْنَعُ قَالَ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ لَفِي أَفْضَلِهَا أَوْ قَالَ فِي أَعَلَى الْفِرْدَوْسِ شَكَّ يَزِيدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کر لوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11805

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ فَخَلَقَ الْجِبَالَ فَأَلْقَاهَا عَلَيْهَا فَاسْتَقَرَّتْ فَتَعَجَّبَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ خَلْقِ الْجِبَالِ فَقَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الْجِبَالِ قَالَ نَعَمْ الْحَدِيدُ قَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الْحَدِيدِ قَالَ نَعَمْ النَّارُ قَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ النَّارِ قَالَ نَعَمْ الْمَاءُ قَالَتْ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الْمَاءِ قَالَ نَعَمْ الرِّيحُ قَالَتْ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الرِّيحِ قَالَ نَعَمْ ابْنُ آدَمَ يَتَصَدَّقُ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ڈانواں ڈول ہونے لگی، اللہ نے پہاڑوں کو پیدا کر کے اس پر رکھ دیا تو وہ اپنی جگہ ٹھہر گئی، ملائکہ کو پہاڑوں کی تخلیق پر تعجب ہوا اور وہ کہنے لگے کہ پروردگار! کیا آپ نے پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز پیدا کی ہے؟ اللہ نے فرمایا ہاں ! لوہا، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار! کیا لوہے سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز آپ نے پیدا کی ہے؟ فرمایا ہاں ! آگ، فرشتوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے آگ سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز پیدا کی ہے؟ فرمایا ہاں ! ہوا، فرشتوں نے پوچھا کہ پروردگار! کیا آپ نے ہوا سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز پیدا کی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ابن آدم، جو دائیں ہاتھ سے خرچ کرتا ہے تو بائیں ہاتھ کو پتہ بھی نہیں چلتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11806

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سَلَمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن جبل تنعیم کی جانب سے اسلحہ سے لیس اَسی اہل مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف بڑھنے لگے، وہ دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر حملہ کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں بڑی آسانی سے پکڑ لیا گیا تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی " وھوالذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیھم "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11807

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَيَقُولُ تَرَاصُّوا وَاعْتَدِلُوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کر لو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11808

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشَفَةً بَيْنَ يَدَيَّ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11809

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ اطَّلَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ خَلَلٍ فَسَدَّدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِشْقَصًا حَتَّى أَخَذَ رَأْسَهُ قَالَ يَحْيَى قُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ يَعْنِي حُمَيْدًا قَالَ أَنَسٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی اسے دے ماری ( تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا) ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11810

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ الْمَعْنَى قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ النَّارَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي حَتَّى إِذَا كَانُوا حُمَمًا أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ هَؤُلَاءِ فَيُقَالُ هُمْ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11811

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ يُكَبِّرُونَ إِذَا سَجَدُوا وَإِذَا رَفَعُوا قَالَ يَحْيَى أَوْ خَفَضُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11812

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ قَالَ قَالَ هَكَذَا يَعْنِي أَنَّهُ أَخْرَجَ طَرَفَ الْخِنْصَرِ قَالَ أَبِي أَبِي أَرَانَا مُعَاذٌ قَالَ فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ ضَرْبَةً شَدِيدَةً وَقَالَ مَنْ أَنْتَ يَا حُمَيْدُ وَمَا أَنْتَ يَا حُمَيْدُ يُحَدِّثُنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَقُولُ أَنْتَ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد ربانی " جب اس کے رب نے اپنی تجلی ظاہر فرمائی " کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ چھنگلیا کے ایک کنارے کے برابر تجلی ظاہر ہوئی۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمیں معاذ نے انگلی کی کیفیت دکھائی، تو حمید الطویل، ان سے کہنے لگے کہ اے ابو محمد! اس سے آپ کا کیا مقصد ہے؟ انہوں نے ان کے سینے پر زور سے ایک ہاتھ مارا اور کہنے لگے کہ حمید! تم کون ہو اور کیا ہو؟ مجھ سے یہ بات حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ اس سے آپ کا مقصد کیا ہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11813

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ أَنْ يَبْعَثَ مَعَهُمْ رَجُلًا يُعَلِّمُهُمْ فَبَعَثَ مَعَهُمْ أَبَا عُبَيْدَةَ وَقَالَ هُوَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں ، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11814

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ فَقَالَ يَا فُلَانَةُ يُعْلِمُهُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَظُنُّ بِي قَالَ فَقَالَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكَ الشَّيْطَانُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی کوئی زوجہ محترمہ تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کا نام لے کر پکارا تاکہ وہ آدمی سمجھ لے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے ایسا سمجھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بات سے اندیشہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دماغ میں نہ گھس جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11815

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر میں نہیں آتے تھے بلکہ صبح یا دوپہر کو تشریف لاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11816

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعْطَى بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا فَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کسی مسلمان کی نیکی ضائع نہیں کرتا، دنیا میں بھی اس پر عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ثواب دیتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو وہاں اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11817

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ شَعْرُهُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11818

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَوْ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ضَخْمَ الْقَدَمَيْنِ ضَخْمَ الْكَفَّيْنِ حَسَنَ الْوَجْهِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں اور ہتھیلیاں بھرئی ہوئی اور چہرہ حسین و جمیل تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11819

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَتَهُ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ وَيَقْبِضُ الْقَبْضَةَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ جَلَسَ فَأَكَلَ بَقِيَّتَهُ أَكْلَ رَجُلٍ يُعْلَمُ أَنَّهُ يَشْتَهِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک تھالی میں کھجوریں رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک مٹھی بھر کر اپنی زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں ، پھر ایک مٹھی بھر کر دوسری زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں ، پھر جو باقی بچ گئیں وہ بیٹھ کر اس طرح تناول فرمالیں جیسے وہ آدمی کھاتا ہے جسے کھانے کی خواہش ہو اور وہ اس کے کھانے سے معلوم ہو رہی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11820

حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُرَجَّي بْنُ رَجَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ يَأْكُلُهُنَّ إِفْرَادًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف اس وقت تک نہیں نکلتے تھے جب تک ایک ایک کر کے چند کھجوریں نہ کھالیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11821

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فِي رَمَضَانَ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ أَفْطَرُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہِ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی روزہ ختم کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11822

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کر کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا) اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11823

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَيُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنْ النَّارِ فَقَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ قَتَادَةُ فَذَكَرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خُضْرًا إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ فَيُقَالُ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فَيُقَالُ لَهُ لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيحُ صَيْحَةً فَيَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَضِيقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان کو دفن کر کے اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں ، تو ایک فرشتہ " جس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے " آکر اسے بٹھا دیتا ہے اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ اگر وہ مؤمن ہو تو کہہ دیتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، یہ سن کر فرشتہ کہتا ہے کہ تم نے سچ کہا، پھر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے، یہ کہہ کر اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ اٹھ کر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو فرشتہ اسے سکون سے رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے۔ اور اگر وہ کافر یا منافق ہو تو فرشتہ جب اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں ، البتہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا ضرور تھا، فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ جانا، نہ تلاوت کی اور نہ ہدایت پائی، پھر اسے جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ اگر تم اپنے رب پر ایمان لائے ہوتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم نے اس کے ساتھ کفر کیا، اس لئے اللہ نے تمہارا ٹھکانہ یہاں سے بدل دیا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ فرشتہ اپنے گرز سے اس پر اتنی زور سے ضرب لگاتا ہے جس کی آواز جن و انس کے علاوہ اللہ کی ساری مخلوق سنتی ہے، بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی قبر اتنی تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11824

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنْ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11825

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا إِلَّا الشَّهِيدُ فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11826

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا فَحَّاشًا كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں دینے والے، لعنت ملامت کرنے والے یا بے ہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے، عتاب کے وقت بھی صرف ات نافرماتے تھے کہ اسے کیا ہوگیا، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11827

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ نَعَمْ أَنَا قَالَ فَانْزِلْ قَالَ فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے جنازے میں شریک تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کو جھلملاتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو رات کو اپنی بیوی کے قریب نہ گیا ہو؟ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں ! میں ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبر میں تم اترو، چنانچہ وہ قبر میں اترے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11828

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالُوا مَا رَأَيْتَ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَحَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ إِذَا كَانَ إِمَامَهُمْ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَأَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنْ الصَّلَاةِ وَقَالَ لَهُمْ إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي وَسَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ الْمَرِيضِ فَقَالَ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ قَاعِدًا فِي الْمَكْتُوبَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں آگے بڑھنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی، اور اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں ، اگر وہ تم نے دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی ترغیب دی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11829

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ مَاهَانَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى نَاقَتِهِ تَطَوُّعًا فِي السَّفَرِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر دوران سفر قبلہ کی تعیین کے بغیر بھی نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11830

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ شُمَيْطٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ الْحَنَفِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک صورت میں حلال ہے، وہ آدمی جو مرنے کے قریب ہو، وہ قرض جو ہلا دینے والا ہو اور وہ فقر وفاقہ جو خاک نشین کر دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11831

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنْ النَّاسِ فَقِيلَ مَنْ أَهْلُ اللَّهِ مِنْهُمْ قَالَ أَهْلُ الْقُرْآنِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہوتے ہیں؟ فرمایا قرآن والے، اللہ کے خاص لوگ اور اہل اللہ ہوتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11832

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا

ابراہیم بن ابی ربیعہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اس وقت ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر پاس ہی پڑی ہوئی تھی، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11833

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ حَدَّثَنَا زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَعِدَ أَكَمَةً أَوْ نَشَزًا قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الشَّرَفُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ وَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى كُلِّ حَمْدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے تو یوں کہتے کہ اے اللہ! ہر بلندی پر تیری بلندی ہے اور ہر تعریف پر تیری تعریف ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11834

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْعَيْنِ وَالْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد، ڈنک اور نملہ (جس کی بیماری میں پسلی دانوں سے بھر جاتی ہے) کے لئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11835

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدًّا يَمُدُّ بِهَا مَدًّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11836

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلَّمُ فِي الْحَاجَةِ بَعْدَمَا يَنْزِلُ عَنْ الْمِنْبَرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر سے نیچے اتر رہے ہوتے تھے اور کوئی آدمی اپنے کسی کام کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرنا چاہتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بات کر لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11837

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَأَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11838

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي نَصْرٍ أَوْ خَيْثَمَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11839

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن حَنْبَلٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک گز کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہے، اور جو ایک گز کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہے، اور جو اللہ کے پاس چل کر آتا ہے، اللہ اس کے پاس دوڑ کر آتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11840

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رُخِّصَ أَوْ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11841

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ قَالَ فَيَقُولُ نَعَمْ قَالَ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک جہنمی سے کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا تو وہ سب کچھ اپنے فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، میں آدمی کی پشت پر تجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گا لیکن تو شرک کئے بغیر نہ مانا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11842

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت رکھ دی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11843

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ الْمَدَنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ الْغَدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهُمَا فِي الدُّنْيَا ثُمَّ أُعْطِيتَهُمَا فِي الْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تین مرتبہ آیا اور تین مرتبہ یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی دعاء سب سے افضل ہے؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا کہ اپنے رب سے دنیا میں درگذر اور عافیت کا سوال کیا کرو، اور آخری مرتبہ فرمایا کہ اگر تمہیں دنیا و آخرت میں یہ دونوں چیزیں مل جائیں تو تم کامیاب ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11844

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَهْلِينَ مِنْ النَّاسِ قَالَ قِيلَ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَهْلُ الْقُرْآنِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہوتے ہیں ؟ فرمایا قرآن والے، اللہ کے خاص لوگ اور اہل اللہ ہوتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11845

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُبِّبَ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں سے میرے نزدیک عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11846

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَارِئُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبِّبَ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں سے میرے نزدیک عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11847

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا وَكَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے، خود حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی تین سانس لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11848

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسًا وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ فَقَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا بِعَيْنِهِ وَلَا أَكَلَ شَاةً سَمِيطًا قَطُّ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، ان کے یہاں نانبائی مقرر تھا، ایک دن وہ ہم سے فرمانے لگے کھاؤ، البتہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھوں سے باریک روٹی کو دیکھا بھی ہو، یا کبھی سالم بھنی ہوئی بکری کھائی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11849

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي الْمَوَالِي عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَلَحِّفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْنَا لَهُ تُصَلِّي وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوعٌ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي

ابراہیم بن ابی ربیعہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اس وقت ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر پاس ہی پڑی ہوئی تھی، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11850

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا إِلَى خَرِبَةٍ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَتَنَاوَلَ لَبِنَةً لِيَسْتَطِيبَ بِهَا فَانْهَارَتْ عَلَيْهِ تِبْرًا فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ قَالَ زِنْهَا فَوَزَنَهَا فَإِذَا مِائَتَا دِرْهَمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا رِكَازٌ وَفِيهِ الْخُمْسُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے، ہمارا ایک ساتھی وہاں ایک ویرانے میں قضاء حاجت کے لئے گیا، اس نے استنجاء کرنے کے لئے ایک اینٹ اٹھائی تو وہاں سے چاندی کا ایک ٹکڑا گرا، اس نے وہ اٹھالیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا اور سارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے تو لو، اس نے وزن کیا تو وہ دو سو درہم کے برابر بنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رکاز ہے اور اس میں پانچواں حصہ واجب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11851

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيُّ أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالشَّجَرَةِ سَجْدَتَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز زوال کے وقت ہی پڑھ لیا کرتے تھے اور جب مکہ مکرمہ کے لئے نکلتے تو ظہر کی دو رکعتیں ایک درخت کے نیچے پڑھ لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11852

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَا أَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى حَمْزَةَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَرَآهُ قَدْ مُثِّلَ بِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ تَأْكُلَهُ الْعَاهَةُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا ثُمَّ قَالَ دَعَا بِنَمِرَةٍ فَكَفَّنَهُ فِيهَا قَالَ وَكَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ بَدَتْ قَدَمَاهُ وَإِذَا مُدَّتْ عَلَى قَدَمَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ قَالَ وَكَثُرَ الْقَتْلَى وَقَلَّتْ الثِّيَابُ قَالَ وَكَانَ يُكَفَّنُ أَوْ يُكَفِّنُ الرَّجُلَيْنِ شَكَّ صَفْوَانُ وَالثَّلَاثَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْ أَكْثَرِهِمْ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ قَالَ فَدَفَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش مبارک کے پاس آکر کھڑے ہوگئے، دیکھا تو ان کی لاش کا مشرکین نے مثلہ کر دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر صفیہ اپنے دل میں بوجھ نہ بناتیں تو میں انہیں یونہی چھوڑ دیتا تاکہ پرندے ان کا گوشت کھالیتے اور قیامت کے دن یہ پرندوں کے پیٹوں سے نکلتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر منگوا کر اس میں انہیں کفنایا، جب اس چادر کو سر پر ڈالا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں پر ڈالا جاتا تو سر کھل جاتا۔ غزوہ احد کے موقع پر شہداء کی تعداد زیادہ اور کفن کم پڑگئے تھے، جس کی وجہ سے ایک ایک کفن میں دو دو تین تین آدمیوں کو لپٹ دیا جاتا تھا، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ پوچھتے جاتے تھے کہ ان میں سے قرآن کسے زیادہ آتا تھا؟ پھر پہلے اس ہی کو قبلہ رخ فرماتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ان سب کو دفنا دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11853

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَيْتُ إِلَى السِّدْرَةِ فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ الْجِرَارِ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَهَا تَحَوَّلَتْ يَاقُوتًا أَوْ زُمُرُّدًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سدرۃ المنتہیٰ پہنچا تو دیکھا کہ اس کے پھل مٹکے برابر اور پتے ہاتھی کے کان برابر ہیں ، جب اسے اللہ کے حکم سے اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا تو وہ یاقوت اور زمرد میں تبدیل ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11854

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ عَمَّةَ أَنَسٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا إِلَى الْقَوْمِ الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْقِصَاصُ قَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكْسِرُ ثَنِيَّةَ فُلَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ قَالَ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلَانَةَ قَالَ فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا وَتَرَكُوا الْقِصَاصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ أَبَرَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر ان کے اہل خانہ نے لڑکی والوں سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، انس بن نضر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا فلاں (میری بہن) کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا انس! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہی کا ہے، وہ کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، فلاں عورت کا دانت نہیں توڑا جائے گا، اسی اثناء میں وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کر دیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھالیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11855

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَارُودٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي طَعَامًا فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي وَتُصَلِّيَ فِيهِ قَالَ فَأَتَى وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ قَالَ فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ایک چچا نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور اس میں نماز پڑھیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہاں گھر میں ایک چٹائی پڑی ہوئی تھی جو پرانی ہو کر کالی ہوچکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک کونے میں رکھنے کا حکم دیا، اسے جھاڑا گیا اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی اور ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11856

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ قَالَ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَكَ قَالَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَقَالَ أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ قَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ أَوْ قَالَ قَتَلْتُمُوهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مارمار کر ٹھنڈا کردیا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11857

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَفَّانُ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری عورت (اپنے بچے کے ساتھ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تخلیہ میں فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو، یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11858

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ إِنَّكُمْ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے متعلق فرمایا تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11859

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَهْلِ أَبِي الْأَسَدِ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ قَالَ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ وَنَحْنُ فِيهِ فَقَالَ الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقًّا مِثْلَ ذَلِكَ مَا إِنْ اسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا وَإِنْ عَاهَدُوا وَفَوْا وَإِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

بکیر بن وہب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں ہر ایک سے بیان نہیں کرتا، اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے، ہم اس کے اندر تھے اور فرمایا امراء قریش میں سے ہوں گے، اور ان کا تم پر حق بنتا ہے، اور ان پر تمہارا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جب ان سے لوگ رحم کی درخواست کریں تو رحم کا معاملہ کریں ، وعدہ کریں تو پورا کریں ، فیصلہ کریں تو انصاف کریں ، جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11860

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ يَنْفَعُكَ بِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ قَالَ وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَمْزَةُ الضَّبِّيُّ قَالَ لَقِيتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِفَمِ النِّيلِ وَمَشَى وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ

حمزہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کیا میں تم سے ایک حدیث بیان کروں کہ اللہ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے اور وہ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی منزل پر پڑاؤ کرتے تو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے وہاں سے کوچ نہیں کرتے تھے، محمد بن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! اگرچہ نصف النہار کے وقت میں ہو؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگرچہ نصف النہار کے وقت ہی ہو۔ حمزہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دریائے نیل کے کنارے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی، میرے اور ان کے درمیان محمد بن عمرو تھے، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11861

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ قَالَ كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ وَسَأَلْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا وَلَمْ يَقُلْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوفزارہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ان کی طرف سبقت کیا کرتے تھے، اس کے بعد دوبارہ پوچھا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت کا تذکرہ نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11862

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ وَالصُّبْحَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ

ابوصدقہ " کو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز زوال کے بعد پڑھتے تھے، عصر ان دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب غروب آفتاب کے وقت پڑھتے تھے اور نماز عشاء شفق غائب ہوجانے کے بعد پڑھتے تھے اور نماز فجر اس وقت پڑھتے تھے جب طلوع فجر ہوجائے یہاں تک کہ نگاہیں کھل جائیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11863

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک جہنمی سے " جسے سب سے ہلکا عذاب ہوگا " کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا میں نے آدم کی پشت میں تجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے لیکن تو شرک کیے بغیر نہ مانا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11864

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ قَالَ كُنْتُ أَخْرُجُ إِلَى الْكُوفَةِ فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَرْجِعَ وَقَالَ أَنَسٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ شُعْبَةُ الشَّاكُّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ

یحییٰ بن یزید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا جب میں کوفہ کی طرف نکلتا تھا تو واپسی تک دو رکعتیں ہی پڑھتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11865

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11866

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ هُوَ وَامْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11867

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے اور نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11868

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہی ہوتا ہے (اس کے بعد تو سب ہی کو صبر آجاتا ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11869

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ قَدْ دُفِنَتْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جو دفن ہوچکی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11870

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے، اور جو ایک گز کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے، اور جو اللہ کے پاس چل کر آتا ہے، اللہ اس کے پاس دوڑ کر آتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11871

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنْ الَّذِينَ كَفَرُوا قَالَ وَسَمَّانِي لَكَ قَالَ نَعَمْ فَبَكَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ " الم یکن الذین کفروا " والی سورت تمہیں پڑھ کر سناؤں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11872

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي وَرُبَّمَا قَالَ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع وسجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں بخدا تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11873

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ قَالَ شُعْبَةُ وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قِصَصِهِ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَلَا أَدْرِي ذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَمْ قَالَهُ قَتَادَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں ، (یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11874

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قِيلَ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11875

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ لَهُ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11876

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يُونُسَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا أَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر یا چھوٹی پیالیوں میں کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے باریک روٹی پکائی گئی، راوی نے پوچھا کہ پھر وہ کس چیز پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ دستر خوانوں پر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11877

حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتِّينَ سَنَةً لَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ساٹھ سال کی عمر میں ہوا ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11878

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَثَلَ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کی مثال بارش کی سی ہے کہ کچھ معلوم نہیں اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11879

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَنِّينِي بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرش کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11880

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ فَلَوْ أَتَيْتَ مَنْزِلِي فَصَلَّيْتَ فَأَقْتَدِيَ بِكَ فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا ثُمَّ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِيرٍ لَهُمْ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لِأَنَسٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بڑابھاری بھر کم تھا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے بار بار نہیں آسکتا تھا ، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں باربار آپ کے ساتھ آکر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا ، اگر آپ کسی دن میرے گھر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تو میں وہییں پر نماز پڑھ لیا کروں گا ، چنانچہ اس ایک مرتبہ دعوت کا اہتمام کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا یا ، اور ایک چٹائی کے کونے پر پانی چھڑک دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دو رکعتیں پڑھ دیں ، آل جارود میں سے ایک آدمی نے یہ سن کر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز صرف اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا تھا ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11881

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ قَالَ حَجَّاجٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11882

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ جَارَنَا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ اعْلَمْ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا یاد رکھو! لا الہ الا اللہ ' کی گواہی دیتا ہوا فوت ہوجائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11883

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَهَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَالَ أَبُو التَّيَّاحِ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آسانیاں پیدا کیا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو، سکون دلایا کرو، نفرت نہ پھیلایا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11884

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَبَسَطَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں ، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کر طر ف اشارہ فرمایا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11885

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ وَحَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11886

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنْ الْكَبَائِرِ فَقَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ قَالَ شُعْبَةُ أَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ یہ ہیں ، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرانا ، ناحق قتل کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، اور فرمایا کہ کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ نہ بتاؤں ؟ وہ ہے جھوٹی بات یا جھوٹی گواہی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11887

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ

سیار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنانی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ چلاجارہا تھا ، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پڑ ہوا انہوں نے انہیں سلام کیا اور بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلا جارہا تھا ، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پر ہوا ، انہوں نے نے انہیں سلام کیا ، اور بتایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا ، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پر ہوا ، انہوں نے انہیں سلام کیا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11888

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا قَالَ فَقُلْنَا لِأَنَسٍ فَالطَّعَامُ قَالَ ذَلِكَ أَشَدُّ أَوْ أَنْتَنُ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ أَوْ أَخْبَثُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ، ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کھانے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تو اور بھی سخت ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11889

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَفَعْنَا إِلَى السَّوَارِي فَتَقَدَّمْنَا أَوْ تَأَخَّرْنَا فَقَالَ أَنَسٌ كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک مرتبہ جمعہ کی نماز پڑھی ، ہمیں ستونوں کی طرف جگہ ملی جس کی بناء پر ہم آگے پیچھے ہوگئے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں اس سے بچا کرتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11890

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا فَلَأُصَلِّ لَكُمْ قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی دادی حضرت ملیکہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمانے کے بعد فرمایا اٹھو، میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر ایک چٹائی لے آیا جو طویل عرصہ استعمال ہونے کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی ، میں نے اس پر پانی چھڑک دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوگئے ، میں اور ایک یتیم بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور بڑی بی ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور واپس تشریف لے گئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11891

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11892

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ سَلْ وَتَمَنَّهْ فَيَقُولُ مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم ! تو نے اپنا ٹھکا نہ کیسا پایا ؟ وہ جواب دے گا پرودگار ! بہترین ٹھکا نہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں بیسوں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں ، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہوگا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11893

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَى التَّمْرَةَ فَلَوْلَا أَنَّهُ يَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لَأَكَلَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھا لیتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11894

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ مَرَّتَيْنِ عَلَى الْمَدِينَةِ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ مَعَهُ رَايَةٌ سَوْدَاءُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا جانشین دو مرتبہ بنایا تھا اور میں نے حضرت ابن مکتوم کو جنگ قادسیہ کے دن سیاہ رنگ کا جھنڈا تھامے ہوئے دیکھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11895

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا كَانَ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُوا مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی نگاہوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھا نہیں سمجھتے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11896

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ قُلْتُ وَأَنْتُمْ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے، راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بے وضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11897

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ شَكَوْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا نَلْقَى مِنْ الْحَجَّاجِ فَقَالَ اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ أَوْ يَوْمٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زبیر بن عدی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حجاج بن یوسف کے مظالم کی شکایت کی، انہوں نے فرمایا صبر کرو، کیونکہ ہر سال یا دن کے بعد آنے والا سال اور دن اس سے بدتر ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11898

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوا فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نمازِ عصر کا وقت قریب آگیا، لوگوں نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن پانی نہ ملا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا جو پانی لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور لوگوں کو اس پانی سے وضو کرنے کا حکم دے دیا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابل رہا ہے، اور لوگ اس سے وضو کرتے رہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11899

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ إِذَا رَفَعُوا وَإِذَا وَضَعُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11900

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11901

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَيَسْتَمِعُ فَإِذَا سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ قَالَ فَتَسَمَّعَ ذَاتَ يَوْمٍ قَالَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ خَرَجْتَ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دشمن پر طلوع فجر کے وقت حملے کی تیاری کر رہے تھے، اور کان لگا کر سنتے تھے، اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے، ایک دن اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطرتِ سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے اشھدان لا الہ الا اللہ کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11902

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ فَإِنْ كَانَ نَقْصًا فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی پھر اس کے بعد والی صفوں کو مکمل کیا کرو اور کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11903

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ أَبَانَ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَنَّهُ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ أَوْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا الاّ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جا رہے ہوں یا سفر سے واپس آرہے ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11904

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ فَقَالُوا مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا أَفَلَا نُجَامِعُهُنَّ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَعَرَفَا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ كَانَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ لَا يَمْدَحُ أَوْ يُثْنِي عَلَى شَيْءٍ مِنْ حَدِيثِهِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ جَوْدَتِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو ایام آتے تو وہ لوگ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے تھے اور نہ ایک گھر میں اکٹھے ہوتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ " یہ لوگ آپ سے ایام والی عورت کے متعلق سوال کرتے ہیں ، آپ فرما دیجئے کہ ایام بذات خود بیماری ہے، اس لئے ان ایام میں عورتوں سے الگ رہو اور پاک ہونے تک ان کی قربت نہ کرو " یہ آیت مکمل پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحبت کے علاوہ سب کچھ کر سکتے ہو، یہودیوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ یہ آدمی تو ہر بات میں ہماری مخالفت کر رہا ہے۔ پھر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہودی ایسے ایسے کہہ رہے ہیں ، کیا ہم اپنی بیویوں سے قربت بھی نہ کر لیا کریں ؟ (تاکہ یہودیوں کی مکمل مخالفت ہوجائے) یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ بدل گیا اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض ہوگئے ہیں ، وہ دونوں بھی وہاں سے چلے گئے، لیکن کچھ ہی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے دودھ کا ہدیہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلا بھیجا اور انہیں وہ پلا دیا، اس طرح وہ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض نہیں ہیں ۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حماد بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی احادیث میں سے کسی حدیث کی سند کی تعریف نہیں کرتے تھے لیکن اس حدیث کی سند کی عمدگی کی بناء پر اس کی بہت تعریف کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11905

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ عِمْرَانَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَأُكَيْدِرِ دُومَةَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ، قیصر اور دومۃ الجندل کے بادشاہ اکیدر کو الگ الگ خط لکھا جس میں انہیں اللہ کی طرف بلایا گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11906

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَنَسًا كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ قَالَ وَزَعَمَ أَنَسٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ

ثمامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ خوشبو رد نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11907

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَبُو عُبَيْدَةَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ابوعبیدہ اس امت کے امین ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11908

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ اگر زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11909

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ عَنْ يَمِينِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس گئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11910

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ وہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11911

قَالَ وَقَدْ رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ فَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس مدینہ منورہ میں گروی رکھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چند مہینوں کے لئے جو لئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11912

قَالَ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ يَقُولُ مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ بُرٍّ وَإِنَّ عِنْدَهُ تِسْعَ نِسْوَةٍ يَوْمَئِذٍ

اور میں نے ایک دن انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شام کو آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس غلے یا گندم کا ایک صاع بھی نہیں ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11913

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُصِيبَنَّ نَاسًا سَفْعٌ مِنْ النَّارِ عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا ثُمَّ يُدْخِلُهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ فَيُقَالُ لَهُمْ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کیے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا، (اہل جنت پوچھیں گے یہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں ) بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11914

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وأَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِثْلُ مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي مِثْلُ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَصَنْعَاءَ أَوْ مِثْلُ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعُمَانَ وَقَالَ أَزْهَرُ مِثْلُ وَقَالَ عُمَانَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا مدینہ اور صنعاء یا مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11915

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ مَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعَرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ حلاق آپ کے بال کاٹ رہا ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ارد گرد کھڑے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو بال بھی گرے وہ کسی آدمی کے ہاتھ پر ہی گرے۔ (زمین پر نہ گرے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11916

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قُلْتُ فَأَنْتُمْ كَيْفَ تَصْنَعُونَ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے، راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بے وضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11917

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ جَعْفَرٌ لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بارش ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکل کر اپنے کپڑے جسم کے اوپر والے حصے سے ہٹادیے تاکہ بارش کا پانی جسم تک بھی پہنچ سکے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا کہ یہ بارش اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11918

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ جِئْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تب بھی میں حسب سابق ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹا! پیچھے رہو (اجازت لے کر اندر آؤ)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11919

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ صُفْرَةً فَكَرِهَهَا قَالَ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ هَذِهِ الصُّفْرَةَ قَالَ وَكَانَ لَا يَكَادُ يُوَاجِهُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے چہرے پر پیلا رنگ لگا ہوا دیکھا تو اس پر ناگواری ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ اگر تم اس شخص کو یہ رنگ دھو دینے کا حکم دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ کسی کے سامنے اس طرح چہرہ لے کر نہ آتے تھے جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11920

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مَعَ الْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ مِنْ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11921

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے اور ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11922

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ مَرَّةً عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَمَرَّةً عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا كَانَ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ شَخْصًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَا يَقُومُ لَهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نگاہوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا، لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11923

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَبَائِرِ أَوْ ذَكَرَهَا قَالَ الشِّرْكُ وَالْعُقُوقُ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ یہ ہیں ، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ناحق قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، اور جھوٹی بات یا جھوٹی گواہی دینا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11924

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَبْدُ الصَّمَدِ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ مِرَارٍ عُمْرَتَهُ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَتَهُ فِي ذِي الْقَعْدَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ وَعُمْرَتَهُ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حج کیا تھا اور چار مرتبہ عمرہ، ایک عمرہ تو حدیبیہ کے زمانے میں ، دوسرا ذیقعدہ کے مہینے میں مدینہ سے، تیسرا عمرہ ذیقعدہ ہی کے مہینے میں جعرانہ سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11925

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا وَلَا شَاةً سَمِيطًا قَطُّ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، ان کے یہاں نانبائی مقرر تھا، ایک دن وہ ہم سے فرمانے لگے کھاؤ، البتہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھوں سے باریک روٹی کو دیکھا بھی ہو، یا کبھی سالم بھنی ہوئی بکری کھائی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11926

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهَا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصْحَابُهُ يُخَالِطُونَ الْحُزْنَ وَالْكَآبَةَ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَسَاكِنِهِمْ وَنَحَرُوا الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا إِلَى قَوْلِهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا قَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَتَانِ هُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا قَالَ فَلَمَّا تَلَاهُمَا قَالَ رَجُلٌ هَنِيئًا مَرِيئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَا يَفْعَلُ بِكَ فَمَا يَفْعَلُ بِنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةَ الَّتِي بَعْدَهَا لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی" انا فتحنا لک فتحا مبینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صراطا مستقیما " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فوزا عظیما "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11927

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قِصَصِهِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ النَّارِ بَعْدَ مَا يُصِيبُهُمْ سَفْعٌ مِنْ النَّارِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيِّينَ قَالَ وَكَانَ قَتَادَةُ يَتْبَعُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَلَكِنْ أَحَقُّ مَنْ صَدَّقْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ اخْتَارَهُمْ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ وَإِقَامَةِ دِينِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کیے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا، اہل جنت ان کا نام رکھ دیں گے کہ یہ جہنمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11928

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا فَاسْتُجِيبَ لَهُ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11929

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ قَالَ عَفَّانُ أَوْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحِبَرَةُ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس پسند تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ دھاری دار یمنی چادر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11930

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11931

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11932

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ بَهْزُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ قَالَ فَيُدَلِّي فِيهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ قَدَمَهُ قَالَ فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ بِعِزَّتِكَ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا آخَرَ فَيُسْكِنَهُ فِي فُضُولِ الْجَنَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہ کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار عالم اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم! بس بس اسی طرح جنت میں بھی جگہ زائد بچ جائے گی حتیٰ کہ اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کرکے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11933

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْإِسْلَامُ عَلَانِيَةٌ وَالْإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ قَالَ ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ التَّقْوَى هَاهُنَا التَّقْوَى هَاهُنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اسلام ظاہر کا نام ہے اور ایمان دل میں ہوتا ہے، پھر اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کر کے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11934

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ شَعْرُهُ رَجِلًا لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، نہ بہت زیادہ گھنگریالے اور نہ بہت زیادہ سیدھے، اور وہ کانوں اور کندھوں کے درمیان تک ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11935

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی خطبہ ایسا نہیں دیا جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11936

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عِتْبَانَ اشْتَكَى عَيْنَهُ فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا أَصَابَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَعَالَ صَلِّ فِي بَيْتِي حَتَّى أَتَّخِذَهُ مُصَلًّى قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مَا يَلْقَوْنَ مِنْ الْمُنَافِقِينَ فَأَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخَيْشَمٍ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ قَائِلٌ بَلَى وَمَا هُوَ مِنْ قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلَنْ تَطْعَمَهُ النَّارُ أَوْ قَالَ لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کی آنکھیں شکایت کرنے لگیں ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیج کر اپنی مصیبت کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لا کر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنالوں ، چنانچہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں باتیں کرنے لگے، اور منافقین کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے۔ اور اس میں سب سے زیادہ حصہ دار مالک بن دخیثم کو قرار دینے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ایک آدمی نے کہا کیوں نہیں ، لیکن یہ دل سے نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جہنم کی آگ اسے ہر گز نہیں کھا سکے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11937

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ فَرُبَّمَا قَالَ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا فَإِذَا رَأَى الرَّجُلُ رُؤْيَا سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ قَالَ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ بِهَا وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا قَدْ جِيءَ بِفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ وَفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ حَتَّى عَدَّتْ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا وَقَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ قَالَتْ فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ تَشْخُبُ أَوْدَاجُهُمْ قَالَ فَقِيلَ اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهْرِ الْبَيْدَخِ أَوْ قَالَ إِلَى نَهَرِ الْبَيْدَجِ قَالَ فَغُمِسُوا فِيهِ فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالَ ثُمَّ أَتَوْا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ فَقَعَدُوا عَلَيْهَا وَأُتِيَ بِصَحْفَةٍ أَوْ كَلِمَةٍ نَحْوِهَا فِيهَا بُسْرَةٌ فَأَكَلُوا مِنْهَا فَمَا يُقَلِّبُونَهَا لِشِقٍّ إِلَّا أَكَلُوا مِنْ فَاكِهَةٍ مَا أَرَادُوا وَأَكَلْتُ مَعَهُمْ قَالَ فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ عَدَّتْهُمْ الْمَرْأَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ فَجَاءَتْ قَالَ قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ فَقَصَّتْ قَالَ هُوَ كَمَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْمَعْنَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھے خوابوں سے خوش ہوتے تھے، اور بعض اوقات پوچھتے تھے کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تعبیر دریافت کر لیتا، اگر اس میں کوئی پریشانی کی بات نہ ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی خوش ہوتے، اسی تناظر میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوئی ہوں ، میں نے وہاں ایک آواز سنی جس سے جنت بھی ہلنے لگی، اچانک میں نے دیکھا کہ فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو لایا جا رہا ہے، یہ کہتے ہوئے اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے ایک سریہ میں روانہ فرمایا تھا۔ اس خاتون نے بیان کیا کہ جب انہیں وہاں لایا گیا تو ان کے جسم پر جو کپڑے تھے وہ کالے ہوچکے تھے اور ان کی رگیں پھولی ہوئی تھیں ، کسی نے ان سے کہا کہ ان لوگوں کو نہر سدخ یا نہر بیدخ میں لے جاؤ، چنانچہ انہوں نے اس میں غوطہ لگایا اور جب باہر نکلے تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے تھے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں ، وہ ان پر بیٹھ گئے، پھر ایک تھالی لائی گئی جس میں کچی کھجوریں تھیں ، وہ ان کھجوروں کو کھانے لگے، اس دوران وہ جس کھجور کو پلٹتے تھے تو حسب منشاء میوہ کھانے کو ملتا تھا، اور میں بھی ان کے ساتھ کھاتی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد اس لشکر سے ایک آدمی فتح کی خوشخبری لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے ساتھ ایسا ایسا معاملہ پیش آیا اور فلاں فلاں آدمی شہید ہوگئے، یہ کہتے ہوئے اس نے انہی بارہ آدمیوں کے نام گنوا دئیے جو عورت نے بتائے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس دوبارہ بلا کر لاؤ، وہ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اپنا خواب اس آدمی کے سامنے بیان کرو، اس نے بیان کیا تو وہ کہنے لگا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح بیان کیا ہے حقیقت بھی اسی طرح ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11938

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَامِلَهُ فَنَكَتَهُنَّ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَقَالَ بِيَدِهِ خَلْفَ ذَلِكَ وَقَالَ هَذَا أَجَلُهُ قَالَ وَأَوْمَأَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ وَثَمَّ أَمَلُهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا، یہ ابن آدم ہے پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے تین مرتبہ فرمایا کہ یہ اس کی امیدیں ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11939

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو الْعَلَاءِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي أَيَّامِ الشِّتَاءِ وَمَا نَدْرِي مَا مَضَى مِنْ النَّهَارِ أَكْثَرُ أَوْ مَا بَقِيَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے ایام میں نماز پڑھاتے تھے تو ہمیں کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ دن کا اکثر حصہ گذر گیا ہے یا باقی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11940

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُجَاوِزُ شَعْرُهُ أُذُنَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11941

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا بھی ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11942

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کی عورتوں میں حضرت مریم بنت عمران علیہا السلام، خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا، فاطمہ بنت ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اور فرعون کی بیوی آسیہ ہی کافی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11943

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ مَا شَأْنُكِ فَقَالَتْ قَالَتْ لِي حَفْصَةُ إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكِ ابْنَةُ نَبِيٍّ وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ يَا حَفْصَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کے متعلق کہا ہے کہ وہ یہودی کی بیٹی ہے، اس پر وہ رونے لگیں ، اتفاقاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ حفصہ نے میرے متعلق کہا ہے کہ میں ایک یہودی کی بیٹی ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایک نبی کی نسل میں بیٹی ہو، تمہارے چچا بھی اگلی نسل میں نبی تھے اور تم خود ایک نبی کے نکاح میں ہو اور تم کس چیز پر فخر کرنا چاہتی ہو اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ حفصہ! اللہ سے ڈرا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11944

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جُلَيْبِيبٍ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهَا فَقَالَ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَعَمْ إِذًا قَالَ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ لَاهَا اللَّهُ إِذًا مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جُلَيْبِيبًا وَقَدْ مَنَعْنَاهَا مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانٍ قَالَ وَالْجَارِيَةُ فِي سِتْرِهَا تَسْتَمِعُ قَالَ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَتْ الْجَارِيَةُ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَرُدُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ إِنْ كَانَ قَدْ رَضِيَهُ لَكُمْ فَأَنْكِحُوهُ فَكَأَنَّهَا جَلَّتْ عَنْ أَبَوَيْهَا وَقَالَا صَدَقْتِ فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ قَدْ رَضِيتَهُ فَقَدْ رَضِينَاهُ قَالَ فَإِنِّي قَدْ رَضِيتُهُ فَزَوَّجَهَا ثُمَّ فُزِّعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ فَرَكِبَ جُلَيْبِيبٌ فَوَجَدُوهُ قَدْ قُتِلَ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ قَدْ قَتَلَهُمْ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَمِنْ أَنْفَقِ بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جلیبب رضی اللہ عنہ کے لئے ایک انصاری عورت سے نکاح کا پیغام اس کے والد کے پاس بھیجا، اس نے کہا کہ میں پہلے لڑکی کی والدہ سے مشورہ کرلوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا، وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے اس بات کا تذکرہ کیا، اس نے فوراً انکار کرتے ہوئے کہہ دیا، بخدا! کسی صورت میں نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جلیبب کے علاوہ اور کوئی نہیں ملا، ہم نے تو فلاں فلاں رشتے سے انکار کر دیا تھا، ادھر وہ لڑکی اپنے پردے میں سن رہی تھی۔ باہم صلاح و مشورے کے بعد جب وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے مطلع کرنے کے لئے روانہ ہونے لگا تو وہ لڑکی کہنے لگی کیا آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کریں گے، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اس میں شامل ہے تو آپ نکاح کر دیں ، یہ کہہ کر اس نے اپنے والدین کی آنکھیں کھول دیں اور وہ کہنے لگے کہ تم سچ کہہ رہی ہو، چنانچہ اس کا باپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر آپ اس رشتے پر راضی ہیں تو ہم بھی راضی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں راضی ہوں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جلیبب سے اس لڑکی کا نکاح کر دیا، کچھ ہی عرصے کے بعد اہل مدینہ پر حملہ ہوا، جلیبب بھی سوار ہو کر نکلے، فراغت کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ وہ شہید ہوچکے ہیں اور ان کے ارد گرد مشرکیں کی کئی لاشیں پڑی ہیں جنہیں انہوں نے تنہا قتل کیا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس لڑکی کو دیکھا ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والے گھر کی خاتون تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11945

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ذُو مَالٍ كَثِيرٍ وَذُو أَهْلٍ وَوَلَدٍ وَحَاضِرَةٍ فَأَخْبِرْنِي كَيْفَ أُنْفِقُ وَكَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُخْرِجُ الزَّكَاةَ مِنْ مَالِكَ فَإِنَّهَا طُهْرَةٌ تُطَهِّرُكَ وَتَصِلُ أَقْرِبَاءَكَ وَتَعْرِفُ حَقَّ السَّائِلِ وَالْجَارِ وَالْمِسْكِينِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْلِلْ لِي قَالَ فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا فَقَالَ حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا فَلَكَ أَجْرُهَا وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی تمیم کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بہت مالدار، اہل وعیال اور خاندان والا آدمی ہوں ، آپ مجھے بتائیے کہ میں کیسے خرچ کروں اور کس کام پر کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے مال کی زکوۃ نکالا کرو کہ اس سے تمہارا مال پاکیزہ ہوجائے گا، اپنے قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کیا کرو، سائل، پڑوسی اور مسکینوں کو ان کا حق دیا کرو اور فضول خرچی نہ کیا کرو، وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بس یہ میرے لئے کافی ہے، جب میں اپنے مال کی زکوۃ آپ کے قاصد کے حوالے کر دوں تو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں میں بری ہو جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! جب تم میرے قاصد کو زکوۃ ادا کر دو تو تم اس سے عہدہ برآ ہوگئے اور تمہیں اس کا اجر ملے گا اور گناہ اس کے ذمے ہوگا جو اس میں تبدیلی کر دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11946

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ مُحَمَّةٌ فَحُمَّ النَّاسُ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ قُعُودٌ يُصَلُّونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ نِصْفُ صَلَاةِ الْقَائِمِ فَتَجَشَّمَ النَّاسُ الصَّلَاةَ قِيَامًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کی آب و ہوا گرم تھی جس کی وجہ سے لوگ بخار میں مبتلاء ہوگئے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے، اس پر لوگ لپک کر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11947

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا فَعَرِقَ وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ فِيهَا فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ قَالَتْ هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے اور قیلولہ کے لئے لیٹ گئے، (گرمی کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آنے لگا، میری والدہ یہ دیکھ کر ایک شیشی لائیں اور وہ پسینہ اس میں ٹپکانے لگیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو پوچھا کہ ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ آپ کے اس پسینے کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کریں گے اور یہ سب سے بہترین خوشبو ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11948

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ مَنْ أَنْتَ قَالَ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ قَالَ يَقُولُ بِكَ أُمِرْتُ أَنْ لَا أَفْتَحَ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں جنت کے دروازے پر آکر اسے کھلواؤں گا، داروغہ جہنم پوچھے گا کون؟ میں کہوں گا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کہے گا کہ مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کے لئے دروازہ نہ کھولوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11949

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا فَعَلَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظَهْرٍ لَهُمْ فِي عُلُوِّ الْمَدِينَةِ قَالَ لَا إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُؤْذِنُهُ فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ بَخٍ بَخٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ قَالَ ثُمَّ رَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بسیسہ رضی اللہ عنہ کو ابوسفیان کے لشکر کی خبر لانے کے لئے جاسوس بنا کر بھیجا، وہ واپس آئے تو گھر میں میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور لوگوں سے اس حوالے سے بات کی اور فرمایا کہ ہم قافلے کی تلاش میں نکل رہے ہیں جس کے پاس سواری موجود ہو وہ ہمارے ساتھ چلے، کچھ لوگوں نے اجازت چاہی کہ مدینہ کے بالائی حصے سے اپنی سواری لے آئیں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، جس کی سواری موجود ہو وہ چلے (انتظار نہیں کریں گے) چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے بدر کے کنویں پر پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص بھی میری اجازت کے بغیر کسی چیز کی طرف قدم آگے نہ بڑھائے، جب مشرکین قریب آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس جنت کی طرف لپکو جس کی صرف چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے، یہ سن کر عمیر بن حمام انصاری کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا جنت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس پر وہ کہنے لگے واہ واہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کس بات پر واہ واہ کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! خدا کی قسم صرف اس امید پر کہ میں اس کا اہل بن جاؤں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اہل جنت میں سے ہو، پھر عمیر اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانے لگے، پھر اچانک ان کے دل میں خیال آیا کہ اگر میں ان کھجوروں کو کھانے تک زندہ رہا تو یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی، چنانچہ وہ کھجوریں ایک طرف رکھ کر میدان کارزار میں گھس پڑے اور اتنا لڑے کہ بالآخر شہید ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11950

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ إِلَى قَوْلِهِ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ وَكَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ رَفِيعَ الصَّوْتِ فَقَالَ أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبِطَ عَمَلِي أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَجَلَسَ فِي أَهْلِهِ حَزِينًا فَتَفَقَّدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِلَيْهِ فَقَالُوا لَهُ تَفَقَّدَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ فَقَالَ أَنَا الَّذِي أَرْفَعُ صَوْتِي فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَأَجْهَرُ بِالْقَوْلِ حَبِطَ عَمَلِي وَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ بِمَا قَالَ فَقَالَ لَا بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ أَنَسٌ وَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْيَمَامَةِ كَانَ فِينَا بَعْضُ الِانْكِشَافِ فَجَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَقَدْ تَحَنَّطَ وَلَبِسَ كَفَنَهُ فَقَالَ بِئْسَمَا تُعَوِّدُونَ أَقْرَانَكُمْ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے ایمان والو! نبی کی آواز پر اپنی آواز کو اونچا نہ کیا کرو، تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ " جن کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی " کہنے لگے کہ میری ہی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی بن گیا، اور یہ سوچ کر اپنے گھر ہی میں غمگین ہو کر بیٹھ رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر حاضری کے متعلق دریافت کیا تو کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری غیر حاضری کے متعلق پوچھ رہے تھے، کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے کہ میں ہی تو وہ ہوں جس کی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے اور میں بات کرتے ہوئے اونچا بولتا ہوں ، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی ہوگیا، لوگوں نے یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ذکر کردی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ وہ تو جنتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے درمیان چلتے تھے اور ہمیں یقین تھا کہ وہ جنتی ہیں ، جنگ یمامہ کے دن ہماری صفوں میں کچھ انتشار پیدا ہوا تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے، اس وقت انہوں نے اپنے جسم پر حنوط مل رکھی تھی اور کفن پہنا ہوا تھا اور فرمانے لگے تم اپنے ہم نشینوں کی طرف برا لوٹے ہو، یہ کہہ کر وہ لڑتے لڑتے اتنا آگے بڑھ گئے کہ بالآخر شہید ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11951

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ حلاق آپ کے بال کاٹ رہا ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ارد گرد کھڑے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو بال بھی گرے وہ کسی آدمی کے ہاتھ پر ہی گرے۔ (زمین پر نہ گرے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11952

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ چکتے تو اہل مدینہ کے خدام اپنے اپنے برتن پانی سے بھر کر لاتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر برتن میں اپنا ہاتھ ڈال دیتے تھے۔ بعض اوقات سردی کا موسم ہوتا تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس معمول کو پورا فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11953

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَكَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ أَهْلِهِ فَقَالَ اشْهَدُوا يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ قَالَ ثَابِتٌ فَكَأَنِّي كَرِهْتُ ذَلِكَ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ لَوْ سَمَّيْتَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ وَمَا بَأْسُ ذَلِكَ أَنْ أَقُلْ لَكُمْ قُرَّاءُ أَفَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ إِخْوَانِكُمْ الَّذِينَ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرَّاءَ فَذَكَرَ أَنَّهُمْ كَانُوا سَبْعِينَ فَكَانُوا إِذَا جَنَّهُمْ اللَّيْلُ انْطَلَقُوا إِلَى مُعَلِّمٍ لَهُمْ بِالْمَدِينَةِ فَيَدْرُسُونَ اللَّيْلَ حَتَّى يُصْبِحُوا فَإِذَا أَصْبَحُوا فَمَنْ كَانَتْ لَهُ قُوَّةٌ اسْتَعْذَبَ مِنْ الْمَاءِ وَأَصَابَ مِنْ الْحَطَبِ وَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ سَعَةٌ اجْتَمَعُوا فَاشْتَرَوْا الشَّاةَ وَأَصْلَحُوهَا فَيُصْبِحُ ذَلِكَ مُعَلَّقًا بِحُجَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أُصِيبَ خُبَيْبٌ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَفِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ فَقَالَ حَرَامٌ لِأَمِيرِهِمْ دَعْنِي فَلْأُخْبِرْ هَؤُلَاءِ أَنَّا لَسْنَا إِيَّاهُمْ نُرِيدُ حَتَّى يُخْلُوا وَجْهَنَا وَقَالَ عَفَّانُ فَيُخْلُونَ وَجْهَنَا فَقَالَ لَهُمْ حَرَامٌ إِنَّا لَسْنَا إِيَّاكُمْ نُرِيدُ فَخَلُّوا وَجْهَنَا فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ بِالرُّمْحِ فَأَنْفَذَهُ مِنْهُ فَلَمَّا وَجَدَ الرُّمْحَ فِي جَوْفِهِ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ فَانْطَوَوْا عَلَيْهِمْ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ وَجْدَهُ عَلَيْهِمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَبُو طَلْحَةَ يَقُولُ لِي هَلْ لَكَ فِي قَاتِلِ حَرَامٍ قَالَ قُلْتُ لَهُ مَا لَهُ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ قَالَ مَهْلًا فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ وَقَالَ عَفَّانُ رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو عَلَيْهِمْ و قَالَ أَبُو النَّضْرِ رَفَعَ يَدَيْهِ

ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے اہل خانہ کے لئے ایک خط لکھا، اور فرمایا اے گروہ قراء! تم اس پر گواہ رہو، مجھے یہ بات اچھی نہ لگی، میں نے عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! اگر آپ ان کے نام بتا دیں تو کیا ہی اچھا ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے تمہیں قراء کہہ دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیا میں تمہیں اپنے ان بھائیوں کا واقعہ نہ سناؤں جنہیں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں قراء کہتے تھے۔ وہ ستر افراد تھے، جو رات ہونے پر مدینہ منورہ میں اپنے ایک استاذ کے پاس چلے جاتے اور صبح ہونے تک ساری رات پڑھتے رہتے، صبح ہونے کے بعد جس میں ہمت ہوتی وہ میٹھا پانی پی کر لکڑیاں کاٹنے چلا جاتا، جن لوگوں کے پاس گنجائش نہ ہوتی وہ اکٹھے ہو کر بکری خرید کر اسے کاٹ کر صاف ستھرا کرتے اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے پاس اسے لٹکا دیتے۔ جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روانہ فرمایا، یہ لوگ بنی سلیم کے ایک قبیلے میں پہنچے، ان میں میرے ایک ماموں " حرام " بھی تھے، انہوں نے اپنے امیر سے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں انہیں جا کر بتا دوں کہ ہم ان سے کوئی تعرض نہیں کرنا چاہتے تاکہ یہ ہمارا راستہ چھوڑ دیں اور اجازت لے کر ان لوگوں سے یہی کہا، ابھی وہ یہ پیغام دے ہی رہے تھے کہ سامنے سے ایک آدمی ایک نیزہ لے کر آیا اور ان کے آر پار کر دیا، جب وہ نیزہ ان کے پیٹ میں گھونپا گیا تو وہ یہ کہتے ہوئے گر پڑے اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا، پھر ان پر حملہ ہوا اور ان میں سے ایک آدمی بھی باقی نہ بچا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اس واقعے پر جتنا غمگین دیکھا، کسی اور واقعے پر اتنا غمگین نہیں دیکھا، اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ہاتھ اٹھا کر ان کے خلاف بددعاء فرماتے تھے، کچھ عرصے بعد حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں " حرام " کے قاتل کا پتہ بتاؤں ؟ میں نے کہا ضرور بتائیے، اللہ اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے، انہوں نے فرمایا رکو، کیونکہ وہ مسلمان ہوگیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11954

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ قَالَ أُبَيٌّ أَوَسَمَّانِي لَكَ قَالَ نَعَمْ فَبَكَى أُبَيٌّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11955

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَرَجُلًا آخَرَ مِنْ الْأَنْصَارِ تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي حَاجَةٍ لَهُمَا حَتَّى ذَهَبَ مِنْ اللَّيْلِ سَاعَةٌ وَلَيْلَةٌ شَدِيدَةُ الظُّلْمَةِ ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَلِبَانِ وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُصَيَّةٌ فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتَّى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا حَتَّى إِذَا افْتَرَقَ بِهِمَا الطَّرِيقُ أَضَاءَتْ لِلْآخَرِ عَصَاهُ فَمَشَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْءِ عَصَاهُ حَتَّى بَلَغَ إِلَى أَهْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صاحب اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران رات کا کافی حصہ بیت گیا اور وہ رات بہت تاریک تھی، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہو کر نکلے تو ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک آدمی کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے، جب دونوں اپنے اپنے راستے پر جدا ہونے لگے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی اور ہر آدمی اپنی اپنی لاٹھی کی روشنی میں چلتا ہوا اپنے گھر پہنچ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11956

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ ذَكَرْتَنِي فِي نَفْسِكَ ذَكَرْتُكَ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرْتَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُكَ فِي مَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِكَةِ أَوْ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي شِبْرًا دَنَوْتُ مِنْكَ ذِرَاعًا وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي ذِرَاعًا دَنَوْتُ مِنْكَ بَاعًا وَإِنْ أَتَيْتَنِي تَمْشِي أَتَيْتُكَ أُهَرْوِلُ قَالَ قَتَادَةُ فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَسْرَعُ بِالْمَغْفِرَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم! اگر تو مجھے اپنے دل میں یاد کرے گا تو میں تجھے اپنے دل میں یاد کروں گا، اگر تو کسی مجلس میں میرا تذکرہ کرے گا تو میں اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں تیرا تذکرہ کروں گا، اگر تو بالشت برابر میرے قریب آئے گا تو میں ایک گز کے برابر تیرے قریب ہو جاؤں گا اور اگر تو ایک گز کے برابر میرے قریب آئے گا تو میں ایک ہاتھ کے برابر تیرے قریب ہو جاؤں گا اور اگر تو میرے پاس چل کر آئے گا تو میں تیرے پاس دوڑ کر آؤں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11957

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَقَالَ سَعْدٌ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَلَمْ يُسْمِعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا هِيَ بِأُذُنِي وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنْ الْبَرَكَةِ ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْبَيْتَ فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ أَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے اور اجازت لے کر " السلام علیکم ورحمۃ اللہ " کہا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے آہستہ آواز سے " جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں تک نہ پہنچی" اس کا جواب دیا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کیا اور تینوں مرتبہ انہوں نے اس طرح جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ سن سکے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹ گئے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی پیچھے دوڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے جتنی مرتبہ بھی سلام کیا، میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اس کا جواب دیا لیکن آپ کو نہیں سنایا (آواز آہستہ رکھی) میں چاہتا تھا کہ آپ کی سلامتی اور برکت کی دعاء کثرت سے حاصل کروں ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لے گئے اور کشمش پیش کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول کرنے کے بعد فرمایا تمہارا کھانا نیک لوگ کھاتے رہیں ، تم پر ملائکہ رحمت کی دعائیں کرتے رہیں اور روزہ دار تمہارے یہاں افطار کرتے رہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11958

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اشارہ کر دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11959

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز ظہر اور عصر اور نماز مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11960

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي بِمَكَّةَ مَالًا وَإِنَّ لِي بِهَا أَهْلًا وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ آتِيَهُمْ فَأَنَا فِي حِلٍّ إِنْ أَنَا نِلْتُ مِنْكَ أَوْ قُلْتُ شَيْئًا فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ مَا شَاءَ فَأَتَى امْرَأَتَهُ حِينَ قَدِمَ فَقَالَ اجْمَعِي لِي مَا كَانَ عِنْدَكِ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ غَنَائِمِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَإِنَّهُمْ قَدْ اسْتُبِيحُوا وَأُصِيبَتْ أَمْوَالُهُمْ قَالَ فَفَشَا ذَلِكَ فِي مَكَّةَ وَانْقَمَعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَظْهَرَ الْمُشْرِكُونَ فَرَحًا وَسُرُورًا قَالَ وَبَلَغَ الْخَبَرُ الْعَبَّاسَ فَعَقِرَ وَجَعَلَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ قَالَ مَعْمَرٌ فَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ عَنْ مِقْسَمٍ قَالَ فَأَخَذَ ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ قُثَمُ فَاسْتَلْقَى فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ حَيَّ قُثَمْ حَيَّ قُثَمْ شَبِيهَ ذِي الْأَنْفِ الْأَشَمْ بَنِي ذِي النَّعَمْ يَرْغَمْ مَنْ رَغَمْ قَالَ ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ ثُمَّ أَرْسَلَ غُلَامًا إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ عِلَاطٍ وَيْلَكَ مَا جِئْتَ بِهِ وَمَاذَا تَقُولُ فَمَا وَعَدَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتَ بِهِ قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ لِغُلَامِهِ اقْرَأْ عَلَى أَبِي الْفَضْلِ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ فَلْيَخْلُ لِي فِي بَعْضِ بُيُوتِهِ لِآتِيَهُ فَإِنَّ الْخَبَرَ عَلَى مَا يَسُرُّهُ فَجَاءَ غُلَامُهُ فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الدَّارِ قَالَ أَبْشِرْ يَا أَبَا الْفَضْلِ قَالَ فَوَثَبَ الْعَبَّاسُ فَرَحًا حَتَّى قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ الْحَجَّاجُ فَأَعْتَقَهُ ثُمَّ جَاءَهُ الْحَجَّاجُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَغَنِمَ أَمْوَالَهُمْ وَجَرَتْ سِهَامُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَمْوَالِهِمْ وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَاتَّخَذَهَا لِنَفْسِهِ وَخَيَّرَهَا أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ أَوْ تَلْحَقَ بِأَهْلِهَا فَاخْتَارَتْ أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ وَلَكِنِّي جِئْتُ لِمَالٍ كَانَ لِي هَاهُنَا أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَهُ فَأَذْهَبَ بِهِ فَاسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لِي أَنْ أَقُولَ مَا شِئْتُ فَأَخْفِ عَنِّي ثَلَاثًا ثُمَّ اذْكُرْ مَا بَدَا لَكَ قَالَ فَجَمَعَتْ امْرَأَتُهُ مَا كَانَ عِنْدَهَا مِنْ حُلِيٍّ وَمَتَاعٍ فَجَمَعَتْهُ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَمَرَّ بِهِ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ثَلَاثٍ أَتَى الْعَبَّاسُ امْرَأَةَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ مَا فَعَلَ زَوْجُكِ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ قَدْ ذَهَبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَقَالَتْ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ شَقَّ عَلَيْنَا الَّذِي بَلَغَكَ قَالَ أَجَلْ لَا يُخْزِنِي اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ بِحَمْدِ اللَّهِ إِلَّا مَا أَحْبَبْنَا فَتَحَ اللَّهُ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ لِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَتْ لَكِ حَاجَةٌ فِي زَوْجِكِ فَالْحَقِي بِهِ قَالَتْ أَظُنُّكَ وَاللَّهِ صَادِقًا قَالَ فَإِنِّي صَادِقٌ الْأَمْرُ عَلَى مَا أَخْبَرْتُكِ فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى مَجَالِسَ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَقُولُونَ إِذَا مَرَّ بِهِمْ لَا يُصِيبُكَ إِلَّا خَيْرٌ يَا أَبَا الْفَضْلِ قَالَ لَهُمْ لَمْ يُصِبْنِي إِلَّا خَيْرٌ بِحَمْدِ اللَّهِ قَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ أَنَّ خَيْبَرَ قَدْ فَتَحَهَا اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ وَاصْطَفَى صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ وَقَدْ سَأَلَنِي أَنْ أُخْفِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا وَإِنَّمَا جَاءَ لِيَأْخُذَ مَالَهُ وَمَا كَانَ لَهُ مِنْ شَيْءٍ هَاهُنَا ثُمَّ يَذْهَبَ قَالَ فَرَدَّ اللَّهُ الْكَآبَةَ الَّتِي كَانَتْ بِالْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ وَمَنْ كَانَ دَخَلَ بَيْتَهُ مُكْتَئِبًا حَتَّى أَتَوْا الْعَبَّاسَ فَأَخْبَرَهُمْ الْخَبَرَ فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ وَرَدَّ اللَّهُ يَعْنِي مَا كَانَ مِنْ كَآبَةٍ أَوْ غَيْظٍ أَوْ حُزْنٍ عَلَى الْمُشْرِكِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر فتح کرچکے تو حجاج بن غلاط رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مکہ مکرمہ میں میرا کچھ مال و دولت اور اہل خانہ ہیں ، میں ان کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں (تاکہ انہیں یہاں لے آؤں ) کیا مجھے آپ کی طرف سے اس بات کی اجازت ہے کہ میں آپ کے حوالے سے یونہی کوئی بات اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ جو چاہیں کہیں ، چنانچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچ کر اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے، سب اکٹھا کر کے مجھے دے دو، میں چاہتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کا مال غنیمت خرید لوں کیونکہ ان کا خوب قتل عام ہوا ہے اور ان کا سب مال ودولت لوٹ لیا گیا ہے، یہ خبر پورے مکہ میں پھیل گئی، مسلمانوں کی کمر ٹوٹ گئی اور مشرکین خوب خوشی کے شادیانے بجانے لگے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بھی یہ خبر معلوم ہوئی تو وہ گر پڑے اور ان کے اندر کھڑا ہونے ہمت نہ رہی، پھر انہوں نے ایک بیٹے " قثم " کو بلایا، اور چت لیٹ کر اسے اپنے سینے پر بٹھا کر یہ شعر پڑھنے لگے کہ میرا پیارا بیٹا قثم خوشبودار ناک والے کا ہم شکل ہے، جو ناز و نعمت میں پلنے والوں کا بیٹا ہے اگرچہ کسی کی ناک ہی خاک آلود ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے ایک غلام کو حجاج بن غلاط رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ افسوس! یہ تم کیسی خبر لائے ہو اور یہ کیا کہہ رہے ہو؟ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ تمہاری اس خبر سے بہت بہتر ہے، حجاج نے اس غلام سے کہا کہ ابوالفضل (حضرت عباس رضی اللہ عنہ) کو میرا سلام کہنا اور یہ پیغام پہنچانا کہ اپنے کسی گھر میں میرے لئے تخلیہ کا موقع فراہم کریں تاکہ میں ان کے پاس آسکوں کیونکہ خبر ہی ایسی ہے کہ وہ خوش ہو جائیں گے، وہ غلام واپس پہنچ کر جب گھر کے دروازے تک پہنچا تو کہنے لگا کہ اے ابوالفضل! خوش ہوجائیے ، یہ سن کر حضرت عباس رضی اللہ عنہ خوشی سے اچھل پڑے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا،غلام نے انہیں حجاج کی بات بتائی تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد حجاج ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کو فتح کر چکے ہیں، ان کے مال کو غنیمت بنا چکے ، اللہ کا مقرر کردہ حصہ ان میں جاری ہوچکا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کو اپنے لئے منتخب کرلیا، اور انہیں اختیار دے دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزاد کر دیں اور وہ ان کی بیوی بن جائیں یا اپنے اہل خانہ کے پاس واپس چلی جائیں ، انہوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزاد کر دیں اور وہ ان کی بیوی بن جائیں ، لیکن میں اپنے اس مال کی وجہ سے " جو یہاں پر تھا " آیا تھا تاکہ اسے جمع کر کے لے جاؤں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ میں جو چاہوں کہہ سکتا ہوں ، اب آپ یہ خبر تین دن تک مخفی رکھئے، اس کے بعد مناسب سمجھیں تو ذکر کر دیں ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی بیوی کے پاس جو کچھ زیورات اور سازو سامان تھا اور جو اس نے جمع کر رکھا تھا، اس نے وہ سب ان کے حوالے کیا اور وہ اسے لے کر روانہ ہوگئے، تین دن گذرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ حجاج کی بیوی کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ تمہارے شوہر کا کیا بنا؟ اس نے بتایا کہ وہ فلاں دن چلے گئے اور کہنے لگی کہ اے ابوالفضل! اللہ آپ کو شرمندہ نہ کرے، آپ کی پریشانی ہم پر بھی بڑی شاق گذری ہے، انہوں نے فرمایا ہاں ! اللہ مجھے شرمندہ نہ کرے، اور الحمدللہ! ہوا وہی کچھ ہے جو ہم چاہتے تھے، اللہ نے اپنے نبی کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کروا دیا، مال غنیمت تقسیم ہوچکی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کو اپنے لئے منتخب فرما لیا، اب اگر تمہیں اپنے خاوند کی ضرورت ہو تو اس کے پاس چلی جاؤ، وہ کہنے لگی کہ بخدا! میں آپ کو سچا ہی سمجھتی ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو کچھ بتایا ہے وہ سب سچ ہے۔ پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے اور قریش کی مجلسوں کے پاس سے گذرے، وہ کہنے لگے ابوالفضل! تمہیں ہمیشہ خیر ہی حاصل ہو، انہوں نے فرمایا الحمدللہ! مجھے خیر ہی حاصل ہوئی ہے، مجھے حجاج بن غلاط نے بتایا کہ خیبر کو اللہ نے اپنے پیغمبر کے ہاتھوں فتح کروادیا ہے، مال غنیمت تقسیم ہوچکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو اپنے لئے منتخب کرلیا، اور حجاج نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ تین دن کت میں یہ خبر مخفی رکھوں ، وہ تو صرف اپنا مال اور سازو سامان یہاں سے لینے کے لئے آئے تھے، پھر واپس چلے گئے، اس طرح مسلمانوں پر جو غم کی کیفیت تھی وہ اللہ نے مشرکین پر الٹادی، اور مسلمان اور وہ تمام لوگ جو اپنے گھروں میں غمگین ہو کر پڑگئے تھے، اپنے اپنے گھروں سے نکل آئے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، انہوں نے انہیں سارا واقعہ سنایا، جس پر مسلمان بہت خوش ہوئے اور اللہ نے وہ غم و غصہ مشرکین پر لوٹا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11961

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسٍ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ

عاصم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11962

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11963

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ حَدِّثْنَا يَا أَبَا حَمْزَةَ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ شَيْئًا شَهِدْتَهُ لَا تُحَدِّثُهُ مِنْ غَيْرِكَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ يَوْمًا ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى قَعَدَ عَلَى الْمَقَاعِدِ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهِ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ فَجَاءَ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالْعَصْرِ فَقَامَ كُلُّ مَنْ كَانَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ أَهْلٌ يَقْضِي الْحَاجَةَ وَيُصِيبُ مِنْ الْوَضُوءِ وَبَقِيَ رِجَالٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُمْ أَهَالِي بِالْمَدِينَةِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ أَرْوَحَ فِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَا وَسِعَ الْإِنَاءُ كَفَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا فَقَالَ بِهَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ قَالَ ادْنُوا فَتَوَضَّئُوا وَيَدُهُ فِي الْإِنَاءِ فَتَوَضَّئُوا حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَوَضَّأَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ كَمْ تَرَاهُمْ قَالَ بَيْنَ السَّبْعِينَ وَالثَّمَانِينَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ لَا تُحَدِّثُهُ عَنْ غَيْرِكَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ثابت رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! ہمیں کوئی ایسا عجیب واقعہ بتائیے ، جس میں آپ خود موجود ہوں اور آپ کسی کے حوالے سے اسے بیان نہ کرتے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، اور جا کر اس جگہ پر بیٹھ گئے جہاں حضرت جبریل علیہ السلام ان کے پاس آیا کرتے تھے، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر عصر کی اذان دی، ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو۔ میں نے پوچھا اے ابوحمزہ! آپ کی رائے میں وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا ستر سے اسی کے درمیان۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11964

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ شَقَّ عَلَى الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يُجْرِيَ لَهُمْ نَهْرًا سَيْحًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ لَكُمْ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ اغْتَنِمُوهَا وَاطْلُبُوا الْمَغْفِرَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار میں کچھ کھیت تقسیم ہوئے، وہ لوگ اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر آئے کہ انہیں ایک جاری نہر میں سے پانی لینے کی اجازت دی جائے، وہ اس کا کرایہ ادا کر دیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو خوش آمدید! بخدا! آج تم مجھ سے جو مانگو گے میں تمہیں دوں گا اور میں اللہ سے تمہارے لئے جس چیز کا سوال کروں گا، اللہ وہ مجھے ضرور عطاء فرمائے گا، یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے موقع غنیمت سمجھو اور اپنے گناہوں کی معافی کا مطالبہ کرلو، چنانچہ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کردیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11965

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَلْحَدُ وَآخَرُ يَضْرَحُ فَقَالُوا نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا فَبَعَثَ إِلَيْهِمَا فَأَيُّهُمَا سَبَقَ تَرَكْنَاهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ فَأَلْحَدُوا لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے تو اس وقت مدینہ میں ایک صاحب بغلی قبر بناتے تھے اور دوسرے صاحب صندوقی قبر، لوگوں نے سوچا کہ ہم اپنے رب سے خیر طلب کرتے ہیں اور دونوں کے پاس ایک ایک آدمی بھیج دیتے ہیں ، جو نہ مل سکا اسے چھوڑ دیں گے، چنانچہ انہوں نے دونوں کے پاس ایک ایک آدمی بھیج دیا، لحد بنانے والے صاحب مل گئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لحد کھودی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11966

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَوَانِي أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَمَا نُهِيتُ عَنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں داغا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع نہیں فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11967

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ مُضْطَجِعٌ مُرْمَلٌ بِشَرِيطٍ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وَسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَدَخَلَ عُمَرُ فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْحِرَافَةً فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبِهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَى عُمَرُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ قَالَ وَاللَّهِ إِلَّا أَنْ أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَهُمَا يَعْبَثَانِ فِي الدُّنْيَا فِيمَا يَعْبَثَانِ فِيهِ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمْ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ قَالَ عُمَرُ بَلَى قَالَ فَإِنَّهُ كَذَاكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے، جسے کھجور کی بٹی ہوئی رسی سے باندھا گیا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں چھال بھری ہوئی تھی، اسی اثناء میں چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آگئے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ کر اٹھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو اور رسی کے درمیان کوئی کپڑا نظر نہ آیا اسی وجہ سے اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پہلو پر پڑ گئے تھے، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! کیوں روتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا بخدا! میں صرف اس لئے روتا ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی نگاہوں میں آپ قیصروکسریٰ سے کہیں زیادہ معزز ہیں اور وہ دنیا میں عیاشی کر رہے ہیں ، جب کہ آپ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس جگہ پر ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اسی طرح ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11968

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رَجُلَانِ مِمَّنْ قَدْ صَحِبَنِي فَإِذَا رَأَيْتُهُمَا رُفِعَا لِي اخْتُلِجَا دُونِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوضِ کوثر پر دو ایسے آدمی بھی آئیں گے جنہوں نے میری ہم نشینی پائی ہوگی، لیکن جب میں انہیں دیکھوں گا کہ وہ میرے سامنے پیش ہوئے ہیں تو انہیں اچک لیا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11969

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنت کے متعلق سب سے پہلا سفارش کرنے والا ہوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11970

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُبَارَكٌ الْخَيَّاطُ جَدُّ وَلَدِ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ سَأَلْتُ ثُمَامَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ الْمَاءَ الَّذِي يَكُونُ مِنْهُ الْوَلَدُ أَهْرَقْتَهُ عَلَى صَخْرَةٍ لَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهَا أَوْ لَخَرَجَ مِنْهَا وَلَدٌ الشَّكُّ مِنْهُ وَلَيَخْلُقَنَّ اللَّهُ نَفْسًا هُوَ خَالِقُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عزل کے متعلق سوال کرنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" پانی " کا وہ قطرہ جس سے بچہ پیدا ہوتا ہو، اگر کسی چٹان پر بھی بہا دیا جائے تو اللہ اس سے بھی بچہ پیدا کر سکتا ہے، اور اللہ اس شخص کو پیدا کر کے رہتا ہے جسے وہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11971

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أُحُدًا فَقَالَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پہاڑ سے ہم محبت کرتے ہیں اور یہ ہم سے محبت کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11972

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النُّهْبَةِ وَمَنْ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11973

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَأَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11974

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ وَإِلَى الْكَعْبَيْنِ لَا خَيْرَ فِي أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند پنڈلی تک یا ٹخنوں تک ہونا چاہئے ، اس سے نیچے ہونے میں کوئی خیر نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11975

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ الْبَكْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ حَتَّى اطَّلَعَ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ مِشْقَصًا فَجَاءَ حَتَّى حَاذَى بِالرَّجُلِ وَجَاءَ بِهِ فَأَخْنَسَ الرَّجُلُ فَذَهَبَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی اسے دے ماری تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11976

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ قَالَ فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں ، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11977

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ يَهُودِيًّا سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ قَالَ رُدُّوهُ عَلَيَّ قَالَ أَقُلْتَ السَّامُ عَلَيْكَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ، اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو صرف " وعلیک " کہا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11978

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعُكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ السُّحُورِ فَإِنَّ فِي بَصَرِهِ شَيْئًا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکا کرے کیونکہ ان کی بصارت میں کچھ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11979

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ حَرْمَلَةَ الْأَزْدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا عَامًّا وَلَا تَنْبُتَ الْأَرْضُ شَيْئًا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک بارشیں خوب کثرت سے نہ ہوں ، لیکن زمین سے پیداوار بالکل نہ ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11980

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا الرَّجُلَ قَالَ هَلْ أَعْلَمْتَهُ ذَلِكَ قَالَ لَا فَقَالَ قُمْ فَأَعْلِمْهُ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا هَذَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ قَالَ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟ اس نے کہا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا کر اسے بتا دو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں ، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11981

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ البُنَانِيُّ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ رَجُلًا فَقَالَ احْتَفِظِي بِهِ قَالَ فَغَفَلَتْ حَفْصَةُ وَمَضَى الرَّجُلُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا حَفْصَةُ مَا فَعَلَ الرَّجُلُ قَالَتْ غَفَلْتُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ فَرَفَعَتْ يَدَيْهَا هَكَذَا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا شَأْنُكِ يَا حَفْصَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ قَبْلُ لِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَهَا صُفِّي يَدَيْكِ فَإِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَيُّمَا إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي دَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ مَغْفِرَةً

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا اور فرمایا کہ اس کی نگرانی کرنا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا غافل ہوئیں تو وہ آدمی کھسک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو پوچھا حفصہ! وہ آدمی کیا ہوا؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں غافل ہوگئی اور وہ بھاگ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کرے تمہارے ہاتھ ٹوٹ جائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد انہوں نے اپنے ہاتھ اونچے کر لئے ، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ آئے تو پوچھا حفصہ! تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کچھ دیر پہلے مجھے ایسے ایسے کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ہاتھ کھول لو، میں نے اللہ سے یہ کہہ رکھا ہے کہ میں اپنی امت میں سے جس شخص کو کوئی بددعاء دوں وہ اسے اس کے حق میں مغفرت کا سبب بنا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11982

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں سورت اخلاص سے محبت رکھتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اس سورت سے محبت کرنا تمہیں جنت میں داخل کروا دے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11983

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ ذَلِكَ يَعْنِي لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ قَالَتْ فَاطِمَةُ وَا كَرْبَاهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّةُ إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ بِأَبِيكِ مَا لَيْسَ اللَّهُ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا لِمُوَافَاةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر موت کی شدت طاری ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کیفیت کو دیکھ کر کہنے لگیں ، ہائے تکلیف! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا، تمہارے باپ پر جو کیفیت طاری ہو رہی ہے قیامت تک آنے والے کسی انسان سے اللہ اسے معاف کرنے والا نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11984

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَغُدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدِّهِ يَعْنِي سَوْطَهُ مِنْ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوْ اطَّلَعَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى الْأَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا وَلَطَابَ مَا بَيْنَهُمَا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا حَدَّثَنَا الْهَاشِمِيُّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے، اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11985

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءُ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ وَأَنَا أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ مالدار انصاری تھے، اور انہیں اپنے سارے مال میں بیر حاء نامی باغ جو مسجد کے سامنے تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے جاتے اور وہاں کا عمدہ پانی نوش فرماتے تھے" سب سے زیادہ محبوب تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی " تم نیکی کا اعلیٰ درجہ اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی محبوب چیز نہ خرچ کر دو " تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے اور مجھے اپنے سارے مال میں " بیرحاء" سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کے نام پر صدقہ کرتا ہوں اور اللہ کے یہاں اس کی نیکی اور ثواب کی امید رکھتا ہوں ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اسے جہاں مناسب سمجھیں خرچ فرما دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ! یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، میں نے تمہاری بات سن لی ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دو، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایسا ہی کروں گا، پھر انہوں نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11986

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَسْأَلُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثًا إِلَّا قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ وَلَا اسْتَجَارَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللَّهَ مِنْ النَّارِ ثَلَاثًا إِلَّا قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ سے بچالے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11987

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ فَيَقُولُ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَضَعُ قَدَمَهُ فِيهَا فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ بِعِزَّتِكَ قَطْ قَطْ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلًا حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ خَلْقًا آخَرَ فَيُسْكِنَهُ فِي فُضُولِ الْجَنَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہ کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار عالم اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم! بس بس اسی طرح جنت میں بھی جگہ زائد بچ جائے گی حتیٰ کہ اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11988

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ قَالَ فَلَقِيَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تَسْتَنْفِعَ بِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کر لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11989

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ أَخُو حَزْمٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى فَلَا يُجْعَلْ مَعِي إِلَهٌ فَمَنْ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا كَانَ أَهْلًا أَنْ أَغْفِرَ لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ''ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ " تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ تمہارے رب نے فرمایا ہے، میں اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ کسی کو معبود نہ بنایا جائے جو میرے ساتھ کسی کو معبود بنانے سے ڈرتا ہے وہ اس بات کا اہل ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11990

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11991

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَاهُنَا أَجَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ وَقَدَّمَ عَفَّانُ يَدَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، یہ اس کی موت ہے، اور اس کی امیدیں ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11992

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُجَاوِزُ شَعَرُهُ أُذُنَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11993

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقُولُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے یہاں تک کہ اسے پتہ چلنے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11994

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ قَدِمُوا مَكَّةَ وَقَدْ لَبَّوْا بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا طَافُوا بِالْبَيْتِ وَسَعَوْا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَأَنْ يُحِلُّوا وَكَانَ الْقَوْمُ هَابُوا ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنِّي سُقْتُ هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ فَأَحَلَّ الْقَوْمُ وَتَمَتَّعُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے تو حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بعد انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیں ، لیکن ایسا محسوس ہوا کہ لوگوں کو یہ بات بہت بڑی معلوم ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو میں بھی احرام کھول لیتا، چنانچہ وہ لوگ حلال ہوگئے اور انہوں نے حج تمتع کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11995

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي قُدَامَةَ الْحَنَفِيِّ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ قَالَ سَمِعْتُهُ سَبْعَ مِرَارٍ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ

