حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ هَذَا الْمَوْقِفُ وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَأَفَاضَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى بَعِيرِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ ثُمَّ أَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهِمْ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ أَتَى قُزَحَ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ فَقَالَ هَذَا الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَرَعَ نَاقَتَهُ فَخَبَّتْ حَتَّى جَازَ الْوَادِيَ ثُمَّ حَبَسَهَا ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ وَسَارَ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ فَقَالَ هَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ قَالَ وَاسْتَفْتَتْهُ جَارِيَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ أَفْنَدَ وَقَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ فَهَلْ يُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ فَأَدِّي عَنْ أَبِيكِ قَالَ وَقَدْ لَوَى عُنُقَ الْفَضْلِ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ قَالَ رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَلَمْ آمَنْ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا قَالَ ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ انْحَرْ وَلَا حَرَجَ ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ قَالَ احْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ فَقَالَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سِقَايَتَكُمْ وَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمْ النَّاسُ عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ بِهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر غروب شمس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، اپنے پیچے حضرت اسامہ کو بٹھا لیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کردی، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے لوگو! سکون اور اطمینان اختیار کرو، پھر آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں اور رات بھر وہیں رہے صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل قزح پر تشریف لائے وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے، وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کو سرپٹ دوڑا دیا تا آنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی) ۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور چلتے چلتے منی پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے اور منی پورا ہی قربان گاہ ہے، اتنی دیر میں بنوخثعم کی ایک نوجوان عورت کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ تقریبا ختم ہوچکے ہیں لیکن ان پر حج بھی فرض ہے کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تم اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتی ہو، یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کی گردن موڑ دی (کیونکہ وہ اس عورت کو دیکھنے لگے تھے) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر پوچھا یا رسول اللہ! آپ نے اس کی گردن کس حکمت کی بنا پر موڑی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے دیکھا کہ دونوں نوجوان ہیں، مجھے ان کے بارے شیطان سے امن نہ ہوا اس لئے دونوں کا رخ پھیر دیا بہرحال تھوڑی دیر بعد ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال کٹوالیے، اب کیا کروں؟ فرمایا اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں، ایک اور شخص نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے حلق سے پہلے طواف زیارت کرلیا، فرمایا کوئی بات نہیں اب حلق یا قصر کر لو۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم طواف زیارت کے لئے حرم شریف پہنچے، طواف کیا، زمزم پیا اور فرمایا بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری پوری کرتے رہو اگر لوگ تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی اس میں سے ڈول کھینچ کھینچ کر نکالتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَوْلُ الْغُلَامِ يُنْضَحُ عَلَيْهِ وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ قَالَ قَتَادَةُ هَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَ بَوْلُهُمَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا، قتادہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو اور جب وہ کھانا پینا شروع کر دیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ ثُمَّ دَفَعَ يَسِيرُ الْعَنَقَ وَجَعَلَ النَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ حَتَّى جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَقَالَ هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ حَتَّى جَاءَ مُحَسِّرًا فَقَرَعَ رَاحِلَتَهُ فَخَبَّتْ حَتَّى خَرَجَ ثُمَّ عَادَ لِسَيْرِهِ الْأَوَّلِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ ثُمَّ جَاءَ الْمَنْحَرَ فَقَالَ هَذَا الْمَنْحَرُ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ وَقَدْ أَفْنَدَ وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَدَاءَهَا فَيُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَهَا عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ عَنْهَا ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ وَأَفَضْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَحْلِقْ قَالَ فَلَا حَرَجَ فَاحْلِقْ ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي رَمَيْتُ وَحَلَقْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ فَقَالَ لَا حَرَجَ فَانْحَرْ ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهُ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ انْزِعُوا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُكَ تَصْرِفُ وَجْهَ ابْنِ أَخِيكَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ غُلَامًا شَابًّا وَجَارِيَةً شَابَّةً فَخَشِيتُ عَلَيْهِمَا الشَّيْطَانَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر غروب شمس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، اپنے پیچھے حضرت اسامہ کو بٹھالیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کردی، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے لوگو! سکون اور اطمینان اختیار کرو، پھر آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں اور رات بھر وہیں رہے صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل قزح پر تشریف لائے وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کوسرپٹ دوڑا دیا تا آنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی) ۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو بٹھالیا اور چلتے چلتے منی پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے اور منی پورا ہی قربان گاہ ہے، اتنی دیر میں بنوخثعم کی ایک نوجوان عورت کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ تقریبا ختم ہوچکے ہیں لیکن ان پر حج بھی فرض ہے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! تم اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتی ہو، یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کی گردن موڑ دی (کیونکہ وہ اس عورت کو دیکھنے لگے تھے) ۔ تھوڑی دیر بعد ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، طواف زیارت کرلیا، کپڑے پہن لیے لیکن حلق نہیں کروا سکا اب کیا کروں؟ فرمایا اب حلق کرلو، کوئی حرج نہیں، ایک اور شخص نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے قربانی سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، حلق کروا لیا، کپڑے پہن لیے؟ فرمایا کوئی بات نہیں، اب قربانی کرلو۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم طواف زیارت کے لئے حرم شریف پہنچے، طواف کیا، زمزم پیا اور فرمایا بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری پوری کرتے رہو، اگر لوگ تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی اس میں سے ڈول کھینچ کھینچ کر نکالتا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اپنے بھتیجے کی گردن کس حکمت کی بناء پر موڑی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے دیکھا کہ دونوں نوجوان ہیں، مجھے ان کے بارے شیطان سے امن نہ ہوا اس لیے دونوں کا رخ پھیر دیا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَوَّذَ مَرِيضًا قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کے لئے تشریف لیئے جاتے تو یہ دعاء کرتے کہ اے لوگوں کے رب! اس پریشانی اور تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطاء فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء جو بیماری کا نام ونشان بھی نہ چھوڑے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا دُونَ مَشُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ لَأَمَّرْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ مَدَنِيٌّ مَوْلًى لِآلِ عُمَرَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ بَيْنَمَا نَحْنُ بِمِنًى إِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ هَذِهِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَلَا يَصُومُهَا أَحَدٌ وَاتَّبَعَ النَّاسَ عَلَى جَمَلِهِ يَصْرُخُ بِذَلِكَ
عمرو بن سلیم کی والدہ کہتی ہیں کہ ہم میدان منی میں تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ دن کھانے پینے کے ہیں اس لیے ان دنوں میں کوئی شخص روزہ نہ رکھے اور اپنی سواری پر جو کہ اونٹ تھا بیٹھ کر لوگوں میں یہ اعلان کرتے رہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَفَعَهُ قَالَ مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنتیں اقامت کے قریب پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ كَانَتْ لِي سَاعَةٌ مِنْ السَّحَرِ أَدْخُلُ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي سَبَّحَ بِي فَكَانَ ذَاكَ إِذْنُهُ لِي وَإِنْ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي أَذِنَ لِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت ایک مخصوص گھڑی ہوتی تھی جس میں، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے یہ اس بات کی علامت ہوتی کہ مجھے اندر آنے کی اجازت ہے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے ( اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ وَفَاطِمَةُ وَذَلِكَ مِنْ السَّحَرِ حَتَّى قَامَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ أَلَا تُصَلُّونَ فَقُلْتُ مُجِيبًا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا نُفُوسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا قَالَ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَى الْكَلَامِ فَسَمِعْتُهُ حِينَ وَلَّى يَقُولُ وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، میں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا دونوں سو رہے تھے، صبح کا وقت تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ تم لوگ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی زوجہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى قَوْمٍ قَدْ بَنَوْا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ يَتَدَافَعُونَ إِذْ سَقَطَ رَجُلٌ فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ ثُمَّ تَعَلَّقَ رَجُلٌ بِآخَرَ حَتَّى صَارُوا فِيهَا أَرْبَعَةً فَجَرَحَهُمْ الْأَسَدُ فَانْتَدَبَ لَهُ رَجُلٌ بِحَرْبَةٍ فَقَتَلَهُ وَمَاتُوا مِنْ جِرَاحَتِهِمْ كُلُّهُمْ فَقَامُوا أَوْلِيَاءُ الْأَوَّلِ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْآخِرِ فَأَخْرَجُوا السِّلَاحَ لِيَقْتَتِلُوا فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ فَقَالَ تُرِيدُونَ أَنْ تَقَاتَلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ إِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ قَضَاءً إِنْ رَضِيتُمْ فَهُوَ الْقَضَاءُ وَإِلَّا حَجَزَ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ حَتَّى تَأْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَكُونَ هُوَ الَّذِي يَقْضِي بَيْنَكُمْ فَمَنْ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَا حَقَّ لَهُ اجْمَعُوا مِنْ قَبَائِلِ الَّذِينَ حَفَرُوا الْبِئْرَ رُبُعَ الدِّيَةِ وَثُلُثَ الدِّيَةِ وَنِصْفَ الدِّيَةِ وَالدِّيَةَ كَامِلَةً فَلِلْأَوَّلِ الرُّبُعُ لِأَنَّهُ هَلَكَ مَنْ فَوْقَهُ وَلِلثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ فَأَبَوْا أَنْ يَرْضَوْا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ وَاحْتَبَى فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ إِنَّ عَلِيًّا قَضَى فِينَا فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَنْبَأَنَا سِمَاكٌ عَنْ حَنَشٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ كَامِلَةً
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، میں ایک ایسی قوم کے پاس پہنچا جنہوں نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گڑھا کھود کر اسے ڈھانپ رکھا تھا (شیر آیا اور اس میں گر پڑا) ابھی وہ یہ کام کر رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی اس گڑھے میں گر پڑا، اس کے پیچھے دوسرا، تیسرا حتی کہ چار آدمی گر پڑے، اس گڑھے میں موجود شیر نے ان سب کو زخمی کردیا، یہ دیکھ کر ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ پکڑا اور شیر کو دے مارا، شیر ہلاک ہوگیا اور وہ چاروں آدمی بھی اپنے اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسے۔ مقتولین کے اولیاء اسلحہ نکال کر جنگ کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، اتنی دیر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ آپہنچے اور کہنے لگے کہ ابھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں تم ان کی حیات میں باہمی قتل وقتال کرو گے؟ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر تم اس پر راضی ہوگئے تو سمجھو کہ فیصلہ ہوگیا اور اگر تم سمجھتے ہو کہ اس سے تمہاری تشفی نہیں ہوئی تو تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اس کا فیصلہ کروا لینا، وہ تمہارے درمیان اس کا فیصلہ کر دیں گے، اس کے بعد جو حد سے تجاوز کرے گا وہ حق پر نہیں ہوگا۔ فیصلہ یہ ہے کہ ان قبیلوں کے لوگوں نے اس گرھے کی کھدائی میں حصہ لیا ہے ان سے چوتھائی دیت، تہائی دیت، نصف دیتے اور کامل دیت لے کر جمع کرو، اور جو شخص پہلے گر کر گڑھے میں شیر کے ہاتھوں زخمی ہوا، اس کے ورثاء کو چوتھائی دیت دے دو، دوسرے کو تہائی اور تیسرے کو نصف دیت دے دو، ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا (کیونکہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا) چنانہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسارا قصہ سنایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گوٹ مار کر بیٹھ گئے، اتنی دیر میں ایک آدمی کہنے لگا، یا رسول اللہ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو نافذ کر دیا۔ اس دوسری روایت کے مطابق چوتھے آدمی کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوری دیت کا فیصلہ کیا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كَتَبْتُ إِلَيْكَ بِخَطِّي وَخَتَمْتُ الْكِتَابَ بِخَاتَمِي يَذْكُرُ أَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ أَلَا تُصَلُّونَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا وَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ہمارے یہاں تشریف لائے، اور کہنے لگے کہ تم لوگ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ حَدَّثَنِي أَخِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ وَأَبَاهُمَا وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا جو شخص مجھ سے محبت کرے، ان دونوں سے محبت کرے اور ان کے ماں باپ سے محبت کرے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجے میں ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ السَّبَئِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِىِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں اس کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَأَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَسَنٌ يَوْمَ الْأَضْحَى فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً فَقُلْتُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا الْبَطِّ يَعْنِي الْوَزَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ فَقَالَ يَا ابْنَ زُرَيْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ إِلَّا قَصْعَتَانِ قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيْ النَّاسِ
عبداللہ بن زریر کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے ہمارے سامنے خزیرہ (سالن مع گوشت و روٹی) پیش کیا، میں نے بے تکلفی سے عرض کیا کہ اللہ آپ کا بھلا کرے، اگر آپ یہ بطخ ہمارے سامنے پیش کرتے تو کیا ہو جاتا، اب تو اللہ نے مال غنیمت کی بھی فراوانی فرما رکھی ہے؟ فرمایا ابن زریر! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خلیفہ کے لیے اللہ کے مال میں سے صرف دو پیالے ہی حلال ہیں ایک وہ پیالہ جس میں سے وہ خود اور اس کے اہل خانہ کھا سکیں اور دوسرا پیالہ وہ جسے وہ لوگوں کے سامنے پیش کر دے۔
-
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ أُمِّ مُوسَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا رَمِدْتُ مُنْذُ تَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن میری آنکھوں میں لگایا ہے، مجھے کبھی آشوب چشم کی بیماری نہیں ہوئی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَفِي وَسَطِهِ وَفِي آخِرِهِ ثُمَّ ثَبَتَ لَهُ الْوَتْرُ فِي آخِرِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھایا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ وَإِذَا كَلَّمْتُمُوهُمْ فَلْيَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ قِيدُ رُمْحٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جن لوگوں کو کوڑھ کی بیماری ہو، انہیں مت دیکھتے رہا کرو اور جب ان سے بات کیا کرو تو اپنے اور ان کے درمیان ایک نیزے کے برابر فاصلہ رکھا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ وَلَا تَأْكُلْ الصَّدَقَةَ وَلَا تُنْزِ الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ وَلَا تُجَالِسْ أَصْحَابَ النُّجُومِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علی! وضو! اچھی طرح کیا کرو اگرچہ تمہیں شاق ہی کیوں نہ گذرے (مثلاً سردی کے موسم میں) صدقہ مت کھایا کرو گدھوں کو گھوڑوں پر مت کدواؤ، اور نجومیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا مت رکھو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ ثُمَّ شَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ
نزل بن سبرہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کوزے میں پانی لایا گیا وہ مسجد کے صحن میں تھے، انہوں نے چلو بھر کر پانی لیا اور اس سے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، چہرہ کا مسح کیا، بازؤں اور سر پر پانی کا گیلا ہاتھ پھیرا، پھر کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ جو آدمی بے وضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسب کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ تیار کر لینا چاہیے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ عَنْ أُمِّ مُوسَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ آخِرُ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آخری کلام یہ تھا کہ نماز کی پابندی کرنا اور اپنے غلاموں باندیوں کے بارے اللہ سے ڈرتے رہنا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ السَّبَّاحَةِ أَوْ الَّتِي تَلِيهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ نے مجھے شہادت والی یا اس کے ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَنْبَأَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ ثُمَّ شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَوْمَ عِيدٍ بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَصَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
ابوعبید کہتے ہیں کہ۔ ۔ ۔ ۔ ایک مرتبہ عید کے دن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، اس میں اذان یا اقامت کچھ بھی نہ کہی اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ نِسَاءَهُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ وَلَمْ يُخَيِّرْهُنَّ الطَّلَاقَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَ خَيَّرَ نِسَاءَهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَمْ يُخَيِّرْهُنَّ الطَّلَاقَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا تھا لیکن اسے طلاق شمار نہیں کیا تھا اور نہ ہی انہیں طلاق کا اختیار دیا تھا ۔ گذشتہ روایت ایک اور سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْمُؤَدِّبُ يَعْقُوبُ جَارُنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان مشرکین کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا وَكَانَ حَسَنٌ أَرْضَاهُمَا فِي أَنْفُسِنَا أَنَّ عَلِيًّا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں ہی نکاح متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرمادی تھی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقَسِّمَ بُدْنَهُ أَقُومُ عَلَيْهَا وَأَنْ أُقَسِّمَ جُلُودَهَا وَجِلَالَهَا وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا وَقَالَ نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ کے ساتھ موجود رہوں اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کردوں اور گوشت بھی تقسیم کردوں اور یہ بھی حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں اور فرمایا کہ اسے ہم اپنے پاس سے مزدوری دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ رَجُلٍ مِنْ هَمْدَانَ سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ يَعْنِي يَوْمَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْحَجَّةِ قَالَ بُعِثْتُ بِأَرْبَعٍ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ وَلَا يَحُجُّ الْمُشْرِكُونَ وَالْمُسْلِمُونَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا
مختلف راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو امیرالحجاج بنا کر بھیجا تھا تو آپ کو کیا پیغام دے کربھیجا گیا تھا؟ فرمایا کہ مجھے چار پیغامات دے کر بھیجا گیا تھا، ایک تو یہ کہ جنت میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی شخص داخل نہ ہوسکے گا، دوسرا یہ کہ آئندہ بیت اللہ کا طواف برہنہ ہو کر کوئی نہ کرسکے گا، تیسرا یہ کہ جس شخص کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معاہدہ ہو، وہ مدت ختم ہونے تک برقرار رہے گا اور اس سال کے بعد مسلمانوں کے ساتھ مشرک حج نہ کر سکیں گے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَضَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الدَّيْنَ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ میت کے قرض کی ادائیگی اجراء نفاذ وصیت سے پہلے ہوگی جبکہ قرآن میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے ہے اور یہ کہ اخیافی بھائی تو وارث ہوں گے لیکن علاتی بھائی وارث نہ ہوں گے۔ فائدہ : ماں شریک بھائی کو اخیافی اور باپ شریک بھائی کو علاتی کہتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أُعْطِيكُمْ وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَلَوَّى بُطُونُهُمْ مِنْ الْجُوعِ وَقَالَ مَرَّةً لَا أُخْدِمُكُمَا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَطْوَى
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ میں تمہیں دیتا رہوں اور اہل صفہ کو چھوڑ دوں جن کے پیٹ بھوک کی وجہ سے اندر کو دھنس چکے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطْوَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي حَرْبٌ أَبُو سُفْيَانَ الْمِنْقَرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي عَمِّي عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي الْمَسْعَى كَاشِفًا عَنْ ثَوْبِهِ قَدْ بَلَغَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے مسعی میں صفا و مروہ کے درمیان اس حال میں سعی کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر کی چادر جسم سے ہٹ کر گھٹنوں تک پہنچ گئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَأْذِنُ فَإِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ سَبَّحَ وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ أَذِنَ لِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے یہ اس بات کی علامت ہوتی کہ مجھے اندر آنے کی اجازت ہے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے (اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ بَعْدَ الْقُرْآنِ قَالَ لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِلَّا فَهْمٌ يُؤْتِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ أَوْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ قُلْتُ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے قرآن کے علاوہ بھی آپ کو کچھ ملا ہے؟ فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جانداروں کو تندرستی بخشی، سوائے اس سمجھ اور فہم و فراست کے جو اللہ تعالیٰ کسی شخص کو فہم قرآن کے حوالے سے عطاء فرمادے یا وہ چیز جو اس صحیفہ میں ہے اور کچھ نہیں ملا، میں نے پوچھا کہ اس صحیفے میں کیا ہے؟ فرمایا دیت کے احکام، قیدیوں کو چھوڑنے کے مسائل اور یہ کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ وَقَالَ مَرَّةً إِنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ قَالَتْ مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ قُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنَقْلِبَنَّ الثِّيَابَ قَالَ فَأَخْرَجَتْ الْكِتَابَ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَخَذْنَا الْكِتَابَ فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنْ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَاطِبُ مَا هَذَا قَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا وَكَانَ مَنْ كَانَ مَعَكَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنْ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ كُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو ایک جگہ بھیجتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ روانہ ہوجاؤ، جب تم روضہ خاخ میں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہوگا تم اس سے وہ خط لے کر واپس آجانا، چنانچہ ہم لوگ روانہ ہوگئے، ہمارے گھوڑے ہمارے ہاتھوں سے نکلے جاتے تھے، یہاں تک کہ ہم روضہ خاخ جا پہنچے، وہاں ہمیں واقعۃ ایک عورت ملی، ہم نے اس سے کہا کہ تیرے پاس جو خط ہے وہ نکال دے، اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہم نے اس سے کہا کہ یا تو، تو خود ہی خط نکال دے ورنہ ہم تجھے برہنہ کر دیں گے۔ مجبور ہو کر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی میں سے ایک خط نکال کر ہمارے حوالے کردیا، ہم وہ خط لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس خط کو جب کھول کر دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ وہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے کچھ مشرکین مکہ کے نام تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فیصلے کی خبر دی گئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے معاملے میں جلدی نہ کیجئے گا، میں قریش سے تعلق نہیں رکھتا، البتہ ان میں شامل ہوگیا ہوں، آپ کے ساتھ جتنے بھی مہاجرین ہیں، ان کے مکہ مکرمہ میں رشتہ دار موجود ہیں جن سے وہ اپنے اہل خانہ کی حفاظت کروا لیتے ہیں، میں نے سوچا کہ میرا وہاں کوئی نسبی رشتہ دار تو موجود نہیں ہے، اس لئے ان پر ایک احسان کردوں تاکہ وہ اس کے عوض میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں، میں نے یہ کام کافر ہو کر یا مرتد ہو کر یا اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے نہیں کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے تم سے سچ بیان کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر فرمایا مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اڑادوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ نے آسمان سے اہل بدر کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا تم جو کچھ کرتے رہو میں تمہیں معاف کرچکا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ أَبِي جَهْضَمٍ أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانِي عَنْ ثَلَاثَةٍ قَالَ فَمَا أَدْرِي لَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً نَهَانِي عَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا ہے، اب مجھے معلوم نہیں کہ ان کی ممانعت خصوصیت کے ساتھ میرے لیے ہے یا سب کے لئے عام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْيَمَامِيِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا عَلِيُّ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَشَبَابِهَا بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ سامنے سے حضرات شیخین رضی اللہ عنہما آتے ہوئے دکھائی دیئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی! یہ دونوں حضرات انبیاء و مرسلین کے علاوہ جنت کے تمام بوڑھوں اور جوانوں کے سردار ہیں ۔
-
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ فَقُلْتُ مَا لِي مِنْ شَيْءٍ فَكَيْفَ ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَالَ هِيَ عِنْدِي قَالَ فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے لیے پیغام نکاح بھیجنے کا ارادہ کیا تودل میں سوچا کہ میرے پاس تو کچھ ہے نہیں ، پھر یہ کیسے ہوگا؟ پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی اور شفقت یاد آئی چنانچہ میں نے پیغام نکاح بھیج دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے بھی؟ میں نے عرض کیا نہیں! فرمایا تمہاری وہ حطمیہ کی زرہ کیا ہوئی جو میں نے تمہیں فلاں دن دی تھی؟ عرض کیا کہ وہ تو میرے پاس ہے؟ فرمایا پھر وہی دے دو، چنانچہ میں نے وہ لا کر انہی کو دے دی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَخْدِمُهُ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ ذَلِكَ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ أَحَدُهَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خادم کی درخواست لے کر آئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں ؟٣٣ مرتبہ سبحان اللہ،٣٣ مرتبہ اللہ اکبر اور٣٣ مرتبہ الحمدللہ کہہ لیا کرو ، ان میں سے کوئی ایک ٣٤ مرتبہ کہہ لیا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَسْلَمَةُ الرَّازِيُّ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندہ مومن کو پسند کرتا ہے جو آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد توبہ کرلے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْمُنْذِرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَكُنْتُ أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ سے یہ مسئلہ پوچھیں ، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكَرَّمٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ
حضرت ابوہریرہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَمٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي تَنَحْنَحَ فَأَتَيْتُهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا أَحْدَثَ الْمَلَكُ اللَّيْلَةَ كُنْتُ أُصَلِّي فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فِي الدَّارِ فَخَرَجْتُ فَإِذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَا زِلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ أَنْتَظِرُكَ إِنَّ فِي بَيْتِكَ كَلْبًا فَلَمْ أَسْتَطِعْ الدُّخُولَ وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ وَلَا تِمْثَالٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں روزانہ صبح و شام دو مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونا چاہتا اور وہ نماز پڑھ رہے ہوتے تو کھانس دیا کرتے تھے، ایک مرتبہ میں رات کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں پتہ ہے آج رات فرشتے نے کیا کیا؟ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے کسی کی آہٹ گھر میں محسوس ہوئی، میں گھبرا کر باہر نکلا تو سامنے حضرت جبرئیل علیہ السلام کھڑے تھے وہ کہنے لگے کہ میری ساری رات آپ کے انتظار میں گذر گئی، آپ کے کمرے میں کہیں سے کتا آگیا ہے اس لئے میں اندر نہیں آسکتا، کیونکہ ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی کتا، کوئی جنبی یا کوئی تصویر اور مورتی ہو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِالْمُقَابَلَةِ أَوْ بِمُدَابَرَةٍ أَوْ شَرْقَاءَ أَوْ خَرْقَاءَ أَوْ جَدْعَاءَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے جس کا کان آگے یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو یا اس میں سوراخ ہو یا وہ پھٹ گیا ہو یا جسم کے دیگر اعضاء کٹے ہوئے ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ مُرْتَفِعَةً
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی جائے، ہاں ! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت، سونے کی انگوٹھی، ریشی کپڑے اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ شَامِتًا قَالَ لَا بَلْ عَائِدًا قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنْ كُنْتَ جِئْتَ عَائِدًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا عَادَ الرَّجُلُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مَشَى فِي خِرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا عیادت کی نیت سے آئے ہو یا اس کے بیمار ہونے پر خوشی کا اظہار کرنے کے لئے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر واقعی عیادت کی نیت سے آئے ہو تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات میں چلتا ہے یہاں تک کہ بیٹھ جائے، اس کے بیٹھنے پر اللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، پھر اگر صبح کو جائے تو شام تک اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ فِي سَنَةِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْتُ لِسُوَيْدٍ وَلِمَ سُمِّيَ الزَّنْجِيَّ قَالَ كَانَ شَدِيدَ السَّوَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ هَذَا مَوْقِفٌ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ ثُمَّ دَفَعَ فَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ حَتَّى جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ ثُمَّ وَقَفَ عَلَى قُزَحَ فَقَالَ هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ ثُمَّ دَفَعَ فَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى مُحَسِّرٍ قَرَعَ رَاحِلَتَهُ فَخَبَّتْ بِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ الْوَادِي ثُمَّ سَارَ مَسِيرَتَهُ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَنْحَرَ فَقَالَ هَذَا الْمَنْحَرُ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر غروب شمس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، اپنے پیچے حضرت اسامہ کو بٹھا لیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کردی، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے لوگو! سکون اور اطمینان اختیار کرو، پھر آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں اور رات بھر وہیں رہے، صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل قزح پر تشریف لائے، وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے، وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کو سرپٹ دوڑا دیا تاآنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی) ۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو بٹھالیا اور چلتے چلتے منی پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے اور منی پورا ہی قربان گاہ ہے پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبْغِضُ الْعَرَبَ إِلَّا مُنَافِقٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عرب سے نفرت کرنے والا کوئی منافق ہی ہوسکتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ صَحِيفَةٌ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ وَأَشْيَاءُ مِنْ الْجِرَاحَاتِ فَقَدْ كَذَبَ قَالَ وَفِيهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ
ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے جس میں اونٹوں کی عمریں اور زخموں کی کچھ تفصیلات ہیں کے علاوہ بھی کچھ اور ہے جو ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹا ہے، اس صحیفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عیر سے ثور تک مدینہ منورہ حرم ہے، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا۔ اور جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے (کسی دوسرے شخص کو اپنا باپ کہنا شروع کردے) یا کوئی غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کردے، اس پر بھی اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ اس کا بھی کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کرے گا اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ایک جیسی ہے، ایک عام آدمی بھی اگر کسی کو امان دے دے تو اس کا لحاظ کیا جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنْ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ وَالْحَرْبُ خَدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا جب میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گر جانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور جب کسی اور کے حوالے سے کوئی بات کروں تو میں جنگجو آدمی ہوں اور جنگ تو نام ہی تدابیر اور چال کا ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے قریب ایسی اقوام نکلیں گی جن کی عمر تھوڑی ہوگی اور عقل کے اعتبار سے وہ بیوقوف ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کریں گے، لیکن ایمان ان کے گلے سے آگے نہیں جائے گا، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کردو، کیونکہ ان کا قتل کرنا قیامت کے دن باعث ثواب ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ بَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان ادا فرمائی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْمُنْذِرِ أَبِي يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَجُلًا مَذَّاءً فَاسْتَحْيَى أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ قَالَ فَقَالَ لِلْمِقْدَادِ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ قَالَ فَسَأَلَهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ الْوُضُوءُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ عليه وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص وضو کر لیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرَأَ الرَّجُلُ وَهُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع یا سجدہ کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ وَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي هِيَ ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔(دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امیرحمزہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنْ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلِمَ نَعْمَلُ قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ أَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ خواہ جنت ہو یا جہنم اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر ہم عمل کیوں کریں؟ فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کیے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی تو ہم اس کے لئے آسانی کے اسباب پیدا کردیں گے اور جو شخص بخل اختیار کرے، اپنے آپ کو مستغنی ظاہر کرے اوراچھی بات کی تکذیب کرے تو ہم اس کے لئے تنگی کے اسباب پیدا کردیں گے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ فَلَمَّا خَرَجُوا قَالَ وَجَدَ عَلَيْهِمْ فِي شَيْءٍ فَقَالَ قَالَ لَهُمْ أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي قَالَ قَالُوا بَلَى قَالَ فَقَالَ اجْمَعُوا حَطَبًا ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ فَأَضْرَمَهَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَتَدْخُلُنَّهَا قَالَ فَهَمَّ الْقَوْمُ أَنْ يَدْخُلُوهَا قَالَ فَقَالَ لَهُمْ شَابٌّ مِنْهُمْ إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ النَّارِ فَلَا تَعْجَلُوا حَتَّى تَلْقَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوهَا فَادْخُلُوا قَالَ فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ لَهُمْ لَوْ دَخَلْتُمُوهَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْهَا أَبَدًا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا، اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کردیا، جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو راستے میں اس انصاری کو کسی بات پر غصہ آگیا، اور اس نے ان سے کہا کہ پھر لکڑیاں اکٹھی کرو، اس کے بعد اس نے آگ منگوا کر لکڑیوں میں آگ لگادی اور کہا کہ میں تمہیں قسم دیتاہوں کہ اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ لوگ ابھی اس میں چھلانگ لگانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ ایک نوجوان کہنے لگا کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہو، اس میں جلد بازی مت کرو پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر پوچھ لو، اگر وہ تمہیں اس میں چھلانگ لگانے کا حکم دیں توضرور ایسا ہی کرو۔ چنانچہ لوگ رک گئے اور واپس آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہوجاتے تو پھر کبھی اس میں سے نکل نہ سکتے، یاد رکھو! اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ شَهِدْتُ جَنَازَةً فِي بَنِي سَلِمَةَ فَقُمْتُ فَقَالَ لِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ اجْلِسْ فَإِنِّي سَأُخْبِرُكَ فِي هَذَا بِثَبْتٍ حَدَّثَنِي مَسْعُودُ بْنُ الْحَكَمِ الزُّرَقِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَحَبَةِ الْكُوفَةِ وَهُوَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِالْقِيَامِ فِي الْجِنَازَةِ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا بِالْجُلُوسِ
واقد بن عمرو کہتے ہیں کہ میں بنوسلمہ کے کسی جنازے میں شریک تھا، میں جنازے کو دیکھ کر کھڑا ہوگیا، تو نافع بن جبیر مجھ سے کہنے لگے کہ بیٹھ جاؤ، میں تمہیں اس سلسلے میں ایک مضبوط بات بتاتا ہوں، مجھے مسعود بن حکم نے بتایا ہے کہ انہوں نے جامع کوفہ کے صحن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہمیں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا حکم دیتے تھے، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی بیٹھے رہنے لگے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کا حکم دیا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ أَنَّهُ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرُوهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلِيدِ أَيْ بِشُرْبِهِ الْخَمْرَ فَكَلَّمَهُ عَلِيٌّ فِي ذَلِكَ فَقَالَ دُونَكَ ابْنَ عَمِّكَ فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ فَقَالَ يَا حَسَنُ قُمْ فَاجْلِدْهُ قَالَ مَا أَنْتَ مِنْ هَذَا فِي شَيْءٍ وَلِّ هَذَا غَيْرَكَ قَالَ بَلْ ضَعُفْتَ وَوَهَنْتَ وَعَجَزْتَ قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ فَجَعَلَ عَبْدُ اللَّهِ يَضْرِبُهُ وَيَعُدُّ عَلِيٌّ حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ ثُمَّ قَالَ أَمْسِكْ أَوْ قَالَ كُفَّ جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ
ابوساسان رقاشی کہتے ہیں کہ کوفہ سے کچھ لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ولید کی شراب نوشی کے حوالے سے کچھ خبریں بتائیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان سے اس حوالے پر گفتگو کی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کا چچازاد بھائی آپ کے حوالے ہے، آپ اس پر سزاجاری فرمائیے انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حسن! کھڑے ہو کر اسے کوڑے مارو، اس نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کرسکتے، کسی اور کو اسکا حکم دیجئے، فرمایا اصل میں تم کمزور اور عاجز ہوگئے ہو، اس لئے عبداللہ بن جعفر! تم کھڑے ہو کر اس پر سزاجاری کرو، چنانچہ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کوڑے مارتے جاتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے، جب چالیس کوڑے ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا بس کرو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کوچالیس کوڑے مارے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے تھے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی مارے تھے اور دونوں ہی سنت ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ بَيْتِي فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَجِئْتُهُ بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِيبَهُ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَدْ بَالَ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ فَوُضِعَ لَهُ إِنَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيْهِ فَصَكَّ بِهِمَا وَجْهَهُ وَأَلْقَمَ إِبْهَامَهُ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ قَالَ ثُمَّ عَادَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ ثُمَّ أَرْسَلَهَا تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَدَهُ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مِنْ ظُهُورِهِمَا ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنْ الْمَاءِ فَصَكَّ بِهِمَا عَلَى قَدَمَيْهِ وَفِيهِمَا النَّعْلُ ثُمَّ قَلَبَهَا بِهَا ثُمَّ عَلَى الرِّجْلِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ وَفِي النَّعْلَيْنِ قَالَ وَفِي النَّعْلَيْنِ قُلْتُ وَفِي النَّعْلَيْنِ قَالَ وَفِي النَّعْلَيْنِ قُلْتُ وَفِي النَّعْلَيْنِ قَالَ وَفِي النَّعْلَيْنِ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے گھر تشریف لائے، انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، ہم ان کے پاس ایک پیالہ لائے جس میں ایک مد یا اس کے قریب پانی آتا تھا، اور وہ لا کر ان کے سامنے رکھ دیا، اس وقت وہ پیشاب سے فارغ ہوچکے تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا اے ابن عباس! کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ چنانچہ ان کے وضو کےلئے برتن رکھا گیا، پہلے انہوں نے دونوں ہاتھ دھوئے، کلی کی، ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کیا، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر چہرے پر مارا، اپنے انگوٹھے کا پانی کان کے سامنے والے حصے پر ڈالا تین مرتبہ اسی طرح کیا، پھر دائیں ہاتھ سے ایک چلو بھر کرپانی لیا، اور اسے پیشانی پر ڈال لیا، تاکہ وہ چہرے پر بہہ جائے، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، بائیں ہاتھ کو بھی اسی طرح دھویا، سر اور کانوں کامسح کیا، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر اپنے قدموں پر ڈالا، جبکہ انہوں نے جوتی پہن رکھی تھی، پھر جوتی کو ہلایا اور دوسرے پاؤں کے ساتھ بھی اسی طرح کیا۔ میں نے عرض کیا کہ جوتی پہنے ہوئے بھی وضو ہو سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! ہوسکتا ہے۔ یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوئے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُكِرَ الْخَوَارِجُ فَقَالَ فِيهِمْ مُخْدَجُ الْيَدِ أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مُثَدَّنُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی ہے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن کریم پڑھایا کرتے تھے، بشرطیکہ اختیاری طور پر غسل کے ضرورت مند نہ ہوتے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا بَعَثْتَنِي أَكُونُ كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ أَمْ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ قَالَ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا جب آپ مجھے کہیں بھیجتے ہیں تو میں ڈھلا ہوا سکہ بن کر جایا کروں یا وہاں کے حالات دیکھ کر فیصلہ کیا کروں کیونکہ موقع پر موجود شخص وہ دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا؟ فرمایا بلکہ یہ بات سامنے رکھو کہ موقع پر موجود شخص وہ دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا ( اور حالات دیکھ کر فیصلہ کیا کرو)
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ قَالَ سَمِعْتُ رِبْعِيًّا قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ يَلِجْ النَّارَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
-
حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ يَلِجْ النَّارَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پہلے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے احترام میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہونے لگے، بعد میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ہم بھی بیٹھنے لگے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنِ ابْنِ نُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جُنُبٌ وَلَا صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی جنبی ہو یا تصویر یا کتا ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ لَيْسَ بِالْكُوفَةِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ (جن کی وضاحت پیچھے گذرچکی)
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنِي عَامِرٌ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَالْحَالَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے، سودخور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی عورتوں پر۔
-
حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ قَالَ قُلْتُ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ أَحْدَاثٌ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي لِسَانَكَ وَيُثَبِّتُ قَلْبَكَ قَالَ فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ بَعْدُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جہاں لوگوں میں آپس میں اختلافات اور جھگڑے بھی ہوں گے اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعا کوئی علم نہیں ہے؟ فرمایا اللہ تمہارے زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہوا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ وَأَنَا أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِنْ كَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِي وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي قَالَ مَا قُلْتَ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ فَقَالَ مَا قُلْتَ قَالَ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوْ اشْفِهِ قَالَ فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ اللَّهُمَّ عَافِهِ اللَّهُمَّ اشْفِهِ فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطاء فرما اور مجھے اپنے پاس بلالے، اگر اس میں دیر ہو تو مجھے اٹھا لے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبر عطاء فرما، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے اپنی بات پھر دہرادی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پاؤں سے ٹھوکر ماری یعنی غصہ کا اظہار کیا اور فرمایا کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے پھر اپنی بات دہرادی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔ گذشتہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مذکور ہے جو عبارت میں گذری۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ أَتَيْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَرَجُلَانِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَا يَحْجِزُهُ وَرُبَّمَا قَالَ يَحْجُبُهُ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے بعد وضو کیے بغیر باہر تشریف لاکر قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ گوشت بھی تناول فرما لیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن سے نہیں روکتی تھی۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے بہترین عورت حضرت مریم بنت عمران ہیں اور بہترین عورت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ الْكِنْدِيِّ عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحْبَةِ وَهُوَ يَنْشُدُ النَّاسَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ وَهُوَ يَقُولُ مَا قَالَ فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے صحن مسجد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو اللہ کی قسم دے کریہ پوچھتے ہوئے سنا کہ غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کون حاضر تھا اور کس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا تھا؟ اس پر تیرہ آدمی کھڑے ہوگئے اور ان سب نے گواہی دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کے مولی ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ إِنَّهُ مِمَّا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ وَلَا يُحِبُّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ بات ذکر فرمائی تھی کہ مجھ سے بغض کوئی منافق ہی کر سکتا ہے اور مجھ سے محبت کوئی مومن ہی کرسکتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَنْبَأَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفُ الْإِذْخِرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دار کپڑے، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ الْمَدَائِنِيُّ عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ وَصَعِدَ عَلَى مَنْكِبَيَّ فَذَهَبْتُ لِأَنْهَضَ بِهِ فَرَأَى مِنِّي ضَعْفًا فَنَزَلَ وَجَلَسَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبَيَّ قَالَ فَصَعِدْتُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ قَالَ فَنَهَضَ بِي قَالَ فَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنِّي لَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ أُفُقَ السَّمَاءِ حَتَّى صَعِدْتُ عَلَى الْبَيْتِ وَعَلَيْهِ تِمْثَالُ صُفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ فَجَعَلْتُ أُزَاوِلُهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ حَتَّى إِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْذِفْ بِهِ فَقَذَفْتُ بِهِ فَتَكَسَّرَ كَمَا تَتَكَسَّرُ الْقَوَارِيرُ ثُمَّ نَزَلْتُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَبِقُ حَتَّى تَوَارَيْنَا بِالْبُيُوتِ خَشْيَةَ أَنْ يَلْقَانَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا، ہم خانہ کعبہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ نے مجھ سے بیٹھنے کے لئے فرمایا اور خود میرے کندھوں پر چڑھ گئے، میں نے کھڑا ہونا چاہا لیکن نہ ہوسکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ میں کمزوری کے آثار دیکھے تو نیچے اتر آئے، خود بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا میرے کندھوں پر چڑھ جاؤ، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر سوار ہوگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لے کر کھڑے ہوگئے۔ اس وقت مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو افق کو چھولوں، بہرحال! میں بیت اللہ پر چڑھ گیا، وہاں پیتل تانبے کی ایک مورتی نظر آئی، میں اسے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے دھکیلنے لگا، جب میں اس پر قادر ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اسے نیچے پھینک دو، چنانچہ میں نے اسے نیچے پٹخ دیا اور وہ شیشے کی طرح چکنا چور ہوگئی، پھر میں نیچے اتر آیا۔ پھر میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے تیزی سے روانہ ہوگئے یہاں تک کہ گھروں میں جا کر چھپ گئے، ہمیں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی آدمی نہ مل جائے۔
-
حَدَّثَنَا فَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا يَاسِينُ الْعِجْلِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مہدی کا تعلق ہم اہل بیت سے ہوگا، اللہ اسے ایک ہی رات میں سنوار دے گا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْبَرِيدِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَاضِي الرَّيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَالْعَبَّاسُ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَبِرَ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَكَثُرَتْ مُؤْنَتِي فَإِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَأْمُرَ لِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّكَ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا كَانَتْ مَعِيشَتِي مِنْهَا ثُمَّ قَبَضْتَهَا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَقَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْت لِعَمِّكَ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ نَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي هَذَا الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا فِي كِتَابِهِ مِنْ هَذَا الْخُمُسِ فَأَقْسِمُهُ فِي حَيَاتِكَ كَيْ لَا يُنَازِعَنِيهِ أَحَدٌ بَعْدَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَاكَ فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَمْتُ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى كَانَتْ آخِرُ سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ كَثِيرٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت عباس اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! میں اب بوڑھا ہوگیا ہوں ، میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور میری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، اگر آپ مجھے اتنے من غلہ اور گندم دے دیں تو میرا کام بن جائے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا دے دیں گے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر مناسب سمجھیں تو آپ نے اپنے چچا کے لئے جو حکم دیا ہے وہ ہمارے لیے بھی دے دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا دے دیں گے، پھر حضرت زید بن حارثہ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ نے مجھے زمین کا ایک ٹکڑا عطاء فرمایا تھا جس سے میری گذراوقات ہوجاتی تھی، لیکن پھر آپ نے وہ زمین واپس لے لی، اگر آپ مناسب خیال فرمائیں تو وہ مجھے واپس کردیں فرمایا اچھا کردیں گے۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ نے قرآن کریم میں ہمارے لیے خمس کا جو حق مقرر فرمایا ہے، اگر آپ مناسب خیال فرمائیں تو مجھے اس کا نگران بنا دیجئے تاکہ میں آپ کی حیات طیبہ میں اسے تقسیم کیا کروں اور آپ کے بعد کوئی شخص اس میں مجھ سے جھگڑا نہ کر سکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا بنادیں گے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا نگران بنادیا اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں اسے تقسیم کرتا رہا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے زمانے میں مجھے اس کی نگرانی پر برقرار رکھا اور میں ان کی حیات میں بھی اسے تقسیم کرتا رہا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے اس پر برقرار رکھا اور میں اسے تقسیم کرتا رہا لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا آخری سال تھا تو اس کی نگرانی مجھ سے لے لی گئی، اس وقت ان کے پاس بہت مال آیا تھا ۔ ( اور وہ مختلف طریقہ اختیار کرنا چاہتے تھے۔)