ابو واقد حنفی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا تلبیہ پڑھا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا " لبیک عمرۃ و حجۃ " ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11996

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْخِرْبِزِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کجھور کے ساتھ خربوزہ کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11997

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ جَعْدًا أَكْحَلَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبْطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ فَجَاءَتْ بِهِ جَعْدًا أَكْحَلَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سمحاء کے ساتھ بدکاری میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کا خیال رکھنا، اگر اس کے یہاں گھنگریالے بالوں ، سرمگیں آنکھوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو تو وہ شریک بن سمحاء کا بچہ ہوگا، اور اگر گورے رنگ کا، سیدھے بالوں والا اور دھنسی آنکھوں والا بچہ پیدا ہو تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا، چنانچہ اس عورت کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ پہلی صفات کے مطابق تھا (شریک بن سمحاء کا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11998

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ الْمَرَائِيُّ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَحْضُرَ دُعَاءَهُمَا وَلَا يُفَرِّقَ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے کے ہاتھوں کو پکڑتا ہے تو اللہ پر حق ہے کہ ان کی دعاؤں کے وقت موجود رہے اور دونوں کے ہاتھوں کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11999

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَكَّةَ مِنْ الْبَرَكَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ! مکہ میں جنتنی برکتیں ہیں ، مدینہ میں اس سے دوگنی برکتیں عطاء فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12000

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ الْمَرَائِيُّ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا يَذْكُرُونَ اللَّهَ لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنْ السَّمَاءِ أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ قَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی جماعت اکٹھی ہو کر اللہ کا ذکر کرتی ہے اور اس سے اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہوتی ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز لگاتا ہے کہ تم اس حال میں کھڑے ہو کہ تمہارے گناہ معاف ہوچکے، اور میں نے تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12001

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ فِيمَا سَلَفَ مِنْ النَّاسِ انْطَلَقُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِهِمْ فَأَخَذَتْهُمْ السَّمَاءُ فَدَخَلُوا غَارًا فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ مُتَجَافٍ حَتَّى مَا يَرَوْنَ مِنْهُ حُصَاصَةً فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ قَدْ وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ فَادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِي وَالِدَانِ فَكُنْتُ أَحْلِبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا فَآتِيهُمَا فَإِذَا وَجَدْتُهُمَا رَاقِدَيْنِ قُمْتُ عَلَى رُءُوسِهِمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ أَرُدَّ سِنَتَهُمَا فِي رُءُوسِهِمَا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا عَلَى عَمَلٍ يَعْمَلُهُ فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ وَأَنَا غَضْبَانُ فَزَبَرْتُهُ فَانْطَلَقَ فَتَرَكَ أَجْرَهُ ذَلِكَ فَجَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ حَتَّى كَانَ مِنْهُ كُلُّ الْمَالِ فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ ذَلِكَ كُلَّهُ وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ الْأَوَّلَ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا قَالَ فَزَالَ ثُلُثَا الْحَجَرِ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ أَعْجَبَتْهُ امْرَأَةٌ فَجَعَلَ لَهَا جُعْلًا فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهَا وَقَرَّ لَهَا نَفْسَهَا وَسَلَّمَ لَهَا جُعْلَهَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا مَعَانِيقَ يَتَمَاشَوْنَ قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَرْفَعْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گز شتہ زمانہ میں تین آدمی جا رہے تھے راستہ میں بارش شروع ہوگئی یہ تینوں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے ، اوپر سے ایک پتھر آکر دروازہ پر گرا اور غار کا دروازہ بند ہو گیا ، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے پتھر آگرا ، نشانات قدم مٹ گئے اور یہاں تمہاری موجودگی کا اللہ کے علاوہ کسی کو علم نہیں ہے ، لہذا جس شخص نے اپنی دانست میں جو کوئی سچائی کا کام کیا ہو اس کو پیش کر کے خدا سے دعا کرے۔ ایک شخص کہنے لگا الٰہی ! تو واقف ہے کہ مسرے والدین بہت بوڑھے تھے ، میں ان کو روزانہ شام کو اپنی بکریوں کا دودھ (دوھ کر ) دیا کرتا تھا ، ایک روز مجھے (جنگل سے آنے میں ) دیر ہوگئی ، جس وقت میں آیا تو وہ سوچکے تھے اور میرے بیوی بچے بھوک کی وجہ سے چلا رہے تھے ، لیکن میرا قاعدہ تھا کہ جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیتے تھے میں ان کو نہ پلاتا تھا ( اس لئے بڑا حیران ہوا ) نہ تو ان کو بیدار کرنا مناسب معلوم ہوا نہ کچھ اچھا معلوم ہوا کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دوں کہ ( نہ کھانے سے ) کمزوری ہو جائے ، اور صبح تک میں ان کی ( آنکھ کھلنے کے ) انتظار میں ( کھڑا ) رہا ، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میرا یہ فعل تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو ہم سے اس مصیبت کو دور فرما دے ، پتھر ایک تہائی کے قریب کھل گیا ۔ دوسرا شخص بولا، الٰہی ! تو واقف ہے کہ میرے پاس ایک مزدور نے آٹھ سیر چاول مزدوری پر کام کیا تھا لیکن کام کرنے کے بعد وہ مزدوری چھوڑ کر چلا گیا میں نے وہ ( پیمانہ بھر ) چاول لے کر بو دیئے ، نتیجہ یہ ہوا کہ اسی کے حاصل سے میں نے گائے بیل خریدے ، کچھ دنوں کے بعد وہ شخص اپنی مزدوری مانگتا ہوا میرے پاس آیا میں نے کہا یہ گائے بیل لے جا، وہ کہنے لگا میرے تو تیرے ذمہ ایک پیمانہ بھر چاول ہیں ، میں نے جواب دیا یہ گائے بیل لے جا، یہ انہی چاولوں کے ذریعہ سے حاصل ہوئے ہیں ، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میں نے یہ فعل صرف تیرے خوف سے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور فرما دے ، چنانچہ اس کی دعا کی برکت سے پتھر دو تہائی کے قریب کھل گیا۔ تیسرا شخص بولا الٰہی ! تو واقف ہے کہ ایک عورت تھی جو میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب تھی ، جب اس نے اپنے نفس کو میرے قبضے میں دے دیا ، میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور سو دینار پھی چھوڑ دیئے ، الٰہی ! اگر میرا یہ فعل صرف تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو یہ مصیبت ہم سے دور کر دے چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ باہر نکل کر چلنے پھر نے لگے ۔ گذشتہ حدیث اس دوسرے سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12002

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلُهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ قَالَ صَدَقَ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا قَالَ نَعَمْ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ صَدَقَ قَالَ ثُمَّ وَلَّى فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( چونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت سوال کرنے سے ہمیں قرآن میں ممانعت کر دی گئی تھی ، اس لئے ہم دل سے خواہش مند ہوتے تھے کہ کوئی عقل مند بدوی آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مسئلہ دریافت کرے اور ہم سنیں چنانچہ (ایک مرتبہ ) بدوی نے حاضر ہو کر ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عرض کیا کہ آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ خدا نے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا تھا ، بدوی بولا آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا نے ، بدوی بولا آپ کو قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ، پہاڑوں کو قائم کیا (یہ بتائیے کہ) کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کا قاصد کہتا ہے کہ ہم پر دان رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا ، بدوی بولا آب کو اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ( بتایئے) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے کہا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوٰ ۃ نکالنا فرض ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا ، اس نے کہا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو بھیجا کیا اس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پر سال میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا ، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے ( یہ بتائیے کہ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر کعبہ کا حج فرض ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا ! آخر کار وہ بدوی پیٹھ کر جاتے ہوئے کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں کروں گا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12003

حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ أَتَعْرِفِينَ فُلَانَةَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْكِي عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ لَهَا اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي فَقَالَتْ لَهُ إِيَّاكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي قَالَ وَلَمْ تَكُنْ عَرَفَتْهُ فَقِيلَ لَهَا إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِهَا مِثْلُ الْمَوْتِ فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَعْرِفْكَ فَقَالَ إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ

ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کی کسی خاتون سے فرمایا کہ تم فلاں عورت کو جانتی ہو ؟ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے ، اس وقت وہ ایک قبر پر رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ، وہ کہنے لگی کہ مجھ سے پیچھے ہی رہو تمہیں میری مصیبت کا کیا پتہ ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی ، کسی نے بعد میں اسے بتایا کہ یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، یہ سن کر اس پر موت طاری ہوگئی اور فوراً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، وہاں اسے کوئی دربان نظر نہ آیا اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو پہچان نہ پائی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12004

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تمہیں مسواک کرنے کا حکم کثرت سے دیا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12005

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْخِرْبِزِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے ساتھ خربوزہ کھاتے ہوئے دیکھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12006

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ وَيُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ أُمَّتِي فَذَكَرَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کی مثال بارش کی سی ہے کہ کچھ معلوم نہیں اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام ۔ گزشتہ حدیث اس دوسرے سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12007

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا وَلَا فَحَّاشًا وَلَا لَعَّانًا وَكَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَتْ جَبِينُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں دینے والے ، لعنت ملامت کرنے والے یا بیہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے ، عتاب کے وقت بھی صر ف ات نافرماتے تھے کہ اسے کیا ہوگیا ، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12008

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12009

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ وَكَانَ عُمَرُ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق " جبکہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ طویل قرأت نہ کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12010

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ الْعَطَّارَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِهِ وَكَانَ يُكَبِّرُ عَلَيْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور اس پر تکبیر پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12011

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ إِذْ مَرَّ بِهِمْ يَهُودِيٌّ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوهُ فَقَالَ كَيْفَ قُلْتَ قَالَ قُلْتُ سَامٌ عَلَيْكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكَ أَيْ مَا قُلْتَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ، اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو " صرف وعلیک " کہا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12012

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِذَا ابْتُلِيَ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ يُرِيدُ عَيْنَيْهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب کسی شخص کو آنکھوں کے معاملے میں امتحان میں مبتلاء کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو میں اس کا عوض جنت عطاء کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12013

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْ جُمْجُمَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأُعْطَى لِوَاءَ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَإِنِّي آتِي بَابَ الْجَنَّةِ فَآخُذُ بِحَلْقَتِهَا فَيَقُولُونَ مَنْ هَذَا فَيَقُولُ أَنَا مُحَمَّدٌ فَيَفْتَحُونَ لِي فَأَدْخُلُ فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي فَأَسْجُدُ لَهُ فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيَقُولُ اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيرٍ مِنْ الْإِيمَانِ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ فَأُقْبِلُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ ذَلِكَ فَأُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي فَأَسْجُدُ لَهُ فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي أَيْ رَبِّ فَيَقُولُ اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ نِصْفَ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيرٍ مِنْ الْإِيمَانِ فَأَدْخِلْهُمْ الْجَنَّةَ فَأَذْهَبُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَلِكَ أُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي فَأَسْجُدُ لَهُ فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيَقُولُ اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ الْإِيمَانِ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ فَأَذْهَبُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَلِكَ أَدْخَلْتُهُمْ الْجَنَّةَ وَفَرَغَ اللَّهُ مِنْ حِسَابِ النَّاسِ وَأَدْخَلَ مَنْ بَقِيَ مِنْ أُمَّتِي النَّارَ مَعَ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ أَهْلُ النَّارِ مَا أَغْنَى عَنْكُمْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْبَدُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا فَيَقُولُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ فَبِعِزَّتِي لَأُعْتِقَنَّهُمْ مِنْ النَّارِ فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ فَيَخْرُجُونَ وَقَدْ امْتَحَشُوا فَيَدْخُلُونَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي غُثَاءِ السَّيْلِ وَيُكْتَبُ بَيْنَ أَعْيُنِهِمْ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُذْهَبُ بِهِمْ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ فَيَقُولُ الْجَبَّارُ بَلْ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الْجَبَّارِ عَزَّ وَجَلَّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، مجھے لواء حمد دیا جائے گا میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میں جنت کے دروازے پر پہنچ کر اس کا حلقہ پکڑوں گا، اندر سے پوچھا جائے گا کہ کون؟ میں کہوں گا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چنانچہ دروازہ کھل جائے گا اور میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا، اچانک میں پروردگار کے سامنے پہنچ جاؤں گا اور اسے دیکھتے ہی سجدہ ریز ہو جاؤں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھائیے ، بات تو کیجئے، سنی جائے گی، کہیے تو سہی، قبول ہوگا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، چنانچہ میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا پروردگار! میری امت، میری امت، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آپ اپنی امت کے پاس جائیے اور جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جنت میں داخل کر دیجئے، چنانچہ میں ایسا ہی کروں گا اور جس کے دل میں اتنا ایمان محسوس ہوگا اسے جنت میں داخل کرا دوں گا۔ دوسری مرتبہ اسی تمام تفصیل کے ساتھ جو کے نصف دانے کے برابر ایمان رکھنے والوں کو جنت میں داخل کرنے کا حکم ہوگا اور میں ایسا ہی کروں گا، تیسری مرتبہ اسی تمام تفصیل کے ساتھ رائی کے ایک دانے کے برابر ایمان رکھنے والے کو جنت میں داخل کرنے کا حکم ہوگا اور میں ایسا ہی کروں گا، پھر اللہ لوگوں کے حساب کتاب سے فارغ ہو جائے گا اور میری باقی امت کو اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں داخل کر دے گا، جہنمی ان سے کہیں گے کہ تم تو اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، تمہیں اس کا کیا فائدہ ہوا؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی قسم! میں ان لوگوں کو جہنم سے ضرور آزاد کروں گا، چنانچہ اللہ انہیں جہنم سے نکال لے گا ، اس وقت وہ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، پھر انہیں نہر حیات میں غوطہ دلوایا جائے گا اور وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے پر دانے اگ آتے ہیں ، اور ان کی آنکھوں کے درمیان لکھ دیا جائے گا کہ اللہ کے آزاد کردہ لوگ ہیں ، جب یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو اہل جنت کہیں گے کہ یہ جہنمی ہیں ، لیکن اللہ فرمائے گا نہیں ، بلکہ یہ پروردگار کے آزاد کردہ لوگ ہیں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12014

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ وَحَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَأُلْقُوا فِي طُوًى مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ قَالَ وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ قَالَ فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَى بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى إِذَا كَانَ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشُدَّتْ بِرَحْلِهَا ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ قَالُوا فَمَا نَرَاهُ يَنْطَلِقُ إِلَّا لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ قَالَ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الطُّوَى قَالَ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَسَرَّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالَ عُمَرُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ قَالَ قَتَادَةُ أَحْيَاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى سَمِعُوا قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنَقِيمَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس سے کچھ زائد سرداران قریش کے متعلق حکم فرمایا کہ انہیں کھینچ کر بدر کے ایک کنویں میں ان کی تمام تر خباثتوں کے ساتھ پھینک دیا جائے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ کسی قوم پر فتح حاصل ہونے کے بعد وہاں تین راتیں رکتے تھے، اہل بدر پر فتح پانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بھی تین راتیں رکے رہے، تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا، سواری تیار ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف کو چل پڑے، صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، ہمارا خیال تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جا رہے ہیں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں کے دہانے پر پہنچ کر رک گئے، اور انہیں ان کے اور ان کے باپوں کے نام سے پکار پکار کر آوازیں دینے لگے، اور فرمانے لگے کہ کیا اب تمہیں یہ بات اچھی لگ رہی ہے کہ کاش! تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچ پایا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، میں ان سے جو کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بات سننے کے لئے دوبارہ زندگی عطاء فرمائی تھی اور اس کا مقصد زجر و توبیخ، ان کی تحقیر اور سزا تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12015

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ حَدَّثَنَا عَبَّادُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ وَخَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي الَّتِي بِالْمَدِينَةِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَاهُ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ وَكَانَ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ وَعَظَّمَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمْرَهُ جِدًّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے مدینہ منورہ والے گھر میں فرمائی تھی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ہم سے یہ حدیث ابو ابراہیم معقب نے بیان کی تھی جو کہ بہترین انسان تھے اور ابو عبدالرحمن نے ان کی بڑی تعریف بیان کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12016

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12017

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يَعْنِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ هَلْ سَأَلْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ ثَابِتٌ سَأَلْتُ أَنَسًا هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ قَبَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَسُولَهُ وَمَا فَضَحَهُ بِالشَّيْبِ مَا كَانَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ يَوْمَ مَاتَ ثَلَاثُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ وَقِيلَ لَهُ أَفَضِيحَةٌ هُوَ قَالَ أَمَّا أَنْتُمْ فَتَعُدُّونَهُ فَضِيحَةً وَأَمَّا نَحْنُ فَكُنَّا نَعُدُّهُ زَيْنًا

ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال سفید ہوگئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس وقت اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلایا، اس وقت تک انہیں بالوں کی سفیدی سے شرمندہ نہ ہونے دیا، وصال کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی میں تیس بال بھی سفید نہ تھے، کسی نے پوچھا کہ بالوں کا سفید ہونا باعث شرمندگی ہے؟ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ اسے شرمندگی کا سبب سمجھتے ہو، ہم تو اسے سببِ زینت سمجھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12018

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدِيمٍ قَدْ تَغَيَّرَ مِنْ الْقِدَمِ قَالَ وَنَضَحَتْهُ مِنْ مَاءٍ فَسَجَدَ عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک پرانی چٹائی پر " جس کا رنگ بھی پرانا ہونے کی وجہ سے بدل چکا تھا " نماز پڑھی، انہوں نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کر دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12019

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ أَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَكُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ أَشْعَثَ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِي تَبَعٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جہنم اور اہل جنت کے بارے میں بتاؤں ؟ جنتی تو ہر کمزور، پسا ہوا، پراگندہ حال اور فقر وفاقہ کا شکار شخص ہوگا جو اگر اللہ کے نام پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو ضرور پورا کرے اور جہنمی ہر وہ بداخلاق، متکبر، مال کو جمع کرنے والا اور دوسروں کو نہ دینے والا شخص ہے جس کی دنیا میں اتباع کی جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12020

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ فَحْلَةَ فَرَسِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو اپنا نر گھوڑا بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12021

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّاهَا عُمَرُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّاهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12022

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً فَهَلَكَتْ سَبْعُونَ فِرْقَةً وَخَلَصَتْ فِرْقَةٌ وَاحِدَةٌ وَإِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً فَتَهْلِكُ إِحْدَى وَسَبْعِينَ وَتَخْلُصُ فِرْقَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ تِلْكَ الْفِرْقَةُ قَالَ الْجَمَاعَةُ الْجَمَاعَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے جن میں سے ستر فرقے ہلاک ہوگئے تھے اور صرف ایک بچا تھا جب کہ میری امت بہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی جن میں ا کہتر فرقے ہلاک ہو جائیں گے اور صرف ایک فرقہ بچے گا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ایک فرقہ کون سا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جماعت کے ساتھ چمٹا ہوا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12023

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَاحْتَبَسَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو مَا شَأْنُ ثَابِتٍ اشْتَكَى فَقَالَ سَعْدٌ إِنَّهُ لَجَارِي وَمَا عَلِمْتُ لَهُ شَكْوَى قَالَ فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ثَابِتٌ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے ایمان والو! نبی کی آواز پر اپنی آواز کو اونچا نہ کیا کرو، تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ " جن کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی " کہنے لگے کہ میری ہی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی بن گیا، اور یہ سوچ کر اپنے گھر ہی میں غمگین ہو کر بیٹھ رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر حاضری کے متعلق دریافت کیا تو کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری غیر حاضری کے متعلق پوچھ رہے تھے، کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے کہ میں ہی تو وہ ہوں جس کی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے اور میں بات کرتے ہوئے اونچا بولتا ہوں ، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی ہوگیا، لوگوں نے یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ذکر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ وہ تو جنتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12024

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَأَرْسَلَهُ مَعَهُمْ فَقَالَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں ، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12025

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا فَأْمُرْهُ أَنْ يُعْطِيَنِي حَتَّى أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطِهَا إِيَّاهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ فَأَبَى فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَقَالَ بِعْنِي نَخْلَتَكَ بِحَائِطِي فَفَعَلَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي قَالَ فَاجْعَلْهَا لَهُ فَقَدْ أَعْطَيْتُكَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَاحَ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ قَالَهَا مِرَارًا قَالَ فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَقَالَ يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ اخْرُجِي مِنْ الْحَائِطِ فَإِنِّي قَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ فَقَالَتْ رَبِحَ الْبَيْعُ أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں آدمی کا ایک باغ ہے، میں وہاں اپنی دیوار قائم کرنا چاہتا ہوں ، آپ اسے حکم دیجئے کہ وہ مجھے یہ جگہ دے دے تاکہ میں اپنی دیوار کھڑی کر لوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعلقہ آدمی سے کہہ دیا کہ جنت میں ایک درخت کے بدلے تم اسے یہ جگہ دے دو، لیکن اس نے انکار کر دیا، حضرت ابوالدحداح رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو وہ اس کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ اپنا باغ میرے باغ کے عوض فروخت کر دو، اس نے بیچ دیا، وہ اسے خریدنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے وہ باغ اپنے باغ کے بدلے خرید لیا ہے، آپ یہ اس شخص کو دے دیجئے، کہ میں نے یہ باغ آپ کو دے دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر کئی مرتبہ فرمایا کہ ابوالدحداح کے لئے جنت میں کتنے بہترین گھچے ہیں ، اس کے بعد وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کہ اے ام دحداح! اس باغ سے نکل چلو کہ میں نے اسے جنت کے باغ کے عوض فروخت کر دیا ہے، ان کی بیوی نے کہا کہ کامیاب تجارت کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12026

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ الْحَجَّامُ رَأْسَهُ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ شَعَرَ أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ بِيَدِهِ فَأَخَذَ شَعَرَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَ فَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَدُوفُهُ فِي طِيبِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے ، پھر وہ بال ام سلیم اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال کر ہلا لیا کرتی تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12027

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ عَنْ وَفَاءٍ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَثْقَفُونَهُ كَمَا يَثْقَفُونَ الْقَدَحَ يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، ہم میں عربی، عجمی اور کالے گورے، ہر طرح کے لوگ موجود تھے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ تم بھلائی پر ہو (اور بہترین زمانے میں ہو) کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں ، عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگ ایسے کھڑ کھڑائیں گے جیسے برتن کھڑ کھڑاتے ہیں ، وہ اپنا اجر فوری وصول کر لیں گے، آگے کے لئے کچھ نہ رکھیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12028

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مَوْهُوبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ يُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً مَتَى تُوَافِقُهَا أُصَلِّي مَعَكَ وَمَتَى تُخَالِفُهَا أُصَلِّي وَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي

مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اگر تم اس کی موافقت کرو گے تو میں تمہارے ساتھ نماز پڑھوں گا اور اگر تم اس کے خلاف کرو گے تو میں اپنی نماز اکیلے پڑھ کر گھر چلا جاؤں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12029

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ فَفَعَلَ وَسَأَلْتُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اور نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے شوق اور خوف والی نماز پڑھی، میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزوں کی درخواست کی، اس نے مجھے دو چیزیں عطاء فرما دیں اور ایک سے روک دیا، میں نے یہ درخواست کی کہ میری امت قحط سالی میں مبتلاء ہو کر ہلاک نہ ہو، اللہ نے منظور کر لیا، میں نے دوسری درخواست کی کہ دشمن کو ان پر مکمل غلبہ نہ دیا جائے، اللہ نے اسے بھی منظور کر لیا، پھر میں نے تیسری درخواست یہ پیش کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ ہونے دیا جائے لیکن اللہ نے اسے منظور نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12030

حَدَّثَنَا هَارُونُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ غَيْرَ مَرَّةٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفُرِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے وضو کر رکھا تھا لیکن پاؤں پر ناخن برابر جگہ چھوٹ گئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا واپس جا کر اچھی طرح وضو کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12031

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ رُبُعُ الْقُرْآنِ وَإِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ رُبُعُ الْقُرْآنِ وَإِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ رُبُعُ الْقُرْآنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت کافرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے، سورت زلزال چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورت نصر بھی چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12032

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُصِيبَنَّ أَقْوَامًا سَفْعٌ مِنْ النَّارِ عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا ثُمَّ لَيُدْخِلُهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ فَيُقَالُ لَهُمْ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12033

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12034

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَمَّادٌ وَالْجَعْدُ قَدْ ذَكَرَهُ قَالَ عَمَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى نِصْفِ مُدٍّ شَعِيرٍ فَطَحَنَتْهُ ثُمَّ عَمَدَتْ إِلَى عُكَّةٍ كَانَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً قَالَ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَرْسَلَتْنِي إِلَيْكَ تَدْعُوكَ فَقَالَ أَنَا وَمَنْ مَعِي قَالَ فَجَاءَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ قَالَ فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ لِأَبِي طَلْحَةَ قَدْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَمَشَى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ خَطِيفَةٌ اتَّخَذَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ مِنْ نِصْفِ مُدٍّ شَعِيرٍ قَالَ فَدَخَلَ فَأُتِيَ بِهِ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهَا ثُمَّ قَالَ أَدْخِلْ عَشَرَةً قَالَ فَدَخَلَ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ دَخَلَ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا ثُمَّ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا ثُمَّ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا حَتَّى أَكَلَ مِنْهَا أَرْبَعُونَ كُلُّهُمْ أَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا قَالَ وَبَقِيَتْ كَمَا هِيَ قَالَ فَأَكَلْنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نصف مد کے برابر جو پیسے، پھر گھی کا ڈبہ اٹھایا، اس میں سے تھوڑا سا جو گھی تھا وہ نکالا، اور ان دونوں چیزوں کا ملا کر " خطیفہ " (ایک قسم کا کھانا) تیار کیا اور مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لئے بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھی؟ یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔ میں نے جلدی سے گھر پہنچ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے ساتھیوں کو بھی لے آئے، یہ سن کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں چلتے چلتے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہاں تو تھوڑا سا " خطیفہ " ہے جو ام سلیم نے نصف مد کے برابر جو سے بنایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے گھر پہنچے تو وہ کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ، چنانچہ دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر دس دس کر کے چالیس آدمیوں نے وہ کھانا کھالیا اور خوب سیر ہو کر سب نے کھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی رہا، ہم نے بھی اسے کھایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12035

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ اطَّلَعَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا بِرِيحِهَا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کی درمیانی جگہ روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے اور اس کا سر کا دوپٹہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12036

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَرَفَةَ مِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهِلُّ لَا يُعَابُ عَلَى الْمُكَبِّرِ تَكْبِيرُهُ وَلَا عَلَى الْمُهِلِّ إِهْلَالُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان میں سے کوئی کسی پر عیب نہیں لگاتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12037

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ قَالَ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَانْطَلَقَ قِبَلَ الصَّوْتِ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا قَدْ اسْتَبْرَأَ لَهُمْ الصَّوْتَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ لِلنَّاسِ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا وَقَالَ لِلْفَرَسِ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ الْفَرَسُ قَبْلَ ذَلِكَ يُبَطَّأُ قَالَ مَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بے زین گھوڑے پر سوار ہیں ، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا، حالانکہ پہلے وہ گھوڑا سست تھا لیکن اس کے بعد اس سے کوئی گھوڑا آگے نہ بڑھ سکا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12038

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ زَرْعًا أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے، یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے ، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12039

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا أَوْ تَبِيعَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12040

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ فِي قَدَحٍ رَحْرَاحٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْقَدَحِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ وَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ مِنْهُ وَيَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ قَالَ وَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ قَالَ فَحَزَرْتُ الْقَوْمَ فَإِذَا مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کشادہ پیالے میں پانی منگوایا، اور اپنی انگلیاں اس پیالے میں رکھ دیں ، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابل رہا ہے، اور لوگ اس سے وضو کرتے رہے میں نے اندازہ کیا تو لوگوں کی تعداد ستر سے اسی کے درمیان تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12041

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ ابْنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَ بَنَاتٍ أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَ أَخَوَاتٍ حَتَّى يَمُتْنَ أَوْ يَمُوتَ عَنْهُنَّ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دو یا تین بیٹیوں یا بہنوں کا ذمہ دار بنا (اور ذمہ داری نبھائی) یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئیں ، یا وہ شخص خود فوت ہوگیا تو میں اور وہ ان دو انگلیوں کی طرح ساتھ ہوں گے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12042

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا قَالَ يَقُولُ أَيْ رَبِّ ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الْأَجَلُ قَالَ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ماں کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، جو اپنے اپنے وقت پر یہ کہتا رہتا ہے کہ پروردگار! اب نطفہ بن گیا، پروردگار! اب گوشت کی بوٹی بن گیا، پھر جب اللہ اسے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار! یہ شقی ہوگا یا سعید؟ مذکر ہوگا یا مونث؟ اور عمر کتنی ہوگی؟ یہ سب چیزیں ماں کے پیٹ میں لکھ دی جاتی ہیں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12043

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ان کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12044

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الصَّيْقَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجْنَا نَصْرُخُ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً قَالَ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً وَلَكِنْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے، مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیں ، اور فرمایا اگر وہ بات جو بعد میں میرے سامنے آئی پہلے آجاتی تو میں بھی اسے عمرہ بنا لیتا لیکن میں ہدی کا جانور اپنے ساتھ لایا ہوں ، اور حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا ہوا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12045

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو رَبِيعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ابْتَلَى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ قَالَ اللَّهُ اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ فَإِنْ شَفَاهُ غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ وَإِنْ قَبَضَهُ غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ مسلم کو جسمانی طور پر کسی بیماری میں مبتلاء کرتا ہے تو فرشتوں سے کہہ دیتا ہے کہ یہ جتنے نیک کام کرتا ہے ان کا ثواب برابر لکھتے رہو، پھر اگر اسے شفاء مل جائے تو اللہ اسے دھو کر پاک صاف کر چکا ہوتا ہے اور اگر اسے اپنے پاس واپس بلا لے تو اس کی مغفرت کر دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12046

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے سرخ ٹیلے کے قریب گذرا تو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12047

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ فَرَكِبْتُهُ فَسَارَ بِي حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَرَبَطْتُ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ فِيهَا الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ دَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ قَالَ جِبْرِيلُ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ وَمَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَقِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ وَمَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَقِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِابْنَيْ الْخَالَةِ يَحْيَى وَعِيسَى فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام وَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَقِيلَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ الْبَابُ فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَقِيلَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَقِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا هُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَهَا تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصِفَهَا مِنْ حُسْنِهَا قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ مَا أَوْحَى وَفَرَضَ عَلَيَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسِينَ صَلَاةً فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ قَالَ قُلْتُ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ وَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقُلْتُ أَيْ رَبِّ خَفِّفْ عَنْ أُمَّتِي فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مَا فَعَلْتَ قُلْتُ حَطَّ عَنِّي خَمْسًا قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قَالَ فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسَى وَيَحُطُّ عَنِّي خَمْسًا خَمْسًا حَتَّى قَالَ يَا مُحَمَّدُ هِيَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ فَتِلْكَ خَمْسُونَ صَلَاةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى لَقَدْ اسْتَحَيْتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج میرے پاس براق لایا گیا جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا جانور تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پڑتی تھی، میں اس پر سوار ہوا، پھر روانہ ہو کر بیت المقدس پہنچا اور اس حلقے سے اپنی سواری باندھی جس سے دیگر انبیاء علیہم السلام باندھتے چلے آئے تھے، پھر وہاں داخل ہو کر دو رکعتیں پڑھیں ، پھر وہاں سے نکلا تو جبریل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک دودھ کا برتن لائے، میں نے دودھ والا برتن منتخب کرلیا، حضرت جبریل علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ نے فطرت کو پالیا۔ پھر آسمان دنیا کی طرف لے کر چلے اور اس کے دروازہ کو کھٹکھٹایا، اہل آسمان نے کہا کہ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبریل، انہوں نے کہا کہ تمہارے ہمراہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، انہوں نے کہا کیا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ، انہوں نے دروازہ کھول دیا اور پہلے ہی آسمان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات کی، انہوں نے خوش آمدید کہا اور دعا دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبریل علیہ السلام لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے اس کے دروازے پر بھی فرشتوں نے پہلے آسمان کی طرح سوال کیا کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا جبریل، انہوں نے کہا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے کہا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انہوں نے دروازہ کھول دیا، وہاں حضرت یحیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی۔ پھر تیسرے آسمان پر تشریف لے گئے اور وہاں بھی یہی گفتگو ہوئی جو دوسرے میں ہوئی تھی، پھر چوتھے پر چڑھے اور وہاں بھی یہی گفتگو ہوئی، پھر پانچویں آسمان پر پہنچے وہاں بھی یہی گفتگو ہوئی، پھر چھٹے آسمان پر چڑھے وہاں کے فرشتوں نے بھی یہی گفتگو کی، پھر ساتویں آسمان پر پہنچے وہاں کے فرشتوں نے بھی یہی کیا۔ تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی جنہیں اللہ نے بلند جگہ اٹھالیا تھا، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، وہ بیت المعمور سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور دوبارہ ان کی باری نہیں آتی۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ لے جایا گیا جس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابر اور پھل ہجر کے مٹکے برابر تھے، جب اللہ کے حکم سے اس چیز نے اسے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا تو وہ بدل گیا اور اب کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ اس کا حسن بیان کر سکے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی کرنا تھی وہ وحی کی، منجملہ اس کے یہ بھی وحی کی کہ تمہاری امت پر پچاس نمازیں روزوشب میں فرض ہیں ۔ پھر رسول انور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نیچے تشریف لائے یہاں تک کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تمہارے پروردگار نے تم سے کیا عہد لیا ہے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر روز و شب میں پچاس نمازیں فرض کی ہیں ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تمہاری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، اپنے رب کے پاس واپس جا کر اس سے تخفیف کی درخواست کیجئے، کیونکہ میں بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جناب باری میں گئے اور اسی اپنی جگہ میں پہنچ کر عرض کیا کہ اے پروردگار! ہم پر تخفیف فرما، اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں معاف فرما دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے، انہوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پروردگار کے حضور بھیجا۔ غرض کہ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام رسول انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! روزانہ دن رات میں پانچ نمازیں ہیں اور ہر نماز پر دس کا ثواب ہے لہٰذا یہ پچاس نمازیں ہوگئیں ، جو شخص نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرسکے اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی، اور اگر عمل کرلیا تو دس نیکیاں لکھ دوں گا، اور جو شخص گناہ کا ارادہ کرلے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو کچھ نہیں لکھا جائے گا اور اگر اس پر عمل بھی کرلے تو صرف ایک گناہ لکھا جائے گا، میں نے واپس آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتایا تو انہوں نے پھر تخفیف کا مشورہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کے پاس اتنی مرتبہ جا چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آ رہی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12048

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ وَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ ثُمَّ شَقَّ الْقَلْبَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَقَالَ هَذِهِ حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ قَالَ فَغَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ قَالَ وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ فَقَالُوا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ قَالَ فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ قَالَ أَنَسٌ وَكُنْتُ أَرَى أَثَرَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اچانک ایک شخص آیا اور اس نے مجھے پکڑ کر میرا پیٹ چاک کیا، اور اس میں سے خون کا جما ہوا ایک ٹکڑا نکالا اور اسے پھینک کر کہنے لگا کہ یہ آپ کے جسم میں شیطان کا حصہ تھا، پھر اس نے سونے کی طشتری میں رکھے ہوئے آب زم زم سے پیٹ کو دھویا اور پھر اسے سی کر ٹانکے لگا دیے ، یہ دیکھ کر سب بچے دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) قتل ہوگئے، والدہ دوڑتی ہوئی آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو رہا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشان دیکھا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12049

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي الطَّبَّاعَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ قُومُوا فَأُصَلِّيَ لَكُمْ قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لَبِثَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی دادی حضرت ملیکہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمانے کے بعد فرمایا اٹھو، میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر ایک چٹائی لے آیا جو طویل عرصہ تک استعمال ہونے کی وجہ سے سیاہ ہو چکی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑک دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوگئے، میں اور ایک یتیم بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور بڑی بی ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور واپس تشریف لے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12050

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنْ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نیک مسلمان کا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12051

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنِ الْعَلَاءِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ تَذَاكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ قَامَ نَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا

علاء ابن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم ظہر کی نماز پڑھ رہے کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، کچھ ہی دیر بعد وہ عصر کی نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے کہا کہ عصر کی نماز اتنی جلدی؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12052

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا کہ اس پہاڑ سے ہم محبت کرتے ہیں اور یہ ہم سے محبت کرتا ہے، اے اللہ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12053

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَكَأَنَّهُ دَخَلَهُ لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ حَمَّادٍ أَوْ فِي الْحَدِيثِ فَجَاءَ زَيْدٌ يَشْكُوهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ قَالَ فَنَزَلَتْ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ إِلَى قَوْلِهِ زَوَّجْنَاكَهَا يَعْنِي زَيْنَبَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے، وہاں صرف ان کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نظر آئیں ، تھوڑی دیر بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کی شکایت لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو، اس پر یہ آیت نازل ہوئی " واتق اللہ وتخفی فی نفسک''

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12054

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں سورت اخلاص سے محبت رکھتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اس سورت سے محبت کرنا تمہیں جنت میں داخل کروا دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12055

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمِّهِ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُهُ مِنْ الصَّحْفَةِ فَلَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برتن میں کدو کے ٹکڑے تلاش کرتے ہوئے دیکھا تو میں اس وقت سے اسے پسند کرنے لگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12056

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَأَخْبِرْهُ قَالَ فَلَقِيَهُ بَعْدُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ فَقَالَ لَهُ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟ اس نے کہا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا کر اسے بتا دو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں ، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12057

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ عَنْ قُرَيْشٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جمعہ کی نماز زوال کے وقت ہی پڑھا دیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12058

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَطِيَّةَ يَعْنِي الْحَكَمَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ فِيهِ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ وَمَا مِنْهُمْ أَحَدٌ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ حُبْوَتِهِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے تو وہاں انصار و مہاجرین سب ہی موجود ہوتے، لیکن سوائے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے کوئی اپنا سر نہ اٹھاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکراتے اور وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر مسکراتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12059

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْخَزَّازَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَسْوَدَ كَانَ يُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ فَدُفِنَ لَيْلًا وَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَى قَبْرِهِ فَانْطَلَقُوا إِلَى قَبْرِهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي مَاتَ وَلَمْ تُصَلِّ عَلَيْهِ قَالَ فَأَيْنَ قَبْرُهُ فَأَخْبَرَهُ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْأَنْصَارِيِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک حبشی مسجد کی صفائی کرتا تھا، ایک دن وہ فوت ہوگیا اور لوگوں نے راتوں رات اس کو دفن کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اس کی قبر پر چلو، چنانچہ وہ اس کے قبر پر گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان قبروں میں رہنے والوں پر ظلمت چھائی ہوئی ہے، میری نماز کی برکت سے اللہ انہیں منور کر دے گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر نماز جنازہ پڑھی، اس پر ایک انصاری کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا بھائی فوت ہوا تھا لیکن آپ نے اس کی قبر پر نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قبر کہاں ہے؟ انصاری نے اس کی نشاندہی کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ بھی چلے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12060

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَبِي وَأَمْلَاهُ عَلَيْنَا يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ فَقَالَ قَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ أَحْسَبُهُ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12061

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِمَا مَاتَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَقَالُوا بِالطَّاعُونِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ابن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے؟ انہوں نے بتایا کہ طاعون کی بیماری سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12062

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقُولُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے یہاں تک کہ اسے پتہ چلنے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12063

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، کیونکہ میں ایسے عفیف اور صابر لوگ نہیں جانتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12064

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَهُ نِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ وَخَدَمٌ جَائِينَ مِنْ عُرْسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انصار کی کچھ عورتیں ، بچے اور خادم ایک شادی سے آتے ہوئے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور فرمایا اللہ کی قسم! میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12065

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا قَالُوا وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ قَالَ حِلَقُ الذِّكْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم جنت کے باغات سے گذرو تو اس کا پھل کھایا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا جنت کے باغات سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذکر کے حلقے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12066

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ يَعْنِي أَبَا هَاشِمٍ صَاحِبَ الْبَغُوتِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ بِلَالًا بَطَّأَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَبَسَكَ فَقَالَ مَرَرْتُ بِفَاطِمَةَ وَهِيَ تَطْحَنُ وَالصَّبِيُّ يَبْكِي فَقُلْتُ لَهَا إِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الرَّحَا وَكَفَيْتِنِي الصَّبِيَّ وَإِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الصَّبِيَّ وَكَفَيْتِنِي الرَّحَا فَقَالَتْ أَنَا أَرْفَقُ بِابْنِي مِنْكَ فَذَاكَ حَبَسَنِي قَالَ فَرَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نمازِ فجر میں کچھ تاخیر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گذرا، وہ آٹا پیس رہی تھیں اور بچہ رو رہا تھا، میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آٹا پیس دیتا ہوں اور آپ بچے کو سنبھال لیں ، اور اگر آپ چاہیں تو میں بچے کو سنبھال لیتا ہوں اور آپ آٹا پیس لیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے بچے پر میں زیادہ نرمی کرسکتی ہوں ، اس وجہ سے مجھے دیر ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس پر رحم کھایا، اللہ تم پر رحم فرمائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12067

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12068

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ وَمَا عَلَى الْأَرْضِ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْهُ فَمَا نَقُومُ لَهُ لِمَا نَعْلَمُ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہماری نگاہوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا، لیکن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12069

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ وَتُشْرَبَ الْخُمُورُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علاماتِ قیامت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ علم اٹھالیا جائے گا، جہالت چھا جائے گی، شرابیں پی جائیں گی اور بدکاری کا دور دورہ ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12070

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُخَيْسِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ فُلَانٌ قَالَ كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ عَبَاءَةً غَلَّهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں ، میں نے تو اس پر ایک عباء دیکھی تھی جو اس نے فلاں دن مال غنیمت میں سے خیانت کر کے حاصل کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12071

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَبُو غَالِبٍ الْبَاهِلِيُّ شَهِدَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ يَا أَبَا حَمْزَةَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بُعِثَ قَالَ ابْنَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ ثُمَّ كَانَ مَاذَا قَالَ كَانَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ فَتَمَّتْ لَهُ سِتُّونَ سَنَةً ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ قَالَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ هُوَ يَوْمَئِذٍ قَالَ كَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَحْسَنِهِ وَأَجْمَلِهِ وَأَلْحَمِهِ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ غَزَوْتُ مَعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ بِكَثْرَةٍ فَحَمَلُوا عَلَيْنَا حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا وَفِي الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا فَيَدُقُّنَا وَيُحَطِّمُنَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوَلَّوْا فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى الْفَتْحَ فَجَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاءُ بِهِمْ أُسَارَى رَجُلًا رَجُلًا فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا لَئِنْ جِيءَ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمِ يُحَطِّمُنَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ قَالَ فَسَكَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجِيءَ بِالرَّجُلِ فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُبْتُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُبْتُ إِلَى اللَّهِ فَأَمْسَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُبَايِعْهُ لِيُوفِيَ الْآخَرُ نَذْرَهُ قَالَ فَجَعَلَ يَنْظُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ وَجَعَلَ يَهَابُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا يَأْتِيهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَذْرِي قَالَ لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَّا لِتُوفِيَ نَذْرَكَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ

ایک مرتبہ علاء بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوحمزہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کتنے سال کے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے؟ انہوں نے فرمایا چالیس سال کے، علاء نے پوچھا اس کے بعد کیا ہوا؟ انہوں نے فرمایا کہ دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں رہے، اس طرح ساٹھ سال پورے ہوگئے، اس کے بعد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلالیا، علاء نے پوچھا کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس عمر کے آدمی محسوس ہوتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے ایک حسین و جمیل اور بھرے جسم والا نوجوان ہوتا ہے، علاء بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ نے پھر پوچھا ابوحمزہ! کیا آپ نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین میں موجود تھا، مشرکین کثرت سے باہر نکلے اور ہم پر حملہ کر دیا، یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کی پشت کے پیچھے دیکھا اور کفار میں ایک شخص تھا جو کہ ہم لوگوں پر حملہ کرتا تھا اور تلوار سے زخمی کر دیتا تھا اور مارتا تھا یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر پڑے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دے دی، اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے، فتح حاصل ہوتے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ایک ایک کر کے اسیران جنگ لائے جانے لگے اور وہ آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کرنے لگے۔ ایک شخص نے جو کہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھا اس بات کی نذر مانی کہ اگر اس شخص کو قیدی بنا کر لایا گیا جس نے اس دن ہم لوگوں کو زخمی کردیا تھا تو اس کو قتل کردوں گا۔ یہ بات سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے اور وہ شخص لایا گیا، جب اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اللہ سے توبہ کرلی (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کرنے میں توقف فرمایا اس خیال سے کہ وہ صحابی رضی اللہ عنہ اپنی نذر مکمل کرلے (یعنی اس شخص کو جلد از جلد قتل کرڈالے لیکن وہ صحابی اس بات کے انتظار میں تھے کہ آپ اس شخص کو قتل کرنے کا حکم فرمائیں گے تو میں اس شخص کو قتل کروں اور میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ میں اس شخص کو قتل کردوں اور آپ مجھ سے ناراض ہوجائیں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ صحابی کچھ نہیں کر رہے یعنی کسی طریقہ پر اس شخص کو قتل نہیں کرتے تو بالآخر مجبوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیعت فرمالیا۔ اس پر صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نذر کس طریقہ پر مکمل ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت تک جو رکا رہا اور میں نے اس شخص کو بیعت نہیں کیا تو اس خیال سے کہ تم اپنی نذر مکمل کرلو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے مجھے اشارہ کیوں نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیغمبر کے لئے آنکھ سے خفیہ اشارہ کرنا مناسب نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12072

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لَنَا لِأَبِي طَلْحَةَ يَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِهِ قَالَ وَبِلَالٌ يَمْشِي وَرَاءَهُ يُكَرِّمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى جَنْبِهِ فَمَرَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ فَقَامَ حَتَّى لَمَّ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ وَيْحَكَ يَا بِلَالُ هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ قَالَ مَا أَسْمَعُ شَيْئًا قَالَ صَاحِبُ الْقَبْرِ يُعَذَّبُ قَالَ فَسُئِلَ عَنْهُ فَوُجِدَ يَهُودِيًّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغات میں قضاء حاجت کے لئے جارہے تھے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہے تھے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں چلنا بے ادبی سمجھتے تھے، چلتے چلتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک قبر کے پاس سے ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی آپہنچے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہائے بلال! کیا تمہیں بھی وہ آواز سنائی دے رہی ہے جو میں سن رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے تو کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ یہودی تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12073

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ قَدْ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمِيطِي عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا فَإِنَّهُ لَا تَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلَاتِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا جو انہوں نے اپنے گھر کے ایک کونے میں لٹکا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ پردہ یہاں سے ہٹا دو، کیونکہ اس کی تصاویر مسلسل نماز میں میرے سامنے آتی رہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12074

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَعَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ إِنِّي اشْتَكَيْتُ فَقَالَ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ بَلَى قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا

عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس ثابت کے ساتھ گئے،ثابت نے اپنی بیماری کے متعلق بتایا، انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ منتر نہ بتاؤں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ، فرمایا یوں کہو اے اللہ! لوگوں کے رب! تکالیف کو دور کرنے والے! شفاء عطاء فرما کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی شفاء دینے والا نہیں ہے، ایسی شفاء عطاء فرما جو بیماری کا نام ونشان بھی نہ چھوڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12075

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمُتَخَلِّفُونَ عَنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الْغَدَاةِ مَا لَهُمْ فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر نمازِ عشاء اور نمازِ فجر سے پیچھے رہ جانے والوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نمازوں کا کیا ثواب ہے تو وہ ان میں ضرور شرکت کریں اگرچہ گھٹنوں کے بل ہی آنا پڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12076

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سِنَانٌ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ غُصْنًا فَنَفَضَهُ فَلَمْ يَنْتَفِضْ ثُمَّ نَفَضَهُ فَلَمْ يَنْتَفِضْ ثُمَّ نَفَضَهُ فَانْتَفَضَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَنْفُضُ الْخَطَايَا كَمَا تَنْفُضُ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی درخت کو پکڑ کر ہلایا لیکن اس کے پتے نہیں جھڑے، دوبارہ ہلانے پر بھی نہ جھڑے، البتہ تیسری مرتبہ ہلانے پر اس کے پتے جھڑنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر سے گناہ اسی طرح جھڑجاتے ہیں جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12077

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ وَلَدِهِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَبَوَيْهِ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مسلمان آدمی جس کے تین نابالغ بچے فوت ہوگئے ہوں ، اللہ ان بچوں کے ماں باپ کو اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12078

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنْ النَّارِ إِبْلِيسُ فَيَضَعُهَا عَلَى حَاجِبِهِ وَيَسْحَبُهَا مِنْ خَلْفِهِ وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ يُنَادِي وَا ثُبُورَاهُ وَيُنَادُونَ يَا ثُبُورَهُمْ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ حَتَّى يَقِفُوا عَلَى النَّارِ فَيَقُولُ يَا ثُبُورَاهُ وَيَقُولُونَ يَا ثُبُورَهُمْ فَيُقَالُ لَهُمْ لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا قَالَ عَفَّانُ وَذُرِّيَّتُهُ خَلْفَهُ وَهُمْ يَقُولُونَ يَا ثُبُورَهُمْ قَالَ عَفَّانُ حَاجِبَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کا لباس سب سے پہلے ابلیس کو پہنایا جائے گا اور وہ اسے اپنی ابروؤں پر رکھے گا، اس کے پیچھے اس کی ذریت گھستی چلی آرہی ہوگی، شیطان ہائے ہلاکت کی آواز لگا رہا ہوگا اور اس کی ذریت بھی ہائے ہلاکت کہہ رہی ہوگی، یہی کہتے کہتے وہ جہنم کے پاس پہنچ کر رک جائیں گے، شیطان پھر یہی کہے گا ہائے ہلاکت اور اس کی ذریت بھی یہی کہے گی، اس موقع پر ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک ہلاکت کو نہ پکارو، کئی ہلاکتوں کو پکارو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12079

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12080

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ أَنْ لَا تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12081

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith (internal ref #2151522)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ الْحَبَشَةُ يَزْفِنُونَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَرْقُصُونَ وَيَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُونَ قَالُوا يَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ کچھ حبشی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رقص کرتے ہوئے یہ گا رہے تھے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نیک آدمی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہے ہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نیک آدمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12082

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ الْحَبَشَةُ يَزْفِنُونَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَرْقُصُونَ وَيَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُونَ قَالُوا يَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ کچھ حبشی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رقص کرتے ہوئے یہ گا رہے تھے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نیک آدمی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہے ہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نیک آدمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12083

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ فَيَبْقَى مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُنْشِئُ اللَّهُ تَعَالَى لَهَا يَعْنِي خَلْقًا حَتَّى يَمْلَأَهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو جنت میں کھچ جگہ زائدبچ جائے گی اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کو بھر دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12084

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ فَإِذَا هُوَ نَهَرٌ يَجْرِي كَذَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ لَيْسَ مَشْفُوفًا فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى تُرْبَتِهِ فَإِذَا مِسْكَةٌ ذَفِرَةٌ وَإِذَا حَصَاهُ اللُّؤْلُؤُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے کوثر عطاء کی گئی ہے، وہ ایک نہر سے جو سطح زمین پر بھی بہتی ہے، اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے ہیں ، جنہیں توڑا نہیں گیا، میں نے ہاتھ لگا کر اس کی مٹی کو دیکھا تو وہ مشک خالص تھی، اور اس کی کنکریاں موتی تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12085

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا خَالُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ أَوَخَالٌ أَنَا أَوْ عَمٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بَلْ خَالٌ فَقَالَ لَهُ قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ هُوَ خَيْرٌ لِي قَالَ نَعَمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا ماموں جان! لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیجئے، اس نے کہا ماموں یا چچا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، ماموں ! لا الہ الا اللہ کہہ لیجئے، اس نے پوچھا کہ کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12086

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْوَاتًا فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ لَوْ تَرَكُوهُ فَلَمْ يُلَقِّحُوهُ لَصَلُحَ فَتَرَكُوهُ فَلَمْ يُلَقِّحُوهُ فَخَرَجَ شِيصًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكُمْ قَالُوا تَرَكُوهُ لِمَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ فَإِذَا كَانَ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں کچھ آوازیں پڑیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیسی آوازیں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ کھجور کی پیوند کاری ہو رہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لوگ پیوند کاری نہ کریں تو شاید ان کے حق میں بہتر ہو، چنانچہ لوگوں نے اس سال پیوند کاری نہیں کی، جس کی وجہ سے اس سال کھجور کی فصل اچھی نہ ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ کے کہنے پر لوگوں نے پیوند کاری نہیں کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا کوئی دنیوی معاملہ ہو تو وہ تم مجھ سے بہتر جانتے ہو اور اگر دین کا معاملہ ہو تو اسے لے کر میرے پاس آیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12087

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12088

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُعْجِبُهُ الْفَاغِيَةُ وَكَانَ أَعْجَبُ الطَّعَامِ إِلَيْهِ الدُّبَّاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حنا کی کلی بہت پسند تھی اور کھانوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا کدو تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12089

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكُونُ فِي الصَّلَاةِ فَيَقْرَأُ سُورَةً خَفِيفَةً مِنْ أَجْلِ الْمَرْأَةِ وَبُكَاءِ الصَّبِيِّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات نماز میں ہوتے تھے لیکن کسی بچے کے رونے کی وجہ سے اس کی ماں کی خاطر نماز مختصر کر دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12090

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَهُ جَبْذَةً حَتَّى رَأَيْتُ صَفْحَ أَوْ صَفْحَةَ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَعْطِنِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، راستے میں ایک دیہاتی مل گیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو ایسے گھسیٹا کہ اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک پر پڑ گئے اور کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور صرف مسکرا دیئے، پھر اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12091

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أيُّوبَ الْغَافِقِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ وَإِنْ كَانَ كَافِرًا فَإِنَّهُ لَيْسَ دُونَهَا حِجَابٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مظلوم کی بد دعاء سے بچا کرو، اگرچہ وہ کافر ہی ہو، کیونکہ اس کی دعاء میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12092

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12093

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا وَخَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِتَقْوَاكُمْ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ الشَّيْطَانُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي الَّتِي أَنْزَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اے ہمارے سردار ابن سردار، اے ہمارے خیر ابن خیر! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کر لو، شیطان تم پر حملہ نہ کر دے، میں صرف محمد بن عبداللہ ہوں ، اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں ، بخدا! مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے کہ تم مجھے میرے مرتبے " جو اللہ کے یہاں ہے " بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12094

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یوں کہتے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا، ہماری کفایت کی اور ٹھکانہ دیا، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی کوئی کفایت کرنے والا یا انہیں ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12095

حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ فَمَرَّ عَلَى حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ فَحَامَتْ الْبَغْلَةُ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کسی قبر میں عذاب ہورہا تھا، چنانچہ خچر بدک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذابِ قبر کی آواز سناد ے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12096

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى فَأَشَارَ بِظَهْرِ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعاء کی تو ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ آسمان کی جانب کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12097

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرکین کے ساتھ ا پنی جان، مال اور زبان اور ہاتھ کے ذریعے جہاد کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12098

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں ایک کمان رکھنے کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12099

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ فَيَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا إِلَّا الشَّهِيدَ فَإِنَّ الشَّهِيدَ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت میں نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی فضیلت نظر آرہی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12100

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت المعمور ساتویں آسمان پر ہے، جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ، اور دوبارہ ان کی باری نہیں آتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12101

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کو مشقتوں سے اور جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12102

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنْ النَّارِ إِبْلِيسُ يَضَعُهَا عَلَى حَاجِبَيْهِ وَهُوَ يَسْحَبُهَا مِنْ خَلْفِهِ وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ يَقُولُ يَا ثُبُورَاهُ وَهُمْ يُنَادُونَ يَا ثُبُورَاهُمْ حَتَّى يَقِفَ عَلَى النَّارِ فَيَقُولُ يَا ثُبُورَاهُ فَيُنَادُونَ يَا ثُبُورَاهُمْ فَيُقَالَ لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کا لباس سب سے پہلے ابلیس کو پہنایا جائے گا اور وہ اسے اپنی ابروؤں پر رکھے گا، اس کے پیچھے اس کی ذریت گھستی چلی آرہی ہوگی، شیطان ہائے ہلاکت کی آواز لگا رہا ہوگا اور اس کی ذریت بھی ہائے ہلاکت کہہ رہی ہوگی، یہی کہتے کہتے وہ جہنم کے پاس پہنچ کر رک جائیں گے، شیطان پھر یہی کہے گا ہائے ہلاکت اور اس کی ذریت بھی یہی کہے گی، اس موقع پر ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک ہلاکت کو نہ پکارو، کئی ہلاکتوں کو پکارو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12103

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَبْدٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَيُونُسَ وَحُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن وہ ہے جس سے لوگ مامون ہوں ، مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں ، مہاجر وہ ہوتا ہے جو گناہوں سے ہجرت کرلے، اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، کوئی شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوگا جب تک اس کے پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہوں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12104

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا خَالُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ أَخَالٌ أَمْ عَمٌّ فَقَالَ لَا بَلْ خَالٌ قَالَ فَخَيْرٌ لِي أَنْ أَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا ماموں جان! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے، اس نے کہا ماموں یا چچا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، ماموں ! لا الہ الا اللہ کہہ لیجئے، اس نے پوچھا کہ کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12105

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْفَأْلُ قَالَ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12106

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَأَلْنَاهُ عَنْ الْوُضُوءِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فَقَالَ أَمَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَأَمَّا نَحْنُ فَكُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِطُهُورٍ وَاحِدٍ

عمرو بن عامر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہر نماز کے وقت وضو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے، اور ہم بے وضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12107

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ قَالَ ذَكَرَ ذَاكَ أَبِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَيْئًا قَطُّ مُذْ خَلَقَهُ اللَّهُ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ الْمَوْتِ ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَهْوَنُ مِمَّا بَعْدَهُ

ابن آدم کو جب سے اللہ نے پیدا کیا ہے، اس نے موت سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں دیکھی، لیکن اس کے بعد یہی موت اس کے لئے انتہائی آسان ہوجائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12108

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت کم ہمیں کوئی خطبہ ایسا دیا ہے جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12109

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ ظُرُوفِ النَّبِيذِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا زُفِّتَ مِنْ شَيْءٍ قَالَ وَقَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُقَيَّرُ

مختار بن قلفل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا کہ مزفت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا لک لگا ہوا برتن۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12110

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَكُمْ إِمَامٌ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتَ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارا امام ہوں لہذا رکوع ، سجدہ ، قیام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی، اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، جو میں دیکھ چکا ہوں ، اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے ، صحابہ رضی اللہ عنھم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12111

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثُمَامَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فِي رَمَضَانَ فَخَفَّفَ بِهِمْ ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ ثُمَّ خَرَجَ فَخَفَّفَ بِهِمْ ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قُلْنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَلَسْنَا اللَّيْلَةَ فَخَرَجْتَ إِلَيْنَا فَخَفَّفْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ فَأَطَلْتَ قَالَ مِنْ أَجْلِكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے ، کافی دیر گذر نے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم آج رات بیٹھے ہوئے تھے ، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ہی ایسا کیا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12112

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ شَجَرَةٌ فِي طَرِيقِ النَّاسِ تُؤْذِي النَّاسَ فَأَتَاهَا رَجُلٌ فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکی درخت سے راستے میں گذر نے والوں کو اذیت ہوتی تھی ، ایک آدمی نے اسے آکر ہٹا دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جنت میں اسے درختوں کے سائے میں پھرتے ہوئے دیکھا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12113

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي الْأَحْمَرَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاصُّوا الصُّفُوفَ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَقُومُ فِي الْخَلَلِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کو پر کیا کرو ، کیونکہ درمیان کی خالی جگہ میں شیاطین گھس جاتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12114

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ صُفْرَةٌ فَكَرِهَهَا فَلَمَّا قَامَ الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَدَعَ هَذِهِ الصُّفْرَةَ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُوَاجِهُ الرَّجُلَ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ فِي وَجْهِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ایک آدمی آیا ، اس پر پیلا رنگ لگا ہوا دیکھا تو اس پر ناگواری ظاہر فرمائی جب وہ چلا گیا تو کسی صحابی سے دو تین فرمایا کہ اگر تم اس شخص کو یہ رنگ دھو دینے کا حکم دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا ؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ عادت مبارکہ تھی کہ کسی کے سامنے اس طرح کا چہرہ لے کر نہ آتے تھے جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12115

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ الصَّيْدَلَانِيُّ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ فَلَمْ يَأْخُذْهَا أَوْ وَحَّشَ بِهَا قَالَ وَأَتَاهُ آخَرُ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ قَالَ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لِلْجَارِيَةِ اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا لیکن اس نے انہیں ہاتھ نہ لگایا، دوسرا آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، اس نے خوش ہو کر انہیں قبول کرلیا اور کہنے لگا سبحان اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کھجوریں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی باندی سے فرمایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور اسے ان کے پاس رکھے ہوئے چالیس ہزار درہم دلوا دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12116

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفَرْزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا إِنَّ الْمُزَّاتِ حَرَامٌ وَالْمُزَّاتُ خَلْطُ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! مزات ( یعنی کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر بنائی ہوئی نبیذ) حرام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12117

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسٍ قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ نَحْوَهُ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12118

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا جَسْرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَرَآنِي مَرَّةً وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي سَبْعَ مِرَارٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ طوبی (خوشخبری) ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لائے، اور سات مرتبہ طوبی ہے ان لوگوں کے لئے جو مجھ پر بن دیکھے ایمان لائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12119

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا جَسْرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيتُ إِخْوَانِي قَالَ فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَلَيْسَ نَحْنُ إِخْوَانَكَ قَالَ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَلَكِنْ إِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش! میں اپنے بھائیوں سے مل پاتا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میرے صحابہ ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے ہوں گے لیکن میری زیارت نہ کر سکے ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12120

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ أَبُو وَهْبٍ حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةٌ لِي كَذَا وَكَذَا ذَكَرَتْ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا فَآثَرْتُكَ بِهَا فَقَالَ قَدْ قَبِلْتُهَا فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُهَا حَتَّى ذَكَرَتْ أَنَّهَا لَمْ تَصْدَعْ وَلَمْ تَشْتَكِ شَيْئًا قَطُّ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِي ابْنَتِكِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنی بیٹی کے حسن و جمال کی تعریف کر کے کہنے لگی کہ وہ میں نے آپ کی نذر کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے قبول ہے، تعریف کرتے کرتے اس کے منہ یہ یہ نکل گیا کہ کبھی اس کے سر میں درد ہوا اور نہ کبھی وہ بیمار ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے تمہاری بیٹی کی ضرورت نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12121

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ وَفَاءَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنَّ فِيكُمْ خَيْرًا مِنْكُمْ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيكُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ وَسَيَأْتِي زَمَانٌ يَقْرَءُونَ فِيهِ الْقُرْآنَ يَتَثَقَّفُونَهُ كَمَا يَتَثَقَّفُ الْقَدَحُ يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ تمہارے درمیان ایک ذات (خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) تم سے بہتر موجود ہے کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہو اور سرخ و سفید عربی و عجمی سب تمہارے درمیان موجود ہیں ، عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگ ایسے کھڑ کھڑائیں گے جیسے برتن کھڑ کھڑاتے ہیں وہ اپنا اجر فوری وصول کر لیں گے آگے کے لئے کچھ نہ رکھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12122

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ غَدًا أَقْوَامٌ هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا لِلْإِسْلَامِ مِنْكُمْ قَالَ فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ يَقُولُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ فَلَمَّا أَنْ قَدِمُوا تَصَافَحُوا فَكَانُوا هُمْ أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ الْمُصَافَحَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے، وہاں پہنچ کر انہوں نے مصافحہ کیا، اور سب سے پہلے مصافحہ کی بنیاد ڈالنے والے یہی لوگ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12123

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنِ نُبَيْطِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنْ النَّارِ وَنَجَاةٌ مِنْ الْعَذَابِ وَبَرِئَ مِنْ النِّفَاقِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح پڑھ لے کہ اس سے کوئی نماز چھوٹ نہ جائے، اس کے لئے جہنم سے براءت، عذاب سے نجات اور نفاق سے براءت لکھ دی جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12124

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَادْعُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی لہٰذا اس وقت دعاء کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12125

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَأَلَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ ثَلَاثًا إِلَّا قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَلَا اسْتَجَارَ مِنْ النَّارِ مُسْتَجِيرٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ سے بچالے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12126

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُودُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَقَالَ لَهُ يَا زَيْدُ لَوْ كَانَ بَصَرُكَ لِمَا بِهِ كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ قَالَ إِذًا أَصْبِرَ وَأَحْتَسِبَ قَالَ إِنْ كَانَ بَصَرُكَ لِمَا بِهِ ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ لَتَلْقَيَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ لَكَ ذَنْبٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زید بن ارقم کی عیادت کے لئے گیا، ان کی آنکھوں کی بصارت ختم ہوگئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا زید! یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری آنکھیں چلی جائیں وہاں جہاں سے لی ہیں تو تم کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گا اور ثواب کی امید رکھوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری بینائی ختم ہوگئی اور تم نے اس پر صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو تم اللہ سے اس طرح ملو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12127

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمِّهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ الْخَفِيفَةِ قَالَ جَعْفَرٌ أَوْ بِالسُّورَةِ الْقَصِيرَةِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات نماز میں ہوتے تھے لیکن کسی بچے کے رونے کی وجہ سے اس کی ماں کی خاطر نماز مختصر کر دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12128

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ الْمُقْرِئُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُعَظِّمَ اللَّهُ رِزْقَهُ وَأَنْ يَمُدَّ فِي أَجَلِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کے رزق میں اضافہ کر دے اور اس کی عمر بڑھا دے تو اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12129

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ عَنِ الضَّحَّاكِ الْقُرَشِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ وَلَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اور نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے شوق اور خوف والی نماز پڑھی، میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزوں کی درخواست کی، اس نے مجھے دوچیزیں عطاء فرما دیں اور ایک سے روک دیا، میں نے یہ درخواست کی کہ میری امت قحط سالی میں مبتلاء ہو کر ہلاک نہ ہو، اللہ نے منظور کر لیا، میں نے دوسری درخواست کی کہ دشمن کو ان پر مکمل غلبہ نہ دیا جائے، اللہ نے اسے بھی منظور کر لیا، پھر میں نے تیسری درخواست یہ پیش کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ ہونے دیا جائے لیکن اللہ نے اسے منظور نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12130

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فِي اللَّهِ قَالَ فَأَخْبَرْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَأَخْبِرْهُ فَقَالَ تَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ فَأَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ وَقَالَ خَلَفٌ فِي حَدِيثِهِ فَلَقِيَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟ اس نے کہا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا کر اسے بتا دو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں ، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12131

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَمُؤَمَّلٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ سَعَّرْتَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ الْمُسَعِّرُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَا يَطْلُبُنِي أَحَدٌ بِمَظْلَمَةٍ ظَلَمْتُهَا إِيَّاهُ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں مہنگائی بڑھ گئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے نرخ مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیمت مقرر کرنے اور نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے جدا ہو کر جاؤں تو تم میں سے کوئی اپنے مال یا جان پر کسی ظلم کا مجھ سے مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12132

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ يَا فُلَانُ هَذِهِ امْرَأَتِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی کوئی زوجہ محترمہ تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو اس کا نام لے کر پکارا کہ اے فلاں ! یہ میری بیوی ہے، وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جس شخص کے ساتھ بھی ایسا گمان کروں ، آپ کے ساتھ نہیں کر سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12133

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَقَامَ عَلَيْهِنَّ كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْأَرْبَعِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس شخص کی تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں ، وہ ان کا ذمہ دار بنا اور ان کے معاملے میں خدا سے ڈرتا رہا، وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12134

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَزْوَاجِ الْأَنْصَارِ وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أَخَذُوا شِعْبًا وَأَخَذَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ! انصار، انصار کے بچوں ، انصار کی بیویوں اور انصار کی اولاد کی مغفرت فرما، انصار میرا گروہ اور میرا پردہ ہیں ، اگر لوگ راستے پر چل رہے ہوں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12135

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَخَذْتُ بَصَرَ عَبْدِي فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ فَعِوَضُهُ عِنْدِي الْجَنَّةُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں کسی شخص کی بینائی واپس لے لوں اور وہ اس پر صبر کرے تو میں اس کا عوض جنت میں عطاء کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12136

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَرْبٌ قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ الْعَمِّيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَيْثُ خَلَقَ الدَّاءَ خَلَقَ الدَّوَاءَ فَتَدَاوَوْا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ نے جب بیماری کو پیدا کیا تو اس کا علاج بھی پیدا کیا اس لئے علاج کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12137

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیگر عورتوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے ثرید کو دوسرے کھانوں پر ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12138

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَنِ الرَّبِيعِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور کشمش یا کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے (نبیذ بنانے سے) منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12139

حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي حَفْصٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ فِي الْأَرْضِ كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ فَإِذَا انْطَمَسَتْ النُّجُومُ أَوْشَكَ أَنْ تَضِلَّ الْهُدَاةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین میں علماء کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان میں ستارے کہ جن کے ذریعے بر و بحر کی تاریکیوں میں راستہ کی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے، اگر ستارے بے نور ہوجائیں تو راستے پر چلنے والے بھٹک جائیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12140

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُجَاوِزُ أُذُنَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12141

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام کو جہاد کے لئے نکلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12142

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الدُّنْيَا لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحَ الْمِسْكِ وَلَطُيِّبَ مَا بَيْنَهُمَا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے، اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12143

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنْ الشَّعْرِ إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُوبِقَاتِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے اعمال کرتے ہو جن کی تمہاری نظروں میں پر سے بھی کم حیثیت ہوتی ہے، لیکن ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں مہلک چیزوں میں شمار کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12144

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ فَقَالَ عُمَرُ أَتَبْعَثُ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا وَتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12145

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ ذُكِرَ لَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذٍ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ لَا إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا أَوْ كَمَا قَالَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12146

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّ أَنَسًا قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ فَلَمَّا انْطَلَقَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِلَيْكَ عَنِّي فَوَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي رِيحُ حِمَارِكَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ قَالَ فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ قَالَ وَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کے پاس جانے کا مشورہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر چلے گئے، مسلمان بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیدل روانہ ہوگئے، زمین کچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا کہ آپ مجھ سے دور ہی رہیں ، آپ کے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے، اس پر ایک انصاری نے کہا کہ بخدا! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے، ادھر عبداللہ بن ابی کی قوم کا ایک آدمی اس کی طرف سے غضب ناک ہوگیا، پھر دونوں کے ساتھیوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی، اور شاخوں ، ہاتھوں اور جوتوں سے لڑائی کی نوبت آگئی، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی کہ" اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو آپ ان کے درمیان صلح کرا دیں ۔ "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12147

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا السُّمَيْطُ السَّدُوسِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ فَتَحْنَا مَكَّةَ ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ أَوْ رَأَيْتَ فَصُفَّ الْخَيْلُ ثُمَّ صُفَّتْ الْمُقَاتِلَةُ ثُمَّ صُفَّتْ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ثُمَّ صُفَّتْ الْغَنَمُ ثُمَّ صُفَّتْ النَّعَمُ قَالَ وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ فَجَعَلَتْ خُيُولُنَا تَلُوذُ خَلْفَ ظُهُورِنَا قَالَ فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ انْكَشَفَتْ خُيُولُنَا وَفَرَّتْ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنْ النَّاسِ قَالَ فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ثُمَّ قَالَ يَا لَلْأَنْصَارِ يَا لَلْأَنْصَارِ قَالَ أَنَسٌ هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ قَالَ قُلْنَا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمْ اللَّهُ قَالَ فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ قَالَ فَنَزَلْنَا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ وَيُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ قَالَ فَتَحَدَّثَ الْأَنْصَارُ بَيْنَهَا أَمَّا مَنْ قَاتَلَهُ فَيُعْطِيهِ وَأَمَّا مَنْ لَمْ يُقَاتِلْهُ فَلَا يُعْطِيهِ قَالَ فَرُفِعَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَمَرَ بِسَرَاةِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا أَنْصَارِيٌّ أَوْ الْأَنْصَارُ قَالَ فَدَخَلْنَا الْقُبَّةَ حَتَّى مَلَأْنَا الْقُبَّةَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَوْ كَمَا قَالَ مَا حَدِيثٌ أَتَانِي قَالُوا مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا حَدِيثٌ أَتَانِي قَالُوا مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَدْخُلُوا بُيُوتَكُمْ قَالُوا رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَخَذَ النَّاسُ شِعْبًا وَأَخَذَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا قَالَ فَارْضَوْا أَوْ كَمَا قَالَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے مکہ فتح کر لیا پھر ہم نے حنین کا جہاد کیا، مشرکین اچھی صف بندی کر کے آئے جو میں نے دیکھیں ، پہلے گھڑ سواروں نے صف باندھی پھر پیدل لڑنے والوں نے اس کے پیچھے عورتوں نے صف بندی کی پھر بکریوں کی صف باندھی گئی۔ پھر اونٹوں کی صف بندی کی گئی اور ہم بہت لوگ تھے اور ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ چکی تھی اور ایک جانب کے سواروں پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سالار تھے۔ پس ہمارے سوار ہماری پشتوں کے پیچھے پناہ گزیں ہونا شروع ہوئے اور زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے گھوڑے ننگے ہوئے اور دیہاتی بھاگے اور وہ لوگ جن کو ہم جانتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اے مہاجرین! اے مہاجرین! پھر فرمایا اے انصار، اے انصار! حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث میرے چچاؤں کی ہے۔ ہم نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، پس اللہ کی قسم ہم پہنچنے بھی نہ پائے تھے کہ اللہ نے ان کو شکست دے دی۔ پھر ہم نے وہ مال قبضہ میں لے لیا پھر ہم طائف کی طرف چلے تو ہم نے اس کا چالیس روز محاصرہ کیا پھر ہم مکہ کی طرف لوٹے اور اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کو سو سو اونٹ دینے شروع کر دیے ، یہ دیکھ کر انصار آپس میں باتیں کرنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی لوگوں کو عطاء فرما رہے ہیں جنہوں نے آپ سے قتال کیا تھا اور جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قتال نہیں کیا انہیں کچھ نہیں دے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک خیمہ میں جمع کر کے فرمایا، اے انصار کی جماعت مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو کیا بات معلوم ہوئی ہے؟ دو مرتبہ یہی بات ہوئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جماعت انصار کیا تم خوش نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا لے جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے ہوئے اپنے گھروں کو جاؤ، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم خوش ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم راضی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوش رہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12148

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا وَلَا فَحَّاشًا وَلَا لَعَّانًا كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَتْ جَبِينُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں دینے والے، لعنت ملامت کرنے والے یا بے ہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے، عتاب کے وقت بھی صرف ات نافرماتے تھے کہ اسے کیا ہوگیا، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12149

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ لَقَدْ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَوْ صَلَّاهَا أَحَدُكُمْ الْيَوْمَ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ شَرِيكٌ وَمُسْلِمُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ أَفَلَا تَذْكُرُ ذَاكَ لِأَمِيرِنَا وَالْأَمِيرُ يَوْمَئِذٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيرِ فَقَالَ قَدْ فَعَلْتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز اس طرح پڑھی ہے کہ اگر آج تم میں سے کوئی شخص اس طرح پڑھنے لگے تو تم اسے مطعون کرو گے، یہ سن کر شریک اور مسلم بن ابی نمران سے کہنے لگے کہ آپ یہ بات ہمارے گورنر کو کیوں نہیں بتاتے؟ اس وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ مدینہ کے گورنر تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں یہ بھی کر چکا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12150

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَلْقَةِ وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَكَعَ وَسَجَدَ جَلَسَ وَتَشَهَّدَ ثُمَّ دَعَا فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى قَالَ عَفَّانُ دَعَا بِاسْمِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، رکوع و سجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعا پڑھی (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ) " اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں ، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان وزمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے۔ اے زندگی دینے والے اے قائم رکھنے والے! میں تجھ سے ہی سوال کرتا ہوں " ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا دعاء کی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعاء مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے سے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12151

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا خَلَفٌ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَوْمِ فَقَالَ الرَّجُلُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَرَدَّ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ عَلَيْهِ وَعَلَيْكُمْ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَلَمَّا جَلَسَ الرَّجُلُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ يُحْمَدَ وَيَنْبَغِي لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ قُلْتَ فَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ ابْتَدَرَهَا عَشَرَةُ أَمْلَاكٍ كُلُّهُمْ حَرِيصٌ عَلَى أَنْ يَكْتُبَهَا فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُوهَا حَتَّى يَرْفَعُوهَا إِلَى ذِي الْعِزَّةِ فَقَالَ اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور دوسرے لوگوں کو سلام کیا، سب نے اسے جواب دیا، جب وہ بیٹھ گیا تو کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یحب ربنا ان یحمد وینبغی لہ" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا؟ اس نے ان کلمات کو دوہرا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں نے دس فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے لکھتا ہے، لیکن انہیں سمجھ نہیں آئی کہ ان کلمات کا ثواب کتنا لکھیں ؟چنانچہ انہوں نے اللہ سے پوچھا تو اللہ نے فرمایا کہ انہیں اسی طرح لکھ لو جیسے میرے بندے نے کہا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12152

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ وَيَنْهَى عَنْ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا وَيَقُولُ تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ إِنِّي مُكَاثِرٌ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کرنے کا حکم دیتے اور اس سے اعراض کرنے کی شدید ممانعت فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ محبت کرنے والی اور بچوں کی ماں بننے والی عورت سے شادی کیا کرو کہ میں قیامت کے دن دیگر انبیاء علیہم السلام پر تمہاری کثرت سے فخر کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12153

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ عَنْ حَفْصٍ عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ لَهُمْ جَمَلٌ يَسْنُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّ الْجَمَلَ اسْتُصْعِبَ عَلَيْهِمْ فَمَنَعَهُمْ ظَهْرَهُ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّهُ كَانَ لَنَا جَمَلٌ نُسْنِي عَلَيْهِ وَإِنَّهُ اسْتُصْعِبَ عَلَيْنَا وَمَنَعَنَا ظَهْرَهُ وَقَدْ عَطِشَ الزَّرْعُ وَالنَّخْلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ قُومُوا فَقَامُوا فَدَخَلَ الْحَائِطَ وَالْجَمَلُ فِي نَاحِيَةٍ فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْكَلْبِ الْكَلِبِ وَإِنَّا نَخَافُ عَلَيْكَ صَوْلَتَهُ فَقَالَ لَيْسَ عَلَيَّ مِنْهُ بَأْسٌ فَلَمَّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ نَحْوَهُ حَتَّى خَرَّ سَاجِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَاصِيَتِهِ أَذَلَّ مَا كَانَتْ قَطُّ حَتَّى أَدْخَلَهُ فِي الْعَمَلِ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ بَهِيمَةٌ لَا تَعْقِلُ تَسْجُدُ لَكَ وَنَحْنُ نَعْقِلُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ قُرْحَةً تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کا ایک گھرانا تھا جس کے پاس پانی لادنے والا ایک اونٹ تھا، ایک دن وہ اونٹ سخت بدک گیا اور کسی کو اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دیا، وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے کہ ہمارا ایک اونٹ تھا جس پر ہم پانی بھر کر لایا کرتے تھے، آج وہ اس قدر بدکا ہوا ہے کہ ہمیں اپنے اوپر سوار ہی نہیں ہونے دیتا۔ اور کھیت اور باغات خشک پڑے ہوئے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اٹھو، اور چل پڑے، وہاں پہنچ کر باغ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ اونٹ ایک کونے میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف چل پڑے، یہ دیکھ کر انصار کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو وحشی کتے کی طرح ہوا ہوا ہے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں یہ آپ پر حملہ نہ کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ جب اونٹ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گہر پڑا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی پیشانی سے پکڑا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ فرمانبردار ہوگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کام پر لگا دیا، یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ نا سمجھ جاندار آپ کو سجدہ کر سکتے ہیں تو ہم تو پھر عقلمند ہیں ، ہم آپ کو سجدہ کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی انسان کے لئے دوسرے انسان کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے، اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کہ اس کا حق اس پر زیادہ ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر مرد کے پاؤں سے لے کر سر کی مانگ تک سارا جسم پھوڑا بن جائے اور خون پیپ بہنے لگے اور بیوی آکر اسے چاٹنے لگے تب بھی اس کا حق ادا نہیں کر سکتی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں چالیس انصاری حضرات کے ساتھ شام میں عبدالملک کے پاس لے جایا گیا، تاکہ وہ ہمارا وظیفہ مقرر کر دے، واپسی پر جب ہم فج الناقہ میں پہنچے تو اس نے ہمیں عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر سلام پھیر کر اپنے خیمے میں چلا گیا ، لوگ کھڑے ہو کر مزید دو رکعتیں پڑھنے لگے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا اللہ ان چہروں کو بدنما کرے، بخدا! انہوں نے سنت پر عمل کیا اور نہ رخصت قبول کی، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کچھ لوگ دین میں خوب تعمق کریں گے اور دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12154

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَلَفٌ عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ انْطُلِقَ بِنَا إِلَى الشَّامِ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ لِيَفْرِضَ لَنَا فَلَمَّا رَجَعَ وَكُنَّا بِفَجِّ النَّاقَةِ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ سَلَّمَ وَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ وَقَامَ الْقَوْمُ يُضِيفُونَ إِلَى رَكْعَتَيْهِ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ قَالَ فَقَالَ قَبَّحَ اللَّهُ الْوُجُوهَ فَوَاللَّهِ مَا أَصَابَتْ السُّنَّةَ وَلَا قَبِلَتْ الرُّخْصَةَ فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَقْوَامًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ يَمْرُقُونَ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے بچوں میں سے کوئی بچہ ہمارے لئے منتخب کرو جو میری خدمت کیا کرے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنے پیچھے بٹھا کر روانہ ہوئے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم بن گیا، خواہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہیں بھی منزل کرتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کثرت سے یہ کہتے ہوئے سنتا تھا کہ اے اللہ! میری پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔ میں مستقل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم رہا، ایک موقع پر جب ہم خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منتخب فرمایا تھا تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے کسی چادر یا عباء سے پردہ کرتے پھر انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیتے، جب ہم مقام صہیاء میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلوہ بنایا اور دستر خوان پر چن دیا، پھر مجھے بھیجا اور میں بہت سے لوگوں کو بلا لایا، ان سب نے وہ حلوہ کھایا، جو دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اے اللہ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12155

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ الْتَمِسْ لَنَا غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ وَكُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّى أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَدْ حَازَهَا فَكُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّي وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ أَوْ بِكِسَاءٍ ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَاءَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ رِجَالًا فَأَكَلُوا فَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر حملے کا ارادہ کرتے تو رات کو حملہ نہ کرتے بلکہ صبح ہونے کا انتظار کرتے اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12156

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ آخری نماز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ پڑھی وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12157

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَزَا قَوْمًا لَمْ يَغْزُ بِنَا لَيْلًا حَتَّى يُصْبِحَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو سواری سے کود پڑتے، اور اگر سواری پر رہتے تو اس کی رفتار مدینہ کی محبت میں تیز کر دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12158

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَأَبْصَرَ جُدْرَانَ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ فَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر خوف کے آثار واضح طور پر محسوس کیے جاسکتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12159

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا هَبَّتْ الرِّيحُ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر خوف کے آثار واضح طور پر محسوس کیے جاسکتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12160

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا هَبَّتْ الرِّيحُ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر خوف کے آثار واضح طور پر محسوس کیے جاسکتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12161

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ أَبَانَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى قَطُّ إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ أَوْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا الاّ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جارہے ہوں یا سفر سے واپس آرہے ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12162

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلَى جُدُرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ نَاقَتَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو سواری سے کود پڑتے، اور اگر سواری پر رہتے تو اس کی رفتار مدینہ کی محبت میں تیز کر دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12163

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَاسْمُهُ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ صَامَ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ أَفْطَرَ أَفْطَرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ رکھتے تو لوگ ایک دوسرے کو مطلع کر دیتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی نیت کرلی ہے اور جب افطاری کرتے تب بھی لوگ ایک دوسرے کو مطلع کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کھول لیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12164

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَبْلُغُ عَمَلَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12165

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا قَالَ فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا قَالَ ثَابِتٌ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْنَا عَلَى بِسَاطٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نفلی نماز پڑھائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے بھی ہمارے پیچھے نماز پڑھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، یوں ہم نے ا یک ہی چادر میں نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12166

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ خِرِّيتٍ حَدَّثَنَا أَبُو لَبِيدٍ لُمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ قَالَ أُرْسِلَتْ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ فَقُلْنَا لَوْ أَتَيْنَا الرِّهَانَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ أَتَيْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَسَأَلْنَاهُ هَلْ كُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ نَعَمْ لَقَدْ رَاهَنَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ سُبْحَةُ فَسَبَقَ النَّاسَ فَهَشَّ لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ

ابولبید رحمۃ اللہ علیہ نے مازہ بن زیار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے حجاج بن یوسف کے زمانے میں اپنے گھوڑے کو بھیجا اور سوچا کہ ہم بھی گھڑ دوڑ کی شرط میں حصہ لیتے ہیں ، پھر ہم نے سوچا کہ پہلے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھ لیتے ہیں کہ کیا آپ لوگ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گھڑ دوڑ پر شرط لگایا کرتے تھے؟ چنانچہ ہم نے ان کے پاس آکر ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ہاں ! ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک گھوڑے پر " جس کا نام سبحہ تھا " گھڑ دوڑ میں حصہ لیا تھا اور وہ سب سے آگے نکل گیا تھا، جس سے انہیں تعجب ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12167

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ صُفْرَةً أَوْ قَالَ أَثَرَ صُفْرَةٍ قَالَ فَلَمَّا قَامَ قَالَ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا فَغَسَلَ عَنْهُ هَذِهِ الصُّفْرَةَ قَالَ وَكَانَ لَا يَكَادُ يُوَاجِهُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی پر پیلا رنگ لگا ہوا دیکھا تو اس پر ناگواری ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ اگر تم اس شخص کو یہ رنگ دھو دینے کا حکم دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ کسی کے سامنے اس طرح چہرہ لے کر نہ آتے تھے جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12168

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ فِيهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو) فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے؟ فرمایا ہاں ! مدینہ میں ہونے کے باوجود، کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12169

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قُدِّمَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ فِيهَا قَرْعٌ قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ قَالَ فَجَعَلَ يَلْتَمِسُ الْقَرْعَ بِأُصْبُعِهِ أَوْ قَالَ بِأَصَابِعِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک پیالے میں کدو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے اسے اپنی انگلیوں سے تلاش کرنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12170

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَبْصَرَ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا فَصَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ قَالَ فَطَرَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ وَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا لیں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12171

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ جَمِيعًا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12172

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ قَالَ عَفَّانُ أَوْ أُخِّرَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً فَقَامَ مَعَهُ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز عشاء کا وقت ہوگیا، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو کرنے لگے یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور راوی نے وضو کا ذکر نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12173

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُوسَى أَبِي الْعَلَاءِ وَقَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو الْعَلَاءِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الظُّهْرِ أَيَّامَ الشِّتَاءِ وَمَا نَدْرِي مَا ذَهَبَ مِنْ النَّهَارِ أَكْثَرُ أَوْ مَا بَقِيَ مِنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے ایام میں نماز پڑھاتے تھے تو ہمیں کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ دن کا اکثر حصہ گذر گیا ہے یا باقی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12174

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ خِضَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ شَابَ إِلَّا يَسِيرًا وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ بَعْدَهُ خَضَبَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ قَالَ وَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ أَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَحْمِلُهُ حَتَّى وَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ لَأَتَيْنَاهُ مَكْرُمَةً لِأَبِي بَكْرٍ فَأَسْلَمَ وَلِحْيَتُهُ وَرَأْسُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوهُمَا وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں تھوڑے سے بال سفید نہ تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے دن اپنے والد ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر انہیں اتا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اعزاز کا خیال رکھتے ہوئے فرمایا کہ اگر بزرگوں کو گھر میں ہی رہنے دیتے تو ہم خود ان کے پاس چلے جاتے، الغرض ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا، اس وقت ان کے سر اور ڈاڑھی کے بال " ثغامہ " نامی بوٹی کی طرح سفید ہوچکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا رنگ بدل دو، لیکن کالا رنگ کرنے سے پرہیز کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12175

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ يَعُودُهُ وَهُوَ يَشْكُو عَيْنَيْهِ قَالَ كَيْفَ أَنْتَ لَوْ كَانَتْ عَيْنُكَ لِمَا بِهَا قَالَ إِذًا أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ قَالَ لَوْ كَانَتْ عَيْنُكَ لِمَا بِهَا لَلَقِيتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى غَيْرِ ذَنْبٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زید بن ارقم کی عیادت کے لئے گیا، ان کی آنکھوں کی بصارت ختم ہوگئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا زید! یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری آنکھیں چلی جائیں جہاں سے لی ہیں تو تم کیا کر و گے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گا اور ثواب کی امید رکھوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری بینائی ختم ہوگئی اور تم نے اس پر صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو تم اللہ سے اس طرح ملو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12176

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي نَصْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12177

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ شَيْخٍ لَنَا عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ وَالْحَبِّ حَتَّى يُفْرَكَ وَعَنْ الثِّمَارِ حَتَّى تُطْعِمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشہ بننے سے پہلے کھجور اور چھلنے سے پہلے دانے اور پھل پکنے سے پہلے ان کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12178

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُكْلٍ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ بِذَوْدِ لِقَاحٍ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ اور پیشاب پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12179

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطِيفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12180

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ فُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ خَمْسِينَ ثُمَّ نُقِصَتْ حَتَّى جُعِلَتْ خَمْسًا ثُمَّ نُودِيَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَإِنَّ لَكَ بِهَذِهِ الْخَمْسِ خَمْسِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازیں فرض ہوئی تھیں ، کم ہوتے ہوتے پانچ رہ گئیں، اور پھر نداء لگائی گئی کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے یہاں بات بدلتی نہیں ، آپ کا ان پانچ پر پچاس ہی کا ثواب ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12181

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ الصَّلَاةُ تُقَامُ فَيُكَلِّمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ فِي حَاجَتِهِ تَكُونُ لَهُ فَيَقُومُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَمَا يَزَالُ قَائِمًا يُكَلِّمُهُ فَرُبَّمَا رَأَيْتُ بَعْضَ الْقَوْمِ لَيَنْعَسُ مِنْ طُولِ قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نماز کا وقت ہو جاتا تو ایک آدمی آکر اپنی کسی ضرورت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باتیں کرنے لگتا اور ان کے اور قبلہ کے درمیان کھڑا ہو جاتا، اور وہ مسلسل باتیں کرتا رہتا یہاں تک کہ اس کی خاطر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ دیر کھڑے رہنے کی صورت میں بعض لوگ سو بھی جاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12182

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز زوال شمس کے وقت پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12183

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْعَوَالِي عَلَى مِيلَيْنِ مِنْ الْمَدِينَةِ وَثَلَاثَةٍ أَحْسَبُهُ قَالَ وَأَرْبَعَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو سورج بلند ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12184

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ ثُمَّ صَلُّوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو پھر نماز پڑھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12185

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَاهَدُوا هَذِهِ الصُّفُوفَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی کا خیال رکھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12186

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر محمد رسول اللہ نقش کروایا اور فرمایا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کر وائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12187

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرًا كَانَ يُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدِيَّةَ مِنْ الْبَادِيَةِ فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهُ وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرْسِلْنِي مَنْ هَذَا فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهُ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ أَوْ قَالَ لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ أَنْتَ غَالٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی " جس کا نام زاہر تھا " دیہات سے آتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کوئی نہ کوئی ہدیہ لے کر آتا تھا، اور جب واپس جانے لگتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بہت کچھ دے کر رخصت فرماتے تھے، اور ارشاد فرماتے تھے کہ زاہر ہمارا دیہات ہے اور ہم اس کا شہر ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت فرماتے تھے گو وہ رنگت کے اعتبار سے قابل صورت نہ تھا۔ ایک دن زاہر اپنے سامان کے پاس کھڑے اسے بیچ رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے آئے اور انہیں لپٹ کر ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے ، وہ کہنے لگے کہ کون ہے، مجھے چھوڑ دو، انہوں نے ذرا غور کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان گئے اور اپنی پشت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے اور قریب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آواز لگانے لگے کہ اس غلام کو کون خریدے گا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے کھوٹا سکہ پائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تم اللہ کے نزدیک کھوٹا سکہ نہیں ہو، بلکہ تمہاری بڑی قیمت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12188

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتْ الْحَبَشَةُ لِقُدُومِهِ بِحِرَابِهِمْ فَرَحًا بِذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کی خوشی میں حبشیوں نے نیزے کے کرتب دکھائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12189

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَدَّوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار میرا پردہ ہیں جن کے پاس میں نے آکر ٹھکانہ حاصل کرلیا، اس لئے تم انصار کے نیکیوں کی نیکی قبول کرو، اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا اور ان کا حق باقی رہ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12190

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ! انصار، انصار کے بچوں ، انصار کی بیویوں کی مغفرت فرما۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12191

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ کرتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12192

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السَّجْدَةِ أَوْ الرَّكْعَةِ يَمْكُثُ بَيْنَهُمَا حَتَّى نَقُولَ أَنَسِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان جیسی خفیف اور مکمل رکوع سجدے والی نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12193

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا صَلَّيْتُ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً أَخَفَّ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامِ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان جیسی خفیف اور مکمل رکوع سجدے والی نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12194

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ عُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ وَرِعْلٍ أَوْ لِحْيَانَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12195

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا وَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اقْعُدُوا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے جس سے دائیں حصے پر زخم آگیا، ہم لوگ عیادت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس دوران نماز کا وقت آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ " سمع اللہ لم حمدہ، " کہے تو تم " ربنا ولک الحمد " کہو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12196

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہونے تک ہمیشہ فجر کی میں ہی قنوت نازلہ پڑھا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12197

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی " جس میں کوئی مہر مقرر نہ کیا گیا ہو " کوئی حیثیت نہیں ہے، اسلام میں فرضی محبوباؤں کے نام لے کر اشعار میں تشبیہات دینے کی کوئی حیثیت نہیں ، اسلام میں کسی قبیلے کا حلیف بننے کی کوئی حیثیت نہیں ، زکوۃ وصول کرنے والے کا اچھا مال چھانٹ لینا یا لوگوں کا زکوۃ سے بچنے کے حیلے اختیار کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12198

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ السَّاعَةَ وَذَكَرَ أَنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْ عَنْهُ فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا قَالَ أَنَسٌ فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي قَالَ أَنَسٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَيْنَ مَدْخَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّارُ قَالَ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ قَالَ ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي قَالَ فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ وَأَنَا أُصَلِّي فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی " جب تک میں یہاں کھڑا ہوں " سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں ؟ فرمایا جہنم میں ، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش اور مطمئن ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12199

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ يَقُولُ اللَّهُ اللَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12200

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْغُلَامِ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ فَحَزَرْنَا فِي الرُّكُوعِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ وَفِي السُّجُودِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے اس نوجوان سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے اندازہ لگایا تو وہ رکوع و سجود میں دس دس مرتبہ تسبیح پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12201

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَقْوَامًا سَيَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ قَدْ أَصَابَهُمْ سَفْعٌ مِنْ النَّارِ عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا لِيُخْرِجَهُمْ اللَّهُ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کر کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12202

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مَرَّةً فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا كَأَنَّهُ مُقْرِفٌ فَرَكَضَهُ فِي آثَارِهِمْ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے زین گھوڑے پر اس آواز کے رخ پر چل پڑے اور واپس آکر گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12203

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12204

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی امامت وہ شخص کر وائے جو ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12205

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اشْتَكَى فَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَصَلَّى لِلنَّاسِ فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُتْرَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ حَتَّى نَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ إِلَى الصَّفِّ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ لِلنَّاسِ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآهُمْ صُفُوفًا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَيْهِمْ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ آخری نظر جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیر کے دن ڈالی، وہ اس طرح تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارکہ کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صف میں شامل ہونے کے لئے پیچھے ہٹنا چاہا اور وہ یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے آنا چاہتے ہیں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صفوں میں کھڑا دیکھ کر تبسم فرمایا اور انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے اور نماز مکمل کرنے کا حکم دیا، اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12206

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي قَلِيبٍ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کر دیا جو اس نے پہن رکھا تھا، قتل کر کے اس نے اس بچی کو ایک کنویں میں ڈالا اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، اس یہودی کو پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے اتنے پتھر مارے جائیں کہ یہ مر جائے، چنانچہ ایساہی کیا گیا اور وہ مرگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12207

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ تَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ يَكُونُوا أَهْلَ رِيفٍ وَشَكَوْا حُمَّى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ الْمَدِينَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَانْطَلَقُوا فَكَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ فَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقُوا الذَّوْدَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَتُرِكُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ يَقْضَمُونَ حِجَارَتَهَا حَتَّى مَاتُوا قَالَ قَتَادَةُ فَبَلَغَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِمْ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہو جاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12208

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ أَهْدَتْ إِلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ قَالَ أَنَسٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاذْهَبْ فَادْعُ مَنْ لَقِيتَ فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ يَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ وَدَعَا فِيهِ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَخَرَجُوا فَبَقِيَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا حَتَّى بَلَغَ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پتھر کے ایک برتن میں حلوہ بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہدیہ کے طور پر بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور راستے میں جو بھی ملے، اسے دعوت دو، میں نے ایسا ہی کیا اور لوگ آتے، کھاتے اور نکلتے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پر اپنا ہاتھ رکھ کر دعاء کی اور اللہ کو جو منظور ہوا، وہ کہا، ادھر میں نے ایک آدمی بھی ایسا نہ چھوڑا جو مجھے ملا ہو اور میں نے اسے دعوت نہ دی ہو، اور سب لوگ کھا پی کر سیراب ہوئے اور چلے گئے۔ لیکن کچھ لوگ وہیں پر بیٹھ گئے اور خوب گفتگو کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں کچھ کہتے ہوئے حجاب محسوس ہوا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر میں بیٹھا ہوا چھوڑا اور خود ہی باہر چلے گئے، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی کہ اے ایمان والو! پیغمبر کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں کھانے کی اجازت نہ مل جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12209

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے لئے صبح کے وقت تشریف لے گئے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر وہ اپنے قلعے کی طرف بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12210

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَوَجَدَهُمْ حِينَ خَرَجُوا إِلَى زُرُوعِهِمْ وَمَعَهُمْ مَسَاحِيهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ وَمَعَهُ الْجَيْشُ نَكَصُوا فَرَجَعُوا إِلَى حِصْنِهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے لئے صبح کے وقت تشریف لے گئے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر وہ اپنے قلعے کی طرف بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12211

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُسَرَّجًا مُلَجَّمًا لِيَرْكَبَهُ فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ وَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ قَطُّ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ قَالَ فَارْفَضَّ عَرَقًا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زین اور لگام کسا ہوا براق پیش کیا گیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو جائیں ، لیکن وہ ایک دم بدکنے لگا، حضرت جبریل علیہ السلام نے اس سے فرمایا یہ کیا کر رہے ہو؟ بخدا! تم پر ان سے زیادہ کوئی معزز شخص سوار نہی ہوا، اس پر وہ شرم سے پانی پانی ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12212

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَانِ قَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے سامنے ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کو پیش کیا گیا، اس کے پھل " ہجر" نامی مقام کے مٹکوں کے برابر اور پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، اس کی جڑ میں سے دو ظاہری اور دو باطنی نہریں جاری تھیں ، میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا یہ کیا چیزیں ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ باطنی نہریں جنت میں ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12213

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ کوئی نہ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12214

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سورت کوثر کی تفسیر میں مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جنت کی ایک نہر ہے اور فرمایا میری اس پر نظر پڑی تو اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12215

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتَمَرَاتٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ تَمَرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل کچھ تر کھجوریں تناول فرماتے تھے، وہ نہ ملتیں تو چھوہارے ہی کھا لیتے، اور اگر وہ بھی نہ ملتے تو چند گھونٹ پانی ہی پی لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12216

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا بھی ہے جس کے سامنے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ گذشتہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو " وظل ممدود''

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12217

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ يُسَايِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رِجْلِي لَتَمَسُّ غَرَزَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ مَعًا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب سے لگ جاتے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12218

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منادی کروا دی کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں کیونکہ ان کا گوشت ناپاک ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12219

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ لَهُ قَالَ فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَكُمْ قَالَ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لَبِثَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ وَرَاءَنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی دادی حضرت ملیکہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمانے کے بعد فرمایا اٹھو، میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر ایک چٹائی لے آیا جو طویل عرصہ استعمال ہونے کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی ، میں نے اس پر پانی چھڑک دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوگئے ، میں اور ایک یتیم بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور بڑی بی ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور واپس تشریف لے گئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12220

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ هَذَا ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِالْأَسْتَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن اخطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12221

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں پاؤں کے اوپر والے حصے پر درد کی وجہ سے سینگی لگوائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12222

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ مِنْ الْأَمْوَاتِ فَإِنْ كَانَ خَيْرًا اسْتَبْشَرُوا بِهِ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ قَالُوا اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُمْ حَتَّى تَهْدِيَهُمْ كَمَا هَدَيْتَنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اعمال تمہارے فوت شدہ قریبی رشتہ داروں اور خاندان والوں کے سامنے بھی رکھے جاتے ہیں ، اگر اچھے اعمال ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں ، اگر دوسری صورت ہو تو کہتے ہیں کہ اے اللہ ! انہیں اس وقت تک موت نہ دیجئے گا جب تک انہیں ہدایت نہ دے دیں ۔ جیسے ہمیں عطاء فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12223

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ پینے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12224

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَبِهِ وَضَرٌ مِنْ خَلُوقٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ كَمْ أَصْدَقْتَهَا قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ قَالَ أَنَسٌ لَقَدْ رَأَيْتُهُ قَسَمَ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ مِائَةَ أَلْفِ دِينَارٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو ان کے اوپر " خلوق" نامی خوشبو کے اثرات دکھائی دیئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کہا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ان کی ہر بیوی کو وراثت کے حصے میں ایک ایک لاکھ درہم ملے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12225

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ وَأَبَانَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی " جس میں کوئی مہر مقرر نہ کیا گیا ہو " کوئی حیثیت نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12226

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12227

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ اقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی معجزہ دکھانے کی فرمائش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو مرتبہ شق قمر کا معجزہ دکھایا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ "قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا"۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12228

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ وَلَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز میں بے حیائی پائی جاتی ہو وہ اسے عیب دار کر دیتی ہے، اور جس چیز میں بھی حیاء پائی جاتی ہو، وہ اسے زینت بخش دیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12229

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا عَدَدْتُ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ إِلَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی اور سر میں صرف چودہ بال ہی سفید گنے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12230

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو، اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12231

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرٍ أَحْمَدُ عَلَيْهِ نَفْسِي إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12232

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال نصف کانوں تک ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12233

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَظَرَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا فَلَمْ يَجِدُوا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا مَاءٌ قَالَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ ثُمَّ قَالَ تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللَّهِ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ يَعْنِي بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَالْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ حَتَّى تَوَضَّئُوا عَنْ آخِرِهِمْ قَالَ ثَابِتٌ قُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا قَالَ نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن وہ انہیں مل نہ سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا یہاں تھوڑا پانی ہے؟ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈالا اور فرمایا اللہ کا نام لے کر وضو کرو، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان پانی ابل رہا تھا، لوگ اس سے وضو کرنے لگے حتیٰ کہ سب نے وضو کر لیا،ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ستر کے قریب۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12234

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَوْ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَ مِائَةِ أَلْفٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَهَكَذَا وَجَمَعَ كَفَّهُ قَالَ زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَهَكَذَا فَقَالَ عُمَرُ حَسْبُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ دَعْنِي يَا عُمَرُ مَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ كُلَّنَا فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت کے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ابوبکر ! بس کیجئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر! پیچھے ہٹو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب ہی کو جنت میں کلی طور پر داخل فرما دے تو تمہارا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12235

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ أَمْوَالَ هَوَازِنَ وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنْ الْإِبِلِ كُلَّ رَجُلٍ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ قَالَ أَنَسٌ فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ وَلَمْ يَدْعُ أَحَدًا غَيْرَهُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا نَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ فَقَالُوا كَذَا وَكَذَا لِلَّذِي قَالُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأُعْطِي رِجَالًا حُدَثَاءَ عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَوْ قَالَ أَسْتَأْلِفُهُمْ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمْ فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ قَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مالِ غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کرر ہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے میں جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دی، جب وہ سب جمع ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کے حوالے سے مجھے کیا باتیں معلوم ہو رہی ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے صاحب الرائے حضرات نے تو کچھ بھی نہیں کہا، باقی کچھ نوعمر لوگوں نے ایسی ایسی بات کہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان لوگوں کو مال دیتا ہوں جن کا زمانہ کفر قریب ہی ہے اور اس کے ذریعے میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں ، کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر خدا کو اپنے خیموں میں لے جاؤ، بخدا! جس چیز کو لے کر تم لوٹو گے وہ اس چیز سے بہت بہتر ہے، جو وہ لوگ لے کر واپس جائیں گے، تمام انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم راضی ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میرے بعد بہت زیادہ ترجیحات دیکھو گے لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آملو، کیونکہ میں اپنے حوض پر تمہارا انتظار کروں گا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم صبر نہیں کرسکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12236

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَطَلَعَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ تَنْطِفُ لِحْيَتُهُ مِنْ وُضُوئِهِ قَدْ تَعَلَّقَ نَعْلَيْهِ فِي يَدِهِ الشِّمَالِ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِثْلَ الْمَرَّةِ الْأُولَى فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ أَيْضًا فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ حَالِهِ الْأُولَى فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ إِنِّي لَاحَيْتُ أَبِي فَأَقْسَمْتُ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُؤْوِيَنِي إِلَيْكَ حَتَّى تَمْضِيَ فَعَلْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَاتَ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيَالِي الثَّلَاثَ فَلَمْ يَرَهُ يَقُومُ مِنْ اللَّيْلِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا تَعَارَّ وَتَقَلَّبَ عَلَى فِرَاشِهِ ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبَّرَ حَتَّى يَقُومَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا فَلَمَّا مَضَتْ الثَّلَاثُ لَيَالٍ وَكِدْتُ أَنْ أَحْتَقِرَ عَمَلَهُ قُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي غَضَبٌ وَلَا هَجْرٌ ثَمَّ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَطَلَعْتَ أَنْتَ الثَّلَاثَ مِرَارٍ فَأَرَدْتُ أَنْ آوِيَ إِلَيْكَ لِأَنْظُرَ مَا عَمَلُكَ فَأَقْتَدِيَ بِهِ فَلَمْ أَرَكَ تَعْمَلُ كَثِيرَ عَمَلٍ فَمَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ قَالَ فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي فَقَالَ مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ غَيْرَ أَنِّي لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي لِأَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ غِشًّا وَلَا أَحْسُدُ أَحَدًا عَلَى خَيْرٍ أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الَّتِي بَلَغَتْ بِكَ وَهِيَ الَّتِي لَا نُطِيقُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تھوڑی دیر کے بعد تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا، دیکھا تو ایک انصاری صحابی چلے آ رہے ہیں جن کی ڈاڑھی سے وضو کے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہیں ، انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ میں اپنی جوتی اٹھا رکھی ہے، دوسرے دن بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی اعلان کیا اور وہی صحابی آئے، تیسرے دن اعلان کیا تب بھی وہی صحابی رضی اللہ عنہ آئے، تیسرے دن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم ان صحابی کے پیچھے چلے گئے اور ان سے کہنے لگے کہ میں نے اپنے والد صاحب کو قسمیں دے کر اور بہت اصرار کے بعد اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ میں تین دن تک گھر نہیں جاؤں گا، اگر آپ مجھے اپنے یہاں ٹھہرا سکتے ہیں تو آپ جو عمل کریں گے میں بھی وہی عمل کروں گا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ ان تین راتوں میں ان کے ساتھ رہے لیکن کسی رات انہیں قیام کرتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ اتنا ضرور ہوتا تھا کہ جب وہ سو کر بیدار ہوتے اور بستر سے اٹھتے تو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے نماز فجر کے لئے اٹھ جاتے، نیز میں نے انہیں ہمیشہ خیر ہی کی بات کرتے ہوئے دیکھا، جب تین راتیں گذر گئیں اور میں اپنی ساری محنت کو حقیر سمجھنے لگا، تو میں نے ان سے کہا کہ بندہ خدا! میرے اور والد صاحب کے درمیان کوئی ناراضگی یا قطع تعلقی نہیں ہے (جس کی وجہ سے میں یہاں رہ پڑا ہوں ) لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا اور تینوں مرتبہ آپ ہی آئے تو مجھے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں آپ کے پاس کچھ وقت گذار کر آپ کے اعمال دیکھوں اور خود بھی اس کی اقتداء کروں ، لیکن میں نے آپ کو اس دوران کوئی بہت زیادہ عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر آپ اس مقام تک کیسے پہنچ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے متعلق اتنی بڑی بات فرمائی؟ انہوں نے جواب دیا کہ عمل تو وہی ہے جو آپ نے دیکھا، پھر جب میں پلٹ کر واپس جانے لگا تو انہوں نے مجھے آواز دے کر بلایا تو کہنے لگے کہ عمل تو وہی ہیں جو آپ نے دیکھے، البتہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کوئی کینہ نہیں رکھتا اور کسی مسلمان کو ملنے والی نعمتوں اور خیر پر اس سے حسد نہیں کرتا، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی وہ چیز ہے جس نے آپ کو اس درجے تک پہنچایا اور جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12237

حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ عُمَرُ قَالَ نَعَمْ وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ

امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر ذات یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی قنوت نازلہ رکوع کے بعد پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12238

حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ قَالَ نَعَمْ

ابو مسلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12239

حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَوْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا أَحْفَظُهُ أَوْ مَا سَأَلَنِي أَحَدٌ قَبْلَكَ

ابومسلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأت کا آغاز بسم اللہ سے کرتے تھے یا الحمدللہ سے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جس کے متعلق مجھے ابھی کچھ یاد نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12240

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12241

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف سے جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12242

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَحَذَّرَ النَّاسَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْنَا لَهُ اقْعُدْ فَإِنَّكَ قَدْ سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَكْرَهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ فَبَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ أَشَدَّ مِنْ الْأُولَى فَأَجْلَسْنَاهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ أَعْدَدْتُ لَهَا حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو ڈرایا، اسی اثناء میں ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناگواری کے آثار نظر آئے تو ہم نے اس سے کہا کہ بیٹھ جاؤ، تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سوال پوچھا ہے جو انہیں اچھا نہیں لگا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا اے بھئی! تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے یہ تیاری کی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ تم محبت کرتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12243

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ عَمَّةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَعَرَضُوا عَلَيْهِمْ الْأَرْشَ فَأَبَوْا وَطَلَبُوا الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَبَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَجَاءَ أَخُوهَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ قَالَ فَعَفَا الْقَوْمُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر ان کے اہل خانہ نے لڑکی والوں کو تاوان کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا، پھر انہوں نے ان سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا، اسی اثناء میں ان کے بھائی اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے چچا انس بن نضر آگئے اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ربیع کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انس! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہی کا ہے، اسی اثناء میں وہ راضٰی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کر دیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12244

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْ الْقُنُوتِ أَقَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ قَالَ قُلْتُ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ كَذَبُوا إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى نَاسٍ قَتَلُوا نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ

عاصم احول رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ قنوت رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ انہوں نے فرمایا رکوع سے پہلے، میں نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ غلط کہتے ہیں ، وہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ماہ تک پڑھی تھی، جسمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قراء صحابہ کو شہید کرنے والے لوگوں کے خلاف بددعاء فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12245

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكْتُبَ لَنَا بِالْبَحْرَيْنِ قَطِيعَةً قَالَ فَقُلْنَا لَا إِلَّا أَنْ تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا فَقَالَ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي قَالُوا فَإِنَّا نَصْبِرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ ہمیں تقسیم کر دیں ، لیکن ہم لوگ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کا ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑگا لیکن تم صبر کرنا تاآنکہ مجھ سے آملو، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہم صبر کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12246

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْمَاعِيلَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْكُوفَةِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ النَّبِيذِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ

عمار بن عاصم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کوفہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12247

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ عَنْ نُفَيْعٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى وُجُوهِهِمْ قَالَ إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کو ان کے چہروں کے بل کیسے اٹھایا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ذات انہیں پاؤں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12248

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى جَانِبِ الْمَسْجِدِ قَالَ فَصَاحَ بَعْضُ النَّاسِ فَكَفَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَمَرَ بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور حکم دیا کہ اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12249

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ نُفَيْعٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَحَدٍ غَنِيٍّ وَلَا فَقِيرٍ إِلَّا يَوَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّهُ كَانَ أُوتِيَ فِي الدُّنْيَا قُوتًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر فقیر اور مالدار کی تمنا یہی ہوگی کہ اسے دنیا میں بقدر گذارہ دیا گیا ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12250

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ فَقَالَ لِصَاحِبِهَا ارْكَبْهَا فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ قَالَ وَإِنْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ قربانی کا جانور ہی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12251

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا فَكَمْ مَنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یوں کہتے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا، ہماری کفایت کی اور ٹھکانہ دیا، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی کوئی کفایت کرنے والا یا انہیں ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12252

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ جَلَسْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهُنَّ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا، اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کا پہلے اٹھاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12253

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ وَثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقُرْآنَ بِالْحَمْدِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12254

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ فَقَالَ الرَّجُلُ هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا فَإِنَّهَا قَائِمَةٌ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ فَمَا فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَشَدَّ مِمَّا فَرِحُوا بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12255

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ وَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوطِئْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ ابْتَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنْ الطَّعَامِ ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالُوا الْمُكْثَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَيْ يَخْرُجُوا فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَشَيْنَا مَعَهُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ بِسِتْرٍ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے وقت ان کی عمر دس سال تھی، وہ فرماتے ہیں کہ میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں ، اس لئے پردہ کا حکم جب نازل ہوا اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی تھی، اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میں چلتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ پر جا کر رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ شاید اب وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے، میں بھی ہمراہ تھا، دیکھا تو واقعی وہ لوگ جاچکے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر داخل ہو کر پردہ لٹکا لیا اور اللہ نے آیت حجاب نازل فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12256

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادٍ آخَرُ وَلَا يَمْلَأُ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12257

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12258

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَعَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ قَالَ فَقُلْنَا هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَبْتُكَ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي يَا مُحَمَّدُ سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلَا تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ فَقَالَ سَلْ مَا بَدَا لَكَ فَقَالَ الرَّجُلُ نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنْ السَّنَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتُقَسِّمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي قَالَ وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار آیا ، آکر مسجد میں اونٹ بٹھایا اور ( اتر کر) اونٹنی کو رسی سے باندھا ، پھر پوچھنے لگا تم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگائے ہوئے درمیان میں بیٹھے ہوئے تھے ہم نے جواب دیا کہ یہ گورے آدمی تکیہ لگائے ہوئے جو بیٹھے ہوئے ہیں یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا اے عبدالمطلب کے بیٹے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سن رہا ہوں (مدعا کہو) اس شخص نے کہا میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اور پوچھنے میں ذرا سختی سے کام لوں گا ، آپ مجھ سے ناراض نہ ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چاہتے ہو دریافت کرو ، وہ بولا میں آپ کے اور گز شتہ لوگوں کے پروردگار کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو سب لوگوں کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم ! ( سب کے لئے اسی نے مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے) وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا خدا نے آپ کو شبانہ روز میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم ، وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں بتائے کہ کیا اللہ نے آپ کو ہر سال ماہ رمضان میں روزے رکھنے کا حکم دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اللہ کی قسم ، وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں بتائے کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مال داروں سے زکوۃ وصول کر کے غرباء میں تقسیم کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم ! یہ سن کر وہ شخص بولا آپ جو کچھ ( اللہ کی طرف سے) لائے ہیں میں سب پر ایمان لایا اور میں اپنی قوم کا نمائندہ ہوں اور میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12259

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قَالُوا إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا قَالَ فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12260

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں ، ایک حرص اور ایک امید۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12261

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ أَوْ قَالَ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ شُعْبَةُ فَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ هَذَا فِي قَصَصِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں ، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12262

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسٍ وَأَثْنَى عَلَيْهِ شُعْبَةُ خَيْرًا قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ وَالصُّبْحَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ

ابو صدقہ جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز زوال کے وقت پڑھتے تھے، عصر ان دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب غروبِ آفتاب کے وقت پڑھتے تھے اور نماز عشاء شفق غائب ہو جانے کے بعد پڑھتے تھے اور نماز فجر اس وقت پڑھتے تھے جب طلوع فجر ہوجائے یہاں تک کہ نگاہیں کھل جائیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12263

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ

یسار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنائی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جارہا تھا، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، انہوں نے انہیں سلام کیا اور فرمایا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، جو کھیل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12264

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ شُعْبَةُ أَنْبَأَنَاهُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا قَالَ هِشَامٌ أَحْسَبُهُ قَالَ فِي آذَانِهَا قَالَ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ فِي آذَانِهَا وَلَمْ يَشُكَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے کان پر داغ رہے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12265

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12266

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قُلْتُ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ شَهِدْتَهُ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ لَا تُحَدِّثْنَا بِهِ عَنْ غَيْرِكَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَقَعَدَ عَلَى الْمَقَاعِدِ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهِ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَالَ مَنْ كَانَ لَهُ أَهْلٌ بَعِيدٌ بِالْمَدِينَةِ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ وَيُصِيبَ مِنْ الْوَضُوءِ وَبَقِيَ نَاسٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُمْ أَهْلُونَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ أَرْوَحَ فِي أَسْفَلِهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْقَدَحِ فَمَا وَسِعَتْ كَفَّهُ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَ ثُمَّ قَالَ ادْنُوا فَتَوَضَّئُوا قَالَ فَتَوَضَّئُوا حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَوَضَّأَ فَقُلْنَا يَا أَبَا حَمْزَةَ كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا قَالَ بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ

ثابت رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! ہمیں کوئی ایسا عجیب واقعہ بتائیے ، جس میں آپ خود موجود ہوں اور آپ کسی کے حوالے سے اسے بیان نہ کرتے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، اور جا کر اس جگہ پر بیٹھ گئے جہاں حضرت جبریل علیہ السلام ان کے پاس آیا کرتے تھے، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر عصر کی اذان دی، ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو۔ میں نے پوچھا اے ابوحمزہ! آپ کی رائے میں وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا ستر سے اسی کے درمیان۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12267

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12268

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُؤَذِّنُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے لوگ مؤذن ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12269

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ فَقَالُوا هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ فَقَالَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مالِ غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جارہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے میں جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دی، جب وہ سب جمع ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کے حوالے سے مجھے کیا باتیں معلوم ہو رہی ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ بات ٹھیک ہے اور انہوں نے جھوٹ نہیں بولا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر خدا کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، اگر سارے لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12270

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ إِنَّ رَجُلًا دَعَا رَجُلًا فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنَّمَا عَنَيْتُ رَجُلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابوالقاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12271

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَتْ الْأَنْصَارُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا فَأَجَابَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کہا کرتے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جواباً فرمایا کرتے تھے اے اللہ! آخرت کی خیر ہی اصل خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12272

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَالْخُفَّافُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں بخدا! تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12273

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وأَسْبَاطٌ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12274

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ أَرْكَبُهَا قَالَ ارْكَبْهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12275

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ يُذَكِّيهِمَا بِيَدِهِ وَيَطَأُ عَلَى صِفَاحِهِمَا وَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12276

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ فَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہو جاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12277

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى نَاسٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِمِ قِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ قَالَ فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقْشُهُ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَصِيصِهِ أَوْ بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12278

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سُحُورِهِمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى فَقُلْنَا لِأَنَسٍ كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا وَسُحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ قَالَ كَانَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ رَجُلٌ خَمْسِينَ آيَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اکٹھے سحری کی، سحری سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھائی، ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھنے لگے کہ سحری سے فراغت اور نماز کھڑی ہونے کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیات پڑھ سکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12279

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُوَاصِلُوا فَقِيلَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنَّ رَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12280

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کر دیا جو اس نے پہن رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاصاً اسے بھی قتل کروا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12281

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالزَّوْرَاءِ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَتَوَضَّئُوا فَوَضَعَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّأَ الْقَوْمُ قَالَ فَقُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ كُنَّا ثَلَاثَ مِائَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام زوراء میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی انگلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکالا کہ سب نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ تین سو تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12282

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12283

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لَنَا يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا قَالَ حَجَّاجٌ يَعْنِي الْفَرَسَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا ایک گھوڑا " جس کا نام مندوب تھا " عاریۃً لیا اور فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12284

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ وَكَانَتْ رُكْبَةُ أَبِي طَلْحَةَ تَكَادُ أَنْ تُصِيبَ رُكْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ بِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، قریب تھا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے مل جاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے ہوئے جا رہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12285

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ دَارَ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا فَقَالَ أَنَسٌ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ

ہشام بن زید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے دادا حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ دارِ حکم بن ایوب میں داخل ہوا، وہاں کچھ لوگ ایک مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہے تھے، یہ دیکھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12286

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَرَرْنَا فَأَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَوْا عَلَيْهَا فَلَغَبُوا فَسَعَيْتُ حَتَّى أَدْرَكْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِوَرِكِهَا أَوْ فَخِذِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهُ قَالَ حَجَّاجٌ قُلْتُ لِشُعْبَةَ فَقُلْتُ أَكَلَهُ قَالَ نَعَمْ أَكَلَهُ قَالَ لِي بَعْدُ قَبِلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرالظہران نامی جگہ پر اچانک ہمارے سامنے ایک خرگوش آیا، بچے اس کی طرف دوڑے لیکن اسے پکڑ نہ سکے یہاں تک کہ تھک گئے، میں نے اسے پکڑ لیا، اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا ایک پہلو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12287

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي فَمَوْعِدُكُمْ الْحَوْضُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصار بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کر دیا جو اس نے پہن رکھا تھا، اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، جب اس بچی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں زندگی کی تھوڑی سی رمق باقی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا نام لے کر اس سے پوچھا کہ تمہیں فلاں آدمی نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں ، دوسری مرتبہ بھی یہی ہوا، تیسری مرتبہ اس نے کہا ہاں ! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان قتل کروا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12288

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي فَمَوْعِدُكُمْ الْحَوْضُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا عنقریب تم میرے بعد بہت زیادہ ترجیحات دیکھو گے لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آملو، کیونکہ میں اپنے حوض پر تمہارا انتظار کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12289

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهُ حِينَ وَلَدَتْ انْطَلَقُوا بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ قَالَ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ فِي آذَانِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک بچے کو لے کر " جو میری والدہ کے یہاں ہوا تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے میں بکری کے کان داغ رہے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12290

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنَ حُمَيْدٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت رکھ دی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12291

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ لِحَبَشِيٍّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا بات سنتے اور مانتے رہو، خواہ تم پر ایک حبشی " جس کا سر کشمش کی طرح ہو " گورنر بنا دیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12292

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَقُولُ لِأَخٍ لِي يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ قَالَ وَكَانَ إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ نَضَحْنَا لَهُ طَرَفَ بِسَاطٍ ثُمَّ أَمَّنَا وَصَفَّنَا خَلْفَهُ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ إِنَّ أَبَا التَّيَّاحِ بَعْدَمَا كَبِرَ قَالَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَقُلْ صَفَّنَا خَلْفَهُ وَلَا أَمَّنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر؟ چڑیا، جو مرگئی تھی اور ہمارے لئے ایک چادر بچھائی گئی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ہم نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بنالی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12293

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلَاءَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک لڑکا پانی کا برتن اور نیزہ اٹھاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے استنجاء فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12294

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَتَمَنَّى الْمُؤْمِنُ أَوْ قَالَ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے ، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے ، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ ، اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12295

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12296

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں ، پس انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12297

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ أَوْ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تھے تو میری نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغل کی سفیدی پر پڑجاتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12298

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ فَمَا أَوْلَمَ قَالَ أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے موقع پر جو ولیمہ فرمایا، اس سے زیادہ بہتر ولیمہ اپنی کسی اہلیہ سے شادی کے موقع پر نہیں فرمایا،ثابت بنانی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ولیمہ فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روٹی گوشت کھلایا اور اتنا کھلایا کہ لوگوں نے خود ہی چھوڑا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12299

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ يَنْعَتُ لَنَا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قُلْنَا قَدْ نَسِيَ مِنْ طُولِ مَا يَقُومُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12300

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ وَحَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ قَدْ تَنَحَّى بِهِنَّ قَالَ فَقَالَ يَا أَنْجَشَةُ وَيْحَكَ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے اور حدی خوان امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی کے ساتھ ہانکنا شروع کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12301

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا فَقَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صَوْمٍ وَلَا صَدَقَةٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12302

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَتَّابًا مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ يَعْنِي الْيُمْنَى عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں " حسب طاقت " کی قید لگا دی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12303

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَهَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَتَّابٍ وَقَالَ هَاشِمٌ مَوْلَى بَنِي هُرْمُزَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ لَوْلَا أَنْ أَخْشَى أَنْ أُخْطِئَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِأَشْيَاءَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِنَّهُ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ قَالَ هَاشِمٌ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر مجھے غلطی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی احادیث بیان کرتا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12304

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَمَنْ كَانَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں ، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے ، اور تیسرا یہ کہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12305

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوا لَا إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ قَالَ حَجَّاجٌ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَأَلَّفَهُمْ وَأَجْبُرَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ تم میں انصار کے علاوہ تو کوئی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ، البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے، پھر فرمایا قریش کا زمانہ جاہلیت اور مصیبت قریب ہی ہے اور اس کے ذریعے میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں ، کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال ودولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر خدا کو اپنے گھروں میں لے جاؤ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے پر چلوں گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12306

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں ، پس انصار اور مہاجرین کو معزز فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12307

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ حُبَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12308

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَفَرَ قَالَ حَجَّاجٌ كَافِرٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12309

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ غَيْرَ الشَّهِيدِ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ الْكَرَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12310

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْرِجُوا مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً أَخْرِجُوا مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً أَخْرِجُوا مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12311

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَا أَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12312

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَأَسْوَدُ يَعْنِي شَاذَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنِي قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ فِي الثَّالِثَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہو جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12313

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ أَسَمِعْتَ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ الْبُصَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ قَالَ نَعَمْ وَكَفَّارَتُهُ دَفْنُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12314

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُوَاصِلُوا قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي إِنِّي أَظَلُّ أَوْ قَالَ أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12315

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَمَعَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوا لَا إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ أَوْ قَالَ مِنْ الْقَوْمِ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَنَسٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ تم میں انصار کے علاوہ تو کوئی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ، البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12316

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ قَالَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ فَقُلْتُ مَا الْفَأْلُ قَالَ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے اور بدشگونی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ، البتہ مجھے فال یعنی اچھا کلمہ اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے، میں نے پوچھا فال سے کیا مراد ہے؟ تو فرمایا اچھا کلمہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12317

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ثُمَّ يَقُولُ قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَنِيئًا مَرِيئًا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا لَنَا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ و قَالَ شُعْبَةُ كَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي قَصَصِهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ثُمَّ يَقُولُ قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَنِيئًا لَكَ هَذَا الْحَدِيثُ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ كُلُّهُ عَنْ أَنَسٍ فَأَتَيْتُ الْكُوفَةَ فَحَدَّثْتُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ ثُمَّ رَجَعْتُ فَلَقِيتُ قَتَادَةَ بِوَاسِطٍ فَإِذَا هُوَ يَقُولُ أَوَّلُهُ عَنْ أَنَسٍ وَآخِرُهُ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ فَأَتَيْتُهُمْ بِالْكُوفَةِ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی" انا فتحنا لک فتحا مبینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صراطا مستقیما" مسلمانوں نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فوزا عظیما "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12318

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِنْ كَانَتْ الْوَلِيدَةُ مِنْ وَلَائِدِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَجِيءُ فَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهَا حَتَّى تَذْهَبَ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک عام باندی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جایا کرتی تھی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12319

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ أَوْ قَالَ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا قَالَ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بْنُ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَائِطِي الَّذِي بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا وَلَوْ اسْتَطَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ قَرَابَتِكَ أَوْ قَالَ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " تم نیکی کے اعلیٰ درجے کو اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو، اور یہ آیت کہ " کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دیتا ہے " تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا فلاں باغ جو فلاں جگہ پر ہے، وہ اللہ کے نام پر دیتا ہوں اور بخدا! اگر یہ ممکن ہوتا کہ میں اسے مخفی رکھوں تو کبھی اس کا پتہ نہ لگنے دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنے خاندان کے فقراء میں تقسیم کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12320

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ أَبِي دَاوُدَ الْحَبَطِيَّ أَبَا هِشَامٍ قَالَ أَخِي هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ حَدَّثَنِي قَالَ أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا فَإِنَّمَا يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلصَّحِيحِ الَّذِي يَعُودُ الْمَرِيضَ فَالْمَرِيضُ مَا لَهُ قَالَ تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبُهُ

مروان بن ابی داؤد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! جگہ دور کی ہے لیکن ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ کی عیادت کو آیا کریں ، اس پر انہوں نے اپنا سر اٹھا کر کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے، وہ رحمت الہٰیہ کے سمندر میں غوطے لگاتا ہے، اور جب مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو اس تندرست کا آدمی کا حکم ہے جو مریض کی عیادت کرتا ہے، مریض کا کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12321

حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يَكْرَهَ الْعَبْدُ أَنْ يَرْجِعَ عَنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ وَأَنْ يُحِبَّ الْعَبْدُ الْعَبْدَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں ، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے ، اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12322

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ فَانْطَلَقَتْ بِي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنِي اسْتَخْدِمْهُ فَخَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا وَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ أَلَا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا وَأَتَانِي ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ أَوْ قَالَ مَعَ الصِّبْيَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَدَعَانِي فَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لَا تُخْبِرْ أَحَدًا وَاحْتَبَسْتُ عَلَى أُمِّي فَلَمَّا أَتَيْتُهَا قَالَتْ يَا بُنَيَّ مَا حَبَسَكَ قُلْتُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ قَالَتْ وَمَا هِيَ قُلْتُ إِنَّهُ قَالَ لَا تُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا قَالَتْ أَيْ بُنَيَّ فَاكْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو میری عمر نو سال تھی، ام سلیم رضی اللہ عنہا مجھے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے آپ اسے اپنی خدمت کے لئے قبول فرمالیجئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نو سال تک کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں کیا، نہ ہی یہ فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا؟ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا جب میں واپس آگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کسی کو نہ بتانا، ادھر مجھے گھر پہنچنے میں دیر ہوگئی چنانچہ جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا؟ میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کو بتانے سے منع کیا ہے، انہوں نے کہا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12323

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَيْبَةَ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوطیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12324

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ سَلُونِي فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ يَا بُنَيَّ لَقَدْ قُمْتَ بِأُمِّكَ مَقَامًا عَظِيمًا قَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُبَرِّئَ صَدْرِي مِمَّا كَانَ يُقَالُ وَقَدْ كَانَ يُقَالُ فِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے معلق تم مجھ سے سوال کر سکتے ہو، ایک آدمی نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے، ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کی باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہت تھا، دراصل ان کے متعلق کچھ باتیں مشہور تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12325

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ فَكَانَ إِذَا جِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا قَرْعٌ جُعِلَتْ الْقَرْعُ مِمَّا يَلِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، جب بھی کدو کا سالن آتا تو میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12326

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ جِئْتَ صَلَّيْتَ فِي دَارِي أَوْ قَالَ فِي بَيْتِي لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاكَ مَسْجِدًا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي دَارِهِ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهِ وَاجْتَمَعَ قَوْمُ عِتْبَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ وَإِنَّهُ يُعَرِّضُونَ بِالنِّفَاقِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا بَلَى قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ صَادِقٌ بِهَا إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ النَّارُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کی آنکھیں شکایت کرنے لگیں ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیج کر اپنی مصیبت کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لا کر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنا لوں ، چنانچہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں باتیں کرنے لگے، اور منافقین کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے۔ اور اس میں سب سے زیادہ حصہ دار مالک بن دخیثم کو قرار دینے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ایک آدمی نے کہا کیوں نہیں ، لیکن یہ دل سے نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جہنم کی آگ اس پر حرام کر دی جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12327

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ وَفْدًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مَعَهُمْ رَجُلًا فَقَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا فَقَالَ أَبْعَثُ مَعَكُمْ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ قَالَ أَبِي وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَقَالَ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَهَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی کو بھیج دیں جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ اس امت کے امین کو بھیجوں گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12328

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَتَى الرَّجُلُ قَوْمَهُ فَقَالَ أَيْ قَوْمِي أَسْلِمُوا فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطِيَّةَ رَجُلٍ مَا يَخَافُ الْفَاقَةَ أَوْ قَالَ الْفَقْرَ قَالَ وَحَدَّثَنَاهُ ثَابِتٌ قَالَ قَالَ أَنَسٌ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُصِيبَ عَرَضًا مِنْ الدُّنْيَا أَوْ قَالَ دُنْيَا يُصِيبُهَا فَمَا يُمْسِي مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَوْ قَالَ أَكْبَرَ عَلَيْهِ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کی دو بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقر و فاقہ کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازوسامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کر لیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12329

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ وَحَسَنٌ الْأَشْيَبُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَسَنٌ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ أَصْوَاتَ قَوْمٍ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَحَاصَتْ الْبَغْلَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کسی قبر میں عذاب ہو رہا تھا، چنانچہ خچر بدک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذابِ قبر کی آواز سنا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12330

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَضَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ وَيُنَاوِلُهُ نَعْلَيْهِ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَأَبُوهُ قَاعِدٌ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا فُلَانُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ فَسَكَتَ أَبُوهُ فَأَعَادَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ فَقَالَ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ الْغُلَامُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَهُ بِي مِنْ النَّارِ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی رکھتا تھا اور جوتے پکڑاتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، وہ خاموش رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دوبارہ دہرائی اور اس نے دوبارہ اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12331

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ إِلَى مَنَازِلِهِمْ يَتَوَضَّئُونَ وَبَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ نَاسٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَ أَصَابِعَ يَدِهِ الْيُمْنَى فِي الْمِخْضَبِ فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يَتَوَضَّئُونَ وَيَقُولُ تَوَضَّئُوا حَيَّ عَلَى الْوُضُوءِ حَتَّى تَوَضَّئُوا جَمِيعًا وَبَقِيَ فِيهِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت آیا تو ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، اور وہ ستر اسی کے درمیان تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو اور پھر بھی اس میں اتنا ہی پانی بچ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12332

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْطَلَقْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ لِي أَمَعَكَ تَمْرٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَنَاوَلَ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ فِي حَنَكِهِ فَفَغَرَ الصَّبِيُّ فَاهُ فَأَوْجَرَهُ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَتْ الْأَنْصَارُ إِلَّا حُبَّ التَّمْرِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کا بیٹا عبداللہ پیدا ہوا تو میں اس بچے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا، جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12333

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ فَحَدَّثْتَنَا رَقَّتْ قُلُوبُنَا فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَفَعَلْنَا وَفَعَلْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ لَوْ تَدُومُونَ عَلَيْهَا لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں ، آپ ہم سے احادیث بیان فرماتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور جب ہم آپ کی مجلس سے نکل جاتے ہیں تو اپنے بیوی بچوں میں مگن ہوجاتے ہیں اور اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہمیشہ تمہاری یہ کیفیت رہنے لگے تو فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12334

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الصِّبْيَانَ وَالنِّسَاءَ مُقْبِلِينَ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا فَقَالَ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انصار کی کچھ عورتیں اور بچے ایک شادی سے آتے ہوئے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے تین مرتبہ فرمایا اللہ کی قسم! تم لوگ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12335

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا أَوْ قَالَ سَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكَ الْآخَرَ فَقِيلَ هُمَا رَجُلَانِ عَطَسَا فَشَمَّتَّ أَوْ قَالَ فَسَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَتَرَكْتَ الْآخَرَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ قَالَ سُلَيْمَانُ أُرَاهُ نَحْوًا مِنْ هَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو اس کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دے دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا، کسی نے پوچھا کہ دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو کیوں نہ دیا؟ فرمایا کہ اس نے الحمدللہ کہا تھا اور دوسرے نے نہیں کہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12336

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ فَقَالَ لَهُ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حدی خوان تھا " جس کا نام انجثہ تھا " وہ امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ بھی ان کے ساتھ تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12337

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ هَكَذَا مَرَّتَيْنِ وَثَنَا بِهِ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12338

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ أَوْ لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ وَلَمْ يَشُكَّ حَجَّاجٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12339

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ وَقَالَ حَجَّاجٌ عَنْ مُسِيِّهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار میرا پردہ ہیں لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، اس لئے تم انصار کی نیکیوں کو قبول کرو، اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12340

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ أَوْ كَانَ يَقُولُهُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى أَوْ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَذَكَرَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا ، مجھے معلوم نہیں کہ یہ قرآں کی آیت تھی یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12341

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ قَالَ وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَخَفُّ الْحُدُودِ ثَمَانُونَ قَالَ فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقریباً چالیس مرتبہ دو ٹہنیوں سے مارا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق مشورہ کیا، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد اسی کوڑے ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12342

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعَهُ مِنْهُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ وَيَبْقَى النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ يَذْهَبُ الرِّجَالُ وَيَبْقَى النِّسَاءُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی، اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12343

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذابِ قبر کی آواز سنا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12344

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا يَبْزُقَنَّ قَالَ حَجَّاجٌ يَبْصُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ وَتَحْتَ قَدَمِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12345

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ فَقَالَ إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بلند آواز سے " بسم اللہ" پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز سے قرأت کا آغاز فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسی چیز کے متعلق سوال پوچھا ہے کہ اس سے پہلے کسی نے ایسا سوال نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12346

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الدُّبَّاءَ قَالَ حَجَّاجٌ الْقَرْعَ قَالَ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ أَوْ دُعِيَ لَهُ قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ فَأَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ لِمَا أَعْلَمُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا رہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12347

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال پیدا برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12348

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو، صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12349

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہوں میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12350

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ إِذَا أَكَلَ وَقَالَ إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ وَلْيَسْلُتْ أَحَدُكُمْ الصَّحْفَةَ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمْ الْبَرَكَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھا کر اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو وہ اس پر لگنے والی چیز کو ہٹا دے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور پیالہ اچھی طرح صاف کر لیا کرو ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12351

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ وَلَمْ يَكُنْ يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی مزدوری کے معاملے میں اس پر ظلم نہیں فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12352

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ شَكَوْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا نَلْقَى مِنْ الْحَجَّاجِ فَقَالَ اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ أَوْ يَوْمٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زبیر بن عدی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حجاج بن یوسف کے مظالم کی شکایت کی، انہوں نے فرمایا صبر کرو، کیونکہ ہر سال یا دن کے بعد آنے والا سال اور دن اس سے بدتر ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12353

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12354

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ سَنْبَرٌ الْجَحْدَرِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَاسًا أَتَوْا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبِلٍ وَرَاعِيهَا وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا قَالَ فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَأَطْرَدُوا الْإِبِلَ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ فَجِيءَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ وَطَرَحَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12355

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ لَاوٍ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي قَالَ وَأَنْشَأَ رَجُلٌ كَانَ إِذَا لَاحَى يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ وَأَحْسَبُهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَنَّةِ أَوْ فِي النَّارِ قَالَ فِي النَّارِ قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ إِنَّهُ صُوِّرَتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ الْحَائِطِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی " جب تک میں یہاں کھڑا ہوں " سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں ؟ فرمایا جہنم میں ، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش اور مطمئن ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12356

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں بخدا تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12357

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالَ قِيلَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْفَأْلُ قَالَ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ أَوْ قَالَ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ، البتہ مجھے فال یعنی اچھا لگتا ہے، کسی نے پوچھا اے اللہ کے نبی! فال سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی بات۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12358

حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ أَوْ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَشَدَّ مَا فَرِحُوا يَوْمَئِذٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول سے محبت ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے بعد میں نے لوگوں کا اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا جتنا اس دن دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12359

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو الْخَطَّابِ الْأَنْصَارِيُّ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَنْتَظِرُ أُمَّتِي تَعْبُرُ عَلَى الصِّرَاطِ إِذْ جَاءَنِي عِيسَى فَقَالَ هَذِهِ الْأَنْبِيَاءُ قَدْ جَاءَتْكَ يَا مُحَمَّدُ يَسْأَلُونَ أَوْ قَالَ يَجْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُفَرِّقَ جَمْعَ الْأُمَمِ إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ اللَّهُ لِغَمِّ مَا هُمْ فِيهِ وَالْخَلْقُ مُلْجَمُونَ فِي الْعَرَقِ وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ كَالزَّكْمَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَتَغَشَّاهُ الْمَوْتُ قَالَ قَالَ لِعِيسَى انْتَظِرْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ قَالَ فَذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَلَقِيَ مَا لَمْ يَلْقَ مَلَكٌ مُصْطَفًى وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جِبْرِيلَ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ لَهُ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ قَالَ فَشُفِّعْتُ فِي أُمَّتِي أَنْ أُخْرِجَ مِنْ كُلِّ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا وَاحِدًا قَالَ فَمَا زِلْتُ أَتَرَدَّدُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَلَا أَقُومُ مَقَامًا إِلَّا شُفِّعْتُ حَتَّى أَعْطَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَنْ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ شَهِدَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان فرمایا کہ قیامت کے دن میں کھڑا اپنی امت کا انتظار کر رہا ہوں گا تاکہ وہ پل صراط کو عبور کر لے، کہ اسی اثناء میں میرے پاس حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور کہیں گے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سارے انبیاء علیہم السلام اکٹھے ہو کر آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ اللہ سے دعاء کر دیں کہ امتوں کی اس بھیڑ کو جہاں چاہے متفرق کر کے ان کے ٹھکانوں میں پہنچا دے کیونکہ لوگ بہت پریشان ہو رہے ہیں ، اس وقت سب لوگ پیسنے کی لگام منہ میں ڈالے ہوں گے۔ مسلمان پر تو وہ زکام کی طرح ہوگا اور کافر پر موت جیسی کیفیت طاری ہوجائے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمائیں گے کہ آپ یہاں میرا انتظار کیجئے، میں ابھی آپ کے پاس آتا ہوں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جا کر عرش کے نیچے کھڑے ہو جائیں گے، اور وہ رتبہ آپ کو ملے گا جو کسی منتخب فرشتے اور نبی مرسل کو عطاء نہ ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ حضرت جبریل علیہ السلام کو یہ پیغام دیں گے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ سر اٹھائیے ، سوال تو کیجئے، عطاء ہوگا، اور سفارش کیجئے قبول ہوگی، چنانچہ میری امت کے متعلق یہ سفارش قبول ہوگی کہ ہر ننانوے میں سے ایک آدمی جہنم سے نکال لوں ، لیکن میں اپنے رب سے مسلسل اصرار کرتا رہوں گا اور اس وقت تک وہاں سے نہ ہٹوں گا جب تک میری سفارش قبول نہ ہوجائے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سفارش کی قبولیت عطاء فرماتے ہوئے کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے آپ کی امت میں جتنے لوگ پیدا کیے ہیں ان میں سے ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لیجئے جس نے ایک دن بھی اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کی گواہی دی اور اسی پر فوت ہوگیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12360

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَالَ أَنَا فَاعِلٌ بِهِمْ قَالَ فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ قُلْتُ فَإِذَا لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ فَأَنَا عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ فَأَنَا عِنْدَ الْحَوْضِ لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ مَوَاطِنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ قیامت کے دن میری سفارش فرمائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کر دوں گا، میں نے پوچھا کہ میں قیامت کے دن آپ کو کہاں تلاش کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے تو مجھے پل صراط پر تلاش کرنا، میں نے عرض کیا اگر میں آپ کو وہاں نہ پاؤں تو؟ فرمایا پھر میں میزان عمل کے پاس موجود ہوں گا، میں نے عرض کیا اگر آپ وہاں بھی نہ ملیں تو؟ فرمایا پھر میں حوضِ کوثر پر ہوں گا، اور قیامت کے دن ان تینوں جگہوں سے آگے پیچھے نہ جاؤں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12361

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ قَالَ فَقَالَ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے " یا خیر البریہ " کہہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12362

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْمِسْمَعِيَّ عَنْ حُمَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَقَالَ قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ يَوْمَيْنِ خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12363

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ قَالَ فَقِيلَ يَا أَبَا حَمْزَةَ وَشَيْنٌ هُوَ قَالَ يُقَالُ كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ وَخَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے، اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12364

حَدَّثَنَا سَهْلٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلَلٍ فَسَدَّدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ فَأَخْرَجَ الرَّجُلُ رَأْسَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی سیدھی کی تو اس نے اپنا سر نکال دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12365

حَدَّثَنَا سَهْلٌ عَنْ حُمَيْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ قَالَ أَبِي أَسْنَدَاهُ جَمِيعًا عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12366

حَدَّثَنَا سَهْلٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُجَّ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَّبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ فَأُنْزِلَتْ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بھی زخم آیا تھا، حتیٰ کہ اس کا خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہو؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہوجائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں ۔ "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12367

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا قَالَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ

حمید کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12368

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بخل اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12369

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ قُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے؟ فرمایا اب قسم کھالیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12370

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا قَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ فَقَالَ حَلَفْتَ لَا تَحْمِلُنَا قَالَ وَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكُمْ فَحَمَلَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرمادیا کہ بخدا! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرمادی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12371

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ اسْتَحْمَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَفَ لَا يَحْمِلُنَا ثُمَّ حَمَلَنَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ لَا تَحْمِلُنَا قَالَ وَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرمادیا کہ بخدا! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرمادی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12372

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهَا خَيْرًا وَتَتَابَعَتْ الْأَلْسُنُ لَهَا بِالْخَيْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ ثُمَّ مَرَّتْ جَنَازَةٌ أُخْرَى فَقَالُوا لَهَا شَرًّا وَتَتَابَعَتْ الْأَلْسُنُ لَهَا بِالشَّرِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، پھر کئی لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، ان کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12373

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ قَالَ أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ نَشْكُو إِلَيْهِ الْحَجَّاجَ فَقَالَ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ يَوْمٌ أَوْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زبیر بن عدی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حجاج بن یوسف کے مظالم کی شکایت کی، انہوں نے فرمایا صبر کرو، کیونکہ ہر سال یا دن کے بعد آنے والا سال اور دن اس سے بدتر ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12374

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ ابْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُجْزِئُ فِي الْوُضُوءِ رَطْلَانِ مِنْ مَاءٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو کے لئے دو رطل پانی ہی کافی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12375

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ السَّبُعِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12376

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو کیونکہ صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12377

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12378

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِإِنَاءٍ يَكُونُ رَطْلَيْنِ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن سے وضو فرما لیتے تھے جس میں دو رطل پانی ہوتا، اور ایک صاع پانی سے غسل فرما لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12379

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى حَصِيرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12380

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَكَانُوا لَا يَجْهَرُونَ بْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات بلند آواز سے " بسم اللہ" نہیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12381

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس جاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12382

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر خطبہ دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12383

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ لَا يَنْقُصُونَ التَّكْبِيرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم تکبیر مکمل کیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12384

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو بَعْدَ الرُّكُوعِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے کچھ قبائل پر بددعاء کرتے رہے پھر اسے ترک کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12385

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ يُنَاوِلُ أَصْحَابَهُ وَهُمْ يَبْنُونَ الْمَسْجِدَ أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اینٹیں پکڑاتے جا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12386

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَرَكِبَهُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَا لَبَحْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا ایک گھوڑا " جس کا نام مندوب تھا " عاریۃً لیا اور فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12387

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ مِغْفَرٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12388

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي الْمَخِيسِ الْيَشْكُرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ فُلَانٌ قَالَ كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ عَبَاءَةً غَلَّهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں ، میں نے تو اس پر ایک عباء دیکھی تھی جو اس نے فلاں دن مال غنیمت میں سے خیانت کر کے حاصل کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12389

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ فِي حِجْرِهِ وَرِثُوا خَمْرًا أَنْ يَجْعَلَهَا خَلًّا فَكَرِهَ ذَلِكَ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً أَفَلَا يَجْعَلُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کو وراثت میں شراب ملے تو کیا اس کا سرکہ بنا سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12390

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَزِّرُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ قَالَ ثُمَّ ضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ وَدَنَا النَّاسُ مِنْ الرِّيفِ وَالْقُرَى اسْتَشَارَ فِي ذَلِكَ النَّاسَ وَفَشَا ذَلِكَ فِي النَّاسِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ كَأَخَفِّ الْحُدُودِ فَضَرَبَ عُمَرُ ثَمَانِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی سزا میں ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (چالیس کوڑے) مارے ہیں ، لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں لوگ مختلف شہروں اور بستیوں کے قریب ہوئے (اور ان میں وہاں کے اثرات آنے لگے) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد کے برابر اس کی سزا مقرر کر دیجئے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12391

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قُلْتُ مَا هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا كَانُوا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ دنیا کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12392

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12393

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي غُنْدَرًا قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12394

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12395

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا، جب میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکڑوں بیٹھ کر کھجوریں تناول فرما رہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12396

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَقَدْ جَعَلَهُ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ وَقَرْعٍ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الْقَرْعَ مِنْ الصَّحْفَةِ قَالَ أَنَسٌ فَمَا زِلْتُ يُعْجِبُنِي الْقَرْعُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے کھانے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، وہ کھانا لے کر حاضر ہوا تو اس میں پرانا روغن اور کدو تھا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے ہیں ، اس وقت سے مجھے بھی کدو پسند آنے لگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12397

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الْبَهِيمَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12398

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رُخِّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا قَالَ شُعْبَةُ وَقَالَ رَخَّصَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12399

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ الْمَعْنَى عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ كِتَابًا إِلَى الرُّومِ فَقِيلَ لَهُ إِنْ لَمْ يَكُنْ مَخْتُومًا لَمْ يُقْرَأْ كِتَابُكَ فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي كَفِّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12400

حَدَّثَنَا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ وَجَدَهُ فَأَقَرَّ بِهِ وَحَدَّثَنَا بِبَعْضِهِ فِي مَكَانٍ آخَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هِلَالٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ وَالْبَرَاءِ قَالَ فَوَلَدَتْ لَهُ ابْنًا قَالَ فَكَانَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا قَالَ فَمَرِضَ الصَّبِيُّ مَرَضًا شَدِيدًا فَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَقُومُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ يَتَوَضَّأُ وَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي مَعَهُ وَيَكُونُ مَعَهُ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ وَيَجِيءُ يَقِيلُ وَيَأْكُلُ فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ تَهَيَّأَ وَذَهَبَ فَلَمْ يَجِئْ إِلَى صَلَاةِ الْعَتَمَةِ قَالَ فَرَاحَ عَشِيَّةً وَمَاتَ الصَّبِيُّ قَالَ وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ نَسَجَتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا وَتَرَكَتْهُ قَالَ فَقَالَ لَهَا أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ كَيْفَ بَاتَ بُنَيَّ اللَّيْلَةَ قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا كَانَ ابْنُكَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ قَالَ ثُمَّ جَاءَتْهُ بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَطَابَتْ نَفْسُهُ قَالَ فَقَامَ إِلَى فِرَاشِهِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ قَالَتْ وَقُمْتُ أَنَا فَمَسِسْتُ شَيْئًا مِنْ طِيبٍ ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى دَخَلْتُ مَعَهُ الْفِرَاشَ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ رِيحَ الطِّيبِ كَانَ مِنْهُ مَا يَكُونُ مِنْ الرَّجُلِ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ ثُمَّ أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَهَيَّأُ كَمَا كَانَ يَتَهَيَّأُ كُلَّ يَوْمٍ قَالَ فَقَالَتْ لَهُ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا اسْتَوْدَعَكَ وَدِيعَةً فَاسْتَمْتَعْتَ بِهَا ثُمَّ طَلَبَهَا فَأَخَذَهَا مِنْكَ تَجْزَعُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ لَا قَالَتْ فَإِنَّ ابْنَكَ قَدْ مَاتَ قَالَ أَنَسٌ فَجَزِعَ عَلَيْهِ جَزَعًا شَدِيدًا وَحَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهَا فِي الطَّعَامِ وَالطِّيبِ وَمَا كَانَ مِنْهُ إِلَيْهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِتُّمَا عَرُوسَيْنِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِكُمَا قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا قَالَ فَحَمَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ فَتَلِدُ غُلَامًا قَالَ فَحِينَ أَصْبَحْنَا قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ احْمِلْهُ فِي خِرْقَةٍ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْمِلْ مَعَكَ تَمْرَ عَجْوَةٍ قَالَ فَحَمَلْتُهُ فِي خِرْقَةٍ قَالَ وَلَمْ يُحَنَّكْ وَلَمْ يَذُقْ طَعَامًا وَلَا شَيْئًا قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ مَا وَلَدَتْ قُلْتُ غُلَامًا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ فَقَالَ هَاتِهِ إِلَيَّ فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَحَنَّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَهُ مَعَكَ تَمْرُ عَجْوَةٍ قُلْتُ نَعَمْ فَأَخْرَجْتُ تَمَرَاتٍ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً وَأَلْقَاهَا فِي فِيهِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُهَا حَتَّى اخْتَلَطَتْ بِرِيقِهِ ثُمَّ دَفَعَ الصَّبِيَّ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ الصَّبِيُّ حَلَاوَةَ التَّمْرِ جَعَلَ يَمُصُّ بَعْضَ حَلَاوَةِ التَّمْرِ وَرِيقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ فَتَحَ أَمْعَاءَ ذَلِكَ الصَّبِيِّ عَلَى رِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ فَسُمِّيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ فَخَرَجَ مِنْهُ رَجُلٌ كَثِيرٌ قَالَ وَاسْتُشْهِدَ عَبْدُ اللَّهِ بِفَارِسَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے " جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں " شادی کرلی، ان کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس سے بڑی محبت تھی، ایک دن وہ بچہ انتہائی شدید بیمار ہوگیا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو وضو کر کے بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کرتے، نصف النہار کے قریب تک وہیں رہتے، پھر گھر آکر قیلولہ کرتے، کھانا کھاتے، اور ظہر کی نماز کے بعد تیار ہو کر چلے جاتے، پھر عشاء کے وقت ہی واپس آتے، ایک دن وہ دوپہر کو گئے، تو ان کے پیچھے ان کا بیٹا فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اسے کپڑا اوڑھا دیا، جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے بچے کے بارے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے سے بہتر ہے، پھر ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا، انہوں نے کھانا کھایا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بناؤ سنگھار کیا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے بستر پر سر رکھ کر لیٹ گئے، وہ کہتی ہیں کہ میں کھڑی ہوگئی، اور خوشبو لگا کر آئی اور ان کے ساتھ بستر پر لیٹ گئی، جب انہیں خوشبو کی مہک پہنچی تو انہیں وہی خواہش پید اہوئی جو ہر مرد کو اپنی بیوی سے ہوتی ہے، صبح ہوئی تو وہ حسب معمول تیاری کرنے لگے، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! اگر کوئی آدمی آپ کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائے آپ اس سے فائدہ اٹھائیں پھر وہ آپ سے اس کا مطالبہ کرے اور وہ چیز آپ سے لے لے تو کیا اس پر آپ جزع فزع کریں گے، انہوں نے کہا نہیں ، انہوں نے کہا پھر آپ کا بیٹا فوت ہوگیا ہے، اس پر وہ سخت ناراض ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کھانے کا، خوشبو لگانے کا اور خلوت کا سارا واقعہ بیان کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تعجب ہے کہ وہ بچہ تمہارے پہلو میں پڑا رہا اور تم دونوں نے ایک دوسرے سے خلوت کی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا ہی ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہاری رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اسی رات امید سے ہوگئیں ، اور ان کے یہاں لڑکا پیدا ہوا، صبح ہوئی تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ اور اپنے ساتھ کچھ عمدہ کھجوریں بھی لے جانا، انہوں نے خود اسے گھٹی دی اور نہ ہی کچھ چکھایا، میں نے اسے اٹھا کر ایک کپڑے میں لپیٹا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا لڑکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہہ کر فرمایا اسے میرے پاس لاؤ، میں نے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گھٹی دینے کے لئے پوچھا کہ تمہارے پاس عجوہ کھجوریں ہیں ؟ میں نے عرض کی جی ہاں ! اور کجھوریں نکال لیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں رکھی اور اسے چباتے رہے، جب وہ لعاب دہن میں مل گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اس سے گھٹی دی، اسے کھجور کا مزہ آنے لگا اور چوسنے لگا، گویا اس کی انتڑیوں میں سب سے پہلی جو چیز گئی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو کجھور سے بڑی محبت ہے، پھر اس کا نام عبداللہ بن ابی طلحہ رکھا، اس کی نسل خوب چلی اور وہ ایران میں شہید ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12401

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا أَوْ مَهْرَهَا قَالَ يَحْيَى أَوْ أَصْدَقَهَا عِتْقَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12402

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً مِنْ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعاء میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے، سوائے استسقاء کے موقع پر کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ بلند فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12403

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَسْلِمْ قَالَ إِنِّي أَجِدُنِي كَارِهًا قَالَ وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے اسلام قبول کرنے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ مجھے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پسند نہ بھی ہوتب بھی اسلام قبول کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12404

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَسُهَيْلَ ابْنَ بَيْضَاءَ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ وَأَنَا أَسْقِيهِمْ حَتَّى كَادَ الشَّرَابُ أَنْ يَأْخُذَ فِيهِمْ فَأَتَى آتٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ أَوَمَا شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَمَا قَالُوا حَتَّى نَنْظُرَ وَنَسْأَلَ فَقَالُوا يَا أَنَسُ اكْفِ مَا بَقِيَ فِي إِنَائِكَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا عَادُوا فِيهَا وَمَا هِيَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَهِيَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ، ابی کعب رضی اللہ عنہ، سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ اور دیگر کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کو حرمت خمر کا حکم نازل ہونے سے پہلے پلایا کرتا تھا، اور اتنی پلاتا تھا کہ اس کا اثر ان پر نظر آتا تھا، ایک دن ایک مسلمان آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ لوگوں کو خبر نہیں ہوئی کہ شراب حرام ہوگئی ، انہوں نے یہ سن کر یہ نہیں کہا کہ ٹھہرو، پہلے تحقیق کرتے ہیں ، بلکہ کہنے لگے انس! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، بخدا! اس کے بعد وہ کبھی اس کے قریب نہیں گئے، اور وہ بھی صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی، یہی اس وقت شراب تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12405

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک عمرۃ و حج''

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12406

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا قُلْتُ فَالْأَكْلُ قَالَ ذَاكَ أَشَدُّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12407

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ وَيَزِيدَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ أَقْوَامٌ أَرَقُّ مِنْكُمْ أَفْئِدَةً فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى فَجَعَلُوا لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرْتَجِزُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12408

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِبَدْرٍ وَهُوَ يُنَادِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا قَالُوا كَيْفَ تُكَلِّمُ قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یہ آواز لگاتے ہوئے سنا اے ابوجہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12409

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سِرْتُمْ مَسِيرًا إِلَّا شَرَكُوكُمْ فِيهِ قَالُوا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو) فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے؟ فرمایا ہاں ! مدینہ میں ہونے کے باوجود، کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12410

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَصَلَّى حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ بَعْدَ مَا أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کر دی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی، اور فرمایا نمازِ فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان نمازِ فجر کا وقت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12411

مَضْرُوبٌ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْ دِيَارِهِمْ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرَى الْمَسْجِدُ فَقَالَ يَا بَنِي سَلِمَةَ أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ فَأَقَامُوا قَالَ أَبِي أَخْطَأَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَإِنَّمَا هُوَ أَنْ يُعْرُوا الْمَدِينَةَ فَقَالَ يَحْيَى الْمَسْجِدَ وَضَرَبَ عَلَيْهِ أَبِي هَاهُنَا وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ فِي كِتَابِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے بنو سلمہ نے ایک مرتبہ یہ ارادہ کیا کہ اپنی پرانی رہائش گاہ سے منتقل ہو کر مسجد کے قریب آکر سکونت پذیر ہوجائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کا خالی ہونا اچھا نہ لگا، اس لئے فرمایا اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد کے طرف اٹھنے والے قدموں کا ثواب حاصل نہیں کرنا چاہتے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12412

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ بُكَاءَ صَبِيٍّ فِي الصَّلَاةِ فَخَفَّفَ فَظَنَنَّا أَنَّهُ خَفَّفَ مِنْ أَجْلِ أُمِّهِ رَحْمَةً لِلصَّبِيِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی آواز سنی اور نماز ہلکی کر دی، ہم لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ماں کی وجہ سے نماز کو ہلکا کر دیا ہے، یہ اس بچے پر شفقت کا اظہار تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12413

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَتَمَّ صَلَاةً مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَوْجَزَ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَهُ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو نماز مکمل اور مختصر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12414

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا قَالَ نَعَمْ أَخَّرَ الْعِشَاءَ لَيْلَةً إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشاء کو نصف رات تک موخر کر دیا، اور فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا، تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12415

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ حَتَّى نَعَسَ أَوْ كَادَ يَنْعَسُ بَعْضُ الْقَوْمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے ، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو لوگ سوچکے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12416

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَ مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12417

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ وَقَالَ أَمْثَلُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے سینگی لگوانے کی اجرت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابوطیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو صاع جو دینے کا حکم دیا اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کر دی۔ اور فرمایا بہترین علاج سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12418

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کر لو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12419