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ الْجُعْفِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَتْ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَةٌ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنْ الْخَلَائِقِ إِنِّي كُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَتَنَحْنَحَ وَإِنِّي جِئْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا حَسَنٍ حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكَ فَلَمَّا خَرَجَ إِلَيَّ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَغْضَبَكَ أَحَدٌ قَالَ لَا قُلْتُ فَمَا لَكَ لَا تُكَلِّمُنِي فِيمَا مَضَى حَتَّى كَلَّمْتَنِي اللَّيْلَةَ قَالَ سَمِعْتُ فِي الْحُجْرَةِ حَرَكَةً فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَنَا جِبْرِيلُ قُلْتُ ادْخُلْ قَالَ لَا اخْرُجْ إِلَيَّ فَلَمَّا خَرَجْتُ قَالَ إِنَّ فِي بَيْتِكَ شَيْئًا لَا يَدْخُلُهُ مَلَكٌ مَا دَامَ فِيهِ قُلْتُ مَا أَعْلَمُهُ يَا جِبْرِيلُ قَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ فَفَتَحْتُ الْبَيْتَ فَلَمْ أَجِدْ فِيهِ شَيْئًا غَيْرَ جَرْوِ كَلْبٍ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ الْحَسَنُ قُلْتُ مَا وَجَدْتُ إِلَّا جَرْوًا قَالَ إِنَّهَا ثَلَاثٌ لَنْ يَلِجَ مَلَكٌ مَا دَامَ فِيهَا أَبَدًا وَاحِدٌ مِنْهَا كَلْبٌ أَوْ جَنَابَةٌ أَوْ صُورَةُ رُوحٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا شرف مجھے ایک ایسے وقت میں حاصل ہوتا تھا جو مخلوق میں میرے علاوہ کسی کو حاصل نہ ہوسکا، میں روزانہ سحری کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور سلام کرتا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانس کر مجھے اندر آنے کی اجازت عطاء فرما دیتے۔ ایک مرتبہ میں رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور حسب عادت سلام کرتے ہوئے کہا السلام علیک یا نبی اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوالحسن! رکو، میں خود ہی باہر آرہا ہوں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! کیا کسی نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟ فرمایا نہیں میں نے پوچھا تو پھر کل گذشتہ رات آپ نے مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کی؟ فرمایا مجھے اپنے حجرے میں کسی چیز کی آہٹ محسوس ہوئی، میں نے پوچھا کون ہے؟ آواز آئی کہ میں جبرئیل ہوں، میں نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا تو وہ کہنے لگے نہیں، آپ ہی باہر تشریف لے آئیے۔ جب میں باہر آیا تو وہ کہنے لگے کہ آپ کے گھر میں ایک ایسی چیز ہے کہ وہ جب تک گھر میں رہے گی، کوئی فرشتہ بھی گھر میں داخل نہ ہوگا، میں نے کہا کہ جبرئیل! مجھے تو ایسی کسی چیز کا علم نہیں ہے، وہ کہنے لگے کہ جا کر اچھی طرح دیکھئے، میں نے گھر کھول کر دیکھا تو وہاں کتے کے ایک چھوٹے سے بچے کے علاوہ مجھے کوئی اور چیز نہیں ملی جس سے حسن کھیل رہے تھے چنانچہ میں نے آکر ان سے یہی کہا کہ مجھے تو کتے کے ایک چھوٹے سے پلے کے علاوہ کچھ نہیں ملا، اس پر انہوں نے کہا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو کسی گھر میں جب تک رہیں گی، اس وقت تک رحمت کا کوئی فرشتہ وہاں داخل نہ ہوگا، کتا، جنبی آدمی یا کسی جاندار کی تصویر۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ فَنَادَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ بِشَطِّ الْفُرَاتِ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَغْضَبَكَ أَحَدٌ مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ قَالَ بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ قَالَ فَقَالَ هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فَمَدَّ يَدَهُ فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَأَعْطَانِيهَا فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا
عبداللہ بن نجی کے والد ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے، ان کے ذمے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وضو کی خدمت تھی، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی کے قریب پہنچے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا ابو عبداللہ! فرات کے کنارے پر رک جاؤ، میں نے پوچھا کہ خیریت ہے؟ فرمایا میں ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہو رہی تھی، میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! کیا کسی نے آپ کو غصہ دلایا، خیر تو ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں؟ فرمایا ایسی کوئی بات نہیں ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرئیل اٹھ کر گئے ہیں ، وہ کہہ رہے تھے کہ حسین کو فرات کے کنارے شہید کر دیا جائے گا، پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس مٹی کی خوشبو سونگھا سکتا ہوں؟ میں نے انہیں اثبات میں جواب دیا، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور مجھے دے دی، بس اس وقت سے اپنے آنسؤوں پر مجھے قابو نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَنْبَأَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْكَاهِلِيُّ عَنْ الْخَضِرِ بْنِ الْقَوَّاسِ عَنْ أَبِي سُخَيْلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى حَدَّثَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ وَسَأُفَسِّرُهَا لَكَ يَا عَلِيُّ مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مَرَضٍ أَوْ عُقُوبَةٍ أَوْ بَلَاءٍ فِي الدُّنْيَا فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَاللَّهُ تَعَالَى أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَيْهِمْ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ وَمَا عَفَا اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ تَعَالَى أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ بَعْدَ عَفْوِهِ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں قرآن کریم کی وہ سب سے افضل آیت جو ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی تھی نہ بتاؤں؟ وہ آیت یہ ہے، مااصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ علی! میں تمہارے سامنے اس کی تفسیر بیان کرتا ہوں، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں دنیا میں جو بیماری، تکلیف یا آزمائش پیش آتی ہے تو وہ تمہاری اپنی حرکتوں اور کرتوتوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بہت کریم ہے کہ آخرت میں اس کی دوبارہ سزادے اور اللہ نے دنیا میں جس چیز سے درگذر فرمایا ہو، اس کے حلم سے یہ بعید ہے کہ وہ اپنے عفو سے رجوع کرلے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَإِسْرَائِيلُ وَأَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهُ قَالَ قُلْنَا أَخْبِرْنَا بِهِ نَأْخُذْ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارُهَا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَاهُنَا مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارُهَا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَاهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَقَلَّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَأَبِي إِسْحَاقَ حِينَ حَدَّثَهُ يَا أَبَا إِسْحَاقَ يَسْوَى حَدِيثُكَ هَذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ ذَهَبًا
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ہم نے عرض کیا آپ بتا دیجئے، ہم اپنی طاقت اور استطاعت کے بقدر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے، جب سورج مشرق سے اس مقدار میں نکل آتا جتنا عصر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے۔ پھر تھوڑی دیر انتظار فرماتے اور جب سورج مشرق سے اتنی مقدار میں نکل آتاجتنا کہ ظہر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھتے، پھر سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعتیں ظہر سے پہلے دو رکعتیں ظہر کے بعد اور چار رکعتیں عصر سے پہلے پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں میں ملائکہ مقربین، انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں اور مومنین کے لئے سلام کے کلمات کہتے (تشہد پڑھتے) اس اعتبار سے پورے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی یہ سولہ رکعتیں ہوئیں، لیکن ان پر دوام کرنے والے بہت کم ہیں، یہ حدیث بیان کر کے حبیب بن ابی ثابت نے کہا کہ اے ابو اسحاق! آپ کی یہ حدیث اس مسجد کے سونے سے بھرپور ہونے کے اعتبار سے برابر ہے۔ حدیث نمبر٦٥٠یہاں اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ فَثَبَتَ الْوَتْرُ آخِرَ اللَّيْلِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الْوَتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ مِثْلَ الصَّلَاةِ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَآخِرِهِ وَأَوْسَطِهِ فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَنَحْنُ نَلُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَقْرَبُنَا إِلَى الْعَدُوِّ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ بَأْسًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آجاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری نسبت دشمن سے زیادہ قریب تھے اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ سخت جنگ کی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَنَفِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَكُونُ بِالْبَادِيَةِ فَتَخْرُجُ مِنْ أَحَدِنَا الرُّوَيْحَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ وَقَالَ مَرَّةً فِي أَدْبَارِهِنَّ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم لوگ دیہات میں رہتے ہیں یہ بتائیے کہ اگر ہم میں سے کسی کی ہوا خارج ہوجائے تو وہ کیا کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتے (اس لئے میں بھی تم سے بلاتکلف کہتا ہوں کہ ایسی صورت میں ) اسے وضو کر لینا چاہیے اور یاد رکھو! عورت کے ساتھ اس کی دبر میں مباشرت نہ کرنا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَنَحْنُ عِنْدَهَا جُلُوسٌ مَرْجِعَهُ مِنْ الْعِرَاقِ لَيَالِيَ قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ هَلْ أَنْتَ صَادِقِي عَمَّا أَسْأَلُكَ عَنْهُ تُحَدِّثُنِي عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَمَا لِي لَا أَصْدُقُكِ قَالَتْ فَحَدِّثْنِي عَنْ قِصَّتِهِمْ قَالَ فَإِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا كَاتَبَ مُعَاوِيَةَ وَحَكَمَ الْحَكَمَانِ خَرَجَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةُ آلَافٍ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ فَنَزَلُوا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا حَرُورَاءُ مِنْ جَانِبِ الْكُوفَةِ وَإِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِيصٍ أَلْبَسَكَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَاسْمٍ سَمَّاكَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَكَّمْتَ فِي دِينِ اللَّهِ فَلَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ تَعَالَى فَلَمَّا أَنْ بَلَغَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا عَتَبُوا عَلَيْهِ وَفَارَقُوهُ عَلَيْهِ فَأَمَرَ مُؤَذِّنًا فَأَذَّنَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَّا رَجُلٌ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا أَنْ امْتَلَأَتْ الدَّارُ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ دَعَا بِمُصْحَفٍ إِمَامٍ عَظِيمٍ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَصُكُّهُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ أَيُّهَا الْمُصْحَفُ حَدِّثْ النَّاسَ فَنَادَاهُ النَّاسُ فَقَالُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَسْأَلُ عَنْهُ إِنَّمَا هُوَ مِدَادٌ فِي وَرَقٍ وَنَحْنُ نَتَكَلَّمُ بِمَا رُوِينَا مِنْهُ فَمَاذَا تُرِيدُ قَالَ أَصْحَابُكُمْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خَرَجُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ كِتَابُ اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ فِي امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقْ اللَّهُ بَيْنَهُمَا فَأُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ دَمًا وَحُرْمَةً مِنْ امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ وَنَقَمُوا عَلَيَّ أَنْ كَاتَبْتُ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَقَدْ جَاءَنَا سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ حِينَ صَالَحَ قَوْمَهُ قُرَيْشًا فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ سُهَيْلٌ لَا تَكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ كَيْفَ نَكْتُبُ فَقَالَ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ أُخَالِفْكَ فَكَتَبَ هَذَا مَا صَالَحَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قُرَيْشًا يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عَلِيٌّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْكَرَهُمْ قَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ يَا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ إِنَّ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ فَأَنَا أُعَرِّفُهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا يَعْرِفُهُ بِهِ هَذَا مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ وَفِي قَوْمِهِ قَوْمٌ خَصِمُونَ فَرُدُّوهُ إِلَى صَاحِبِهِ وَلَا تُوَاضِعُوهُ كِتَابَ اللَّهِ فَقَامَ خُطَبَاؤُهُمْ فَقَالُوا وَاللَّهِ لَنُوَاضِعَنَّهُ كِتَابَ اللَّهِ فَإِنْ جَاءَ بِحَقٍّ نَعْرِفُهُ لَنَتَّبِعَنَّهُ وَإِنْ جَاءَ بِبَاطِلٍ لَنُبَكِّتَنَّهُ بِبَاطِلِهِ فَوَاضَعُوا عَبْدَ اللَّهِ الْكِتَابَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَرَجَعَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ كُلُّهُمْ تَائِبٌ فِيهِمْ ابْنُ الْكَوَّاءِ حَتَّى أَدْخَلَهُمْ عَلَى عَلِيٍّ الْكُوفَةَ فَبَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى بَقِيَّتِهِمْ فَقَالَ قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَيْتُمْ فَقِفُوا حَيْثُ شِئْتُمْ حَتَّى تَجْتَمِعَ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا تَسْفِكُوا دَمًا حَرَامًا أَوْ تَقْطَعُوا سَبِيلًا أَوْ تَظْلِمُوا ذِمَّةً فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَيْكُمْ الْحَرْبَ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا ابْنَ شَدَّادٍ فَقَدْ قَتَلَهُمْ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا بَعَثَ إِلَيْهِمْ حَتَّى قَطَعُوا السَّبِيلَ وَسَفَكُوا الدَّمَ وَاسْتَحَلُّوا أَهْلَ الذِّمَّةِ فَقَالَتْ أَاللَّهِ قَالَ أَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كَانَ قَالَتْ فَمَا شَيْءٌ بَلَغَنِي عَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ يَتَحَدَّثُونَهُ يَقُولُونَ ذُو الثُّدَيِّ وَذُو الثُّدَيِّ قَالَ قَدْ رَأَيْتُهُ وَقُمْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهِ فِي الْقَتْلَى فَدَعَا النَّاسَ فَقَالَ أَتَعْرِفُونَ هَذَا فَمَا أَكْثَرَ مَنْ جَاءَ يَقُولُ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي وَرَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي وَلَمْ يَأْتُوا فِيهِ بِثَبَتٍ يُعْرَفُ إِلَّا ذَلِكَ قَالَتْ فَمَا قَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ قَامَ عَلَيْهِ كَمَا يَزْعُمُ أَهْلُ الْعِرَاقِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَتْ هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ أَنَّهُ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا قَالَتْ أَجَلْ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ يَرْحَمُ اللَّهُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّهُ كَانَ مِنْ كَلَامِهِ لَا يَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ إِلَّا قَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَيَذْهَبُ أَهْلُ الْعِرَاقِ يَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَيَزِيدُونَ عَلَيْهِ فِي الْحَدِيثِ
عبیداللہ بن عیاض کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چند روز بعد حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ عراق سے واپس آکر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا عبداللہ! میں تم سے جو پوچھوں گی، اس کا صحیح جواب دوگے؟ کیا تم مجھے ان لوگوں کے بارے بتا سکتے ہو جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوشہید کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے سچ کیوں نہیں بولوں گا، فرمایا کہ پھر مجھے ان کا قصہ سناؤ۔ حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت شروع کی اور دونوں ثالثوں نے اپنا اپنا فیصلہ سنادیا، تو آٹھ ہزار لوگ جنہیں قراء کہا جاتا تھا ، نکل کر کوفہ کے ایک طرف حروراء نامی علاقے میں چلے گئے، وہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئے تھے اور ان کا یہ کہنا تھا کہ اللہ نے آپ کو جو قمیص پہنائی تھی، آپ نے اسے اتار دیا اور اللہ نے آپ کو جو نام عطاء کیا تھا آپ نے اسے اپنے آپ سے دور کردیا، پھر آپ نے جاکر دین کے معاملے ثالث کو قبول کرلیا، حالانکہ حکم تو صرف اللہ کا ہی چلتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ لوگ ان سے ناراض ہو کر جدا ہوگئے ہیں تو انہوں نے منادی کو یہ نداء لگانے کا حکم دیا کہ امیرالمومنین کے پاس صرف وہی شخص آئے جس نے قرآن کریم اٹھا رکھا ہو، جب ان کا گھر قرآن پڑھنے والوں سے بھر گیا تو انہوں نے قرآن کریم کا ایک بڑا نسخہ منگوا کر اپنے سامنے رکھا، اور اسے اپنے ہاتھ سے ہلاتے ہوئے کہنے لگے اے قرآن! لوگوں کو بتا، یہ دیکھ کر لوگ کہنے لگے امیرالمومنین! آپ اس نسخے سے کیا پوچھ رہے ہیں ؟ یہ تو کاغذ میں روشنائی ہے، ہاں ! اس کے حوالے ہم تک جو احکام پہنچے ہیں وہ ہم ایک دوسرے سے بیان کرتے ہیں، آپ کا اس سے مقصد کیا ہے؟ فرمایا تمہارے یہ ساتھی جو ہم سے جدا ہو کر چلے گئے ہیں ، میرے اور ان کے درمیان قرآن کریم ہی فیصلہ کرے گا، اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم میں میاں بیوی کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کی طرف سے اور ایک ثالث عورت کے اہل خانہ کی طرف سے بھیجو، اگر ان کی نیت محض اصلاح کی ہوئی تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا، میرا خیال ہے کہ ایک آدمی اور ایک عورت کی نسبت پوری امت کا خون اور حرمت زیادہ اہم ہے (اس لئے اگر میں نے اس معاملہ میں ثالثی کو قبول کیا تو کونسا گناہ کیا؟) اور انہیں اس بات پر جو غصہ ہے کہ میں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خط و کتاب کی ہے ( تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تو پھر مسلمان اور صحابی ہیں) جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں تھے اور سہیل بن عمرو ہمارے پاس آیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم قریش سے صلح کی تھی تو اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہی لکھوایا تھا ، بسم اللہ الرحمن الرحیم، اس پر سہیل نے کہا کہ آپ اس طرح مت لکھوائیے؟ نی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کس طرح لکھوائیں؟ اس نے کہا کہ آپ باسمک اللہم لکھیں ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نام محمد رسول اللہ لکھوایا تو اس نے کہا کہ اگر میں آپ کو اللہ کا پیغمبر مانتا تو کبھی آپ کی مخالفت نہ کرتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ لکھوائے ہذا ماصالح محمد بن عبداللہ قریشا اور اللہ فرماتا ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں تمہارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے (میں نے تو اس نمونے کی پیروی کی ہے) اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس سمجھانے کے لئے بھیجا، راوی کہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ گیا تھا، جب ہم ان کے وسط لشکر میں پہنچے تو ابن الکواء نامی ایک شخص لوگوں کے سامنے تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے حاملین قرآن! یہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آئے ہیں، جو شخص انہیں نہ جانتا ہو، میں اس کے سامنے ان کا تعارف قرآن کریم سے پیش کر دیتاہوں، یہ وہی ہیں کہ ان کے اور ان کی قوم کے بارے میں قرآن کریم میں قوم خصمون، یعنی جھگڑالو قوم کا لفظ وارد ہوا ہے، اس لئے انہیں ان کے ساتھی یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس بھیج دو اور کتاب اللہ کو ان کے سامنے مت بچھاؤ۔ یہ سن کر ان کے خطباء کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ بخدا! ہم تو ان کے سامنے کتاب اللہ کو پیش کریں گے، اگر یہ حق بات لے کر آئے ہیں تو ہم ان کی پیروی کریں گے اور اگر یہ باطل لے کر آئے ہیں تو ہم اس باطل کو خاموش کرا دیں گے، چنانچہ تین دن تک وہ لوگ کتاب اللہ کو سامنے رکھ کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مناظرہ کرتے رہے، جس کے نتیجے میں ان میں سے چار ہزار لوگ اپنے عقائد سے رجوع کر کے توبہ تائب ہو کر واپس آگئے، جن میں خود ابن الکواء بھی شامل تھا اور یہ سب کے سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بقیہ افراد کی طرف قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوا دیا کہ ہمارا اور ان لوگوں کا جو معاملہ ہوا وہ تم نے دیکھ لیا، اب تم جہاں چاہو ٹھہرو، تاآنکہ امت مسلمہ متفق ہوجائے، ہمارے اور تمہارے درمیان یہ معاہدہ ہے کہ تم ناحق کسی کا خون نہ بہاؤ، ڈاکے نہ ڈالو اور ذمیوں پر ظلم وستم نہ ڈھاؤ، اگر تم نے ایسا کیا تو ہم تم پر جنگ مسلط کر دیں گے کیونکہ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ یہ ساری روئیداد سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ابن شداد! کیا انہوں نے پھر قتال کیا ان لوگوں سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس وقت تک ان کے پاس اپنا کوئی لشکر نہیں بھیجا جب تک انہوں نے مذکورہ معاہدے کو ختم نہ کر دیا انہوں نے ڈاکے دالے، لوگوں کا خون ناحق بہایا، اور ذمیوں پر دست درازی کو حلال سمجھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کیا بخدا! ایسا ہی ہوا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! اس خدا کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، ایسا ہی ہوا ہے۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ اس بات کی کیا حقیقت ہے جو مجھ تک اہل عراق کے ذریعے پہنچی ہے کہ ذوالثدی نامی کوئی شخص تھا؟ حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے خود اس شخص کو دیکھا ہے اور مقتولین میں اس کی لاش پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا بھی ہوا ہوں اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بلا کر پوچھا تھا کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟ اکثر لوگوں نے یہی کہا کہ میں نے اسے فلاں محلے کی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے اسے فلاں محلے کی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، کوئی مضبوط بات جس سے اس کی پہچان ہوسکتی، وہ لوگ نہ بتاسکے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی لاش کے پاس کھڑے تھے تو انہوں نے کیا وہی بات کہی تھی جو اہل عراق بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ نے اس کے علاوہ بھی ان کے منہ سے کوئی بات سنی؟ انہوں نے کہا بخدا! نہیں، فرمایا اچھا ٹھیک ہے، اللہ علی پر رحم فرمائے، یہ ان کا تکیہ کلام ہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں جب بھی کوئی چیز اچھی یا تعجب خیز معلوم ہوتی ہے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اور اہل عراق ان کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا شروع کردیتے ہیں اور اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَنْطَلِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَا يَدَعُ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخَهَا فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَانْطَلَقَ فَهَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا أَنْطَلِقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَانْطَلِقْ فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَدَعْ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرْتُهُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخْتُهَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَادَ لِصَنْعَةِ شَيْءٍ مِنْ هَذَا فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ الْخَيْرِ فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمْ الْمَسْبُوقُونَ بِالْعَمَلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ وَيُكَنُّونَهُ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَبَا مُوَرِّعٍ قَالَ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَقُلْ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخَهَا فَقَالَ مَا أَتَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى لَمْ أَدَعْ صُورَةً إِلَّا طَلَخْتُهَا وَقَالَ لَا تَكُنْ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کون شخص مدینہ منورہ جائے گا کہ وہاں جا کر کوئی بت ایسا نہ چھوڑے جسے اس نے توڑ نہ دیا ہو، کوئی قبر ایسی نہ چھوڑے جسے برابر نہ کردیا، اور کوئی تصویر ایسی نہ دیکھے جس پر گارا اور کیچڑ نہ مل دے؟ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں یہ کام کروں گا، چنانچہ وہ آدمی روانہ ہوگیا، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچا تو وہ اہل مدینہ سے مرعوب ہو کر واپس لوٹ آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں جاتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ جب وہ واپس آئے تو عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے جہاں بھی کسی نوعیت کا بت پایا اسے توڑ دیا، جو قبر بھی نظر آئی اسے برابر کر دیا اور جو تصویر بھی دکھائی دی اس پر کیچڑ ڈال دیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جو شخص ان کاموں میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا گویا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی کا انکار کرتا ہے، نیزیہ بھی فرمایا کہ تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے یا شیخی خورے مت بننا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يُوتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان فجر کے قریب وتر ادا فرماتے تھے اور اقامت کے قریب فجر کی سنتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شَكَّ إِلَّا أَنَّهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ النَّوْحِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سَوَّارٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ إِنْ أَنْتَ وُلِّيتَ الْأَمْرَ بَعْدِي فَأَخْرِجْ أَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علی! اگر میرے بعد کسی بھی وقت زمام حکومت تمہارے ہاتھ میں آئے تو اہل نجران کو جزیرہ عرب سے نکال دینا۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ وَخَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَّا الْمَنِيُّ فَفِيهِ الْغُسْلُ وَأَمَّا الْمَذْيُ فَفِيهِ الْوُضُوءُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کامرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکا حکم پوچھا تو فرمایا منی سے تو غسل واجب ہے اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَهُ بِالْقِرَاءَةِ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَبَعْدَهَا يُغَلِّطُ أَصْحَابَهُ وَهُمْ يُصَلُّونَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص عشاء سے پہلے یا بعد میں تلاوت کرتے ہوئے اپنی آواز کوبلند کرے، کیونکہ اس طرح اس کے دوسرے ساتھیوں کو نماز پڑھتے ہوئے مغالطہ ہوسکتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلْ اللَّهَ تَعَالَى الْهُدَى وَالسَّدَادَ وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ سے ہدایت اور درستگی کی درخواست کیا کرو اور ہدایت سے راستے کی ہدایت ذہن میں رکھا کرو اور درستگی کا معنی مراد لیتے وقت تیر کی درستگی اور سیدھاپن یاد رکھا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ كَانَ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ نُقَبَاءَ وُزَرَاءَ نُجَبَاءَ وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ وَزِيرًا نَقِيبًا نَجِيبًا سَبْعَةً مِنْ قُرَيْشٍ وَسَبْعَةً مِنْ الْمُهَاجِرِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ہیں ان میں سے ہر ایک کو سات نقباء، وزراء، نجباء دیئے گئے جب کہ مجھے خصوصیت کے ساتھ چودہ وزراء، نقباء، نجباء دیئے گئے ہیں جن میں سے سات کا تعلق صرف قریش سے ہے اور باقی سات کا تعلق دیگر مہاجرین سے ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ هُمْ أَسَنُّ مِنِّي لِأَقْضِيَ بَيْنَهُمْ قَالَ اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ وَيَهْدِي قَلْبَكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جہاں لوگوں میں آپس میں اختلافات اور جھگڑے بھی ہوں گے اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعا کوئی علم نہیں ہے؟ فرمایا اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہوا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ غُزَيٍّ حَدَّثَنِي عَمِّي عِلْبَاءُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى وَبَرَةٍ مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهَذِهِ الْوَبَرَةِ مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صدقے کے کچھ اونٹ نبی صلی اللہ عیہ وسلم کے سامنے سے گذر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کے پہلو سے اپنے دست مبارک سے اس کی اون پکڑی اور فرمایا کہ میں ایک عام مسلمان کی نسبت اس اون کا بھی کوئی زائد استحقاق نہیں رکھتا۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصَلِّي إِذْ انْصَرَفَ وَنَحْنُ قِيَامٌ ثُمَّ أَقْبَلَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى لَنَا الصَّلَاةَ ثُمَّ قَالَ إِنِّي ذَكَرْتُ أَنِّي كُنْتُ جُنُبًا حِينَ قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ لَمْ أَغْتَسِلْ فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ فِي بَطْنِهِ رِزًّا أَوْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا كُنْتُ عَلَيْهِ فَلْيَنْصَرِفْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِهِ أَوْ غُسْلِهِ ثُمَّ يَعُودُ إِلَى صَلَاتِهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز چھوڑ کر گھرچلے گئے اور ہم کھڑے کے کھڑے ہی رہ گئے، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از سر نو ہمیں نماز پڑھائی اور بعد فراغت فرمایا کہ جب میں نماز کے لئے کھڑا ہوگیا تب مجھے یاد آیا کہ میں تو اختیاری طور پر ناپاک ہوگیا تھا اور ابھی تک میں نے غسل نہیں کیا، اس لئے اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنے پیٹ میں گڑبڑ محسوس ہو رہی ہو یا میری جیسی کیفیت کا وہ شکار ہوجائے تو اسے چاہیے کہ واپس لوٹ جائے اور اپنی ضرورت پوری کر کے یا غسل کر کے پھر نماز کی طرف متوجہ ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ الْأَسْلَمِيَّ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْشُدُ النَّاسَ فَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا مُسْلِمًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا قَالَ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا فَشَهِدُوا