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ لِنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنْ تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا فَدَعَاهُمْ فَأَبَوْا قَالَ أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ انہیں تقسیم کر دیں ، لیکن وہ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کو ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن تم صبر کرنا تاآنکہ مجھ سے آملو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12420

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَعْبُدُونَ وَيَدْأَبُونَ حَتَّى يُعْجَبَ بِهِمْ النَّاسُ وَتُعْجِبَهُمْ نُفُوسُهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا گیا لیکن میں نے اسے خود نہیں سنا کہ تم میں ایک قوم ایسی آئے گی جو عبادت کرے گی اور دینداری پر ہوگی، حتیٰ کہ لوگ ان کی کثرت عبادت پر تعجب کیا کریں گے اور وہ خود بھی خود پسندی میں مبتلاء ہوں گے، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12421

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِالْحَمْدِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم نماز میں قرات کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12422

حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخِ تَمْرٍ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالُوا أَكْفِئْهَا يَا أَنَسُ فَأَكْفَأْتُهَا قُلْتُ مَا كَانَ شَرَابُهُمْ قَالَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ و قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَأَنَسٌ يَسْمَعُ فَلَمْ يُنْكِرْهُ و قَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَنَا قَالَ أَنَسٌ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن کھڑا لوگوں کو فصیخ پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ شراب حرام ہوگئی، وہ کہنے لگے انس! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، راوی نے ان سے شراب کی تفتیش کی تو فرمایا کہ وہ تو صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12423

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دوبیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12424

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَوَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهُ هُوَ أَنْ يُوَارِيَهُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ مِثْلَهُ وَقَالَ كَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12425

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ أَوْ بَدَنَةٍ فَقَالَ ارْكَبْهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا هَدِيَّةٌ أَوْ بَدَنَةٌ قَالَ وَإِنْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ قربانی کا جانور ہی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12426

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ فَسَمَّى وَكَبَّرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کرتے ہوئے اللہ کا نام لے کر تکبیر کہی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12427

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ قَالَ قِيلَ وَرَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ قَالَ وَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا قَالَ وَسَمَّى وَكَبَّرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12428

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَخَ رَأْسَ امْرَأَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقَتَلَهَا فَرَضَخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصار بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کر دیا جو اس نے پہن رکھا تھا، اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قصاصاً اس کا سر دوپتھروں کے درمیان کچل دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12429

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَلْعَبُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا صِبْيَانُ

یسار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنائی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جارہا تھا، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، انہوں نے انہیں سلام کیا اور فرمایا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، جو کھیل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12430

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ وَكَانَ دَبَّاغًا وَكَانَ حَسَنَ الْهَيْئَةِ عِنْدَهُ أَرْبَعَةُ أَحَادِيثَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ نَاسٌ الْجَحِيمَ حَتَّى إِذَا كَانُوا حُمَمًا أُخْرِجُوا فَأُدْخِلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12431

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے یوں فرمایا " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً''

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12432

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12433

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَهْلِ أَبِي الْأَسَدِ عَنْ بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا فِي بَيْتِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَقَفَ فَأَخَذَ بِعِضَادَةِ الْبَابِ فَقَالَ الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ وَلَكُمْ مِثْلُ ذَلِكَ مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَّوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک انصاری کے گھر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور کھڑے ہو کر دروازے کے کواڑ پکڑ لئے ، اور فرمایا امراء قریش میں سے ہوں گے اور ان کا تم پر حق بنتا ہے، اور ان پر تمہارا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جب لوگ ان سے رحم کی درخواست کریں تو وہ ان سے رحم کا معاملہ کریں ، وعدہ کریں تو پورا کریں ، فیصلہ کریں تو انصاف کریں ، جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12434

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَدْعُو بِأُصْبُعَيْنِ فَقَالَ أَحِّدْ يَا سَعْدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر ہوا، وہ دوانگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعاء کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد! ایک انگلی رکھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12435

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ قَامَتْ عَلَى أَحَدِكُمْ الْقِيَامَةُ وَفِي يَدِهِ فَسْلَةٌ فَلْيَغْرِسْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی پر قیامت قائم ہو جائے اور اس کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو، تب بھی اسے چاہئے کہ اسے گاڑ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12436

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ قَالَ شُعْبَةُ سَمِعْتُ ثَابِتًا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبِطَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12437

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْحَمُ أُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهَا فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهَا حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَقْرَؤُهَا لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيٌّ وَأَعْلَمُهَا بِالْفَرَائِضِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ، حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں ، کتاب اللہ کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں ، علم وراثت کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں ، اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے، اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12438

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحِبَرَةُ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس پسند تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ دھاری دار یمنی چادر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12439

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي بَحْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْضِي لِلْمُؤْمِنِ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ أَبُو بَحْرٍ اسْمُهُ ثَعْلَبَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے تو مسلمان پر تعجب ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے جو فیصلہ بھی فرماتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12440

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ قَالَ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے " یا خیر البریہ " کہہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12441

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ قَالَ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے " یا خیر البریہ " کہہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12442

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنْ الصَّلَاةِ أَوْ غَفَلَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ أَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے، اسے پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " میری یاد کے لئے نماز قائم کرو،''

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12443

قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَأَنْتَ نَصِيرِي وَبِكَ أُقَاتِلُ

اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے پر روانہ ہوتے تو فرماتے اے اللہ! تو ہی میرا بازو ہے، تو ہی میرا پروردگار ہے، اور تیرے ذریعے ہی میں قتال کرتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12444

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُضِحَ لَهُ حَصِيرٌ فَصَلَّى عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ لَمْ أَرَهُ إِلَّا ذَلِكَ الْيَوْمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک چٹائی کے کونے پر پانی چھڑک دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دو رکعتیں پڑھ دیں ، ایک آدمی نے یہ سن کر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز صرف اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12445

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12446

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ فَأَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي وَعَشِيرَتِي مِنْ نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فَقُومُوا فَصَلُّوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا، میں مدینہ منورہ کے ایک کونے میں واقع اپنے محلے اور گھر میں پہنچتا اور ان سے کہتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے ہیں ، لہٰذا تم بھی اٹھ کر نماز پڑھ لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12447

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصِيبُ التَّمْرَةَ فَيَقُولُ لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنَّهَا مِنْ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ایک کجھور پڑی ہوئی ملتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اگر مجھے یہ اندیشہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو میں اسے کھا لیتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12448

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِ أُمِّ حَرامٍ عَلَى بِسَاطٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کے گھر میں بستر پر نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12449

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ لِمَنْ هَذَا قَالُوا لِحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ فَإِذَا عَجَزَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ لِتُصَلِّ مَا طَاقَتْ فَإِذَا عَجَزَتْ فَلْتَقْعُدْ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے ، پوچھا یہ کیسی رسی ہے ؟ لوگوں نے بتا یا کہ یہ زینب کی رسی ہے ، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باند ھ لیتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو ، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12450

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مِنْ الْأَنْصَارِ ضَخْمٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا وَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَسَطُوا لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحُوهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بڑا بھاری کم تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے بار بار نہیں آسکتا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں بار بار آپ کے ساتھ آکر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر آپ کسی دن میرے گھر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تو میں وہیں پر نماز پڑھ لیا کروں گا، چنانچہ اس نے ایک مرتبہ دعوت کا اہتمام کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، اور ایک چٹائی کے کونے پر پانی چھڑک دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دو رکعتیں پڑھ دیں ، آل جارود میں سے ایک آدمی نے یہ سن کر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز صرف اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12451

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَصْحَابُهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ فَخَفَّفَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَأَطَالَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ فَخَفَّفَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَأَطَالَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْتَ فَجَعَلْتَ تُطِيلُ إِذَا دَخَلْتَ وَتُخَفِّفُ إِذَا خَرَجْتَ قَالَ مِنْ أَجْلِكُمْ مَا فَعَلْتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہِ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذرنے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم آج رات بیٹھے ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر کے لئے گھر میں چلے گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ہی ایسا کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12452

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ هَمَّامٍ وَبَهْزٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيٍّ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ قَالَ أُبَيٌّ آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ قَالَ اللَّهُ سَمَّاكَ لِي قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ فَجَعَلَ يَبْكِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12453

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ رَبِيعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا كَانَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12454

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَتَّابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں " حسب طاقت " کی قید لگا دی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12455

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَأَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَخَرَجَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَهُمْ فَاسْتَبْرَأَ الْفَزَعَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ فَقَالَ لَمْ تُرَاعُوا وَقَالَ لِلْفَرَسِ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بے زین گھوڑے پر سوار ہیں ، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12456

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنِ أَبِي عِصَامٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ هُوَ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیادہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12457

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ أَنَسًا كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ وَزَعَمَ أَنَسٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے، خود حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی تین سانس لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12458

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12459

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12460

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ مَرْوَانَ الْأَصْغَرَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ أَهْلَلْتَ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَإِنِّي لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ جب یمن سے واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اس نیت سے احرام باندھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کی نیت کی ہو، میرا بھی وہی احرام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو حلال ہوچکا ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12461

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12462

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَكَرَهَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا

علاء ابن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، کچھ ہی دیر بعد وہ عصر کی نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے کہا کہ عصر کی نماز اتنی جلدی؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12463

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بحوالہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12464

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن اخطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کر دو، ام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں نہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12465

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا قَالَ فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔ راوی نے حضرت انس سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کتنا مہر دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے کر ان سے نکاح کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12466

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12467

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَقَالَ وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ يَعْنِي قَوْلَهُ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انحشہ تھا " امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی سے ہانکنا شروع کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجشہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12468

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِيَّايَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا قَالُوا بَلَى فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَصَحُّوا فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ فَأُدْرِكُوا فَجِيءَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ ثُمَّ نُبِذُوا فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہو جاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12469

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ الثُّومِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّ أَوْ لَا يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ کسی نے لہسن کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا جو شخص اس درخت سے کچھ کھائے، وہ ہمارے قریب نہ آئے، یا ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12470

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرُّوا بِجِنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ فَقَالَ عُمَرُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ فَقَالَ مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، پہلا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی تعریف کی تب بھی آپ نے تینوں مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی اور جب دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت بیان کی تب بھی آپ نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ جس کی تعریف کر دو، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی مذمت بیان کر دو، اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی، پھر تین مرتبہ فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12471

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ فَأَثْنَى الْقَوْمُ خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ وَجَبَتْ فَقَالُوا قُلْتَ لِهَذَا وَجَبَتْ وَلِهَذَا وَجَبَتْ قَالَ شَهَادَةُ الْقَوْمِ وَالْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے دونوں کے لئے " واجب ہوگئی " فرمایا، اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ قوم کی گواہی ہے اور مسلمان زمین میں اللہ کے گواہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12472

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَ فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ وَهُمْ يَقُولُونَ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ قَالَ فَظَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ وَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ثُمَّ صَارَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا قَالَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا فَقَالَ لَكَ أَنَسٌ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا فَضَحِكَ ثَابِتٌ وَقَالَ نَعَمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں فجر کی نماز منہ اندھیرے پڑھی، اور اللہ اکبر کہہ کر فرمایا خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کرلیا، ان کے لڑاکا افراد کو قتل اور بچوں کو قیدی بنالیا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا، حضرت دحیہ رضی اللہ عنہا کے حصے میں آگئی، بعد میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12473

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشْتُ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَلَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک عبارت محمد رسول اللہ نقش کروائی ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کروائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12474

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّجَالَ عَنْ الْمُزَعْفَرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفران کی خوشبو لگانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12475

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعِيدٍ حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى نَدَعُ الِائْتِمَارَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنْ الْمُنْكَرِ قَالَ إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا كَانَتْ الْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ وَالْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ وَالْعِلْمُ فِي رُذَالِكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑیں گے؟ فرمایا جب تم میں وہ چیزیں ظاہر ہوجائیں جو بنی اسرائیل میں در آئی تھیں ، جب بے حیائی بڑوں میں اور حکومت چھوٹوں میں اور علم کمینوں میں آجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12476

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْمَسِيرِ وَكَانَ حَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ أَوْ سَائِقٌ قَالَ فَكَانَ نِسَاؤُهُ يَتَقَدَّمْنَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا أَنْجَشَةُ وَيْحَكَ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے اور حدی خوان امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی کے ساتھ ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12477

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ قَالَ يَحْيَى فَقُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ أَقَامَ قَالَ عَشْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا؟ انہوں نے بتایا دس دن۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12478

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يَحْيَى عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک عمرۃ و حجا "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12479

عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ قَالَ فَعَثَرَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُرِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصُرِعَتْ صَفِيَّةُ قَالَ فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ أَشُكُّ قَالَ ذَاكَ أَمْ لَا أَضُرِرْتَ قَالَ لَا عَلَيْكَ الْمَرْأَةَ قَالَ فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ عَلَى وَجْهِهِ الثَّوْبَ فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَمَدَّ ثَوْبَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ أَصْلَحَ لَهَا رَحْلَهَا فَرَكِبْنَا ثُمَّ اكْتَنَفْنَاهُ أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ أَوْ كُنَّا بِظَهْرِ الْحَرَّةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهُنَّ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سوار تھیں ، ایک مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پھسل گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا گر گئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تیزی سے وہاں پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کوئی چوٹ تو نہیں آئی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، خاتون کی خبر لو، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر ان کے پاس پہنچے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا پر کپڑا ڈال دیا، اس کے بعد سواری کو دوبارہ تیار کیا، پھر ہم سب سوار ہوگئے اور ہم میں سے ایک نے دائیں جانب سے اور دوسرے نے بائیں جانب سے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا، جب ہم لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے یا پتھریلے علاقوں کی پشت پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( آيِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ) ہم اللہ کی عبادت کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے، اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے واپس آئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہ جملے کہتے رہے تاآنکہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12480

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَدَعَا بِإِنَاءٍ وَفِيهِ ثَلَاثُ ضِبَابٍ حَدِيدٍ وَحَلْقَةٌ مِنْ حَدِيدٍ فَأُخْرِجَ مِنْ غِلَافٍ أَسْوَدَ وَهُوَ دُونَ الرُّبُعِ وَفَوْقَ نِصْفِ الرُّبُعِ فَأَمَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَجُعِلَ لَنَا فِيهِ مَاءٌ فَأُتِينَا بِهِ فَشَرِبْنَا وَصَبَبْنَا عَلَى رُءُوسِنَا وَوُجُوهِنَا وَصَلَّيْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حجاج بن حسان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں لوہے کے تین ٹکڑے اور ایک حلقہ لگا ہوا تھا، انہوں نے وہ برتن ایک کالے غلاف سے نکالا تھا ، جو چوتھائی سے کم اور نصف سے کچھ زیادہ تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حکم پر اس میں ہمارے لئے پانی ڈالا گیا، ہم نے وہ پانی نوش کیا اور اپنے سر اور چہروں پر ڈالا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12481

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ رَفْعِ الْأَيْدِي فَقَالَ قَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَجْدَبَتْ الْأَرْضُ هَلَكَ الْمَالُ قَالَ فَاسْتَسْقَى فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً فَقَامَ فَصَلَّى حَتَّى جَعَلَ يَهُمُّ الْقَرِيبُ الدَّارِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ مِنْ شِدَّةِ الْمَطَرِ قَالَ فَمَكَثْنَا سَبْعًا فَلَمَّا كَانَتْ الْجُمُعَةُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا قَالَ فَتَكَشَّفَتْ عَنْ الْمَدِينَةِ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کیے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گر گئیں اور سوار مدینہ سے باہر ہی رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی کہ اے اللہ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12482

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَقَّتْهُ الْأَنْصَارُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوْا مَا عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو انصار سے ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں تم سے محبت کرتا ہوں ، تم انصار کے نیکیوں کی نیکی قبول کرو، اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا اور ان کا حق باقی رہ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12483

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةٍ قَرَّةٍ أَوْ بَارِدَةٍ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ فَأَجَابُوهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے ایک دن باہر نکلے تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار خندق کھود رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی ہی خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواباً یہ شعر پڑھا کہ " ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں ۔ "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12484

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ وَغَيْرَهُمَا فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ أَيُعْطِي غَنَائِمَنَا مَنْ تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ أَوْ تَقْطُرُ دِمَاؤُهُمْ مِنْ سُيُوفِنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْأَنْصَارَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مالِ غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر خدا کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں ، اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12485

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ سَمْنًا وَتَمْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِكُمْ وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِكُمْ فَإِنِّي صَائِمٌ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِهَا ثُمَّ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً قَالَ وَمَا هِيَ قَالَتْ أَنَسٌ قَالَ فَمَا تَرَكَ يَوْمَئِذٍ مِنْ خَيْرِ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا بِهِ مِنْ قَوْلِهِ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيهِمْ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ حَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أَنَّهُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِي عِشْرُونَ وَمِائَةٌ وَنَيِّفٌ وَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ تھی جو میرے لئے نہ مانگی ہو، اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، وہ خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بیٹی نے بتایا ہے کہ میری نسل میں سے ایک سو چوبیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں اور میں مال و دولت میں تمام انصار سے بڑھ کر ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12486

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ اسْتَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْرَجَهُ إِلَى بَدْرٍ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ اسْتَشَارَ عُمَرَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَقَالَ بَعْضُ الْأَنْصَارِ إِيَّاكُمْ يُرِيدُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ تَسْتَشِيرُنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكٍ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَاتَّبَعْنَاكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں ، اس پر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بخدا! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں ، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12487

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِدَاءَ صَبِيٍّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَخَفَّفَ فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَحْمَةً لِلصَّبِيِّ إِذْ عَلِمَ أَنَّ أُمَّهُ مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھاتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی اواز سنی اور نماز ہلکی کر دی، ہم لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ماں کی وجہ سے نماز کو ہلکا کر دیا ہے، یہ اس پر شفقت کا اظہار تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12488

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ سُئِلَ اخْتَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12489

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَلَهَا ابْنٌ مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ وَكَانَ يُمَازِحُهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ مَالِي أَرَى أَبَا عُمَيْرٍ حَزِينًا فَقَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا " جس کا نام ابو عمیر تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابو عمیر! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مر گئی تھی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12490

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ غُلَامًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ فَبَعَثَتْ بِهِ مَعَ ابْنِهَا أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَنَّكَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بچہ پیدا ہوا، انہوں نے اپنے بیٹے انس کے ساتھ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گھٹی دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12491

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَشَقَّ عَلَيْهِ حَتَّى عُرِفَ ذَاكَ فِي وَجْهِهِ فَحَكَّهُ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ الْمَرْءَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلْيَبْزُقْ إِذَا بَزَقَ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ وَأَوْمَأَ هَكَذَا كَأَنَّهُ فِي ثَوْبِهِ قَالَ وَكُنَّا نَقُولُ لِحُمَيْدٍ فَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَنْ هُوَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَزِيدُنَا عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ چیز اتنی شاق گذری کہ چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صاف کر کے فرمایا کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے، اور اس طرح اشارہ کیا کہ اسے کپڑے میں لے کر مل لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12492

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ أَسْرَعَ الْمَشْيَ فَانْتَهَى إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ انْبَهَرَ فَقَالَ حِينَ قَامَ فِي الصَّلَاةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ مَنْ الْمُتَكَلِّمُ أَوْ مَنْ الْقَائِلُ قَالَ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَنْ الْمُتَكَلِّمُ أَوْ مَنْ الْقَائِلُ فَإِنَّهُ قَالَ خَيْرًا أَوْ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي انْتَهَيْتُ إِلَى الصَّفِّ وَقَدْ انْبَهَرْتُ أَوْ حَفَزَنِي النَّفَسُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا ثُمَّ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَيَقْضِ مَا سَبَقَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا، اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12493

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَعْنِكَ إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلَانًا قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابوالقاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو مراد نہیں لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر تو اپنا نام رکھ سکتے ہو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12494

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا قَالَ نَعَمْ أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قُرْبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا قَالَ أَنَسٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ الْآنَ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کر دیا، اور نماز کے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12495

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَصَلَّى حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَسْفَرَ بِهِمْ حَتَّى أَسْفَرَ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ قَالَ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کر دی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی، اور فرمایا نمازِ فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان نمازِ فجر کا وقت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12496

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَنْطَلِقُ الْمُنْطَلِقُ مِنَّا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12497

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ أَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ

سعید بن یزید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12498

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيُّهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ابوعبیدہ اس امت کے امین ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12499

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12500

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ يَطَأُ عَلَى صِفَاحِهِمَا وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12501

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ أَنَسٌ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَى نَاقَتِهِ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذْ عَثَرَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ الْمَرْأَةُ فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ عَنْ نَاقَتِهِ قَالَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ ضَرَّكَ شَيْءٌ قَالَ لَا عَلَيْكَ بِالْمَرْأَةِ فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ ثَوْبَهُ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ قَصَدَ الْمَرْأَةَ فَسَدَلَ الثَّوْبَ عَلَيْهَا فَقَامَتْ فَشَدَّ لَهُمَا عَلَى رَاحِلَتِهِمَا فَرَكِبَا وَرَكِبْنَا نَسِيرُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ قَالَ آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سوار تھیں ، ایک مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پھسل گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا گر گئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تیزی سے وہاں پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کوئی چوٹ تو نہیں آئی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، خاتون کی خبر لو، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر ان کے پاس پہنچے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا پر کپڑا ڈال دیا، اس کے بعد سواری کو دوبارہ تیار کیا، پھر ہم سب سوار ہوگئے اور ہم میں سے ایک نے دائیں جانب سے اور دوسرے نے بائیں جانب سے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا، جب ہم لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے یا پتھریلے علاقوں کی پشت پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم اللہ کی عبادت کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے، اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے واپس آئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہ جملے کہتے رہے تاآنکہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12502

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ بَلَغَهُ مَقْدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ قَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمَا بَالُ الْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أَبِيهِ وَالْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أُمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا قَالَ ابْنُ سَلَامٍ فَذَلِكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنْ الْمَلَائِكَةِ قَالَ أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنْ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ وَأَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ وَأَمَّا الْوَلَدُ فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدَ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَتْ الْوَلَدَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پوچھو، انہوں نے کہا کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا چیز ہوگی؟ اور بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا جواب مجھے ابھی ابھی حضرت جبریل امین علیہ السلام نے بتایا ہے، عبداللہ کہنے لگے وہ تو فرشتوں میں یہودیوں کا دشمن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو مشرق سے نکل کر تمام لوگوں کو مغرب میں جمع کرلے گی، اور اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہوگا، اور بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ مشابہہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر مرد کا " پانی'' عورت کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12503

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَنَسٌ أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ فَقَالَ إِلَّا الْإِقَامَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم تھا کہ اذان کے کلمات جفت عدد میں اور اقامت کے کلمات طاق عدد میں کہا کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12504

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَعْبُدُونَ وَيَدْأَبُونَ يَعْنِي يُعْجِبُونَ النَّاسَ وَتُعْجِبُهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا گیا لیکن میں نے اسے خود نہیں سنا کہ تم میں ایک قوم ایسی آئے گی جو عبادت کرے گی اور دینداری پر ہوگی، حتیٰ کہ لوگ ان کی کثرت عبادت پر تعجب کیا کریں گے اور وہ خود بھی خود پسندی میں مبتلاء ہوں گے، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12505

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهَا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ فَقَالُوا أَكْفِئْهَا يَا أَنَسُ فَأَكْفَأْتُهَا فَقُلْتُ لِأَنَسٍ مَا هِيَ قَالَ بُسْرٌ وَرُطَبٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن کھڑا لوگوں کو فصیخ پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ شراب حرام ہوگئی، وہ کہنے لگے انس! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، راوی نے ان سے شراب کی تفتیش کی تو فرمایا کہ وہ تو صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12506

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ بْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَوْ بْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ

سعید بن یزید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأت کا آغاز بسم اللہ سے کرتے تھے یا الحمدللہ سے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جس کے متعلق مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12507

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ فَقَالَ سَافَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا فَسَأَلْتُهُ هَلْ أَقَامَ فَقَالَ نَعَمْ أَقَمْنَا بِمَكَّةَ عَشْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا؟ انہوں نے بتایا دس دن۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12508

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ وَلِي امْرَأَتَانِ فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ فَانْطَلَقَ فَمَا رَجَعَ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدْ اسْتَفْضَلَهُ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَهْيَمْ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ مَا أَصْدَقْتَهَا قَالَ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ قَالَ حُمَيْدٌ أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنا سارا مال دوحصوں میں تقسیم کرتا ہوں ، نیز میری دو بیویاں ہیں ، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں ، جب اس کی عدت گذر جائے تو آپ اس سے نکاح کر لیجئے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے مال اور اہل خانہ کو آپ کے لئے باعث برکت بنائے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، چنانچہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو راستہ بتا دیا، وہ چلے گئے، واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور گھی تھا جو وہ منافع میں بچا کر لائے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر زرد رنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ نشان کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ کجھور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو، اگرچہ صرف ایک بکری ہی سے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12509

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو الْأَسْوَدِ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ وَالْإِبِلِ وَالنَّعَمِ فَجَعَلُوهُمْ صُفُوفًا يُكَثِّرُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عِبَادَ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ قَالَ عَفَّانُ وَلَمْ يَضْرِبُوا بِسَيْفٍ وَلَمْ يَطْعَنُوا بِرُمْحٍ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ قَالَ وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ فَأُجْهِضْتُ عَنْهُ فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ لَا وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَدَقَ عُمَرُ قَالَ وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ قَالَتْ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنْ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَانَا وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ وَجَمَعَتْ هَوَزِانُ وَغَطَفَانُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْعًا كَثِيرًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَشْرَةِ آلَافٍ أَوْ أَكْثَرَ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ فَجَاءُوا بِالنَّعَمِ وَالذُّرِّيَّةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بچے، عورتیں ، اونٹ اور بکریاں تک لے کر آئے تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے ان سب کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کر دیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول(یہاں ) ہوں ، اے گروہِ انصار! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں ) ہوں ، اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو فتح اور کافروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نتہا اس دن بیس کافروں کو قتل کیا تھا اور ان کا سازوسامان لے لیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کو کندھے کی رسی پر مارا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں نے اسے بڑی مشکل سے قابو کر کے اپنی جان بچائی، آپ معلوم کر لیجئے کہ اس کا سامان کس نے لیا ہے؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا وہ سامان میں نے لے لیا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ انہیں میری طرف سے اس پر راضی کر لیجئے اور یہ سامان مجھ ہی کو دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سوال کرتا تو اسے عطاء فرما دیتے یا پھر سکوت فرما لیتے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے بخدا! ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ اپنے ایک شیر کو مال غنیمت عطاء کر دے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہیں دے دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا عمر سچ کہہ رہے ہیں ۔ غزوہ حنین ہی میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ام سلیم کی بات سنی؟ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلیم! اللہ نے ہماری کفایت خود ہی فرمائی اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12510

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَهَا ابْنٌ صَغِيرٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ قَالَ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ أَحْيَانًا وَيَتَحَدَّثُ عِنْدَهَا فَتُدْرِكُهُ الصَّلَاةُ فَيُصَلِّي عَلَى بِسَاطٍ وَهُوَ حَصِيرٌ يَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، ان کا ایک چھوٹا بیٹا تھا جس کا نام ابو عمیر تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر؟ یہ ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلا کرتے تھے، بعض اوقات نماز کا وقت آجاتا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائے نماز بچھا دیتیں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی چھڑک کر نماز پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12511

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ كَانَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ حِنْدِسٍ قَالَ فَلَمَّا خَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ أَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا فَكَانَا يَمْشِيَانِ بِضَوْئِهَا فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَاءَتْ عَصَا هَذَا وَعَصَا هَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صاحب اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران رات کا کافی حصہ بیت گیا اور وہ رات بہت تاریک تھی، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہو کر نکلے تو ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک آدمی کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے، جب دونوں اپنے اپنے راستے پر جدا ہونے لگے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12512

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ قَامَتْ السَّاعَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَفْعَلْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی پر قیامت قائم ہو جائے اور اس کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو، تب بھی اگر ممکن ہو تو اسے چاہیے کہ اسے گاڑ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12513

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي دَارَ الْإِمَارَةِ فَإِذَا دَجَاجَةٌ مَصْبُورَةٌ تُرْمَى فَكُلَّمَا أَصَابَهَا سَهْمٌ صَاحَتْ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ

ہشام بن زید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے دادا کے ساتھ دارالامارۃ میں داخل ہوا، وہاں ایک مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کی جا رہی تھی، اسے جب تیر لگتا تو وہ چیخ مارتی، انہوں نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12514

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا قَالُوا لِفَتًى مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُهُ لِي فَإِذَا هُوَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَنِي يَا أَبَا حَفْصٍ أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا مَا أَعْرِفُ مِنْ غَيْرَتِكَ قَالَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَيْهِ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَغَارُ عَلَيْكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے کا ایک محل نظر آیا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے پوچھا وہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اگر تمہاری غیرت کے بارے معلوم نہ ہوتا تو میں ضرور اس میں داخل ہوجاتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جس کسی کے سامنے غیرت کا اظہار کروں ، آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12515

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَصْحَابُهُ مَهْ مَهْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُزْرِمُوهُ دَعُوهُ ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ وَالْخَلَاءِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنْ الْقَوْمِ قُمْ فَأْتِنَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشُنَّهُ عَلَيْهِ فَأَتَاهُ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے، کہ ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے خبردار کرنے کے لئے روکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مت روکو، اسے چھوڑ دو، پھر اس کے فارغ ہونے کے بعد اسے بلا کر فرمایا کہ ان مساجد میں کسی قسم کی گندگی، پیشاب اور پاخانہ کرنا مناسب نہیں ہے، یہ مساجد تو قرآن کریم کی تلاوت، ذکر اللہ اور نماز کے لئے ہوتی ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا جا کر پانی کا ایک ڈول لے کر آؤ اور اس پر بہا دو، چنانچہ اس آدمی نے پانی کا ایک ڈول لا کر اس پیشاب پر بہا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12516

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي فِي بَيْتِهِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاطَّلَعَ فِي الْبَيْتِ وَقَالَ عَفَّانُ فِي بَيْتِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَسَدَّدَهُ نَحْوَ عَيْنَيْهِ حَتَّى انْصَرَفَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی آکر سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر اس کی طرف سیدھا کیا تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12517

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَطَأُ الْأَرْضَ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ فَيَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا صُفُوفًا مِنْ الْمَلَائِكَةِ فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْجَرْفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال آئے گا تو مکہ اور مدینہ کے علاوہ ساری زمین کو اپنے پیروں سے روند ڈالے گا، وہ مدینہ آنے کی بھی کوشش کرے گا لیکن اس کے ہر دروازے پر فرشتوں کی صفیں پائے گا، پھر وہ " جرف " کے ویرانے میں پہنچ کر اپنا خیمہ لگائے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور ہر منافق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر دجال سے جاملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12518

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12519

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ قَالَ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا حَتَّى سَأَلُوا رَبَّهُمْ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا، اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، لیکن انہیں سمجھ نہ آئی کہ اس کا کتنا ثواب لکھیں چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ کلمات اسی طرح لکھ لو جیسے میرے بندے نے کہے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12520

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَّتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ قَالَ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَضَرَبْتُ بِيَدِي فَإِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ وَقَالَ عَفَّانُ الْمُجَوَّفُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12521

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک قنوت نازلہ پڑھی ہے پھر اسے ترک فرما دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12522

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ و حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ وَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے ۔ اور جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12523

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ أَنَّ الزُّبَيْرَ وَعَبْدَ الَّرحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ شَكَوَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ فَاسْتَأْذَنَا فِي غَزَاةٍ لَهُمَا فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قَمِيصِ الْحَرِيرِ قَالَ بَهْزٌ قَالَ أَنَسٌ فَرَأَيْتُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَمِيصًا مِنْ حَرِيرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی، چنانچہ میں نے ان میں سے ہر ایک کو ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12524

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا وَقَالَ بَهْزٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ وَيْلَكَ وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا شَيْئًا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ قَالَ أَصْحَابُهُ نَحْنُ كَذَلِكَ قَالَ نَعَمْ وَأَنْتُمْ كَذَلِكَ قَالَ فَفَرِحُوا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا قَالَ فَمَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يُؤَخَّرْ هَذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ وَقَالَ عَفَّانُ فَفَرِحْنَا بِهِ يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا ہمارا بھی یہی حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تمہارا بھی یہی حکم ہے، چنانچہ میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا، اسی دوران حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام " جو میرا ہم عمر تھا " تھا، وہاں سے گذرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس کی زندگی ہوئی تو یہ بڑھاپے کو نہیں پہنچے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12525

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ شَيْءٌ فِي صُدْغَيْهِ وَلَكِنْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں تک نوبت ہی نہیں آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیوں میں چند بال سفید تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12526

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوا عَلَيْهِمْ مَا قَالُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس نے " السام علیک " کہا ہے، یہودی کو پکڑ کر لایا گیا تو اس نے اس کا اقرار کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو اسے اسی کا جملہ لوٹا دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12527

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ قَالَ عَفَّانُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ قَتَادَةَ عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو توبہ کرتا ہے، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12528

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَحَدَّثَنِي بَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَقَالَ عَفَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دوچیزیں اس میں جوان رہ جاتی ہیں ، مال کی حرص اور لمبی عمر کی امید۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12529

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ مَنْ غَرَسَ هَذَا الْغَرْسَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ قَالُوا مُسْلِمٌ قَالَ لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ طَائِرٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبشر نامی انصاری خاتون کے باغ میں تشریف لے گئے اور فرمایا کہ یہ باغ کسی مسلمان نے لگایا ہے یا کافر نے؟ لوگوں نے بتایا مسلمان نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے ، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12530

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ قَالَ أَبِي وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ دَاوَرَ وَهُوَ أَعْمَى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ مَرَّتَيْنِ يُصَلِّي بِهِمْ وَهُوَ أَعْمَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا جانشین دو مرتبہ بنایا تھا وہ نابینا تھے اور لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12531

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ ثَلَاثًا وَاحِدَةً عَلَى كَاهِلِهِ وَاثْنَتَيْنِ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مرتبہ اخدعین اور ایک مرتبہ کاہل نامی کندھوں کے درمیان مخصوص جگہوں پر سینگی لگواتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12532

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12533

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَوْلٍ لَا يُسْمَعُ وَعَمَلٍ لَا يُرْفَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ! میں نہ سنی جانے والی بات، نہ بلند ہونے والے عمل، خشوع سے خالی دل، اور غیر نافع علم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12534

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے کہ ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ) اے اللہ! میں برص، جنون، کوڑھ اور ہر بدترین بیماری سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12535

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ فَمَا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلَّا مَخَافَةُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھا لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12536

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا نَعَمْ فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، اس بچی سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ یہ سلوک فلاں نے کیا ہے، فلاں نے کیا ہے یہاں تک کہ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہہ دیا، اس یہودی کو پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی پتھروں سے کچل دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12537

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ مِائَةَ أَلْفٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنَا قَالَ لَهُ وَهَكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ زِدْنَا فَقَالَ وَهَكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ زِدْنَا فَقَالَ وَهَكَذَا فَقَالَ عُمَرُ قَطْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ قَالَ مَا لَنَا وَلَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَادِرٌ أَنْ يُدْخِلَ النَّاسَ الْجَنَّةَ كُلَّهُمْ بِحَفْنَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت کے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ابوبکر ! بس کیجئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر! پیچھے ہٹو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب ہی کو جنت میں کلی طور پر داخل فرما دے تو تمہارا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12538

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَسْتَعْجِلُ قَالَ يَقُولُ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بندہ اس وقت تک خیر پر رہتا ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہ لے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جلدی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا بندہ یوں کہنا شروع کر دے کہ میں اپنے پروردگار سے اتنی دعائیں کیں لیکن اس نے قبول ہی نہیں کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12539

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12540

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں ، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12541

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ أَنَسٌ كُنَّا نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ وَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ قَالَ صَدَقَ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا قَالَ عَفَّانُ قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ عَفَّانُ ثُمَّ وَلَّى ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْتَقِصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (چونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت سوال کرنے سے ہمیں قرآن میں ممانعت کر دی گئی تھی، اس لئے ہم دل سے یہ خواہش مند ہوتے تھے کہ کوئی عقل مند بدوی آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مسئلہ دریافت کرے اور ہم سنیں ، چنانچہ (ایک مرتبہ) بدوی نے حاضر ہو کر (حضور صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عرض کیا کہ آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ خدا نے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا تھا، بدوی بولا آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے فرمایا خداوند نے، بدوی بولا آپ کو قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، پہاڑوں کو قائم کیا، (یہ بتائیے کہ) کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کا قاصد کہتا تھا کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ( بتائیے ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے کہا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوۃ نکالنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس نے کہا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پر سال میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے (یہ بتائیے کہ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر حج فرض ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا آخر کار وہ بدوی پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12542

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَعْنَى عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ قَالَ وَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبِي ثُمَّ جَاءَ آخَرُ حَتَّى كُنَّا رَهْطًا فَلَمَّا أَحَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ تَجَوَّزَ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَصَلَّى صَلَاةً لَمْ يُصَلِّهَا عِنْدَنَا قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَطِنْتَ بِنَا اللَّيْلَةَ قَالَ نَعَمْ فَذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ يُوَاصِلُ وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ قَالَ فَأَخَذَ رِجَالٌ يُوَاصِلُونَ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي أَمَا وَاللَّهِ لَوْ مُدَّ لِي الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، میں آکر ان کے پیچھے کھڑا ہوگیا، ایک اور آدمی آکر میرے ساتھ کھڑا ہوگیا، اسی طرح ہوتے ہوتے ایک جماعت بن گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اپنے پیچھے میری موجودگی کا احساس ہوا تو نماز مختصر کر کے اپنے گھر چلے گئے، اور وہاں ویسی نماز پڑھی جو ہمارے سامنے نہ پڑھی تھی، صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! رات کو آپ نے ہماری موجودگی کو بھانپ لیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور اسی وجہ سے میں نے ایسا کیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا، کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ وصال کرتے ہیں ، اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، (مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12543

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي قَالَ فَقَالَ قُومُوا فَلِأُصَلِّي لَكُمْ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةً قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا قَالَ جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ قَالَ ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ قَالَتْ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ ثُمَّ قَالَ فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ قَالَ بَهْزٌ وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا بِهِ اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں میرے والد اور میری خالہ ام حرام کے علاوہ کوئی نہ تھا، نماز کا وقت نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اٹھو میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی) راوی نے ثابت سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہاں کھڑا کیا تھا؟ انہوں نے کہا دائیں جانب، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اہل خانہ کے لئے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مانگیں ، پھر میری والدہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے خادم انس کے لئے دعاء کر دیجئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر میرے لئے مانگی، اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12544

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ قَالَ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ وَقَدْ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا قَالَ فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَيْفٍ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمْسَكَ قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ قَالَ فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ وَاللَّهِ إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دودھ پلانے کے لئے مدینہ کے ایک لوہار " جس کا نام ابوسیف تھا " کی بیوی ام سیف کے حوالے کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بچے سے ملنے کے لئے وہاں جایا کرتے تھے، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا ہوں ، وہاں پہنچے تو ابوسیف بھٹی پھونک رہے تھے اور پورا گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تیزی سے چلتا ہوا ابوسیف کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ ابوسیف! نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں ، چنانچہ وہ رک گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر بچے کو بلایا اور انہیں اپنے سینے سے چمٹا لیا، میں نے دیکھا کہ وہ بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موت و حیات کی کشمکش میں تھا، یہ کیفیت دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور فرمایا آنکھیں روتی ہیں ، دل غم سے بوجھل ہوتا ہے لیکن ہم وہی بات کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو، بخدا! ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12545

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ عَمِّي قَالَ هَاشِمٌ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ فَشَقَّ عَلَيْهِ وَقَالَ فِي أَوَّلِ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِبْتُ عَنْهُ لَئِنْ أَرَانِي اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا قَالَ فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ فَاسْتَقْبَلَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ قَالَ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ قَالَ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ قَالَ فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا قَالَ فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرا نام میرے چچا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا، جو غزوہ بدر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوسکے تھے، اور اس کا انہیں افسوس تھا اور وہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے غزوہ میں شریک نہیں ہوسکا، اگر اب اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جانے کا موقع عطاء کیا تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ، چنانچہ وہ غزوہ احد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ میدان کار زار میں انہیں اپنے سامنے سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دیئے، وہ ان سے کہنے لگے کہ ابوعمرو! کہاں جا رہے ہو؟ بخدا! مجھے تو احد کے پیچھے سے جنت کی خوشبو آرہی ہے، یہ کہہ کر اس بے جگری سے لڑے کہ بالآخر شہید ہوگئے، اور ان کے جسم پر نیزوں ، تلواروں اور تیروں کے اسی سے زیادہ نشانات پائے گئے، ان کی بہن اور میری پھوپھی حضرت ربیع بنت نضر کہتی ہیں کہ میں بھی اپنے بھائی کو صرف انگلی کے پوروں سے پہچان سکی ہوں اور اسی مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ " کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا، ان میں سے بعض تو اپنی امید پوری کر چکے اور بعض منتظر ہیں " صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سمجھتے تھے کہ یہ آیت حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ان جیسے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12546

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ إِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَسْجِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ حُبِسَ الْمَطَرُ هَلَكَتْ الْمَوَاشِي ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا قَالَ أَنَسٌ فَرَفَعَ يَدَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ فَأُلِّفَ بَيْنَ السَّحَابِ قَالَ حَجَّاجٌ فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ السَّحَابِ فَوَأَلْنَا قَالَ حَجَّاجٌ سَعَيْنَا حَتَّى رَأَيْتُ الرَّجُلَ الشَّدِيدَ تَهُمُّهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ فَمُطِرْنَا سَبْعًا وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ إِذْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَسْجِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ حُبِسَ السِّفَارُ ادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَرْفَعَهَا عَنَّا قَالَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا قَالَ فَتَقَوَّرَ مَا فَوْقَ رَأْسِنَا مِنْهَا حَتَّى كَأَنَّا فِي إِكْلِيلٍ يُمْطَرُ مَا حَوْلَنَا وَلَا نُمْطَرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گر گئیں اور سوار مدینہ سے باہر رکنے پر مجبور ہو گئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم کی اکتاہٹ پر مسکرا پڑے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12547

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ قَالَ فَقُلْتُ لِأَنَسٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ فَأَنْتُمْ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ قَالَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ مَا لَمْ نُحْدِثْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کے لئے پانی کا برتن لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بے وضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12548

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12549

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُخْتَارِ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّهُ وَخَالَتُهُ فَصَلَّى بِهِمْ فَجُعِلَ أَنَسٌ عَنْ يَمِينِهِ وَأُمُّهُ وَخَالَتُهُ خَلْفَهُمَا قَالَ شُعْبَةُ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ أَشَبَّ مِنِّي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ان کی والدہ اور خالہ تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو نماز پڑھائی، انس رضی اللہ عنہ کو دائیں جانب اور ان کی والدہ اور خالہ کو ان کے پیچھے کھڑا کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12550

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ أَصَابَهُ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے ، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے ، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ ، اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12551

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ وَمَا كُلُّ أَمْرِي كَمَا يُحِبُّ صَاحِبِي أَنْ يَكُونَ مَا قَالَ لِي فِيهَا أُفٍّ وَلَا قَالَ لِي لِمَ فَعَلْتَ هَذَا وَأَلَّا فَعَلْتَ هَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12552

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهَاشِمٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَتَّى إِذَا رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ فَرَغْتُ مِنْ خِدْمَتِهِ قُلْتُ يَقِيلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ إِلَى صِبْيَانٍ يَلْعَبُونَ قَالَ فَجِئْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى الصِّبْيَانِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ لَهُ فَذَهَبْتُ فِيهَا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَيْءٍ حَتَّى أَتَيْتُهُ وَاحْتَبَسْتُ عَنْ أُمِّي عَنْ الْإِتْيَانِ الَّذِي كُنْتُ آتِيهَا فِيهِ فَلَمَّا أَتَيْتُهَا قَالَتْ مَا حَبَسَكَ قُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ قَالَتْ وَمَا هِيَ قُلْتُ هُوَ سِرٌّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَاحْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ قَالَ ثَابِتٌ قَالَ لِي أَنَسٌ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ أَوْ لَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهِ لَحَدَّثْتُكَ بِهِ يَا ثَابِتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جب فارغ ہوا تو میں نے سوچا کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیلولہ کریں گے، چنانچہ میں بچوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا، میں ابھی ان کا کھیل دیکھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور بچوں کو " جو کھیل رہے تھے" سلام کیا، اور مجھے بلا کر اپنے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کہ کیا کام تھا؟ میں نے کہا کہ یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، ثابت! اگر وہ راز میں کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12553

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا قَالَ فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي فَقَالَ أَصْلِحِيهَا قَالَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ وَبِفَضْلِ السَّمْنِ حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا وَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا فَرَفَعْنَا مَطِيَّنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ قَالَ وَصَفِيَّةُ خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا قَالَ فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ قَالَ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَهَا قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ لَمْ تُضَرَّ قَالَ فَدَخَلَ الْمَدِينَةَ فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ حِينَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ فِي مَقْسَمِهِ فَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں ، کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دحیہ کے حصے میں ایک نہایت خوبصورت باندی آئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تمنا کے عوض انہیں خرید کر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے نکلے تو انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھالیا ۔ صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد توشہ ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے، چنانچہ لوگ زائد کھجوریں ، ستو اور گھی لانے لگے، پھر انہوں نے اس کا حلوہ بنایا، اور وہ حلوہ کھایا اور قریب کے حوض سے پانی پیا جس میں بارش کا پانی جمع تھا، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا، پھر ہم روانہ ہوگئے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گر گئے، کسی شخص نے بھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور فرمایا کوئی نقصان نہیں ہوا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوگئے، بچیاں نکل نکل کر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھنے لگیں اور ان کے گرنے پر ہنسنے لگیں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12554

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنِ ثَابِتٍ عَنِ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ اذْهَبْ فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَاهَا قَالَ وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي وَرَكَضْتُ عَلَى عَقِبَيَّ فَقُلْتُ يَا زَيْنَبُ أَبْشِرِي أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ قَالَتْ مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُؤَامِرَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ يَعْنِي الْقُرْآنَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ قَالَ هَاشِمٌ حِينَ عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهَا قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا حِينَ أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُطْعِمْنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ فَجَعَلَ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ قَالَ فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا أَوْ أُخْبِرَ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَنَزَلَ الْحِجَابُ قَالَ وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ زینب کے پاس جا کر میرا ذکر کرو، وہ چلے گئے جب ان کے پاس پہنچے تو خود کہتے ہیں کہ وہ آٹا گوندھ رہی تھیں ، جب میں نے انہیں دیکھا تو میرے دل میں ان کی اتنی عظمت پیدا ہوئی کہ میں ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ بھی نہ سکا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تذکرہ کیا تھا، چنانچہ میں نے اپنی پشت پھیری اور الٹے پاؤں لوٹ گیا اور ان سے کہہ دیا کہ زینب! خوشخبری ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے، وہ تمہارا ذکر کر رہے تھے، انہوں نے جواب دیا کہ میں جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں کچھ نہ کروں گی، یہ کہہ کر وہ اپنی جائے نماز کی طرف بڑھ گئیں اور اسی دوران قرآن کریم کی آیت نازل ہوگئی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے اور ان سے اجازت لئے بغیر اندر تشریف لے گئے، اور اس نکاح کے ولیمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا، باقی تو سب لوگ کھا پی کر چلے گئے، لیکن کچھ لوگ کھانے کے بعد وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی گھر سے باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے میں بھی نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وقت گذارنے کے لئے باری باری اپنی ازواج مطہرات کے حجروں میں جاتے اور انہیں سلام کرتے، وہ پوچھتیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا؟ اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے جانے کی خبر دی یا کسی اور نے بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوگئے، میں نے بھی داخل ہونا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ لٹکا لیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی، اور لوگوں کو اس کے ذریعے نصیحت کی گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12555

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ قَالَ فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً فَأَكَلَ وَشَرِبَ قَالَ ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِكَ فَوَقَعَ بِهَا فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ وَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ قَالَ لَا قَالَتْ فَاحْتَسِبْ ابْنَكَ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا قَالَ فَحَمَلَتْ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا فَدَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ وَاحْتَبَسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَبِّ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ وَقَدْ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى قَالَ تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ فَانْطَلَقْنَا قَالَ وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمُوا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ لِي أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعَنَّهُ أَحَدٌ حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ احْتَمَلْتُهُ وَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيْسَمٌ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَوَضَعَ الْمِيسَمَ قَالَ فَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلَاكَهَا فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ قَالَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا انہوں نے کھانا کھایا، اور پانی پیا، پھر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے خوب اچھی طرح بناؤ سنگھار کیا ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے خلوت کی، جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اچھی طرح سیراب ہو چکے ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہو، کیا وہ انکار کر سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں ، انہوں نے کہا کہ پھر اپنے بیٹے پر صبر کیجئے۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہوگئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی ان کے ہمراہ تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ سفر سے واپس آنے کے بعد رات کے وقت مدینہ میں داخل نہیں ہوتے تھے، وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو درد کی شدت نے ستایا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ رک گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات بڑی محبوب ہے کہ تیرے رسول جب مدینہ سے نکلیں تو میں ان کے ساتھ نکلوں اور جب داخل ہوں تو میں بھی داخل ہوں اور اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں کیسے رک گیا ہوں ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اے ابوطلحہ ! اب مجھے درد کی شدت محسوس نہیں ہو رہی، لہٰذا ہم روانہ ہوگئے، اور مدینہ پہنچ کر ان کی تکلیف دوبارہ بڑھ گئی، اور بالآخر ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس! اسے کوئی عورت دودھ نہ پلائے، بلکہ تم پہلے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر جاؤ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا شاید ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجوریں منگوائیں ، ایک کجھور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، اور اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12556

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ مَا وَجَدَ عَلَى أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ أَصْحَابِ سَرِيَّةِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ أَصَابُوهُمْ فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَلِحْيَانَ وَهُمْ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، جنہوں نے انہیں شہید کر دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12557

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَرَأَى أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ وَهُوَ يَتَبَسَّمُ قَالَ وَكِدْنَا أَنْ نُفْتَتَنَ فِي صَلَاتِنَا فَرَحًا لِرُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَنْكُصَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ ثُمَّ أَرْخَى السِّتْرَ فَقُبِضَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ وَلَكِنَّ رَبَّهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ كَمَا أَرْسَلَ إِلَى مُوسَى فَمَكَثَ عَنْ قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِي رِجَالٍ مِنْ الْمُنَافِقِينَ وَأَلْسِنَتَهُمْ يَزْعُمُونَ أَوْ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارک کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہمیں اتنی خوشی ہوئی، قریب تھا کہ ہم آزمائش میں پڑ جاتے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے حرکت کرنا چاہی ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا، اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال نہیں ہوا ہے، ان کے پاس ان کے رب نے ویسا ہی پیغام بھیجا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور وہ چالیس راتوں تک اپنی قوم سے دور رہے تھے، بخدا! مجھے امید ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ جسمانی حیات پائیں گے تاکہ ان منافقین کے ہاتھ اور زبانیں کاٹ دیں جو یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12558

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ يَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ يَنْعَاهُ يَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں اور کہنے لگیں ہائے ابا جان! آپ اپنے رب کے کتنے قریب ہوگئے، ہائے اباجان! جبریل علیہ السلام کو میں آپ کی رخصتی کی خبر دیتی ہوں ، ہائے اباجان! آپ کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12559

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا شِغَارَ وَلَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَنَبَ وَمَنْ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، اس پر عورتوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زمانہ جاہلیت میں کچھ عورتوں نے ہمیں پرسہ دیا تھا، کیا ہم انہیں اسلام میں پرسہ دے سکتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ، نیز اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی " جس میں مہر مقرر نہ کیا گیا ہو " کوئی حیثیت نہیں ہے، اسلام میں فرضی محبوباؤں کے نام لے کر اشعار میں تشبیہات دینے کی کوئی حٰثیت نہیں ، اسلام میں کسی قبیلے کا حلیف بننے کی کوئی حیثیت نہیں ، زکوۃ وصول کرنے والے کا اچھا مال چھانٹ لینا یا لوگوں کا زکوۃ سے بچنے کے حیلے اختیار کرنا بھی صحیح نہیں ہے اور جو شخص لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12560

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ فِي السَّحَرِ يَا أَنَسُ إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَطْعِمْنِي شَيْئًا قَالَ فَجِئْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَقَالَ يَا أَنَسُ انْظُرْ إِنْسَانًا يَأْكُلُ مَعِي قَالَ فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَتَسَحَّرَ مَعَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں ، مجھے کچھ کھلا دو، میں کچھ کھجوریں اور ایک برتن میں پانی لے کر حاضر ہوا، اس وقت تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دے چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انس! کوئی آدمی تلاش کر کے لاؤ جو میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو سکے، چنانچہ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلا کر لے آیا، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ستوؤں کا شربت پیا ہے، اور میرا ارادہ روزہ رکھنے کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا بھی ارادہ روزہ رکھنے ہی کا ہے، پھر دونوں نے اکٹھے سحری کی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور باہر نکل آئے اور نماز کھڑی ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12561

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ثَابِتٍ عَنِ أَنَسٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ لَا وَاللَّهِ مَا سَبَّنِي سَبَّةً قَطُّ وَلَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ لِمَ فَعَلْتَهُ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ أَلَّا فَعَلْتَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12562

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ مَرْجِعَنَا مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ قَرَأَهَا عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا هَنِيئًا مَرِيئًا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا فَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ حَتَّى بَلَغَ فَوْزًا عَظِيمًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی" انا فتحنا لک فتحا مبینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صراطا مستقیما " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فوزا عظیما "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12563

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ يَخْرُجُ مِنْهُمْ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ سِيمَاهُمْ الْحَلْقُ وَالتَّسْبِيتُ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ التَّسْبِيتُ يَعْنِي اسْتِئْصَالَ الشَّعْرِ الْقَصِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ بازی ہوگی، اور ان میں سے ایک قوم ایسی نکلے گی جو قرآن پڑھتی ہوگی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، ان کا شعار منڈوانا اور چھوٹے بالوں کو جڑ سے اکھیڑنا ہوگا، تم انہیں جب دیکھو تو قتل کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12564

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةً حَسَنَةً لَمْ يُطَوِّلْ فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز نہ پڑھاؤں ؟ پھر انہوں نے عمدہ طریقے سے نماز پڑھائی اور اسے زیادہ لمبا نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12565

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَحُلِبَ لَهُ دَاجِنٌ فَشَابُوا لَبَنَهَا بِمَاءِ الدَّارِ ثُمَّ نَاوَلُوهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ عِنْدَكَ وَخَشِيَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ قَالَ فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ ثُمَّ قَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا، اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12566

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَثْنُوا عَلَيْهَا فَقَالُوا كَانَ مَا عَلِمْنَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى فَقَالَ أَثْنُوا عَلَيْهَا فَقَالُوا بِئْسَ الْمَرْءُ كَانَ فِي دِينِ اللَّهِ فَقَالَ وَجَبَتْ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، پھر کئی لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، ان کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12567

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مَرْوَانَ مَوْلَى هِنْدِ ابْنَةِ الْمُهَلَّبِ قَالَ رَوْحٌ أَرْسَلَتْنِي هِنْدٌ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَمْ يَقُلْ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ

مروان " جوکہ ہند بنت مہلب کے آزاد کردہ غلام تھے " کہتے ہیں کہ مجھے ہند نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے کسی کام سے بھیجا تو میں نے انہیں اپنے ساتھیوں کو یہ حدیث سناتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال (بغیر افطاری کے مسلسل کئی دن روزہ رکھنے) سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12568

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمِ رَجُلٍ فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبِ أَحَدٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اکیس آدمیوں کو قتل کر کے ان کا سامان حاصل کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12569

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ مُتَقَلِّدَةً خِنْجَرًا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصْنَعِينَ بِهِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْهُمْ طَعَنْتُهُ بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسانے کے لئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ام سلیم کو دیکھیں کہ ان کے پاس خنجر ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے ام سلیم! تم اس کا کیا کرو گی؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12570

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ سُوَيْدٍ أَبُو مُعَلَّى قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ طَوَائِرَ فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ کے طور پر تین پرندے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک پرندہ اپنی ایک خادمہ کو دے دیا، اگلے دن اس نے وہی پرندہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اگلے دن کے لئے کوئی چیز اٹھا رکھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ ہر دن کا رزق اللہ خود دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12571

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدُنَا يَلْقَى صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ قَالَ لَا قَالَ فَيُصَافِحُهُ قَالَ نَعَمْ إِنْ شَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے جب کوئی اپنے دوست سے ملے تو کیا اس سے جھک کر مل سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، سائل نے پوچھا کیا اس سے چمٹ کر اسے بوسہ دے سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، سائل نے پوچھا کہ مصافحہ کرسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگر چاہے تو مصافحہ کرسکتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12572

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا أَوْ رِعَاءَهَا وَسَاقُوهَا فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دئیے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12573

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْأَعَاجِمِ فَقِيلَ إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِنَقْشٍ فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12574

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ مَا قَدَّمْتَ لَهَا قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ محبت کرتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12575

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ وَلَا يَدْخُلُ رَجُلٌ الْجَنَّةَ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی شخص کا ایمان اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل مستقیم نہ ہو، اور دل اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک زبان مستقیم نہ ہو، اور کوئی ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12576

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ فَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ وَلَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انسان خطاکار ہے اور بہترین خطاکار وہ لوگ ہیں جو توبہ کرنے والے ہوں اور اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12577

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مَدًّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12578

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ قَالَ سَمِعْتُ مَكْحُولًا يُحَدِّثُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمْ يَبْلُغْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الشَّيْبِ مَا يَخْضِبُ وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ حَتَّى يَقْنَأَ شَعَرُهُ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں تک نوبت ہی نہیں آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیوں میں چند بال سفید تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12579

قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ إِمَامُ مَسْجِدِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ فَأَوْغِلُوا فِيهِ بِرِفْقٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ دین بڑا سنجیدہ اور مضبوط ہے، لہٰذا اس میں نرمی کو شامل رکھا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12580

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو، اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12581

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنِ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ أَشْبَهَهُمْ وَجْهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے حضرت امام حسن سب سے بڑھ کر نبی کے مشابہہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12582

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ تَرَى الْمَرْأَةُ مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي مَنَامِهَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَتْ مَا يَرَى الرَّجُلُ يَعْنِي الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَوَيَكُونُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ فَمِنْ أَيِّهِمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا قَالَ سَعِيدٌ نَحْنُ نَشُكُّ يَكُونُ الشَّبَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت بھی اسی طرح " خواب دیکھے " جسے مرد دیکھتا ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت ایسا " خواب دیکھے" اور اسے انزال ہو جائے تو اسے غسل کرنا چاہئے۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پیلا اور پتلا ہوتا ہے، دونوں میں سے جو غالب آجائے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12583

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا شَهِدُوا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دینے لگیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، جب وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں ، ہمارے قبلے کا رخ کرنے لگیں ، ہمارا ذبیحہ کھانے لگیں اور ہماری طرح نماز پڑھنے لگیں تو ہم پر ان کی جان و مال کا احترام واجب ہوگیا، سوائے اس کلمے کے حق کے، ان کے حقوق بھی عام مسلمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کے فرائض بھی دیگر مسلمانوں کی طرح ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12584

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں میرے نزدیک صرف عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12585

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ جَابِرٍ يَعْنِي اللَّقِيطِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ إِذَا قَامَ الْمُؤَذِّنُ فَأَذَّنَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي مَسْجِدٍ بِالْمَدِينَةِ قَامَ مَنْ شَاءَ فَصَلَّى حَتَّى تُقَامَ الصَّلَاةُ وَمَنْ شَاءَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَعَدَ وَذَلِكَ بِعَيْنَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میں جب مؤذن کھڑا ہو کر اذان مغرب دیتا تھا تو اس کے بعد جو چاہتا وہ دو رکعتیں پڑھ لیتا تھا، یہاں تک کہ نماز کھڑی ہوجاتی اور جو چاہتا وہ دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ جاتا اور یہ سب کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں کے سامنے ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12586

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَنْطَلِقُ الرَّجُلُ إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوْقِعَ سَهْمِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت تک وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12587

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَ لَهُ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ حَتَّى كَادَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَنْ يَنْعَسَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو لوگ سو چکے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12588

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا بُنَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے " اے میرے پیارے بیٹے " کہہ کر مخاطب کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12589

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ فَقِيلَ لِأَنَسٍ فَالْأَكْلُ قَالَ ذَاكَ أَشَدُّ أَوْ أَشَرُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12590

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ هِيَ حَرَامٌ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

عاصم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرم قرار دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! یہ حرم ہے، اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرم قرار دیا ہے، اس کی گھاس تک نہیں کاٹی جاسکتی، جو شخص ایسا کرتا ہے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12591

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ لِيَأْخُذُوا عَنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر ان کے قریب کھڑے ہوں تاکہ مسائل نماز سیکھ سکیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12592

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي فِي حُجْرَتِهِ فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَخَفَّفَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ خَرَجَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يُصَلِّي وَيَنْصَرِفُ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا مَعَكَ الْبَارِحَةَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ رات کے وقت اپنے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، کچھ لوگ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز مختصر کرکے اپنے گھر تشریف لے گئے، ایسا کئی مرتبہ ہوا حتیٰ کہ صبح ہوگئی، تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نماز پڑھ رہے تھے، ہماری خواہش تھی کہ آپ اسے لمبا کر دیتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری موجودگی کا علم تھا لیکن میں نے جان بوجھ کر ہی ایسا کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12593

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا فَرُئِيَ فِي وَجْهِهِ شِدَّةُ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَإِذَا بَصَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى أَوْ يَفْعَلْ هَكَذَا وَأَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ ثُمَّ دَلَكَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ چیز اتنی شاق گذری کہ چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صاف کر کے فرمایا کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے، اور اس طرح اشارہ کیا کہ اسے کپڑے میں لے کر مل لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12594

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَخَذَتْ بِيَدِهِ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَنَسٌ ابْنِي وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ قَالَ أَنَسٌ فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَمَا صَنَعْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا میرا ہاتھ پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے اور لکھنا جانتا ہے، چنانچہ میں نے نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کر لیا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12595

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ وَالْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الْمَعْنَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنْ كَانَ يُعْجِبُنَا الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَجِيءُ فَيَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَنَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ أَنَا فَقَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ قَالَ فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَهُمْ بِذَلِكَ وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ صَلَاةٍ وَلَا صَوْمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں اس بات سے بڑی خوشی ہوتی تھی کہ کوئی دیہاتی آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرے، چنانچہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12596

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ سُئِلَ هَلْ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا قَالَ نَعَمْ أَخَّرَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشاء کو نصف رات تک موخر کردیا، اور فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا، تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12597

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا، کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12598

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَقَعَدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ دَرَجَتُهَا مِنْ جُذُوعٍ وَآلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا وَهُمْ قِيَامٌ فَلَمَّا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ الْأُخْرَى قَالَ لَهُمْ ائْتَمُّوا بِإِمَامِكُمْ فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا مَعَهُ قُعُودًا قَالَ وَنَزَلَ فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا قَالَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تشریف فرما ہوگئے، جس کی سیڑھیاں لکڑی کی تھیں ، اور ازواج مطہرات سے ایک مہینے کے لئے ایلاء کرلیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے رہے، جب اگلی نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اپنے امام کی اقتداء کیا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھو، الغرض! ٢٩دن گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر آئے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو ایک مہینے کے لئے ایلاء فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12599

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ خَرَجَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ فَيَأْتِي حُجَرَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَدْعُو لَهُنَّ وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ وَيَدْعُونَ لَهُ ثُمَّ رَجَعَ وَأَنَا مَعَهُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ إِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا أَبْصَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ وَثَبَا فَزِعَيْنِ فَخَرَجَا فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ مَنْ أَخْبَرَهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں مسلمانوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، پھر حسب معمول واپس تشریف لے گئے اور ازواج مطہرات کے گھر میں جا کر انہیں سلام کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعائیں کیں ، پھر واپس تشریف لائے، جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان گھر کے ایک کونے میں باہم گفتگو جاری ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر پھر واپس چلے گئے، جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر سے پلٹتے ہوئے دیکھا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے، اب مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر میں نے دی یا کسی اور نے، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر واپس آگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12600

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَمَدَّ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری نمازیں قریب برابر ہوتی تھیں ، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع کردی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12601

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا شَمِمْتُ رِيحًا قَطُّ مِسْكًا وَلَا عَنْبَرًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَسِسْتُ قَطُّ خَزًّا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے عمدہ مشک و عنبر کی کوئی مہک نہیں سونگھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کوئی ریشم بھی نہیں چھوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12602

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ الْمُهَاجِرُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِي كَثِيرٍ لَقَدْ كَفَوْنَا الْمَئُونَةَ وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَإِ حَتَّى لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ قَالَ لَا مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ وَدَعَوْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں (انصار) ہم نے تھوڑے میں ان جیسا بہترین غمخوار اور زیادہ میں ان جیسا بہترین خرچ کرنے والا کسی قوم کو نہیں پایا، انہوں نے ہمارا بوجھ اٹھایا اور اپنی ہر چیز میں ہمیں شریک کیا، حتیٰ کہ ہم تو یہ سمجھنے لگے ہیں کہ سارا اجروثواب تو یہی لوگ لے جائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، جب تک تم ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے دعاء کرتے رہو گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12603

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بخل اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12604

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ابْنًا لِأُمِّ سُلَيْمٍ صَغِيرًا كَانَ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهِ ضَاحَكَهُ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ مَا بَالُ أَبِي عُمَيْرٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ نُغَيْرُهُ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا کیا بات ہے ابوعمیر! غمگین دکھائی دے رہا ہے؟گھر والوں نے بتایا کہ اس کی ایک چڑیا مر گئی جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر؟ (چڑیا، جو مرگئی تھی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12605

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ قِيلَ أَوَشَيْنٌ هُوَ قَالَ كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ إِنَّمَا كَانَتْ شُعَيْرَاتٌ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے، اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12606

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ تَمْنَعُهُ مِنْ الظُّلْمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کیا کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، ظالم کی مدد کیسے کریں ؟ فرمایا اسے ظلم کرنے سے روکو، یہی اس کی مدد ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12607

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنَخْلٍ لِبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا قَبْرُ رَجُلٍ دُفِنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قبر سے آواز سنائی دی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس قبر میں مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص زمانہ جاہلیت میں دفن ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذابِ قبر کی آواز سنا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12608

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی بائیں آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی، اس پر موٹی پھلی ہوگی، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12609

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ اللَّهَ اللَّهَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12610

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُجَّ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفَيْهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ تُفْلِحُ أُمَّةٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنْزَلَ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بھی زخم آیا تھا، حتیٰ کہ اس کا خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہو؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں ۔ "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12611

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ فَقَالَ نَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُعْطِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَنَا نَاسًا تَقْطُرُ سُيُوفُهُمْ مِنْ دِمَائِنَا أَوْ تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوا لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَقُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَخَذَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا أَخَذْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مالِ غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر خدا کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں ، اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12612

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَمَّهُ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَقَالَ غِبْتُ مِنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ لَئِنْ اللَّهُ أَشْهَدَنِي قِتَالًا لِلْمُشْرِكِينَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ يَعْنِي أَصْحَابَهُ وَأَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَلَقِيَهُ سَعْدٌ لِأُخْرَاهَا دُونَ أُحُدٍ وَقَالَ يَزِيدُ بِبَغْدَادَ بِأُخْرَاهَا دُونَ أُحُدٍ فَقَالَ سَعْدٌ أَنَا مَعَكَ قَالَ سَعْدٌ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَصْنَعَ مَا صَنَعَ فَوُجِدَ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ قَالَ فَكُنَّا نَقُولُ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ نَزَلَتْ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے چچا انس بن نضر غزوہ بدر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوسکے تھے، اور اس کا انہیں افسوس تھا اور وہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے غزوہ میں شریک نہیں ہوسکا، اگر اب اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جانے کا موقع عطاء کیا تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ، چنانچہ وہ غزوہ احد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ اس موقع پر مسلمان منتشر ہوگئے تو وہ کہنے لگے یا اللہ! میں اپنے ساتھیوں کی اس حرکت پر آپ سے عذر کرتا ہوں اور مشرکین کے اس حملے سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں ، پھر وہ آگے بڑھے تو انہیں اپنے سامنے سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دیئے، وہ ان سے کہنے لگے کہ ابوعمرو! کہاں جا رہے ہو؟ بخدا! مجھے تو احد کے پیچھے سے جنت کی خوشبو آرہی ہے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا میں آپ کے ساتھ ہوں ، لیکن بعد میں وہ کہتے تھے کہ جو کام سعد بن معاذ نے کر دیا وہ میں نہ کر سکا، اور ان کے جسم پر نیزوں ، تلواروں اور تیروں کے اسی سے زیادہ نشانات پائے گئے، ہم سمجھتے تھے کہ یہ آیت حضرت سعبد بن معاذ اور ان جیسے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ " کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا، ان میں سے بعض تو اپنی امید پوری کر چکے اور بعض منتظر ہیں "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12613

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ أُنَاسٍ قَالَ أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے یہاں روزہ افطار کرتے تو فرماتے تمہارے یہاں روزہ داروں نے روزہ کھولا، نیکوں نے تمہارا کھانا کھایا اور رحمت کے فرشتوں نے تم پر نزول کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12614

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ومُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12615

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُوَاصِلُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12616

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، انشاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12617

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہو جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12618

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَعْتَدِلْ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12619

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ كَثِيرِ بْنِ خُنَيْسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول سے محبت ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان تو اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12620

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ أَتَاهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ بَعْدَ مَرَّتَيْنِ يَا بِلَالُ قَدْ بَلَّغْتَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ فَرَجَعَ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ مُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَلَمَّا أَنْ تَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رُفِعَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّتُورُ قَالَ فَنَظَرْنَا إِلَيْهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةٌ بَيْضَاءُ عَلَيْهِ خَمِيصَةٌ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ وَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ فَمَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلاء ہوئے تو ایک موقع پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے، دو مرتبہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا بلال! تم نے پیغام پہنچا دیا، جو چاہے نماز پڑھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے پلٹ کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں لوگوں کو نماز کون پڑھائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے جا کر کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کا پردہ ہٹایا، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سفید کاغذ ہو اور اس پر چادر ڈال دی گئی ہو، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے اور یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لانا چاہتے ہیں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ کھڑے رہیں اور نماز مکمل کریں ، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12621

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ قَالُوا بَلَى قَالَ دُورُ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ دُورُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ دُورُ بَنِي سَاعِدَةَ قَالَ ثُمَّ رَفَعَ صَوْتَهُ فَقَالَ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ انصار کے گھروں میں سب سے بہترین گھر کون سا ہے؟ بنو نجار کا گھر، پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، فرمایا بنو عبدالاشہل کا، پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، فرمایا بنو حارث بن خزرج کا پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، فرمایا بنی ساعدہ کا پھر بلند آواز کر کے فرمایا انصار کے ہر گھر میں خیر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12622

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا وَيَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی، اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12623

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَكَانَ حَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ أَوْ سَائِقٌ قَالَ فَكَانَ نِسَاؤُهُ يَتَقَدَّمْنَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا أَنْجَشَةُ وَيْحَكَ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ قَالَ شُعْبَةُ هَذَا فِي الْحَدِيثِ مِنْ نَحْوِ قَوْلِهِ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے اور حدی خوان امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی کے ساتھ ہانکنا شروع کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12624

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ قَالَ رَوْحٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ وَقَالَ يَزِيدُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَشْرَبَ بِشِمَالِهِ قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ وَيَشْرَبَ بِشِمَالِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12625

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12626

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ وَجَعَلَ ذَلِكَ صَدَاقَهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12627

حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَأَبُو قَطَنٍ قَالَا أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَلَمْ يَقُلْ أَبُو قَطَنٍ مُتَعَمِّدًا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12628

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ الْمُزَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ فَجَعَلَ يَقْسِمُهُ بِمِكْتَلٍ وَاحِدٍ وَأَنَا رَسُولُهُ بِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ قَالَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَهُوَ مُقْعٍ أَكْلًا ذَرِيعًا فَعَرَفْتُ فِي أَكْلِهِ الْجُوعَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیۃً کجھوریں آئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے ایک تھیلی سے تقسیم کرنے لگے، میں اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد تھا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوگئے اور خود اکڑوں بیٹھ کر جلدی جلدی کھجوریں تناول فرمانے لگے جس سے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک کا اندازہ ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12629

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لِنَعْلَيْهِ قِبَالَانِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12630

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم نماز میں قرات کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12631

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السَّجْدَةِ جَلَسَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12632

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ أَشَدُّ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْ فِئَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ہی مشرکین کے کئی لوگوں سے بھاری ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12633

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَيْفَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ شَعَرًا رَجِلًا لَيْسَ بِالسَّبْطِ وَلَا بِالْجَعْدِ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقَيْهِ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، نہ بہت زیادہ گھنگریالے اور نہ بہت زیادہ سیدھے، اور وہ کانوں اور کندھوں کے درمیان تک ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12634

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَارِيَةً خَرَجَتْ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا لَا فَقَالَ فُلَانٌ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا لَا قَالَ فَفُلَانٌ الْيَهُودِيُّ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا نَعَمْ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ فَاعْتَرَفَ الْيَهُودِيُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصار بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کر دیا جو اس نے پہن رکھا تھا، اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، جب اس بچی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں زندگی کی تھوڑی سی رمق باقی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا نام لے کر اس سے پوچھا کہ تمہیں فلاں آدمی نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں ، دوسری مرتبہ بھی یہی ہوا، تیسری مرتبہ اس نے کہا ہاں ! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان قتل کروا دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12635

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا رِبْعِيُّ بْنُ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ التَّمِيمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ عَنِ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ خَلَّى عَنْ رَاحِلَتِهِ فَصَلَّى حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی اونٹنی پر دوران سفر نوافل پڑھنا چاہتے تو قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہتے، پھر اسے چھوڑ دیتے اور اس کا رخ جس سمت میں بھی ہوتا، نماز پڑھتے رہتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12636

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِلْغَائِطِ أَتَيْتُهُ أَنَا وَغُلَامٌ بِإِدَاوَةٍ وَعَنَزَةٍ فَاسْتَنْجَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں پانی پیش کرتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے استنجاء فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12637

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظَافِرِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12638

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً فَيُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ فَيَقُولُ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اہل جہنم میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بڑی نعمتوں میں رہا ہوگا، اسے جہنم کا ایک چکر لگوایا جائے گا پھر پوچھا جائے گا اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی خیر دیکھی ہے؟ کیا تجھ پر کبھی نعمتوں کا گذر ہوا ہے؟ وہ کہے گا کہ پروردگار! قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی نہیں ، اس کے بعد اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بڑی مصیبتوں میں رہا ہوگا، اسے جنت کا ایک چکر لگوایا جائے گا اور پھر پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی پریشانی دیکھی ہے؟ کیا کبھی تجھ پر کسی سختی کا گذر ہوا ہے؟ وہ کہے گا کہ پروردگار! قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی نہیں ، مجھ پر کوئی پریشانی نہیں آئی اور میں نے کوئی تکلیف نہیں دیکھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12639

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ تَلَقَّيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ مِنْ الشَّامِ فَلَقِينَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّكَ تُصَلِّي إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ مَا فَعَلْتُ

انس بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب شام سے واپس آئے تو ہماری ان سے ملاقات ہوئی، عین القمر نامی جگہ میں ہمارا آمنا سامنا ہوا، اس وقت وہ اپنی سواری پر قبلہ کی طرف رخ کیے بغیر نماز پڑھ رہے تھے، ہم نے ان سے کہا کہ آپ قبلہ کی طرف رخ کیے بغیر نماز پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (نوافل میں ) اس طرح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی (نوافل میں ) ایسا نہ کرتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12640

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ الْخَيَّاطُ قَالَ شَهِدْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَلَّى عَلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَلَمَّا رُفِعَ أُتِيَ بِجِنَازَةِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَوْ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقِيلَ لَهُ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَذِهِ جِنَازَةُ فُلَانَةَ ابْنَةِ فُلَانٍ فَصَلِّ عَلَيْهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا فَقَامَ وَسَطَهَا وَفِينَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ فَلَمَّا رَأَى اخْتِلَافَ قِيَامِهِ عَلَى الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنْ الرَّجُلِ حَيْثُ قُمْتَ وَمِنْ الْمَرْأَةِ حَيْثُ قُمْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا الْعَلَاءُ فَقَالَ احْفَظُوا

مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرد کا جنازہ لایا گیا وہ اس کی چارپائی کے سرہانے کھڑے ہوئے اور عورت کا جنازہ لایا گیا تو چارپائی کے سامنے اس سے نیچے ہٹ کر کھڑے ہوئے، نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو علاء بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے کہ اے ابوحمزہ! جس طرح کرتے ہوئے میں نے آپ کو دیکھا ہے کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مرد و عورت کے جنازے میں اسی طرح کھڑے ہوتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! تو علاء نے ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ اسے محفوظ کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12641

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ الْقَرْعُ مِنْ أَحَبِّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ كَانَ الْقَرْعُ يُعْجِبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَّ يَزِيدُ فَأُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا قَرْعٌ فَرَأَيْتُهُ يُدْخِلُ أُصْبُعَيْهِ فِي الْمَرَقِ يَتْبَعُ بِهِمَا الْقَرْعَ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ضَمَّهُمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک پیالے میں کدو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے اسے اپنی انگلیوں سے تلاش کرنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12642

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَتَّابًا مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ يَقُولُ صَحِبْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي سَفِينَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں " حسب طاقت " کی قید لگا دی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12643

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا دَفَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْنَا قَالَتْ فَاطِمَةُ يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التُّرَابِ وَرَجَعْتُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے فارغ ہو کر واپس آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں اے انس! کیا تمہارے دلوں نے اس بات کو گوارا کرلیا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی تلے دفن کر دو اور خود واپس آجاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12644

حَدَّثَنَا زَيْدٌ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ حَرَامٍ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَأُمَّ حَرَامٍ خَلْفَنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کے گھر میں نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی دائیں جانب اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12645

حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَعَفَّانُ قَالَا أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ عَفَّانُ وَهَمَّامٌ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ابْنُ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا كَانَ يَقْدَمُ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر نہیں آتے تھے، بلکہ صبح یا دوپہر تشریف لاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12646

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ أَبُو الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان اور عصیہ کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12647

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا فُلَانَةُ تُصَلِّي فَإِذَا غُلِبَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ لِتُصَلِّ مَا عَقَلَتْ فَإِذَا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْض

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، پوچھا کہ یہ کیسی رسی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں خاتون کی رسی ہے، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12648

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَتْ الْمُهَاجِرُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ بَذْلًا مِنْ كَثِيرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ قَدْ كَفَوْنَا الْمَئُونَةَ وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَإِ فَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّا مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ بِهِ وَدَعَوْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں (انصار) ہم نے تھوڑے میں ان جیسا بہترین غمخوار اور زیادہ میں ان جیسا بہترین خرچ کرنے والا کسی قوم کو نہیں پایا، انہوں نے ہمارا بوجھ اٹھایا اور اپنی ہر چیز میں ہمیں شریک کیا، حتیٰ کہ ہم تو یہ سمجھنے لگے ہیں کہ سارا اجروثواب تو یہی لوگ لے جائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، جب تک تم ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے دعاء کرتے رہو گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12649

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ مُهَاجِرًا آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ لِي مَالٌ فَنِصْفُهُ لَكَ وَلِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَحَبَّهُمَا إِلَيْكَ حَتَّى أُطَلِّقَهَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا تَزَوَّجْهَا قَالَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ قَالَ فَمَا رَجَعَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى رَجَعَ بِشَيْءٍ قَدْ أَصَابَهُ مِنْ السُّوقِ قَالَ وَفَقَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ وَضَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْيَمْ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ مَا سُقْتَ إِلَيْهَا قَالَ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنا سارا مال دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں ، نیز میری دو بیویاں ہیں ، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں ، جب اس کی عدت گذر جائے تو آپ اس سے نکاح کر لیجئے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے مال اور اہل خانہ کو آپ کے لئے باعث برکت بنائے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، چنانچہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو راستہ بتا دیا، وہ چلے گئے، واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور گھی تھا جو وہ منافع میں بچا کر لائے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر زرد رنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ نشان کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ کجھور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو، اگرچہ صرف ایک بکری ہی سے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12650

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَفَرَغَ مِنْهُ قَالَ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو آخر میں یہ فرماتے " یا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12651

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ قِرَاءَتَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم نماز میں قرات کا ا غاز الحمد للہ رب العالمین سے کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12652

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ أَوْ أَتَمِّ النَّاسِ صَلَاةً وَأَوْجَزِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ نماز کو مکمل اور مختصر کرنے والے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12653

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرُونَ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ قَالَ أَنَسٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ خَدَمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ فَأَجَابُوهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے ایک دن باہر نکلے تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار خندق کھود رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی ہی خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواباً یہ شعر پڑھا کہ " ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں ۔ "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12654

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَسْلَمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا قَالَ حُمَيْدٌ وَقَالَ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ وَأَبْوَالِهَا فَفَعَلُوا فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا أَوْ مُسْلِمًا وَسَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ رَهْطٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَذَكَرَ أَيْضًا فِي حَدِيثِهِ قَالَ حُمَيْدٌ فَحَدَّثَ قَتَادَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَأَبْوَالِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دئیے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12655

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى بَسَطَ عُمَرُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری نمازی قریب قریب برابر ہوتی تھیں ، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12656

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلِمَةَ وَأَحَدُنَا يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12657

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِذْ سَمِعَ بُكَاءَ صَبِيٍّ فَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا خَفَّفَ مِنْ أَجْلِ الصَّبِيِّ أَنَّ أُمَّهُ كَانَتْ فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی آواز سنی اور نماز ہلکی کردی، ہم لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ماں کی وجہ سے نماز کو ہلکا کر دیا ہے، یہ اس بچے پر شفقت کا اظہار تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12658

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عذاب قبر کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے کہتے تھے اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12659

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَعَرَضَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ فَحَبَسَهُ بَعْدَمَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ا دمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اٹھے تو بعض لوگ سو چکے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12660

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ فِي الصَّلَاةِ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار مل کر ان کے قریب کھڑے ہوں تاکہ مسائل نماز سیکھ لیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12661

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَكَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ شَيْءٌ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْضُهُنَّ عَلَى بَعْضٍ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت قریب آگیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواجِ مطہرات کے درمیان کچھ تلخی ہو رہی تھی، اور ازواج مطہرات ایک دوسرے کا دفاع کر رہی تھیں، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے منہ میں مٹی ڈالئے اور نماز کے لئے باہر چلئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12662

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَعْصُوبُ الرَّأْسِ قَالَ فَتَلَقَّاهُ الْأَنْصَارُ وَنِسَاؤُهُمْ وَأَبْنَاؤُهُمْ فَإِذَا هُوَ بِوُجُوهِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ وَقَالَ إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوْا مَا عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ مَا عَلَيْكُمْ فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو انصار سے ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں تم سے محبت کرتا ہوں ، تم انصار کے نیکوں کی نیکی قبول کرو، اور ان کے گناہگار سے تجاوز کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا ہے اور ان کا حق باقی رہ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12663

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ كُسِرَتْ رَبَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشُجَّ فِي وَجْهِهِ قَالَ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بھی زخم آیا تھا، حتیٰ کہ اس کا خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہو؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں ۔ "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12664

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ يَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ فَيَتَطَاوَلُ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہوئے تیر اندازی کر رہے تھے، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیروں کی بوچھاڑ دیکھنے کے لئے پیچھے سر اٹھاتے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سینہ سپر ہوجاتے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرسکیں ، اور عرض کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے سینے کے سامنے میرا سینہ پہلے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12665

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَى إِلَيْهَا لَيْلًا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَرَقَ لَيْلًا لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا يُصَلُّونَ أَغَارَ عَلَيْهِمْ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ قَالَ فَخَرَجَ أَهْلُ الْقَرْيَةِ إِلَى حُرُوثِهِمْ مَعَهُمْ مَكَاتِلُهُمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُسْلِمِينَ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ وَالْخَمِيسُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَ أَنَسٌ وَإِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر حملے کا ارادہ کرتے تو رات کو حملہ نہ کرتے بلکہ صبح ہونے کا انتظار کرتے، اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے گئے، تو رات کو خیبر پہنچے، صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور مسلمان اپنی سواری پر، الغرض! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں داخل ہوئے تو اللہ اکبر کہہ کر فرمایا خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، لوگ اس وقت اپنے اوزار لے کر کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے لگ جاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12666

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اضْطَرَبُوا الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ وَلَبِسُوهَا فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوالیں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12667

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ مَرَقَةٌ فِيهَا دُبَّاءٌ فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُهُ يَأْكُلُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو شوربہ تھا اس میں کدو تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے تلاش کر کے کھا رہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12668

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَأَى مِنْ الشَّيْبِ إِلَّا يَعْنِي يَسِيرًا وَقَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحْسِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے، اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12669

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا أَنْجَشَةُ كَذَاكَ سَيْرُكَ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجثہ! آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12670

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ قَائِلًا مِنْ النَّاسِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَمَا يَرِدُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَيَعْمِدُ إِلَيْهَا وَلَكِنَّهُ يَجِدُ الْمَلَائِكَةَ صَافَّةً بِنِقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا يَحْرُسُونَهَا مِنْ الدَّجَّالِ قَالَ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَفَرَ يُهَجَّاهُ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ أُمِّيٍّ أَوْ كَاتِبٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا دجال مدینہ منورہ میں داخل ہوسکے گا؟ نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، انشاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہویا پڑھا لکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12671

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنْ الْخَيْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12672

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ فُلَانٌ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ إِلَى تَمَامِ الْآيَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ فلاں ہے، اس پر یہ آیت مکمل نازل ہوئی کہ اے اہل ایمان! ایسی چیزوں کے متعلق سوال مت کیا کرو جو اگر تمہارے سامنے ظاہر ہو جائیں تو تمہیں بری لگیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12673

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ أَوْ دِيبَاجٍ شَكَّ فِيهِ سَعِيدٌ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنْ الْحَرِيرِ فَلَبِسَهَا فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12674

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَنْبَأَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ ك ف ر أَيْ كَافِرٌ يَقْرَؤُهَا الْمُؤْمِنُ أُمِّيٌّ وَكَاتِبٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12675

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْجَزَ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو نماز مکمل اور مختصر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12676

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَحَتَّى يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنْهُ وَلَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورًا قَالَ سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ حَبِيبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے سب سے زیادہ محبوب نہ ہوں ، اور انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہوں میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12677

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا عَلَا جَبَلَ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھ کر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب جبل بیداء پر چڑھے تو تلبیہ پڑھ لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12678

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ دکھانے کی فرمائش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو مرتبہ شق قمر کا معجزہ دکھایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12679

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا بھی ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12680

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِذْ عَرَضَ لِي نَهَرٌ حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ قَالَ فَأَهْوَى الْمَلَكُ بِيَدِهِ فَأَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ مِسْكًا أَذْفَرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبریل امین سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12681

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ قَرِيبًا مِنْهُ قَالَ أَتَاهُ شَيْخٌ أَوْ رَجُلٌ قَالَ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12682

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ يَوْمًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن تک نماز فجر میں قنوت نازلہ پڑھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12683

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرَخَ بِهِمَا جَمِيعًا أَوْ لَبَّى بِهِمَا جَمِيعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12684

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ فَتًى مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ وَلَيْسَ لِي مَالٌ أَتَجَهَّزُ بِهِ فَقَالَ اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ وَمَرِضَ فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ ادْفَعْ إِلَيَّ مَا تَجَهَّزْتَ بِهِ فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ يَا فُلَانَةُ ادْفَعِي إِلَيْهِ مَا جَهَّزْتِنِي بِهِ وَلَا تَحْبِسِي عَنْهُ شَيْئًا فَإِنَّكِ وَاللَّهِ إِنْ حَبَسْتِ عَنْهُ شَيْئًا لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَكِ فِيهِ قَالَ عَفَّانُ إِنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار نوجوان نے آکر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں لیکن اتنے پیسے نہیں کہ اس کے لئے سامانِ سفر مہیا کر سکوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں انصاری کے پاس چلے جاؤ کہ انہوں نے تیاری کی تھی لیکن وہ بیمار ہوگئے، ان سے جا کر کہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ تم نے جو سامانِ سفر تیار کیا تھا، وہ مجھے دے دو، اس انصاری نے جا کر متعلقہ صحابی کو پیغام پہنچا دیا، انہوں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم نے میرے لئے جو سامانِ سفر تیار کیا تھا، وہ سب انہیں دے دو، اور کچھ بھی نہ روکنا، کیونکہ خدا کی قسم! اگر تم نے اس میں سے کچھ بھی روکا تو اس میں برکت نہیں ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12685

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنْ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں ایک کمان رکھنے کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12686

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ خَيْرُ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ سَلْ وَتَمَنَّ فَيَقُولُ مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ شَرُّ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ لَهُ أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ نَعَمْ فَيَقُولُ كَذَبْتَ قَدْ سَأَلْتُكَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَأَيْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیا پایا؟ وہ جواب دے گا پروردگار! بہترین ٹھکانہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں دسیوں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں ، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہوگا۔ ایک جہنمی کو لایا جائے گا اور اللہ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا پروردگار! بدترین ٹھکانہ، اللہ فرمائے گا اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے، میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن تو نے اسے پورا نہ کیا چنانچہ اسے جہنم میں لوٹا دیا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12687

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِثَابِتٍ أَسَمِعَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذابِ جہنم سے محفوظ فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12688

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ ثُمَّ نَحَرَ الْبُدْنَ وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ وَوَصَفَ هِشَامٌ ذَلِكَ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ فَحَلَقَ أَحَدَ شِقَّيْهِ الْأَيْمَنَ وَقَسَمَهُ بَيْنَ النَّاسِ وَحَلَقَ الْآخَرَ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی اور جانور کی قربانی کر چکے تو سینگی لگوائی اور بال کاٹنے والے کے سامنے پہلے سر کا داہنا حصہ کیا، اس نے اس حصے کے بال تراشے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے ، پھر بائیں جانب کے بال منڈوائے تو وہ عام لوگوں کو دے دیئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12689

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ وَعَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ قَالَا سَمِعْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مِنْ ضُرٍّ نَزَلَ بِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے ، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے ، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ ، اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12690

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورًا قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ وَلَا صَدَقَةٍ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12691

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا عَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ وَلَا الصَّلَاةَ فَقَالَ أَوَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ مَا صَنَعَ الْحَجَّاجُ فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دورِ باسعادت پایا ہے، آج اس میں سے کوئی چیز مجھے نظر نہیں آتی، ابو رافع نے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! نماز بھی نہیں ؟ فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ حجاج نے نماز میں کیا کچھ کر دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12692

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ مَشَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ فَأَخَذَ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ يَقُولُ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ يَقُولُ ذَلِكَ مِرَارًا مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ بُرٍّ وَلَا صَاعُ حَبٍّ وَإِنَّ عِنْدَهُ تِسْعَ نِسْوَةٍ حِينَئِذٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ وہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آئے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس مدینہ منورہ میں گروی رکھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چند مہینوں کے لئے جو لئے تھے۔ اور میں نے ایک دن انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شام کو آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس غلے یا گندم کا ایک صاع بھی نہیں ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12693

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے اپنی امت کے لئے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12694

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُصِيبَنَّ نَاسًا سَفْعٌ مِنْ النَّارِ عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا ثُمَّ لَيُدْخِلُهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ يُقَالُ لَهُمْ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کیے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا، (اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں ) بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12695

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12696

حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثًا قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ ثَلَاثًا قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے، جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ سے بچالے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12697

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ أَفْطَرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ رکھتے تو لوگ ایک دوسرے کو مطلع کر دیتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی نیت کر لی اور جب افطاری کرتے تب بھی لوگ ایک دوسرے کو مطلع کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کھول لیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12698

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَأَسْكِنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آسانیاں پیدا کیا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو، سکون دلایا کرو، نفرت نہ پھیلایا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12699

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ فَلَا تَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا بِإِذْنٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، اور بغیر اجازت لئے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں چلا جایا کرتا تھا، ایک دن حسب معمول میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹا! اللہ کی طرف سے نیا حکم آگیا ہے اس لئے اب اجازت لئے بغیر اندر نہ آیا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12700

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ إِلَيْهِ وَقَالَ رَوْحٌ عَلَيْهِ لَأَجَبْتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے کہیں سے ہدیہ میں بکری کا ایک کھر آئے تب بھی قبول کرلوں گا، اور اگر صرف اسی کی دعوت دی جائے تب بھی قبول کرلوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12701

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ قَالَ فَأَوْمَأَ بِخِنْصَرِهِ قَالَ فَسَاخَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد ربانی " جب اس کے رب نے اپنی تجلی ظاہر فرمائی " کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ چھنگلیا کے ایک کنارے کے برابر تجلی ظاہر ہوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12702

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12703

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَزَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو، اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12704

حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ صَلَّيْتُمْ يَعْنِي الْعَصْرَ قَالُوا نَعَمْ قُلْنَا أَخْبِرْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ قَالَ كَانَ يُصَلِّيهَا وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ

عبدالرحمن بن وردان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اہل مدینہ کے ایک وفد کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا اور پوچھا کہ یہ بتائیے " اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ عمدہ سلوک کرے " کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز اس وقت پڑھتے تھے جب کہ سورج روشن اور صاف ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12705

حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12706

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ لَهُ فَصٌّ حَبَشِيٌّ وَنَقَشَهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوالی، جس کا نگینہ سیاہ تھا اور اس پر یہ عبارت نقش تھی " محمد رسول اللہ " صلی اللہ علیہ وسلم ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12707

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَغْتَسِلُ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ مِنْ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12708

حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ عُمَرُ قَالَ نَعَمْ وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ

ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قنوتِ نازلہ پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر ذات یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پڑھی ہے، رکوع کے بعد۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12709

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذابِ جہنم سے محفوظ فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12710

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ سَمِعَ أَنَسًا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ إِنَّمَا ذَاكَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ قَالَ قُلْتُ أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ أَسَمِعْتَهُ مِنْهُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12711

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِثَوْبٍ حَرِيرٍ فَجَعَلُوا يَمَسُّونَهُ وَيَنْظُرُونَ فَقَالَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ أَوْ مِنْدِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا أَوْ أَلْيَنُ مِنْ هَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا ہدیہ کے طور پر کہیں سے آیا لوگ اسے چھونے اور دیکھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس پر تعجب کر رہے ہو، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12712

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَمَّادٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ وَعَتَّابٍ مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ وَرَابِعٍ أَيْضًا سَمِعُوا أَنَسًا يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ كَذَا قَالَ لَنَا أَخْطَأَ فِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12713

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَأَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَنَسٍ سَمِعَ أَنَسًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں ، اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12714

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرَ الْآخِرَهْ فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں ، پس انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12715

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے گمان " جو وہ میرے ساتھ کرتا ہے " کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہی ہوتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12716

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ لَا إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک کتابی آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے اس نے " السام علیکم " کہا، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، البتہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کیا کریں تو تم صرف وعلیکم کہا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12717

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ وَأَعْرَابِيٌّ يَسْأَلُهُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَعْضِ حُجَرِهِ فَجَذَبَهُ جَذْبَةً حَتَّى انْشَقَّ الْبُرْدُ وَحَتَّى تَغَيَّبَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مِنْ تَغْيِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ لَهُ بِشَيْءٍ فَأُعْطِيَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، راستے میں ایک دیہاتی مل گیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو ایسے گھسیٹا کہ وہ پھٹ گئی اور اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک پر پڑگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف یہی تبدیلی ہوئی کہ اسے کچھ دینے کا حکم دیا جو اسے دے دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12718

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ حَرَامًا خَالَهُ أَخَا أُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ رَجُلًا فَقُتِلُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ وَكَانَ رَئِيسُ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ وَكَانَ هُوَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اخْتَرْ مِنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ وَيَكُونُ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ أَوْ أَكُونُ خَلِيفَةً مِنْ بَعْدِكَ أَوْ أَغْزُوكَ بِغَطَفَانَ أَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَاءَ قَالَ فَطُعِنَ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ فَقَالَ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ائْتُونِي بِفَرَسِي فَأُتِيَ بِهِ فَرَكِبَهُ فَمَاتَ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَرَجُلَانِ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ وَرَجُلٌ أَعْرَجُ فَقَالَ لَهُمْ كُونُوا قَرِيبًا مِنِّي حَتَّى آتِيَهُمْ فَإِنْ آمَنُونِي وَإِلَّا كُنْتُمْ قَرِيبًا فَإِنْ قَتَلُونِي أَعْلَمْتُمْ أَصْحَابَكُمْ قَالَ فَأَتَاهُمْ حَرَامٌ فَقَالَ أَتُؤْمِنُونِي أُبَلِّغْكُمْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ وَأَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ ثُمَّ قَتَلُوهُمْ كُلَّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ قَالَ أَنَسٌ فَأُنْزِلَ عَلَيْنَا وَكَانَ مِمَّا يُقْرَأُ فَنُسِخَ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا قَالَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں حضرت حرام رضی اللہ عنہ کو " جو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے" ان ستر صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھیجا تھا جو بیئر معونہ کے موقع پر شہید کر دیئے گئے تھے، اس وقت مشرکین کا سردار عامر بن طفیل تھا، وہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا اور کہا تھا کہ میرے متعلق تین میں سے کوئی ایک بات قبول کر لیجئے، یا تو شہری لوگ آپ کے اور دیہاتی لوگ میرے ہوجائیں، یا میں آپ کے بعد خلیفہ نامزد کیا جاؤں ، ورنہ پھر میں آپ کے ساتھ بنو غطفان کے ایک ہزار سرخ و زرد گھوڑوں اور ایک ہزار سرخ و زرد اونٹوں کو لے کر جنگ کروں گا، اسے کسی قبیلے کی عورت کے گھر میں بعد ازاں کسی نے نیزے سے زخمی کر دیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں قبیلے کی عورت کے گھر میں ایسا پھوڑا ملا جیسے اونٹ میں ہوتا ہے، میرا گھوڑا لے کر آؤ، گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کی پشت سے اترنا نصیب نہ ہوا، راستے ہی میں مرگیا۔ حضرت حرام رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ دو آدمیوں کو لے کر چلے، ان میں سے ایک کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور دوسرا لنگڑا تھا ، انہوں نے ان دونوں سے فرمایا کہ تم میرے قریب ہی رہنا تاآنکہ میں واپس آجاؤں ، اگر تم مجھے حالت امن میں پاؤ تو بہت بہتر، ورنہ اگر وہ مجھے قتل کر دیں تو تم میرے قریب تو ہوگے، باقی ساتھیوں کو جا کر مطلع کر دینا، یہ کہہ کر حضرت حرام رضی اللہ عنہ روانہ ہوگئے۔ متعلقہ قبیلے میں پہنچ کر انہوں نے فرمایا کہ کیا مجھے اس بات کی اجازت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچا سکوں ؟ انہوں نے اجازت دے دی، حضرت حرام رضی اللہ عنہ ان کے سامنے پیغام ذکر کرنے لگے، اور دشمنوں نے پیچھے سے ایک آدمی کو اشارہ کر دیا جس نے پیچھے سے آکر ان کے ایسا نیزہ گھونپا کہ جسم کے آر پار ہوگیا، حضرت حرام رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے" اللہ اکبر " رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا، گر گئے، پھر انہوں نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو شہید کر دیا، صرف وہ لنگڑا آدمی بچ گیا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا تھا، اسی مناسبت سے یہ وحی نازل ہوئی " جس کی پہلے تلاوت بھی ہوئی تھی، بعد میں منسوخ ہوگئی " کہ ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جاملے ہیں ، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور اس نے ہمیں راضی کر دیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم چالیس دن تک قبیلہ رعل، ذکوان، بنو لحیان اور عصیہ " جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی " کے خلاف بددعاء فرماتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12719

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12720

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں ، اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12721

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ قَالُوا وَكَيْفَ يَسْتَعْجِلُ قَالَ يَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان اس وقت تک خیر پر رہتا ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہ لے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جلدی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا بندہ یوں کہنا شروع کر دے کہ میں نے اپنے پروردگار سے اتنی دعائیں کیں لیکن اس نے قبول ہی نہیں کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12722

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی خطبہ ایسا نہیں دیا جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12723

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ حَارِثَةُ أَصَابَ خَيْرًا وَإِلَّا أَكْثَرْتُ الْبُكَاءَ قَالَ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّهُ لَفِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کر لوں گی، ورنہ پھر میں کثرت سے آہ وبکا کروں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سے جنت الفردوس میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12724

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَجَابَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ ایک یہودی نے جو کی روٹی اور پرانے روغن کی دعوت دی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمالی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12725

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12726

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ وَمُرَّ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ وَجَبَتْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12727

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَلَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلاء ہوئے تو تین دن تک باہر نہیں آئے، ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کا پردہ ہٹایا، ہم نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ تاباں کھلتا ہوا صفحہ تھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارے سے فرمایا کہ آگے بڑھ کر نماز مکمل کریں ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ لٹکا لیا، پھر وصال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے نہ آسکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12728

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ قَالَ فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ يَا أَبَا بَكْرٍ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ فَيَقُولُ هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي إِلَى السَّبِيلِ فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَهْدِيهِ الطَّرِيقَ وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا قَالَ فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ فَصَرَعَتْهُ فَرَسُهُ ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ قِفْ مَكَانَكَ لَا تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا قَالَ فَكَانَ أَوَّلُ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ آخِرُ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ قَالَ فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَاءُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا وَقَالُوا ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطْمَئِنَّيْنِ قَالَ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَحَفُّوا حَوْلَهُمَا بِالسِّلَاحِ قَالَ فَقِيلَ بِالْمَدِينَةِ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ فَاسْتَشْرَفُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَيَقُولُونَ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى جَاءَ إِلَى جَانِبِ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ قَالُوا فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهَا إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ مِنْهُ فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ فِيهَا فَجَاءَ وَهِيَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ قَالَ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذِهِ دَارِي وَهَذَا بَابِي قَالَ فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلًا قَالَ فَذَهَبَ فَهَيَّأَ لَهُمَا مَقِيلًا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ هَيَّأْتُ لَكُمَا مَقِيلًا فَقُومَا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ فَقِيلَا فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا وَأَنَّكَ جِئْتَ بِحَقٍّ وَلَقَدْ عَلِمَتْ الْيَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ وَابْنُ سَيِّدِهِمْ وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ وَيْلَكُمْ اتَّقُوا اللَّهَ فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا وَأَنِّي جِئْتُكُمْ بِحَقٍّ أَسْلِمُوا قَالُوا مَا نَعْلَمُهُ ثَلَاثًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھائے ہوئے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بوڑھے اور جانے پہچانے تھے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جوان اور غیر معروف تھے، اس لئے راستے میں اگر کوئی آدمی ملتا اور یہ پوچھتا کہ ابوبکر! آپ کے آگے یہ کون صاحب ہیں ؟ تو وہ جواب دیتے کہ یہ مجھے راستہ دکھا رہے ہیں ، سمجھنے والا یہ سمجھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں راستہ دکھا رہے ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس سے خیر کا راستہ مراد لے رہے تھے۔ ایک مرتبہ راستہ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک شہسوار ان کے انتہائی قریب پہنچ چکا تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے اے اللہ کے نبی! یہ سوار تو ہم تک پہنچ چکا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے اللہ! اسے گرا دے، اسی لمحے اس کے گھوڑے نے اسے اپنی پشت سے گرا دیا اور ہنہناتا ہوا کھڑا ہوگیا، وہ شہسوار کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی حکم دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ پر ہی جا کر رکو اور کسی کو ہمارے پاس پہنچنے نہ دو، دن کے ابتدائی حصے میں وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوششیں کر رہا تھا، اس طرح دن کے آخری حصے میں وہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہتھیار بن گیا۔ اس طرح سفر کرتے کرتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھریلے علاقے کی جانب پہنچ کر پڑاؤ کیا اور انصار کو بلا بھیجا، وہ لوگ آئے اور دونوں حضرات کو سلام کیا اور کہنے لگے کہ امن و اطمینان کے ساتھ سوار ہو کر تشریف لے آئیے ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور انصار نے ان دونوں کے گرد مسلح سپاہیوں سے حفاظتی حصار کرلیا، ادھر مدینہ منورہ میں اعلان ہوگیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ، چنانچہ لوگ جھانک جھانک کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور اللہ کے نبی آگئے، کے نعرے لگانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے چلتے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس پہنچ کر اتر گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل خانہ سے باتیں کر ہی رہے تھے کہ عبداللہ بن سلام کو یہ خبر سننے کو ملی، اس وقت وہ اپنے کھجور کے باغ میں اپنے اہل خانہ کے لئے کھجوریں کاٹ رہے تھے، انہوں نے جلدی جلدی کھجوریں کاٹیں اور اپنے ساتھ ہی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور واپس گھر چلے گئے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ ہمارے رشتہ داروں میں سب سے زیادہ قریب کس کا گھر ہے؟ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ میرا مکان ہے اور یہ میرا دروازہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جا کر ہمارے لئے آرام کرنے کا انتظام کرو، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے جا کر انتظام کیا اور واپس آکر کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی! آرام کا انتظام ہوگیا ہے، آپ دونوں چل کر " اللہ کی برکت پر " آرام کیجئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کی خدمت میں عبداللہ بن سلام بھی حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور حق لے کر آئے ہیں ، یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ابن سردار اور عالم بن عالم ہوں ، آپ انہیں بلا کر ان سے پوچھئے، چنانچہ وہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے گروہِ یہود! اللہ سے ڈرو، اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں ، اس لئے تم اسلام قبول کرلو، انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12729

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر يُهَجَّاهَا يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ ك ف ر

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12730

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عِصَامٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ إِنَّهُ أَدْوَأُ وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ قَالَ أَنَسٌ وَأَنَا أَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیاہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12731

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي عُلُوِّ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي حَائِطَكُمْ هَذَا فَقَالُوا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ قَالَ وَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ فِيهِ حَرْثٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْحَرْثِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ إِلَى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً قَالَ وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ ذَلِكَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں بنو عمرو بن عوف کے محلے میں پڑاؤ کیا اور وہاں چودہ راتیں مقیم رہے، پھر نبو نجار کے سرداروں کو بلا بھیجا، وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے تھے اور بنو نجار ان کے ارد گرد تھے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے صحن میں پہنچ گئے، ابتداء جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے، اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دے دیا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلا کر ان سے فرمایا اے بنو نجار! اپنے اس باغ کی قیمت کا معاملہ میرے ساتھ طے کر لو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے، اس وقت وہاں مشرکین کی کچھ قبریں ، ویرانہ اور ایک درخت تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مشرکین کی قبروں کو اکھیڑ دیا گیا، ویرانہ برابر کر دیا گیا اور درخت کو کاٹ دیا گیا، قبلہ مسجد کی جانب درخت لگا دیا اور اس کے دروازوں کے کواڑ پتھر کے بنا دیے ، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اینٹیں پکڑاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے کہ اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی ہے، اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12732

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ فَطِيمًا فَقَالَ وَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ قَالَ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ قَالَ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ قَالَ فَرُبَّمَا تَحْضُرُهُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ ثُمَّ يُنْضَحُ بِالْمَاءِ ثُمَّ يَقُومُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا قَالَ وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے، میرا ایک بھائی تھا جس کا نام ابو عمیر تھا، غالباً یہ بھی فرمایا کہ اس کا دودھ چھڑا دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تو اس سے فرماتے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر، یہ ایک پرندہ تھا جس سے وہ کھیلتا تھا، بعض اوقات ہمارے گھر ہی میں نماز کا وقت ہوجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نیچے بستر کو صاف کرتے اور اس پر پانی چھڑک دینے کا حکم دیتے اور نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے، ہم لوگ پیچھے کھڑے ہو جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا دیتے، یاد رہے کہ ہمارا بستر کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12733

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حِينَ وُلِدَ وَهُوَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ وَعَلَيْهِ عَبَاءَةٌ فَقَالَ مَعَكَ تَمْرٌ فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ ثُمَّ أَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ الصَّبِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا عجوہ کھجوریں ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا، اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا، جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12734

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ وَالْقَاسِمِ جَمِيعًا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا عَلَيْكُمْ وَقَالَ الْآخَرُ وَعَلَيْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے توصرف علیکم کہا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12735

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ وَهُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا مِنْكُمْ وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْمُصَافَحَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس یمن سے لوگ آئے ہیں جو تم سے بھی زیادہ رقیق القلب ہیں ، اور یہی وہ پہلے لوگ ہیں جو مصافحہ کا رواج اپنے ساتھ لے کر آئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12736

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْهُ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ وَصَلَّى لَهُمْ فَخَفَّفَ ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْنَاكَ فَفَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ مِنْ أَجْلِكُمْ فَعَلْتُ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذرنے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آج رات حاضر ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ایسا ہی کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12737

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْمَعْنَى عَنْ سِمَاكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِبَرَاءَةٌ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا بَلَغَ ذَا الْحُلَيْفَةِ قَالَ عَفَّانُ لَا يُبَلِّغُهَا إِلَّا أَنَا أَوْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَلِيٍّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سورت برأت کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بھیجا، لیکن جب وہ ذوالحلیفہ کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلوایا کہ عرب کے دستور کے مطابق یہ پیغام صرف میں یا میرے اہل خانہ کو کوئی فرد ہی پہنچا سکتا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وہ پیغام دے کر بھیجا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12738

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ أَيْمَنَ بَكَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهَا مَا يُبْكِيكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَمُوتُ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى الْوَحْيِ الَّذِي رُفِعَ عَنَّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، کسی نے پوچھا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں رو رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ، میں تو اس وحی پر رو رہی ہوں جو منقطع ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12739

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی تو اسے اپنے ہاتھ سے صاف کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12740

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ أَهْلُ الْيَمَنِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا كِتَابَ رَبِّنَا وَالسُّنَّةَ قَالَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِمْ وَقَالَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں ، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12741

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ قَبَضَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ فَلَمَّا حَلَقَهُ الْحَجَّامُ أَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ أُمَّ سُلَيْمٍ فَجَعَلَتْ تَجْعَلُهُ فِي طِيبِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے ، پھر وہ بال ام سلیم رضی اللہ عنہا اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال لیا کرتی تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12742

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي اللَّيْلَةَ فِي دَارِ رَافِعِ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ حَسَنٌ فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ فَأُوتِينَا بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ ابْنِ طَابٍ فَأَوَّلْتُ أَنَّ لَنَا الرِّفْعَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آج رات میں نے یہ خواب دیکھا کہ گویا میں رافع بن عقبہ کے گھر میں ہوں ، اور وہاں " ابن طاب" نامی کھجوریں ہمارے سامنے پیش کی گئیں ، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ (رافع کے لفظ سے) دنیا میں رفعت (عقبہ کے لفظ سے) آخرت کا بہترین انجام ہمارے لئے ہی ہے اور (طاب کے لفظ سے) ہمارا دین پاکیزہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12743

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ الْمُزَنِيَّ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرٌ فِيهِ الْقِصَاصُ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب بھی قصاص کا کوئی معاملہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں معاف کرنے کی ترغیب ہی دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12744

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ ثُمَامَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ رَدَّدَهَا ثَلَاثًا وَإِذَا أَتَى قَوْمًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کہتے تو تین مرتبہ اسے دہراتے تھے اور جب کسی قوم کے پاس جاتے تو انہیں تین مرتبہ سلام فرماتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12745

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ حُرَيْثٍ عَنْ أَشْعَثَ الْحَرَّانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے شفاعت کے مستحق کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12746

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ أَبُو هَاشِمٍ صَاحِبُ الزَّعْفَرَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ فَاطِمَةَ نَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ فَقَالَ هَذَا أَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلَهُ أَبُوكِ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہلا کھانا ہے جو تمہارا باپ تین دن بعد کھا رہا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12747

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ قَالَ وَثَمَّ غُلَامٌ فَقَالَ إِنْ يَعِشْ هَذَا فَلَنْ يَبْلُغَ الْهَرَمَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ تم محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسی دوران حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام " جو میرا ہم عمر تھا " وہاں سے گذرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس کی زندگی ہوئی تو یہ بڑھاپے کو نہیں پہنچے گا کہ قیامت قائم ہوجائےگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12748

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ بَصْرِيٌّ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ عَمْرُو بْنُ زُنَيْبٍ الْعَنْبَرِيُّ إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ أَنَّ مُعَاذًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ لَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِكَ وَلَا يَأْخُذُونَ بِأَمْرِكَ فَمَا تَأْمُرُ فِي أَمْرِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طَاعَةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر ہمارے حکمران ایسے لوگ بن جائیں جو آپ کی سنت پر عمل نہ کریں اور آپ کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کی اطاعت نہیں کرتا اس کی اطاعت نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12749

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْأَنْصَارَ اشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ السَّوَانِي فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْعُوَ لَهُمْ أَوْ يَحْفِرَ لَهُمْ نَهْرًا فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ لَا يَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أُعْطُوهُ فَأُخْبِرَتْ الْأَنْصَارُ بِذَلِكَ فَلَمَّا سَمِعُوا مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار میں پانی کا معاملہ بہت پیچیدہ ہوگیا، وہ لوگ اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر آئے کہ انہیں ایک جاری نہر میں سے پانی لینے کی اجازت دی جائے، وہ اس کا کرایہ ادا کر دیں گے، یا ان کے لئے دعا کر دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو خوش آمدید! بخدا! آج تم مجھ سے جو مانگو گے میں تمہیں دوں گا، یہ سن کر وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12750

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى بَعِيرِهِ وَقَدْ أَضَلَّهُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ وَحَدَّثَ بِذَلِكَ شَهْرٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے توبہ کرنے پر اس شخص سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کا اونٹ کسی جنگل میں گم ہوجائے اور کچھ عرصے بعد دوبارہ مل جائے۔ یہ حدیث شہر بن حوشب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی بیان کی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12751

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْدَمَا يَنْزِلُ مِنْ الْمِنْبَرِ فَيُكَلِّمُهُ ثُمَّ يَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر سے نیچے اتر رہے ہوتے تھے اور کوئی آدمی اپنے کسی کام کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرنا چاہتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بات کر لیتے تھے، پھر بڑھ کر مصلیٰ پر چلے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھا دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12752

حَدَّثَنَا وَهْبٌ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ مَوْكِبِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام سَاطِعًا فِي سِكَّةِ بَنِي غَنْمٍ حِينَ سَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام کی سواری کی ٹاپ سے اڑنے والا وہ گردو غبار ابھی تک میری نگاہوں کے سامنے ہے جو بنو غنیم کی گلیوں میں بنو قریظہ کی طرف جاتے ہوئے ان کی ایڑ لگانے سے پیدا ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12753

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَنْبَرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا وَتَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ فِي الْخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی، اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12754

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پانی پیے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12755

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَسْجُدْ أَحَدُكُمْ بَاسِطًا ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12756

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12757

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12758

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى العَوَالِى فَيَأْتِيهَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو وہ جا کر واپس آجاتا پھر بھی سورج بلند ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12759

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاسٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ قُعُودًا مِنْ مَرَضٍ فَقَالَ إِنَّ صَلَاةَ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگ بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12760

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ فِيهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو) فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے؟ فرمایا ہاں ! مدینہ میں ہونے کے باوجود، کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12761

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ عَنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ شَعَرًا أَشَبَهَ بِشَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَتَادَةَ فَفَرِحَ يَوْمَئِذٍ قَتَادَةُ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے ساتھ قتادہ کے بالوں سے زیادہ مشابہہ کسی کے بال نہیں دیکھے، اس دن قتادہ رحمۃ اللہ علیہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12762

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ انْصَرَفْنَا مِنْ الظُّهْرِ مَعَ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ حَانَتْ قَالَ قَالَتْ نَعَمْ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّمَا انْصَرَفْنَا مِنْ الظُّهْرِ الْآنَ مَعَ الْإِمَامِ قَالَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ خارجہ بن زید رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، انہوں نے اپنی باندی سے فرمایا کہ دیکھو! نماز کا وقت ہوگیا؟ اس نے کہا جی ہاں ! ہم نے ان سے کہا کہ ہم تو ابھی امام کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ کر آرہے ہیں ؟ (اور آپ عصر کی نماز پڑھ رہے ہیں ) ؟ لیکن وہ کھڑے ہوگئے اور نمازِ عصر پڑھ لی، اس کے بعد فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12763

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ أَصْحَابِهِ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَا قَالَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ قَالَ رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ فَرَدُّوهُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتَ كَذَا وَكَذَا قَالَ نَعَمْ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا عَلَيْكَ أَيْ عَلَيْكَ مَا قُلْتَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ، اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو " صرف وعلیک " کہا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12764

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً فَقَالَ يَا أُمَّ فُلَانٍ اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ أَجْلِسْ إِلَيْكِ فَفَعَلَتْ فَجَلَسَ إِلَيْهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاتون ملی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جس گلی میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا چنانچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کا کام کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12765

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَلَقَ بَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ فَحَلَقَهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ قَالَ ثُمَّ حَلَقَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْسَرَ فَقَسَمَهُ بَيْنَ النَّاسِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کروایا تو بال کاٹنے والے کے سامنے پہلے سر کا داہنا حصہ کیا، اس نے اس حصے کے بال تراشے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے ، پھر بائیں جانب کے بال منڈوائے تو وہ عام لوگوں کو دے دیئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12766

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَتْفُلْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12767

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْرَ مَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ أَوْ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ شَكَّ سَعِيدٌ فَجَعَلُوا يَتَوَضَّئُونَ وَالْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ قَالَ قُلْنَا لِأَنَسٍ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ ثَلَاثَ مِائَةٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام زوراء میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی انگلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکلا کہ سب نے وضو کر لیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ تین سو تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12768

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو ، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12769

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُمْ مُخَالِطُهُمْ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا مَا يُفْعَلُ بِكَ فَمَا يُفْعَلُ بِنَا فَأُنْزِلَتْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ وَأَصْحَابُهُ مُخَالِطُو الْحُزْنِ وَالْكَآبَةِ وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ قَائِلٌ هَنِيئًا مَرِيئًا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی" انا فتحنا لک فتحا مبینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صراطا مستقیما " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فوزا عظیما "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12770

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ وَالَّذِي يَلِيهِ فَإِنْ كَانَ نَقْصٌ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْآخِرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی پھر اس کے بعد والی صفوں کو مکمل کیا کرو اور کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12771

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصٍ مِنْ حَرِيرٍ فِي سَفَرٍ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12772

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ أَخِي يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَهَا وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ نَصَبَ النَّفْسَ وَرَفَعَ الْعَيْنَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی " وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس والعین بالعین" نصب النفس و رفع العین " میں " نفس " کے لفظ کو منصوب اور " عین " کے لفظ کو مرفوع پڑھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12773

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْطَلَقَ حَارِثَةُ بْنُ سُرَاقَةَ نَظَّارًا مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنِي حَارِثَةُ إِنْ يَكُ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ فَقَالَ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12774

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ عَنْ أَعْيَنَ الْبَصْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَى رَسُولِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے ورثاء کے لئے مال چھوڑ جائے، وہ اس کے اہل خانہ کا ہے، اور جو قرض چھوڑ جائے اس کی ادائیگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12775

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَلِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12776

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ وَلَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو مزدوری کے معاملے میں اس پر ظلم نہیں فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12777

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْدُلَهَا ثُمَّ فَرَّقَ بَعْدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک عرصے تک " جب تک اللہ کو منظور ہوا" سر کے بال کنگھی کے بغیر رکھتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12778

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَهْلَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَلِحْيَانَ وَبَنِي عُصَيَّةَ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَنَزَلَ فِي ذَلِكَ قُرْآنٌ فَقَرَأْنَاهُ بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیس دن تک قبیلہ رعل، ذکوان، بنولحیان اور عصیہ " جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی " کے خلاف بددعاء فرماتے رہے۔ ان لوگوں نے بیئر معونہ پر صحابہ کو شہید کر دیا تھا، اور اس سلسلے میں قرآن کریم کی ایک آیت بھی نازل ہوئی تھی جو ہم پہلے پڑھتے تھے (پھر تلاوت منسوخ ہوگئی) کہ ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہمیں بھی راضی کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12779

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنْ كَانَتْ الْخَادِمُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَهِيَ أَمَةٌ تَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْهَا حَتَّى تَذْهَبَ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک عام باندی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جایا کرتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12780

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ قَالَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12781

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي رَحْلٍ لَهُ لَبَّيْكَ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ تَوَاضُعًا فِي رَحْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں فرمایا کرتے تھے اے اللہ! میں حاضر ہوں آخرت کی زندگی کے علاوہ کوئی زندگی نہیں ، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12782

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ لَا يَقْرَءُونَ يَعْنِي لَا يَجْهَرُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما بلند آواز سے بسم اللہ نہ پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12783

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بُرْدٌ مُتَوَشِّحًا بِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ آخری نماز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ پڑھی، وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر بیٹھ کر پڑھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12784

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي مَثَلُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ أَوْ مَثَلُ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ شَكَّ هِشَامٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا مدینہ اور صنعاء یا مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12785

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يَرْقُدُ عَنْ الصَّلَاةِ أَوْ يَغْفُلُ عَنْهَا قَالَ لِيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یاد آئے، اسے پڑھ لے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12786

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ وَفِي الْعَنْفَقَةِ وَفِي الرَّأْسِ وَفِي الصُّدْغَيْنِ شَيْئًا لَا يَكَادُ يُرَى وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی کے اگلے حصے میں تھوڑی کے اوپر بالوں میں ، سر میں اور کنپٹیوں پر چند بال سفید تھے، جو بہت زیادہ محسوس نہ ہوتے تھے، البتہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مہندی کا خضاب کیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12787

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَعْبَدٍ ابْنُ أَخِي حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ ذَهَبْتُ مَعَ حُمَيْدٍ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَايَعَهُ النَّاسُ أَوْ كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَقِّنُنَا أَنْ يَقُولَ لَنَا فِيمَا اسْتَطَعْتَ قَالَ أَبِي لَيْسَ هُوَ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں " حسبِ طاقت " کی قید لگا دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12788

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12789

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَزْمٌ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ لِبَعْضِ مَخَارِجِهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَانْطَلَقُوا يَسِيرُونَ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلَمْ يَجِدْ الْقَوْمُ مَاءً يَتَوَضَّئُونَ بِهِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا نَجِدُ مَا نَتَوَضَّأُ بِهِ وَرَأَى فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ كَرَاهِيَةَ ذَلِكَ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ يَسِيرٍ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ مَدَّ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَةَ عَلَى الْقَدَحِ ثُمَّ قَالَ هَلُمُّوا فَتَوَضَّئُوا فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ حَتَّى أَبْلَغُوا فِيمَا يُرِيدُونَ قَالَ سُئِلَ كَمْ بَلَغُوا قَالَ سَبْعِينَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر پر روانہ ہوئے، کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی ہمراہ تھے، نماز کا وقت قریب آگیا، لوگوں نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن پانی نہیں ملا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وضو کے لئے پانی نہیں مل رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے، ایک آدمی گیا اور ایک پیالے میں تھوڑا سا پانی لے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر وضو فرمانے لگے پھر اپنی چار انگلیاں اس پیالے میں ڈال دیں ، لوگوں کو اس پانی سے وضو کرنے کا حکم دیا، لوگ اس سے وضو کرتے رہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لوگوں کی تعداد پوچھی تو انہوں نے فرمایا ستر یا اسی کے قریب۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12790

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّي قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَلَّ لَيْلَةٌ تَأْتِي عَلَيَّ إِلَّا وَأَنَا أَرَى فِيهَا خَلِيلِي عَلَيْهِ السَّلَام وَأَنَسٌ يَقُولُ ذَلِكَ وَتَدْمَعُ عَيْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بہت کم کوئی رات ایسی گذرتی ہے جس میں مجھے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب نہ ہوتی ہو، یہ کہتے ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12791

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَتَتْ الْأَنْصَارُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمَاعَتِهِمْ فَقَالُوا إِلَى مَتَى نَنْزَعُ مِنْ هَذِهِ الْآبَارِ فَلَوْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا اللَّهَ لَنَا فَفَجَّرَ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْجِبَالِ عُيُونًا فَجَاءُوا بِجَمَاعَتِهِمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ مَرْحَبًا وَأَهْلًا لَقَدْ جَاءَ بِكُمْ إِلَيْنَا حَاجَةٌ قَالُوا إِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أُوتِيتُمُوهُ وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَقَالُوا الدُّنْيَا تُرِيدُونَ فَاطْلُبُوا الْآخِرَةَ فَقَالُوا بِجَمَاعَتِهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَغْفِرَ لَنَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلَادِنَا مِنْ غَيْرِنَا قَالَ وَأَوْلَادِ الْأَنْصَارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَوَالِينَا قَالَ وَمَوَالِي الْأَنْصَارِ قَالَ وَحَدَّثَتْنِي أُمِّي عَنْ أُمِّ الْحَكَمِ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ صُهْبَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَنَسًا يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ فِيهِ وَكَنَائِنِ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک کنوؤں سے پانی کھینچ کر لاتے رہیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلتے ہیں کہ وہ اللہ سے ہمارے لئے دعاء کر دیں کہ ان پہاڑوں سے چشمے جاری کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا انصار کو خوش آمدید! بخدا! آج تم مجھ سے جو مانگو گے میں تمہیں دوں گا اور میں اللہ سے تمہارے لئے جس چیز کا سوال کروں گا، اللہ وہ مجھے ضرور عطاء فرمائے گا، یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے موقع غنیمت سمجھو اور اپنے گناہوں کی معافی کا مطالبہ کرلو، چنانچہ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری دوسری اولاد کیا ہم میں شامل نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی دعاء میں شامل کرلیا، پھر انہوں نے اپنے موالی کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی شامل کرلیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12792

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي فَقَالَ قُومُوا أُصَلِّي بِكُمْ فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ قَالَ عَلَى يَمِينِهِ وَالنِّسْوَةَ خَلْفَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں میرے، والد اور میری خالہ ام حرام کے علاوہ کوئی نہ تھا، نماز کا وقت نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اٹھو میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی) راوی نے ثابت سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہاں کھڑا کیا تھا؟ انہوں نے کہا دائیں جانب، اور عورتوں کو ان کے پیچھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12793

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ يَحْيَى قَالَتْ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ كَأَنَّهُمْ عُرْفُ دِيكٍ وَأَشَارَ بِيَدِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا فوت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑی ہوئیں ، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ سب مرغ کی کلغی ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12794

حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ وَأُمُّ سُلَيْمٍ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَأُمَّ سُلَيْمٍ مِنْ خَلْفِنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، میں اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ان کے ہمراہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب اور ام سلیم کو ہمارے پیچھے کھڑا کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12795

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو وہ جا کر واپس آجاتا پھر بھی سورج بلند ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12796

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ أُرَاهُ قَالَ الْأُولَى شَكَّ أَبُو قَطَنٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12797

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، پھر اسے ترک فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12798

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ قَالَ إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَسْقِيهِمْ لَأَسْقِي أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَمَرُونِي فَكَفَأْتُهَا وَكَفَأَ النَّاسُ آنِيَتَهُمْ بِمَا فِيهَا حَتَّى كَادَتْ السِّكَكُ أَنْ تُمْتَنَعَ مِنْ رِيحِهَا قَالَ أَنَسٌ وَمَا خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ مَخْلُوطَيْنِ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ عِنْدِي مَالُ يَتِيمٍ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ خَمْرًا أَفَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَبِيعَهُ فَأَرُدَّ عَلَى الْيَتِيمِ مَالَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الثُّرُوبُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا وَلَمْ يَأْذَنْ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْخَمْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن شراب حرام ہوئی میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا وہ آدمی کو پلا رہا تھے، جب اس کی حرمت معلوم ہوئی تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ تمہارے برتن میں جتنی جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، بخدا! دوسرے لوگوں نے بھی اپنے برتنوں کی شراب انڈیل دی، حتیٰ کہ مدینہ کی گلیوں سے شراب کی بدبو آنے لگی، اور ان کی اس وقت شراب بھی صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی بارگاِ نبوت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ میرے پاس ایک یتیم کا مال تھا، میں نے اس سے شراب خرید لی تھی، کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ میں اسے بیچ کر اس یتیم کو اس کا مال لوٹا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو وہ اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو بیچنے کی اجازت نہیں دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12799

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْتَاعُ وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ يَعْنِي عَقْلَهُ ضَعْفٌ فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنْ الْبَيْعِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنْ الْبَيْعِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ فَقُلْ هُوَ هَا وَلَا خِلَابَةَ وَلَا هَا لَا خِلَابَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ایک آدمی " جس کی عقل میں کچھ کمزوری تھی " خرید و فروخت کیا کرتا تھا (اور دھوکہ کھاتا تھا) اس کے اہل خانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں شخص پر خرید و فروخت کی پابندی لگا دیں کیونکہ اس کی عقل کمزور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر اسے خرید و فروخت کرنے سے منع کر دیا، وہ کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی! میں اس کام سے نہیں رک سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم خرید و فروخت کو نہیں چھوڑ سکتے تو پھر معاملہ کرتے وقت یہ کہہ دیا کرو کہ اس معاملے میں کوئی دھوکہ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12800

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنِ السُّدِّيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ الِانْصِرَافِ فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ

سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرف سے واپس جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس گئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12801

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا قَالُوا مَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ إِذَا كَانَ يَؤُمُّهُمْ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَأَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنْ الصَّلَاةِ قَالَ إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ اور لوگو! میں تمہارا امام ہوں ، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12802

حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ أَبِي ذَرَّةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُعَمَّرٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِلَّا صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ مِنْ الْبَلَاءِ الْجُنُونَ وَالْجُذَامَ وَالْبَرَصَ فَإِذَا بَلَغَ خَمْسِينَ سَنَةً لَيَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ فَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ فَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً أَحَبَّهُ اللَّهُ وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ فَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ قَبِلَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ وَتَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِ فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَسُمِّيَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ وَشَفَعَ لِأَهْلِ بَيْتِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اسلام کی حالت میں چالیس برس کی عمر مل جائے، اللہ اس سے تین قسم کی بیماریاں جنون، کوڑھ، چیچک کو دور فرما دیتے ہیں ، جب وہ پچاس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اس پر حساب کتاب میں آسانی فرما دیتے ہیں ، جب ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اسے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطاء فرماتا ہے جو اسے محبوب ہے، جب وہ ستر سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اور سارے آسمانوں والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، اور جب وہ اسی سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول فرما لیتا ہے اور اس کے گناہوں سے درگذر فرماتا ہے، اور جب نوے سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، اور اسے زمین میں " اسیراللہ " کا نام دیا جاتا ہے اور اس کے اہل خانہ کے حق میں اس کی سفارش قبول ہوتی ہے۔ فائدہ : محدثین نے اس حدیث کو " موضوع " قرار دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12803

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12804

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً دَعَا بِهَا لِأُمَّتِهِ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12805

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُوَاصِلُوا قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12806

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَدْعُوَهُ وَقَدْ جَعَلَ لَهُ طَعَامًا فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَاسْتَحْيَيْتُ فَقُلْتُ أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ لِلنَّاسِ قُومُوا فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا صَنَعْتُ شَيْئًا لَكَ قَالَ فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي عَشَرَةً فَقَالَ كُلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَخَرَجُوا وَقَالَ أَدْخِلْ عَشَرَةً فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً وَيُخْرِجُ عَشَرَةً حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ثُمَّ هَيَّأَهَا فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلانے کے لئے بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا اٹھو، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں چلتے چلتے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو صرف آپ کے لئے کھانا تیار کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے گھر پہنچے تو وہ کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا، اور برکت کی دعاء کر کے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ، چنانچہ دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر دس دس کر کے سب آدمیوں کو وہ کھانا کھلایا اور خوب سیراب ہو کر سب نے کھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی رہا اور ہم نے بھی اسے کھایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12807

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكَ أَتَدْرُونَ مَا قَالَ قَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا أَلَا نَقْتُلُهُ فَقَالَ لَا وَلَكِنْ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک کتابی آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے اس نے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " وعلیک" پھر صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا ہے؟ یہ کہہ رہا ہے" السام علیک " یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اس کی گردن نہ اڑا دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، البتہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کیا کریں تو تم صرف " وعلیکم " کہا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12808

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَعَلَتْ سُمًّا فِي لَحْمٍ ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهَا جَعَلَتْ فِيهِ سُمًّا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَقْتُلُهَا قَالَ لَا قَالَ فَجَعَلْتُ أَعْرِفُ ذَلِكَ فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ عورت نے گوشت میں زہر ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی اس میں سے ایک لقمہ ہی کھایا تھا کہ فرمانے لگے اس عورت نے اس میں زہر ملایا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، راوی کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں اس زہر کا اثر دیکھ رہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12809

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ الْقُرْآنَ أَوْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ قَدْ ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12810

حَدَّثَنَا رَوْحٌ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ أُصْبُعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا ثُمَّ يَقُولُ إِنَّمَا بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ فَمَا فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں ، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12811

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُجَاءُ بِالْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ يَا رَبِّ قَالَ فَيُقَالُ لَقَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوْ افْتَدَى بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک کافر کو لا کر اس سے کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کے برابر سونا موجود ہو تو کیا وہ سب اپنے فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، یہی مراد ہے اس ارشاد ربانی کا " بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور مر گئے جب کہ وہ کافر ہی تھے، ان میں کسی سے زمین بھر کر بھی سونا قبول نہیں کیا جائےگا گو کہ وہ اسے فدئیے میں پیش کر دے۔ "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12812

حَدَّثَنَا عَامِرٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ وَقَالَ أَبِي حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ صُوِّرَتَا فِي هَذَا الْحَائِطِ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ أَوْ كَمَا قَالَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا کہ وہ اس دیوار میں میرے سامنے پیش کی گئی ہیں ، میں نے آج جیسا بہترین اور سخت ترین دن نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12813

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ سُؤَالًا أَوْ قَالَ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فَاسْتَخْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ كَمَا قَالَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12814

حَدَّثَنَا عَارِمٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ جَعَلَ لَهُ قَالَ عَفَّانُ يَجْعَلُ لَهُ مِنْ مَالِهِ النَّخَلَاتِ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ قَالَ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتْ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي وَجَعَلَتْ تَقُولُ كَلَّا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَا يُعْطِيكَهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ أَوْ كَمَا قَالَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِ كَذَا وَكَذَا وَتَقُولُ كَلَّا وَاللَّهِ قَالَ وَيَقُولُ لَكِ كَذَا وَكَذَا قَالَ حَتَّى أَعْطَاهَا فَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ قَالَ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهَا أَوْ كَمَا قَالَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے بعد لوگ اپنے مال میں سے کھجور کے درخت وغیرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتے تھے (اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں تقسیم کر دیتے حتیٰ کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر مفتوح ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ درخت ان کے مالکان کو واپس لوٹانا شروع کر دیئے، یہ دیکھ کر میرے گھر والوں نے مجھے حکم دیا کہ میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دوں اور درخواست کروں کہ ان کے اہل خانہ نے دو درخت دیئے تھے، بہرحال! میری درخواست پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے واپس دے دیئے ، اسی اثناء میں حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی آگئیں اور میرے گلے میں کپڑا ڈال کر کہنے لگیں اس خدا کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں یہ درخت ہرگز نہیں دے سکتے جب کہ یہ تو انہوں نے مجھے دیئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ آپ اس کے بدلے میں اتنے درخت لے لیں لیکن وہ برابر انکار کرتی رہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم برابر درختوں کی تعداد میں اضافہ کرتے رہے، حتیٰ کہ دس گنا زائد درختوں پر وہ راضی ہوگئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں عطاء کر دیئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12815

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّ أَنَسًا قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِلَيْكَ عَنِّي قَدْ آذَانِي رِيحُ حِمَارِكَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَوَاللَّهِ لَرِيحُ حِمَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ قَالَ فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ قَالَ فَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ قَالَ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کے پاس جانے کا مشورہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر چلے گئے، مسلمان بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیدل روانہ ہوگئے، زمین کچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا کہ آپ مجھ سے دور ہی رہیں ، آپ کے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے، اس پر ایک انصاری نے کہا بخدا! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے، ادھر عبداللہ بن ابی کی قوم کا ایک آدمی اس کی طرف سے غضب ناک ہوگیا، پھر دونوں کے ساتھیوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی، اور شاخوں ، ہاتھوں اور جوتوں سے لڑائی کی نوبت آگئی، ہمیں معلوم ہوا کہ یہ آیت انہی کے بارے نازل ہوئی کہ" اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو آپ ان کے درمیان صلح کرا دیں ۔ "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12816

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَسَرَّ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے راز کی بات فرمائی تھی، میں نے وہ بات آج تک کسی کو نہیں بتائی، حتیٰ کہ میری والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بھی مجھ سے وہ بات پوچھی تو میں نے انہیں بھی نہیں بتائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12817

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ أَوْ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ شَكَّ هِشَامٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا مدینہ اور صنعاء یا مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12818

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصِفُ مِنْ عِرْقِ النَّسَا أَلْيَةَ كَبْشٍ عَرَبِيٍّ أَسْوَدَ لَيْسَ بِالْعَظِيمِ وَلَا بِالصَّغِيرِ يُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَيُذَابُ فَيُشْرَبُ كُلَّ يَوْمٍ جُزْءٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرق النساء نامی مرض کے لئے سیاہ عربی مینڈھے کی چکی کی تشخیص فرماتے تھے جو بہت بڑا بھی نہ ہو اور بہت چھوٹا بھی نہ ہو، اس کے تین حصے کر کے اسے پگھلا لیا جائے اور روزانہ ایک حصہ پی لیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12819

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ النَّاسَ يَوْمَ بَدْرٍ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِيَّانَا تُرِيدُ فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ فَعَلْنَا فَشَأْنَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى نَزَلَ بَدْرًا وَجَاءَتْ رَوَايَا قُرَيْشٍ وَفِيهِمْ غُلَامٌ لِبَنِي الْحَجَّاجِ أَسْوَدُ فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ فَقَالَ أَمَّا أَبُو سُفْيَانَ فَلَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ وَأَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ جَاءَتْ فَيَضْرِبُونَهُ فَإِذَا ضَرَبُوهُ قَالَ نَعَمْ هَذَا أَبُو سُفْيَانَ فَإِذَا تَرَكُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ جَاءَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَانْصَرَفَ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَوَضَعَهَا فَقَالَ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فَالْتَقَوْا فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوَاللَّهِ مَا أَمَاطَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ مَوْضِعِ كَفَّيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَقَدْ جَيَّفُوا فَقَالَ يَا أَبَا جَهْلٍ يَا عُتْبَةُ يَا شَيْبَةُ يَا أُمَيَّةُ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَدْعُوهُمْ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَقَدْ جَيَّفُوا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ جَوَابًا فَأَمَرَ بِهِمْ فَجُرُّوا بِأَرْجُلِهِمْ فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبِحَارَ لَأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ قَالَ فَذَكَرَ عَفَّانُ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ إِلَى قَوْلِهِ فَمَا أَمَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، انصار نے کہا کہ یا رسول اللہ! شاید آپ کی مراد ہم ہیں ؟ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں تو سمندروں میں گھس پڑیں ، اور اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد تک اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے چلے جائیں ، لہٰذا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تیار کر کے روانہ ہوگئے اور بدر میں پڑاؤ کیا، قریش کے کچھ جاسوس آئے تو ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے گرفتار کر لیا، اور اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق پوچھا، وہ کہنے لگا کہ ابوسفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ قریش، ابوجہل اور امیہ بن خلف آگئے ہیں ، وہ لوگ جب اسے مارتے تو وہ ابوسفیان کے بارے بتانے لگتا اور جب چھوڑتے تو وہ کہتا کہ مجھے ابوسفیان کا کیا پتہ؟ البتہ قریش آگئے ہیں ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جب تم سے سچ بیان کرتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب یہ جھوٹ بولتا ہے تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان شاء اللہ کل فلاں شخص یہاں گرے گا اور فلاں شخص یہاں ، چنانچہ آمنا سامنا ہونے پر مشرکین کو اللہ نے شکست سے دوچار کر دیا اور بخدا ایک آدمی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی جگہ سے نہیں ہلا تھا۔ تین دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی لاشوں کے پاس گئے اور فرمایا اے ابوجہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! اور اے امیہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا، اسے تم نے سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا، میں نے اسے سچا پایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو تین دن کے بعد آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں ، تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہیں پاؤں سے گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، انصار نے کہا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم شاید آپ کی مراد ہم ہیں ؟ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں تو سمندروں میں گھس پڑیں ، اور اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد تک اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے چلے جائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12820

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِينَ خَدَّاعَةً يُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيَتَكَلَّمُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ الْفُوَيْسِقُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خروجِ دجال سے پہلے کچھ سال دھوکے والے ہوں گے، جن میں سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا قرار دیا جائے گا، امین کو خائن اور خائن کو امین سمجھا جائے گا، اور اس میں " رویبضہ " بڑھ چڑھ کر بولے گا، کسی نے پوچھا کہ رویبضہ سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاسق آدمی امور عامہ میں دخل اندازی کرنے لگے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12821

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الثُّفْلُ قَالَ عَبَّادٌ يَعْنِي الْمَرَقَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھن بہت پسند تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12822

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ سِنِينَ خَدَّاعَاتٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حدیث نمبر (١٣٣٣١) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12823

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَرَأَى قُبَّةً مِنْ لَبِنٍ فَقَالَ لِمَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ لِفُلَانٍ فَقَالَ أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ هَدٌّ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَا كَانَ فِي مَسْجِدٍ أَوْ فِي بِنَاءِ مَسْجِدٍ شَكَّ أَسْوَدُ أَوْ أَوْ أَوْ ثُمَّ مَرَّ فَلَمْ يَلْقَهَا فَقَالَ مَا فَعَلَتْ الْقُبَّةُ قُلْتُ بَلَغَ صَاحِبَهَا مَا قُلْتَ فَهَدَمَهَا قَالَ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی راستے سے گذر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں اینٹوں سے بنا ہوا ایک مکان نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کس کا ہے؟ میں نے عرض کیا فلاں صاحب کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! مسجد کے علاوہ ہر تعمیر قیامت کے دن انسان پر بوجھ ہوگی، کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ وہاں سے گذر ہوا تو وہاں مکان نظر نہ آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس مکان کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا کہ اس کے مالک کو آپ کی بات معلوم ہوئی تو اس نے اسے منہدم کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دعاء دی کہ اللہ اس پر رحم فرمائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12824

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَرَادَ الْحَجَّاجُ أَنْ يَجْعَلَ ابْنَهُ عَلَى قَضَاءِ الْبَصْرَةِ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِلَ إِلَيْهِ وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ

بلال بن ابی موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج نے اپنے بیٹے کو بصرہ کا قاضی مقرر کرنا چاہا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص عہدہ قضا کو طلب کرتا ہے، اسے اس کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور جسے زبردستی عہدہ قضا دے دیا جائے، اس پر ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے جو اسے سیدھی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12825

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً قَالَ فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ دکھانے کی فرمائش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو مرتبہ شق قمر کا معجزہ دکھایا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12826

حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کثرت سے یہ کہتا ہوا سنتا تھا کہ اے اللہ! میں پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12827

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12828

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْكَوْثَرِ فَقَالَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَفِيهِ طَيْرٌ كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ تِلْكَ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ فَقَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا يَا عُمَرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12829

حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عُمَرَ وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ وَكَانَ عُمَرُ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ طویل قرأت نہ کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12830

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ سَمِعْتُ ثُمَامَةَ بْنَ أَنَسٍ يَذْكُرُ أَنَّ أَنَسًا إِذَا تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ ثَلَاثًا وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ ثَلَاثًا وَكَانَ يَسْتَأْذِنُ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَحَدَّثَنَا بَعْدَ ذَلِكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَأْذِنُ ثَلَاثًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کہتے تو تین مرتبہ اسے دہراتے تھے اور جب کسی قوم کے پاس جاتے تو تین مرتبہ اجازت لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12831

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَجُلًا مِنْ صَحَابَتِهِ فَقَالَ أَيْ فُلَانُ هَلْ تَزَوَّجْتَ قَالَ لَا وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ، میرے پاس کچھ ہے ہی نہیں کہ جس کی وجہ سے میں شادی کرسکوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس " قل ھو اللہ احد" نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں ، فرمایا یہ چوتھائی قرآن ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس سورت زلزال نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں ، فرمایا یہ چوتھائی قرآن ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس آیت الکرسی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں ، فرمایا یہ چوتھائی قرآن ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا پھر شادی کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12832

حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِيهِ قَالَ فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا فَأُتِيَتْ فَقِيلَ لَهَا هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ فِي بَيْتِكِ ع َلَى فِرَاشِكِ قَالَ فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ قَالَ فَفَتَحَتْ عَتِيدَهَا قَالَ فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ أَصَبْتِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سو جاتے تھے، وہ وہاں ہوتی تھیں ، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، کسی نے انہیں جا کر بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بستر پر سو رہے ہیں ، چنانچہ وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں اور وہ پسینہ بستر پر بچھے ہوئے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر گر رہا ہے، انہوں نے اپنا دوپٹہ کھولا اور اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے صحیح کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12833

حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ طَيْرَ الْجَنَّةِ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ تَرْعَى فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ فَقَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا قَالَهَا ثَلَاثًا وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَأْكُلُ مِنْهَا يَا أَبَا بَكْرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، جو درختوں میں چرتے پھریں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے اور ابوبکر! مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں کھانے والوں میں سے ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12834

حَدَّثَنَا سَيَّارٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظْلَمَ مِنْ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ وَمَا فَرَغْنَا مِنْ دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی تھی اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ابھی ہم تدفین سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کی حالت کو تبدیل پایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12835

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَأَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ أَرْبَعَةٌ يُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأْمُرُ بِهِمْ إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو إِنْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا فَيَقُولُ فَلَا نُعِيدُكَ فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم سے چار آدمیوں کو نکالا جائے گا، انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ دوبارہ انہیں جہنم میں بھیجنے کا حکم دے دے گا، ان میں سے ایک شخص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا کہ پروردگار! مجھے تو یہ امید ہوگئی تھی کہ اگر تو مجھے جہنم سے نکال رہا ہے تو اس میں دوبارہ واپس نہ لوٹائے گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر تو اس میں دوبارہ واپس نہ جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12836

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تَزْهُوَ وَعَنْ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ پھل پکنے سے پہلے، کشمش(انگور) سیاہ ہونے سے پہلے اور گندم کا دانہ سخت ہونے سے پہلے بیچا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12837

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً قَدْ أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ذی یزن بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوڑا بھیجا جو اس نے ٣٣ اونٹ یا اونٹنیوں کے عوض لیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12838

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِسْلَامَ مَا فَرِحُوا بِهَذَا مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنَسٌ فَنَحْنُ نُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَعْمَلَ كَعَمَلِهِ فَإِذَا كُنَّا مَعَهُ فَحَسْبُنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام کے بعد میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس بات سے زیادہ کسی بات پر خوش ہوتے نہیں دیکھا، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں ، اگرچہ ان جیسے اعمال کی طاقت نہیں رکھتے، جب ہم ان کے ساتھ ہوں گے تو یہی ہمارے لئے کافی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12839

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ قَالَ أَنَسٌ مَا شَمِمْتُ شَيْئًا عَنْبَرًا قَطُّ وَلَا مِسْكًا قَطُّ وَلَا شَيْئًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَابِتٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَلَسْتَ كَأَنَّكَ تَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّكَ تَسْمَعُ إِلَى نَغَمَتِهِ فَقَالَ بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَقُولَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُكَ قَالَ خَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ وَأَنَا غُلَامٌ لَيْسَ كُلُّ أَمْرِي كَمَا يَشْتَهِي صَاحِبِي أَنْ يَكُونَ مَا قَالَ لِي فِيهَا أُفٍّ وَلَا قَالَ لِي لِمَ فَعَلْتَ هَذَا وَأَلَّا فَعَلْتَ هَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی، اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی، (ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوحمزہ! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا یا ان کی آواز نہیں سنی؟ آپ کا چھوٹا سا خادم حاضر ہے) میں نے مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال کی خدمت کی ہے، میں اس وقت لڑکا تھا، یہ ممکن نہیں ہے کہ میرا ہر کام دوسرے کی خواہش کے مطابق ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی بھی " اف " تک نہیں کہا، اور نہ ہی کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12840

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنِّي لَأَسْعَى فِي الْغِلْمَانِ يَقُولُونَ جَاءَ مُحَمَّدٌ فَأَسْعَى فَلَا أَرَى شَيْئًا ثُمَّ يَقُولُونَ جَاءَ مُحَمَّدٌ فَأَسْعَى فَلَا أَرَى شَيْئًا قَالَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ فَكُنَّا فِي بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ بَعَثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لِيُؤْذِنَ بِهِمَا الْأَنْصَارَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا زُهَاءَ خَمْسِ مِائَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَيْهِمَا فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَخَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ حَتَّى إِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُيُوتِ يَتَرَاءَيْنَهُ يَقُلْنَ أَيُّهُمْ هُوَ أَيُّهُمْ هُوَ قَالَ فَمَا رَأَيْنَا مَنْظَرًا مُشْبِهًا بِهِ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا وَيَوْمَ قُبِضَ فَلَمْ أَرَ يَوْمَيْنِ مُشْبِهًا بِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بچوں کے ساتھ دوڑ رہا تھا، جب بچے یہ کہتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے تو میں اتنا تیز دوڑتا کہ کچھ نہ دیکھتا، دوبارہ بچے یہی جملے کہتے تو میں پھر اتنا تیز دوڑنے لگتا کہ کچھ نہ دیکھتا تھا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفیق محترم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، ہم اس وقت مدینہ کے کسی علاقے میں تھے، ہم نے ایک دیہاتی آدمی کو انصار کے پاس یہ خبر دے کر بھیجا، اور پانچ سو کے قریب انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے نکل پڑے، وہ لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ آپ دونوں حضرات امن و امان کے ساتھ مطاع بن کر داخل ہوجائیے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آگے آگے چلتے رہے اور سارے اہل مدینہ نکل آئے حتیٰ کہ خواتین بھی اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپس میں پوچھنے لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں ؟ ہم نے اس دن جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے یہ دن بھی دیکھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور وہ دن بھی دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے، ان دونوں دنوں جیسا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12841

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ وَقَتَادَةَ وَحَمْزَةَ الضَّبِّيِّ أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں ، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12842

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12843

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالَ نَعَمْ

شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12844

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا قَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کیا تم میں تمہارے علاوہ بھی کوئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12845

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12846

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى لَحِقَ بِأَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ فَرَفَعُوهُ وَقَالُوا هَذَا كَانَ يَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُعْجِبُوا بِهِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا فَتَرَكُوهُ مَنْبُوذًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم بنو نجار میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، کچھ عرصے کے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا کر مل گیا، مشرکین نے اسے بڑا اچھالا اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی لکھ لکھ کر دیا کرتا تھا، کچھ ہی عرصے بعد اللہ نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مر گیا، لوگوں نے اس کے لئے قبر کھودی اور اسے قبر میں اتار دیا لیکن اگلا دن ہوا تو دیکھا کہ زمین نے اسے باہر نکال پھینکا ہے، انہوں نے کئی مرتبہ اسے دفن کیا، ہر مرتبہ زمین نے اسے نکال باہر پھینکا حتیٰ کہ لوگوں نے اسے یہیں پڑا چھوڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12847

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا جس کا نام ابوعمیر تھا اس کے پاس ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر؟ (چڑیا، جو مرگئی تھی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12848

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ وَصَفَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي بِنَا فَرَكَعَ فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى رَأَى بَعْضُنَا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ ثُمَّ سَجَدَ فَاسْتَوَى قَاعِدًا حَتَّى رَأَى بَعْضُنَا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ ثُمَّ اسْتَوَى قَاعِدًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12849

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قِيلَ لَهُ إِنَّ كِتَابَكَ لَا يُقْرَأُ حَتَّى يَكُونَ مَخْتُومًا فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ فَنَقَشَهُ أَوْ نَقَشَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12850

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمْ يَبْلُغْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الشَّيْبِ مَا يَخْضِبُهُ وَلَكِنْ أَبُو بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ قَالَ هَاشِمٌ حَتَّى يَقْنَئُوا شَعْرَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں اتنے بال سفید نہ تھے جنہیں خضاب لگانے کی ضرورت پڑتی، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اپنے سر اور ڈاڑھی پر مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12851

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا فَصَنَعَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ فَلَبِسُوهَا فَطَرَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوالیں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12852

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو وہ جا کر واپس آجاتا پھر بھی سورج بلند ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12853

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي لَيْثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ قَالَ حَسِبْتُهُ أَنَّهُ قَالَ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12854

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْجَبُوا لِعَمَلِ رَجُلٍ حَتَّى تَعْلَمُوا مَا يُخْتَمُ لَهُ بِهِ فَقَدْ يَعْمَلُ الرَّجُلُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ أَوْ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ عَمَلًا سَيِّئًا لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ مَاتَ عَلَى شَرٍّ فَيَتَحَوَّلُ إِلَى عَمَلٍ صَالِحٍ فَيُخْتَمُ لَهُ بِهِ وَقَدْ يَعْمَلُ الْعَبْدُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ أَوْ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ عَمَلًا صَالِحًا لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ مَاتَ عَلَى خَيْرٍ فَيَتَحَوَّلُ إِلَى عَمَلٍ سَيِّئٍ فَيُخْتَمُ لَهُ بِهِ قَالَ وَقَدْ رَفَعَهُ حُمَيْدٌ مَرَّةً ثُمَّ كَفَّ عَنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلا رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مرجائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہوجاتا ہے، اسی طرح کسی شخص پر اس وقت تک تعجب نہ کیا کرو جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ اس کا خاتمہ کس عمل پر ہو رہا ہے؟ کیونکہ بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12855

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا لِلْإِسْلَامِ مِنْكُمْ قَالَ فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ مِنْهُمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَلَمَّا قَرُبُوا مِنْ الْمَدِينَةِ جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ وَجَعَلُوا يَقُولُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ قَالَ وَكَانَ هُمْ أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ الْمُصَافَحَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے اور یہی وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے مصافحہ کا رواج ڈالا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12856

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ قَالَتْ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ بِمَ مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَقُلْتُ بِالطَّاعُونِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ ابن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے؟ میں نے بتایا کہ طاعون کی بیماری سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12857

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَسَأَلَهُ مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ بِهِ السَّاعَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ أَنْتُمْ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ

ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ولید بن عبدالملک کے پاس تشریف لے گئے، اس نے ان سے پوچھا کہ آپ نے قیامت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12858

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ قَتَادَةُ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا يَذْكُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي أَوَّلِ الْقِرَاءَةِ وَلَا فِي آخِرِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم نماز میں قرات کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے اور وہ قرأت کے آغاز یا اختتام پر بسم اللہ کا ذکر نہیں کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12859

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْمُغِيرَةِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي خِلَافٌ وَفُرْقَةٌ قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدُّوا عَلَى فُوقِهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا سِيمَاهُمْ قَالَ التَّحْلِيقُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ بازی ہوگی، اور ان میں سے ایک قوم ایسی نکلے گی جو قرآن پڑھتی ہوگی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، تم ان کی نمازوں کے آگے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے آگے اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، جس طرح تیر اپنی کمان میں کبھی واپس نہیں آسکتا یہ لوگ بھی دین میں کبھی واپس نہ آئیں گے، یہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو انہیں قتل کرے اور وہ اسے قتل کریں ، وہ کتاب اللہ کی دعوت دیتے ہوں گے لیکن ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، جو ان سے قتال کرے گا وہ اللہ کے اتنا قریب ہوجائے گا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی علامت کیا ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی علامت سر منڈوانا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12860

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الصَّنْعَةِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَجَذَبَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ جَذْبَةً شَدِيدَةً حَتَّى أَثَّرَتْ الصَّنْعَةُ فِي صَفْحِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَعْطِنَا مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ قَالَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ مُرُوا لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جارہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، راستے میں ایک دیہاتی مل گیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو ایسے گھسیٹا کہ اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک پر پڑ گئے اور کہنے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور صرف مسکرا دیئے ، پھر اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12861

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا عَرَجَ بِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ فَقُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب مجھے پروردگار عالم نے معراج پر بلایا تو میرا گذر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا جبریل! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کا گوشت کھانے والے (غیبت کرنے والے اور لوگوں کی طرف انگلیاں اٹھانے والے لوگ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12862

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عُثْمَانَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَرْبُ خُدْعَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنگ تو چال کا نام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12863

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عُثْمَانَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَرْبُ خُدْعَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنگ تو چال کا نام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12864

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ حُمَيْدَ بْنَ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي الْمُعَلَّى يَقُولُ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مَا لِي لَمْ أَرَ مِيكَائِيلَ ضَاحِكًا قَطُّ قَالَ مَا ضَحِكَ مِيكَائِيلُ مُنْذُ خُلِقَتْ النَّارُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا بات ہے، میں نے میکائیل کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے، میکائیل کبھی نہیں ہنسے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12865

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ الْيَهُودِ عَلَيْهِمْ التِّيجَانُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال اصفہان کے شہر " یہودیہ " سے خروج کرے گا، اس کے ساتھ سترہزار یہودی ہوں گے، جن پر سبز چادریں ہوں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12866

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12867

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ قَالَ أَقْبَلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ بِدِمَشْقَ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ فِيهِ أَحَدٌ قَالَ قَالَ أَنَسٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْإِيمَانُ يَمَانٍ هَكَذَا إِلَى لَخْمٍ وَجُذَامَ

عروی بن رویم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جب کہ وہ دمشق میں تھے، جب وہاں پہنچے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمائش کی کہ کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہو اور اس میں آپ کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان یمنی ہے، اسی طرح لخم اور جذام تک۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12868

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ قَالُوا سَنَصْبِرُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَأَخْفَاهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْحَدِيثِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا عنقریب تم میرے بعد بہت زیادہ ترجیحات دیکھو گے لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آملو، کیونکہ میں اپنے حوض پر تمہارا انتظار کروں گا، انہوں نے عرض کیا کہ ہم صبر کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12869

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ وَالْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دینے لگیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، جب وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں ، ہمارے قبلے کا رخ کرنے لگیں ، ہمارا ذبیحہ کھانے لگیں اور ہماری طرح نماز پڑھنے لگیں تو ہم پر ان کی جان و مال کا احترام واجب ہوگیا، سوائے اس کلمے کے حق کے، ان کے حقوق بھی عام مسلمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کے فرائض بھی دیگر مسلمانوں کی طرح ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12870

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَنَا عِنْدَ ثَفِنَاتِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس وقت حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرے کا تلبیہ اکٹھا پڑھا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے گھٹنے کے قریب تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12871

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَنْ مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ بُخْتٍ الْمَكِّيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي هَذِهِ فَحَمَلَهَا فَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْهِ فِيهِ غَيْرُ فَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْهِ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ صَدْرُ مُسْلِمٍ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمُنَاصَحَةُ أُولِي الْأَمْرِ وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو " جو میری باتیں سنے اور اٹھا کر آگے پھیلادے " تروتازہ رکھے، کیونکہ بہت سے فقہ اٹھانے والے لوگ فقیہہ نہیں ہوتے، اور بہت سے حامل فقہ لوگوں سے دوسرے لوگ زیادہ بڑے فقیہہ ہوتے ہیں ، تین چیزیں ایسی ہیں کہ مسلمان کے دل میں ان کے متعلق خیانت نہیں ہونی چاہئے ، ایک تو یہ کہ عمل خالص اللہ کی رضا کے لئے کیا جائے، دوسرا یہ کہ حکمرانوں کے ساتھ خیر خواہی کی جائے، اور تیسرا یہ کہ مسلمانوں کی اکثریت کے تابع رہے کیونکہ ان کی دعا سب کو شامل ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12872

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَسْأَلُ عَنْهُ وَكَانَ شَاكِيًا فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ سَلَّمْنَا قَالَ أَصَلَّيْتُمْ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ يَا جَارِيَةُ هَلُمِّي لِي وَضُوءًا مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا قَالَ عِصَامٌ فِي حَدِيثِهِ كَذَا قَالَ أَبِي قَالَ زَيْدٌ مَا يَذْكُرُ فِي ذَلِكَ أَبَا بَكْرٍ وَلَا عُمَرَ قَالَ قَالَ زَيْدٌ وَكَانَ عُمَرُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَيُخَفِّفُ الْقُعُودَ وَالْقِيَامَ

زید بن اسلم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے ظہر کی نماز حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ پڑھی، نماز کے بعد ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پوچھنے کے لئے " کہ وہ بیمار ہوگئے تھے" نکلے، ان کے گھر پہنچ کر ہم نے انہیں سلام کیا، انہوں نے پوچھا کہ کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا، انہوں نے اپنی باندی سے وضو کے لئے پانی منگوایا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والی نماز تمہارے اس امام سے زیادہ کسی کی نہیں دیکھی، دراصل حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ رکوع وسجدہ مکمل کرتے تھے لیکن جلسہ اور قیام مختصر کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12873

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ رَأَى فِي أُصْبُعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اضْطَرَبُوا خَوَاتِمَ مِنْ وَرِقٍ فَلَبِسُوهَا فَطَرَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوالیں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12874