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے صحن مسجد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو اللہ کی قسم دے کریہ پوچھتے ہوئے سنا کہ غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کون حاضر تھا اور کس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا تھا ؟ اس پر بارہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوگئے اور ان سب نے گواہی دی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الرِّبَا وَآكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود خور، سود کھلانے والے، سودی معاملات لکھنے والے، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والے، حلالہ کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَيِّدِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ قُتِلَ أَهْلُ النَّهْرَوَانِ فَكَأَنَّ النَّاسَ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ قَتْلِهِمْ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا بِأَقْوَامٍ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ أَبَدًا حَتَّى يَرْجِعَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ وَإِنَّ آيَةَ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا أَسْوَدَ مُخْدَجَ الْيَدِ إِحْدَى يَدَيْهِ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ لَهَا حَلَمَةٌ كَحَلَمَةِ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ حَوْلَهُ سَبْعُ هُلْبَاتٍ فَالْتَمِسُوهُ فَإِنِّي أُرَاهُ فِيهِمْ فَالْتَمَسُوهُ فَوَجَدُوهُ إِلَى شَفِيرِ النَّهَرِ تَحْتَ الْقَتْلَى فَأَخْرَجُوهُ فَكَبَّرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَإِنَّهُ لَمُتَقَلِّدٌ قَوْسًا لَهُ عَرَبِيَّةً فَأَخَذَهَا بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي مُخْدَجَتِهِ وَيَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَكَبَّرَ النَّاسُ حِينَ رَأَوْهُ وَاسْتَبْشَرُوا وَذَهَبَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَجِدُونَ
ابو کثیر کہتے ہیں کہ جس وقت میرے آقا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان سے قتال شروع کیا، اس وقت میں ان کے ساتھ تھا، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے لوگ ان سے جنگ کر کے خوش نہیں ہیں یہ دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایسی قوم کا تذکرہ کیا تھا جو دین سے اس طرح نکل جائے گی جیسے تیر، کمان سے نکل جاتا ہے اور وہ لوگ دین کی طرف کبھی بھی واپس نہ آسکیں گے یہاں تک کہ تیر کمان کی طرف واپس آجائے۔ ان لوگوں کی نشانی یہ ہوگی کہ ان میں سیاہ رنگ کا ایک ایسا شخص ہوگا جس کا ہاتھ ناتمام ہوگا اور اس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح ہوگا اور عورت کی چھاتی میں موجود گھنڈی کی طرح اس کی بھی گھنڈی ہوگی، جس کے گرد سات بالوں کا ایک گچھا ہوگا ، تم اسے ان مقتولین میں تلاش کرو، میرا خیال ہے کہ وہ ان ہی میں ہوگا۔ جب لوگوں نے اسے تلاش کیا تو وہ نہر کے کنارے مقتولین کے نیچے انہیں مل گیا، انہوں نے اسے نکالا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور فرمایا اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی عربی کمان لٹکا رکھی تھی، انہوں نے اسے ہاتھ میں پکڑا اور اس کے ناتمام ہاتھ میں اس کی نوک چبھونے لگے اور فرمانے لگے کہ اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، لوگوں نے بھی جب اسے دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے، اور ان کا غصہ یکدم کافور ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ مِنْ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيَشْهَدُهُ إِذَا تُوُفِّيَ وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں، جب ملاقات ہو تو سلام کرے، جب چھینکے تو جواب دے، جب بیمار ہو تو عیادت کرے، جب دعوت دے تو قبول کرے، جب فوت ہوجائے توجنازے میں شرکت کرے، اپنے لیے جو پسند کرتا ہے اس کے لئے بھی وہی پسند کرے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کا خیر خواہ رہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُلْتَمَسَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي كَمَا تُلْتَمَسُ أَوْ تُبْتَغَى الضَّالَّةُ فَلَا يُوجَدُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی (جب تک میرے صحابہ مکمل طور پر دنیا سے رخصت نہ ہوجائیں) یہاں تک کہ میرے کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو اس طرح تلاش کیا جائے گا جیسے کسی گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایک صحابی رضی اللہ عنہ بھی نہ مل سکے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَأْسِرُوهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُمْ خَرَجُوا كُرْهًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن ارشاد فرمایا اگر ممکن ہو تو بنو عبدالمطلب کو صرف قید کرنے پر اکتفاء کرے کیونکہ وہ بڑی مجبوری میں زبردستی نکلے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ قَالَ شِرْكُكُمْ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا بِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ تم نے اپناحصہ یہ بنا رکھا ہے کہ تم تکذیب کرتے رہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ کہتے ہو فلاں فلاں ستارے کے طلوع و غروب سے بارش ہوئی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنْ الْمُفَصَّلِ قَالَ أَسْوَدُ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ وَإِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَإِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَإِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَتَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز میں مفصلات کی نو مختلف سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے، اسود کے بقول پہلی رکعت میں سورت تکاثر، سورت قدر اور سورت زلزال کی تلاوت فرماتے، دوسری رکعت میں سورت عصرہ، سورت نصر اور سورت کوثر جبکہ تیسری رکعت میں سورت کفرون، سورت لہب اور سورت اخلاص کی تلاوت فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ عَبْدَ الْأَعْلَى يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَمَةً لَهُمْ زَنَتْ فَحَمَلَتْ فَأَتَى عَلِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ دَعْهَا حَتَّى تَلِدَ أَوْ تَضَعَ ثُمَّ اجْلِدْهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی کسی باندی سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا اور اس کی اس حرکت پر اس کے امید سے ہوجانے پر مہر تصدیق بھی لگ گئی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ پیدا ہونے تک اسے چھوڑے رکھو، بعد میں اسے کوڑے مار دینا۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا ابْنُ جُرْمُوزٍ يَسْتَأْذِنُ قَالَ ائْذَنُوا لَهُ لِيَدْخُلْ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ النَّارَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ابن جرموز نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے؟ فرمایا اسے اندر آنے دو، زبیر کاقاتل جہنم میں ہی داخل ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ سَمِعْت سُفْيَانَ يَقُولُ الْحَوَارِيُّ النَّاصِرُ
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ابن جرموز نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے؟ فرمایا اسے اندر آنے دو، زبیر کاقاتل جہنم میں ہی داخل ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ الضُّحَى
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبْعَثُكَ فِيمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَطْمِسَ كُلَّ صَنَمٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق حیان کو مخاطب کر کے فرمایا میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہربت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الرَّأْسِ عَظِيمَ الْعَيْنَيْنِ هَدِبَ الْأَشْفَارِ مُشْرَبَ الْعَيْنِ بِحُمْرَةٍ كَثَّ اللِّحْيَةِ أَزْهَرَ اللَّوْنِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صُعُدٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بڑا، آنکھیں موٹی موٹی، پلکیں لمبی لمبی، آنکھوں میں سرخی کے ڈورے، گھنی ڈاڑھی، کھلتا ہوا رنگ اور چلنے کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدم جماکر چھوٹے چھوٹے تیز رفتار قدموں سے چلت تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی گھاٹی پر چل رہے ہوں اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل طور پر متوجہ ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں اور دونوں پاؤں مبارک بھرے ہوئے تھے۔
-
حَدَّثَنِي أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً وَرُبَّمَا قَالَ إِسْرَائِيلُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بے وضو ہونے کے بعد اور پانی چھونے سے پہلے قرآن کریم کی تلاوت کی۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُوسَى الصَّغِيرِ الطَّحَّانِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ خَرَجْتُ فَأَتَيْتُ حَائِطًا قَالَ فَقَالَ دَلْوٌ بِتَمْرَةٍ قَالَ فَدَلَّيْتُ حَتَّى مَلَأْتُ كَفِّي ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَاسْتَعْذَبْتُ يَعْنِي شَرِبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطْعَمْتُهُ بَعْضَهُ وَأَكَلْتُ أَنَا بَعْضَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بھوک کی شدت سے تنگ آکر میں اپنے گھر سے نکلا (میں ایک عورت کے پاس سے گذرا، جس نے کچھ گارا اکٹھا کر رکھا تھا، میں سمجھ گیا کہ یہ اسے پانی سے تربتر کرنا چاہتی ہے، میں نے اس کے پاس آکر اس سے یہ معاہدہ کیا کہ) ایک ڈول کھینچنے کے بدلے تم مجھے ایک کھجور دوگی، چنانچہ میں نے سولہ ڈول کھینچے (یہاں تک کہ میرے ہاتھ تھک گئے) پھر میں نے پانی کے پاس آکر پانی پیا (اس کے بعد اس عورت کے پاس آکر اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا دیا اور اس نے گن کر سولہ کھجوریں میرے ہاتھ پر رکھ دیں) میں وہ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور انہیں یہ سارا واقعہ بتایا) اور کچھ کھجوریں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلادیں اور کچھ خود کھالیں ۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَاقَتِي وَكَيْتَ وَكَيْتَ قَالَ أَمَّا نَاقَتُكَ فَانْحَرْهَا وَأَمَّا كَيْتَ وَكَيْتَ فَمِنْ الشَّيْطَانِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا میں نے منت مانی ہے کہ میں اپنی اونٹنی کو ذبح کروں اور فلاں فلاں کام کروں؟ فرمایا اپنی اونٹنی کو تو ذبح کرو اور فلاں فلاں کام شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا اسے چھوڑ دو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ يَعْنِي قُرَادًا أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ الْوَتْرِ قَالَ فَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُوتِرَ هَذِهِ السَّاعَةَ ثَوِّبْ يَا ابْنَ النَّبَّاحِ أَوْ أَذِّنْ أَوْ أَقِمْ
بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے لوگوں نے ان سے وتر کے متعلق سوالات پوچھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس وقت وتر ادا کرلیا کریں ابن نباح! اٹھ کر اذان دو۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَقَدَّمَ إِلَيْكَ خَصْمَانِ فَلَا تَسْمَعْ كَلَامَ الْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ فَسَوْفَ تَرَى كَيْفَ تَقْضِي قَالَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَا زِلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ قَاضِيًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات نہ سننا بلکہ دونوں کی بات سننا تم دیکھو گے کہ تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں مسلسل عہدہ قضاء پر فائز رہا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَّامٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَنَفِيُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ عَنْ حُكَيْمِ بْنِ سَعْدٍ أَبِي تِحْيَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا قَالَ بِكَ اللَّهُمَّ أَصُولُ وَبِكَ أَجُولُ وَبِكَ أَسِيرُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہونے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعاء پڑھتے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ! میں آپ ہی کے نام کی برکت سے حملہ کرتا ہوں آپ ہی کے نام کی برکت سے حرکت کرتا ہوں اور آپ ہی کے نام کی برکت سے چلتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمٌ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أُعْطِيَ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم مبارک کی رگ سے زائد خون نکلوایا اور مجھے حکم دیا کہ یہ کام کرنے والو کو جسے حجام کہا جاتا تھا اس کی مزدوری دے دو ۔
-
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى الرَّاسِبِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِطَبَقٍ يَكْتُبُ فِيهِ مَا لَا تَضِلُّ أُمَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ قَالَ فَخَشِيتُ أَنْ تَفُوتَنِي نَفْسُهُ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَحْفَظُ وَأَعِي قَالَ أُوصِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک طبق لانے کا حکم دیا تاکہ آپ اس میں ایسی ہدایات لکھ دیں جن کی موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت گمراہ نہ ہوسکے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کاغذ لینے کے لئے جاؤں اور پیچھے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز کرجائے، اس لئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ مجھے زبانی بتادیجئے، میں اسے یاد رکھوں گا، فرمایا میں نماز اور زکوۃ کی وصیت کرتا ہوں نیز غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتا ہوں ۔ فائدہ : طبق کے مختلف معانی ہیں، اس کا اطلاق ریڑھ کی ہڈی پر بھی ہوتا ہے اور طشتری پر بھی، ہم نے اس کا ترجمہ کرنے کی بجائے لفظ طبق ہی لکھ دیا ہے تاکہ موقع کی مناسبت سے اس کا کوئی بھی ترجمہ کرلیا جائے اور آگے کاغذ کا لفظ ایک عام مفہوم میں استعمال کر لیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فِي حُلْمِهِ كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جھوٹاخواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کامکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي النُّمَيْرِيَّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي اخْتِلَافٌ أَوْ أَمْرٌ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ السِّلْمَ فَافْعَلْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب امت میں اختلافات ہوں گے، اگر تمہارے لئے سلامتی ممکن ہو تو اسی کو اختیار کرنا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى رَحْمَوَيْهِ قَالُوا أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ ذِي حُدَّانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَمَّى الْحَرْبَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ خَدْعَةً قَالَ رَحْمَوَيْهِ فِي حَدِيثِهِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جنگ کو چال قرار دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ ذِي حُدَّانَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيًّا يَقُولُ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جنگ کو چال قرار دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ فَرُحْتُ بِهَا فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَضَبَ قَالَ فَقَسَمْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں نے اسے زیب تن کرلیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدَ شَعِيرَةٍ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ قَالَ أُرَاهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعامروی ہے کہ جو شخص جھوٹاخواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جوکے دانے میں گرہ لگانے کامکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)
-
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سحری تک وصال فرمایا کرتے تھے (یعنی افطاری کے بعد بھی سحری تک کچھ نہ کھاتے پیتے تھے) ۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ بِي كَرْبٌ أَنْ أَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی تکلیف یا مصیبت آنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعاء سکھائی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ بڑا بردبار اور مہربان ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے، وہ عرش عظیم کا رب ہے اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ قَالَ فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَعَائِدًا جِئْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَمْ زَائِرًا فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا بَلْ عَائِدًا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا عَادَ مُسْلِمٌ مُسْلِمًا إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ مِنْ حِينَ يُصْبِحُ إِلَى أَنْ يُمْسِيَ وَجَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ خَرِيفًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ فَقُلْنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَمَا الْخَرِيفُ قَالَ السَّاقِيَةُ الَّتِي تَسْقِي النَّخْلَ
ایک مرتبہ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا عیادت کی نیت سے آئے ہو یا ملاقات کے لئے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین! میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو صبح سے شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لئے ایک خریف بنا دیتا ہے ہم نے عرض کیا کہ اے امیرالمومنین! خریف سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ نہر جس سے باغات سیراب ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنْ الْخَوَارِجِ فِيهِمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْجَعْدُ بْنُ بَعْجَةَ فَقَالَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ يَا عَلِيُّ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَلْ مَقْتُولٌ ضَرْبَةٌ عَلَى هَذَا تَخْضِبُ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ رَأْسِهِ عَهْدٌ مَعْهُودٌ وَقَضَاءٌ مَقْضِيٌّ وَقَدْ خَابَ مَنْ افْتَرَى وَعَاتَبَهُ فِي لِبَاسِهِ فَقَالَ مَا لَكُمْ وَلِلِّبَاسِ هُوَ أَبْعَدُ مِنْ الْكِبْرِ وَأَجْدَرُ أَنْ يَقْتَدِيَ بِيَ الْمُسْلِمُ
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ کے خوارج کی ایک جماعت آئی، ان میں جعد بن بعجہ نامی ایک آدمی بھی تھا وہ کہنے لگا کہ علی! اللہ سے ڈرو، تم نے بھی ایک دن مرنا ہے، فرمایا نہیں ، بلکہ شہید ہونا ہے وہ ایک ضرب ہوگی جو سر پر لگے گی اور اس داڑھی کو رنگین کر جائے گی، یہ ایک طے شدہ معاملہ اور فیصلہ شدہ چیز ہے اور وہ شخص نقصان میں رہے گا جو جھوٹی باتیں گھڑے گا، پھر اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لباس میں کچھ کیڑے نکالے تو فرمایا کہ تمہیں میرے لباس سے کیا غرض یہ تکبر سے دور اور اس قابل ہے کہ اس معاملے میں مسلمان میری پیروی کریں ۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرِ قَالَ قُلْتُ لَآتِيَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ عَمَّا سَمِعْتُ الْعَشِيَّةَ قَالَ فَجِئْتُهُ بَعْدَ الْعِشَاءِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ أُمَّتَكَ مُخْتَلِفَةٌ بَعْدَكَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ فَأَيْنَ الْمَخْرَجُ يَا جِبْرِيلُ قَالَ فَقَالَ كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى بِهِ يَقْصِمُ اللَّهُ كُلَّ جَبَّارٍ مَنْ اعْتَصَمَ بِهِ نَجَا وَمَنْ تَرَكَهُ هَلَكَ مَرَّتَيْنِ قَوْلٌ فَصْلٌ وَلَيْسَ بِالْهَزْلِ لَا تَخْتَلِقُهُ الْأَلْسُنُ وَلَا تَفْنَى أَعَاجِيبُهُ فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَفَصْلُ مَا بَيْنَكُمْ وَخَبَرُ مَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ
حارث بن عبداللہ اعور کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ آج رات ضرور امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضری دوں گا اور ان سے اس چیز کے متعلق ضرور سوال کروں گا جو میں نے ان سے کل سنی ہے چنانچہ میں عشاء کے بعد ان کے یہاں پہنچا پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے پاس جبرئیل آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی امت آپ کے بعد اختلافات میں پڑ جائے گی، میں نے پوچھا کہ جبرئیل! اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا قرآن کریم، اسی کے ذریعے اللہ ہر ظالم کو تہس نہس کرے گا، جو اس سے مضبوطی کے ساتھ چمٹ جائے گا وہ نجات پا جائے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ ہلاک ہوجائے گا یہ بات انہوں نے دو مرتبہ کہی۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن ایک فیصلہ کن کلام ہے یہ کوئی ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے، زبانوں پر یہ پرانا نہیں ہوتا، اس کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے، اس میں پہلوں کی خبریں ہیں ، درمیان کے فیصلے ہیں اور بعد میں پیش آنے والے حالات ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ اللَّيْلِ فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ قَالَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوِيًّا مِنْ اللَّيْلِ قَالَ فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا قَالَ فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَأَيْقَظَنَا وَقَالَ قُومَا فَصَلِّيَا قَالَ فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُكُ عَيْنِي وَأَقُولُ إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا قَالَ فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ہمارے یہاں تشریف لائے، اور ہمیں نماز کے لیے جگا کر خود اپنے کمرے میں جا کر نماز پڑھنے لگے، کافی دیر گذرنے کے بعد جب ہماری کوئی آہٹ نہ سنائی دی تو دوبارہ آکر ہمیں جگایا اور فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو، میں اپنی آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا اور عرض کیا ہم صرف وہی نماز پڑھ سکتے ہیں جو ہمارے لیے لکھ دی گئی ہے اور ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہم صرف وہی نماز پڑھ سکتے ہیں جو ہمارے لیے لکھ دی گئی ہے انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ أَبُو يُوسُفَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَتْ الْخَوَارِجُ بِالنَّهْرَوَانِ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ وَهُمْ أَقْرَبُ الْعَدُوِّ إِلَيْكُمْ وَإِنْ تَسِيرُوا إِلَى عَدُوِّكُمْ أَنَا أَخَافُ أَنْ يَخْلُفَكُمْ هَؤُلَاءِ فِي أَعْقَابِكُمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَخْرُجُ خَارِجَةٌ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ وَلَيْسَ لَهَا ذِرَاعٌ عَلَيْهَا مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ بِيضٌ لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ لَاتَّكَلُوا عَلَى الْعَمَلِ فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
زید بن وہب کہتے ہیں کہ جب نہروان میں خوارج نے خروج کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے کہ ان لوگوں نے ناحق خون بہایا ہے، لوگوں کے جانوروں کو لوٹا ہے اور یہ تمہارے سب سے قریب ترین دشمن ہیں اس لئے میری رائے یہ ہے کہ تم اپنے دشمنوں کی طرف کوچ کرو، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ لوگ عقب سے تم پر نہ آپڑیں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ایک ایسا گروہ ظاہر ہوگا جس کی نمازوں کے سامنے تمہاری نمازوں کی کوئی حیثیت نہ ہوگی، جن کے روزوں کے سامنے تمہارے روزوں کی کوئی وقعت نہ ہوگی، جن کی تلاوت کے سامنے تمہاری تلاوت کچھ نہ ہوگی، وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہوں گے کہ اس پر انہیں ثواب ملے گا حالانکہ وہ ان کے لیے باعث عقاب ہوگا، کیونکہ وہ قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے آرپار ہو جاتا ہے اور ان کی علامت یہ ہوگی کہ ان میں ایک ایسا آدمی بھی ہوگا جس کا بازو تو ہوگا لیکن کہنی نہ ہوگی، اس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی کی گھنڈی جیسا نشان ہوگا جس کے ارگرد سفید رنگ کے کچھ بالوں کا گچھا ہوگا اگر کسی ایسے لشکر کو جو ان پر حملہ آور ہو اس ثواب کا پتہ چل جائے جو ان کے پیغمبر کی زبانی ان سے کیا گیا ہے تو وہ صرف اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں اس لئے اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ، اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّا لَمَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِالْجُحْفَةِ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فِيهِمْ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيُّ إِذْ قَالَ عُثْمَانُ وَذُكِرَ لَهُ التَّمَتُّعُ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ إِنَّ أَتَمَّ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَنْ لَا يَكُونَا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ فَلَوْ أَخَّرْتُمْ هَذِهِ الْعُمْرَةَ حَتَّى تَزُورُوا هَذَا الْبَيْتَ زَوْرَتَيْنِ كَانَ أَفْضَلَ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ وَسَّعَ فِي الْخَيْرِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي يَعْلِفُ بَعِيرًا لَهُ قَالَ فَبَلَغَهُ الَّذِي قَالَ عُثْمَانُ فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَعَمَدْتَ إِلَى سُنَّةٍ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُخْصَةٍ رَخَّصَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا لِلْعِبَادِ فِي كِتَابِهِ تُضَيِّقُ عَلَيْهِمْ فِيهَا وَتَنْهَى عَنْهَا وَقَدْ كَانَتْ لِذِي الْحَاجَةِ وَلِنَائِي الدَّارِ ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ وَهَلْ نَهَيْتُ عَنْهَا إِنِّي لَمْ أَنْهَ عَنْهَا إِنَّمَا كَانَ رَأْيًا أَشَرْتُ بِهِ فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بخدا! ہم اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقام جحفہ میں تھے جب کہ ان کے پاس اہل شام کا ایک وفد آیا تھا ان میں حبیب بن مسلمہ فہری بھی تھے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سامنے حج تمتع کا ذکر چھڑا تو انہوں نے فرمایا حج اور عمرہ کا اتمام یہ ہے کہ ان دونوں کو اشہر حج میں اکٹھا نہ کیا جائے اگر تم اپنے عمرہ کو مؤخر کر دو اور بیت اللہ کی دو مرتبہ زیارت کرو تو یہ زیادہ افضل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں وسعت اور کشادگی رکھی ہے۔ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ بطن وادی میں اپنے اونٹ کو چارہ کھلا رہے تھے، انہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت کا اور اللہ کی اس رخصت کو جو اس نے قرآن میں اپنے بندوں کو دی ہے، لوگوں کو اس سے روک کر انہیں تنگی میں مبتلا کریں گے؟ حالانکہ ضرورت مند آدمی کے لئے اور اس شخص کے لئے جس کا گھر دور ہو، یہ حکم یعنی حج تمتع کا اب بھی باقی ہے۔ یہ کہہ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا (تاکہ لوگوں پر اس کاجواز واضح ہوجائے) اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے آکر ان سے پوچھا کہ کیا میں نے حج تمتع سے منع کیا ہے؟ میں نے تو اس سے منع نہیں کیا، یہ تو ایک رائے تھی جس کا میں نے مشورہ دیا تھا ، جو چاہے قبول کرے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الزُّرَقِيِّ عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ قَالَتْ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْضَاءِ حِينَ وَقَفَ عَلَى شِعْبِ الْأَنْصَارِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِأَيَّامِ صِيَامٍ إِنَّمَا هِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرٍ
مسعود بن حکم انصاری کی والدہ کہتی ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا میں اب بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہی ہوں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہیں، حجۃ الوداع کے موقع پر وہ انصار کے ایک گروہ کے پاس رک رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اے لوگو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ یہ روزے کے ایام نہیں ہیں، یہ تو کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَعْدٌ ابْنِ الْهَادِ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ ارْمِ يَا سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے سوائے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا غزوہ احد کے دن آپ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کہ سعد تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ وَكَسَانِي حُلَّةً مِنْ سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَقَالَ يَا عَلِيُّ إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا قَالَ فَرَجَعْتُ بِهَا إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَعْطَيْتُهَا نَاحِيَتَهَا فَأَخَذَتْ بِهَا لِتَطْوِيَهَا مَعِي فَشَقَّقْتُهَا بِثِنْتَيْنِ قَالَ فَقَالَتْ تَرِبَتْ يَدَاكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ مَاذَا صَنَعْتَ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِهَا فَالْبَسِي وَاكْسِي نِسَاءَكِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے " میں یہ نہیں کہتاکہ تمہیں " سونے کی انگوٹھی، ریشم یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے اور ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا، میں اسے پہن کر نکلا تو فرمایا علی! میں نے تمہیں یہ اس لئے نہیں دیا کہ تم خود اسے پہن لو، چنانچہ میں اسے لے کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آگیا اور اس کا ایک کنارہ ان کے ہاتھ میں پکڑایا تاکہ وہ میرے ساتھ زور لگا کر اسے کھینچیں، چنانچہ میں نے اس کے دو ٹکڑے کر دئیے، یہ دیکھ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ آپ کو کیا ہوگیا ہے، یہ آپ نے کیا کیا، میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ لباس پہننے سے منع فرمایا ہے اس لئے اب تم اپنے لئے اس کا لباس بنا لو اور گھر کی جو عورتیں ہیں انہیں بھی دے دو۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَّةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ چھوڑی دی ہے اس لئے چاندی کی زکوۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کانصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا، ایک سو نوے درہم تک کچھ واجب نہ ہوگا، لیکن جب ان کی تعداد دو سو تک پہنچ جائے تو اس پر پانچ درہم واجب ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غُفِرَ لَكَ مَعَ أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تم انہیں زبان سے ادا کرلو تو تمہارے گناہ معاف کر دئیے جائیں حالانکہ تمہارے گناہ معاف ہوچکے، یہ کلمات کہہ لیا کرو جن کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ حلیم و کریم ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ بزرگ و برتر ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، وہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ عَنْ أَبِي تِحْيَى قَالَ لَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مُلْجِمٍ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الضَّرْبَةَ قَالَ عَلِيٌّ افْعَلُوا بِهِ كَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَفْعَلَ بِرَجُلٍ أَرَادَ قَتْلَهُ فَقَالَ اقْتُلُوهُ ثُمَّ حَرِّقُوهُ