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي حَوْضِي مِنْ الْأَبَارِيقِ عَدَدَ نُجُومِ السَّمَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12875

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی ، بغض ، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے کہ دونوں آمنے سامنے ہوں تو ایک اپنا چہرہ ادھر پھیر لے اور دوسرا ادھر ، اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12876

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12877

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي عِقَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَسْقَلَانُ أَحَدُ الْعَرُوسَيْنِ يُبْعَثُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَيُبْعَثُ مِنْهَا خَمْسُونَ أَلْفًا شُهَدَاءَ وُفُودًا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَبِهَا صُفُوفُ الشُّهَدَاءِ رُءُوسُهُمْ مُقَطَّعَةٌ فِي أَيْدِيهِمْ تَثِجُّ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا يَقُولُونَ رَبَّنَا آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ فَيَقُولُ صَدَقَ عَبِيدِي اغْسِلُوهُمْ بِنَهَرِ الْبَيْضَةِ فَيَخْرُجُونَ مِنْهَا نُقِيًّا بِيضًا فَيَسْرَحُونَ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہر عسقلان عروس البلاد میں سے ایک ہے، اس شہر سے قیامت کے دن ستر ہزار ایسے آدمی اٹھیں گے جن کا کوئی حساب کتاب نہ ہوگا، اور پچاس ہزار شہداء اٹھائے جائیں گے جو اللہ کے مہمان ہوں گے، یہاں شہداء کی صفیں ہوں گی جن کے کٹے ہوئے سر ان کے ہاتھوں میں ہوں گے، اور ان کی رگوں سے تازہ خون بہہ رہا ہوگا اور وہ کہتے ہوں گے کہ پروردگار! تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی جو وعدہ فرمایا تھا اسے پورا فرما، بےشک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے بندوں نے سچ کہا، انہیں نہر بیضہ میں غسل دلاؤ، چنانچہ وہ اس نہر سے صاف ستھرے اور گورے ہو کر نکلیں گے اور جنت میں جہاں چاہیں گے، سیرو تفریح کرتے پھریں گے۔ فائدہ : ۔ محدثین نے اس حدیث کو " موضوع " قرار دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12878

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّعْوَةُ لَا تُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَادْعُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی، لہٰذا اس وقت دعاء کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12879

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ مِنْ وَرِقٍ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انگوٹھی جس کا نگینہ حبشی تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12880

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ فَجِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ ذَلِكَ الدُّبَّاءَ وَيُعْجِبُهُ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ وَلَا أَطْعَمُ مِنْهُ شَيْئًا فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا زِلْتُ أُحِبُّهُ قَالَ سُلَيْمَانُ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيَّ فَقَالَ مَا أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَطُّ فِي زَمَانِ الدُّبَّاءِ إِلَّا وَجَدْنَاهُ فِي طَعَامِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی تھی، میں بھی وہاں چلا گیا، شوربہ آیا تو اس میں کدو تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا رہا، البتہ خود نہیں کھایا اور میں اس وقت سے کدو کو پسند کرنے لگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12881

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَمِّيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَلِجُ حَائِطَ الْقُدُسِ مُدْمِنُ الْخَمْرِ وَلَا الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَلَا الْمَنَّانُ عَطَاءَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا باغاتِ جنت میں عادی شراب خور، والدین کا نافرمان اور احسان جتلانے والا کوئی شخص داخل نہ ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12882

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْكَحَنِي مِنْ السَّمَاءِ وَأَطْعَمَ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ خُبْزًا وَلَحْمًا وَكَانَ الْقَوْمُ جُلُوسًا كَمَا هُمْ فِي الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ جُلُوسٌ كَمَا هُمْ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَعُرِفَ فِي وَجْهِهِ فَنُزِّلَ آيَةُ الْحِجَابِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا دیگر ازواج مطہرات پر فخر کرتے ہوئے فرماتی تھیں کہ اللہ نے آسمان پر میرا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمے میں روٹی اور گوشت کھلایا تھا، کچھ لوگ کھانا کھانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر ہی میں بیٹھے رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے، کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد واپس آئے تو لوگ پھر بھی بیٹھے ہوئے تھے، یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی ناگوار لگی اور چہرہ مبارک پر اس کے آثار ظاہر ہوگئے اور اس موقع پر آیت حجاب نازل ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12883

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَمَا إِنَّهَا قَائِمَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ وَاللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ان کے گھر میں تھا، کہ ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو اور تمہیں وہی ملے گا جو تم نے کمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12884

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى خَشَبَةٍ فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ ابْنُوا لِي مِنْبَرًا أَرَادَ أَنْ يُسْمِعَهُمْ فَبَنَوْا لَهُ عَتَبَتَيْنِ فَتَحَوَّلَ مِنْ الْخَشَبَةِ إِلَى الْمِنْبَرِ قَالَ فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْخَشَبَةَ تَحِنُّ حَنِينَ الْوَالِدِ قَالَ فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِنْبَرِ فَمَشَى إِلَيْهَا فَاحْتَضَنَهَا فَسَكَنَتْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو لکڑی کے ایک ستون کے ساتھ اپنی پشت مبارک کو سہارا دےتے تھے، لوگوں کی تعداد جب بڑھ گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لئے منبر بنایا، مقصد یہ تھا کہ سب تک آواز پہنچ جائے، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دو سیڑھیوں کا منبر بنایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ستون سے منبر پر منتقل ہوگئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے کانوں سے اس تنے کے رونے کی ایسی آواز سنی جیسے گمشدہ بچہ بلک بلک کر روتا ہے، اور وہ مسلسل روتا ہی رہا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے اور اس کی طرف چل کر گئے، اسے سینے سے لگایا تب جا کر وہ خاموش ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12885

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طِيبٌ قَطُّ فَرَدَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12886

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12887

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ وَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِي بَيْتِهَا قَالَ فَأُتِيَتْ يَوْمًا فَقِيلَ لَهَا هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ عَلَى فِرَاشِكِ قَالَتْ فَجِئْتُ وَذَاكَ فِي الصَّيْفِ فَعَرِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدَمٍ عَلَى الْفِرَاشِ فَجَعَلْتُ أُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ وَأَعْصِرُهُ فِي قَارُورَةٍ فَفَزِعَ وَأَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ فَقَالَ مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ أَصَبْتِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سوجاتے تھے، وہ وہاں نہیں ہوتی تھیں ، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، کسی نے انہیں جا کر بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بستر پر سو رہے ہیں ، چنانچہ وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں اور وہ پسینہ بستر پر بچھے ہوئے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر گر رہا ہے، انہوں نے اپنا دوپٹہ کھولا اور اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے صحیح کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12888

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ تَغَيَّرَ مِنْ الْقِدَمِ وَنَضَحَهُ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ فَسَجَدَ عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک پرانی چٹائی پر " جس کا رنگ بھی پرانا ہونے کی وجہ سے بدل چکا تھا " ہمیں نماز پڑھائی، میں نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کر دیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12889

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى مَسْجِدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَالَ فِيهِ فَقَامَ إِلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ لَا تُزْرِمُوهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے خبردار کرنے کے لئے روکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مت روکو، اسے چھوڑ دو، پھر اس کے فارغ ہونے کے بعد پانی منگوا کر اس پیشاب پر بہا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12890

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا قَالَ فَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لَقَدْ نَسِيَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السَّجْدَةِ قَعَدَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لَقَدْ نَسِيَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے میں تمہیں اس طرح نماز پڑھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جس طرح کرتے تھے میں تمہیں اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12891

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو ان کے اوپر " خلوق" نامی خوشبو کے اثرات دکھائی دیئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کر لی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ مبارک کرے، پھر ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12892

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ أَنَسٌ فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ فَأَنَا أُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ لِحُبِّي إِيَّاهُمْ وَإِنْ كُنْتُ لَا أَعْمَلُ بِعَمَلِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کچھ بھی نہیں سوائے اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس بات سے زیادہ کسی بات پر خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتے ہیں ، اگرچہ ان جیسے اعمال کی طاقت نہیں رکھتے، جب ہم ان کے ساتھ ہوں گے تو یہی ہمارے لئے کافی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12893

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ خَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَبْلُغْ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَخْضِبُ وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ لَفَعَلْتُ وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَكَانَ عُمَرُ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی میں سفید بالوں کو گننا چاہوں تو گن سکتا ہوں ، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12894

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ وَلَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ كَذَا وَهَلَّا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12895

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا مَسِسْتُ بِيَدَيَّ دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمِمْتُ رَائِحَةً كَانَتْ أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی، اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12896

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِالْمَوْتِ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَنَظَرَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ ثُمَّ مَاتَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12897

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ قَالَ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ قَدْ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَانْظُرْ قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَظَرْتُ فَسَمِعْتُ مُنَادِيًا يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَاذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا قَالَ فَجِئْتُ فَأَهْرَقْتُهَا قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ قُتِلَ سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِلَى آخِرِ الْآيَةَ قَالَ وَكَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جس دن شراب حرام ہوئی، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کے کچھ دوستوں کو پلا رہا تھا، ایک مسلمان آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ لوگوں کو یہ خبر نہیں ہوئی کہ شراب حرام ہوگئی، انہوں نے یہ سن کر مجھ سے کہا کہ باہر نکل کر دیکھو، میں نے باہر نکل کر دیکھا تو ایک منادی کی یہ آواز سنائی دی کہ لوگو! شراب حرام ہوگئی، میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بتا دیا، وہ کہنے لگے کہ جا کر تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، چنانچہ میں نے جا کر اسے بہا دیا، اس موقع پر بعض لوگ کہنے لگے کہ سہیل بن بیضاء مارے گئے کیونکہ ان کے پیٹ میں شراب تھی، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ پہلے کھاپی چکے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " اس موقع پر صرف کچی اور پکی کجھور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی، یہی اس وقت شراب تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12898

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ وَكَانَ مَعَهُ غُلَامٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ يَحْدُو قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ قَالَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ يَعْنِي النِّسَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انجثہ تھا " امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی سے ہانکنا شروع کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجشہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12899

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَ فَأَوْلَمَ بِشَاةٍ أَوْ ذَبَحَ شَاةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زوجہ محترمہ کا ایسا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے موقع پر کیا تھا کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمے کے لئے بکری ذبح کروائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12900

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَمُؤَمَّلٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ذَهَبْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تب بھی میں حسب سابق ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹا! پیچھے رہو (اجازت لے کر اندر آؤ)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12901

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ حَجَرٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَجِّهًا إِلَى أَهْلِي فَمَرَرْتُ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ فَأَعْجَبَنِي لَعِبُهُمْ فَقُمْتُ عَلَى الْغِلْمَانِ فَانْتَهَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَى الْغِلْمَانِ فَسَلَّمَ عَلَى الْغِلْمَانِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَرَجَعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي بَعْدَ السَّاعَةِ الَّتِي كُنْتُ أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ فِيهَا فَقَالَتْ لِي أُمِّي مَا حَبَسَكَ الْيَوْمَ يَا بُنَيَّ فَقُلْتُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقَالَتْ أَيُّ حَاجَةٍ يَا بُنَيَّ فَقُلْتُ يَا أُمَّاهُ إِنَّهَا سِرٌّ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ احْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ قَالَ ثَابِتٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَتَحْفَظُ تِلْكَ الْحَاجَةَ الْيَوْمَ أَوْ تَذْكُرُهَا قَالَ إِي وَاللَّهِ وَإِنِّي لَا أَذْكُرُهَا وَلَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهَا أَحَدًا مِنْ النَّاسِ لَحَدَّثْتُكَ بِهَا يَا ثَابِتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جب فارغ ہوا تو میں نے سوچا کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیلولہ کریں گے، چنانچہ میں بچوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا، میں ابھی ان کا کھیل دیکھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور بچوں کو " جو کھیل رہے تھے" سلام کیا، اور مجھے بلا کر اپنے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کہ کیا کام تھا؟ میں نے کہا کہ یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، ثابت! اگر وہ راز میں کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12902

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ كَانَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤَ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ وَلَا مَسِسْتُ دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمِمْتُ رَائِحَةَ مِسْكٍ وَلَا عَنْبَرٍ أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَسَنٌ مِسْكَةٍ وَلَا عَنْبَرَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ کھلتا ہوا تھا، پسینہ موتیوں کی طرح تھا، جب وہ چلتے تو پوری قوت سے چلتے تھے، میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی، اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12903

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً وَقَالَ سُرَيْجٌ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةً ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ فِي الصَّلَاةِ وَفِي الرُّكُوعِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَائِي كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور نماز رکوع کے متعلق فرمایا میں تمہیں اپنے آگے سے جس طرح دیکھتا ہوں پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12904

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ ثُمَّ قَالَ هَلْ مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ قَالَ سُرَيْجٌ يَعْنِي ذَنْبًا فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَانْزِلْ قَالَ فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے جنازے میں شریک تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کو جھلملاتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو رات کو اپنی بیوی کے قریب نہ گیا ہو؟ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں ! میں ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبر میں تم اترو، چنانچہ وہ قبر میں اترے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12905

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَيَرْجِعُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَبِقَدْرِ مَا يَنْحَرُ الرَّجُلُ الْجَزُورَ وَيُبَعِّضُهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ وَكَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالشَّجَرَةِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ اگر کوئی شخص بنو حارثہ بن حارث کے یہاں جاتا تو وہ غروبِ آفتاب سے پہلے واپس آسکتا تھا، اور اتنا وقت ہوتا تھا کہ اگر کوئی آدمی اونٹ کو ذبح کرلے تو غروبِ آفتاب تک اس کے حصے بنا لیتا، اور نمازِ جمعہ زوال کے وقت پڑھتے تھے، اور جب مکہ مکرمہ کے لئے نکلتے تھے تو ظہر کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12906

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ وَشُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، جسے ہر پڑھا لکھا اور ہر ان پڑھ مسلمان پڑھ لے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12907

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری لڑکا " جس کا نام محمد تھا " بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو ہوسکتا ہے کہ اس پر بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت آجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12908

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ فَقَالَ الرَّجُلُ هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا فَإِنَّهَا قَائِمَةٌ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ فَمَا فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَشَدَّ مِمَّا فَرِحُوا بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12909

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمْ يَبْلُغْ عَمَلَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ قَالَ حَسَنٌ أَعْمَالَهُمْ قَالَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ قَالَ ثَابِتٌ فَكَانَ أَنَسٌ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ اللَّهُمَّ فَإِنَّا نُحِبُّكَ وَنُحِبُّ رَسُولَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرماتے تھے کہ اے اللہ! ہم تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12910

حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے ، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12911

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ وَقَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12912

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يَطِيفُ بِهِ وَيَنْظُرُ مَا هُوَ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لَمْ يَتَمَالَكْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12913

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کو ان کے چہروں کے بل کیسے اٹھایا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ذات انہیں پاؤں کے بل چلنے پر قادر ہے، وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12914

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ وَحَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ قَائِلًا مِنْ النَّاسِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَمَا يُرِيدُ الْمَدِينَةَ قَالَ بَلَى إِنَّهُ لَيَعْمَلُ إِلَيْهَا فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ بِنِقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا يَحْرُسُونَهَا مِنْ الدَّجَّالِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، انشاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12915

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ وَحَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ ك ف ر كُفْرٌ مُهَجًّى يَقُولُ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ أُمِّيٌّ وَكَاتِبٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، جسے ہر پڑھا لکھا اور ہر ان پڑھ مسلمان پڑھ لے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12916

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ وَحَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ أُهْدِيَ لِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ مِنْ سُنْدُسٍ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ الْحَرِيرِ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَنَادِيلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12917

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ وَهُوَ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَيَقُولُ تَرَاصُّوا وَاعْتَدِلُوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12918

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ فَمَا أَدْرَكَهُ صَلَّى وَمَا سَبَقَهُ أَتَمَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12919

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رُقَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَمَّا مَاتَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلْ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَهْلَهُ فَلَمْ يَدْخُلْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْقَبْرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی قبر میں ایسا شخص نہیں اترے گا جو رات کو اپنی بیوی سے بے حجاب ہوا ہو، چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان کی قبر میں نہیں اترے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12920

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَيَسْتَمِعُ الْأَذَانَ فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ خَرَجْتَ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دشمن پر طلوع فجر کے وقت حملے کی تیاری کرتے تھے، اور کان لگا کر سنتے تھے، اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے، ورنہ حملہ کر دیتے، ایک دن اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطرت سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے " اشہد ان الا الہ الا اللہ " کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12921

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقَةً مِنْ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهَا تَذَبْذَبَانِ مِنْ طُولِهِمَا فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ مِنْ السَّمَاءِ فَقَالَ وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَنْدِيلًا مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَلَبِسَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا قَالَ فَمَا أَصْنَعُ بِهَا قَالَ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ روم کے بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ " جس میں سونے کا کام ہوا تھا " بھجوا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لمبا ہونے کی وجہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ آپ پر آسمان سے اترا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے صرف رومال ہی اس سے بہت بہتر ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس بھجوا دیا، انہوں نے اسے پہن لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میں نے تمہیں پہننے کے لئے نہیں دیا، انہوں نے پوچھا کہ پھر میں اس کا کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی نجاشی کے پاس بھیج دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12922

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَزْمٌ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ وَأَنْ يُزَادَ لَهُ فِي رِزْقِهِ فَلْيَبَرَّ وَالِدَيْهِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت اور رزق میں اضافہ ہو جائے، اسے چاہئے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اور صلہ رحمی کیا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12923

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَ شَيْئًا مِنْ التَّفْسِيرِ قَالَ قَوْلُهُ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلْ امْتَلَأْتِ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہی کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم! بس، بس۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12924

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ رُشَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي يَوْمِ خَمِيسٍ فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ فَتَغَدَّى بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضٌ ثُمَّ أَتَوْهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فَفَعَلَ مِثْلَهَا فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ فَأَكَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضٌ فَقَالَ لَهُمْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَعَلَّكُمْ اثْنَانِيُّونَ لَعَلَّكُمْ خَمِيسِيُّونَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فَلَا يُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرَ الْعَامَ ثُمَّ يُفْطِرُ فَلَا يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا فِي نَفْسِهِ أَنْ يَصُومَ الْعَامَ وَكَانَ أَحَبُّ الصَّوْمِ إِلَيْهِ فِي شَعْبَانَ

انس بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جمعرات کے دن حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے ہمارے لئے دسترخوان منگوایا، اور کھانے کی دعوت دی، کچھ لوگوں نے کھالیا اور کچھ لوگوں نے ہاتھ روکے رکھا، پھر پیر کے دن حاضری ہوئی تو انہوں نے پھر دستر خوان منگوایا اور حسب سابق کھانے کی دعوت دی، اس مرتبہ بھی کچھ لوگوں نے کھالیا اور کچھ لوگوں نے نہ کھایا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا شاید تم لوگ پیر والے اور جمعرات والے ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم یہ سمجھنے لگتے تھے کہ اس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کوئی روزہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے، اور بعض اوقات اتنا افطار فرماتے کہ ہم یہ سمجھنے لگتے کہ اس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کوئی روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہِ شعبان میں روزہ رکھنا سب سے زیادہ پسند تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12925

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12926

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قَوْمًا ذَكَرُوا عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَوْضَ فَأَنْكَرَهُ وَقَالَ مَا الْحَوْضُ فَبَلَغَ ذَلِكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ لَا جَرَمَ وَاللَّهِ لَأَفْعَلَنَّ فَأَتَاهُ فَقَالَ ذَكَرْتُمْ الْحَوْضَ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ فَقَالَ نَعَمْ يَقُولُ أَكْثَرَ مِنْ كَذَا وَكَذَا مَرَّةً إِنَّ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ أَوْ بَيْنَ صَنْعَاءَ وَمَكَّةَ وَإِنَّ آنِيَتَهُ أَكْثَرُ مِنْ نُجُومِ السَّمَاءِ قَالَ حَسَنٌ وَإِنَّ آنِيَتَهُ لَأَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ذُكِرَ الْحَوْضُ عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَاللَّهِ لَأَفْعَلَنَّ بِهِ وَلَأَفْعَلَنَّ

خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبیداللہ بن زیاد کے سامنے کچھ لوگوں نے حوضِ کوثر کا تذکرہ کیا، اس نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا کیسا حوض؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا بخدا! میں اسے قائل کر کے رہوں گا، چنانچہ وہ ابن زیاد کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کیا تم لوگ حوضِ کوثر کا تذکرہ کر رہے تھے؟ ابن زیاد نے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا تذکرہ کرے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے شمار مرتبہ فرماتے تھے کہ اس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایلہ اور مکہ کے درمیان ہے (یا صنعاء اور مکہ کے درمیان ہے) اور اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوں گے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12927

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَرَجُلٌ يُحِبُّ رَجُلًا لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَرَجُلٌ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا نَصْرَانِيًّا قَالَ حَسَنٌ أَوْ نَصْرَانِيًّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں ، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے ، اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12928

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا اسْتِعْمَالُهُ قَالَ يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ مَوْتِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے استعمال فرماتے ہیں ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ کیسے استعمال فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مرنے سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطاء فرما دیتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12929

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فِي بَيْتِهَا فَتَأْتِي فَتَجِدُهُ نَائِمًا وَكَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ إِذَا نَامَ ذَفَّ عَرَقًا فَتَأْخُذُ عَرَقَهُ بِقُطْنَةٍ فِي قَارُورَةٍ فَتَجْعَلُهُ فِي مِسْكِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سوجاتے تھے، وہ وہاں نہیں ہوتی تھیں ، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں ، وہ روئی سے اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں ، اور اپنی خوشبو میں شامل کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12930

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ شَجَرَةً كَانَتْ عَلَى طَرِيقِ النَّاسِ كَانَتْ تُؤْذِيهِمْ فَأَتَاهَا رَجُلٌ فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک درخت سے راستے میں گذرنے والوں کو اذیت ہوتی تھی، ایک آدمی نے اسے آکر ہٹا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جنت میں اسے درختوں کے سائے میں پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12931

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ مِسْكِينٍ عَنْ أَبِي ظِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عَبْدًا فِي جَهَنَّمَ لَيُنَادِي أَلْفَ سَنَةٍ يَا حَنَّانُ يَا مَنَّانُ قَالَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَبْدِي هَذَا فَيَنْطَلِقُ جِبْرِيلُ فَيَجِدُ أَهْلَ النَّارِ مُكِبِّينَ يَبْكُونَ فَيَرْجِعُ إِلَى رَبِّهِ فَيُخْبِرُهُ فَيَقُولُ ائْتِنِي بِهِ فَإِنَّهُ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَيَجِيءُ بِهِ فَيُوقِفُهُ عَلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ لَهُ يَا عَبْدِي كَيْفَ وَجَدْتَ مَكَانَكَ وَمَقِيلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ شَرَّ مَكَانٍ وَشَرَّ مَقِيلٍ فَيَقُولُ رُدُّوا عَبْدِي فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا كُنْتُ أَرْجُو إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ تَرُدَّنِي فِيهَا فَيَقُولُ دَعُوا عَبْدِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم میں ایک بندہ ایک ہزار سال تک " یا حنان یا منان " کہہ کر اللہ کو پکارتا رہے گا، اللہ تعالیٰ حضرت جبریل علیہ السلام سے فرمائیں گے کہ جا کر میرے اس بندے کو لے کر آؤ، جبریل چلے جائیں گے، وہاں پہنچ کر وہ اہل جہنم کو ایک دوسرے کے اوپر اوندھا پڑا ہوا پائیں گے، اور وہ لوگ رو رہے ہوں گے (حضرت جبریل علیہ السلام اسے پہچان نہ سکیں گے) اور واپس آکر پروردگار کو اس کی خبر دیں گے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ وہ فلاں فلاں جگہ میں ہے، اسے وہاں سے نکال کر میرے پاس لاؤ، چنانچہ جبریل علیہ السلام اسے لا کر بارگاہ خداوندی میں پیش کر دیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھیں گے کہ بندے! تو نے اپنا ٹھکانہ اور آرام کرنے کی جگہ کیسی پائی؟ وہ کہے گا پروردگار! بدترین ٹھکانہ اور بدترین آرام گاہ، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے بندے کو واپس جہنم میں لے جاؤ، وہ عرض کرے گا کہ پروردگار! جب آپ نے مجھے جہنم سے نکلوایا تھا تو مجھے یہ امید نہیں تھی کہ آپ دوبارہ مجھے اس میں واپس لوٹا دیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے بندے کو چھوڑ دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12932

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَفَعَهُ قَالَ إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12933

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتارا تو کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12934

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12935

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ أَوْ وَيْلَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہو جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12936

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کیا تم میں تمہارے علاوہ بھی کوئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12937

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ الْعَجْزِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12938

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْبَصْرِيُّ الْقَصِيرُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَتَوَانَيْتُ عَنْهُ أَوْ ضَيَّعْتُهُ فَلَامَنِي فَإِنْ لَامَنِي أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلَّا قَالَ دَعُوهُ فَلَوْ قُدِّرَ أَوْ قَالَ لَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ كَانَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ عِمْرَانَ الْبَصْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوران اگر مجھے کسی کا حکم دیا اور مجھے اس میں تاخیر ہوگئی یا وہ کام نہ کر سکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی ملامت نہ کی، اگر اہل خانہ میں سے کوئی شخص ملامت کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اسے چھوڑ دو، اگر تقدیر میں یہ کام لکھا ہوتا تو ضرور ہوجاتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12939

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي الْقَصَّابَ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ فِي الصَّلَاةِ كَالْكَلْبِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص نماز میں کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12940

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ بِرِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قَالَ فَقُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12941

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَحَلَبْنَا لَهُ دَاجِنًا لَنَا وَشُبْنَا لَبَنَهَا مِنْ مَاءِ الدَّارِ وَعَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ وَمِنْ وَرَاءِ الرَّجُلِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ عَنْ فِيهِ أَوْ هَمَّ بِنَزْعِهِ قَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ الْأَعْرَابِيَّ ثُمَّ قَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو بیس سال کا تھا،میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں،ایک مربتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا،اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو،پھر اس کے بعد والے کو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12942

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي السَّلُولِيَّ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقِيلُ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ وَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ عَرَقًا فَاتَّخَذَتْ لَهُ نِطَعًا فَكَانَ يَقِيلُ عَلَيْهِ وَخَطَّتْ بَيْنَ رِجْلَيْهِ خَطًّا فَكَانَتْ تُنَشِّفُ الْعَرَقَ فَتَأْخُذُهُ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ عَرَقُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْعَلُهُ فِي طِيبِي فَدَعَا لَهَا بِدُعَاءٍ حَسَنٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں قیلولہ کے لئے تشریف لاتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ بہت آتا تھا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چمڑے کا ایک بستر بنوا رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر قیلولہ فرماتے تھے، بعد میں وہ اس پسینے کو نچوڑ لیا کرتی تھیں ، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ کے اس پسینے کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کریں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعاء دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12943

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ أُمَّ سُلَيْمٍ تَنْظُرُ إِلَى جَارِيَةٍ فَقَالَ شُمِّي عَوَارِضَهَا وَانْظُرِي إِلَى عُرْقُوبِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو ایک باندی دیکھنے کے لئے بھیجا اور فرمایا اس کے جسم کی خوشبو کو سونگھ کر دیکھنا اور اس کی ایڑی کے پٹھے پر غور کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12944

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَبُو نَصْرٍ الْعِجْلِيُّ الْخَفَّافُ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَنْبَأَهُمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِذْ عُرِضَ لِي نَهَرٌ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ قَالَ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَضَرَبْتُ بِيَدَيَّ فِيهِ فَإِذَا طِينُهُ الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَإِذَا رَضْرَاضُهُ اللُّؤْلُؤُ قَالَ أَبِي و قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ مِنْ كِتَابِهِ قَرَأْتُ قَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي أَتَدْرِي مَا هَذَا هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى أَرْضِهِ فَأَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ الْمِسْكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبریل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرے ساتھی فرشتے نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ یہ کوثر ہے جو آپ کو آپ کے رب نے عطاء فرمائی ہے، پھر اس نے اپنا ہاتھ اس کی زمین پر مارا اور اس کی مٹی میں سے مشک نکال کر دکھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12945

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ فِطْرٍ قَطُّ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ قَالَ وَكَانَ أَنَسٌ يَأْكُلُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ثَلَاثًا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَزْدَادَ أَكَلَ خَمْسًا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَزْدَادَ أَكَلَ وِتْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ کی طرف اس وقت تک نہیں نکلتے تھے، جب تک ایک ایک کرکے چند کھجوریں نہ کھالیتے، حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی نکلنے سے پہلے تین یا پانچ یا زیادہ ہونے کی صورت میں طاق عدد میں کھجوریں کھالیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12946

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى أَبُو طَلْحَةَ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ فَأَمَرَ بِهِ فَصُنِعَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ لِي يَا أَنَسُ انْطَلِقْ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَادْعُهُ وَقَدْ تَعْلَمُ مَا عِنْدَنَا قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ يَدْعُوكَ إِلَى طَعَامِهِ فَقَامَ وَقَالَ لِلنَّاسِ قُومُوا فَقَامُوا فَجِئْتُ أَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَضَحْتَنَا قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ فَلَمَّا انْتَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَابِ قَالَ لَهُمْ اقْعُدُوا وَدَخَلَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فَلَمَّا دَخَلَ أُتِيَ بِالطَّعَامِ تَنَاوَلَ فَأَكَلَ وَأَكَلَ مَعَهُ الْقَوْمُ حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ قُومُوا وَلْيَدْخُلْ عَشَرَةٌ مَكَانَكُمْ حَتَّى دَخَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَأَكَلُوا قَالَ قُلْتُ كَمْ كَانُوا قَالَ كَانُوا نَيِّفًا وَثَمَانِينَ قَالَ وَفَضَلَ لِأَهْلِ الْبَيْتِ مَا أَشْبَعَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دو مد جو لے کر آئے اور کھانا تیار کرنے کے لئے کہا، پھر مجھ سے کہا انس! جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لاؤ اور تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے پاس کیا ہے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھی؟ یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔ میں نے جلدی سے گھر پہنچ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے ساتھیوں کو بھی لے آئے، یہ سن کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا تو نے ہمیں رسوا کر دیا، میں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد نہیں کرسکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے گھر پہنچے تو فرمایا بیٹھ جاؤ، پھر دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہمراہ تھے، پھر دس دس کر کے سب لوگوں نے وہ کھانا کھالیا اور خوب سیراب ہو کر سب نے کھایا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسی سے کچھ اوپر، اور ا ہل خانہ کے لئے بھی اتنا بچ گیا تھا کہ جس سے وہ سیراب ہوجائیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12947

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَالَ فَأَقَامَهُ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی آگیا، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو بعض لوگ سو چکے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر لوگوں کو نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12948

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ فِي رَمَضَانَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَدَعَا بِمَاءٍ عَلَى يَدِهِ ثُمَّ بَعَثَهَا فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً شَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہِ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیں اور اسے نوش فرمالیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12949

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ ثَارَتْ أَرْنَبٌ فَتَبِعَهَا النَّاسُ فَكُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ قَالَ فَأَمَرَ بِهَا فَذُبِحَتْ ثُمَّ سُوِّيَتْ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ عَجُزَهَا فَقَالَ ائْتِ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِهِ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَرْسَلَ إِلَيْكَ بِعَجُزِ هَذِهِ الْأَرْنَبِ قَالَ فَقَبِلَهُ مِنِّي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی جگہ پر اچانک ہمارے سامنے ایک خرگوش آگیا، بچے اس کی طرف دوڑے، لیکن اسے پکڑ نہ سکے یہاں تک کہ تھک گئے، میں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا ایک پہلو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12950

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عَنْ حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَدْعُو

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12951

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ الثَّوْرِيِّ عَنْ جَابِرٍ عَنِ أَبِي نَصْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12952

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ وَشُعْبَةَ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12953

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَبْيَضِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي وَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَجِدُهُمْ جُلُوسًا فَأَقُولُ لَهُمْ قُومُوا فَصَلُّوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا، میں مدینہ منورہ کے ایک کونے میں واقع اپنے محلے اور گھر میں پہنچتا اور ان سے کہتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے ہیں ، لہٰذا تم بھی اٹھ کر نماز پڑھ لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12954

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میں ایک مرتبہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12955

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتارا تو کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12956

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْإِقْعَاءِ وَالتَّوَرُّكِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ كَانَ أَبِي قَدْ تَرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اکڑوں بیٹھنے سے اور کولہوں پر بیٹھ کر دونوں پاؤں ایک طرف نکال لینے سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث ترک کردی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12957

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يُبْعَثْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا حَذَّرَ قَوْمَهُ مِنْ الدَّجَّالِ الْكَذَّابِ فَاحْذَرُوهُ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ أَلَا وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12958

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَ حَدِيثًا وَقَالَ قَتَادَةُ كَانَ يَقُولُ أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ فَإِنْ كَانَ نَقْصٌ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی پھر اس کے بعد والی صفوں کو مکمل کیا کرو اور کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہئے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی پھر اس کے بعد والی صفوں کو مکمل کیا کرو اور کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12959

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ كُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں چار صحابہ رضی اللہ عنہم نے پورا قرآن یاد کر لیا تھا، اور وہ چاروں انصار سے تعلق رکھتے تھے، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12960

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيٍّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ الْقُرْآنَ قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ قَالَ نَعَمْ فَجَعَلَ يَبْكِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12961

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَاسًا أَهْلَ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ اسْتَوْخَمْنَا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ قَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا وَهُمْ كَذَلِكَ قَالَ قَتَادَةُ وَذُكِرَ لَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہو جاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12962

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَهُوَ قَاعِدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر ایک کپڑے میں لپٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12963

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قُرَّةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ شَرِيكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ إِمَامٍ أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَتَمَّ وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَتَنَ أُمُّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی اور مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دیتے تھے، اس اندیشے سے کہ کہیں اس کی ماں پریشان نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12964

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ فِي النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا فِي الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان کو دفن کر کے اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں تو مردہ ان کے جوتوں کی آہٹ تک سنتا ہے، پھر دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں ، اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتے ہیں کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا جانتے ہو؟ اگر وہ مؤمن ہو تو کہہ دیتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے، چنانچہ وہ ان دونوں جگہوں کو دیکھتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12965

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ صَوْتًا فَفَزِعَ فَقَالَ مَنْ أَصْحَابُ هَذِهِ الْقُبُورِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَاسٌ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالُوا وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ أَتَاهُ مَلَكٌ فَسَأَلَهُ مَا كُنْتَ تَعْبُدُ فَإِنْ اللَّهُ هَدَاهُ قَالَ كُنْتُ أَعْبُدُ اللَّهَ قَالَ فَيُقَالُ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ قَالَ فَيَقُولُ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ قَالَ فَمَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا قَالَ فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى بَيْتٍ كَانَ لَهُ فِي النَّارِ فَيُقَالُ هَذَا بَيْتُكَ كَانَ فِي النَّارِ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَصَمَكَ وَرَحِمَكَ فَأَبْدَلَكَ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ دَعُونِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأُبَشِّرَ أَهْلِي فَيُقَالُ لَهُ اسْكُنْ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ أَتَاهُ مَلَكٌ فَيَقُولُ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فَيَضْرِبُهُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهُ الْخَلْقُ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان کو دفن کر کے اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں تو مردہ ان کے جوتوں کی آہٹ تک سنتا ہے، پھر دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں ، اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتے ہیں کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا جانتے ہو؟ اگر وہ مؤمن ہو تو کہہ دیتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے، یہ کہہ کر اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، اور اس کی قبر ستر گز کشادہ کر دی جاتی ہے اور اس پر شادابی انڈیل دی جاتی ہے۔ اور اگر وہ کافر یا منافق ہو تو فرشتہ جب اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا جانتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں ، البتہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا ضرور تھا، فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ جانا، نہ تلاوت کی اور نہ ہدایت پائی، پھر وہ فرشتہ اپنے گرز سے اس پر اتنی زور کی ضرب لگاتا ہے جس کی آواز جن و انس کے علاوہ اللہ کی ساری مخلوق سنتی ہے، بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی قبر اتنی تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12966

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12967

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12968

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَتْفُلْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَكِنْ لِيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12969

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سُئِلَ سَعِيدٌ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ وَسَابِعَةٍ وَخَامِسَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی نو، سات اور پانچ کو تلاش کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12970

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَاللَّهِ لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں بخدا تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12971

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَنَازَةُ سَعْدٍ مَوْضُوعَةٌ اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اس پر رحمن کا عرش بھی ہل گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12972

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ حَرِيرٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَرِيرِ فَلَبِسَهَا فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوڑ ا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12973

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ارْكَبْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ فَقَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ أَوْ وَيْلَكَ ارْكَبْهَا شَكَّ هِشَامٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12974

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ يُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَيَنْزَوِيَ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا خَلْقًا فَيُسْكِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہ کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار عالم اس میں اپنا پاؤں لٹکا دیں گے، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم! بس بس اسی طرح جنت میں بھی جگہ زائد بچ جائے گی حتیٰ کہ اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12975

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12976

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَا قَالَ هَذَا قَالُوا سَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ قَالَ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَالَ رُدُّوهُ عَلَيَّ فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ فَقَالَ قُلْتَ السَّامُ عَلَيْكُمْ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكَ أَيْ وَعَلَيْكَ مَا قُلْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو گذرتے ہوئے سلام کرتے ہوئے " السام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے سلام کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اس نے یہ کہا ہے، اسے میرے پاس بلا کر لاؤ، اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیکم " کہا تھا؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں کوئی " کتابی" سلام کرے تو صرف " وعلیک " کہا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12977

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُورِهِمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَقُلْنَا لِأَنَسٍ كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ قَالَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اکٹھے سحری کی، سحری سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھائی، ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھنے لگے کہ سحری سے فراغت اور نماز کھڑی ہونے کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیات پڑھ سکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12978

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سُئِلَ سَعِيدٌ عَنْ الْوِصَالِ فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا لَا تُوَاصِلُوا قِيلَ لَهُ إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنَّ رَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12979

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ شَبَابٌ مِنْ الْأَنْصَارِ سَبْعِينَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ قَالَ كَانُوا يَكُونُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا أَمْسَوْا انْتَحَوْا نَاحِيَةً مِنْ الْمَدِينَةِ فَيَتَدَارَسُونَ وَيُصَلُّونَ يَحْسِبُ أَهْلُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْسِبُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ أَنَّهُمْ فِي أَهْلِيهِمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي وَجْهِ الصُّبْحِ اسْتَعْذَبُوا مِنْ الْمَاءِ وَاحْتَطَبُوا مِنْ الْحَطَبِ فَجَاءُوا بِهِ فَأَسْنَدُوهُ إِلَى حُجْرَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا فَأُصِيبُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتَلَتِهِمْ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ فِتْيَةٌ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے ستر جوان تھے جنہیں قراء کہا جاتا تھا، وہ مسجد میں ہوتے تھے، جب شام ہوتی تو مدینہ کے کسی کونے میں چلے جاتے، سبق پڑھتے اور نماز پڑھتے تھے، ان کے گھر والے سمجھتے کہ وہ مسجد میں ہیں اور مسجد والے یہ سمجھتے کہ وہ گھر میں ہیں ، صبح ہونے کے بعد وہ میٹھا پانی لاتے اور لکڑیاں کاٹتے اور انہیں لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس لٹکادیتے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو روانہ فرمایا اور وہ بئر معونہ کے موقع پر شہید ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ دن تک فجر کی نماز میں ان کے قاتلوں پر بددعاء فرماتے رہے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12980

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ أَنَسٌ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَغَ مِنْهُ قَالَ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ شَبَابٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ

محمد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو آخر میں یہ فرماتے " یا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12981

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ وَسَطٌ وَبَسَطَ عُمَرُ فِي قِرَاءَةِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری نمازیں قریب قریب برابر ہوتی تھیں ، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12982

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ صَبِيٌّ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ خَشِيَتْ أَنْ يُوطَأَ ابْنُهَا فَسَعَتْ وَحَمَلَتْهُ وَقَالَتْ ابْنِي ابْنِي قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَلَا يُلْقِي اللَّهُ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، راستے میں ایک بچہ پڑا ہوا تھا، اس کی ماں نے جب لوگوں کو دیکھا تو اسے خطرہ ہوا کہ کہیں بچہ لوگوں کے پاؤں میں روندا نہ جائے، چنانچہ وہ دوڑتی ہوئی " میرا بیٹا، میرا بیٹا " پکارتی ہوئی آئی اور اسے اٹھا لیا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ عورت اپنے بیٹے کو کبھی آگ میں نہیں ڈال سکتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاموش کروایا اور فرمایا اللہ بھی اپنے دوست کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12983

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ قَالَ أَنَسٌ مُرَّ بِشَيْخٍ كَبِيرٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ قَالَ فَقَالَ مَا بَالُ هَذَا قَالُوا نَذَرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ فَرَكِبَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12984

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ انْتَهَى إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيَّ فَأَرْسَلَنِي فِي رِسَالَةٍ وَقَعَدَ فِي ظِلِّ جِدَارٍ أَوْ فِي جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ مَا حَبَسَكَ قَالَ قُلْتُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِسَالَةٍ قَالَتْ وَمَا هِيَ قُلْتُ إِنَّهَا سِرٌّ قَالَتْ احْفَظْ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ بَعْدُ أَحَدًا قَطُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا اور وہ پیغام پہنچا دیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دے کر مجھے بھیجا تھا، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، چنانچہ اس کے بعد میں نے کبھی وہ کسی کے سامنے بیان نہ کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12985

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12986

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَسْتَحْمِلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنِي قَالَ وَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12987

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَنْ الدَّجَّالِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12988

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَوْمِهِ تَطَوُّعًا قَالَ كَانَ يَصُومُ مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنْ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز اور نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12989

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ عَنْ أُوَيْسِ بْنِ أَبِي أُوَيْسِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُسَلْسَلُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ ماہِ رمضان آگیا ہے، اس ماہِ مبارک میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12990

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَوْثَرِ فَقَالَ هُوَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ تُرَابُهُ الْمِسْكُ مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ تَرِدُهُ طَيْرٌ أَعْنَاقُهَا مِثْلُ أَعْنَاقِ الْجُزُرِ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا لَنَاعِمَةٌ فَقَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کی مٹی مشک ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12991

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا ثَالِثًا وَلَمْ يَمْلَأْ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12992

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ قَالَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ قَدْ ضَرَبَاهُ حَتَّى بَرَكَ قَالَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ آنْتَ أَبُو جَهْلٍ آنْتَ الشَّيْخُ الضَّالُّ قَالَ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَالَ قَتَلَهُ قَوْمُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مار مار کر ٹھنڈا کر دیا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ کیا تو ہی گمراہ بڈھا ہے؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12993

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ قَالَ أَنَسٌ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ قَالَ قَالَ وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَمَا قَامَ الْقَوْمُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَى وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ قَالَ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پردہ کا جب حکم نازل ہوا، اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی تھی، اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میں چلتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ پر جا کر رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ شاید اب وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے، میں بھی ہمراہ تھا، لیکن وہ لوگ ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے، دوبارہ اسی طرح ہوا تو اس مرتبہ واقعی وہ لوگ جا چکے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر داخل ہو کر پردہ لٹکا لیا اور اللہ نے آیت حجاب نازل فرمادی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12994

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ أَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی وفات سے قبل مسلسل وحی نازل فرمائی، تاآنکہ آپ کا وصال ہوگیا، اور سب سے زیادہ وحی اس دن نازل ہوئی جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12995

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَخَاهُ أَخْبَرَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الْكَوْثَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ أَبْيَضُ مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ فِيهِ طُيُورٌ أَعْنَاقُهَا كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّهَا لَنَاعِمَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلُوهَا أَنْعَمُ مِنْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12996

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَشِيَ قَرْيَةً بَيَاتًا لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ فَإِنْ سَمِعَ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَمْسَكَ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَغَارَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر حملے کا ارادہ کرتے تو رات کو حملہ نہ کرتے بلکہ صبح ہونے کا انتظار کرتے اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12997

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَا كَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ تَعَجُّلًا لِصَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَخُو بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَأَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ دَارُ أَبِي لُبَابَةَ بِقُبَاءَ أَوْ دَارُ أَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ فِي بَنِي حَارِثَةَ ثُمَّ إِنْ كَانَا لَيُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّوْهَا لِتَبْكِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نمازِ عصر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جلدی پڑھنے والا کوئی نہ تھا، انصار میں سے دو آدمی ایسے تھے جن کا گھر مسجد نبوی سے سب سے زیادہ دور تھا، ایک تو حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا اور دوسرے حضرت ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا، حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گھر قباء میں تھا، اور حضرت ابوعبس رضی اللہ عنہ کا گھر بنو حارثہ میں تھا، یہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر پڑھتے اور جب اپنی قوم میں واپس پہنچتے تو انہوں نے اب تک نمازِ عصر نہ پڑھی ہوتی تھی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے جلدی پڑھ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12998

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ انْصَرَفْتُ مِنْ الظُّهْرِ أَنَا وَعُمَرُ حِينَ صَلَّاهَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بِالنَّاسِ إِذْ كَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ نَعُودُهُ فِي شَكْوَى لَهُ فَمَا قَعَدْنَا مَا سَأَلْنَا عَنْهُ إِلَّا قِيَامًا قَالَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ وَهِيَ إِلَى جَنْبِ دَارِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ فَلَمَّا قَعَدْنَا أَتَتْهُ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ الصَّلَاةَ يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ قُلْنَا أَيُّ الصَّلَاةِ رَحِمَكَ اللَّهُ قَالَ الْعَصْرُ قَالَ فَقُلْنَا إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ قَالَ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَرَكْتُمْ الصَّلَاةَ حَتَّى نَسَيْتُمُوهَا أَوْ قَالَ نُسِّيتُمُوهَا حَتَّى تَرَكْتُمُوهَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَمَدَّ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَوْثَرِ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَوْثَرِ مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ سَوَاءً

زیاد بن ابی زیاد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور عمر ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، یہ نماز ہشام بن اسماعیل نے لوگوں کو پڑھائی تھی، کہ اس وقت مدینے کے گورنر وہی تھے، نماز پڑھ کر ہم عمرو بن عبداللہ کی مزاج پرسی کے لئے گئے، وہاں ہم بیٹھے نہیں ، صرف کھڑے کھڑے ہی ان کا حال دریافت کیا، پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کا گھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے ساتھ تھا، ابھی ہم وہاں جا کر بیٹھے ہی تھے کہ ایک باندی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اے ابوحمزہ! نماز کا وقت ہوگیا ہے، ہم نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں ، کون سی نماز؟ انہوں نے فرمایا نمازِ عصر ہم نے عرض کیا کہ ہم تو ظہر کی نماز ابھی پڑھ کر آئے ہیں ، انہوں نے فرمایا تم نے نماز کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ تم نے اسے بھلا دیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح ایک ساتھ بھیجا گیا ہے، یہ کہہ کر اپنی شہادت والی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اسے دراز کیا۔ حدیث نمبر (١٣٥٠٩) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 12999

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الْجَابِرُ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَشِيَ قَرْيَةً بَيَاتًا لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ فَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَغَارَ

ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13000

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الْجَابِرُ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَعَنْ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ أَلَا إِنِّي قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ ثُمَّ بَدَا لِي فِيهِنَّ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّ النَّاسَ يُتْحِفُونَ ضَيْفَهُمْ وَيُخَبِّئُونَ لِغَائِبِهِمْ فَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا بِمَا شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا فَمَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جانے، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے اور دباء، نقیر، حنتم اور مزفت میں نبیذ پینے سے منع فرمایا تھا، پھر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد فرمایا کہ میں نے پہلے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، اب ان کے بارے میں میری رائے واضح ہوگئی ہے، میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ اس سے دل نرم ہوتے ہیں ، آنکھیں آنسو بہاتی ہیں ، اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے، اس لئے قبرستان جایا کرو، لیکن بے ہودہ گوئی مت کرنا، اسی طرح میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ لوگ اپنے مہمانوں کو یہ گوشت تحفے کے طور پر دیتے ہیں اور غائبین کے لئے محفوظ کر کے رکھتے ہیں ، اس لئے تم جب تک چاہو، اسے رکھ سکتے ہو، نیز میں نے تمہیں ان برتنوں میں نیذ پینے سے منع کیا تھا، اب تم جس برتن میں چاہو، پی سکتے ہو، البتہ کوئی نشہ آور چیز مت پینا، اب جو چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ گناہ کی چیز پر بند کر لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13001

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي مَسْجِدِهِ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ آمِنًا لَا يَخَافُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مسجد نبوی میں چار رکعت کے ساتھ پڑھی اور نمازِ عصر ذوالحلیفہ میں پہنچ کر دو رکعتوں میں پڑھائی، اس وقت ہر طرف امن و امان تھا، حجۃ الوداع میں تو کسی قسم کا کوئی خوف نہ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13002

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى الْقَائِلَةِ فَنَقِيلُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ جمعہ پڑھتے اور اس کے بعد آرام گاہ میں پہنچ کر قیلولہ کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13003

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ بَيْنَ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ بَعْضَهُنَّ عَنْ بَعْضٍ قَالَ فَجَاءَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت قریب آگیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواجِ مطہرات کے درمیان کچھ تلخی ہو رہی تھی، اور ازواجِ مطہرات ایک دوسرے کا دفاع کر رہی تھیں، اسی اثناء میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے منہ میں مٹی ڈالئے اور نماز کے لئے باہر چلئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13004

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَقُرِّبَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھالو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13005

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ قَبَاءَ أُكَيْدِرَ حِينَ قُدِمَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ يَلْمِسُونَهُ بِأَيْدِيهِمْ وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13006

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي عَبْدَ الْمُؤْمِنِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيَّ حَدَّثَنِي أَخْشَنُ السَّدُوسِيُّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَمْلَأَ خَطَايَاكُمْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَفَرَ لَكُمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُخْطِئُوا لَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُخْطِئُونَ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ

اخشن سدوسی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم اتنے گناہ کر لو کہ تمہارے گناہوں سے زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا بھر جائے، پھر تم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو تو وہ تمہیں پھر بھی معاف کر دے گا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کرے گی، پھر اللہ سے معافی مانگے گی اور اللہ اسے معاف کر دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13007

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ جِئْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تب بھی میں حسب سابق ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹا! پیچھے رہو (اجازت لے کر اندر آؤ)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13008

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ الدَّجَّالُ حِينَ يَنْزِلُ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَتَرْجُفُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال آئے گا تو مدینہ کے ایک جانب پہنچ کر اپنا خیمہ لگائے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور ہر کافر اور منافق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر دجال سے جاملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13009

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حوضِ کوثر پر سونے چاندی کے آبخورے آسمان کے ستارے سے بھی زیادہ ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13010

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَقَدْ دُعِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ قَالَ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمِ الْمِرَارِ وَهُوَ يَقُولُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ تَمْرٍ وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ أَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا فَمَا وَجَدَ لَهَا مَا يَفْتَكُّهَا بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ وہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آئے تھے، اور میں نے ایک دن انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شام کو آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس غلے یا گندم کا ایک صاع بھی نہیں ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں ۔ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس مدینہ منورہ میں گروی رکھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چند مہینوں کے لئے جو لئے تھے اور اسے چھڑانے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ نہ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13011

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13012

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مِنْ لَدُنْ كَذَا إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا قَالَ وَقَالَ الْحَسَنُ إِلَّا لِعَلَفِ بَعِيرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو اس جگہ سے اس جگہ تک حرم قرار دیا تھا اور فرمایا تھا جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13013

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّهَا بِيَدِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی تو اسے اپنے ہاتھ سے صاف کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13014

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَبْتَلِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ إِلَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلَكِ اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ فَإِنْ شَفَاهُ اللَّهُ غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ وَإِنْ قَبَضَهُ غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ مسلم کو جسمانی طور پر کسی بیماری میں مبتلاء کرتا ہے تو فرشتوں سے کہہ دیتا ہے کہ یہ جتنے بھی نیک کام کرتا ہے ان کا ثواب برابر لکھتے رہو، پھر اگر اسے شفاء مل جائے تو اللہ اسے دھو کر پاک صاف کر چکا ہوتا ہے اور اگر اسے اپنے پاس واپس بلالے تو اس کی مغفرت کر دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13015

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ فَدَعَا رِجَالًا عَلَى الطَّعَامِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون سے نکاح کیا اور لوگوں کو کھانے کی دعوت پر بلا لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13016

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ أَوْ بِلَالًا كَانَ يُقِيمُ فَيَدْخُلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْتَقْبِلُهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ فَيَقُومُ مَعَهُ حَتَّى تَخْفِقَ عَامَّتُهُمْ رُءُوسُهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات مؤذن اقامت کہتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے تو سامنے سے ایک آدمی اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آجاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے ہوجاتے، حتیٰ کہ اکثر لوگوں کے سر اونگھ سے ہلنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13017

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ حَدَّثَنَا زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَلَا نَشْزًا مِنْ الْأَرْضِ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الشَّرَفُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ وَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى كُلِّ حَالٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ٹیلے پر یا بلند جگہ پر چڑھتے تو یوں کہتے کہ اے اللہ! ہر بلندی پر تیری بلندی ہے اور ہر تعریف پر تیری تعریف ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13018

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى تِسْعِ نِسْوَةٍ فِي ضَحْوَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13019

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13020

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَأَخَذَ مِشْقَصًا أَوْ مَشَاقِصَ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ ثُمَّ مَشَى إِلَيْهِ فَجَعَلَ يَخْتِلُهُ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ لَيَطْعَنُ بِهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی لے کر اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ پیچھے ہٹنے لگا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ کنگھی اسے دے ماریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13021

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَحْلِقَ الْحَجَّامُ رَأْسَهُ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ شَعَرَ أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ بِيَدِهِ فَأَخَذَ شَعَرَهُ وَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَ فَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَدُوفُهُ فِي طِيبِهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لیے، پھر وہ بال ام سلیم رضی اللہ عنہا اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنے خوشبو میں ڈال کر ہلایا کرتی تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13022

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، یہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کا واقعہ ہے اور ام سلیم اور ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی تھیں اور غالباً ٰیہ بھی فرمایا کہ مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اہل خانہ کے لئے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مانگیں، پھر میری والدہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اپنے خادم انس کے لئے دعاء کر دیجئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر میرے لئے مانگی اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13023

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَالْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُتَوَكِّئًا عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَعَلَيْهِ ثَوْبُ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر روئی کا کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13024

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ لَهُ سَلْ وَتَمَنَّهْ فَيَقُولُ مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ لِمَا رَأَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ قَالَ ثُمَّ يُؤْتَى بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ شَرَّ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا فَيَقُولُ نَعَمْ أَيْ رَبِّ فَيَقُولُ كَذَبْتَ قَدْ سَأَلْتُكَ مَا هُوَ أَقُلُّ مِنْ ذَلِكَ فَلَمْ تَفْعَلْ فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیا پایا؟ وہ جواب دے گا پروردگار! بہترین ٹھکانہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں دسویں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہو جاؤں ، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہوگا۔ ایک جہنمی کو لایا جائے گا اور اللہ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا پروردگار! بدترین ٹھکانہ، اللہ فرمائے گا اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے، میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن تو نے اسے پورا نہ کیا چنانچہ اسے جہنم میں لوٹا دیا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13025

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَعُمَرُ وَنَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ حَتَّى دَخَلَ دَارَنَا فَحُلِبَتْ لَهُ شَاةٌ وَشُنَّ عَلَيْهِ مِنْ مَاءِ بِئْرِنَا حَسِبْتُهُ قَالَ فَشَرِبَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ مُسْتَقْبِلُهُ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ فَقَالَ الْأَيْمَنُونَ قَالَ فَقَالَ لَنَا أَنَسٌ فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ حَدَّثَنَا الْهَاشِمِيُّ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو بیس سال کا تھا، میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں ، ایک مربتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا، اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہی سنت ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13026

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشَفَةً فَقُلْتُ مَا هَذِهِ الْخَشَفَةَ فَقِيلَ هَذِهِ الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں (جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں ۔ )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13027

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالًا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ دنیا کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13028

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا صَوَّرَ آدَمَ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يَطِيفُ بِهِ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13029

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ نِصْفُ صَلَاةِ الْقَائِمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13030

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتارا تو کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13031

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْعَتَهُ قَالَ ثُمَّ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبْعَةً مِنْ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ أَزْهَرَ لَيْسَ بِالْآدَمِ وَلَا بِالْأَبْيَضِ وَلَا الْأَمْهَقِ رَجِلَ الشَّعْرِ لَيْسَ بِالسَّبْطِ وَلَا الْجَعْدِ الْقَطَطِ بُعِثَ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ أَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرًا وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَتُوُفِّيَ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً لَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے قد کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد نہ بہت زیادہ چھوٹا تھا اور نہ بہت زیادہ لمبا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی روشن تھی، رنگ گندمی تھا اور نہ ہی بالکل سفید، بال ہلکے گھنگھریالے تھے، مکمل سیدھے تھے اور نہ بہت زیادہ گھنگھریالے، چالیس برس کی عمر میں مبعوث ہوئے، دس سال مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا، دس سال مدینہ منورہ میں رہائش پذیر رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13032

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ثَبَجَ الْبَحْرِ أَوْ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ هُمْ الْمُلُوكُ عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کی ایک جماعت اس سطح سمندر پر سوار ہو کر (جہاد کے لئے جائے گی، وہ لوگ ایسے محسوس ہوں گے جیسے تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13033

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ إِلَى عَرَفَةَ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ وَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ

محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عرفہ کے دن آپ لوگ کیا کر رہے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے، ان پر بھی نکیر نہ ہوتی تھی اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان پر بھی کوئی نکیر نہ کی گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13034

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ وَشَهِدْتُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا الْمَدِينَةَ فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَضْوَأَ مِنْهُ وَلَا أَحْسَنَ مِنْهُ وَشَهِدْتُهُ يَوْمَ مَاتَ فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَقْبَحَ مِنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13035

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَتَمَّ وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ وَرَاءَهُ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی اور مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دیتے تھے، اس اندیشے سے کہ کہیں اس کی ماں پریشان نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13036

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، غم، پریشانی، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضہ کا غلبہ اور دشمن کا غلبہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13037

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا قَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس آرہے تھے، جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13038

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا كَانَ يَدْخُلُ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر میں نہیں آتے تھے بلکہ صبح یا دوپہر کو تشریف لاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13039

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالُوا وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَحَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنْ الصَّلَاةِ وَقَالَ إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی، اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ لوگو! میں تمہارا امام ہوں ، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو۔ کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13040

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ فَهَمَّ بِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا أَوْ قَالَ مَعْرُوفًا اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ فَتَرَكَهُ

علی بن زید کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کو انصار کے ایک سردار سے کوئی ایسی چیز پہنچی جس کی بناء پر مصعب نے اس سے سمجھنے کا ارادہ کر لیا، اسی اثناء میں حضرت انس رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انصار سے اچھا سلوک کرنے کی وصیت پر عمل کرو، ان کی نیکوں کی نیکی قبول کرو، اور ان کے گناہگاروں سے درگذر کیا کرو، یہ سن کر مصعب نے اپنے آپ کو تخت پر گرا لیا اور اپنے رخسار کو تکیے سے لگا لیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر، اور اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13041

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا وَيَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ الشَّيْطَانُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَا رَفَعَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَدَّثَنَاه الْأَشْيَبُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ وَلَا يَسْتَجْرِئَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا اے ہمارے سردار ابن سردار، اے ہمارے خیر ابن خیر! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کر لو، شیطان تم پر حملہ نہ کر دے، میں صرف محمد بن عبداللہ ہوں ، اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں ، بخدا! مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے کہ تم مجھے میرے مرتبے سے " جو اللہ کے یہاں ہے " بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13042

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ السَّامُ عَلَيْكُمْ يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ وَلَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَهْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا قَالَ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ يَا عَائِشَةُ لَمْ يَدْخُلْ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ یہودی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کرتے ہوئے " السام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا " السام علیکم " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پیچھے سے یہودیوں کا یہ جملہ سن کر فرمایا اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! سام (موت) اور اللہ کی لعنت و غضب تم ہی پر نازل ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سکون کی تلقین کی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! میں نے انہیں جو جواب دیا ہے، کیا تم نے نہیں سنا؟ نرمی جس چیز میں بھی شامل ہو جائے، وہ اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے چھین لی جائے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13043

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْفِطْرَةِ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ هَذَا مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطرت سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے " اشہد ان الا الہ الا اللہ " کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13044

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ فَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَأْخُذَهَا فَيَأْكُلَهَا إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ تَكُونَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھا لیتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13045

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَتَزَوَّجُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أُصَلِّي وَلَا أَنَامُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک گروہ میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گا، دوسرے نے یہ کہہ دیا کہ میں ساری رات نماز پڑھا کروں گا اور سونے سے بچوں گا، اور تیسرے نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزے رکھا کروں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں ، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13046

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ جَالِسٌ فَقَالَ الرَّجُلُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا فِي اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتَهُ بِذَلِكَ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَأَخْبِرْهُ تَثْبُتْ الْمَوَدَّةُ بَيْنَكُمَا فَقَامَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ أَوْ قَالَ أُحِبُّكَ لِلَّهِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي فِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟ اس نے کہا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا کر اسے بتا دو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں ، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13047

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي فَبَسَطَ يَدَيْهِ ظَاهِرَهُمَا مِمَّا يَلِي السَّمَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کے لئے دعاء کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ آسمان کی جانب کر کے ہاتھ پھیلا کر دعاء کر رہے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13048

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْقَى رَجُلًا فَيَقُولُ يَا فُلَانُ كَيْفَ أَنْتَ فَيَقُولُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ فَقَالَ بِخَيْرٍ إِنْ شَكَرْتُ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي فَتَقُولُ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ سَكَتَّ عَنِّي فَقَالَ لَهُ إِنِّي كُنْتُ أَسْأَلُكَ فَتَقُولُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ فَأَقُولُ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ قُلْتَ إِنْ شَكَرْتُ فَشَكَكْتَ فَسَكَتُّ عَنْكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے دریافت فرماتے کہ تمہارا کیا حال ہے؟ اور وہ ہمیشہ یہی جواب دیتا کہ الحمدللہ! خیریت سے ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواباً فرما دیتے کہ اللہ تمہیں خیریت ہی سے رکھے، ایک دن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب معمول اس سے سوال پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا کہ خیریت سے ہوں بشرطیکہ شکر کروں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! پہلے تو جب آپ مجھ سے میرا حال دریافت کرتے تھے تو مجھے دعاء دیتے تھے کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، آج آپ خاموش ہوگئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے میں تم سے سوال کرتا تھا تو تم یہ کہتے تھے کہ الحمدللہ! خیریت سے ہوں ، اس لئے میں جواباًکہہ دیتا تھا کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، لیکن آج تم نے کہا کہ " اگر میں شکر کروں " تو مجھے شک ہوگیا اس لئے میں خاموش ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13049

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ مِنْ أَعْلَمْ النَّاسِ بِآيَةِ الْحِجَابِ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ فَذَبَحَ شَاةً فَدَعَا أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَقَعَدُوا يَتَحَدَّثُونَ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ وَيَدْخُلُ وَهُمْ قُعُودٌ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَيَرْجِعُ وَهُمْ قُعُودٌ وَزَيْنَبُ قَاعِدَةٌ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا الْآيَاتُ إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِجَابٍ مَكَانَهُ فَضُرِبَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پردہ کا جب حکم نازل ہوا، اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی تھی، اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں ، لیکن وہ بیٹھے رہے بار بار ایسا ہی ہوا، ادھر حضرت زینب رضی اللہ عنہا ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کچھ کہتے ہوئے حجاب محسوس ہوا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے اہل ایمان! پیغمبر کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہوا کرو جب تک تمہیں کھانے کے لئے بلایا نہ جائے"، نیز اس کے پکنے کا انتظار نہ کیا کرو، البتہ جب تمہیں بلایا جائے تو چلے جاؤ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر پردہ گرا دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13050

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلَكَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ امْلِكِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ قَالَ وَجَاءَ الْحُسَيْنُ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَنْكِبِهِ وَعَلَى عَاتِقِهِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا قَالَ قَالَ ثَابِتٌ بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13051

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا قَالَ حَمَّادٌ وَزَادَ فِيهَا حُمَيْدٌ لَا يُحْمَلُ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو اس جگہ سے اس جگہ تک حرم قرار دیا تھا اور فرمایا تھا جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13052

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةٌ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ إِلَّا قَالَ قَدْ قَبِلْتُ فِيهِ عِلْمَكُمْ فِيهِ وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام کی حالت میں فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھروں کے لوگ اس کے حق میں بہتری کی گواہی دے دیں ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس کے متعلق تمہارے علم کو قبول کر لیا اور جو تم نہیں جانتے، اسے معاف کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13053

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَهْلِينَ مِنْ النَّاسِ وَإِنَّ أَهْلَ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں ، قرآن والے، اللہ کے خاص لوگ اور اہل اللہ ہوتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13054

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنْ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخْتِلُهُ لِيَطْعَنَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی لے کر اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ پیچھے ہٹنے لگا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ کنگھی اسے دے ماریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13055

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13056

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13057

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا عَلَى بِسَاطٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، اس وقت ام سلیم اور ام حرام ہمارے پیچھے چٹائی پر تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13058

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اذْهَبْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ لَهُ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَغَدَّى عِنْدَنَا فَافْعَلْ قَالَ فَجِئْتُهُ فَبَلَّغْتُهُ فَقَالَ وَمَنْ عِنْدِي قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ انْهَضُوا قَالَ فَجِئْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَأَنَا لَدَهِشٌ لِمَنْ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا صَنَعْتَ يَا أَنَسُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ قَالَ هَلْ عِنْدَكِ سَمْنٌ قَالَتْ نَعَمْ قَدْ كَانَ مِنْهُ عِنْدِي عُكَّةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ قَالَ فَأْتِ بِهَا قَالَتْ فَجِئْتُهُ بِهَا فَفَتَحَ رِبَاطَهَا ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ أَعْظِمْ فِيهَا الْبَرَكَةَ قَالَ فَقَالَ اقْلِبِيهَا فَقَلَبْتُهَا فَعَصَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسَمِّي قَالَ فَأَخَذْتُ نَقْعَ قِدْرٍ فَأَكَلَ مِنْهَا بِضْعٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا فَفَضَلَ فِيهَا فَضْلٌ فَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَ كُلِي وَأَطْعِمِي جِيرَانَكِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر کہو کہ اگر آپ ہمارے ساتھ کھانا کھانا چاہتے ہیں تو آجائیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پیغام دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا آپ کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی؟ میں نے کہہ دیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اٹھو، ادھر میں جلدی سے گھر پہنچا اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے لوگ ہونے کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا انس! تمہیں کیا ہوا؟ اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر میں تشریف لے آئے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ تمہارے پاس گھی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ میرے پاس گھی کا ڈبہ ہے جس میں تھوڑا سا گھی موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے پاس لے آؤ۔ میں وہ ڈبہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ڈھکن کھولا اور بسم اللہ پڑھ کر یہ دعاء کی کہ اے اللہ! اس میں خوب برکت پیدا فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اسے اٹھاؤ، انہوں نے اسے اٹھایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے گھی نچوڑنے لگے اور اس دوران بسم اللہ پڑھتے رہے، اور ایک ہنڈیا کے برابر گھی نکل آیا، اس سے اَسی سے بھی زائد لوگوں نے کھانا کھا لیا لیکن وہ پھر بھی بچ گیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا اور فرمایا کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے پڑوسیوں کو بھی کھلاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13059

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ مِنْ بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَلَمَّا بَدَا لَنَا أُحُدٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس آ رہے تھے، جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ اے اللہ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13060

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ أَخُو ابْنِ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى أَنْ يُجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ وَمَنْ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ فَهُوَ أَهْلٌ لِأَنْ أَغْفِرَ لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ''ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ " تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ تمہارے رب نے فرمایا ہے، میں اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ کسی کو معبود نہ بنایا جائے جو میرے ساتھ کسی کو معبود بنانے سے ڈرتا ہے وہ اس بات کا اہل ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13061

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو ، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13062

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13063

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13064

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بُهْمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے، یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے ، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13065

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ دَابَّةٌ أَوْ إِنْسَانٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے، یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے ، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13066

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَذَكَرَ رَجُلًا عَنِ الْحَسَنِ قَالَ اسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ قَالَ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ قَالَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ وَإِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ بِالْأَمْسِ قَالَ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّاسِ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ تَرَى أَنْ تَعْفُوَ عَنْهُمْ وَتَقْبَلَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ قَالَ فَذَهَبَ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ فِيهِ مِنْ الْغَمِّ قَالَ فَعَفَا عَنْهُمْ وَقَبِلَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَوْلَا كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے متعلق لوگوں سے مشورہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر قدرت عطاء فرمائی ہے (اب تمہاری کیا رائے ہے؟) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ ان سب کی گردنیں اڑا دوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سے اعراض کر کے دوبارہ فرمایا لوگو! اللہ نے تمہیں ان پر قدرت عطاء فرمائی ہے، کل یہ تمہارے ہی بھائی تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ ان سب کی گردنیں اڑا دوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سے اعراض کر کے تیسری مرتبہ پھر اپنی بات دہرائی، اس مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں معاف کر کے ان سے فدیہ قبول کر لیں ، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے غم کی کیفیت دور ہوگئی، اور انہیں معاف کر کے ان سے فدیہ قبول کر لیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی "لَوْلَا كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ ''

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13067

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں لپٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13068

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَاعِدًا مُتَوَشِّحًا بِثَوْبٍ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ بُرْدًا ثُمَّ دَعَا أُسَامَةَ فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى نَحْرِهِ ثُمَّ قَالَ يَا أُسَامَةُ ارْفَعْنِي إِلَيْكَ قَالَ يَزِيدُ وَكَانَ فِي الْكِتَابَ الَّذِي مَعِي عَنْ أَنَسٍ فَلَمْ يَقُلْ عَنْ أَنَسٍ فَأَنْكَرَهُ وَأَثْبَتَ ثَابِتًا

ثابت بنانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں اپنے جسم مبارک پر ایک کپڑا لپیٹ کر بیٹھ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور اپنی پشت کو ان کے سینے سے لگایا اور فرمایا اسامہ! مجھے اٹھاؤ۔ راوی یزید کہتے ہیں کہ میری کتاب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا نام بھی تھا ( کہ یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے) لیکن استاذ صاحب نے اسے منکر قرار دیا اور ثابت ہی کے نام سے اسے محفوظ قرار دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13069

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَخَالِدٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَلْيَقْضِ مَا سُبِقَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13070

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ صَاحِبُ الطَّعَامِ قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ وَلَيْسَ بِجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَلِيقٍ النَّصْرَانِيِّ لِيَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ بَعَثَنِي إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ فَقَالَ وَمَا الْمَيْسَرَةُ وَمَتَى الْمَيْسَرَةُ وَاللَّهِ مَا لِمُحَمَّدٍ سَائِقَةٌ وَلَا رَاعِيَةٌ فَرَجَعْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ أَنَا خَيْرُ مَنْ يُبَايَعُ لَأَنْ يَلْبَسَ أَحَدُكُمْ ثَوْبًا مِنْ رِقَاعٍ شَتَّى خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ بِأَمَانَتِهِ أَوْ فِي أَمَانَتِهِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حلیق نصرانی کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ کپڑے بھیج دے جو میسرہ کی طرف ہیں ، چنانچہ میں نے اس کے پاس جا کر اس سے یونہی کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ کپڑے بجھوا دو جو میسرہ کی طرف ہیں ، اس نے کہا کون میسرہ؟ کب کا میسرہ؟ بخدا! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بھی بکری یا چرواہا نہیں ہے، میں یہ سن کر واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا دشمن خدا نے جھوٹ بولا ہے، میں سب سے بہترین خرید و فروخت کرنے والا ہوں ، تم میں سے کوئی شخص کپڑے کی کتریں جمع کر کے ان کا کپڑا بنا کر پہن لے، یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ کسی امانت میں سے ایسی چیز پر قبضہ کر لے جس کا اسے حق نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13071

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13072

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ حَرْثٌ وَنَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِهِ فَقَالُوا لَا نَبْتَغِي بِهِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللَّهِ قَالَ فَقَطَعَ النَّخْلَ وَسَوَّى الْحَرْثَ وَنَبَشَ قُبُورَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ وَفِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُمْ يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں بنو عمرو بن عواف کے محلے میں پڑاؤ کیا اور وہاں چودہ راتیں مقیم رہے، پھر بنو نجار کے سرداروں کو بھلا بھیجا، وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے تھے اور بنو نجار ان کے اردگرد تھے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے صحن میں پہنچ گئے، ابتداء میں جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے، اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دے دیا، اور بنو نجار کے لوگوں کو بلا کر ان سے فرمایا اے بنو نجار! اپنے اس باغ کی قیمت کا معاملہ میرے ساتھ طے کر لو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے، اس وقت وہاں مشرکین کی کچھ قبریں ، ویرانہ اور ایک درخت تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مشرکین کی قبروں کو اکھیڑ دیا گیا، ویرانہ برابر کر دیا گیا اور درخت کو کاٹ دیا گیا، قبلہ مسجد کی جانب درخت لگا دیا اور اس کے دروازوں کے کواڑ پتھر کے بنا دیئے ، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اینٹیں پکڑاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جارہے تھے کہ اے اللہ! اصل تو آخرت کی ہے، اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13073

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَيُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ أَبُونَا خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ قَالَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ أَكْلَهُ مِنْ الشَّجَرَةِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ قَالَ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ سُؤَالَهُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ كَذَبَهُنَّ قَوْلَهُ إِنِّي سَقِيمٌ وَقَوْلَهُ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا وَأَتَى عَلَى جَبَّارٍ مُتْرَفٍ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ فَقَالَ أَخْبِرِيهِ أَنِّي أَخُوكِ فَإِنِّي مُخْبِرُهُ أَنَّكِ أُخْتِي وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ قَالَ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ قَتْلَهُ الرَّجُلَ وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَةَ اللَّهِ وَرُوحَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَ قَالَ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنْ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ الثَّانِيَةَ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَ قَالَ فَأَرْفَعُ رَأْسِي وَأَحْمَدُ رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ قَالَ هَمَّامٌ وَأَيْضًا سَمِعْتُهُ يَقُولُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنْ النَّارِ فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ قَالَ ثُمَّ أَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ الثَّالِثَةَ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُ فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ قَالَ هَمَّامٌ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنْ النَّارِ فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ فَلَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ثُمَّ تَلَا قَتَادَةُ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا قَالَ هُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وَعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سارے مسلمان اکٹھے ہوں گے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے پروردگار کے سامنے کسی کی سفارش لے کر جائیں تو شاید وہ ہمیں اس جگہ سے راحت عطاء فرما دے، چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے آدم! آپ ابوالبشر ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا، اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، لہٰذا آپ ہمارے رب سے سفارش کر دیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے دے۔ حضرت آدم علیہ السلام جواب دیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں اور انہیں اپنی لغزش یاد آجائے گی اور وہ اپنے رب سے حیاء کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کر دیجئے، وہ جواب دیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے وہ بھی یہی کہیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے البتہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے ان سے براہِ راست کلام فرمایا ہے اور انہیں تورات دی تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کرلیں گے کہ میں نے ایک ناحق شخص کو قتل کر دیا تھا البتہ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ کے بندے ، اس کے رسول اور اس کا کلمہ اور روح تھے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کر لیں گے اور فرمائیں گے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہاری سفارش کریں گے جن کی اگلی پچھلی لغزشیں اللہ نے معاف فرما دی ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے پاس حاضری کی اجازت چاہوں گا جو مجھے مل جائے گی میں اپنے رب کو دیکھ کر سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ جب تک چاہے گا مجھے سجدے ہی کی حالت میں رہنے دے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سر اٹھائیے ، آپ جو کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی، جو مانگیں گے وہ ملے گا اور جس کی سفارش کریں گے قبول کرلی جائے گی، چنانچہ میں اپنا سر اٹھا کر اللہ رب العزت کی ایسی تعریف کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا پھر میں سفارش کروں گا تو اللہ میرے لئے ایک حد مقرر فرما دے گا اور میں انہیں جنت میں داخل کروا کر دوبارہ آؤں گا، تین مرتبہ اسی طرح ہوگا، چوتھی مرتبہ میں کہوں گا کہ پروردگار! اب صرف وہی لوگ باقی بچے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔ یعنی ان کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہے، پھر قتادہ نے آیت مقامِ محمود کی تلاوت کر کے اسی کو مقام محمود قرار دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13074

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ابوعبیدہ اس امت کے امین ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13075

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13076

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعًا عُمْرَتَهُ الَّتِي صَدَّهُ عَنْهَا الْمُشْرِكُونَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ أَيْضًا فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ حِينَ قَسَمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کیے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ چار مرتبہ، ایک عمرہ تو حدیبیہ کے زمانے میں ، دوسرا ذیقعدہ کے مہینے میں مدینہ سے ، تیسرا عمرہ ذیقعدہ ہی کے مہینے میں جعرانہ سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مالِ غنیمت تقسیم کیا تھا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13077

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا قَالَ فَاسْتَسْقَى وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً قَالَ فَأُمْطِرْنَا فَمَا جَعَلَتْ تُقْلِعُ فَلَمَّا أَتَتْ الْجُمُعَةُ قَامَ إِلَيْهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْفَعَهَا عَنَّا قَالَ فَدَعَا فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى السَّحَابِ يُسْفِرُ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يُمْطِرُ مِنْ جَوْفِهَا قَطْرَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اور جب بارش شروع ہوئی تو رکتی ہوئی نظر نہ آئی، جب اگلا جمعہ ہوا تو اسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکنے کی دعاء کر دیں ، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی اور میں نے دیکھا کہ بادل دائیں بائیں چھٹ گئے اور مدینہ کے اندر ایک قطرہ بھی نہیں ٹپک رہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13078

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنی دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13079

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ نَعْلُهُ لَهَا قِبَالَانِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13080

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ أَبِي وَقَدْ رَأَيْتُ خَلَفَ بْنَ خَلِيفَةَ وَقَدْ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ يَا أَبَا أَحْمَدَ حَدَّثَكَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ أَبِي فَلَمْ أَفْهَمْ كَلَامَهُ كَانَ قَدْ كَبِرَ فَتَرَكْتُهُ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ وَيَنْهَى عَنْ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا وَيَقُولُ تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کرنے کا حکم دیتے اور اس سے اعراض کرنے کی شدید ممانعت فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ محبت کرنے والی اور بچوں کی ماں بننے والی عورت سے شادی کیا کرو کہ میں قیامت کے دن دیگر انبیاء علیہم السلام پر تمہاری کثرت سے فخر کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13081

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ ابْنُ أَخِي أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَكَعَ وَسَجَدَ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا اللَّهَ قَالَ فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، رکوع وسجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعاء پڑھی ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ) " اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں ، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13082

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رَأَيْتَ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگو! میں تمہارا امام ہوں ، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی، اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13083

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ ثُمَّ قَالَ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر فرمایا تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13084

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَمْلَى عَلَيْهِ سَمِيعًا يَقُولُ كَتَبْتُ سَمِيعًا بَصِيرًا قَالَ دَعْهُ وَإِذَا أَمْلَى عَلَيْهِ عَلِيمًا حَكِيمًا كَتَبَ عَلِيمًا حَلِيمًا قَالَ حَمَّادٌ نَحْوَ ذَا قَالَ وَكَانَ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَكَانَ مَنْ قَرَأَهُمَا قَدْ قَرَأَ قُرْآنًا كَثِيرًا فَذَهَبَ فَتَنَصَّرَ فَقَالَ لَقَدْ كُنْتُ أَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ مَا شِئْتُ فَيَقُولُ دَعْهُ فَمَاتَ فَدُفِنَ فَنَبَذَتْهُ الْأَرْضُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو طَلْحَةَ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ مَنْبُوذًا فَوْقَ الْأَرْضِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے " سمیعاً " لکھواتے اور وہ اس کی جگہ " سمیعاً بصیراً " لکھ دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اس اس طرح لکھو، لیکن وہ کہتا کہ میں جیسے چاہوں لکھوں ، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے " علیما " لکھواتے تو وہ اس کی جگہ " علیما حکیما " لکھ دیتا، کچھ عرصے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا، اور کہنے لگا کہ میں تم سب میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جو چاہتا تھا لکھ دیتا تھا، جب وہ آدمی مرا تو اسے دفن کیا گیا تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ اس جگہ پر گئے تھے جہاں وہ آدمی مرا تھا، انہوں نے اسے باہر پڑا ہوا پایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13085

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ وَعُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ وَسُهَيْلَ بْنَ عَمَرٍو فِي الْآخِرِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ وَهُمْ يَذْهَبُونَ بِالْمَغْنَمِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَتَّى فَاضَتْ فَقَالَ أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوا لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتِنَا قَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ أَقُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا قَالُوا نَعَمْ قَالَ أَنْتُمْ الشِّعَارُ وَالنَّاسُ الدِّثَارُ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى دِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى قَالَ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَهُمْ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَقَالَ حَمَّادٌ أَعْطَى مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ يُسَمِّي كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ هَؤُلَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مالِ غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر خدا کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13086