ابو یحیی کہتے ہیں کہ جب ابن ملجم نامی ایک بد نصیب اور شقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ وہی سلوک کرو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے ساتھ کیا تھا جس نے انہیں شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا ، پھر فرمایا کہ اسے قتل کر کے اس کی لاش نذر آتش کر دو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ وَاللَّهِ إِنَّ رَجَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ مِائَةِ عَامٍ
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گذریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی سب لوگ مرجائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گذرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں ، یعنی قیامت مراد نہیں ہے، بخدا! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ لِيفٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دار کپڑے، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ وَالْمُجَالِدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ يُحَدِّثُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ رَجَمَ الْمَرْأَةَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ضَرَبَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ أَجْلِدُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَرْجُمُهَا بِسُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی ایک عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی، جمعرات کے دن اسے کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اسے سنگسار کردیا اور فرمایا کہ میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فُلَانِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَإِذَا قَامَ مِنْ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کی تکبیر ہونے کے بعد اللہ اکبر کہتے، کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے، قرات مکمل ہونے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے لگتے تب بھی اسی طرح کرتے، رکوع سے سر اٹھا کر بھی اسی طرح کرتے، بیٹھے ہونے کی صورت میں کسی رکن کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین نہ فرماتے تھے، البتہ جب دونوں سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو رفع یدین کر کے تکبیر کہتے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْمِنْهَالِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ قَالَ دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَنْتَ الْقَائِلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ عَامٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ عَامٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ وَإِنَّ رَجَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ الْمِائَةِ
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گذریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی سب لوگ مرجائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گذرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی قیامت مراد نہیں ہے، بخدا! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ مَوْلَى امْرَأَتِهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ خَرَجَ الشَّيَاطِينُ يُرَبِّثُونَ النَّاسَ إِلَى أَسْوَاقِهِمْ وَمَعَهُمْ الرَّايَاتُ وَتَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَنَازِلِهِمْ السَّابِقَ وَالْمُصَلِّيَ وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ فَمَنْ دَنَا مِنْ الْإِمَامِ فَأَنْصَتَ أَوْ اسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنْ الْأَجْرِ وَمَنْ نَأَى عَنْهُ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ الْأَجْرِ وَمَنْ دَنَا مِنْ الْإِمَامِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ وَلَمْ يَسْتَمِعْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلَانِ مِنْ الْوِزْرِ وَمَنْ نَأَى عَنْهُ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ وَلَمْ يَسْتَمِعْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلٌ مِنْ الْوِزْرِ وَمَنْ قَالَ صَهٍ فَقَدْ تَكَلَّمَ وَمَنْ تَكَلَّمَ فَلَا جُمُعَةَ لَهُ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے توشیاطین اپنے اپنے ٹھکانوں سے نکل پڑتے ہیں اور لوگوں کو بازاروں میں روکنے کی کوششیں کرتے ہیں ان کے ساتھ کچھ جھنڈے بھی ہوتے ہیں دوسری طرف فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کے لئے ان کے مراتب کے مطابق ثواب لکھتے ہیں ، پہلے کا، دوسرے کا، اس کے بعد آنے والے کا، یہاں تک کہ امام نکل آئے، سو جو شخص امام کے قریب ہو، خاموشی سے بیٹھ کر توجہ سے اس کی بات سنے، کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اس کے لی دہرا اجر ہے اور جو شخص امام سے دور ہو لیکن پھر بھی خاموش بیٹھ کر توجہ سے سننے میں مشغول رہے اور کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اس کے لئے اکہرا اجر ہے اور جو شخص امام کے قریب بیٹھ کر بیکار کاموں میں لگا رہے ، خاموشی سے بیٹھے اور نہ ہی توجہ سے اس کی بات سنے تو اسے اکہرا گناہ ہوگا اور جو شخص کسی کو خاموش کرانے کے لئے " سی " کی آواز نکالے تو اس نے بھی بات کی اور جس شخص نے بات کی اسے جمعہ کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، پھر فرمایا کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُلْتَمَسَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِي كَمَا تُلْتَمَسُ الضَّالَّةُ فَلَا يُوجَدُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی (جب تک میرے صحابہ مکمل طور پر دنیا سے رخصت نہ ہوجائیں) یہاں تک کہ میرے کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو اس طرح تلاش کیا جائے گا جیسے کسی گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایک صحابی رضی اللہ عنہ بھی نہ مل سکے گا۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الرِّبَا وَآكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود خور، سود کھلانے والے، سودی معاملات لکھنے والے، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والے، حلالہ کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ هُبَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُودَى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عبد مکاتب یعنی وہ غلام جس سے ایک مقررہ مقدار ادا کرنے پر آقا نے آزادی کا معاہدہ کر لیا ہو،اس نے جتنی مقدار ادا کر دی ہو، اتنی مقدار میں وہ دیت کا مستحق بھی ہو جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا فَأَوْقَدَ نَارًا فَقَالَ ادْخُلُوهَا فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا وَقَالَ آخَرُونَ إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا وَقَالَ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کردیا، اس نے آگ جلائی اور کہا کہ اس آگ میں داخل ہو جاؤ، لوگ ابھی اس میں چھلانگ لگانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ ایک نوجوان کہنے لگا کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کرنے والوں سے فرمایا کہ اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہو جاتے تو پھر کبھی اس میں سے نہ نکل نہ سکتے اور دوسروں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے، اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ مَا تَرَوْنَ فِي فَضْلٍ فَضَلَ عِنْدَنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ فَقَالَ النَّاسُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ شَغَلْنَاكَ عَنْ أَهْلِكَ وَضَيْعَتِكَ وَتِجَارَتِكَ فَهُوَ لَكَ فَقَالَ لِي مَا تَقُولُ أَنْتَ فَقُلْتُ قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ فَقَالَ لِي قُلْ فَقُلْتُ لِمَ تَجْعَلُ يَقِينَكَ ظَنًّا فَقَالَ لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ فَقُلْتُ أَجَلْ وَاللَّهِ لَأَخْرُجَنَّ مِنْهُ أَتَذْكُرُ حِينَ بَعَثَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا فَأَتَيْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَنَعَكَ صَدَقَتَهُ فَكَانَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ فَقُلْتَ لِي انْطَلِقْ مَعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَاهُ خَاثِرًا فَرَجَعْنَا ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَيْهِ فَوَجَدْنَاهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَأَخْبَرْتَهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ لَكَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ وَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ خُثُورِهِ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ وَالَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ طِيبِ نَفْسِهِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ إِنَّكُمَا أَتَيْتُمَانِي فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ وَقَدْ بَقِيَ عِنْدِي مِنْ الصَّدَقَةِ دِينَارَانِ فَكَانَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ خُثُورِي لَهُ وَأَتَيْتُمَانِي الْيَوْمَ وَقَدْ وَجَّهْتُهُمَا فَذَاكَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ طِيبِ نَفْسِي فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَدَقْتَ وَاللَّهِ لَأَشْكُرَنَّ لَكَ الْأُولَى وَالْآخِرَةَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا کہ ہمارے پاس یہ جو کچھ زائد مال بچ گیا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے؟ لوگوں نے کہا کہ امیر المومنین! آپ ہماری وجہ سے اپنے اہل خانہ، اپنے کاروبار اور تجارت سے رہ گئے ہیں ، اس لیے یہ آپ رکھ رلیں ، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ لوگوں نے آپ کو مشورہ دے تو دیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ آپ بھی تو کوئی رائے دیجئے، میں نے عرض کیا کہ آپ اپنے یقین کو گمان میں کیوں تبدیل کر رہے؟ فرمایا آپ اپنی بات کی وضاحت خود ہی کردیں ۔ میں نے کہا بہت بہتر، میں اس کی ضرور وضاحت کروں گا، آپ کو یاد ہوگا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو صدقات و زکوۃ کی وصولی کے لیے بھیجا تھا، آپ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا، آپ دونوں کے درمیان کچھ اونچ نیچ ہوگئی۔ آپ نے مجھ سے کہا کہ میرے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو، ہم وہاں پہنچے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ نشاط نہ دیکھا جو ہوتا تھا، چنانچہ ہم واپس آگئے، اگلے دن جب ہم دوبارہ حاضر ہوئے تو اس وقت ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہشاش بشاش پایا، پھر آپ نے انہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا، انہوں نے آپ سے فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ انسان کا چچا اس کے باپ کے مرتبہ میں ہوتا ہے۔ پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دن کی کیفیت اور دوسرے دن کی کیفیت کے حوالے سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب آپ دونوں پہلے دن میرے پاس آئے تھے تو میرے پاس زکوۃ کے دو دینار بچ گئے تھے، یہی وجہ تھی کہ آپ نے مجھے بوجھل طبیعت میں دیکھا اور جب آج آپ دونوں میرے پاس آئے تو میں وہ کسی کودے چکا تھا اسی وجہ سے آپ نے مجھے ہشاش بشاش پایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ سن کر فرمایا آپ نے صحیح فرمایا، بخدا! میں دنیا و آخرت میں آپ کا شکر گذار رہوں گا۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَّنَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَأَمَرَنِي إِنْ نَزَلَ بِي كَرْبٌ أَوْ شِدَّةٌ أَنْ أَقُولَهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْكَرِيمُ الْحَلِيمُ سُبْحَانَهُ وَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی تکلیف یا مصیبت آنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعاء سکھائی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ بڑا بردبار اور مہربان ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے، وہ عرش عظیم کا رب ہے، اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا مَاءٌ فَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنْ النَّارِ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے، بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات کپڑوں میں دفنایا گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَاجِشُونُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ وَالْمَاجِشُونُ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ اسْتَفْتَحَ ثُمَّ قَالَ وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ وَكَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ وَإِذَا سَجَدَ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ فَإِذَا سَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہہ چکتے تو ثناء پڑھنے کے بعد فرماتے کہ میں نے اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف سب سے یکسو ہو کر اور مسلمان ہو کر پھیر لیا جس نے آسمان و زمین کو تخلیق کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور موت اس اللہ کے لئے وقف ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ، الہی! آپ ہی حقیقی بادشاہ ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، آپ ہی میرے رب اور میں آپ کا عبد ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، اور مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے اس لئے آپ میرے تمام گناہوں کو معاف فر مادیں ، کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف کر ہی نہیں سکتا اور بہتر اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرمائیے، کیونکہ بہترین اخلاق کی طرف بھی آپ ہی رہنمائی کر سکتے ہیں اور مجھے برے اخلاق سے بچائیے کیونکہ ان سے بھی آپ ہی بچا سکتے ہیں، آپ کی ذات تو بڑی بابرکت اور برتر ہے، میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا اور توبہ کرتا ہوں ۔ جب رکوع میں جاتے تو یوں کہتے ہیں کہ الہی! میں نے آپ کے لئے رکوع کیا، آپ پر ایمان لایا، آپکا تابع فرمان ہوا، میرے کان اور آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور پٹھے سب آپ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں ۔ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا ولک الحمد کہنے کے بعد فرماتے کہ تمام تعریفیں آپ ہی کے لیئے ہیں جو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی جگہ کو پر کردیں اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو یوں فرماتے کہ الہی! میں نے آپ کے لئے سجدہ کیا، آپ پر ایمان لایا، آپ کا تابع فرمان ہوا، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی بہترین تصویر کشی کی، اس کے کان (سننے) اور آنکھ دیکھنے کے قابل بنائے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے جوب ہترین خالق ہے۔ اور جب نماز کا سلام پھیرتے تو یوں فرماتے کہ اے اللہ! میرے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دے اور جو میں نے تجاوز کیا وہ بھی معاف فرمادے اور جن چیزوں کو آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، وہ بھی معاف فرما دے، آپ ہی اول و آخر ہیں اور آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنِ الْمُنْذِرِ عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ قَالَ نَعَمْ فَكَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ اگر آپ کے بعد میرے یہاں کوئی لڑکا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام آپ کے نام پر اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ فرمایا ہاں! یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے رخصت تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ بات ذکر فرمائی تھی کہ تم سے بغض کوئی منافق ہی کر سکتا ہے اور تم سے محبت کوئی مومن ہی کر سکتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ حُجَيَّةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں ان میں کوئی عیب تو نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ كُنَّا نَسِيرُ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِذَا رَجُلٌ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا عَلِيٌّ فَقَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِكَ
مروان بن حکم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ ایک شخص حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ کہتے ہوئے نظر آیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ میں نے اس کی ممانعت کا حکم جاری کر دیا ہے؟ فرمایا کیوں نہیں لیکن آپ کی بات کے آگے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو نہیں چھوڑ سکتا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ حُجَيَّةَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ الْبَقَرَةِ فَقَالَ عَنْ سَبْعَةٍ فَقَالَ مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ فَقَالَ لَا يَضُرُّكَ قَالَ الْعَرْجَاءُ قَالَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ فَاذْبَحْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ
ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کر لو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جانورکے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَأَبُو عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ سَمِعَاهُ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ قَوْمٌ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ وَلَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَنْبَأْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبِيدَةُ قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک قوم نکلے گی، ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَتْ فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَأَتَيْتُهَا فَوَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِهَا فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی باندی سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں اس کے پاس پہنچا تو ابھی اس کا خون بند نہیں ہوا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی، تو نبی صلی اللہ علیہ ولسم نے فرمایا جب اس کا خون رک جائے تو اس پر حد جاری کر دینا اور یاد رکھو! اپنے مملوکوں پر بھی حدود جاری کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ مسح علی الخفین کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے، حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑوں پر گدھوں کو کدوانے سے (جفتی کروانے سے) منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ اسْتَخْلَفْتُ أَحَدًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنَّ فَاطِمَةَ شَكَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثَرَ الْعَجِينِ فِي يَدَيْهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تَجِدْهُ فَرَجَعَتْ قَالَ فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا قَالَ فَذَهَبْتُ لِأَقُومَ فَقَالَ مَكَانَكُمَا فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا سَبَّحْتُمَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدْتُمَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرْتُمَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آٹا پیس پیس کر ہاتھوں میں نشان پڑ گئے ہیں، اس دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ قیدی آئے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ سلم نہ ملے، چنانچہ وہ واپس آگئیں ۔ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے کھڑا ہونا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ رہو، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بیٹھ گئے، حتی کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی اور فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو٣٣ مرتبہ سبحان اللہ،٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق ابو الھیاج اسدی کو مخاطب کر کے فرمایا میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورت الاعلی بہت محبوب تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَتْ لِي مِائَةُ دِينَارٍ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ وَقَالَ الْآخَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِدِينَارٍ وَقَالَ الْآخَرُ كَانَ لِي دِينَارٌ فَتَصَدَّقْتُ بِعُشْرِهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّكُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ كُلُّكُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس سو دینار تھے جن میں سے میں نے دس دینار صدقہ کر دئیے، دوسرے نے کہا یا رسول اللہ! میرے پاس دس دینار تھے، میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کردیا اور تیسرے نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سب کو برابر اجر ملے گا اس لئے کہ تم سب نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَمِسْعَرٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے اور ہڈیوں کے جوڑ مضبوط تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَكَلَّمْ حَتَّى تَسْمَعَ مِنْ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنْ الْأَوَّلِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ ضَخْمُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ مُشْرَبٌ وَجْهُهُ حُمْرَةً طَوِيلُ الْمَسْرُبَةِ ضَخْمُ الْكَرَادِيسِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَى كِسْرَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ مِنْهُ وَأَهْدَى لَهُ قَيْصَرُ فَقَبِلَ مِنْهُ وَأَهْدَتْ لَهُ الْمُلُوكُ فَقَبِلَ مِنْهُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا اسی طرح قیصر نے ہدیہ بھیجا تو وہ بھی قبول فرما لیا اور دیگر بادشاہوں نے بھییجا تو وہ بھی قبول فرما لیا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ سَلْ عَلِيًّا فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَسَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔ گذشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبًا بِيَمِينِهِ وَحَرِيرًا بِشِمَالِهِ ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ فَقَالَ هَذَانِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا اور بائیں ہاتھ میں ریشم پکڑا اور دونوں ہاتھوں کو بلند کر کے فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یوں فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتاہوں، تیری درگذر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَجْهَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْقُرْآنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص مغرب اور عشاء کے درمیان تلاوت کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَكَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَعْجَبُ الرَّبُّ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَيَقُولُ عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے پاس سواری کے لئے ایک جانور لیا گیا، جب انہوں نے اپنا پاؤں اس کی رکاب میں رکھا توبسم اللہ کہا، جب اس پر بیٹھ گئے تو یہ دعاء پڑھی کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارا تابع فرمان بنا دیا، ہم تو اسے اپنے تابع نہیں کر سکتے تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، پھر تین مرتبہ الحمدللہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا اے اللہ! آپ پاک ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس مجھے معاف فرما دیجئے، پھر مسکرا دئیے ۔ میں نے پوچھا کہ امیرالمومنین! اس موقع پر مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا جیسے میں نے کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکرائے تھے اور میں نے بھی ان سے اس کی وجہ پوچھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب بندہ یہ کہتا ہے کہ پروردگار! مجھے معاف فرما دے تو پروردگار کو خوشی ہوتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ اس کے گناہ کوئی معاف نہیں کر سکتا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ عَادَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَتَعُودُ الْحَسَنَ وَفِي نَفْسِكَ مَا فِيهَا فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبِّي فَتَصْرِفَ قَلْبِي حَيْثُ شِئْتَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يَمْنَعُنَا أَنْ نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ إِلَّا ابْتَعَثَ اللَّهُ لَهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ مِنْ أَيِّ سَاعَاتِ النَّهَارِ كَانَ حَتَّى يُمْسِيَ وَمِنْ أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ كَانَ حَتَّى يُصْبِحَ قَالَ لَهُ عَمْرٌو وَكَيْفَ تَقُولُ فِي الْمَشْيِ مَعَ الْجِنَازَةِ بَيْنَ يَدَيْهَا أَوْ خَلْفَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ فَضْلَ الْمَشْيِ مِنْ خَلْفِهَا عَلَى بَيْنِ يَدَيْهَا كَفَضْلِ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى الْوَحْدَةِ قَالَ عَمْرٌو فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّهُمَا إِنَّمَا كَرِهَا أَنْ يُحْرِجَا النَّاسَ
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عمرو بن حریث حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا یوں تو آپ حسن کی بیمار پرسی کے لئے آئے ہیں اور اپنے دل میں جو کچھ چھپا رکھا ہے اس کا کیا ہوگا؟ عمرو نے کہا کہ آپ میرے رب نہیں ہیں کہ جس طرح چاہیں میرے دل میں تصرف کرنا شروع کر دیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن اس کے باوجود ہم تم سے نصیحت کی بات کہنے سے نہیں رکیں گے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو شام تک دن کے ہر لمحے میں اس کے لئے دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کو گیا ہو تو صبح تک رات کی ہر گھڑی اس کے لئے دعاء کرتے رہتے ہیں ۔ عمرو بن حریث نے پوچھا کہ جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جنازے کے آگے چلنا چاہئے یا پیچھے؟ فرمایا کہ آگے چلنے پر پیچھے چلنا اسی طرح افضل ہے جیسے فرض نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت تنہا پڑھنے پر ہے، عمرو نے کہا کہ میں نے تو خود حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے؟ فرمایا وہ دونوں لوگوں کو اپنی وجہ سے تنگی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ قَالَ فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَأْمُرُ بِهَا فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ إِنَّكَ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَجَلْ وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ
عبداللہ بن شقیق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ لوگوں کو حج تمتع سے روکتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے جواز کا فتوی دیتے تھے، ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کچھ کہا ہوگا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ جانتے بھی ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ حج تمتع کیا ہے پھر بھی اس سے روکتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا بات تو ٹھیک ہے، لیکن ہمیں اندیشہ ہے (کہ لوگ رات کو بیویوں کے قریب جائیں اور صبح کو غسل جنابت کے پانی سے گیلے ہوں اور حج کا احرام باندھ لیں) ۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّضِيعِ يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ قَالَ قَتَادَةُ وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیر خوار بچے کے متعلق ارشاد فرمایا بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا، قتادہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو اور جب وہ کھانا پینا شروع کر دیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ حَتَّى يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَحَتَّى يُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَحَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لے آئے، اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں، اس نے مجھے برحق نبی بنا کر بھیجا ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان رکھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ نَاجِيَةَ بْنَ كَعْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَوَارِهِ فَقَالَ إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا فَقَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ قَالَ فَلَمَّا وَارَيْتُهُ رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي اغْتَسِلْ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں خواجہ ابو طالب کی وفات کی خبر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ تو شرک کی حالت میں مرے ہیں (میں کیسے ان کو قبر میں اتاروں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپادو، جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا کہ جاکر غسل کرو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُهُمَا وَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَدْرِكْهُمَا فَأَرْجِعْهُمَا وَلَا تَبِعْهُمَا إِلَّا جَمِيعًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے، میں نے ان دونوں کو دو الگ الگ آدمیوں کے ہاتھ فروخت کردیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس جا کر ان دونوں کو واپس لو اور اکٹھا ایک ہی آدمی کے ہاتھ ان دونوں کو فروخت کرو (تاکہ دونوں کو ایک دوسرے سے کچھ تو قرب اور انس رہے)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَيْسَ الْوَتْرُ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الصَّلَاةِ وَلَكِنْ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَشُعْبَةُ وَإِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هُوَ قَالَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے کچھ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کیا چیزیں ہیں؟ فرمایا میری مدد رعب کے ذریعے کی گئی ہے، مجھے زمین کے خزانے دئیے گئے ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا، مٹی کو میرے لیے پانی کی طرح پاک کرنے والا قرار دیا گیا ہے اور میری امت کو بہترین امت کا خطاب دیا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان فجر کے قریب وتر ادا فرماتے تھے اور اقامت کے قریب فجر کی سنتیں پڑھتے تھے۔
-
أَنْبَأَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ شَيْبَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَرْنَا الدَّجَّالَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظَ مُحْمَرًّا لَوْنُهُ فَقَالَ غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ ذَكَرَ كَلِمَةً
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے اور ہم قریب ہی بیٹھے دجال کا تذکرہ کر رہے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تم پر دجال سے زیادہ ایک دوسری چیز کا خطرہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلٌ أَوْ بَغْلَةٌ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَ بَغْلٌ أَوْ بَغْلَةٌ قُلْتُ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ قَالَ يُحْمَلُ الْحِمَارُ عَلَى الْفَرَسِ فَيَخْرُجُ بَيْنَهُمَا هَذَا قُلْتُ أَفَلَا نَحْمِلُ فُلَانًا عَلَى فُلَانَةَ قَالَ لَا إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ خچر ہے مذکر یا مونث، میں نے پوچھا کہ یہ کس نسل سے ہوتا ہے؟ فرمایا گھوڑی پر گدھے کو سوار کر دیا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ اس خچر کی صورت میں نکلتا ہے، میں نے عرض کیا کہ پھر میں بھی فلاں گدھے کو فلاں گھوڑی پر نہ چڑھا دوں؟ فرمایا نہیں، یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ إِذَا اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ سَبَّحَ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ أَذِنَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے ( اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَنْحَرَ بِمِنًى فَقَالَ هَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منی میں قربان گاہ پر تشریف لائے اور فرمایا یہ قربان گاہ ہے اور پورا منی ہی قربان گاہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قَالَ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حَسَنٌ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قَالَ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ ثُمَّ قَالَ سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ شَبَّرُ وَشَبِيرُ وَمُشَبِّرٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن کی پیدائش ہوئی تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بچے کی پیدائش کی خبر معلوم ہوئی تو تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا حرب، فرمایا نہیں، اس کا نام حسن ہے، پھر جب حسین پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھ دیا، اس موقع پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے پھر عرض کیا حرب، فرمایا نہیں اس کا نام حسین ہے، تیسرے بیٹے کی پیدائش پر بھی اسی طرح ہوا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدل کر محسن رکھ دیا، پھر فرمایا کہ میں نے ان بچوں کے نام حضرت ہارون علیہ السلام کے بچوں کے نام پر رکھے ہیں جن کے نام شبر، شبیر اور مشبر تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ وَهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَكَّةَ اتَّبَعَتْنَا ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي يَا عَمِّ وَيَا عَمِّ قَالَ فَتَنَاوَلْتُهَا بِيَدِهَا فَدَفَعْتُهَا إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ اخْتَصَمْنَا فِيهَا أَنَا وَجَعْفَرٌ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقَالَ جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي يَعْنِي أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ وَقَالَ زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي وَقُلْتُ أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ فَأَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ فَمِنِّي وَأَنَا مِنْكَ وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ فَأَخُونَا وَمَوْلَانَا وَالْجَارِيَةُ عِنْدَ خَالَتِهَا فَإِنَّ الْخَالَةَ وَالِدَةٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَزَوَّجُهَا قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے لگے تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا جان! چچاجان! پکارتی ہوئی ہمارے پیچھے لگ گئی، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کردیا، اور ان سے کہا کہ اپنی چچا زاد بہن کو سنبھالو، جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو اس بچی کی پرورش کے سلسلے میں میرا، حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا جھگڑا ہو گیا ۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ یعنی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں ہیں، لہٰذا اس کی پرورش میرا حق ہے، حضرت زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ میری بھتیجی ہے اور میں نے یہ موقف اختیار کیا کہ اسے میں لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں اور زید! آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ آزاد کردہ غلام ہیں، بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی کیونکہ خالہ بھی ماں کے مرتبہ میں ہوتی ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اس سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ فرمایا اس لئے کہ یہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقُلْتُ أَيَسْتَغْفِرُ الرَّجُلُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقَالَ أَوَلَمْ يَسْتَغْفِرْ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ إِلَى قَوْلِهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ قَالَ لَمَّا مَاتَ فَلَا أَدْرِي قَالَهُ سُفْيَانُ أَوْ قَالَهُ إِسْرَائِيلُ أَوْ هُوَ فِي الْحَدِيثِ لَمَّا مَاتَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو اپنے مشرک والدین کے دعاء مغفرت کرتے ہوئے سنا تو میں نے کہا کہ کیا کوئی شخص اپنے مشرک والدین کے لئے بھی دعاء مغفرت کر سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے لئے دعاء مغفرت نہیں کرتے تھے؟ میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ پیغمبر اور اہل ایمان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لئے دعاء مغفرت کریں ۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ مِنْ اللَّيْلِ وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات رات کو نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوئی ہوتی تھیں ۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ حَجَّاجٌ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا مِنَّا يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ رَجُلًا مِنَّا قَالَ وَسَمِعْتُهُ مَرَّةً يَذْكُرُهُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر دنیاختم ہونے میں صرف ایک دن ہی بچ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ ہم میں سے ایک ایسے آدمی کو ضرور بھیجے گا جو زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جیسے پہلے وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی (مراد حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ ہیں جن پر اس ناکارہ کی مستقل کتاب اسلام میں امام مہدی کا تصور کے نام سے بازار میں دستیاب ہے) ۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الْحَسَنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سینے سے لے کر سر تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہیں اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نچلے حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَذْنَبَ فِي الدُّنْيَا ذَنْبًا فَعُوقِبَ بِهِ فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے اور اسے اس کی سزا بھی مل جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت عادل ہے کہ اپنے بندے کو دوبارہ سزا دے اور جو شخص دنیا میں کوئی گناہ کر بیٹھے اور اللہ اس کی پردہ پوشی کرتے ہوئے اسے معاف فرمادے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت کریم ہے کہ جس چیز کو وہ معاف کرچکا ہو اس کا معاملہ دوبارہ کھولے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَحِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ لَمْ أَرَهُ ضَحِكَ ضَحِكًا أَكْثَرَ مِنْهُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَبِي طَالِبٍ ظَهَرَ عَلَيْنَا أَبُو طَالِبٍ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُصَلِّي بِبَطْنِ نَخْلَةَ فَقَالَ مَاذَا تَصْنَعَانِ يَا ابْنَ أَخِي فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ مَا بِالَّذِي تَصْنَعَانِ بَأْسٌ أَوْ بِالَّذِي تَقُولَانِ بَأْسٌ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَعْلُوَنِي اسْتِي أَبَدًا وَضَحِكَ تَعَجُّبًا لِقَوْلِ أَبِيهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ لَا أَعْتَرِفُ أَنَّ عَبْدًا لَكَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبَدَكَ قَبْلِي غَيْرَ نَبِيِّكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَقَدْ صَلَّيْتُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّاسُ سَبْعًا
حبہ عرفی کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر اس طرح ہنستے ہوئے دیکھا کہ اس سے قبل انہیں اتنا ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا ، یہاں تک کہ ان کے آخری دانت بھی نظر آنے لگے، پھر فرمانے لگے کہ مجھے اپنے والد خواجہ ابو طالب کی ایک بات یاد آگئی، ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطن نخلہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ خواجہ ابوطالب آگئے اور کہنے لگے کہ بھتیجے! یہ تم دونوں کیا کر رہے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی، وہ کہنے لگے کہ تم دونوں جو کر رہے ہو اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے لیکن بخدا! مجھ اپنے کولہے اوپر نہ کیے جاسکیں گے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس بات پر تعجب سے ہنسی آگئی اور فرمانے لگے کہ اے اللہ! میں اس بات پر فخر نہیں کرتا کہ آپ کے نبی کے علاوہ اس امت میں آپ کے کسی بندے نے مجھ سے پہلے آپ کی عبادت کی ہو، یہ بات تین مرتبہ دہرا کر وہ فرمانے لگے کہ میں نے لوگوں کے نماز پڑھنے سے سات سال پہلے نماز پڑھی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي وَأَكْثَرُ عِلْمِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَانْصَرَفَ ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً فَصَلَّى بِنَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي صَلَّيْتُ بِكُمْ آنِفًا وَأَنَا جُنُبٌ فَمَنْ أَصَابَهُ مِثْلُ الَّذِي أَصَابَنِي أَوْ وَجَدَ رِزًّا فِي بَطْنِهِ فَلْيَصْنَعْ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز چھوڑ کر گھرچلے گئے اور ہم کھڑے کے کھڑے ہی رہ گئے، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از سر نو ہمیں نماز پڑھائی اور بعد فراغت فرمایا کہ جب میں نماز کے لئے کھڑا ہوگیا تب مجھے یاد آیا کہ میں تو اختیاری طور پر ناپاک ہو گیا تھا اس لیے اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنے پیٹ میں گڑبڑ محسوس ہو رہی ہو یا میری جیسی کیفیت کا وہ شکار ہوجائے تو اسے چاہیے کہ میری ہی طرح کرے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْمِنْهَالِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ أَبِي يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ وَكَانَ عَلِيٌّ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ فَقِيلَ لَهُ لَوْ سَأَلْتَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ الْعَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرْمَدُ الْعَيْنِ قَالَ فَتَفَلَ فِي عَيْنِي وَقَالَ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا مُنْذُ يَوْمِئِذٍ وَقَالَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَيْسَ بِفَرَّارٍ فَتَشَرَّفَ لَهَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهَا
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کے وقت مختلف امور پر بات چیت کیا کرتے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عجیب عادت تھی کہ وہ سردی کے موسم میں گرمی کے کپڑے اور گرمی کے موسم میں سردی کے کپڑے پہن لیا کرتے تھے، کسی نے میرے والد صاحب سے کہا کہ اگر آپ اس چیز کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھیں تو شاید وہ جواب دے دیں؟ چنانچہ والد صاحب کے سوال کرنے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ غزوہ خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس ایک قاصد بھیجا، مجھے آشوب چشم کی بیماری لاحق تھی، اس لیے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے تو آشوب چشم ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر میری آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ! اس کی گرمی سردی دور فرما، اس دن سے آج تک مجھ کبھی گرمی اور سردی کا احساس ہی نہیں ہوا۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور خود اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں محبوب ہوگا، وہ بھاگنے والا نہ ہوگا، صحابہ کرام اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو نمایاں کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جھنڈا مجھے عنایت فرما دیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ عَمَّارٌ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اتنی دیر میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ وَغَيْرِهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ سَلْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ يَعْنِي لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، چنانچہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ أَمَرَنِي عَلِيٌّ أَنْ أَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ
شریح بن ہانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ مُعَلَّقَةً بِسَيْفِهِ أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ مُعَلَّقَةً بِسَيْفٍ لَهُ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ أَوْ قَالَ بَكَرَاتُهُ حَدِيدٌ أَيْ حِلَقُهُ
طارق بن شہاب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بخدا! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے، میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا تھا ، اس میں زکوۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے، مذکورہ صحیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيُّ قَالَ كَانَ أَبِي الْحَارِثُ عَلَى أَمْرٍ مِنْ أُمُورِ مَكَّةَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فَاسْتَقْبَلْتُ عُثْمَانَ بِالنُّزُلِ بِقُدَيْدٍ فَاصْطَادَ أَهْلُ الْمَاءِ حَجَلًا فَطَبَخْنَاهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ فَجَعَلْنَاهُ عُرَاقًا لِلثَّرِيدِ فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى عُثْمَانَ وَأَصْحَابِهِ فَأَمْسَكُوا فَقَالَ عُثْمَانُ صَيْدٌ لَمْ أَصْطَدْهُ وَلَمْ آمُرْ بِصَيْدِهِ اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعَمُونَاهُ فَمَا بَأْسٌ فَقَالَ عُثْمَانُ مَنْ يَقُولُ فِي هَذَا فَقَالُوا عَلِيٌّ فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيٍّ حِينَ جَاءَ وَهُوَ يَحُتُّ الْخَبَطَ عَنْ كَفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعَمُونَاهُ فَمَا بَأْسٌ قَالَ فَغَضِبَ عَلِيٌّ وَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِقَائِمَةِ حِمَارِ وَحْشٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ قَالَ فَشَهِدَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ أُشْهِدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِبَيْضِ النَّعَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ أَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ قَالَ فَشَهِدَ دُونَهُمْ مِنْ الْعِدَّةِ مِنْ الِاثْنَيْ عَشَرَ قَالَ فَثَنَى عُثْمَانُ وَرِكَهُ عَنْ الطَّعَامِ فَدَخَلَ رَحْلَهُ وَأَكَلَ ذَلِكَ الطَّعَامَ أَهْلُ الْمَاءِ
عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں میرے والد حارث مکہ مکرمہ میں کسی عہدے پر فائز تھے، ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بقول عبداللہ بن حارث کے میں نے قدید نامی جگہ کے پڑاؤ میں ان کا استقبال کیا، اہل ماء نے ایک گھوڑا شکار کیا، ہم نے اسے پانی اور نمک ملا کر پکایا اور اس کا گوشت ہڈیوں سے الگ کر کے اس کا ثرید تیار کیا، اس کے بعد ہم نے وہ کھانا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے سامنے پیش کیا، لیکن ان کے ساتھیوں نے اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ نہ تو میں نے اس شکار کو پکڑ کر شکار کیا اور نہ ہی اسے شکار کرنے کا حکم دیا، ایک غیر محرم جماعت نے اسے شکار کیا اور وہ اسے ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اسے کون ناجائز کہتا ہے؟ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام لگا دیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں بلاوا بھیجا، عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ وہ منظر میری نگاہوں میں اب بھی محفوظ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں سے گردوغبار جھاڑتے ہوئے آرہے تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے بھی یہی فرمایا کہ نہ تو ہم نے اسے شکار کیا ہے اور نہ ہی شکار کرنے کا حکم دیاہے، ایک غیر محرم جماعت نے اسے شکار کر کے ہمارے سامنے کھانے کے لئے پیش کر دیا تو اس میں کیا حرج ہے؟ یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ تردد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ہر اس شخص کو قسم دے کر کہتا ہوں جو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنگلی گدھے کے پائے لائے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ اہل حل کو کھلا دو، کیا ایسا ہے یا نہیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوگئے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شتر مرغ کے انڈے لائے گئے، اس موقع پر موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو میں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ غیر محرم لوگوں کو کھلا دو؟ اس پر بارہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے ہوگئے، یہ دیکھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دستر خوان سے اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور وہ کھانا اہل ماء ہی نے کھا لیا۔
-
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاهُ وَلِيَ طَعَامَ عُثْمَانَ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْحَجَلِ حَوَالَيْ الْجِفَانِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَكْرَهُ هَذَا فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ مُلَطِّخٌ يَدَيْهِ بِالْخَبَطِ فَقَالَ إِنَّكَ لَكَثِيرُ الْخِلَافِ عَلَيْنَا فَقَالَ عَلِيٌّ أُذَكِّرُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِعَجُزِ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ إِنَّا مُحْرِمُونَ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ فَقَامَ رِجَالٌ فَشَهِدُوا ثُمَّ قَالَ أُذَكِّرُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِخَمْسِ بِيضَاتٍ بَيْضِ نَعَامٍ فَقَالَ إِنَّا مُحْرِمُونَ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ فَقَامَ رِجَالٌ فَشَهِدُوا فَقَامَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ وَتَرَكُوا الطَّعَامَ عَلَى أَهْلِ الْمَاءِ
عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ ان کے والدحارث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کھانے کے ذمے دار تھے، عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ وہ منطر میری نگاہوں میں اب بھی محفوظ ہے کہ ہانڈیوں کے گرد گھوڑے کا گوشت پڑا ہوا ہے، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اسے اچھا نہیں سمجھتے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا بھیجا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں سے گردوغبار جھارتے ہوئے آئے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ ہم سے بہت زیادہ اختلاف کرتے ہیں، یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ہر اس شخص کو قسم دے کر کہتا ہوں جو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنگلی گدھے کے سرین لائے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ اہل حل کو کھلا دو، کیا ایسا ہے یا نہیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوگئے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شتر مرغ کے پانچ انڈے لائے گئے، اس موقع پر موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو میں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ غیر محرم لوگوں کو کھلا دو؟ اس پر کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے ہوگئے، یہ دیکھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دستر خوان سے اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور وہ کھانا اہل ماء ہی نے کھا لیا۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَنَّا أَنْزَيْنَا الْحُمُرَ عَلَى خَيْلِنَا فَجَاءَتْنَا بِمِثْلِ هَذِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر ہم بھی فلاں گدھے کو فلاں گھوڑی پر چڑھا دیں اور ایسا جانور پیدا ہوجائے تو کیسا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے اور اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند فرماتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ مَوْلَاهُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ اعْتَمَرْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي زَمَانِ عُمَرَ أَوْ زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَزَلَ عَلَى أُخْتِهِ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ رَجَعَ فَسُكِبَ لَهُ غُسْلٌ فَاغْتَسَلَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالُوا يَا أَبَا حَسَنٍ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ نُحِبُّ أَنْ تُخْبِرَنَا عَنْهُ قَالَ أَظُنُّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُحَدِّثُكُمْ أَنَّهُ كَانَ أَحْدَثَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا أَجَلْ عَنْ ذَلِكَ جِئْنَا نَسْأَلُكَ قَالَ أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلافت فاروقی یاخلافت عثمانی میں مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عمرہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، اس دوران وہ اپنی ہمشیرہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے یہاں اترے، جب عمرہ سے فارغ ہوگئے تو ان کے یہاں واپس آئے، ان کے غسل کے لئے پانی رکھ دیا گیا، انہوں نے غسل کیا، ابھی غسل کرکے فارغ ہوئے تھے کہ اہل عراق کا ایک وفد آگیا، وہ لوگ کہنے لگے کہ اے ابوالحسن! ہم آپ کے پاس ایک سوال لے کر آئے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں اس کے متعلق کچھ بتائیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے آپ لوگوں سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریب العہد ہیں، انہوں نے کہا بالکل ٹھیک، ہم اسی کے متعلق آپ سے پوچھنے آئے ہیں، فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب العہد قثم بن عباس ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عُتَيْبَةُ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ دِرْهَمَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہوگیا، انہوں نے ترکہ میں دو دینار یا دو درہم چھوڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں جن سے داغاجائے گا، تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمِّدًا كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جھوٹاخواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ صَالِحُهُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِهِمْ وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے میرے کانوں نے سنی اور میرے دل دماغ نے اسے محفوظ کیا کہ تمام لوگ قریش کے تابع ہیں، نیک لوگ نیکوں کے تابع اور برے لوگ بروں کے تابع ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالُ لَهُ جُرَيُّ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ عَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ قَالَ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا وہ جانور جس کانصف یا اس سے سے زیادہ کان کٹا ہوا ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي الْمِقْدَامِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَزْرَقِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى الْمَنَامَةِ فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ أَوْ الْحُسَيْنُ قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَاةٍ لَنَا بِكْرٍ فَحَلَبَهَا فَدَرَّتْ فَجَاءَهُ الْحَسَنُ فَنَحَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ ثُمَّ قَالَ إِنِّي وَإِيَّاكِ وَهَذَيْنِ وَهَذَا الرَّاقِدَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے غریب خانے پر تشریف لائے، میں سو رہا تھا، اتنی دیر میں حسن یا حسین کو پیاس لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری ایک بکری کی طرف بڑھے جو بہت کم دودھ دیتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہا تو وہ بہت زیادہ نکلا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ ان کے پاس چلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک طرف بٹھا لیا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ! شاید آپ کو اس سے زیادہ محبت ہے؟ فرمایا یہ بات نہیں ہے، اصل میں اس نے پہلے مانگا تھا، پھر فرمایا کہ قیامت کے دن میں، تم، یہ دونوں اور یہ سونے والا ایک ہی جگہ میں ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا حُدَيْجٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ حِينَ بَزَغَ الْقَمَرُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ فَقَالَ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت گھر سے نکلا جب چاند طلوع ہوچکا تھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی بڑے پیالے کا شگاف ہو اور فرمایا آج کی رات شب قدر ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنْ النَّارِ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے، بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَرِبَ قَائِمًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّاسُ كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهُ فَقَالَ مَا تَنْظُرُونَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگ ان کی طرف تعجب سے دیکھنے لگے، انہوں نے فرمایا مجھے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہے ہو؟ اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے اور اگر بیٹھ کرپیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الرَّأْسِ عَظِيمَ الْعَيْنَيْنِ هَدِبَ الْأَشْفَارِ قَالَ حَسَنٌ الشِّفَارِ مُشْرَبَ الْعَيْنَيْنِ بِحُمْرَةٍ كَثَّ اللِّحْيَةِ أَزْهَرَ اللَّوْنِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صُعُدٍ قَالَ حَسَنٌ تَكَفَّأَ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بڑا، آنکھیں موٹی موٹی، پلکیں لمبی لمبی، آنکھوں میں سرخی کے ڈورے، گھنی داڑھی، کھلتا ہوا رنگ اور ہاتھ پاؤں بھرے ہوئے تھے اور چلنے کی کیفیت ایسی تھی کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی گھاٹی پر چل رہے ہوں اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل طور پر متوجہ ہوتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ وَقَالَ لِي هُوَ اسْمِي وَكُنْيَتِي حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْخِمْسِ حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ خَطِيبًا فِي الرَّحَبَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ مِنْهُ وَتَمَسَّحَ وَشَرِبَ فَضْلَ كُوزِهِ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ وَهُوَ قَائِمٌ وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَكَذَا
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ صحن کوفہ میں تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور جو اللہ نے چاہا سو انہوں نے کہا، اس کے بعد پانی کا ایک برتن منگوایا، اس میں سے کلی کی، کچھ پانی مسح کے طور پر اپنے جسم کے اعضاء وضو پر پھیر لیا اور باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پی لیا اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں یہ اس شخص کا وضو ہے جو بے وضو نہ ہو اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنْ الْوَحْيِ أَوْ قَالَ كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةِ الْمَقْرُونَةِ بِسَيْفِي وَعَلَيْهِ سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ وَفِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَاتِ
طارق بن شہاب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بخدا! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں یا پھر یہ صحیفہ ہے جو میری تلوار سے لٹکا ہوا ہے، اس میں زکوۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے، مذکورہ صحیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لو ہے کے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَنْبَأَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ عَلِيًّا قِيلَ لَهُ إِنَّ قَاتِلَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ لِيَدْخُلْ قَاتِلُ ابْنِ صَفِيَّةَ النَّارَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ الزُّبَيْرَ حَوَارِيِّي