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتْ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُونِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصْلِحُهَا وَتُهَيِّئُهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ ابْنَةُ حُيَيٍّ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ قَالَ فُحِصَتْ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ قَالَ وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِيهَا ثُمَّ جِيءَ بِالْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ قَالَ وَقَالَ النَّاسُ مَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمْ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ فَقَالُوا إِنْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا حَتَّى قَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ دَفَعَ وَدَفَعْنَا قَالَ فَعَثَرَتْ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ قَالَ فَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ قَالَ فَقَامَ فَسَتَرَهَا قَالَ وَقَدْ أَشْرَفَتْ النِّسَاءُ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ وَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا فَجَعَلَ يَمُرُّ بِنِسَائِهِ وَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ فَيَقُولُونَ بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ فَيَقُولُ بِخَيْرٍ فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدْ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ الْحِجَابَ هَذِهِ الْآيَاتِ لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہے تھے، ہم وہاں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا اور اہل خیبر اپنے مویشیوں کو نکال کر کلہاڑیاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے، ہمیں دیکھ کر کہنے لگے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور لشکر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ خیبر برباد برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا، وہ مزید کہتے ہیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا جو بہت خوبصورت تھیں ، حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات افراد کے عوض انہیں خرید لیا، اور خرید کر انہیں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمے کے لئے کھجوریں ، پنیر اور گھی جمع کیا، اس کا حلوہ تیار کیا گیا اور دستر خوان بچھا کر اسے دستر خوان پر رکھا گیا، لوگوں نے سیراب ہو کر اسے کھایا، اس دوران لوگ یہ سوچنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح فرمائیں گے یا انہیں باندی بنائیں گے؟ لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا تو لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرما لیا ہے۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گر گئے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی گر گئیں ، دیگر ازواج مطہرات دیکھ رہی تھیں ، وہ کہنے لگیں کہ اللہ اس یہودیہ کو دو کرے اور اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا، میں نے پوچھا اے ابوحمزہ! کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم گر گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اللہ کی قسم! گر گئے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں بھی موجود تھا، اور اس نکاح کے ولیمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، باقی تو سب کھاپی کر چلے گئے، لیکن دو آدمی کھانے کے بعد وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی گھر سے باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے میں بھی نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وقت گذارنے کے لئے باری باری اپنی ازواج مطہرات کے حجروں میں جاتے اور انہیں سلام کرتے، وہ پوچھتیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بیوی کو کیسا پایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے بہت اچھا، پھر جب اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو وہ بیٹھے ہوئے اسی طرح باتیں کر رہے تھے، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور چلے گئے۔ اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر دی یا کسی اور نے بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوگئے، میں نے بھی داخل ہونا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ لٹکا دیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13087

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْيَهُودَ كَانَتْ إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ أَخْرَجُوهَا مِنْ الْبَيْتِ فَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْآيَةِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ قَالَتْ الْيَهُودُ مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ فَجَاءَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ وَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو ایام آتے تو وہ لوگ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے تھے اور نہ ایک گھر میں اکٹھے ہوتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ " یہ لوگ آپ سے ایام والی عورت کے متعلق سوال کرتے ہیں ، آپ فرما دیجئے کہ ایام بذات خود بیماری ہے، اس لئے ان ایام میں عورتوں سے الگ رہو اور پاک ہونے تک ان کی قربت نہ کرو " یہ آیت مکمل پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحبت کے علاوہ سب کچھ کر سکتے ہو، یہودیوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ یہ آدمی تو ہر بات میں ہماری مخالفت کر رہا ہے۔ پھر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہودی ایسے ایسے کہہ رہے ہیں ، کیا ہم اپنی بیویوں سے قربت بھی نہ کر لیا کریں ؟ (تاکہ یہودیوں کی مکمل مخالفت ہوجائے) یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ بدل گیا اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض ہوگئے ہیں ، وہ دونوں بھی وہاں سے چلے گئے، لیکن کچھ ہی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے دودھ کا ہدیہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلا بھیجا اور انہیں وہ پلا دیا، اس طرح وہ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض نہیں ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13088

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ رَجُلٍ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَكَانَتْ صَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ مُتَقَارِبَةً فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ مَدَّ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَامَ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ وَكَانَ يَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری نمازیں قریب قریب برابر ہوتی تھیں ، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز لمبی کرنا شروع کی تھی، اور بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13089

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ فَإِذَا هُوَ نَهَرٌ يَجْرِي وَلَمْ يُشَقَّ شَقًّا فَإِذَا حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى تُرْبَتِهِ فَإِذَا هُوَ مِسْكَةٌ ذَفِرَةٌ وَإِذَا حَصَاهُ اللُّؤْلُؤُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے کوثر عطاء کی گئی ہے، وہ ایک نہر ہے جو سطح زمین پر بھی بہتی ہے، اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے ہیں ، جنہیں توڑا نہیں گیا، میں نے ہاتھ لگا کر اس کی مٹی کو دیکھا تو وہ مشک خالص تھی، اور اس کی کنکریاں موتی تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13090

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ وَلَكِنْ لِيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے ، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے ، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ ، اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13091

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعاء مانگا کرتے تھے اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما ، اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13092

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ الْعَسَلَ وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک پیالے کے متعلق مروی ہے کہ میں نے اس پیالے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کا مشروب پلایا ہے، شہد بھی، پانی بھی اور دودھ بھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13093

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ قَالَ فَقِيلَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13094

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا رُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَكِرَ فَأَمَرَ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ رَجُلًا فَجَلَدَهُ كُلُّ رَجُلٍ جَلْدَتَيْنِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی کو پیش کیا گیا جس نے نشہ کیا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً بیس آدمیوں کو حکم دیا اور ان میں سے ہر ایک نے اسے دو دو شاخیں یا جوتے مارے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13095

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فَإِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم زوال شمس سے قبل سفر پر روانہ ہوتے تو نمازِ ظہر کو نمازِ عصر تک مؤخر کر دیتے، پھر اتر کر دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لیتے اور اگر سفر پر روانہ ہونے سے پہلے زوال کا وقت ہوجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نماز ظہر پڑھتے، پھر سوار ہوتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13096

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ قُرَّةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوَسِّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي رِزْقِهِ وَيَنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت اور رزق میں اضافہ ہو جائے، اسے چاہئے کہ صلہ رحمی کیا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13097

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ قُرَّةَ وَعُقَيْلٍ وَيُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ الْتَمَسَ مَعَهُ وَادِيًا آخَرَ وَلَنْ يَمْلَأَ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ فَذَكَرَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13098

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تُقَرِّبُوهُ السَّوَادَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بالوں کی سفیدی کو بدل دیا کرو، لیکن کالے رنگ کے قریب بھی نہ جانا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13099

حَدَّثَنَا هَارُونُ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ الْمُنَافِقِ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا نَقَرَاتِ الدِّيكِ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے متعلق نہ بتاؤں ؟ منافق نماز عصر کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13100

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُطَوَّلُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ فَيَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ قَالَ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا مُوسَى اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ يَا عِيسَى اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ فَإِنَّهُ قَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَقُولُ عِيسَى أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ قَدْ خُتِمَ عَلَيْهِ هَلْ كَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي الْوِعَاءِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ فَيَقُولُونَ لَا قَالَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلِيَقْضِ بَيْنَنَا قَالَ فَأَقُولُ نَعَمْ فَآتِي بَابَ الْجَنَّةِ فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيُقَالُ مَنْ أَنْتَ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ فَيُفْتَحُ لِي فَأَخِرُّ سَاجِدًا فَأَحْمَدُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ بَعْدِي فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ قَالَ فَأُخْرِجُهُمْ ثُمَّ أَخِرُّ سَاجِدًا فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ بَعْدِي فَيُقَالُ لِي ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ بُرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ قَالَ فَأُخْرِجُهُمْ قَالَ ثُمَّ أَخِرُّ سَاجِدًا فَأَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ فَيُقَالُ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ قَالَ فَأُخْرِجُهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سارے مسلمان اکٹھے ہوں گے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے پروردگار کے سامنے کسی کی سفارش لے کر جائیں تو شاید وہ ہمیں اس جگہ سے راحت عطاء فرما دے، چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے آدم! آپ ابوالبشر ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا، اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، لہٰذا آپ ہمارے رب سے سفارش کر دیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے دے۔ حضرت آدم علیہ السلام جواب دیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں اور انہیں اپنی لغزش یاد آجائے گی اور وہ اپنے رب سے حیاء کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کر دیجئے، وہ جواب دیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے وہ بھی یہی کہیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے البتہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے ان سے براہِ راست کلام فرمایا ہے اور انہیں تورات دی تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کرلیں گے کہ میں نے ایک ناحق شخص کو قتل کردیا تھا البتہ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ کے بندے ، اس کے رسول اور اس کا کلمہ اور روح تھے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کرلیں گے اور فرمائیں گے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہاری سفارش کریں گے جن کی اگلی پچھلی لغزشیں اللہ نے معاف فرما دی ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے پاس حاضری کی اجازت چاہوں گا جو مجھے مل جائے گی میں اپنے رب کو دیکھ کر سجدہ ریز ہو جاؤں گا، اللہ جب تک چاہے گا مجھے سجدے ہی کی حالت میں رہنے دے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سر اٹھائیے ، آپ جو کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی، جو مانگیں گے وہ ملے گا اور جس کی سفارش کریں گے قبول کرلی جائے گی، چنانچہ میں اپنا سر اٹھا کر اللہ کی ایسی تعریف کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا پھر میں سفارش کروں گا تو اللہ میرے لئے ایک حد مقرر فرما دے گا اور میں انہیں جنت میں داخل کروا کر دوبارہ آؤں گا، تین مرتبہ اسی طرح ہوگا، چوتھی مرتبہ میں کہوں گا کہ پروردگار! اب صرف وہی لوگ باقی بچے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔ چنانچہ جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو اور جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13101

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُمَّ أَيْمَنَ بَكَتْ حِينَ مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهَا تَبْكِينَ فَقَالَتْ إِنِّي وَاللَّهِ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَمُوتُ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى الْوَحْيِ الَّذِي انْقَطَعَ عَنَّا مِنْ السَّمَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، کسی نے پوچھا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں رو رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ، میں تو اس وحی پر رو رہی ہوں جو منقطع ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13102

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْعَبْدَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُعَادَ فِي الْكُفْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں ، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے ، اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13103

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے سرخ ٹیلے کے قریب گذرا تو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13104

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى أُمَّ حَرَامٍ فَأَتَيْنَاهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ فَقَالَ رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائِهِ وَهَذَا فِي سِقَائِهِ فَإِنِّي صَائِمٌ قَالَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا فَأَقَامَ أُمَّ حَرَامٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فِيمَا يَحْسَبُ ثَابِتٌ قَالَ فَصَلَّى بِنَا تَطَوُّعًا عَلَى بِسَاطٍ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً خُوَيْدِمُكَ أَنَسٌ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَمَا تَرَكَ يَوْمَئِذٍ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَلَا الْآخِرَةِ إِلَّا دَعَا لِي بِهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ قَالَ أَنَسٌ فَأَخْبَرَتْنِي ابْنَتِي أَنِّي قَدْ دَفَنْتُ مِنْ صُلْبِي بِضْعًا وَتِسْعِينَ وَمَا أَصْبَحَ فِي الْأَنْصَارِ رَجُلٌ أَكْثَرَ مِنِّي مَالًا ثُمَّ قَالَ أَنَسٌ يَا ثَابِتُ مَا أَمْلِكُ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا خَاتَمِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ چھوڑی جو میرے لئے نہ مانگی ہو، اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، چنانچہ اس کے بعد انصار میں سے کوئی شخص مجھ سے زیادہ مالدار نہ تھا، حالانکہ قبل ازیں وہ اپنی انگوٹھی کے علاوہ کسی سونا چاندی کے مالک نہ تھے، اور خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بڑی بیٹی امینہ نے بتایا ہے کہ حجاج بن یوسف کے آنے تک میری نسل میں سے ایک سو بیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13105

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّئُونَ وَبَقِيَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ وَالثَّمَانِينَ وَكَانَتْ مَنَازِلُهُمْ بَعِيدَةً فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ فِيهِ مَاءٌ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ وَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ وَيَقُولُ تَوَضَّئُوا حَتَّى تَوَضَّئُوا كُلُّهُمْ وَبَقِيَ فِي الْمِخْضَبِ نَحْوُ مَا كَانَ فِيهِ وَهُمْ نَحْوُ السَّبْعِينَ إِلَى الْمِائَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت آیا تو ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو، اور پھر بھی اس میں اتنا ہی پانی بچ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13106

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا وَيَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا فَقَالَ قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَجْرِكُمْ الشَّيْطَانُ أَوْ الشَّيَاطِينُ قَالَ إِحْدَى الْكَلِمَتَيْنِ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولُهُ أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي الَّتِي أَنْزَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اے ہمارے سردار ابن سردار، اے ہمارے خیر ابن خیر! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کرلو، شیطان تم پر حملہ نہ کر دے، میں صرف محمد بن عبداللہ ہوں ، اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں ، بخدا! مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے کہ تم مجھے میرے مرتبے " جو اللہ کے یہاں ہے " بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13107

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13108

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تمہیں مسواک کرنے کا حکم کثرت سے دیا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13109

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ قَالَ ثُمَّ تَهَجَّاهُ ك ف ر يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13110

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھالو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13111

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی ، پھر اسے ترک کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13112

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی ، پھر اسے ترک کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13113

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنْ النَّارِ إِبْلِيسُ فَيَضَعُهَا عَلَى حَاجِبِهِ وَيَسْحَبُهَا وَهُوَ يَقُولُ يَا ثُبُورَاهُ وَذُرِّيَّتُهُ خَلْفَهُ وَهُمْ يَقُولُونَ يَا ثُبُورَاهُمْ حَتَّى يَقِفَ عَلَى النَّارِ وَيَقُولُ يَا ثُبُورَاهُ وَيَقُولُونَ يَا ثُبُورَاهُمْ فَيُقَالُ لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کا لباس سب سے پہلے ابلیس کو پہنایا جائے گا اور وہ اسے اپنی ابروؤں پر رکھے گا، اس کے پیچھے اس کی ذریت گھستی چلی آرہی ہوگی، شیطان ہائے ہلاکت کی آواز لگا رہا ہوگا اور اس کی ذریت بھی ہائے ہلاکت کہہ رہی ہوگی، یہی کہتے کہتے وہ جہنم کے پاس پہنچ کر رک جائیں گے، شیطان پھر یہی کہے گا ہائے ہلاکت اور اس کی ذریت بھی یہی کہے گی، اس موقع پر ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک ہلاکت کو نہ پکارو، کئی ہلاکتوں کو پکارو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13114

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ أَظُنُّهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ أَشَدُّ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْ فِئَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ہی مشرکین کے کئی لوگوں سے بھاری ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13115

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَلَمَّا رَأَى شِدَّةَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ قَالَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ لَا خَيْرَ فِيمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند نصف پنڈلی تک ہونا چاہئے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مسلمانوں کو اس سے پریشانی ہو رہی ہے تو فرمایا ٹخنوں تک کر لو، اس سے نیچے ہونے میں کوئی خیر نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13116

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُجَاوِزُ شَعْرُهُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کان کی لو سے آگے نہ بڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13117

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے اور ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13118

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ قَالُوا هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ فَقَالَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَتْ الْأَنْصَارُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَأَعْطَى قُرَيْشًا إِنَّ هَذَا الْعَجَبُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مالِ غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر خدا کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں ، اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13119

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسًا وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا كُلُوا فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا رَقِيقًا وَلَا شَاةً سَمِيطًا حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، ان کے یہاں نانبائی مقرر تھا، ایک دن وہ ہم سے فرمانے لگے کھاؤ، البتہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھوں سے باریک روٹی کو دیکھا بھی ہو، یا کبھی سالم بھنی ہوئی بکری کھائی ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13120

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13121

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13122

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ پھل پکنے سے پہلے، کشمش(انگور) سیاہ ہونے سے پہلے اور گندم کا دانہ سخت ہونے سے پہلے بیچا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13123

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ حَدِيثًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو آخر میں یہ فرماتے " یا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13124

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ وَعَنْ هَذِهِ الْأَنْبِذَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ أَلَا إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقُلُوبَ وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا هَجْرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّ النَّاسَ يَبْتَغُونَ أَدَمَهُمْ وَيُتْحِفُونَ ضَيْفَهُمْ وَيَرْفَعُونَ لِغَائِبِهِمْ فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيمَا شِئْتُمْ مَنْ شَاءَ أَوْ كَأَنَّ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں یعنی قبرستان جاتے، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے اور دباء، نقیر، حنتم اور مزفت میں نبیذ پینے سے منع فرمایا تھا، پھر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد فرمایا کہ میں نے پہلے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، اب ان کے بارے میں میری رائے واضح ہوگئی ہے، میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب میرے رائے یہ ہوئی ہے کہ اس سے دل نرم ہوتے ہیں ، آنکھیں آنسو بہاتی ہیں ، اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے، اس لئے قبرستان جایا کرو، لیکن بے ہودہ گوئی مت کرنا، اسی طرح میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ لوگ اپنے مہمانوں کو یہ گوشت تحفے کے طور پر دیتے ہیں اور غائبین کے لئے محفوظ کر کے رکھتے ہیں ، اس لئے تم جب تک چاہو، اسے رکھ سکتے ہو، نیز میں نے تمہیں ان برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا، اب تم جس برتن میں چاہو، پی سکتے ہو، البتہ کوئی نشہ آور چیز مت پینا، اب جو چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ گناہ کی چیز پر بند کر لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13125

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَهُوَ مَحْمُومٌ فَقَالَ كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی دیہاتی کی عیادت کے لئے اس کے پاس تشریف لے گئے " جسے بخار چڑھ گیا تھا " اور فرمایا کہ انشاء اللہ یہ بخار تمہارے گناہوں کا کفارہ اور باعث طہارت ہوگا، وہ دیہاتی کہنے لگا کہ نہیں ، یہ تو جوش مارتا ہوا بخار ہے جو ایک بوڑھے آدمی پر آیا ہے اور اسے قبر دکھا کر ہی چھوڑے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اسے چھوڑا اور کھڑے ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13126

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَرَدَّهُ قَطُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13127

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ فَقُلْتُ فَالْأَكْلُ قَالَ أَشَرُّ وَأَخْبَثُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13128

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبَ فِي رَمَضَانَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہِ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمالیا اور لوگ دیکھ رہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13129

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ اسْتَحْمَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا قَالَ وَأَنَا أَحْلِفُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَأَحْمِلَنَّكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13130

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ وَشُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ قَارِئٌ وَغَيْرُ قَارِئٍ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، جسے ہر پڑھا لکھا اور ہر ان پڑھ مسلمان پڑھ لے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13131

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ قَالُوا كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13132

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا كَانَ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ رُؤْيَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی نگاہوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھا نہیں سمجھتے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13133

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ أَهْلُ الْيَمَنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ مِنْكُمْ قُلُوبًا قَالَ أَنَسٌ وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْمُصَافَحَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس یمن سے لوگ آئے ہیں جو تم سے بھی زیادہ رقیق القلب ہیں ، اور یہی وہ پہلے لوگ ہیں جو مصافحہ کا رواج اپنے ساتھ لے کر آئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13134

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ أَوْ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحِبَرَةُ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس پسند تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ دھاری دار یمنی چادر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13135

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتُقَةً مِنْ سُنْدُسٍ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهَا تَذَبْذَبَانِ مِنْ طُولِهِمَا فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَلْتَمِسُونَهَا وَيَقُولُونَ أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ مِنْ السَّمَاءِ قَالَ وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَنْدِيلٌ مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ قَالَ فَلَبِسَهَا جَعْفَرٌ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا قَالَ فَمَا أَصْنَعُ بِهَا قَالَ ابْعَثْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ روم کے بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ " جس میں سونے کا کام ہوا تھا " بھجوا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لمبا ہونے کی وجہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ آپ پر آسمان سے اترا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے صرف رومال ہی اس سے بہت بہتر ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس بھجوا دیا، انہوں نے اسے پہن لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میں نے تمہیں پہننے کے لئے نہیں دیا، انہوں نے پوچھا کہ پھر میں اس کا کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی نجاشی کے پاس بھیج دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13136

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13137

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَحَدٌ يَسُرُّهُ يَرْجِعُ وَقَالَ بَهْزٌ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا إِلَّا الشَّهِيدُ فَإِنَّهُ وَدَّ لَوْ أَنَّهُ رَجَعَ قَالَ بَهْزٌ رَجَعَ إِلَى الدُّنْيَا فَاسْتُشْهِدَ لِمَا رَأَى مِنْ الْفَضْلِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13138

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ مَا يُحِبُّهُ لِنَفْسِهِ مِنْ الْخَيْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13139

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ شَيْئًا فِي صُدْغَيْهِ وَلَكِنْ أَبُو بَكْرٍ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں تک نوبت ہی نہیں آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیوں میں چند بال سفید تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13140

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13141

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ وَيْلَكَ ارْكَبْهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13142

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ وَالْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13143

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو عِصَامٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَقُولُ إِنَّهُ أَرْوَى وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ قَالَ أَنَسٌ وَأَنَا أَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیاہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13144

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَصَمُّ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ وَإِذَا قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ قَالَ فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا قَالَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثُمَّ سَكَتَ قَالَ فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ وَعُثْمَانَ قَالَ وَعُثْمَانَ

عبدالرحمن اصم کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نماز میں تکبیر کا حکم پوچھا تو میں نے انہیں یہ جواب دیتے ہوئے سنا کہ انسان جب رکوع سجدہ کرے، سجدے سے سر اٹھائے اور دو رکعتوں کے درمیان کھڑا ہو تو تکبیر کہے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ آپ کو یہ حدیث کس کے حوالے سے یاد ہے؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے حوالے سے، پھر وہ خاموش ہوگئے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13145

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الثَّقَفِيُّ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13146

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرکین کے ساتھ اپنی جان، مال اور زبان کے ذریعے جہاد کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13147

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصْحَابُهُ مُخَالِطُو الْحُزْنِ وَالْكَآبَةِ فَقَالَ نَزَلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا جَمِيعًا قَالَ فَلَمَّا تَلَاهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ هَنِيئًا مَرِيئًا قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةَ الَّتِي بَعْدَهَا لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صراطا مستقیما " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فوزا عظیما "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13148

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُمَّلَ فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قَمِيصِ الْحَرِيرِ فِي غَزَاةٍ لَهُمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13149

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک قنوت نازلہ پڑھی ہے پھر اسے ترک فرما دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13150

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ حَادِيًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ قَالَ وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ لَا تَكْسِرْ الْقَوَارِيرَ قَالَ قَتَادَةُ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انجثہ تھا " اس کی آواز بہت اچھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انچثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13151

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسٌ أَنَّ خَيَّاطًا بِالْمَدِينَةِ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ قَالَ فَإِذَا خُبْزُ شَعِيرٍ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ وَإِذَا فِيهَا قَرْعٌ قَالَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ قَالَ أَنَسٌ لَمْ يَزَلْ الْقَرْعُ يُعْجِبُنِي مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے کھانے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، وہ کھانا لے کر حاضر ہوا تو اس میں پرانا روغن اور کدو تھا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے ہیں ، اس وقت سے مجھے بھی کدو پسند آنے لگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13152

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ يَعْنِي الْمُزَنِيَّ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَيْمُونَةَ يُحَدِّثُ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرْفَعْ إِلَيْهِ قِصَاصٌ قَطُّ إِلَّا أَمَرَ بِالْعَفْوِ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ كُنْتُ أُحَدِّثُهُ عَنْ أَنَسٍ فَقَالُوا لَهُ عَنْ أَنَسٍ لَا شَكَّ فِيهِ فَقُلْتُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب بھی قصاص کا کوئی معاملہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں معاف کرنے کی ترغیب ہی دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13153

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ وَثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ الرَّجُلُ جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا وَزَادَ حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْشِ عَلَى نَحْوِ مَا كَانَ يَمْشِي فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَالْإِرْمَامُ السُّكُوتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا، اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کر لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13154

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ عَلَيْهِ إِهَالَةٌ سَنِخَةٌ فَأَكَلُوا مِنْهَا وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر مرنے تک کے لئے اسلام کی یقینی بیعت کی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جواباً یہ جملہ کہتے تھے کہ اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی لائی گئی جس پر سنا ہوا روغن رکھا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسی کو تناول فرمالیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13155

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی تو اسے اپنے ہاتھ سے صاف کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13156

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ أَجْمَعَ هَكَذَا وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13157

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13158

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ أَفْطَرَ وَقَدْ قَالَ مَرَّةً أَفْطَرَ أَفْطَرَ أَفْطَرَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَ هَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ رکھتے تو لوگ ایک دوسرے کو مطلع کر دیتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی نیت کرلی ہے اور جب افطاری کرتے تب بھی لوگ ایک دوسرے کو مطلع کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کھول لیا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13159

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَكَانَ يَسْتَمِعُ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ خَرَجْتَ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دشمن پر طلوع فجر کے وقت حملے کی تیاری کرتے تھے، اور کان لگا کر سنتے تھے، اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے، ایک دن اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطرتِ سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے اشھدان لا الہ الا اللہ کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13160

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یوں کہتے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا، ہماری کفایت کی اور ٹھکانہ دیا، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی کوئی کفایت کرنے والا یا انہیں ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13161

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ دَعَانِي فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ لَهُ فَجِئْتُ وَقَدْ أَبْطَأْتُ عَنْ أُمِّي فَقَالَتْ مَا حَبَسَكَ أَيْنَ كُنْتَ فَقُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَاجَةٍ فَقَالَتْ أَيْ بُنَيَّ وَمَا هِيَ فَقُلْتُ إِنَّهَا سِرٌّ قَالَتْ لَا تُحَدِّثْ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ يَا ثَابِتُ لَوْ كُنْتُ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا ، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، بخدا! اے ثابت! اگر میں وہ کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13162

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ بِي وَأَعْدَاءً فَأَلَّفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ بِي ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَلَا تَقُولُونَ أَتَيْتَنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ وَخَائِفًا فَأَمَّنَّاكَ وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ فَقَالُوا بَلْ لِلَّهِ الْمَنُّ عَلَيْنَا وَلِرَسُولِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ انصار سے فرمایا اے گروہِ انصار! کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم بے راہ تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت عطاء فرمائی؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم آپس میں متفرق تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں اکٹھا کیا؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تھا تو تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا پھر تم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے تھے، ہم نے آپ کو امن دیا، آپ کی قوم نے آپ کو نکال دیا تھا، ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا، اور آپ بے یارومددگار ہوچکے تھے، ہم نے آپ کی مدد کی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ہم پر اللہ اور اس کے رسول کا ہی احسان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13163

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ مُدَّ لِي الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا، کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13164

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو زخمی کر دے اور ان کے دانت توڑ دے، جب کہ وہ انہیں اپنے رب کی طرف بلا رہا ہو؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں " ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13165

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَنَسَ بْنَ النَّضْرِ تَغَيَّبَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَقَالَ تَغَيَّبْتُ عَنْ أَوَّلِ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ رَأَيْتُ قِتَالًا لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ أَنَسٌ فَرَأَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مُنْهَزِمًا فَقَالَ يَا أَبَا عَمْروٍ أَيْنَ أَيْنَ قُمْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ الْجَنَّةِ دُونَ أُحُدٍ فَحَمَلَ حَتَّى قُتِلَ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا اسْتَطَعْتُ مَا اسْتَطَاعَ فَقَالَتْ أُخْتُهُ فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ وَلَقَدْ كَانَتْ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ ضَرْبَةً مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ إِلَى قَوْلِهِ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرا نام میرے چچا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا، جو غزوہ بدر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوسکے تھے، اور اس کا انہیں افسوس تھا اور وہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے غزوہ میں شریک نہیں ہوسکا، اگر اب اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جانے کا موقع عطاء کیا تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ، چنانچہ وہ غزوہ احد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ میدان کار زار میں انہیں اپنے سامنے سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دیئے، وہ ان سے کہنے لگے کہ ابوعمرو! کہاں جا رہے ہو؟ بخدا! مجھے تو احد کے پیچھے سے جنت کی خوشبو آرہی ہے، یہ کہہ کر اس بے جگری سے لڑے کہ بالآخر شہید ہوگئے، اور ان کے جسم پر نیزوں ، تلواروں اور تیروں کے اسی سے زیادہ نشانات پائے گئے، ان کی بہن اور میری پھوپھی حضرت ربیع بنت نضر کہتی ہیں کہ میں بھی اپنے بھائی کو صرف انگلی کے پوروں سے پہچان سکی ہوں ، اور اسی مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ " کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا، ان میں سے بعض تو اپنی امید پوری کر چکے اور بعض منتظر ہیں " صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سمجھتے تھے کہ یہ آیت حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ان جیسے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13166

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْعَضْبَاءَ كَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَابَقَهَا فَسَبَقَهَا الْأَعْرَابِيُّ فَكَأَنَّ ذَلِكَ اشْتَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی " جس کا نام عضباء تھا " کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہی تھی، ایک مرتبہ ایک دیہاتی اپنی اونٹنی پر آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا، مسلمانوں میں یہ بات بڑی گراں گذری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں کا اندازہ لگالیا، پھر لوگوں نے خود بھی کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عضباء پیچھے رہ گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر حق ہے کہ دنیا میں جس چیز کو وہ بلندی دیتا ہے پست بھی کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13167

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ كَانَ بَلَاءً فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اصْبُغُوهُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيَصْبُغُونَهُ فِيهَا صَبْغَةً فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ أَوْ شَيْئًا تَكْرَهُهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِكَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَكْرَهُهُ قَطُّ ثُمَّ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ النَّاسِ كَانَ فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ اصْبُغُوهُ فِيهَا صَبْغَةً فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ قُرَّةَ عَيْنٍ قَطُّ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِكَ مَا رَأَيْتُ خَيْرًا قَطُّ وَلَا قُرَّةَ عَيْنٍ قَطُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اہل جہنم میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بڑی نعمتوں میں رہا ہوگا، اسے جہنم کا ایک چکر لگوایا جائے گا پھر پوچھا جائے گا اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی خیر دیکھی ہے؟ کیا تجھ پر کبھی نعمتوں کا گذر ہوا ہے؟ وہ کہے گا کہ پروردگار! قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی نہیں ، اس کے بعد اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بڑی مصیبتوں میں رہا ہوگا، اسے جنت کا ایک چکر لگوایا جائے گا اور پھر پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی پریشانی دیکھی ہے؟ کیا کبھی تجھ پر کسی سختی کا گذر ہوا ہے؟ وہ کہے گا کہ پروردگار! قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی نہیں ، مجھ پر کوئی پریشانی نہیں آئی اور میں نے کوئی تکلیف نہیں دیکھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13168

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ وَصَوَّرَهُ ثُمَّ تَرَكَهُ فِي الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13169

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قِيلَ لِأَنَسٍ هَلْ شَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا شَانَهُ اللَّهُ بِالشَّيْبِ مَا كَانَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ إِلَّا سَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ ثَمَانِ عَشْرَةَ

ثابت رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کے بال مبارک سفید ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے محفوظ رکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی میں صرف سترہ یا اٹھارہ بال سفید تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13170

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي لِيُحَنِّكَهُ فِي الْمِرْبَدِ قَالَ فَرَأَيْتُهُ يَسِمُ شِيَاهًا أَحْسَبُهُ قَالَ فِي آذَانِهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بھائی کو گھٹی دلوانے کے لئے حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے کان پر داغ رہے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13171

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ أَظُنُّهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَحْسَبُ أَنِّي قَدْ أَسْقَطْتُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو، صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13172

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13173

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَتَّى أَجْهَدُوهُ بِالْمَسْأَلَةِ فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ فَأَشْفَقَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ قَالَ فَجَعَلْتُ لَا أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا وَجَدْتُ كُلَّ رَجُلٍ لَافًّا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي فَأَنْشَأَ رَجُلٌ كَانَ يُلَاحَى فَيُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ قَالَ ثُمَّ قَامَ عُمَرُ أَوْ قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ قَطُّ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ قَالَ وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِذَا سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی " جب تک میں یہاں کھڑا ہوں " سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں ؟ فرمایا جہنم میں ، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش او مطمئن ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13174

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَادْعُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13175

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ طَلَبْنَا عِلْمَ الْعُودِ الَّذِي فِي مَقَامِ الْإِمَامِ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ يَذْكُرُ لَنَا فِيهِ شَيْئًا قَالَ مُصْعَبٌ فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ فَقَالَ جَلَسَ إِلَيَّ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ يَوْمًا فَقَالَ هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا وَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ مَا أَدْرِي لِمَ صُنِعَ فَقَالَ أَنَسٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ عَلَيْهِ يَمِينَهُ ثُمَّ يَلْتَفِتُ إِلَيْنَا فَقَالَ اسْتَوُوا وَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ

مصعب بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ پر ایک لکڑی تھی، ہم نے بہت کوشش کی کہ اس کے متعلق کسی سے کچھ معلوم ہوجائے لیکن ہمیں ایک آدمی بھی ایسا نہ ملا جو ہمیں اس کے متعلق کچھ بتا سکتا، اتفاقاً مجھے محمد بن مسلم صاحب مقصورہ نے بتایا کہ ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف فرما تھے، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکڑی کیوں رکھی گئی ہے؟ میں نے ان سے یہ سوال نہ پوچھا تھا، میں نے عرض کیا بخدا! مجھے معلوم نہیں کہ یہ کیوں رکھی گئی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا داہنا ہاتھ رکھ کر ہماری طرف متوجہ ہوتے تھے اور فرماتے تھے سیدھے ہوجاؤ اور اپنی صفیں برابر کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13176

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَحْدُو بِالرِّجَالِ وَأَنْجَشَةَ يَحْدُو بِالنِّسَاءِ وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ فَحَدَا فَأَعْنَقَتْ الْإِبِلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مردوں کے لئے حدی خوانی کرتے تھے اور انجثہ رضی اللہ عنہ عورتوں کے لئے ، انجثہ کی آواز بہت اچھی تھی، جب انہوں نے حدی شروع کی تو اونٹ تیزی سے دوڑنے لگے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13177

حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کو مشقتوں سے اور جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13178

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَزْدَوَيْهِ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَامِلٌ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يُسْتَخْلَفَ قَالَ فَسَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَ بِهِ وَضَحٌ شَدِيدٌ قَالَ وَكَانَ عُمَرُ يُصَلِّي بِنَا فَقَالَ أَنَسٌ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى كَانَ يُخَفِّفُ فِي تَمَامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ مکمل اور مختصر نماز پڑھاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13179

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ يَعْنِي الْحَبَطِيُّ أَبُو هِشَامٍ قَالَ أَخِي هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ عَادَ مَرِيضًا فَإِنَّمَا يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الصَّحِيحُ الَّذِي يَعُودُ الْمَرِيضَ فَالْمَرِيضُ مَا لَهُ قَالَ تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبُهُ

مروان بن ابی داؤد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! جگہ دور کی ہے لیکن ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ کی عیادت کو آیا کریں ، اس پر انہوں نے اپنا سر اٹھا کر کہا کہ میں نے نبٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے، وہ رحمت الہٰیہ کے سمندر میں غوطے لگاتا ہے، اور جب مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو اس تندرست آدمی کا حکم ہے جو مریض کی عیادت کرتا ہے، مریض کا کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13180

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَعَمَلٍ لَا يُرْفَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَقَوْلٍ لَا يُسْمَعُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ! میں نہ سنی جانے والی بات، نہ بلند ہونے والے عمل، خشوع سے خالی دل، اور غیر نافع علم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13181

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ مِسْكِينٍ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ وَلَا قَالَ لِمَ صَنَعْتَ كَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفروحضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13182

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَلَّامٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ولیمے میں بھی شرکت کی ہے جس میں روٹی تھی اور نہ گوشت۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13183

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13184

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ نَاسٌ النَّارَ حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ هَؤُلَاءِ فَيُقَالُ هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب جنتی انہیں دیکھیں گے تو کہیں گے کہ یہ جہنمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13185

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13186

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُكَبِّرُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُمَا يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13187

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَخَّصَ أَوْ أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13188

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ إِمْلَاءً عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رِعْلًا وَعُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا وَاسْتَمَدُّوا عَلَى قَوْمِهِمْ فَأَمَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ الْقُرَّاءَ فِي زَمَانِهِمْ كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ فَقَتَلُوهُمْ فَقَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى هَذِهِ الْأَحْيَاءِ عُصَيَّةَ وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ و حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ نُسِخَ أَوْ رُفِعَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے کچھ لوگ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوم پر تعاون کا مطالبہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم تعاون کے لئے بھیج دیئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں " قراء " کہا کرتے تھے، یہ لوگ دن کو لکڑیاں کاٹتے اور رات کو نماز میں گذار دیتے تھے، وہ لوگ ان تمام حضرات کو لے کر روانہ ہوگئے، راستے میں جب بیر معونہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ کیا اور انہیں شہید کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر دعاء کرتے رہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے یہ جملے کہ " ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہمیں بھی راضی کر دیا " ایک عرصے تک قرآن کریم میں پڑھتے رہے، بعد میں ان کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13189

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ أَتَاهُ شَيْخٌ أَوْ رَجُلٌ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ وَلَكِنِّي أَحَبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13190

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بِمِنًى أَخَذَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنَ بِيَدِهِ فَلَمَّا فَرَغَ نَاوَلَنِي فَقَالَ يَا أَنَسُ انْطَلِقْ بِهَذَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ مَا خَصَّهَا بِهِ مِنْ ذَلِكَ تَنَافَسُوا فِي الشِّقِّ الْآخَرِ هَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ وَهَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَحَدَّثْتُهُ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيَّ فَقَالَ لَأَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْهُ شَعَرَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ أَصْبَحَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ وَفِي بَطْنِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان منیٰ میں سر منڈوانے کارادہ کیا تو پہلے سر کا داہنا حصہ آگے کیا، اور فارغ ہو کر وہ بال مجھے دے کر فرمایا انس! یہ ام سلیم کے پاس لے جاؤ، جب لوگوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ اپنے بال حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو بھجوائے ہیں تو دوسرے حصے کے بال حاصل کرنے میں وہ ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگے، کسی کے حصے میں کچھ آگئے اور کسی کے حصے میں کچھ آگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13191

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي قَطُّ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ قَطُّ أَسَأْتَ وَلَا بِئْسَ مَا صَنَعْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کر لیا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13192

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَمَرَ أَرْبَعًا عُمْرَتَهُ الَّتِي صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ عَنْهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ أَيْضًا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کیے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ چار مرتبہ، ایک عمرہ تو حدیبیہ کے زمانے میں ، دوسرا ذیقعدہ کے مہینے میں مدینہ سے ، تیسرا عمرہ ذیقعدہ ہی کے مہینے میں جعرانہ سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مالِ غنیمت تقسیم کیا تھا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13193

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تَرَى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَرْضِي بَيْرُحَاءَ وَإِنِّي أَتَقَرَّبُ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ بَخٍ بَيْرُحَاءُ خَيْرٌ رَابِحٌ فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ حَدَائِقَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ " تم نیکی کا اعلیٰ درجہ اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی محبوب چیز نہ خرچ کر دو" اور مجھے اپنے سارے مال میں " بیر حاء " سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کے نام پر صدقہ کرتا ہوں اور اللہ کے یہاں اس کی نیکی اور ثواب کی امید رکھتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ! یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، پھر انہوں نے وہ باغ لوگوں میں تقسیم کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13194

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ أُرْسِلَتْ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ وَالْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ قَالَ فَأَتَيْنَا الرِّهَانَ فَلَمَّا جَاءَتْ الْخَيْلُ قُلْنَا لَوْ مِلْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَسَأَلْنَاهُ أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ فِي قَصْرِهِ فِي الزَّاوِيَةِ فَسَأَلْنَاهُ فَقُلْنَا يَا أَبَا حَمْزَةَ أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاهِنُ قَالَ نَعَمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَاهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ سَبْحَةٌ فَسَبَقَ النَّاسَ فَانْتَشَى لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ

ابولبید رحمۃ اللہ علیہ نے مازہ بن زیار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے حجاج بن یوسف کے زمانے میں اپنے گھوڑے کو بھیجا اور سوچا کہ ہم بھی گھڑ دوڑ کی شرط میں حصہ لیتے ہیں ، پھر ہم نے سوچا کہ پہلے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھ لیتے ہیں کہ کیا آپ لوگ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گھڑ دوڑ پر شرط لگایا کرتے تھے؟ چنانچہ ہم نے ان کے پاس آکر ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ہاں ! ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک گھوڑے پر " جس کا نام سبحہ تھا " گھڑ دوڑ میں حصہ لیا تھا اور وہ سب سے آگے نکل گیا تھا، جس سے انہیں تعجب ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13195

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي الْمَسْجِدِ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ مَا هَذَا الْحَبْلُ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ تُصَلِّي فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ فَإِذَا أَعْيَتْ فَلْتَجْلِسْ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے ، پوچھا یہ کیسی رسی ہے ؟ لوگوں نے بتا یا کہ یہ زینب کی رسی ہے ، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو ، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13196

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ كَأَنَّهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَقَالَ أَوْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَلَا خَيْرَ فِي أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند نصف پنڈلی تک ہونا چاہئے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مسلمانوں کو اس سے پریشانی ہو رہی ہے تو فرمایا ٹخنوں تک کرلو، اس سے نیچے ہونے میں کوئی خیر نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13197

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا تُرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْنَا الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ قحط سالی ہوئی، جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مال تباہ ہو رہے ہیں اور بچے بھوکے ہیں ، اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ ہمیں پانی سے سیراب کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کیے تھے اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اس وقت پہاڑوں جیسے بادل آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترنے بھی نہیں پائے تھے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک پر بارش کا پانی ٹپکتے ہوئے دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13198

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں ، ایک حرص اور ایک امید۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13199

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ عُمُرِهِ بِالْعَمَلِ الَّذِي لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ عُمُرِهِ بِالْعَمَلِ الَّذِي لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ تک اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلاء ہوجاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلاء رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مر جائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہوجاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13200

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ وَأَهْلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ قَالَ إِنَّ الْقُلُوبَ بِيَدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے، کہ اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لائے ہیں ، کیا آپ کو ہمارے متعلق کسی چیز سے خطرہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دل اللہ کی انگلیوں میں سے صرف دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں بدل دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13201

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ وَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا، یہ ابن آدم ہے پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے تین مرتبہ فرمایا کہ یہ اس کی امیدیں ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13202

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَرُبَّمَا قَالَ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا فَإِذَا رَأَى الرُّؤْيَا الرَّجُلُ الَّذِي لَا يَعْرِفُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ فَجَاءَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَفُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتَّى عَدَّتْ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا فَقِيلَ اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهَرِ الْبَيْدَخِ أَوْ الْبَيْدَحِ فَغُمِسُوا فِيهِ فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ أُتُوا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ فَقَعَدُوا عَلَيْهَا وَأُتُوا بِصَحْفَةٍ فَأَكَلُوا مِنْهَا فَمَا يَقْلِبُونَهَا لِشِقٍّ إِلَّا أَكَلُوا فَاكِهَةً مَا أَرَادُوا وَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ فَقَالَ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا الَّذِينَ عَدَّتْ الْمَرْأَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ فَقَصَّتْ فَقَالَ هُوَ كَمَا قَالَتْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھے خوابوں سے خوش ہوتے تھے، اور بعض اوقات پوچھتے تھے کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تعبیر دریافت کر لیتا، اگر اس میں کوئی پریشانی کی بات نہ ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی خوش ہوتے، اسی تناظر میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوئی ہوں ، میں نے وہاں ایک آواز سنی جس سے جنت بھی ہلنے لگی، اچانک میں نے دیکھا کہ فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو لایا جارہا ہے، یہ کہتے ہوئے اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے ایک سریہ میں روانہ فرمایا تھا۔ اس خاتون نے بیان کیا کہ جب انہیں وہاں لایا گیا تو ان کے جسم پر جو کپڑے تھے وہ کالے ہوچکے تھے اور ان کی رگیں پھولی ہوئی تھیں ، کسی نے ان سے کہا کہ ان لوگوں کو نہر سدخ یا نہر بیدخ میں لے جاؤ، چنانچہ انہوں نے اس میں غوطہ لگایا اور جب باہر نکلے تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے تھے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں ، وہ ان پر بیٹھ گئے، پھر ایک تھالی لائی گئی جس میں کچی کھجوریں تھیں ، وہ ان کھجوروں کو کھانے لگے، اس دوران وہ جس کھجور کو پلٹتے تھے تو حسب منشاء میوہ کھانے کو ملتا تھا، اور میں بھی ان کے ساتھ کھاتی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد اس لشکر سے ایک آدمی فتح کی خوشخبری لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے ساتھ ایسا ایسا معاملہ پیش آیا اور فلاں فلاں آدمی شہید ہوگئے، یہ کہتے ہوئے اس نے انہی بارہ آدمیوں کے نام گنوا دیئے جو عورت نے بتائے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس دوبارہ بلا کر لاؤ، وہ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اپنا خواب اس آدمی کے سامنے بیان کرو، اس نے بیان کیا تو وہ کہنے لگا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح بیان کیا ہے حقیقت بھی اسی طرح ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13203

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَصَمُّ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ وَإِذَا قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ قَالَ فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا قَالَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثُمَّ سَكَتَ فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ وَعُثْمَانَ قَالَ وَعُثْمَانَ

عبدالرحمن اصم کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نماز میں تکبیر کا حکم پوچھا تو میں نے انہیں یہ جواب دیتے ہوئے سنا کہ انسان جب رکوع سجدہ کرے، سجدے سے سر اٹھائے اور دو رکعتوں کے درمیان کھڑا ہو تو تکبیر کہے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ آپ کو یہ حدیث کس کے حوالے سے یاد ہے؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے حوالے سے، پھر وہ خاموش ہوگئے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13204

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ فَذَكَرَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَأَشَارَ عَبْدُ الْعَزِيزِ فَجَعَلَ ظَهْرَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ

حدیث استسقاء اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13205

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَوَّزَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ تَجَوَّزْتَ قَالَ سَمِعْتُ بُكَاءَ صَبِيٍّ فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ مَعَنَا تُصَلِّي فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَهُ أُمَّهُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ تُصَلِّي مَعَنَا فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَهُ أُمَّهُ قَالَ عَفَّانُ فَوَجَدْتُهُ عِنْدِي فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَحُمَيْدٍ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھاتے ہوئے نماز ہلکی کردی، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے نماز کیوں مختصر کردی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی، میں سمجھا کہ ہوسکتا ہے اس کی ماں ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو، اس لئے میں نے چاہا کہ اس کی ماں کو فارغ کر دوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13206

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنِ الْحَسَنِ وَعَنْ أَنَسٍ فِيمَا يَحْسَبُ حُمَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ بِثَوْبِ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر روئی کا کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13207

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حَيْثُ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِيَّانَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبِحَارَ لَأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بِرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا قَالَ حَمَّادٌ قَالَ سُلَيْمٌ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ الْبِغْمَادِ فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا بَدْرًا وَوَرَدَتْ عَلَيْهِمْ رَوَايَا قُرَيْشٍ وَفِيهِمْ غُلَامٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ فَأَخَذُوهُ وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ فَيَقُولُ مَا لِي عِلْمٌ بِأَبِي سُفْيَانَ وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فَإِذَا قَالَ ذَاكَ ضَرَبُوهُ فَإِذَا ضَرَبُوهُ قَالَ نَعَمْ أَنَا أُخْبِرُكُمْ هَذَا أَبُو سُفْيَانَ فَإِذَا تَرَكُوهُ فَسَأَلُوهُ قَالَ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ فِي النَّاسِ قَالَ فَإِذَا قَالَ هَذَا أَيْضًا ضَرَبُوهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ انْصَرَفَ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ وَتَتْرُكُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا يَضَعُ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ هَاهُنَا وَهَاهُنَا فَمَا أَمَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، انصار نے کہا کہ یا رسول اللہ! شاید آپ کی مراد ہم ہیں ؟ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں تو سمندروں میں گھس پڑیں ، اور اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد تک اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے چلے جائیں ، لہٰذا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تیار کر کے روانہ ہوگئے اور بدر میں پڑاؤ کیا، قریش کے کچھ جاسوس آئے تو ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے گرفتار کرلیا، اور اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق پوچھا، وہ کہنے لگا کہ ابوسفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ قریش، ابوجہل اور امیہ بن خلف آگئے ہیں ، وہ لوگ جب اسے مارتے تو وہ ابوسفیان کے بارے بتانے لگتا اور جب چھوڑتے تو وہ کہتا کہ مجھے ابوسفیان کا کیا پتہ؟ البتہ قریش آگئے ہیں ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جب تم سے سچ بیان کرتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب یہ جھوٹ بولتا ہے تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان شاء اللہ کل فلاں شخص یہاں گرے گا اور فلاں شخص یہاں ، چنانچہ آمنا سامنا ہونے پر مشرکین کو اللہ نے شکست سے دو چار کر دیا اور بخدا ایک آدمی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی جگہ سے نہیں ہلا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13208

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13209

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فَاسْتُجِيبَ لَهُ وَإِنِّي اسْتَخْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13210

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ فَمَا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلَّا مَخَافَةُ أَنْ تَكُونَ مِنْ صَدَقَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھالیتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13211

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّهُ وَامْرَأَةً مِنْهُمْ فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ وَالْمَرْأَةَ خَلْفَ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کی ایک عورت کو نماز پڑھائی، انس رضی اللہ عنہ کو دائیں جانب اور ان کی خاتون کو ان کے پیچھے کھڑا کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13212

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ وَأَنَسٌ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ قَالَ لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نضر کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا ہوتا کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے تو میں موت کی تمنا ضرور کرتا، اس وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی حیات تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13213

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ قَالَتْ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ بِمَا مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَقُلْتُ بِالطَّاعُونِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ابن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے؟ انہوں نے بتایا کہ طاعون کی بیماری سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13214

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں ، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13215

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری عورت اپنے بچے کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو، یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13216

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا ابْتَلَى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ قَالَ لِلْمَلَكِ اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ فَإِنْ شَفَاهُ غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ وَإِنْ قَبَضَهُ غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ مسلم کو جسمانی طور پر کسی بیماری میں مبتلاء کرتا ہے تو فرشتوں سے کہہ دیتا ہے کہ یہ جتنے نیک کام کرتا ہے ان کا ثواب برابر لکھتے رہو، پھر اگر اسے شفاء مل جائے تو اللہ اسے دھو کر پاک صاف کر چکا ہوتا ہے اور اگر اسے اپنے پاس واپس بلالے تو اس کی مغفرت کر دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13217

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِ نَفْسِهِ وَيُكَبِّرُ عَلَيْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور اس پر تکبیر پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13218

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ يَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتَيْهِمَا وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13219

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَرَ وَلَمْ أَشُمَّ مِسْكَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ رِيحًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ گندمی تھا، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے عمدہ کوئی مہک نہیں سونگھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13220

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ وَكَانَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13221

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مُعَاذٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ نَجِيءُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنَّا بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی جب قضاء حاجت کے لیے جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن پیش کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13222

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَا يَوْمًا ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ أَيُّهَا النَّاسُ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمْ الصَّلَاةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قِبَلِ هَذَا الْجِدَارِ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور منبر پر بیٹھ کر قبلہ کی جانب اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا لوگو! میں نے آج تمہیں جو نماز پڑھائی ہے اس میں جنت اور جہنم کو اپنے سامنے دیکھا کہ وہ اس دیوار میں میرے سامنے پیش کی گئی ہیں ، میں نے آج جیسا بہترین اور سخت ترین دن نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13223

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَخْبَرَنِي بَعْضُ مَنْ لَا أَتَّهِمُهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ يَمْشِيَانِ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بِلَالُ هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْمَعُهُ قَالَ أَلَا تَسْمَعُ أَهْلَ هَذِهِ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ يَعْنِي قُبُورَ الْجَاهِلِيَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ایسے صحابہ رضی اللہ عنہ نے " جنہیں میں متہم نہیں سمجھتا " بتایا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ جنت البقیع میں جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال! جیسے میں سن رہا ہوں کیا تم بھی کوئی آواز سن رہے ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بخدا! میں تو کوئی آواز نہیں سن رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں سن رہے کہ اہل جاہلیت کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13224

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا قَالَ وَكَانَ عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ،، حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ طویل قرأت نہ کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13225

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ فَذَكَرَهُ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13226

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمِرْبَدِ وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا قَالَ شُعْبَةُ حَسِبْتُهُ قَالَ فِي آذَانِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے میں بکری کے کان داغ رہے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13227

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو يَلْعَنُ رِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13228

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو يَلْعَنُ رِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13229

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13230

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عِبَادَتِهِ فِي السِّرِّ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَسْأَلُونَ عَمَّا أَصْنَعُ أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگوں نے ازواج مطہرات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انفرادی عبادت کے متعلق سوال کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں ، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں ، اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13231

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَيْتِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْفَجْرِ فَيَقُولُ الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھ ماہ تک مسلسل جب نمازِ فجر کے وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے قریب سے گذرتے تھے تو فرماتے تھے اے اہل بیت! نماز کے لئے بیدار ہوجاؤ، اے اہل بیت! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13232

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقَامُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ اللَّهُ اللَّهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13233

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءَ رَجُلٍ لَا يَخَافُ الْفَاقَةَ وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَجِيءُ إِلَيْهِ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا فَمَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کی بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقروفاقہ کو کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازوسامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کر لیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13234

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ فَوَحَشَ بِهَا ثُمَّ جَاءَ سَائِلٌ آخَرُ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجَارِيَةِ اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، لیکن اس نے انہیں ہاتھ نہ لگایا، دوسرا آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، اس نے خوش ہو کر انہیں قبول کرلیا اور کہنے لگا سبحان اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کھجوریں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی باندی سے فرمایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور اسے ان کے پاس رکھے ہوئے چالیس درہم دلوادو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13235

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى فَابْتَاعَ لَهُمْ خَمْرًا فَلَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَجْعَلُهُ خَلًّا قَالَ لَا قَالَ فَأَهْرَاقَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں کچھ یتیم زیر پرورش تھے، انہوں نے ان کے پیسوں سے شراب خرید کر رکھ لی، جب شراب حرام ہوگئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کے پاس شراب ہو تو کیا ہم اسے سرکہ نہیں بناسکتے؟ فرمایا نہیں ، چنانچہ انہوں نے اسے بہا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13236

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ قَالَ حُسَيْنٌ عَنِ السُّدِّيِّ وَقَالَ أَسْوَدُ حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى فَابْتَاعَ لَهُمْ خَمْرًا فَلَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصْنَعُهُ خَلًّا قَالَ لَا قَالَ فَأَهْرَاقَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں کچھ یتیم زیر پرورش تھے، انہوں نے ان کے پیسوں سے شراب خرید کر رکھ لی، جب شراب حرام ہوگئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کے پاس شراب ہو تو کیا ہم اسے سرکہ نہیں بنا سکتے؟ فرمایا نہیں ، چنانچہ انہوں نے اسے بہا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13237

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لِأَنَسٍ أَكَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَأَنْتُمْ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدُ فَقَالَ مَا لَمْ يُحْدِثْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کے لئے برتن لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بے وضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13238

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَسْوَدُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَاصُّو صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ وَقَالَ عَفَّانُ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفیں جوڑ کر اور قریب قریب ہو کر بنایا کرو، کندھے ملا لیا کرو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی بھیڑوں کی طرح شیاطین صفوں کے بیچ میں گھس جاتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13239

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا كَانَ يَخْدُمُهُ يَهُودِيًّا فَقَالَ لَهُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَجَعَلَ يُنْظَرُ إِلَى أَبِيهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ قُلْ مَا يَقُولُ لَكَ قَالَ فَقَالَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ صَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ وَقَالَ غَيْرُ أَسْوَدَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ قُلْ مَا يَقُولُ لَكَ مُحَمَّدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13240

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ وَجَابِرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَنَّانِي بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13241

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13242

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا عُرِجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ أَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ فِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب معراج چوتھے آسمان پر میری ملاقات حضرت ادریس علیہ السلام سے کرائی گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13243

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب جنتی انہیں دیکھیں گے تو کہیں گے کہ یہ جہنمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13244

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ الرُّبَيِّعِ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا تُحَدِّثُنِي عَنْ حَارِثَةَ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ أَجْتَهِدُ عَلَيْهِ الْبُكَاءَ فَقَالَ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى قَالَ قَتَادَةُ وَالْفِرْدَوْسُ رَبْوَةُ الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا وَأَفْضَلُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13245

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَرَدِيفُهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا غَيْرُ آخِرَةِ الرَّحْلِ إِذْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْعِبَادِ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے، اور ان دونوں کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کے علاوہ کوئی اور چیز حائل نہ تھی، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ کچھ وقفے سے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو ان کا نام لے کر پکارا اور انہوں نے دونوں مرتبہ کہا " لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسعدیک" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں ، کیا تم یہ جانتے ہو کہ بندے جب یہ کام کرلیں تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13246

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَمْحَلَتْ الْأَرْضُ وَقَحَطَ النَّاسُ فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّكَ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ وَمَا نَرَى كَثِيرَ سَحَابٍ فَاسْتَسْقَى فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ مُطِرُوا حَتَّى سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِينَةِ وَاطَّرَدَتْ طُرُقُهَا أَنْهَارًا فَمَا زَالَتْ كَذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ ثُمَّ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهَا عَنَّا فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَدَعَا رَبَّهُ فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنْ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا يُمْطِرُ مَا حَوْلَهَا وَلَا يُمْطِرُ فِيهَا شَيْئًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اور جب بارش شروع ہوئی تو رکتی ہوئی نظر نہ آئی، جب اگلا جمعہ ہوا تو اسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکنے کی دعاء کر دیں ، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی اور میں نے دیکھا کہ بادل دائیں بائیں چھٹ گئے اور مدینہ کے اندر ایک قطرہ بھی نہیں ٹپک رہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13247

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ قَالَ وَرُبَّمَا قَعَدْنَا إِلَيْهِ أَنَا وَهُوَ قَالَ وَكَانَ مِنْ فِتْيَانِنَا أَحْدَثُ مِنِّي سِنًّا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّ أَنَسًا وَامْرَأَةً فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ وَالْمَرْأَةَ خَلْفَهُمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کی ایک عورت کو نماز پڑھائی، انس رضی اللہ عنہ کو دائیں جانب اور ان کی خاتون کو ان کے پیچھے کھڑا کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13248

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ قَالَ وَكَانَ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الْحَرْبِ ثُمَّ يَنْثُرُ كِنَانَتَهُ وَيَقُولُ وَجْهِي لِوَجْهِكَ الْوِقَاءُ وَنَفْسِي لِنَفْسِكَ الْفِدَاءُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ہی کئی لوگوں سے بہتر ہے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ جنگ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے تھے اور اپنا ترکش ہلاتے ہوئے کہتے تھے کہ میرا چہرہ آپ کے چہرے کے لئے بچاؤ اور میری ذات آپ کی ذات پر فدا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13249

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طِيبٌ قَطُّ فَرَدَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13250

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ فُزِّعَ النَّاسُ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ بَطِيئًا ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُ وَحْدَهُ فَرَكِبَ النَّاسُ يَرْكُضُونَ خَلْفَهُ فَقَالَ لَمْ تُرَاعُوا إِنَّهُ لَبَحْرٌ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک سست رفتار گھوڑے پر سوار ہوئے، اور اکیلے ہی اسے ایڑ لگا کر نکل پڑے، لوگ بھی سوار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا، بخدا اس کے بعد اس سے کوئی گھوڑا آگے نہ بڑھ سکا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13251

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ عَلَيْهِ وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا فَقَالَ أَنَسٌ إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسْمَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر لایا گیا ، اسے ایک طشتری میں رکھا گیا، ابن زیاد اسے چھڑی سے کریدنے لگا، اور ان کے حسن و جمال سے متعلق کچھ نازیبا بات کہی، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فوراً فرمایا کہ یہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ تھے، اس وقت ان پر وسمہ کا خضاب لگا ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13252

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ أَنَسًا كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13253

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ فَقَالَ لِلَّذِي مَعَهَا أَوْ لِصَاحِبِهَا ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ قَالَ وَإِنْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ قربانی کا جانور ہی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13254

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ وَلَمْ يَكُنْ يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو مزدوری کے معاملے میں اس پر ظلم نہیں فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13255

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے کچھ قبائل پر بددعاء کرتے رہے پھر اسے ترک کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13256

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا زَمَانٌ يَأْتِي عَلَيْكُمْ إِلَّا أَشَرُّ مِنْ الزَّمَانِ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر سال یا دن کے بعد آنے والا سال اور دن اس سے بدتر ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13257

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا، اور اس کے دس گناہ معاف فرمائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13258

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَأَلَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَطُّ إِلَّا قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَلَا اسْتَجَارَ مِنْ النَّارِ إِلَّا قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ سے بچالے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13259

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ يَهُودِيًّا أَخَذَ أَوْضَاحًا عَلَى جَارِيَةٍ ثُمَّ عَمَدَ إِلَيْهَا فَرَضَّ رَأْسَهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَأَدْرَكُوا الْجَارِيَةَ وَبِهَا رَمَقٌ فَأَخَذُوا الْجَارِيَةَ وَجَعَلُوا يَتْبَعُونَ بِهَا النَّاسَ أَهَذَا هُوَ أَوْ هَذَا هُوَ فَأَتَوْا بِهَا عَلَى الرَّجُلِ فَأَوْمَتْ إِلَيْهِ بِرَأْسِهَا فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصار بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کر دیا جو اس نے پہن رکھا تھا، اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، جب اس بچی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں زندگی کی تھوڑی سی رمق باقی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا نام لے کر اس سے پوچھا کہ تمہیں فلاں آدمی نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں ، دوسری مرتبہ بھی یہی ہوا، تیسری مرتبہ اس نے کہا ہاں ! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان قتل کروا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13260

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمْ يَبْلُغْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الشَّيْبِ مَا يَخْضِبُهُ وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَضَبَ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ حَتَّى يَقْنُوَ شَعْرُهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں تک نوبت ہی نہیں آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیوں میں چند بال سفید تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13261

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ وَأَتَمَّ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی اور مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دیتے تھے، اس اندیشے سے کہ اس کی ماں پریشان نہ ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13262

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ فَجَلَسَ يُمْلِي خَيْرًا حَتَّى يُمْسِيَ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِتْقِ ثَمَانِيَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص نمازِ عصر پڑھے، پھر بیٹھ کر اچھی بات املاء کروائے تاآنکہ شام ہو جائے، تو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آٹھ غلام آزاد کرنے سے زیادہ افضل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13263

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبٍ قِطْرِيٍّ فَصَلَّى بِهِمْ أَوْ قَالَ مُشْتَمِلًا فَصَلَّى بِهِمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13264

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَكَّأُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبٍ قِطْرِيٍّ فَصَلَّى بِهِمْ أَوْ قَالَ مُشْتَمِلًا فَصَلَّى بِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13265

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَاءَ لَمْ يُلْقِ ثَوْبَهُ حَتَّى يُوَارِيَ عَوْرَتَهُ فِي الْمَاءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت موسیٰ علیہ السلام جب نہر کے پانی میں غوطہ لگانے کا ارادہ کرتے تو اس وقت تک کپڑے نہ اتارتے تھے جب تک پانی میں اپنا ستر چھپا نہ لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13266

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ إِذَا رَفَعُوا وَإِذَا وَضَعُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر وعمر و عثمان رضی اللہ عنہم تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے (تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13267

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي أَصْحَابِهِ إِذْ مَرَّ بِهِمْ يَهُودِيٌّ فَسَلَّمَ فَلَمَّا مَضَى دَعَاهُ فَقَالَ كَيْفَ قُلْتَ قَالَ قُلْتُ سَامٌ عَلَيْكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا عَلَيْكُمْ أَيْ مَا قُلْتُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ، اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو " صرف وعلیک " کہا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13268

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ أَوْ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا قَالَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ وَكَانَ لَهُ حَائِطٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَائِطِي لِلَّهِ وَلَوْ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ فَقَالَ اجْعَلْهُ فِي قَرَابَتِكَ أَوْ أَقْرَبِيكَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " تم نیکی کے اعلیٰ درجے کو اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو " اور یہ آیت کہ " کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دیتا ہے " تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا فلاں باغ جو فلاں جگہ پر ہے، وہ اللہ کے نام پر دیتا ہوں اور بخدا! اگر یہ ممکن ہوتا کہ میں اسے مخفی رکھوں تو کبھی اس کا پتہ بھی نہ لگنے دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنے خاندان کے فقراء میں تقسیم کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13269

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً مِنْكُمْ فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13270

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى حُجَرِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ صَبِيحَةَ بِنَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَدْعُو لَهُنَّ وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ وَيَدْعُونَ لَهُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَأَى رَجُلَيْنِ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فَلَمَّا رَآهُمَا رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ وَثَبَا مُسْرِعَيْنِ قَالَ فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ بِخُرُوجِهِمَا أَمْ أُخْبِرَ فَرَجَعَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس پہلی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں رہے، اس کی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ ولیمہ دی، اور مسلمانوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، پھر حسب معمول واپس تشریف لے گئے اور ازواجِ مطہرات کے گھر میں جا کر انہیں سلام کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعائیں کیں ، پھر واپس تشریف لائے، جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان گھر کے ایک کونے میں باہم گفتگو جاری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر واپس چلے گئے، جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر سے واپس پلٹتے ہوئے دیکھا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے، اب مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر میں نے دی یا کسی اور نے، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر واپس آکر میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکالیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13271

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا عَنْ مَنَازِلِهِمْ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْرَى الْمَدِينَةُ فَقَالَ يَا بَنِي سَلِمَةَ أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو سلمہ نے ایک مرتبہ یہ ارادہ کیا کہ اپنی پرانی رہائش گاہ سے منتقل ہو کر مسجد کے قریب آکر سکونت پذیر ہوجائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کا خالی ہونا اچھا نہ لگا، اس لئے فرمایا اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد کی طرف اٹھنے والے قدموں کا ثواب حاصل نہیں کرنا چاہتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13272

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ شَاوَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا الْغَدَاةَ رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ أَهْلُ خَيْبَرَ بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ إِلَى زُرُوعِهِمْ وَأَرَاضِيهِمْ فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ رَجَعُوا هِرَابَا وَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہے تھے، ہم وہاں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا اور اہل خیبر اپنے مویشیوں کو نکال کر کلہاڑیاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے، ہمیں دیکھ کر کہنے لگے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور لشکر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ خیبر برباد برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13273

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتْ يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتْ الْقَصْعَةُ فَانْفَلَقَتْ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّ الْكَسْرَيْنِ وَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ غَارَتْ أُمُّكُمْ غَارَتْ أُمُّكُمْ وَيَقُولُ لِلْقَوْمِ كُلُوا وَحَبَسَ الرَّسُولَ حَتَّى جَاءَتْ الْأُخْرَى بِقَصْعَتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ قَصْعَتُهَا وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةُ لِلَّتِي كَسَرَتْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ ( غالباً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے پاس تھے، دوسری اہلیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھجوایا جس میں کھانے کی کوئی چیز تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خادم کے ہاتھ پر مارا، جس سے اس کے ہاتھ سے پیالہ نیچے گر کر ٹوٹ گیا اور دو ٹکڑے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری ماں نے اسے برباد کر دیا، پھر برتن کے دونوں ٹکڑے لے کر انہیں جوڑا اور ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کھانا اس میں سمیٹا اور فرمایا اسے کھاؤ، اور فارغ ہونے تک اس خادم کو روکے رکھا، اس کے بعد خادم کو دوسرا پیالہ دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اسی گھر میں چھوڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13274

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي مِنْ اللَّيْلِ يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَيَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تُنَادِي أَقْوَامًا قَدْ جَيَّفُوا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یہ آواز لگاتے ہوئے سنا اے ابوجہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13275

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر ان کے قریب کھڑے ہوں تاکہ احکام نماز سیکھ سکیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13276

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ فَقَالُوا لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ فَقُلْتُ مَنْ قَالُوا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے کا ایک محل نظر آیا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے سمجھا کہ وہ میں ہوں اس لئے پوچھا وہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ،۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13277

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ يَجْرِي حَافَّتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى مَا يَجْرِي فِيهِ فَإِذَا هُوَ مِسْكٌ أَذْفَرُ قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبریل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13278

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13279

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔ حدیث نمبر (١٢٤٦٣) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13280

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ فَذَكَرَ يَعْنِي ذَكَرَ حَدِيثَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدَمِهِ مِنْ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الْأَرْضِ لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے، اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13281

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ أَوْ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ قَالَ وَكَانَ يَصُومُ مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ لَا نَرَاهُ يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا وَيُفْطِرُ مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ لَا نَرَاهُ يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13282

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَنْ الدَّجَّالِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13283

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَعَثَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعِي بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ فَلَمْ أَجِدْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ إِذْ هُوَ عِنْدَ مَوْلًى لَهُ قَدْ صَنَعَ لَهُ ثَرِيدًا أَوْ قَالَ ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ فَدَعَانِي فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ فَجَعَلْتُ أَدَعُهُ قِبَلَهُ فَلَمَّا تَغَدَّى وَرَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ وَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ وَيَقْسِمُ حَتَّى أَتَى عَلَى آخِرِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے میرے ہاتھ ایک تھیلی میں تر کھجوریں بھر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں نہ پایا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے یہاں گئے ہوئے تھے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی تھی، میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی کھانے کے لئے بلالیا، دعوت میں صاحب خانہ نے گوشت اور کدو کا ثرید تیار کر رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا رہا، جب کھانے سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لائے تو میں نے وہ تھیلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کھاتے گئے اور تقسیم کرتے گئے یہاں تک کہ وہ تھیلی خالی ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13284

حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَجْهَرُوا بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات اونچی آواز میں بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13285

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیگر عورتوں پر ایسی ہی فضیلت ہے جیسے ثرید کو دوسرے کھانوں پر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13286

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يَبْنِي عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ أَمَرَنَا بِالْأَنْطَاعِ فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنْ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَقَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان تین دن قیام فرمایا اور حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی، میں نے مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کی دعوت دی، اس میں کوئی روٹی اور گوشت نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دستر خوان بچھانے کا حکم دیا، اور اس پر کھجوریں ، پنیر اور گھی لا کر رکھ دیا، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا، مسلمان آپس میں باتیں کرنے لگے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی امہات المومنین میں سے ہوں گی یا باندیوں میں سے؟ پھر آپس میں خود ہی کہنے لگے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردہ کرایا تو یہ امہات المومنین میں سے ہوں گی، اور اگر پردہ نہ گرایا تو یہ باندیوں میں سے ہوں گی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوچ فرمایا تو پیچھے سے ان کے لئے سواری پر چڑھنے میں مدد کی اور لوگوں اور ان کے درمیان پردہ کھینچ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13287

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ إِنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ هَلَكَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ فَلَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ وَإِلَّا فَسَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ لَهَا هَبِلْتِ أَوَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13288

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي جَبْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَكْفِي أَحَدَكُمْ مُدٌّ فِي الْوُضُوءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے لئے وضو میں ایک مد پانی کافی ہوجانا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13289

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ حَدَّثْتُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُؤَذِّنُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے لوگ مؤذن ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13290

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَضَحِكَ فَقَالَتْ مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قَالَتْ ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ فَرَكِبَتْ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنِهَا قَرَظَةَ حَتَّى إِذَا هِيَ قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّةً لَهَا بِالسَّاحِلِ فَوَقَصَتْ بِهَا فَسَقَطَتْ فَمَاتَتْ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت ملحان کے گھر میں ٹیک لگائی، سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت کے ان لوگوں کو دیکھ کر ہنسی آئی جو اس سبز سمندر پر اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے سوار ہو کر نکلیں گے اور وہ ایسے محسوس ہوں گے کہ گویا تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعاء فرما دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعاء فرما دی کہ اے اللہ! اسے بھی ان میں شامل فرما۔ پھر ان کا نکاح حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوگیا، اور وہ اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر پر روانہ ہوئیں، واپسی پر جب ساحل سمندر پر وہ اپنے جانور پر سوار ہوئیں تو وہ بدک گئی اور وہ اس سے گر کر فوت ہوگئیں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13291

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فُتِحَتْ لَهُ مِنْ الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر تین مرتبہ یہ کلمات کہے، اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ، لاشریک لہ، وان محمداً عبدہ، و رسولہ، تو جنت کے آٹھوں دروازے اس کے لئے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13292

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْقَى مِنْ الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا شَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں زائد جگہ بچ جائے گی تو اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13293

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ قَالَ أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَطَرِ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ أَحَدٌ فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَثَبَ حَتَّى دَخَلَ فَجَعَلَ يَصْعَدُ عَلَى مَنْكِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ أَتُحِبُّهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ تَقْتُلُهُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ قَالَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَرَاهُ تُرَابًا أَحْمَرَ فَأَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ذَلِكَ التُّرَابَ فَصَرَّتْهُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهَا قَالَ فَكُنَّا نَسْمَعُ يُقْتَلُ بِكَرْبَلَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13294

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ ثَلَاثَ حَصَيَاتٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً ثُمَّ وَضَعَ أُخْرَى بَيْنَ يَدَيْهِ وَرَمَى بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ وَذَاكَ أَمَلُهُ الَّتِي رَمَى بِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کنکریاں لیں اور ان میں سے اسے ایک کو، پھر دوسری کو، پھر تیسری کو، زمین پر رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، یہ اس کی موت ہے، اور یہ اس کی امیدیں ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13295

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ تَعَالَ نُؤْمِنْ بِرَبِّنَا سَاعَةً فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ فَغَضِبَ الرَّجُلُ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرَى إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ يُرَغِّبُ عَنْ إِيمَانِكَ إِلَى إِيمَانِ سَاعَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِنَّهُ يُحِبُّ الْمَجَالِسَ الَّتِي تُبَاهَى بِهَا الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهِمْ السَّلَام

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب اپنے کسی ساتھی سے ان کی ملاقات ہوئی تو اس سے کہتے کہ آؤ، تھوڑی دیر اپنے رب پر ایمان لے آئیں ، ایک دن انہوں نے یہی بات ایک آدمی سے کہی تو وہ غصے میں آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابن رواحہ کو تو دیکھئے، یہ لوگوں کو آپ پر ایمان لانے سے موڑ کر تھوڑی دیر کے لئے ایمان کی دعوت دے رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابن رواحہ پر اپنی رحمتیں برسائے، وہ ان مجلسوں کو پسند کرتے ہیں جن پر فرشتے فخر کرتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13296

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَهُ وَمَا مَسِسْتُ شَيْئًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمَمْتُ طِيبًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، بخدا! میں نے اگر کوئی کام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی، اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13297

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ صَامِتٍ الزُّرَقِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ يَا مَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعیاش زید بن صامت کے پاس سے گذرتے ہوئے انہیں دورانِ نماز اس طرح دعاء کرتے ہوئے سنا کہ " اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں ، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ، نہایت احسان کرنے والے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والے اور بڑے جلال اور عزت والے " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13298

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَنْزِلُ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا وَإِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم زوال شمس سے قبل سفر پر روانہ ہوتے تو نمازِ ظہر کو نمازِ عصر تک مؤخر کر دیتے، پھر اتر کر دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لیتے اور اگر سفر پر روانہ ہونے سے پہلے زوال کا وقت ہوجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نماز ظہر پڑھتے، پھر سوار ہوتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13299

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتُرْسٍ وَاحِدٍ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ حَسَنُ الرَّمْيِ فَكَانَ إِذَا رَمَى أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ایک ہی ڈھال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حفاظت کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے، وہ بہترین تیر انداز تھے، جب وہ تیر پھینکتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جھانک کر دیکھتے کہ وہ تیر کہاں جا کر گرا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13300

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13301

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِضَّةً فَصُّهُ مِنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13302

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مَوْهَبٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنِّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ يُنْعِشُ لِسَانَهُ حَقًّا يُعْمَلُ بِهِ بَعْدَهُ إِلَّا أَجْرَى اللَّهُ عَلَيْهِ أَجْرَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ وَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثَوَابَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی زبان کو سچ پر ثابت قدم رکھے جس پر اس کے بعد بھی عمل کیا جاتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ثواب قیامت تک اس کے لئے جاری فرما دیتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے پورا پورا اجر وثواب عطاء فرما دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13303

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَعَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيعِ عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُونَ لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ قَالَ سَلَّامٌ فَحَدَّثَنَا بِهِ شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ فَقَالَ حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر سو کے قریب مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کر دے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13304

حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ شَهِدْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَيْنِ لَيْسَ فِيهِمَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَيُّ شَيْءٍ فِيهِمَا قَالَ الْحَيْسُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ولیموں میں بھی شرکت کی ہے جس میں روٹی تھی اور نہ گوشت، راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا اے ابوحمزہ! پھر کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا حلوہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13305

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنًا كَثِيرَةً وَقَالَ لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ وَإِنِّي لَعِنْدَ فَخِذِ نَاقَتِهِ الْيُسْرَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ سفر حج میں بہت سے اونٹ لے کر گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا تھا، اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی بائیں جانب ران کے قریب تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13306

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي إِيَاسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ نَبِيٍّ رَهْبَانِيَّةٌ وَرَهْبَانِيَّةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی رہبانیت رہی ہے، اس امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13307

حَدَّثَنَا أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ فِي الْعَنْفَقَةِ قَلِيلًا وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ يَسِيرٌ لَا يَكَادُ يُرَى و قَالَ الْمُثَنَّى وَالصُّدْغَيْنِ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی کے اگلے حصے میں ، تھوڑی کے اوپر بالوں میں ، سر میں اور کنپٹیوں پر چند بال سفید تھے، جو بہت زیادہ محسوس نہ ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13308

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ وَفِي الْعَنْفَقَةِ قَلِيلًا وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ يَسِيرٌ لَا يَكَادُ يُرَى وَقَالَ الْمُثَنَّى وَالصُّدْغَيْنِ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی کے اگلے حصے میں ، تھوڑی کے اوپر بالوں میں ، سر میں اور کنپٹیوں پر چند بال سفید تھے، جو بہت زیادہ محسوس نہ ہوتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13309

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ وَيُزَادَ لَهُ فِي رِزْقِهِ فَلْيَبَرَّ وَالِدَيْهِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ قَالَ وَقَالَ السَّالَحِينِيُّ يُبَارَكَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَقَالَ وَالِدَيْهِ أَيْضًا و قَالَ يُونُسُ وَالِدَيْهِ وَقَالَ يُزَادَ لَهُ فِي رِزْقِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت اور رزق میں اضافہ ہوجائے، اسے چاہئے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اور صلہ رحمی کیا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13310

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَلَامٌ فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ تَسْتَطِيلُونَ عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِهَا فَبَلَغَنَا أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوا لِي أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ تلخی ہوگئی تھی، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عوف رضی اللہ عنہ سے کہیں فرما دیا تھا کہ آپ لوگ ہم پر ان ایام کی وجہ سے لمبے ہونا چاہتے ہیں جن میں آپ ہم پر اسلام لانے میں سبقت لے گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ میرے صحابہ رضی اللہ عنہ کو میرے لئے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دو تو ان کے اعمال کے برابر نہیں پہنچ سکتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13311

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الصَّيْقَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجْنَا نَصْرُخُ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَقَالَ لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً وَلَكِنْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے، مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیں ، اور فرمایا اگر وہ بات جو بعد میں میرے سامنے آئی، پہلے آجاتی تو میں بھی اسے عمرہ بنا لیتا لیکن میں ہدی کا جانور اپنے ساتھ لایا ہوں ، اور حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا ہوا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13312

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَبُو غَالِبٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاءُ تَطِشُّ عَلَيْهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو جب اٹھایا جائے گا تو آسمان گویا ان پر آگ برسا رہا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13313

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ الْحُدَّانِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا قَالَ هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ قَالَ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ فِيهِنَّ شَيْئًا وَلَا أُنْقِصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے یہ بتائیے کہ اللہ نے کتنی نمازیں فرض کی ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، اس نے پوچھا کہ ان سے پہلے یا بعد میں بھی کوئی نماز فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، اس پر وہ کہنے لگا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا رہا تو جنت میں داخل ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13314

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدًا حَدَّثَ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ فَقَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حالت احرام میں سینگی لگوانے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی تکلیف کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13315

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْمَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے درخواست کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے، وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اونٹنی کے بچے کو لے کر کیا کروں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اونٹنیاں اونٹوں کے علاوہ بھی کسی کو جنتی ہیں ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13316

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَرَ وَلَمْ أَشُمَّ مِسْكَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبُ رِيحًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ گندمی تھا، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے عمدہ کوئی مہک نہیں سونگھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13317

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ فَقَالَ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشَاءَ الْآخِرَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ قَالَ أَنَسٌ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ وَرَفَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشاء کو نصف رات تک مؤخر کر دیا، اور فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سوگئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا، تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے اور انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ بلند کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13318

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَصَابَنَا مَطَرٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ إِنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بارش ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکل کر اپنے کپڑے جسم کے اوپر والے حصے سے ہٹا دیئے تاکہ بارش کا پانی جسم تک بھی پہنچ جائے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا کہ یہ بارش اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13319

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَصْحَابُهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَصَلَّى بِهِمْ فَخَفَّفَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَأَطَالَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَصَلَّى بِهِمْ فَخَفَّفَ ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا جِئْنَاكَ الْبَارِحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّيْتَ بِنَا فَخَفَّفْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ بَيْتَكَ فَأَطَلْتَ فَقَالَ إِنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِكُمْ قَالَ حَمَّادٌ وَكَانَ حَدَّثَنَا هَذَا الْحَدِيثَ ثَابِتٌ عَنْ ثُمَامَةَ فَلَقِيتُ ثُمَامَةَ فَسَأَلْتُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے ، کافی دیر گذر نے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے ، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم آج رات بیٹھے ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ہی ایسا کیا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13320

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ حَجَّاجٍ الْأَحْوَلِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا يَعْنِي فَلْيُصَلِّهَا قَالَ فَلَقِيتُ حَجَّاجًا الْأَحْوَلَ فَحَدَّثَنِي بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے، اسے پڑھ لے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13321

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ وَحَمَّادٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَى الْمَرِيضِ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تو اس کے لئے دعاء فرماتے کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما، شفاء عطاء فرما کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی شفاء دینے والا نہیں ہے، ایسی شفاء عطاء فرما جو بیماری کا نام و نشان بھی باقی نہ چھوڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13322

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ قَالَ قَالَ وَلَكِنْ الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے، اس لئے اب میرے بعد کوئی رسول یا نبی نہ ہوگا، لوگوں کو یہ بات بہت بڑی معلوم ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا البتہ " مبشرات " باقی ہیں ، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مبشرات سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خواب، جو اجزاء نبوت میں سے ایک جزو ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13323

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا وَكَأَنَّ ظُبَةَ سَيْفِي انْكَسَرَتْ فَأَوَّلْتُ أَنِّي أَقْتُلُ صَاحِبَ الْكَتِيبَةِ وَأَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُقْتَلُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ گویا میں نے اپنے پیچھے ایک مینڈھے کو بٹھا رکھا ہے، اور گویا میری تلوار کا دستہ ٹوٹ گیا ہے، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ میں مشرکین کے علم بردار کو قتل کروں گا (اور میرے اہل بیت میں سے بھی ایک آدمی شہید ہوگا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے علمبردار طلحہ بن ابی طلحہ کو قتل کیا اور ادھر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13324

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا خَالُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ خَالٌ أَمْ عَمٌّ قَالَ بَلْ خَالٌ قَالَ وَخَيْرٌ لِي أَنْ أَقُولَهَا قَالَ نَعَمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا ماموں جان! لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیجئے، اس نے کہا ماموں یا چچا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، ماموں لا الہ الا اللہ کہہ لیجئے، اس نے پوچھا کہ کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13325

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَلَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَكِنْ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاكَ وَلَكِنْ اكْتُبْ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ وَمَنْ جَاءَ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَكْتُبُ هَذَا قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش کے جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح نامہ تیار کیا، ان میں سہیل بن عمرو بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھو، اس پر سہیل کہنے لگا کہ ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم کو نہیں جانتے، آپ باسمک اللھم لکھوائیے جو ہم بھی جانتے ہیں ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو " محمدرسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جانب سے، سہیل کہنے لگا اگر ہم آپ کو اللہ کا پیغمبر مانتے تو آپ کی اتباع کرتے، آپ اپنا اور اپنے والد صاحب کا نام لکھوائیے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو " محمد بن عبداللہ کی جانب سے" اس صلح نامہ میں مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرط بھی ٹھہرائی تھی کہ آپ کا جو آدمی ہمارے پاس آجائے گا، ہم اسے واپس نہیں لوٹائیں گے لیکن ہم میں سے جو آدمی آپ کے پاس آئے گا، آپ اسے ہمیں لوٹا دیں گے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم یہ شرط بھی لکھیں ؟ فرمایا ہاں ! ہم میں سے جو ان کے پاس جائے، اللہ اسے ہم سے دور ہی رکھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13326

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَبْلُغُ عَمَلَهُمْ قَالَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13327

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فَقُلْتُ مَا هَذِهِ الْخَشْفَةُ فَقِيلَ الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملیحان تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13328

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي قَدِمَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ وَقَالَ مَا نَفَضْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِي حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی تھی اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ابھی ہم تدفین سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کی حالت کو تبدیل پایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13329

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ وَبَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا انْبَعَثَتْ بِهِ سَبَّحَ وَكَبَّرَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلُّوا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ منورہ میں چار رکعتوں کے ساتھ ادا کی، اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت کے ساتھ پڑھی، رات وہیں پر قیام فرمایا اور نمازِ فجر پڑھ کر اپنی سواری پر سوار ہوئے، اور راستے میں تسبیح وتکبیر پڑھتے رہے، جب مقامِ بیداء میں پہنچے تو ظہر اور عصر کو اکٹھے ادا کیا، جب ہم لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو احرام کھول لینے کا حکم دیا، آٹھ ذی الحجہ کو انہوں نے دوبارہ حج کا احرام باندھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے سات اونٹ کھڑے کھڑے ذبح کیے اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13330

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ لِلْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِي حَاجَةٌ فَقَامَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نمازِ عشاء کا وقت ہوگیا، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو کرنے لگے یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور راوی نے وضو کا ذکر نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13331

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13332

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أَبِي قَالَ فِي النَّارِ قَالَ فَلَمَّا قَفَّا دَعَاهُ فَقَالَ إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے والد کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں ، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو فرمایا کہ میرا اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13333

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا يَقُولُ كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ جَالِسًا وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ فَقَالَ أَنَسٌ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ فَقَالَتْ ابْنَتُهُ مَا كَانَ أَقَلَّ حَيَاءَهَا فَقَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا

ثابت رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں ان کی ایک صاحبزادی بھی موجود تھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کہنے لگی کہ اس عورت میں شرم و حیاء کتنی کم تھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ تجھ سے بہتر تھی، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رغبت ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13334

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ تَعْلَمُونَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں ، اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13335

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَوُوا اسْتَوُوا فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13336

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فَقُلْتُ مَا هَذِهِ الْخَشْفَةُ فَقِيلَ الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ جہنم میں داخل کیے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا، اہل جنت ان کا نام رکھ دیں گے کہ یہ جہنمی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13337

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سَمَّوْا الْيَهُودِيَّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا قَالَ فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، اس بچی سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ یہ سلوک فلاں نے کیا ہے، فلاں نے کیا ہے یہاں تک کہ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہہ دیا، اس یہودی کو پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس کا سر بھی پتھروں سے کچل دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13338

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ قَالَ بَهْزٌ إِنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعَرًا يَضْرِبُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13339

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں بخدا تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13340

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْ مَعَهُ بِقِنَاعٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَبَضَ قَبْضَةً فَبَعَثَ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ وَذَكَرَهُ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ أَكَلَ أَكْلَ رَجُلٍ يُعْرَفُ أَنَّهُ يَشْتَهِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک تھالی میں کھجوریں رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک مٹھی بھر کر اپنی زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں ، پھر ایک مٹھی بھر کر دوسری زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں ، پھر جو باقی بچ گئیں وہ بیٹھ کر اس طرح تناول فرمالیں ، اور اس سے معلوم ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی تمنا تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13341

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ قَالَ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا حَتَّى سَأَلُوا رَبَّهُمْ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا، اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر انہیں سمجھ نہ آئی کہ اس کا کتنا ثواب لکھیں چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ کلمات اسی طرح لکھ لو جیسے میرے بندے نے کہے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13342

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ نَعْلُهُ لَهَا قِبَالَانِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13343

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنی دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13344

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي قَالَ قَالَ لَعُمَرَ قَالَ ثُمَّ سِرْتُ سَاعَةً فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ خَيْرٍ مِنْ الْقَصْرِ الْأَوَّلِ قَالَ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي قَالَ قَالَ لِعُمَرَ وَإِنَّ فِيهِ لَمِنْ الْحُورِ الْعِينِ يَا أَبَا حَفْصٍ وَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا غَيْرَتُكَ قَالَ فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا عَلَيْكَ فَلَمْ أَكُنْ لِأَغَارَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں گھوم رہا تھا کہ ایک محل پر پہنچ کر رک گیا، میں نے پوچھا جبریل! یہ محل کس کا ہے؟ میرا خیال تھا کہ ایسا محل تو میرا ہوسکتا ہے، انہوں نے جواب دیا کہ یہ عمر کا ہے، تھوڑی دور اور آگے چلا تو پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ایک اور محل آیا، میں نے پوچھا جبریل یہ کس کا ہے؟ اس مرتبہ بھی میرا یہی خیال تھا کہ ایسا محل تو میرا ہو سکتا ہے، لیکن انہوں نے بتایا کہ یہ بھی عمر ہی کا ہے اور اے ابوحفص! اس میں ایک حورعین بھی تھی، مجھے تمہاری غیرت کے علاوہ اس میں داخل ہونے سے کسی چیز نہیں روکا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں یہ سن کر ڈبڈبا گئیں اور وہ کہنے لگے کہ آپ پر تو میں کسی طرح اپنی غیرت مندی کا اظہار نہیں کرسکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13345

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ قَالَ بَهْزٌ وَقَالَ هَمَّامٌ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بَعْدَ ذَلِكَ وَزَادَ مَعَ هَذَا الْكَلَامِ أَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے، اسے پڑھ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13346

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ قَالَ عَفَّانُ فَسَأَلْتُ حَمَّادًا فَحَدَّثَنِي بِهِ وَذَهَبَ فِي حِرَّوْرِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص خواب میں میری زیارت کرے وہ سمجھ لے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شباہت اختیار کر ہی نہیں سکتا، اور مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھالیسواں جزو ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13347

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ فَقَالَ إِنْ يَعِشْ هَذَا فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری لڑکا " جس کا نام محمد " بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا ہو تو سکتا ہے کہ اس پر بڑھاپا آنے سے پہلے ہی قیامت آجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13348

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ كَانَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤَ وَكَانَ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ وَمَا مَسِسْتُ دِيبَاجًا قَطُّ وَلَا حَرِيرًا وَلَا شَيْئًا قَطُّ أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمَمْتُ رَائِحَةً قَطُّ مِسْكَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رِيحِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ کھلتا ہوا تھا، پسینہ موتیوں کی طرح تھا، جب وہ چلتے تو پوری قوت سے چلتے تھے، میں نے کوئی عنبر یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی، اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13349

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ خَرَجْتَ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطرتِ سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے اشھدان الا الہ الا اللہ کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13350

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رُقَيَّةَ لَمَّا مَاتَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَهْلَهُ اللَّيْلَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی قبر میں ایسا شخص نہیں اترے گا جو رات کو اپنی بیوی سے بے حجاب ہوا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13351

حَدَّثَنَا عَفَّانٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ أُنَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَهُ بِاللَّيْلِ وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَالْفُقَرَاءِ فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَفَرَّقُوا لَهُمْ فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ فَقَالُوا اللَّهُمَّ أَبْلِغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا قَالَ فَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ بِرُمْحِهِ حَتَّى أَنْفَذَهُ فَقَالَ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ إِنَّ إِخْوَانَكُمْ الَّذِينَ قُتِلُوا قَالُوا لِرَبِّهِمْ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیج دیجئے جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دیں ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ کو بھیج دیا جنہیں قراء کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حرام بھی تھے، یہ لوگ رات کو قرآن پڑھتے تھے اور دن کو پانی لا کر مسجد میں رکھتے تھے اور لکڑیاں کاٹ کر بیچتے اور ان سے اہل صفہ اور فقراء کے لئے کھانا خرید کر لاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیج دیا، لے جانے والوں نے انہیں متفرق کر کے اپنے علاقے میں پہنچنے سے پہلے ہی شہید کر دیا، وہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے اور تو ہم سے راضی ہوگیا، اسی اثناء میں ایک آدمی حضرت حرام رضی اللہ عنہ " میرے ماموں " کے پاس پیچھے سے آیا اور ایسا نیزہ مارا کہ آر پار کر دیا، وہ کہنے لگے رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے بھائی جو شہید ہوگئے ہیں ، انہوں نے اپنے رب سے عرض کیا کہ ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے اور تو ہم سے راضی ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13352

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ فَيَبْقَى مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى ثُمَّ يُنْشِئُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا خَلْقًا مِمَّا يَشَاءُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور اس میں جگہ زائد بچ جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13353

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13354

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13355

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ عَنْ شَعَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ شَعْرًا أَشْبَهَ بِشَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَعَرِ قَتَادَةَ فَفَرِحَ يَوْمَئِذٍ قَتَادَةُ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے ساتھ قتادہ کے بالوں سے زیادہ مشابہہ کسی کے بال نہیں دیکھے، اس دن قتادہ رحمۃ اللہ علیہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13356

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْتَمِعْ لَهُ غَدَاءٌ وَلَا عَشَاءٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ إِلَّا عَلَى ضَفَفٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی دن دوپہر اور رات کے کھانے میں روٹی اور گوشت جمع نہیں ہوئے، الاّ یہ کہ کبھی مہمان آگئے ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13357

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَجَابَهُ وَقَدْ قَالَ أَبَانُ أَيْضًا أَنَّ خَيَّاطًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر دعوت کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13358

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ أَنَسٌ مَا أَعْرِفُ فِيكُمْ الْيَوْمَ شَيْئًا كُنْتُ أَعْهَدُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قَوْلَكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ الصَّلَاةَ قَالَ قَدْ صَلَّيْتُ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ أَفَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ عَلَى أَنِّي لَمْ أَرَ زَمَانًا خَيْرًا لِعَامِلٍ مِنْ زَمَانِكُمْ هَذَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ زَمَانًا مَعَ نَبِيٍّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں جو چیزیں میں نے دیکھی ہیں ، آج ان میں سے ایک چیز بھی نہیں دیکھتا سوائے اس کے تم " لا الہ الا اللہ " کہتے ہو، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوحمزہ! کیا ہم نماز نہیں پڑھتے؟ فرمایا تم غروبِ آفتاب کے وقت تو نمازِ عصر پڑھتے ہو، کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی؟ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ تمہارے اس زمانے سے بہتر زمانہ کسی عمل کرنے والے کے لئے میں نے نہیں دیکھا الاّ یہ کہ وہ نبی کا زمانہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13359

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ وَأَبُو طَلْحَةَ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَإِنِّي لَأَرَى قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمْهَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ أَهْلُ الزَّرْعِ إِلَى زُرُوعِهِمْ وَأَهْلُ الْمَوَاشِي إِلَى مَوَاشِيهِمْ قَالَ كَبَّرَ ثُمَّ أَغَارَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہے تھے، ہم وہاں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا اور اہل خیبر اپنے مویشیوں کو نکال کر کلہاڑیاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے، ہمیں دیکھ کر کہنے لگے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اور لشکر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ خیبر برباد برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13360

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ أَيْ أَخِي أَنَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَالًا فَانْظُرْ شَطْرَ مَالِي فَخُذْهُ وَتَحْتِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَعْجَبُ إِلَيْكَ حَتَّى أُطَلِّقَهَا فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ عَلَى السُّوقِ فَذَهَبَ فَاشْتَرَى وَبَاعَ وَرَبِحَ فَجَاءَ بِشَيْءٍ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ ثُمَّ لَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ فَجَاءَ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْيَمْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَقَالَ مَا أَصْدَقْتَهَا قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَلَوْ رَفَعْتُ حَجَرًا لَرَجَوْتُ أَنْ أُصِيبَ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنا سارا مال دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں ، نیز میری دو بیویاں ہیں ، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں ، جب اس کی عدت گذر جائے تو آپ اس سے نکاح کر لیجئے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے مال اور اہل خانہ کو آپ کے لئے باعث برکت بنائے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، چنانچہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو راستہ بتا دیا، وہ چلے گئے، واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور گھی تھا جو وہ منافع میں بچا کر لائے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر زرد رنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ نشان کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ کجھور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو، اگرچہ صرف ایک بکری ہی سے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13361

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَجَازَ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13362

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْجَعَ النَّاسِ وَأَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ قَالَ فُزِّعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً قَالَ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَبَقَهُمْ وَهُوَ يَقُولُ لَمْ تُرَاعُوا قَالَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ فَجَعَلَ يَقُولُ لِلنَّاسِ لَمْ تُرَاعُوا قَالَ وَقَالَ إِنَّا وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ يَعْنِي الْفَرَسَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بے زین گھوڑے پر سوار ہیں ، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13363

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْنِ لَهُ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِهِ نَفْسَهُ فَلْيَرْكَبْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13364

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّاسَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَأَقْحَطْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاسْتَسْقِ لَنَا فَقَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَاسْتَسْقَى وَصَفَ حَمَّادٌ وَبَسَطَ يَدَيْهِ حِيَالَ صَدْرِهِ وَبَطْنُ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ فَمَا انْصَرَفَ حَتَّى أَهَمَّتْ الشَّابَّ الْقَوِيَّ نَفْسُهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ فَمُطِرْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَ الْبُنْيَانُ وَانْقَطَعَ الرُّكْبَانُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَكْشِطَهَا عَنَّا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَانْجَابَتْ حَتَّى كَانَتْ الْمَدِينَةُ كَأَنَّهَا فِي إِكْلِيلٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کیے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گر گئیں اور سوار مدینہ سے باہر ہی رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی کہ اے اللہ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13365

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أُخْبِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ بِقُدُومِهِ وَهُوَ فِي نَخْلِهِ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ فَإِنْ أَخْبَرْتَنِي بِهَا آمَنْتُ بِكَ وَإِنْ لَمْ تَعْلَمْهُنَّ عَرَفْتُ أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ قَالَ فَسَأَلَهُ عَنْ الشَّبَهِ وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا قَالَ ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ قَالَ أَمَّا الشَّبَهُ إِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ ذَهَبَ بِالشَّبَهِ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ ذَهَبَتْ بِالشَّبَهِ وَأَمَّا أَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ وَأَمَّا أَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَتَحْشُرُهُمْ إِلَى الْمَغْرِبِ فَآمَنَ وَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ابْنُ سَلَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ وَإِنَّهُمْ إِنْ سَمِعُوا بِإِسْلَامِي يَبْهَتُونِي فَأَخْبِئْنِي عِنْدَكَ وَابْعَثْ إِلَيْهِمْ فَتَسْأَلَهُمْ عَنِّي فَخَبَّأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَجَاءُوا فَقَالَ أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ قَالُوا هُوَ خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ تُسْلِمُونَ فَقَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَأَخْبِرْهُمْ فَخَرَجَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالُوا أَشَرُّنَا وَابْنُ أَشَرِّنَا وَجَاهِلُنَا وَابْنُ جَاهِلِنَا فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ قَدْ أَخْبَرْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پوچھو، انہوں نے کہا کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا چیز ہوگی؟ اور بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا جواب مجھے ابھی ابھی حضرت جبریل نے بتایا ہے، عبداللہ کہنے لگے وہ تو فرشتوں میں یہودیوں کا دشمن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو مشرق سے نکل کر تمام لوگوں کو مغرب میں جمع کرلے گی، اور اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہوگا، اور بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ مشابہہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر مرد کا " پانی'' عورت کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے، یہ سن کر عبداللہ کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہودی بہتان باندھنے والی قوم ہیں ، اگر انہیں میرے اسلام کا پتہ چل گیا تو وہ آپ کے سامنے مجھ پر طرح طرح کے الزام لگائیں گے، اس لئے آپ ان کے پاس پیغام بھیج کر انہیں بلائیے اور میرے متعلق ان سے پوچھئے کہ تم میں ابن سلام کیسا آدمی ہے؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا، اور ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن سلام تم میں کیسا آدمی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں سب سے بہتر ہے اور سب سے بہتر کا بیٹا ہے، ہمارا عالم اور عالم کا بیٹا ہے، ہم میں سب سے بڑا فقیہہ ہے اور سب سے بڑے فقیہہ کا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ، اگر وہ اسلام قبول کر لے تو کیا تم بھی اسلام قبول کر لو گے؟ وہ کہنے لگے اللہ اسے بچا کر رکھے، اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر نکل آئے اور ان کے سامنے کلمہ پڑھا، یہ سن کر وہ کہنے لگے کہ یہ ہم میں سب سے بدتر ہے اور سب سے بدتر کا بیٹا ہے اور ہم میں جاہل اور جاہل کا بیٹا ہے، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو آپ کو پہلے ہی بتایا دیا تھا کہ یہودی بہتان باندھنے والی قوم ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13366

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنْ فَارِسِيًّا كَانَ جَارًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرَقَتُهُ أَطْيَبَ شَيْءٍ رِيحًا فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ هَكَذَا وَصَفَ حَمَّادٌ بِيَدِهِ أَيْ تَعَالَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ وَعَائِشَةُ مَعِي يُومِئُ إِيمَاءً فَقَالَ الرَّجُلُ بِيَدِهِ هَكَذَا وَوَصَفَ حَمَّادٌ أَيْ لَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا أَيْ لَا قَالَ ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِ أَنْ تَعَالَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا يَقُولُ كَذَا وَيَقُولُ كَذَا وَصَفَ حَمَّادٌ أَيْ لَا وَيَقُولُ ذَا أَيْ لَا فَقَالَ هَكَذَا أَيْ قُومَا فَذَهَبَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پڑوسی فارس کا رہنے والا تھا، وہ سالن بڑا اچھا پکاتا تھا، ایک دن اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا پکایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینے کے لئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی میرے ساتھ ہوں گی، اس نے انکار کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا، اور وہ چلا گیا، پھر تین مرتبہ اسی طرح چکر لگائے بالآخر اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی ساتھ لانے کے لئے ہامی بھر لی، چنانچہ وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے اس کے گھر چلے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13367

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ كَانَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ حِنْدِسٍ فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا فَجَعَلَا يَمْشِيَانِ فِي ضَوْئِهَا فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَاءَتْ عَصَا الْآخَرِ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَاءَتْ عَصَا ذَا وَعَصَا ذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران رات کا کافی حصہ بیت گیا اور وہ رات بہت تاریک تھی، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہو کر نکلے تو ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک آدمی کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے، جب دونوں اپنے اپنے راستے پر جدا ہونے لگے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13368

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ حَارِثَةَ ابْنَ الرُّبَيِّعِ جَاءَ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَّارًا وَكَانَ غُلَامًا فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَوَقَعَ فِي ثُغْرَةِ نَحْرِهِ فَقَتَلَهُ فَجَاءَتْ أُمُّهُ الرُّبَيِّعُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ مَكَانَ حَارِثَةَ مِنِّي فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَسَأَصْبِرُ وَإِلَّا فَسَيَرَى اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ فَقَالَ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر میں حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ " جو کہ نوعمر لڑکے تھے " سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13369

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا بندہ بالشت برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوتا جاتا ہوں ، اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13370

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ أَمْ كَانَ يَقُولُهُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَقَالَ حَجَّاجٌ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، مجھے معلوم نہیں کہ آیت تھی یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13371

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ أَوْ لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ وَلَمْ يَشُكَّ حَجَّاجٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13372

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ وَحَتَّى يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور کسی انسان سے اگر محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13373

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ و حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهَا بِيَدِهِ وَاضِعًا قَدَمَهُ يَعْنِي عَلَى صَفْحَتِهِمَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَنَسٌ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13374

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار میرا پردہ ہیں ، لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، اس لئے تم انصار کے نیکیوں کی نیکی قبول کرو، اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13375

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَهُ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَخَفُّ الْحُدُودِ ثَمَانُونَ فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَالَ حَجَّاجٌ ثَمَانُونَ وَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقریباً چالیس مرتبہ دو ٹہنیوں سے مارا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق مشورہ کیا، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد اسی کوڑے ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13376

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَالْحَجَّاجُ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ فَقَالَ قُولُوا وَعَلَيْكُمْ و قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ أَسْأَلْ قَتَادَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ هَلْ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13377

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ وَيَبْقَى النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً وَاحِدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی، اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13378

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم نہ اٹھالیا جائے، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک آدمی ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13379

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ " الم یکن الذین کفروا " والی سورت تمہیں پڑھ کر سناؤں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13380

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رُخِّصَ أَوْ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13381

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رُخِّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ولِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ يَعْنِي لِعِلَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ رَخَّصَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرمادی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13382

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ فِي الْحَرِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرمادی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13383

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13384

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا يَبْزُقَنَّ قَالَ قَالَ حَجَّاجٌ فَلَا يَبْصُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13385

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ شَكَّ فِي عُثْمَانَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13386

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بلند آواز سے " بسم اللہ" پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13387

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَسْتَفْتِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِرَاءَةَ قَالَ إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرأت کا آغاز کس چیز سے فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جو اب تک کسی نے نہیں پوچھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13388

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الدُّبَّاءَ قَالَ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ أَوْ دُعِيَ لَهُ قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ فَأَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ لِمَا أَعْلَمُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13389

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ و حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ بَعْدِي وَرُبَّمَا قَالَ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں بخدا تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13390

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ و حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13391

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي الصَّلَاةِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَانْبِسَاطِ الْكَلْبِ هَكَذَا قَالَ يَزِيدُ اعْتَدِلُوا فِي الصَّلَاةِ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ فَذَكَرَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13392

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13393

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يَقُولُ عَنْ قَتَادَةَ مَا رَفَعَهُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي الْحَدِيثَ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ هَذَا أَحَدُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13394

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتِمُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ يَعْنِي مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13395

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَجَازَ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13396

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَسُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَقُولُ تَزَوَّجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَجَازَ ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ الْحَكَمُ يَأْخُذُ بِهَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی، (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز قرار دے دیا) ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13397

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا ایک گھوڑا " جس کا نام مندوب تھا " عاریۃً لیا اور فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13398

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْبُزَاقَ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَبَهْزٌ وَأَبُو النَّضْرِ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13399

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى قَالَ شُعْبَةُ وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَمْ قَالَهُ قَتَادَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں ، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13400

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ فِي الثَّالِثَةِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13401

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13402

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہوں میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13403

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں ، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے ، اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13404

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ قَالَ حَجَّاجٌ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُجِيزَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ تم میں انصار کے علاوہ تو کوئی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ، البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے، پھر فرمایا قریش کا زمانہ جاہلیت اور مصیبت قریب ہی ہے اور اس کے ذریعے میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں ، کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال ودولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر خدا کو اپنے گھروں میں لے جاؤ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے پر چلوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13405

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا قَالَ الْحُدَيْبِيَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13406

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَكَانُوا لَا يَجْهَرُونَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بلند آواز سے " بسم اللہ" پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13407

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ كِتَابًا قَالُوا إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا قَالَ فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13408

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں ، ایک حرص اور ایک امید۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13409

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13410

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ وَهِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا فَأْلَ قَالَ قِيلَ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے اور بدشگونی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ، البتہ مجھے فال لینا اچھا لگتا ہے، کسی نے پوچھا فال سے کیا مراد ہے؟ تو فرمایا اچھی بات۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13411

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ وَقَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ! آخرت کی زندگی کے علاوہ کوئی زندگی نہیں ، پس انصار اور مہاجرین کو معزز فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13412

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ قَدْ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کا گوشت آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13413

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ قَدْ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13414

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ بَرِيرَةَ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13415

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول سے محبت ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13416

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَافِرَ أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13417

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ غَيْرَ الشَّهِيدِ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ الْكَرَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13418

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13419

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْرِجُوا مِنْ النَّارِ وَقَالَ حَجَّاجٌ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَخْرِجُوا مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً أَخْرِجُوا مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً أَخْرِجُوا مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَخْرِجُوا مِنْ النَّارِ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَزَادَ فِيهِ أَخْرِجُوا مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ دُودَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں کیڑے کے وزن کے برابر ایمان رکھنے والوں کو بھی جہنم سے نکال لینے کا ذکر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13420

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَبَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُوَاصِلُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ وَقَالَ بَهْزٌ إِنِّي أَظَلُّ أَوْ أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13421

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ وَيْحَكَ أَوْ وَيْلَكَ ارْكَبْهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہو جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13422

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ وَإِنِّي قَدْ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13423

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوا لَا إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَقَالَ مَرَّةً مِنْهُمْ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ أَنَسٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ تم میں انصار کے علاوہ تو کوئی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ، البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13424

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13425

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَاَ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی ، بغض ، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13426

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِقَتَادَةَ فَقَالَ قَتَادَةُ كَانَ أَنَسٌ يَقُولُ هَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذابِ جہنم سے محفوظ فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13427

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا قَالَ وَكَانَ أَنَسٌ يَكْرَهُهُ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ نہیں سنا، راوی کے بقول حضرت انس رضی اللہ عنہ اسے ناپسند فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13428

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِثَوْبٍ حَرِيرٍ فَجَعَلُوا يَمَسُّونَهُ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا وَأَلْيَنُ مِنْ هَذَا أَوْ قَالَ مِنْدِيلُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13429

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے گمان " جو وہ میرے ساتھ کرتا ہے " کے قریب ہوتا ہوں ، اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہی ہوتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13430

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13431

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سو جاتے تھے، پھر اٹھ کر تازہ وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13432

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ و حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ قَالَ يَحْيَى كُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں چار صحابہ رضی اللہ عنہم نے پورا قرآن یاد کرلیا تھا، اور وہ چاروں انصار سے تعلق رکھتے تھے، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ۔ میں نے ابو زید کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا وہ میرے ایک چچا تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13433

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نُهِيَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ قُلْتُ فَالْأَكْلُ قَالَ ذَاكَ أَشَدُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13434

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنْ الْجَنَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حجر اسود جنتی پتھر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13435

حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَأَبُو نُوحٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبُو نُوحٍ وسَمِعَهُ مِنْهُ و حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ هَاشِمٍ وَالْحَجَّاجِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13436

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَذْهَبُ الرِّجَالُ وَيَبْقَى النِّسَاءُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بھی ہے کہ مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13437

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَلْمَدِينَةِ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ عَلَيْهِمْ السَّلَام يَحْرُسُونَهَا فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، انشاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13438

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ وَشُعْبَةَ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبُزَاقُ وَقَالَ يَزِيدُ وَالضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ فِي حَدِيثِهِمَا النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13439

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ وَشُعْبَةَ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبُزَاقُ وَقَالَ يَزِيدُ وَالضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ فِي حَدِيثِهِمَا النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے اور بدشگونی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ، البتہ مجھے فال لینا اچھا لگتا ہے، میں نے پوچھا فال سے کیا مراد ہے؟ تو فرمایا اچھی بات۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13440

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ وَقَتَادَةَ وَحَمْزَةَ الضَّبِّيِّ أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَنَسًا يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں ، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13441

حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان اور عصیہ کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13442

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي فُلَانٍ وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ مَرْوَانُ يَعْنِي فَقُلْتُ لِأَنَسٍ قَنَتَ عُمَرُ قَالَ عُمَرُ لَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان اور عصیہ کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13443

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا يَتْفِلَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَتْفِلْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13444

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُلَاطِفُنَا كَثِيرًا حَتَّى إِنَّهُ قَالَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بہت ملاطفت فرماتے تھے، حتیٰ کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13445

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ أَوْ قَالَ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرَ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ شُعْبَةُ كَانَ يَقُولُ قَتَادَةُ هَذِهِ فِي قَصَصِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں ، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13446

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ وَسَمَّى وَكَبَّرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کرتے ہوئے اللہ کا نام لے کر تکبیر کہی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13447

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ فَلَمْ يَكُونُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ نَعَمْ نَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات " بسم اللہ " سے اپنی قرأت کا آغاز نہیں کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13448

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13449

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَحَتَّى يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي كُفْرٍ بَعْدَ إِذْ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنْهُ وَلَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورًا قَالَ سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ حَبِيبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے سب سے زیادہ محبوب نہ ہوں ، اور انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہوں میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13450

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ وَحَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ سَمِعُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے ، یہ بات دو مرتبہ فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13451

حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَكَانَ الْحَكَمُ يَأْخُذُ بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13452

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13453

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حُمَيْدٍ وَشُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدَ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13454

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13455

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعَ أَنَسًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الدُّبَّاءُ قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا رہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13456

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَكَانَ أَنَسٌ يَكْرَهُهُ

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ نہیں سنا، راوی کے بقول حضرت انس رضی اللہ عنہ اسے ناپسند فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13457

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلْقِي فِي النَّارِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ أَوْ رِجْلَهُ عَلَيْهَا وَتَقُولُ قَطْ قَطْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہی کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم! بس، بس۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13458

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُنَيْدِيُّ حَدَّثَنَا رَجُلٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَكَانَ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُعْجَبًا عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13459

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13460

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُطِرْنَا بَرَدًا وَأَبُو طَلْحَةَ صَائِمٌ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ قِيلَ لَهُ أَتَأْكُلُ وَأَنْتَ صَائِمٌ فَقَالَ إِنَّمَا هَذَا بَرَكَةٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (مدینہ منورہ) میں اولوں کی بارش ہوئی، اس دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے، وہ اولے اٹھا اٹھا کر کھانے لگے، کسی نے ان سے کہا کہ آپ روزہ رکھ کر یہ کھا رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ برکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13461

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13462

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْقُوبُ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي سُجُودِكُمْ وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي أَوْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے اور رکوع وسجود مکمل کیا کرو، بخدا! جب تم رکوع وسجود کرتے ہو تو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھ رہا ہوتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13463

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمُومَةً لَهُ شَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنْ الْغَدِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے کسی چچا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عید کا چاند دیکھنے کی شہادت دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزہ ختم کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اگلے دن نمازِ عید کے لئے نکلیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13464

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ فَجَعَلُوهَا صُفُوفًا وَكَثُرْنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عِبَادَ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ قَالَ فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ وَلَمْ يَضْرِبُوا بِسَيْفٍ وَلَمْ يَطْعَنُوا بِرُمْحٍ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ لَهُ وَأُجْهِضْتُ عَنْهُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَدَقَ عُمَرُ وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ قَالَتْ أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنْ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بچے، عورتیں ، اونٹ اور بکریاں تک لے کر آئے تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے ان سب کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کر دیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں ) ہوں ، اے گروہِ انصار! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں ) ہوں ، اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو فتح اور کافروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے تنہا اس دن بیس کافروں کو قتل کیا تھا اور ان کا سازوسامان لے لیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کو کندھے کی رسی پر مارا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں نے اسے بڑی مشکل سے قابو کر کے اپنی جان بچائی، آپ معلوم کر لیجئے کہ اس کا سامان کس نے لیا ہے؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا وہ سامان میں نے لے لیا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ انہیں میری طرف سے اس پر راضی کر لیجئے اور یہ سامان مجھ ہی کو دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سوال کرتا تو اسے عطاء فرما دیتے یا پھر سکوت فرما لیتے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے بخدا! ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ اپنے ایک شیر کو مال غنیمت عطاء کر دے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہیں دے دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا عمر سچ کہہ رہے ہیں ۔ غزوہ حنین ہی میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ام سلیم کی بات سنی؟ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلیم! اللہ نے ہماری کفایت خود ہی فرمائی اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13465

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ وَجَمَعَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْعًا كَثِيرًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ عَشَرَةِ آلَافٍ قَالَ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ قَالَ فَجَاءُوا بِالنَّعَمِ وَالذُّرِّيَّةِ فَجُعِلُوا خَلْفَ ظُهُورِهِمْ قَالَ فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى النَّاسُ قَالَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ قَالَ فَنَزَلَ وَقَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ قَالَ وَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يُخْلَطْ بَيْنَهُمَا كَلَامٌ فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ مَعَكَ ثُمَّ نَزَلَ بِالْأَرْضِ وَالْتَقَوْا فَهَزَمُوا وَأَصَابُوا مِنْ الْغَنَائِمِ فَأَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطُّلَقَاءَ وَقَسَمَ فِيهَا فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ نُدْعَى عِنْدَ الْكَرَّةِ وَتُقْسَمُ الْغَنِيمَةُ لِغَيْرِنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ وَقَعَدَ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ فَسَكَتُوا ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ قَالَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ قَالُوا رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا قَالَ ابْنُ عَوْنٍ قَالَ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ فَقُلْتُ لِأَنَسٍ وَأَنْتَ تُشَاهِدُ ذَاكَ قَالَ فَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْ ذَاكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بہت بڑی جمعیت لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار یا اس سے کچھ زیادہ لوگ تھے، ان میں طلقاء بھی شامل تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے جانوروں اور بچوں کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کر دیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفید خچر سے اتر کر مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول ( یہاں ) ہوں ، پھر دائیں جانب رخ کر کے فرمایا اے گروہ انصار! انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خوش ہوں ، ہم آپ کے ساتھ ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں جانب رخ کر کے فرمایا اے گروہ انصار! انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خوش ہوں ، ہم آپ کے ساتھ ہیں ، اس کے بعد اللہ نے (مسلمانوں کو فتح اور) کافروں کو شکست سے دوچار کر دیا اور مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت ملا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال غنیمت طلقاء کے درمیان تقسیم کر دیا، اس پر کچھ انصاری کہنے لگے کہ حملے کے وقت ہمیں بلایا جاتا ہے اور مال غنیمت دوسروں کو دیا جاتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو انصار کو ایک خیمے میں جمع کیا اور فرمایا اے گروہ انصار! تمہارے حوالے سے یہ کیا بات مجھے معلوم ہوئی ہے؟ وہ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی بات فرمائی، وہ پھر خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ انصار! اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا، پھر فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم اپنے گھروں میں پیغمبر خدا کو سمیٹ کر لے جاؤ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم راضی ہیں ، ہشام بن زید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ اس موقع پر موجود تھے؟ انہوں نے فرمایا میں کہاں غائب ہوسکتا ہوں ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13466

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَسْلِمْ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13467

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِالْمَوْتِ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَنَظَرَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ ثُمَّ مَاتَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13468

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي سِرًّا لَا أُخْبِرُ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ میرے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا راز ہے جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا تاآنکہ ان سے جاملوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13469

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13470

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَنَسٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ فَقَالَ لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے یوں فرمایا " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً ''

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13471

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ابْنَةَ حُيَيٍّ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13472

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيَّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ إِلَّا قَرِيبٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مؤذن جب اذان دے چکتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جلدی سے ستونوں کی طرف لپکتے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آتے اور وہ مغرب سے پہلے کی دو رکعتیں ہی پڑھ رہے ہوتے تھے اور اذان اور اقامت کے درمیان بہت تھوڑا وقفہ ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13473

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ فَأَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَمَنْ أَرَادَ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ كَمَا أَقُولُ ثُمَّ لَبَّى قَالَ لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا قَالَ وَقَالَ سَالِمٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ رِجْلِي لَتَمَسُّ رِجْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَيُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا

سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں حج اور عمرے کو جمع کرنا چاہتا ہوں اس لئے جس شخص کا یہی ارادہ ہو تو وہ اسی طرح کہے جیسے میں کہوں ، پھر انہوں نے تلبیہ پڑھتے ہوئے کہا " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً " سالم کہتے ہیں کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے لگ رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حج اور عمرے دونوں کا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13474

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قُلْتُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ لَا أَدْرِي رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ لَوْ عَاشَ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا قَالَ قُلْتُ كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ عَنْ يَسَارِي قَالَ أَمَّا أَنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں ، ابراہیم رضی اللہ عنہ پر اللہ کی رحمتیں ہوں ، اگر وہ زندہ ہوتے تو صدیق و نبی ہوتے، میں نے پوچھا کہ نماز پڑھ کر میں دائیں جانب سے واپس جایا کروں یا بائیں جانب سے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس گئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13475

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا وَقَالَ لَهُ قَائِلٌ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ بَلَى بَلَى قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کیا آپ کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں کوئی مخصوص معاہدہ نہیں ہے، اس پر وہ غصے میں آگئے اور فرمایا کیوں نہیں ، کیوں نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13476

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13477

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنِ الْحَسَنِ وَعَنْ أَنَسٍ فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَتَوَكَّأُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ بِثَوْبِ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر روئی کا کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13478

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُتَّهَمُ بِامْرَأَةٍ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا لِيَقْتُلَهُ فَوَجَدَهُ فِي رَكِيَّةٍ يَتَبَرَّدُ فِيهَا فَقَالَ لَهُ نَاوِلْنِي يَدَكَ فَنَاوَلَهُ يَدَهُ فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ لَيْسَ لَهُ ذَكَرٌ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمَجْبُوبٌ مَا لَه مِنْ ذَكَرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص پر ایک عورت کے ساتھ بدکاری کا الزام لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ جا کر اسے قتل کر دیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس پہنچے تو وہ ایک کنویں میں اتر کر ٹھنڈک حاصل کر رہا تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اپنا ہاتھ مجھے پکڑاؤ، اس نے اپنا ہاتھ پکڑایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اس کی تو مردانہ علامت ہی نہیں ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس آگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو مفلوج الذکر ہے، اس کی تو مردانہ علامت ہی نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13479

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ، حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں ، کتاب اللہ کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں ، علم وراثت کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں ، اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے، اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13480

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَرِدَنَّ الْحَوْضَ عَلَيَّ رِجَالٌ حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمْ رُفِعُوا إِلَيَّ فَاخْتُلِجُوا دُونِي فَلَأَقُولَنَّ يَا رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوضِ کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا " وہ میرے سامنے پیش ہوں گے " تو انہیں اچک لیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی، ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13481

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے، وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13482

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو ، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13483

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے ، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ ، اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13484

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ قَالَ أَنَسٌ وَأَنَا أُضَحِّي بِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور میں بھی یہی کرتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13485

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَمَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلُكَ الْأَوَّلُ وَجَبَتْ وَقَوْلُكَ الْآخَرُ وَجَبَتْ قَالَ أَمَّا الْأَوَّلُ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فَقُلْتُ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، پہلا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی تعریف کی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی اور جب دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت بیان کی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ جس کی تعریف کر دو، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی مذمت بیان کر دو، اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی، پھر تین مرتبہ فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13486

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَوِّزُهَا وَيُكْمِلُهَا يَعْنِي يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ نماز کو مکمل اور مختصر کرنے والے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13487

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا، ثابت نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیا مہر دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا اور ان سے نکاح کر لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13488

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْخُبْثِ وَالْخَبِيثِ أَوْ الْخَبَائِثِ قَالَ شُعْبَةُ وَقَدْ قَالَهُمَا جَمِيعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! میں خبیث جنات مردوں اور عورتوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13489

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيكَ وَكَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرمالیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13490

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ فَكُنَّا نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى نَرْجِعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَسَأَلْتُهُ كَمْ أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ قَالَ عَشَرَةَ أَيَّامٍ قُلْتُ فَبِمَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہتے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا؟ انہوں نے بتایا دس دن، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کس چیز کا باندھا تھا؟ انہوں نے فرمایا حج اور عمرہ دونوں کا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13491

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا أَوْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً ''

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13492

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا مِنَّا فَحَجَمَهُ فَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ صَاعًا أَوْ صَاعَيْنِ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ایک لڑکے کو بلایا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک صاع گندم دی اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13493

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ الْعَرَبِ رِعْلٍ وَبَنِي لِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13494

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور ( رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر) بددعاء کرتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13495

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ الدُّعَاءِ إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِسْقَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعاء میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے، سوائے استسقاء کے موقع پر کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13496

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَإِنَّ كَفَّارَتَهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے، اسے پڑھ لے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13497

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ لَيُؤَذِّنُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُرَى أَنَّهَا الْإِقَامَةُ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يَقُومُ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں مؤذن جب اذان دے چکتا تو یوں محسوس ہوتا کہ اس نے اقامت کہی ہے، اس لئے کہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوجاتی تھی (کہ وہ اذان محسوس ہوتی ہی نہیں تھی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13498

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ حَمْزَةَ الضَّبِّيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا صَلَّيْتُ يَعْنِي وَرَاءَ رَجُلٍ أَوْ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی اور مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13499

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الْمَرْأَةُ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فَقَالَ إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فِي مَنَامِهَا فَلْتَغْتَسِلْ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَحْيَتْ أَوَيَكُونُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ غَلِيظٌ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ فَمِنْ أَيِّهِمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا يَكُونُ الشَّبَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت بھی اسی طرح " خواب دیکھے " جیسے مرد دیکھتا ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت ایسا " خواب دیکھے " اور اسے انزال ہو جائے تو اسے غسل کرنا چاہئے ، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا ہوتا ہے، دونوں میں سے جو غالب آجائے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13500

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ انْطَلَقَ حَارِثَةُ ابْنُ عَمَّتِي يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا نَظَّارًا مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ قَالَ فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ قَالَ فَجَاءَتْ أُمُّهُ عَمَّتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنِي حَارِثَةُ إِنْ يَكُنْ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ وَإِلَّا فَسَيَرَى اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ " جو کہ نوعمر لڑکے تھے " سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13501

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ أَمَا إِنَّهَا قَائِمَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ قَالَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ فَأُتِيَ بِالرَّجُلِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ فَإِذَا غُلَامٌ مِنْ دَوْسٍ مِنْ رَهْطِ أَبِي هُرَيْرَةَ يُقَالُ لَهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْغُلَامُ إِنْ طَالَ بِهِ عُمُرٌ لَمْ يَبْلُغْ بِهِ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ قَالَ الْحَسَنُ وَأَخْبَرَنِي أَنَسٌ أَنَّ الْغُلَامَ كَانَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَقْرَانِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ان کے گھر میں تھا، کہ ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو اور تمہیں وہی ملے گا جو تم نے کمایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا قیامت کے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں ہے؟چنانچہ اس آدمی کو بلا کر لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کمرے میں نظر دوڑائی تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ دوس کا ایک لڑکا نظر آیا جس کا نام سعد بن مالک تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس لڑکے کی عمر طویل ہوئی تو ہوسکتا ہے کہ یہ بڑھاپے کو نہ پہنچ سکے اور قیامت قائم ہوجائے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لڑکا میرا ہم عمر تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13502

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْقَنَّادُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَقُولُ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي شِبْرًا تَلَقَّيْتُهُ ذِرَاعًا وَإِذَا تَلَقَّانِي ذِرَاعًا تَلَقَّيْتُهُ بَاعًا وَإِذَا تَلَقَّانِي يَمْشِي تَلَقَّيْتُهُ أُهَرْوِلُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا بندہ بالشت برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہوں ، اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13503

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَأَوْمَأَ عَفَّانُ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں ، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13504

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ حَارِثَةُ أُصِيبَ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَتْ أُمُّ حَارِثَةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنْ كَانَ ابْنِي أَصَابَ الْجَنَّةَ وَإِلَّا أَجْهَدْتُ عَلَيْهِ بِالْبُكَاءِ قَالَ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ فِي جَنَّةٍ وَإِنَّ حَارِثَةَ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی، ورنہ پھر میں کثرت سے آہ و بکا کروں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سے جنت الفردوس میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13505

قَالَ أَبِي وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَاللَّفْظِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا

گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13506

حَدَّثَنِي قَالَ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ تَرَاصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بَيْنَ الْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهُ الْحَذَفُ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفیں جوڑ کر قریب قریب ہو کر بنایا کرو ، کندھے ملا لیا کرو ، کیونکہ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی بھیڑوں کی طرح شیاطین صفوں کے بیچ میں گھس جاتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13507

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ قَالَ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کسی مسلمان کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا، دنیا میں بھی اس پر عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ثواب دیتا ہے، اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو وہاں اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13508

رحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِبَرَاءَةٌ مَعَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ ثُمَّ دَعَاهُ فَبَعَثَ بِهَا عَلِيًّا قَالَ لَا يُبَلِّغُهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سورت برأت کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بھیجا، لیکن جب وہ ذوالحلیفہ کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلوایا کہ عرب کے دستور کے مطابق یہ پیغام صرف میں یا میرے اہل خانہ کا کوئی فرد ہی پہنچا سکتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وہ پیغام دے کر بھیجا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13509

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13510

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ الْحَدَّانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذْهَبْتُ كَرِيمَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ كَانَ ثَوَابُهُ الْجَنَّةَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں کسی شخص کی بینائی واپس لے لوں اور وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کرے تو اس کا عوض جنت ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13511

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ قَدْ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمِيطِي قِرَامَكِ هَذَا عَنِّي فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلَاتِي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا جو انہوں نے اپنے گھر کے ایک کونے میں لٹکا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ پردہ یہاں سے ہٹا دو، کیونکہ اس کی تصاویر مسلسل نماز میں میرے سامنے آتی رہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13512

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ) اے اللہ! میں نہ سنی جانے والی بات، نہ بلند ہونے والے عمل، خشوع سے خالی دل، اور غیر نافع علم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13513

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ رَجُلًا فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَتَّى يَكُونَ الْآخَرُ قَدْ ذَاقَ مِنْ عُسَيْلَتِهَا وَذَاقَتْ مِنْ عُسَيْلَتِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک عورت تھی، جسے اس نے تین طلاقیں دے دیں ، اس عورت نے ایک دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس دوسرے آدمی نے اسے خلوت صحیحہ سے پہلے ہی طلاق دے دی، کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ عورت دوسرے شوہر کا شہد نہ چکھ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13514

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ ذَهَبْتُ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَسَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَقِّنُنَا هُوَ فِيمَا اسْتَطَعْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں " حسب طاقت " کی قید لگا دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13515

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مُعَاذٍ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ نَجِيءُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنَّا بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن پیش کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13516

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْرَائِيلَ سَأَلْتُ أَبِي عَنْهُ فَقَالَ شَيْخٌ ثِقَةٌ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَعَثَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ فَرَأَيْتُهُ قَائِمًا فِي يَدِهِ الْمِيسَمُ يَسِمُ الصَّدَقَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میری والدہ نے ایک مرتبہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ دے کر بھیجا، میں نے وہاں پہنچ کر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں داغ لگانے کا آلہ ہے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کے جانوروں کو داغ رہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13517

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِصَاصُ الْقِصَاصُ فَقَالَتْ أُمُّ الرُّبَيِّعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ رُبَيِّعٍ كِتَابُ اللَّهِ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا قَالَ فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا مِنْهَا الدِّيَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا تو ربیع کی والدہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا فلاں (میری بیٹی) کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے فلاں عورت کا دانت نہیں توڑا جائے گا، اسی اثناء میں وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کر دیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13518

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءَ مَنْ لَا يَخَافُ الْفَاقَةَ وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَجِيءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا فَمَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَوْ أَعَزَّ عَلَيْهِ مِنْ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کی دو بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقر و فاقہ کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازو سامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کر لیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13519

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کو مشقتوں سے اور جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13520

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَقْبَرَةٍ لِبَنِي النَّجَّارِ فِي حَائِطٍ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ يُعَذَّبُ فَحَاصَتْ الْبَغْلَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کسی قبر میں عذاب ہو رہا تھا، چنانچہ خچر بدک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذابِ قبر کی آواز سنا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13521

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا أُبَيًّا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ فَقَالَ سَمَّانِي لَكَ فَقَالَ اللَّهُ سَمَّاكَ لِي فَجَعَلَ يَبْكِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13522

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا إِلَّا الشَّهِيدَ فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13523

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَنَزَلَتْ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً فَنَادَى أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالَ فَمَالُوا كَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ میں ابتدا میں) بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر بعد میں یہ آیت نازل ہوگئی کہ " ہم آسمان کی طرف آپ کا باربار چہرہ اٹھانا دیکھتے ہیں ، عنقریب ہم آپ کا رخ اسی قبلے کی طرف پھیر دیں گے جس کی آپ کو خواہش ہے، چنانچہ اب آپ اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کر لیا کریں " اس آیت کے نزول کے بعد ایک آدمی کا بنوسلمہ کے پاس سے گذر ہوا، اس وقت وہ لوگ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے اور ابھی ایک ہی رکعت پڑھی تھی کہ اس شخص نے اعلان کر دیا کہ قبلہ تبدیل ہو کر خانہ کعبہ مقرر ہوگیا، چنانچہ وہ لوگ نماز کی حالت میں ہی قبلہ کی طرف پھر گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13524

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ سُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ فِيهَا كُثْبَانُ الْمِسْكِ فَإِذَا خَرَجُوا إِلَيْهَا هَبَّتْ الرِّيحُ قَالَ حَمَّادٌ أَحْسِبُهُ قَالَ شَمَالِيٌّ قَالَ فَتَمْلَأُ وُجُوهَهُمْ وَثِيَابَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ مِسْكًا فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا قَالَ فَيَأْتُونَ أَهْلِيهِمْ فَيَقُولُونَ لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا وَيَقُولُونَ لَهُنَّ وَأَنْتُمْ قَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت کے لئے ایک بازار لگایا جائے گا جہاں وہ ہر جمعہ کو آیا کریں گے، اس میں مشک کے ٹیلے ہوں گے، جب وہ اس بازار کی طرف نکلیں گے تو ہوا چلے گی جس سے ان کے چہروں ، کپڑوں اور گھروں میں مشک بھر جائے گی، اور اس سے ان کا حسن و جمال مزید بڑھ جائے گا، جب وہ اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہاں سے جانے کے بعد تو تمہارے حسن وجمال میں مزید اضافہ ہوگیا، وہ لوگ اپنے اہل خانہ سے کہیں گے کہ ہمارے پیچھے تو تمہارا حسن و جمال بھی خوب بڑھ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13525

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بَيْرُحَاءَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ عَفَّانُ وَقَالَ يَزِيدُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ بَرِيحَا و قَالَ عَفَّانُ سَأَلْتُ عَنْهَا غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَزَعَمُوا أَنَّهَا بَيْرُحَاءُ وَأَنَّ بَيْرَحَا لَيْسَ بِشَيْءٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " تم نیکی کے اعلیٰ درجے کو اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو " تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سے ہمارا رب ہمارا مال طلب فرما رہا ہے، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا بیر حاء نامی جو باغ ہے، میں وہ اللہ کے نام پر دیتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنے خاندان کے فقراء میں تقسیم کر دو، چنانچہ انہوں نے اسے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان تقسیم کر دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13526

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلَّامُ أَبُو الْمُنْذِرِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبِّبَ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں سے میرے نزدیک عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13527

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا بُنَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے " اے میرے پیارے بیٹے " کہہ کر مخاطب کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13528

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنِّي لَأَعْرِفُ الْيَوْمَ ذُنُوبًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنْ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْكَبَائِرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے اعمال کرتے ہو جن کی تمہاری نظروں میں بال سے بھی کم حیثیت ہوتی ہے، لیکن ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں مہلک چیزوں میں شمار کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13529

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَابِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ يَقُولُ الصَّلَاةُ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھ ماہ تک مسلسل جب نمازِ فجر کے وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے قریب سے گذرتے تھے تو فرماتے تھے اے اہل بیت! نماز کے لئے بیدار ہو جاؤ، اے اہل بیت! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13530

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ أَرْبَعَةٌ مِنْ النَّارِ قَالَ أَبُو عِمْرَانَ أَرْبَعَةٌ قَالَ ثَابِتٌ رَجُلَانِ فَيُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ قَالَ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو إِذَا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا فَيُنْجِيهِ اللَّهُ مِنْهَا عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم سے چار آدمیوں کو نکالا جائے گا، انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ دوبارہ انہیں جہنم میں بھیجنے کا حکم دے دے گا، ان میں سے ایک شخص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا کہ پروردگار! مجھے تو یہ امید ہوگئی تھی کہ اگر تو مجھے جہنم سے نکال رہا ہے تو اس میں دوبارہ واپس نہ لوٹائے گا؟ اللہ تعالیٰ اسے نجات عطاء فرما دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13531

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا فُلَانُ هَذِهِ فُلَانَةُ زَوْجَتِي فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَظُنَّ بِكَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی کوئی زوجہ محترمہ تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کا نام لے کر پکارا تاکہ وہ آدمی سمجھ لے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جس شخص کے ساتھ بھی ایسا گمان کروں ، آپ کے ساتھ نہیں کرسکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13532

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَهُ ذَاتَ يَوْمٍ صِبْيَانُ الْأَنْصَارِ وَالْإِمَاءُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انصار کی کچھ باندیاں اور بچے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں سلام کیا اور) فرمایا اللہ کی قسم! میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13533

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ حَادٍ جَيِّدُ الْحُدَاءِ وَكَانَ حَادِيَ الرِّجَالِ وَكَانَ أَنْجَشَةُ يَحْدُو بِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا حَدَا أَعْنَقَتْ الْإِبِلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مردوں کے لئے حدی خوانی کرتے تھے اور انجثہ رضی اللہ عنہ عورتوں کے لئے ، انجثہ کی آواز بہت اچھی تھی، جب انہوں نے حدی شروع کی تو اونٹ تیزی سے دوڑنے لگے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13534

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا آكُلُ اللَّحْمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا وَلَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک گروہ نے ازواج مطہرات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انفرادی اعمال کے متعلق پوچھا پھر ان میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گا، دوسرے نے یہ کہہ دیا کہ میں ساری رات نماز پڑھا کروں گا اور سونے سے بچوں گا، اور تیسرے نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزے رکھا کروں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں ، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13535

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي حَاجَةً فَقَالَ يَا أُمَّ فُلَانٍ انْظُرِي إِلَى أَيِّ الطَّرِيقِ شِئْتِ فَقَامَ مَعَهَا يُنَاجِيهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاتون ملی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جس گلی میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا چنانچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کا کام کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13536

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا تُمْطِرَ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ وَحَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ وَحَتَّى أَنَّ الْمَرْأَةَ لَتَمُرُّ بِالْبَعْلِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا فَيَقُولُ لَقَدْ كَانَ لِهَذِهِ مَرَّةً رَجُلٌ ذَكَرَهُ حَمَّادٌ مَرَّةً هَكَذَا وَقَدْ ذَكَرَهُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَشُكُّ فِيهِ وَقَدْ قَالَ أَيْضًا عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْسِبُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے تھے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک ایسا نہ ہوجائے کہ آسمان سے بارش ہو اور زمین سے پیداوار نہ ہو، اور پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک آدمی ہو اور ایک عورت اپنے شوہر کے پاس سے گذرے گی اور وہ اسے دیکھ کر کہے گا کہ کبھی اس عورت کا بھی کوئی شوہر ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13537

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا السُّنَّةَ وَالْإِسْلَامَ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَقَالَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں ، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13538

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَتْ مَعَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَإِذَا مَعَ أُمِّ سُلَيْمٍ خِنْجَرٌ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْ الْكُفَّارِ أَبْعَجُ بِهِ بَطْنَهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُتِلَ مَنْ بَعْدَنَا مِنْ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَانَا وَأَحْسَنَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، یہ سن کر وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دیکھیں تو سہی کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہیں ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے یعنی طلقاء انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم! اللہ نے ہماری کفایت فرمائی اور خوب فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13539

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيَ يُوسُفُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ شَطْرَ الْحُسْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت یوسف علیہ السلام کو نصف حسن دیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13540

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ إِلَّا أَنَّ حُمَيْدًا لَمْ يَذْكُرْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم نماز میں قرات کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13541

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ فَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آج رات میں نے یہ خواب دیکھا کہ گویا میں رافع بن عقبہ کے گھر میں ہوں ، اور وہاں " ابن طاب" نامی کھجوریں ہمارے سامنے پیش کی گئیں ، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ (رافع کے لفظ سے) دنیا میں رفعت (عقبہ کے لفظ سے) آخرت کا بہترین انجام ہمارے لئے ہی ہے اور (طاب کے لفظ سے) ہمارا دین پاکیزہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13542

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَوُوا فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ اسْتَوُوا وَتَرَاصُّوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13543

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا يَخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلَا لِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبِطُ بِلَالٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ستایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ستایا گیا اور اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ڈرایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسا وقت بھی آیا ہے کہ تین دن اور تین راتیں گذر گئیں اور میرے پاس اپنے لئے اور اپنے اہل خانہ کے لئے اتنا کھانا بھی نہ تھا کہ جسے کوئی جگر رکھنے والا جاندار کھا سکے، سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13544

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَمَّا رَهِقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَبْعَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَلَمَّا أَرْهَقُوهُ أَيْضًا قَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنِّي وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِهِ مَا أَنْصَفْنَا إِخْوَانَنَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مشرکین نے غزوہ احد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجوم کیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات انصاری اور دو قریشی صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں مجھ سے کون دور کرے گا اور وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا؟ ایک انصاری نے آگے بڑھ کر قتال شروع کیا، حتیٰ کہ وہ شہید ہوگئے اسی طرح ایک ایک کر کے ساتوں انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریشی ساتھیوں سے فرمایا کہ ہم نے اپنے بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13545

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ وَثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ غَلَا السِّعْرُ بِالْمَدِينَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ غَلَا السِّعْرُ سَعِّرْ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں مہنگائی بڑھ گئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے نرخ مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیمت مقرر کرنے اور نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے جدا ہوں کر جاؤں تو تم میں سے کوئی اپنے مال یا جان پر کسی ظلم کا مجھ سے مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13546

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ يَتَتَرَّسُ بِهِ وَكَانَ رَامِيًا وَكَانَ إِذَا رَمَى رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَخْصَهُ يَنْظُرُ أَيْنَ يَقَعُ سَهْمُهُ وَيَرْفَعُ أَبُو طَلْحَةَ صَدْرَهُ وَيَقُولُ هَكَذَا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا يُصِيبُكَ سَهْمٌ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَسُوقُ نَفْسَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ إِنِّي جَلْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَجِّهْنِي فِي حَوَائِجِكَ وَمُرْنِي بِمَا شِئْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے تیر اندازی کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے انہیں ڈھال بنائے ہوئے تھے، وہ بہترین تیر انداز تھے، جب وہ تیر پھینکتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جھانک کر دیکھتے کہ وہ تیر کہاں جا کر گرا ہے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنا سینہ بلند کر کے عرض کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینے سے پہلے ہے، اور وہ اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھتے تھے اور کہتے تھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا جسم سخت ہے، آپ مجھے اپنے کام کے لئے بھیجئے، اور مجھے جو چاہے حکم دیجئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13547

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ بِمِنًى أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ شِقَّ رَأْسِهِ فَحَلَقَ الْحَجَّامُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَجْعَلُهُ فِي مِسْكِهَا وَكَانَ يَجِيءُ فَيَقِيلُ عِنْدَهَا عَلَى نِطْعٍ وَكَانَ مِعْرَاقًا فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ وَتَجْعَلُهُ فِي قَارُورَةٍ لَهَا فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَجْعَلِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَرَقُكَ أُرِيدُ أَنْ أَدُوفَ بِهِ طِيبِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے ، پھر وہ بال ام سلیم اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال کر ہلا لیا کرتی تھیں ۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں جا کر چمڑے کے ایک بستر پر آرام فرماتے تھے، اس پر پسینہ بہت آتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ایک شیشی میں جمع کرنے لگیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے اور فرمایا اے ام سلیم! کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! آپ کے پسینے کو اپنی خوشبو میں شامل کروں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13548

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ قَالَ قَعَدَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ فَفَقَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ يَا أَبَا عَمْرٍو مَا شَأْنُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ لَا يُرَى أَاشْتَكَى فَقَالَ مَا عَلِمْتُ لَهُ بِمَرَضٍ وَإِنَّهُ لَجَارِي فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي كُنْتُ مِنْ أَشَدِّكُمْ رَفْعَ صَوْتٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَقَدْ هَلَكْتُ أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے ایمان والو! نبی کی آواز پر اپنی آواز کو اونچا نہ کیا کرو، تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ " جن کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی " کہنے لگے کہ میری ہی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی بن گیا، اور یہ سوچ کر اپنے گھر ہی میں غمگین ہو کر بیٹھ رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر حاضری کے متعلق دریافت کیا تو کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری غیر حاضری کے متعلق پوچھ رہے تھے، کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے کہ میں ہی تو وہ ہوں جس کی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے اور میں بات کرتے ہوئے اونچا بولتا ہوں ، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی ہوگیا، لوگوں نے یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ذکر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ وہ تو جنتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13549

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَقَالَ اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ وَارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ فَأُتِيَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ قَالَ أَنَسٌ قَدْ كُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہو جاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13550

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَخْتَلِفُ إِلَى الشَّامِ وَكَانَ يُعْرَفُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُعْرَفُ فَكَانُوا يَقُولُونَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا هَذَا الْغُلَامُ بَيْنَ يَدَيْكَ قَالَ هَذَا يَهْدِينِي السَّبِيلَ فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ نَزَلَا الْحَرَّةَ وَبَعَثَا إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَاءُوا فَقَالُوا قُومَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ قَالَ فَشَهِدْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ كَانَ أَحْسَنَ وَلَا أَضْوَأَ مِنْ يَوْمٍ دَخَلَ عَلَيْنَا فِيهِ وَشَهِدْتُهُ يَوْمَ مَاتَ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا كَانَ أَقْبَحَ وَلَا أَظْلَمَ مِنْ يَوْمٍ مَاتَ فِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر آگے بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پیچھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو راستوں کا علم تھا کیونکہ وہ شام آتے جاتے رہتے تھے، جب بھی کسی جماعت پر ان کا گذر ہوتا اور وہ لوگ پوچھتے کہ ابوبکر! یہ آپ کے آگے کون بیٹھے ہوئے ہیں ؟ تو وہ فرماتے کہ یہ رہبر ہیں جو میری رہنمائی کر رہے ہیں ، مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر انہوں نے مسلمان ہونے والے انصاری صحابہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے پاس پیغام بھیجا، وہ لوگ ان دونوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ دونوں امن و امان کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوجائیے ، آپ کی اطاعت کی جائے گی، چنانچہ وہ دونوں مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13551

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى جَيَّفُوا ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا قَالَ فَسَمِعَ عُمَرُ صَوْتَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُنَادِيهِمْ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَهَلْ يَسْمَعُونَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقتولین بدر کی لاشوں کے پاس گئے اور فرمایا اے ابوجہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13552

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ مَاتَ لَهُ ابْنٌ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لَا تُخْبِرُوا أَبَا طَلْحَةَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أُخْبِرُهُ فَسَجَّتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ وَضَعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ طَعَامًا فَأَكَلَ ثُمَّ تَطَيَّبَتْ لَهُ فَأَصَابَ مِنْهَا فَعَلِقَتْ بِغُلَامٍ فَقَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ إِنَّ آلَ فُلَانٍ اسْتَعَارُوا مِنْ آلِ فُلَانٍ عَارِيَةً فَبَعَثُوا إِلَيْهِمْ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِعَارِيَتِنَا فَأَبَوْا أَنْ يَرُدُّوهَا فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ لَيْسَ لَهُمْ ذَلِكَ إِنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ إِلَى أَهْلِهَا قَالَتْ فَإِنَّ ابْنَكَ كَانَ عَارِيَةً مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبَضَهُ فَاسْتَرْجَعَ قَالَ أَنَسٌ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَهُمَا فِي لَيْلَتِهِمَا قَالَ فَعَلِقَتْ بِغُلَامٍ فَوَلَدَتْ فَأَرْسَلَتْ بِهِ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلْتُ تَمْرًا فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ عَبَاءَةٌ وَهُوَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فَأَخَذَ التَّمَرَاتِ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ جَمَعَ لُعَابَهُ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَأَوْجَرَهُ إِيَّاهُ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّ الْأَنْصَارَ التَّمْرَ فَحَنَّكَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ شَابٌّ أَفْضَلَ مِنْهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ فَذَكَرَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا انہوں نے کھانا کھایا، اور پانی پیا، پھر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے خوب اچھی طرح بناؤ سنگھار کیا ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے خلوت کی، جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اچھی طرح سیراب ہوچکے ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہو، کیا وہ انکار کرسکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں ، انہوں نے کہا کہ پھر اپنے بیٹے پر صبر کیجئے۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہوگئیں ، اور بالآخر ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس! تم پہلے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا شاید ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجوریں منگوائیں ، ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا، اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، اور اس کا نام عبداللہ رکھ دیا، انصار میں اس سے افضل کوئی جوان نہ تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13553

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُهُ وَقَدْ صَارَ كَالْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ هَلْ سَأَلْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ فِي الدُّنْيَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طَاقَةَ لَكَ بِعَذَابِ اللَّهِ هَلَّا قُلْتَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسلمان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، وہ چوزے کی طرح ہوچکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم کوئی دعا مانگتے تھے؟ اس نے کہا جی ہاں ! میں یہ دعاء مانگتا تھا کہ اے اللہ! تو نے مجھے آخرت میں جو سزا دینی ہے وہ دنیا ہی میں دے دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! تمہارے اندر اس کی ہمت ہے اور نہ طاقت، تم نے یہ دعاء کیوں نہ کی کہ اے اللہ! مجھے دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13554

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَكَلُوا مِنْهَا وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر مرنے تک کے لئے اسلام کی یقینی بیعت کی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جواباً یہ جملہ کہتے تھے کہ اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی لائی گئی جس پر سنا ہوا روغن رکھا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسی کو تناول فرما لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13555

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَقَالَ هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ وَأَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرِهِ فَقَالُوا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ قَالَ لِي أَنَسٌ فَكُنْتُ أَرَى أَثَرَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ آتٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اچانک ایک شخص آیا اور اس نے مجھے پکڑ کر میرا پیٹ چاک کیا، اور اس میں سے خون کا جما ہوا ایک ٹکڑا نکالا اور اسے پھینک کر کہنے لگا کہ یہ آپ کے جسم میں شیطان کا حصہ تھا، پھر اس نے سونے کی طشتری میں رکھے ہوئے آب زم زم سے پیٹ کو دھویا اور پھر اسے سی کر ٹانکے لگا دیے ، یہ دیکھ کر سب بچے دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) قتل ہوگئے، والدہ دوڑتی ہوئی آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو رہا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشان دیکھا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13556

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ مَنْ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَالرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَالرَّجُلُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں ، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے ، اور تیسرا یہ انسان یہودیت یا عیسائیت سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13557

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَكَانَ لِي أَخٌ صَغِيرٌ وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ لَهُ مَا شَأْنُ أَبِي عُمَيْرٍ حَزِينًا فَقَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا " جس کا نام ابوعمیر تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا کیا بات ہے ابوعمیر غمگین دکھائی دے رہا ہے؟ گھر والوں نے بتایا کہ اس کی ایک چڑیا مرگئی جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مر گئی تھی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13558

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ يَسْلِتُ الدِّمَاءَ عَنْ وَجْهِهِ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو زخمی کر دے اور ان کے دانت توڑ دے، جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہوجائے، یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں " ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13559

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ قَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا فَإِنَّهَا قَائِمَةٌ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَثِيرَ عَمَلٍ غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ فَمَا فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ مَا فَرِحُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَكَانَ أَنَسٌ يَقُولُ فَنَحْنُ نُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ کیونکہ ہم اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13560

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالَهُ حَرَامًا أَخَا أُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ إِلَى بَنِي عَامِرٍ فَلَمَّا قَدِمُوا قَالَ لَهُمْ خَالِي أَتَقَدَّمُكُمْ فَإِنْ أَمَّنُونِي حَتَّى أُبَلِّغَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ وَإِلَّا كُنْتُمْ مِنِّي قَرِيبًا قَالَ فَتَقَدَّمَ فَأَمَّنُوهُ فَبَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ فَطَعَنَهُ فَأَنْفَذَهُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثُمَّ مَالُوا عَلَى بَقِيَّةِ أَصْحَابِهِ فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا رَجُلًا أَعْرَجَ مِنْهُمْ كَانَ قَدْ صَعِدَ الْجَبَلَ قَالَ هَمَّامٌ فَأُرَاهُ قَدْ ذَكَرَ مَعَ الْأَعْرَجِ آخَرَ مَعَهُ عَلَى الْجَبَلِ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ قَدْ لَقُوا رَبَّهُمْ فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ قَالَ أَنَسٌ كَانُوا يَقْرَءُونَ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا قَالَ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذَلِكَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَوْ عَصَوْا الرَّحْمَنَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں حضرت حرام رضی اللہ عنہ کو " حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے" ان ستر صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھیجا تھا جو بیئر معونہ کے موقع پر شہید کر دیئے گئے تھے، میرے ماموں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ تم میرے قریب ہی رہنا تاآنکہ میں واپس آجاؤں ، اگر تم مجھے حالت امن میں پاؤ تو بہت بہتر، ورنہ اگر وہ مجھے قتل کر دیں تو تم میرے قریب تو ہوگے، باقی ساتھیوں کو جا کر مطلع کر دینا، یہ کہہ کر حضرت حرام رضی اللہ عنہ روانہ ہوگئے۔ متعلقہ قبیلے میں پہنچ کر انہوں نے فرمایا کہ کیا مجھے اس بات کی اجازت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچا سکوں ؟ انہوں نے اجازت دے دی، حضرت حرام رضی اللہ عنہ ان کے سامنے پیغام ذکر کرنے لگے، اور دشمنوں نے پیچھے سے ایک آدمی کو اشارہ کر دیا جس نے پیچھے سے آکر ان کے ایسا نیزہ گھونپا کہ جسم کے آرپار ہوگیا، حضرت حرام رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے" اللہ اکبر " رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا، گر گئے، پھر انہوں نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو شہید کر دیا، صرف وہ لنگڑا آدمی بچ گیا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا تھا، اسی مناسبت سے یہ وحی نازل ہوئی " جس کی پہلے تلاوت بھی ہوئی تھی، بعد میں منسوخ ہوگئی " کہ ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جاملے ہیں ، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور اس نے ہمیں راضی کر دیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم چالیس دن تک قبیلہ رعل، ذکوان، بنولحیان اور عصیہ " جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی " کے خلاف بددعاء فرماتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13561

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهُ دَفْنُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13562

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13563

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وحَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ عَفَّانُ يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ التَّكْبِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13564

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَالَ هَمَّامٌ وَرُبَّمَا قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ قَالَ هَمَّامٌ كِلَاهُمَا قَدْ سَمِعْتُ حَتَّى يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا وَيَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم نہ اٹھا لیا جائے، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک آدمی ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13565

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ وَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ قَالَ قُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَضَرَبْتُ بِيَدِي فَإِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبریل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13566

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ قَالَ قِيلَ لَهُ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13567

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ الزَّوَالِ فَاحْتَاجَ أَصْحَابُهُ إِلَى الْوُضُوءِ قَالَ فَجِيءَ بِقَعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يَسِيرٌ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِيهِ فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ قُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ زُهَاءَ ثَلَاثِ مِائَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام زوراء میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی انگلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکلا کہ سب نے وضو کر لیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ تین سو تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13568

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنْ الْخَيْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13569

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَحَدٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا إِلَّا الشَّهِيدَ فَإِنَّهُ يَوَدُّ أَنَّهُ يَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا فَاسْتُشْهِدَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا رَأَى مِنْ الْفَضْلِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13570

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوا عَلَيْهِمْ مَا قَالُوا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ، اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو صرف " وعلیک " کہا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13571

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَعَاهُ خَيَّاطٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَإِذَا خُبْزُ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٌ سَنِخَةٌ قَالَ فَإِذَا فِيهَا قَرْعٌ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ قَالَ فَجَعَلْتُ أُقَرِّبُهُ قُدَّامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَسٌ لَمْ أَزَلْ يُعْجِبُنِي الْقَرْعُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے کھانے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، وہ کھانا لے کر حاضر ہوا تو اس میں پرانا روغن اور کدو تھا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے ہیں ، اس وقت سے مجھے بھی کدو پسند آنے لگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13572

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَقَالَ بَهْزٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُرَيْنَةَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّا قَدْ اجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ فَعَظُمَتْ بُطُونُنَا وَانْتَهَشَتْ أَعْضَاؤُنَا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا قَالَ فَلَحِقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَلُحَتْ بُطُونُهُمْ وَأَلْوَانُهُمْ ثُمَّ قَتَلُوا الرَّاعِي وَسَاقُوا الْإِبِلَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ فَجِيءَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ قَالَ قَتَادَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہو جاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13573

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي قَالَ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رَأَيْتَ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگو! میں تمہارا امام ہوں ، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی، اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13574

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِأَهْلِهَا لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ بَهْزٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ قَالَتْ أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُطْعَمْ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَاتَ يَبْكِي وَبِتُّ مُجْتَنِحًا عَلَيْهِ أُكَالِئُهُ حَتَّى أَصْبَحْتُ فَغَدَوْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا مَعَهُ مِيسَمٌ فَلَمَّا رَأَى الصَّبِيَّ مَعِي قَالَ لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فَوَضَعَ الْمِيسَمَ مِنْ يَدِهِ وَقَعَدَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا انس! اسے کوئی عورت دودھ نہ پلائے، بلکہ تم پہلے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر جاؤ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا شاید ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آلہ اپنے ہاتھ سے رکھ دیا اور بیٹھ گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13575

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ وَقَالَ إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلِتَ الصَّحْفَةَ وَقَالَ إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمْ الْبَرَكَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھا کر اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو وہ اس پر لگنے والی چیز کو ہٹا دے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور پیالہ اچھی طرح صاف کر لیا کرو ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13576

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْمًا فَعَفَا عَنْهُمْ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن جبل تنعیم کی جانب سے اسلحہ سے لیس اَسی اہل مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف بڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صحیح سالم پکڑ لیا اور معاف فرما دیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی " وھوالذی کف ایدیھم عنکم''

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13577

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا وَنَقَشَ فِيهِ نَقْشًا فَقَالَ إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا وَنَقَشْتُ فِيهِ نَقْشًا فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک عبارت (محمد رسول اللہ ) نقش کروائی ہے ، لہٰذا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کروائے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13578

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْقَرْعَ أَوْ قَالَ الدُّبَّاءَ قَالَ فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُهُ فَجَعَلْتُ أَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13579

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيكَ وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13580

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيًّا إِلَّا أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ أَلَا إِنَّهُ الْأَعْوَرُ الْكَذَّابُ أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَفَرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13581

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْلُ الْكِتَابِ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْنَا كَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13582

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو، صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13583

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَمَا يَبْسُطُ الْكَلْبُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13584

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ وَيْحَكَ أَوْ وَيْلَكَ ارْكَبْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا، اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13585

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا يَتْفُلَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13586

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ بِالْمَدِينَةِ فَزْعَةٌ فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَرَكِبَهُ وَقَالَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا ایک گھوڑا " جس کا نام مندوب تھا " عاریۃً لیا اور فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13587

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا وَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَبَسَطُوا لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحُوهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بڑا بھاری کم تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے بار بار نہیں آسکتا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں بار بار آپ کے ساتھ آکر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر آپ کسی دن میرے گھر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تو میں وہیں پر نماز پڑھ لیا کروں گا، چنانچہ اس نے ایک مرتبہ دعوت کا اہتمام کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، اور ایک چٹائی کے کونے پر پانی چھڑک دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دو رکعتیں پڑھ دیں ، آل جارود میں سے ایک آدمی نے یہ سن کر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز صرف اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13588

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَصْحَابُهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ فَخَفَّفَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَأَطَالَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ فَخَفَّفَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَأَطَالَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْتَ فَجَعَلْتَ تُطِيلُ إِذَا دَخَلْتَ وَتُخَفِّفُ إِذَا خَرَجْتَ قَالَ مِنْ أَجْلِكُمْ فَعَلْتُ مَا فَعَلْتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے ، کافی دیر گذر نے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے ، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم آج رات بیٹھے ہوئے تھے ، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ہی ایسا کیا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13589

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13590

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ قَتَادَةُ فَسَأَلْنَا أَنَسًا عَنْ الْأَكْلِ قَالَ الْأَكْلُ أَشَدُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13591

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ غُلَامًا جَوَادًا فَصِدْتُ أَرْنَبًا فَشَوَيْنَاهَا فَأَرْسَلَ مَعِي أَبُو طَلْحَةَ بِعَجُزِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک طاقتور لڑکا تھا، میں نے ایک خرگوش شکار کیا، پھر ہم نے اسے بھونا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ایک پہلو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمالیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13592

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ قَالَ يُقَالُ لَهُ قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک جہنمی سے کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کے برابر سونا موجود ہو تو کیا وہ سب اپنے فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13593

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهَا الْحِبَرَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار یمنی چادر والا لباس سب سے زیادہ پسند تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13594

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ ثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنْ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ هَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے حضرت انس رضی اللہ سے پوچھا کیا ان میں اتنی طاقت تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم آپس میں باتیں کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس آدمیوں کے برابر طاقت دی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13595

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لَأَكَلْتُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جگہ راستے میں ایک کھجور پڑی ہوئی ملی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو صدقہ کی نہ ہوتی تو میں تجھے کھا لیتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13596

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13597

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔

-

Permalink