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ (ابن جرموز نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون ہے؟) لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے؟ فرمایا اسے اندر آنے دو، زبیر کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَإِسْحَقُ بْنُ عِيسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ الْغُلَامَانِ فَقُلْتُ بِعْتُ أَحَدَهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدَّهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے دو غلام ہبہ کر دیئے، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کردیا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ وہ غلام کیا ہوئے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے واپس لے لو۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات کپڑوں میں دفنایا گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مَرَضٍ أَصَابَهُ ثَقُلَ مِنْهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبِي مَا يُقِيمُكَ فِي مَنْزِلِكَ هَذَا لَوْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ لَمْ يَلِكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ تُحْمَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَإِنْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ وَصَلَّوْا عَلَيْكَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ لَا أَمُوتَ حَتَّى أُؤَمَّرَ ثُمَّ تُخْضَبَ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ دَمِ هَذِهِ يَعْنِي هَامَتَهُ فَقُتِلَ وَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ مَعَ عَلِيٍّ يَوْمَ صِفِّينَ
فضالہ جن کے والد حضرت ابو فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ بدری صحابہ کرام میں سے تھے، کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لئے گیا، وہ کچھ بیمار ہوگئے تھے اور اس سے ان کی طبیعت بوجھل ہو رہی تھی، میرے والد صاحب نے ان سے کہا کہ بیماری نے آپ کا کیا حال کر رکھا ہے؟ اگر آپ کا آخری وقت آپہنچا تو آپ کے پاس جہینہ کے دیہاتیوں کے علاوہ کوئی نہیں آئے گا جو آپ کو مدینہ منورہ لے جائیں گے، اس لئے اگر آپ کا آخری وقت قریب آجائے تو آپ کے ساتھیوں کو آپ کا خیال کرنا چاہئے اور آپ کی نماز جنازہ پڑھنی چاہئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتا رکھی ہے کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک کہ میں خلیفہ نہ بن جاؤں، اس کے بعد یہ داڑھی اس سر کے خون سے رنگین ہوجائے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں شہید ہوئے، جبکہ حضرت ابوفضالہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں شریک ہو کر جنگ صفین کے موقع پر شہید ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقُولُ وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ اصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ وَإِذَا رَكَعَ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ وَإِذَا سَجَدَ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ وَإِذَا فَرَغَ مِنْ الصَّلَاةِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ بَلَغَنَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ قَالَ لَا يُتَقَرَّبُ بِالشَّرِّ إِلَيْكَ حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ وَجَّهْتُ وَجْهِي فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہہ چکتے تو ثناء پڑھنے کے بعد فرماتے کہ میں نے اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف سب سے یکسو ہو کر اور مسلمان ہو کر پھیر لیا جس نے آسمان و زمین کو تخلیق کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور موت اس اللہ کے لئے وقف ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، الہی! آپ ہی حقیقی بادشاہ ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، آپ ہی میرے رب اور میں آپ کا عبد ہوں ، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے اس لئے آپ میرے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف کر ہی نہیں سکتا اور بہتر اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرمائیے، کیونکہ بہترین اخلاق کی طرف بھی آپ ہی رہنمائی کرسکتے ہیں اور مجھے برے اخلاق سے بچائیے کیونکہ ان سے بھی آپ ہی بچا سکتے ہیں، میں آپ کی بارگاہ میں حاضر اور آپ کا خادم ہوں، ہر قسم کی خیر آپ کے ہاتھ میں ہے اور شر آپ کے قریب نہیں کر سکتا، میں آپ کا ہوں اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر آؤں گا، آپ کی ذات بڑی بابرکت اور برتر ہے، میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا اور توبہ کرتا ہوں ۔ جب رکوع میں جاتے تویوں کہتے ہیں کہ الہی! میں نے آپ کے لئے رکوع کیا، آپ پر ایمان لایا، آپکا تابع فرمان ہوا، میرے کان اور آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور پٹھے سب آپ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں ۔ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا ولک الحمد کہنے کے بعد فرماتے کہ تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی جگہ کو پر کر دیں اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھردیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو یوں فرماتے کہ الہی! میں نے آپ کے لئے سجدہ کیا، آپ پر ایمان لایا، آپ کا تابع فرمان ہوا، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی بہترین تصویر کشی کی، اس کے کان اور آنکھ دیکھنے کے قابل بنائے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے جو بہترین خالق ہے۔ اور جب نماز کا سلام پھیرتے تویوں فرماتے کہ اے اللہ! میرے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دے اور جو میں نے تجاوز کیا وہ بھی معاف فرما دے اور جن چیزوں کو آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، وہ بھی معاف فرمادے، آپ ہی اول و آخر ہیں اور آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مذکور ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُصْبِحَ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ مِنْ لَحْمِ نُسُكِهِ شَيْءٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ تین دن کے بعد اس کے گھر میں اس کی قربانی کا گوشت تھوڑا سا بھی موجود ہو۔ فائدہ : یہ حکم بعد میں منسوخ ہوگیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ قَالَ سَمِعْتُ السُّدِّيَّ إِسْمَاعِيلَ يَذْكُرُهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ قَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي قَالَ فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ قَالَ اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي قَالَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ قَالَ فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُودَهَا قَالَ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا غَسَّلَ الْمَيِّتَ اغْتَسَلَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں خواجہ ابوطالب کی وفات کی خبردی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا، چنانچہ جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا کہ جاکر غسل کرو اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا، چنانچہ میں غسل کر کے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اتنی دعائیں دیں کہ مجھے ان کے بدلے سرخ یا سیاہ اونٹ ملنے پر اتنی خوشی نہ ہوتی، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب بھی کسی میت کو غسل دیا تو خود بھی غسل کر لیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ فِي سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَسَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آخر زمانے میں ایک قوم ظاہر ہوگی جسکا نام روافض ہوگا، یہ لوگ اسلام کو چھوڑ دیں گے (ان کے عقائد و اعمال اسلامی نہ ہوں گے گو کہ وہ اسلام کا نام استعمال کرتے ہوں گے)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَأْذِنُ فَإِنَّ كَانَ فِي صَلَاةٍ سَبَّحَ وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ أَذِنَ لِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے ( اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَسْلَمَةُ الرَّازِيُّ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندہ مومن کو پسند کرتا ہے جو آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد توبہ کرلے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ أَنْبَأَنَا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ أَبِي يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أَعْيَانِي أَمْرُ الْمَذْيِ أَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ الْوُضُوءُ اسْتِحْيَاءً مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اسلئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، جب میں اس سے عاجز آگیا تو میں نے حضرت مقداد رضی اللہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص وضو کر لیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں ہی نکاح متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرمادی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قِيلَ لَهُ إِنَّ قَاتِلَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ عَلِيٌّ لَيَدْخُلَنَّ قَاتِلُ ابْنِ صَفِيَّةَ النَّارَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيِّي الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ (ابن جرموز نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون ہے؟) لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے؟ فرمایا اسے اندر آنے دو، زبیر کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَزَلَ قُدَيْدًا فَأُتِيَ بِالْحَجَلِ فِي الْجِفَانِ شَائِلَةً بِأَرْجُلِهَا فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَضْفِزُ بَعِيرًا لَهُ فَجَاءَ وَالْخَبَطُ يَتَحَاتُّ مِنْ يَدَيْهِ فَأَمْسَكَ عَلِيٌّ وَأَمْسَكَ النَّاسُ فَقَالَ عَلِيٌّ مَنْ هَا هُنَا مِنْ أَشْجَعَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ بِبَيْضَاتِ نَعَامٍ وَتَتْمِيرِ وَحْشٍ فَقَالَ أَطْعِمْهُنَّ أَهْلَكَ فَإِنَّا حُرُمٌ قَالُوا بَلَى فَتَوَرَّكَ عُثْمَانُ عَنْ سَرِيرِهِ وَنَزَلَ فَقَالَ خَبَّثْتَ عَلَيْنَا
عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو قدید نامی جگہ میں پڑاؤ کیا، ان کی خدمت میں بڑی ہانڈیوں کے اندر گھوڑے کا گوشت لایا گیا ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں سے گرد و غبارجھاڑتے ہوئے آئے لیکن انہوں نے وہ کھانا نہیں کھایا، لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ روک لیے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا قبیلہ اشجع کا کوئی آدمی یہاں موجود ہے؟ کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی آدمی نے شتر مرغ کے کچھ انڈے اور ایک وحشی جانور کا خشک کیا ہوا گوشت پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اپنے گھر والوں کو کھلا دو کیونکہ ہم محرم ہیں؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ۔ یہ دیکھ کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ دستر خوان سے اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور کہنے لگے کہ اب اس میں ہمارے لیے بھی ناپسندیدگی پیدا ہوگئی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر یا کتا ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ سَمِعْتُ هُبَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ قَبْلَ الْعَتَمَةِ وَبَعْدَهَا يُغَلِّطُ أَصْحَابَهُ فِي الصَّلَاةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص عشاء سے پہلے یا بعد میں تلاوت کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرے، کیونکہ اس طرح اس کے دوسرے ساتھیوں کو نماز پڑھتے ہوئے مغالطہ ہوسکتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُودَى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عبد مکاتب یعنی وہ غلام جس سے ایک مقررہ مقدار ادا کرنے پر آقا نے آزادی کا معاہدہ کر لیا ہو، اس نے جتنی مقدار ادا کر دی ہو، اتنی مقدار میں وہ دیت کامستحق بھی ہو جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دارکپڑے، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی نیز دو چکیاں اور دو مٹکے بھی دئیے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ يُحَنَّسَ وَصَفِيَّةَ كَانَا مِنْ سَبْيِ الْخُمُسِ فَزَنَتْ صَفِيَّةُ بِرَجُلٍ مِنْ الْخُمُسِ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَادَّعَاهُ الزَّانِي وَيُحَنَّسُ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ فَرَفَعَهُمَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ عَلِيٌّ أَقْضِي فِيهِمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَجَلَدَهُمَا خَمْسِينَ خَمْسِينَ
سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یحنس اور صفیہ دونوں خمس کے قیدیوں میں سے تھے، صفیہ نے خمس کے ایک دوسرے آدمی سے بدکاری کی، اور ایک بچے کو جنم دیا، اس زانی اور یحنس دونوں نے اس بچے کا دعویٰ کردیا اور اپنا مقدمہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے، انہوں نے ان دونوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور وہ یہ کہ بچہ بستر والے کا ہوگا اور بدکار کے لئے پتھر ہیں پھر انہوں نے دونوں کو پچاس پچاس کوڑے مارے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ كُنَّا بِمِنًى فَإِذَا صَائِحٌ يَصِيحُ أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَصُومُنَّ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ قَالَتْ فَرَفَعْتُ أَطْنَابَ الْفُسْطَاطِ فَإِذَا الصَّائِحُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
عمرو بن سلیم کی والدہ کہتی ہیں کہ ہم میدان منی میں تھے کہ ایک آدمی کو یہ منادی کرتے ہوئے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ دن کھانے پینے کے ہیں اس لئے ان دنوں میں کوئی شخص روزہ نہ رکھے، میں نے اپنے خیمے کا پردہ ہٹا کر دیکھا تو وہ منادی کرنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔
-
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ فَرَخَّصَ لَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص سال گذرنے سے پہلے ہی زکوۃ دینا چاہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہلے ادا کرنے کی اجازت عطاء فرما دی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْمَذْيِ يَخْرُجُ مِنْ الْإِنْسَانِ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر انسان کے جسم سے مذی کا خروج ہو تو وہ کیا کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو کرے اور اپنی شرمگاہ پر پانے کے چھینٹے ڈال لے۔
-
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ بَيْنَمَا نَحْنُ بِمِنًى إِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى جَمَلٍ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذِهِ أَيَّامُ طُعْمٍ وَشُرْبٍ فَلَا يَصُومَنَّ أَحَدٌ فَاتَّبَعَ النَّاسُ
عمرو بن سلیم کی والدہ کہتی ہیں کہ ہم میدان منی میں تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ منادی کرتے ہوئے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ دن کھانے پینے کے ہیں اس لئے ان دنوں میں کوئی شخص روزہ نہ رکھے چنانچہ لوگوں نے ان کی اتباع کی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَنْبَأَنِي غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھایا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنِّي اشْتَرَيْتُ هَذِهِ الْبَقَرَةَ لِلْأَضْحَى قَالَ عَنْ سَبْعَةٍ قَالَ الْقَرْنُ قَالَ لَا يَضُرُّكَ قَالَ الْعَرَجُ قَالَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ فَانْحَرْ ثُمَّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے یہ گائے قربانی کے لئے خریدی ہے، انہوں نے فرمایا کہ یہ سات آدمیوں کی طرف سے ہو سکتی ہے، اس نے کہا کہ اس کے سینگ نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اس کے پاؤں میں لنگڑا پن ہے؟ انہوں نےفرمایا اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکتی ہے تو کوئی حرج نہیں، پھر فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں ان میں کوئی عیب تو نہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ قَالَ تَنَازَعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَحِبَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لِحِبَّانَ قَدْ عَلِمْتُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَمَا هُوَ لَا أَبَا لَكَ قَالَ قَوْلٌ سَمِعْتُهُ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ وَأَبَا مَرْثَدٍ وَكُلُّنَا فَارِسٌ قَالَ انْطَلِقُوا حَتَّى تَبْلُغُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ فِيهَا امْرَأَةً مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَأْتُونِي بِهَا فَانْطَلَقْنَا عَلَى أَفْرَاسِنَا حَتَّى أَدْرَكْنَاهَا حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسِيرُ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا قَالَ وَكَانَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِمَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا لَهَا أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ قَالَتْ مَا مَعِي كِتَابٌ فَأَنَخْنَا بِهَا بَعِيرَهَا فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا فَلَمْ نَجِدْ فِيهِ شَيْئًا فَقَالَ صَاحِبَايَ مَا نَرَى مَعَهَا كِتَابًا فَقُلْتُ لَقَدْ عَلِمْتُمَا مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَلَفْتُ وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ لَئِنْ لَمْ تُخْرِجِي الْكِتَابَ لَأُجَرِّدَنَّكِ فَأَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ فَأَخْرَجَتْ الصَّحِيفَةَ فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ يَا حَاطِبُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا بِي أَنْ لَا أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ تَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَّا لَهُ هُنَاكَ مِنْ قَوْمِهِ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ قَالَ صَدَقْتَ فَلَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ أَوَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ الْجَنَّةُ فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابومرثد رضی اللہ عنہ کہ ہم میں سے ہر ایک شہسوار تھا کو ایک جگہ بھیجتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ روانہ ہو جاؤ، جب تم روضہ خاخ میں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہوگا جو حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین کے نام ہوگا تم اس سے وہ خط لے کر واپس آجانا، چنانچہ ہم لوگ روانہ ہوگئے، ہمارے گھوڑے ہمارے ہاتھوں سے نکلے جاتے تھے، یہاں تک کہ ہم روضہ خاخ جا پہنچے، وہاں ہمیں واقعۃ ایک عورت ملی جو اپنے اونٹ پر چلی جا رہی تھی ہم نے اس سے کہا کہ تیرے پاس جو خط ہے وہ نکال دے، اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں، ہم نے اس کا اونٹ بٹھایا اس کے کجاوے کی تلاشی لی لیکن کچھ نہ ملا میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ اس کے پاس تو ہمارے خیال میں کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، پھر میں نے قسم کھا کر کہا کہ یا تو تو خود ہی خط نکال دے ورنہ ہم تجھے برہنہ کر دیں گے۔ مجبور ہو کر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی میں سے ایک خط نکال کر ہمارے حوالے کردیا، ہم وہ خط لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے، مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ کی قسم میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں، بات یہ ہے کہ میں قریش سے تعلق نہیں رکھتا، البتہ ان میں شامل ہوگیا ہوں، آپ کے ساتھ جتنے بھی مہاجرین ہیں، ان کے مکہ مکرمہ میں رشتہ دار موجود ہیں جن سے وہ اپنے اہل خانہ کی حفاظت کروا لیتے ہیں، میں نے سوچا کہ میرا وہاں کوئی نسبی رشتہ دار تو موجود نہیں ہے، اس لئے ان پر ایک احسان کردوں تاکہ وہ اس کے عوض میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سچ بیان کیا ان کے متعلق اچھی بات ہی کہنا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر فرمایا یا رسول اللہ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے، مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ غزوہ بدر میں شریک ہوچکے ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ نے آسمان سے اہل بدر کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا تم جو کچھ کرتے رہو، میں تمہارے لیے جنت کو واجب کرچکا، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور وہ فرمانے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ يَا عَلِيُّ لَا تُؤَخِّرْهُنَّ الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدَتْ كُفُؤًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علی! تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں کسی قسم کی تاخیر نہ کرو۔ (١) نماز جب اس کا وقت آجائے۔ (٢) جنازہ جب وہ حاضر ہو جائے۔ (٣) عورت جب اس کے جوڑ کا رشتہ مل جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَارُ خَلَفٍ الْبَزَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْحُمْرَةِ وَعَنْ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی کپڑے پہننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَأْكُلْهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے شکار کا گوشت لایا گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ وَالْمَيَاثِرِ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالرَّجُلُ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی کپڑے سرخ زین پوش اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے اور رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ الْكُوفَةِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ح قَالَ عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ تَمَارَيْنَا فِي سُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ فَقُلْنَا خَمْسٌ وَثَلَاثُونَ آيَةً سِتٌّ وَثَلَاثُونَ آيَةً قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُنَاجِيهِ فَقُلْنَا إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي الْقِرَاءَةِ فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَقْرَءُوا كَمَا عُلِّمْتُمْ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں قرآن کریم کی کسی سورت میں شک ہوگیا، بعض اس کی آیات کی تعداد٣٥ بتاتے تھے اور بعض٣٦، جب یہ بحث بڑھی تو اس کا فیصلہ کروانے کے لئے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہاں پہنچے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرتا ہوا پایا، ہم نے اپنے آنے کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا ایک سورت کی قرات کے درمیان اختلاف ہوگیا ہے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہوگیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ جس طرح تمہیں سکھایا گیا ہے، قرآن کریم کی تلاوت اسی طرح کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرٍّ يَعْنِي ابْنَ حُبَيْشٍ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ابو جحیفہ جنہیں حضرت علی وہب الخیر کہا کرتے تھے سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیوں نہیں اور میں یہ سمجھتا تھا کہ خود ان سے افضل کوئی نہیں ہے، وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بِمَكَّةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا فَقُلْتُ أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ لَا خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
وہب سودائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دوران خطبہ یہ فرمایا اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ میں نے کہا امیرالمؤمنین! آپ ہی ہیں، انہوں نے فرمایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور اس میں کوئی تعجب نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر سکینہ بولتا تھا
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْغُدَانِيَّ الْأَشَلَّ عَنِ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ الَّذِي كَانَ عَلِيٌّ يُسَمِّيهِ وَهْبَ الْخَيْرِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ وَلَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْهُ قَالَ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبَعْدَهُمَا آخَرُ ثَالِثٌ وَلَمْ يُسَمِّهِ
ابوجحیفہ جنہیں حضرت علی وہب الخیر کہا کرتے تھے سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیوں نہیں اور میں یہ سمجھتا تھا کہ خود ان سے افضل کوئی نہیں ہے وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کا نام نہیں لیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَوْ شِئْتُ أَخْبَرْتُكُمْ بِالثَّالِثِ لَفَعَلْتُ
ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں ، اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور اگر میں چاہوں توتیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الزَّيَّاتُ حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ كَانَ أَبِي مِنْ شُرَطِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ فَحَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَالثَّانِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ يَجْعَلُ اللَّهُ تَعَالَى الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ
عون بن ابی جحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حفاظتی گارڈز میں سے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کے بعد فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں ، دوسرے نمبر پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور اللہ جہاں چاہتا ہے خیر رکھ دیتا ہے ۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَنْبَأَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهُ بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ذَاتَ يَوْمٍ وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى لَقَدْ اشْتَكَيْتُ صَدْرِي قَالَ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ أَبَاكِ بِسَبْيٍ فَاذْهَبِي فَاسْتَخْدِمِيهِ فَقَالَتْ وَأَنَا وَاللَّهِ قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكِ أَيْ بُنَيَّةُ قَالَتْ جِئْتُ لَأُسَلِّمَ عَلَيْكَ وَاسْتَحْيَا أَنْ تَسْأَلَهُ وَرَجَعَتْ فَقَالَ مَا فَعَلْتِ قَالَتْ اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَأَتَيْنَاهُ جَمِيعًا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي وَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ وَقَدْ جَاءَكَ اللَّهُ بِسَبْيٍ وَسَعَةٍ فَأَخْدِمْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكُمَا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَطْوَ بُطُونُهُمْ لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِمْ أَثْمَانَهُمْ فَرَجَعَا فَأَتَاهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَخَلَا فِي قَطِيفَتِهِمَا إِذَا غَطَّتْ رُءُوسَهُمَا تَكَشَّفَتْ أَقْدَامُهُمَا وَإِذَا غَطَّيَا أَقْدَامَهُمَا تَكَشَّفَتْ رُءُوسُهُمَا فَثَارَا فَقَالَ مَكَانَكُمَا ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي قَالَا بَلَى فَقَالَ كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ تُسَبِّحَانِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا وَإِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ فَقَالَ قَاتَلَكُمْ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ نَعَمْ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ان سے کیا تو ان کے ساتھ جہیز کے طور پر روئیں دار کپڑے، چمڑے کا تکیہ جس میں گھاس بھری ہوئی تھی، دو چکیاں ، مشکیزہ اور دو مٹکے بھی روانہ کئے، ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اللہ کی قسم! کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے تو سینے میں درد شروع ہوگیا ہے، آپ کے والد صاحب کے پاس کچھ قیدی آئے ہوئے ہیں، ان سے جا کر کسی خادم کی درخواست کیجئے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں بخدا! چکی چلا چلا کر میرے ہاتھوں میں بھی گٹے پڑ گئے ہیں ۔ چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے کی وجہ دریافت فرمائی، انہوں نے عرض کیا کہ سلام کرنے کے لئے حاضر ہوئی تھی، انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی درخواست پیش کرتے ہوئے شرم آئی اور وہ واپس لوٹ آئیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا ہوا؟ فرمایا مجھے تو ان سے کچھ مانگتے ہوئے شرم آئی اس لئے واپس لوٹ آئی۔ اس کے بعد ہم دونوں اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے سینے میں درد شروع ہوگیا ہے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ چکی چلا چلا کر میرے ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے ہیں، آپ کے پاس کچھ قیدی آئے ہوئے ہیں، ان میں سے کوئی ایک بطور خادم کے ہمیں بھی عنایت فرمادیں ۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! میں اہل صفہ کو چھوڑ کر جن کے پیٹ چپکے پڑے ہوئے ہیں اور ان پر خرچ کرنے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے، تمہیں کوئی خادم نہیں دے سکتا، بلکہ میں انہیں بیچ کر ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا، اس پر وہ دونوں واپس چلے آئے، رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے، انہوں نے جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ اتنی چھوٹی تھی کہ اگر سر ڈھکتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر دونوں اٹھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا اور فرمایا کہ ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر کہہ لیا کرو اور جب بستر پر آیا کرو تو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ،٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو ۔ (تمہاری ساری تھکاوٹ اور بیماری دور ہوجایا کرے گی) ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَلَدَ شَرَاحَةَ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ أَجْلِدُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَرْجُمُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شراحہ کو جمعرات کے دن کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اسے سنگسار کردیا اور فرمایا میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَا وَرَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسِبُ فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا وَقَالَ أَمَا إِنَّكُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَسَّحَ بِهَا ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ فَكَأَنَّهُ رَآنَا أَنْكَرْنَا ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنْ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور دودیگر آدی جن میں سے ایک میری قوم کا آدمی تھا اور دوسرا بنو اسد میں سے تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو اپنے سامنے بھیجا اور فرمایا کہ تم دونوں ابھی ناسمجھ ہو اس لئے دین کو سمجھنے کے لئے مشق کرو، پھر وہ بیت الخلاء تشریف لے گئے اور قضاء حاجت کر کے باہر نکلے تو ایک مٹھی بھرپانی لے کر اسے اپنے چہرے پر پھیر لیا اور قرآن پڑھنا شروع کردیا، جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں اس پر تعجب ہو رہا ہے تو فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی قضاء حاجت کر کے باہر نکلنے کے بعد قرآن کریم پڑھنا شروع کر دیتے تھے اور ہمارے ساتھ گوشت بھی کھا لیا کرتے تھے، آپ کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن کریم کی تلاوت سے نہیں روک سکتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَعْنِي وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ قُلْتَ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ قَالَ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوْ اللَّهُمَّ اشْفِهِ شَكَّ شُعْبَةُ قَالَ فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي ذَاكَ بَعْدُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے پاس سے گذر ہوا، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطاء فرما اور مجھے اپنے پاس بلا لے، اگر اس میں دیر ہو تو مجھے اٹھالے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبرعطاء فرما، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے اپنی بات پھر دہرا دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پاؤں سے ٹھوکر ماری یعنی غصہ کا اظہار کیا اور دعاء فرمائی کہ اے اللہ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَيْسَ الْوَتْرُ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ وَلَكِنْ سُنَّةٌ فَلَا تَدَعُوهُ قَالَ شُعْبَةُ وَوَجَدْتُهُ مَكْتُوبًا عِنْدِي وَقَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے اس لئے تم اسے ترک نہ کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ أَبَدًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے اپنی طرف سے قربانی کرنے کا حکم دیا، چنانچہ میں آخر دم تک ان کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ لِلْحُسْنِ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ النَّوْحِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے سودخور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ غَدَاةٍ فَإِذَا تَنَحْنَحَ دَخَلْتُ وَإِذَا سَكَتَ لَمْ أَدْخُلْ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيَّ فَقَالَ حَدَثَ الْبَارِحَةَ أَمْرٌ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً فِي الدَّارِ فَإِذَا أَنَا بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقُلْتُ مَا مَنَعَكَ مِنْ دُخُولِ الْبَيْتِ فَقَالَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ قَالَ فَدَخَلْتُ فَإِذَا جَرْوٌ لِلْحَسَنِ تَحْتَ كُرْسِيٍّ لَنَا قَالَ فَقَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا يَدْخُلُونَ الْبَيْتَ إِذَا كَانَ فِيهِ ثَلَاثٌ كَلْبٌ أَوْ صُورَةٌ أَوْ جُنُبٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، اگر میں نبی صلی اللہ کے گھر میں داخل ہونا چاہتا اور وہ نماز پڑھ رہے ہوتے تو کھانس دیا کرتے تھے اور جب وہ خاموش رہتے تو میں گھر میں داخل نہ ہوتا، ایک مرتبہ میں رات کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکل کر فرمایا کہ آج رات عجیب واقعہ ہوا ہے مجھے کسی کی آہٹ گھر میں محسوس ہوئی، میں گھبرا کر باہر نکلا تو سامنے حضرت جبرئیل علیہ السلام کھڑے تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ گھر کے اندر کیوں نہیں آ رہے؟ وہ کہنے لگے آپ کے کمرے میں کہیں سے کتا آگیا ہے اس لئے میں اندر نہیں آسکتا اور واقعی حسن کی کرسی کے نیچے کتے کا ایک پلہ موجود تھا اور فرمایا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی کتا، کوئی جنبی یا کوئی تصویر ہو۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا رِزَامُ بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا حَذَفْتَ فَاغْتَسِلْ مِنْ الْجَنَابَةِ وَإِذَا لَمْ تَكُنْ حَاذِفًا فَلَا تَغْتَسِلْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے کثرت سے خروج مذی کا عارضہ لاحق رہتا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرخروج منی ہو جائے تو غسل کیا کرو جس طرح جنابت کی صورت میں کیا جاتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو غسل کرنے کی ضرورت نہیں ۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْخَوَارِجِ فَقَتَلَهُمْ ثُمَّ قَالَ انْظُرُوا فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ سَيَخْرُجُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِالْحَقِّ لَا يُجَاوِزُ حَلْقَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنْ الْحَقِّ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ سِيمَاهُمْ أَنَّ مِنْهُمْ رَجُلًا أَسْوَدَ مُخْدَجَ الْيَدِ فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ إِنْ كَانَ هُوَ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ فَبَكَيْنَا ثُمَّ قَالَ اطْلُبُوا فَطَلَبْنَا فَوَجَدْنَا الْمُخْدَجَ فَخَرَرْنَا سُجُودًا وَخَرَّ عَلِيٌّ مَعَنَا سَاجِدًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ
طارق بن زیادہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج سے جنگ کے لئے نکلے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا اور فرمایا دیکھو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو بات تو صحیح کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گی، وہ لوگ حق سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، ان کی علامت یہ ہوگی کہ ان میں ایک شخص کا ہاتھ ناتمام ہوگا، اس کے ہاتھ (ہتھیلی) میں کالے بال ہوں گے، اب اگر ایسا ہی ہے تو تم نے ایک بدترین آدمی کے وجود سے دنیا کو پاک کردیا اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم نے ایک بہترین آدمی کو قتل کردیا، یہ سن کر ہم رونے لگے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے تلاش کرو، چنانچہ ہم نے اسے تلاش کیا تو ہمیں ناقص ہاتھ والا ایک آدمی مل گیا، جسے دیکھ کر ہم سجدے میں گر پڑے، حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ ہی سربسجود ہوگئے، البتہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ان کی بات صحیح تھی۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ يَقُولُ شُكْرَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ تَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا بِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ قَالَ مُؤَمَّلٌ قُلْتُ لِسُفْيَانَ إِنَّ إِسْرَائِيلَ رَفَعَهُ قَالَ صِبْيَانٌ صِبْيَانٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ تم نے اپناحصہ یہ بنا رکھا ہے کہ تم تکذیب کرتے رہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ کہتے ہو فلاں فلاں ستارے کے طلوع و غروب سے بارش ہوئی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ وَلَا مُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ أَذَكَرَ عَضْبَاءَ قَالَ لَا قُلْتُ مَا الْمُقَابَلَةُ قَالَ يُقْطَعُ طَرَفُ الْأُذُنِ قُلْتُ مَا الْمُدَابَرَةُ قَالَ يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ قُلْتُ مَا الشَّرْقَاءُ قَالَ تُشَقُّ الْأُذُنُ قُلْتُ مَا الْخَرْقَاءُ قَالَ تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ اچھی طرح دیکھ لیں، کانے جانور کی قربانی نہ کریں، مقابلہ، مدابرہ، شرقاء یا خرقاء کی قربانی نہ کریں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق سے پوچھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عضباء کا ذکر بھی کیا تھا یا نہیں؟ انہوں نے کہا نہیں! پھر میں نے پوچھا کہ مقابلہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا وہ جانور جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، میں نے پوچھا کہ مدابرہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا وہ جانور جس کا کان پیچھے کٹا ہوا ہو، میں نے شرقاء کا معنی پوچھا تو فرمایا جس کا کان چیرا ہوا ہو، میں نے خرقاء کا معنی پوچھا تو انہوں بتایا وہ جانور جس کا کان پھٹ گیا ہو۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْهُمْ لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ قَالَ مُعَاوِيَةُ إِذْخِرٌ قَالَ أَبِي وَالْخَمِيلَةُ الْقَطِيفَةُ الْمُخَمَّلَةُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دار کپڑے، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سینے سے لے کر سر تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہیں اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نچلے حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْنَا لِعَلِيٍّ أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ يَعْنِي الْمَنَارَ
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَإِذَا أَمْذَيْتُ اغْتَسَلْتُ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ فِيهِ الْوُضُوءُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے جسم سے مذی کا اخراج بکثرت ہوتا تھا ، جب ایسا ہوتا تو میں غسل کر لیتا، پھر میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حل پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا اس میں صرف وضو ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعْفَرٌ وَزَيْدٌ قَالَ فَقَالَ لِزَيْدٍ أَنْتَ مَوْلَايَ فَحَجَلَ قَالَ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ أَنْتَ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي قَالَ فَحَجَلَ وَرَاءَ زَيْدٍ قَالَ وَقَالَ لِي أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ قَالَ فَحَجَلْتُ وَرَاءَ جَعْفَرٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں ، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں اور زید! آپ ہمارے مولی (آزاد کردہ غلام) ہیں ، اس ترتیب میں نبی صلی اللہ علیہ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور میرا ذکر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے بعد فرمایا ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ قَالَ قِيلَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَكَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنَّهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا
ابوالطفیل عامربن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ يَعْنِي الْفَرَّاءَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يُؤَمَّرُ بَعْدَكَ قَالَ إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَا أُرَاكُمْ فَاعِلِينَ تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمْ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کے بعد ہم کسے امیر مقرر کریں؟ فرمایا اگر ابوبکر کو امیر بناؤ گے تو انہیں امین پاؤ گے، دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا مشتاق پاؤ گے، اگر عمر کو امیر بناؤ گے تو انہیں طاقتور اور امین پاؤ گے، وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے، لیکن میرا خیال ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے، تو انہیں ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ پاؤ گے، جو تمہیں صراط مستقیم پر لے کر چلیں گے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ عَنَزَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْوَتْرِ ثَبَتَ وِتْرُهُ هَذِهِ السَّاعَةَ يَا ابْنَ النَّبَّاحِ أَذِّنْ أَوْ ثَوِّبْ
بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے، (لوگوں نے ان سے وتر کے متعلق سوالات پوچھے) انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس وقت وتر ادا کر لیا کریں، ابن نباح! اٹھ کر اذان دو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ عَنَزَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ خَرَجَ عَلِيٌّ حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِوِتْرٍ فَثَبَتَ لَهُ هَذِهِ السَّاعَةَ ثُمَّ قَالَ أَقِمْ يَا ابْنَ النَّوَّاحَةِ
بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے، اس وقت مؤذن نماز فجر کے لئے لوگوں کو مطع کر رہا تھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس وقت وتر ادا کر لیا کریں، ابن نواحہ! اٹھ کر اقامت کہو۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ الْعَنَزَيَّ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُسَجًّى فِي ثَوْبِهِ
گذشتہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں گذری۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُتَخَتَّمَ فِي ذِهِ أَوْ ذِهْ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ و قَالَ جَابِرٌ يَعْنِي الْجُعَفِيَّ هِيَ الْوُسْطَى لَا شَكَّ فِيهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی شہادت والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُخَافِتُ بِصَوْتِهِ إِذَا قَرَأَ وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجْهَرُ بِقِرَاءَتِهِ وَكَانَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا قَرَأَ يَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ فَذُكِرَ ذَاكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِمَ تُخَافِتُ قَالَ إِنِّي لَأُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِي وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِمَ تَجْهَرُ بِقِرَاءَتِكَ قَالَ أُفْزِعُ الشَّيْطَانَ وَأُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَقَالَ لِعَمَّارٍ وَلِمَ تَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ قَالَ أَتَسْمَعُنِي أَخْلِطُ بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ قَالَ لَا قَالَ فَكُلُّهُ طَيِّبٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے تو آواز کو پست رکھتے، جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بلند آواز سے قرآن کریم پڑھتے تھے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ کبھی کسی سورت سے تلاوت فرماتے اور کبھی کسی سورت سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی آواز کو پست کیوں رکھتے ہیں؟ عرض کیا کہ میں جس سے مناجات کرتا ہوں اسی کو سناتا ہوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بلند آواز کے ساتھ تلاوت کرنے کی وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ میں شیطان کو بھگاتا ہوں اور سونے والوں کو جگاتا ہوں، حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کبھی کسی سورت سے اور کبھی دوسری سورت سے تلاوت کیوں کرتے ہیں ؟ عرض کیا کہ کیا آپ نے مجھے کسی سورت میں دوسری سورت کو خلط ملط کرتے ہوئے سنا ہے؟ فرمایا نہیں، سب ہی اپنی جگہ ٹھیک ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ الْمَدَنِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْ الصُّفُوفِ فَقَالَ هُوَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَاهُ بِصَحِيفَتِهِ بَعْدَ صَحِيفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمُسَجَّى عَلَيْهِ ثَوْبُهُ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جنازہ منبر اور روضہ مبارکہ کے درمیان لا کر رکھ دیا گیا اس اثناء میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور صفوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے یہ وہی ہیں (یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ کہا) پھر فرمایا اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو آپ پر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ اعمال کے بعد اس کپڑا اوڑھے ہوئے شخص کے علاوہ اللہ کی پوری مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے محبوب ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ قَدْ قَضَى نَحْبَهُ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا حَفْصٍ فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِصَحِيفَتِهِ مِنْكَ
ابو جحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جنازے کے قریب ہی تھا، ان کا چہرہ کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، اسی اثناء میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر فرمایا اے ابو حفص! اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو آپ پر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ اعمال کے بعد آپ کے علاوہ اللہ کی پوری مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے محبوب ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ التَّيْمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي رُكَيْنٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذُكِرَ لَهُ قَالَ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ
حضر علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا، میں سردی میں بھی اس کی وجہ سے اتنا غسل کرتا تھا کہ میری کمر چھل گئی تھی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا ایسا نہ کرو، جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کر لیا کرو اور اگر منی خارج ہو تو غسل کر لیا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ فِي الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکا حکم پوچھا تو فرمایا مذی میں صرف وضو واجب ہے اور خروج منی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالَ فِيهِ الْوُضُوءُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کامرض لاحق تھا، میں نے ایک آدمی سے کہا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکا حکم پوچھا تو فرمایا مذی میں صرف وضو واجب ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ عُمَرُ
ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (دوران خطبہ یہ) فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ السِّمْطِ عَنْ أَبِي الْغَرِيفِ قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ شَيْئًا مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ هَذَا لِمَنْ لَيْسَ بِجُنُبٍ فَأَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آيَةَ
ابوالغریف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، انہوں نے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، ہاتھوں اور کہنیوں کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور پاؤں کو دھو کر فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر قرآن کریم کے کچھ حصے کی تلاوت کی اور فرمایا یہ اس شخص کے لئے ہے جو جنبی نہ ہو، جنبی کے لئے یہ حکم نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایک آیت کی تلاوت کر سکتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عُتْبَةَ الْكِنَانِيُّ عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ مَسَحَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأْسَهُ فِي الْوُضُوءِ حَتَّى أَرَادَ أَنْ يَقْطُرَ وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دوران وضو سر کا مسح کیا اور اتنا پانی ڈالا کہ قریب تھا کہ اس کے قطرے ٹپکنا شروع ہو جاتے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ عِمْرَانَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقٍ يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ صَحِيفَةٌ كَانَتْ فِي قِرَابِ سَيْفٍ كَانَ عَلَيْهِ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ
طارق بن شہاب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بخدا! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے، میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا تھا ، اس میں زکوۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے، مذکورہ صحیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ السُّوَائِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ مِنْ السُّنَّةِ فِي الصَّلَاةِ وَضْعُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ تَحْتَ السُّرَّةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت یہی ہے کہ ہتھیلیوں کو ہتھیلیوں پر اور ناف کے نیچے رکھا جائے۔
-
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ عَلَّمَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَبَّ الْغُلَامُ عَلَى يَدَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ أَدَخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَغَمَرَ أَسْفَلَهَا بِيَدِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِهَا الْأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ بِكَفَّيْهِ رَأْسَهُ مَرَّةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ اغْتَرَفَ هُنَيَّةً مِنْ مَاءٍ بِكَفِّهِ فَشَرِبَهُ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو سکھایا، چنانچہ سب سے پہلے ایک لڑکے نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو صاف کیا، پھر انہیں برتن میں ڈالا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور اپنے ہاتھ کو اس کے نیچے ڈبو دیا، پھر اسے باہر نکال کر دوسرے ہاتھ پر مل لیا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر ہتھیلی سے چلو بنا کر تھوڑا سا پانی لیا اور اسے پی گئے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اہل قرآن وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ أَنْبَأَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ بَيَانٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ رَجُلٌ آخَرُ
ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر ایک اور آدمی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ و عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ و عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُ الثَّالِثَ
ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَلَوْ شِئْتُ لَحَدَّثْتُكُمْ بِالثَّالِثِ
ابو جحیفہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَهُ أَنْ يُسَوِّيَ الْقُبُورَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ منورہ بھیجا اور انہیں یہ حکم دیا کہ تمام قبروں کو برابر کر دیں ۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ أَسَنَّ مِنِّي وَأَنَا حَدِيثٌ لَا أُبْصِرُ الْقَضَاءَ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَهُ وَاهْدِ قَلْبَهُ يَا عَلِيُّ إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ بَيْنَهُمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنْ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنْ الْأَوَّلِ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ تَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ قَالَ فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ أَوْ مَا أَشْكَلَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جو مجھ سے بڑی عمر کی ہے اور میں نوعمر ہوں، صحیح طرح فیصلہ نہیں کر سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ اس کی زبان کو ثابت قدم رکھ اور اس کے دل کو ہدایت بخش، اے علی! جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا، اس طرح تمہارے لیے فیصلہ کرنا آسان ہوجائے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے کبھی کسی فیصلے میں اشکال پیش نہیں آیا۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْمِنْهَالِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ قَالَ جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَاجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا قَالَ فَقَالَ لَهُمْ مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ يُسَمِّهِ شَرِيكٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ كُنْتَ بَحْرًا مَنْ يَقُومُ بِهَذَا قَالَ ثُمَّ قَالَ الْآخَرُ قَالَ فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت ذیل کا نزول ہوا۔ وانذرعشیرتک الاقربین۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا، تیس آدمی اکٹھے ہوئے اور سب نے کھایاپیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میرے قرضوں اور وعدوں کی تکمیل کی ضمانت کون دیتا ہے کہ وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا، اور میرے اہل خانہ میں میرا نائب ہوگا؟ کسی شخص نے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ توسمندر تھے، آپ کی جگہ کون کھڑا ہوسکتا تھا ، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے سے بھی یہی کہا، بالآخر اپنے اہل بیت کے سامنے یہ دعوت پیش کی، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کام میں کروں گا۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ
حضرت علی رضی اللہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان فجر کے قریب وتر ادا فرماتے تھے اور اقامت کے قریب فجر کی سنتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّهَارِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پورے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی سولہ رکعتیں ہوتی تھیں ۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْكَبُ حِمَارًا اسْمُهُ عُفَيْرٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سواری فرماتے تھے اس کا نام عفیر تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنِي الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ السَّهَ وِكَاءُ الْعَيْنِ فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آنکھ شرمگاہ کا بندھن ہے (یعنی انسان جب تک جاگ رہا ہوتا ہے اسے اپنا وضو ٹوٹنے کی خبر ہوجاتی ہے اور سوتے ہوئے کچھ پتہ نہیں چلتا) اس لئے جو شخص سو جائے اسے چاہئے کہ بیدار ہونے کے بعد وضو کرلیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرُ حَدَّثَنِي ابْنُ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ الْجَنْبِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَتَلْتُ مَرْحَبًا جِئْتُ بِرَأْسِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے موقع پر جب میں نے مرحب کو قتل کرلیا تو اس کا سر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لاکر پیش کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِيهِ لَأَبْعَثَنَّكَ فِيمَا بَعَثَنِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ أَطْمِسَ كُلَّ صَنَمٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق حیان کو مخاطب کر کے فرمایا میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ الْوُضُوءُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کامرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکا حکم پوچھا تو فرمایا مذی میں صرف وضو واجب ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ الْوُضُوءُ وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکا حکم پوچھا تو فرمایا منی میں تو غسل واجب ہے اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ جَدَّةٍ لَهُ وَكَانَتْ سُرِّيَّةً لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ رَجُلًا نَئُومًا وَكُنْتُ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَيَّ ثِيَابِي نِمْتُ ثُمَّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فَأَنَامُ قَبْلَ الْعِشَاءِ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَرَخَّصَ لِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بہت نیند آتی تھی، حتی کہ جب میں مغرب کی نماز پڑھ لیتا اور کپڑے مجھ پر ہوتے تو میں وہیں سوجاتا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عشاء سے پہلے سونے کی اجازت دے دی (اس شرط کے ساتھ کہ نماز عشاء کے لئے آپ بیدار ہو جاتے تھے)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ الْقَسْمَلِيَّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ فِي الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکا حکم پوچھا تو فرمایا منی میں تو غسل واجب ہے اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْبَاهِلِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہدی کا جانور بھیجا اور حکم دیا کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کردیں اور گوشت بھی تقسیم کردیں ۔
-
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ ذَكَرَ خَلَفُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَبَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور تیسرے نمبر پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اللہ جسے چاہے گا اسے معاف فرما دے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي شُرَيْحٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ قَالَ ذُكِرَ أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْعِرَاقِ فَقَالُوا الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا يُسْقَى بِهِمْ الْغَيْثُ وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمْ الْعَذَابُ
ابن عبید کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جس وقت عراق میں تھے، ان کے سامنے اہل شام کا تذکرہ ہوا، لوگوں نے کہا امیرالمومنین! ان کے لئے لعنت کی بد دعاء کیجئے، فرمایا نہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابدال شام میں ہوتے ہیں، یہ کل چالیس آدمی ہوتے ہیں ، جب بھی ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ بدل کر کسی دوسرے کو مقرر فرما دیتے ہیں (اور اسی وجہ سے انہیں ابدال کہا جاتاہے) ان کی دعاء کی برکت سے بارش برستی ہے، ان ہی کی برکت سے دشمنوں پر فتح نصیب ہوتی ہے اور اہل شام سے ان ہی کی برکت سے عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبُدْنِ قَالَ لَا تُعْطِ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قربانی کے جانوروں کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں ۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ أُكْثِرُ أَنْ أَسْمَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَإِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَهُمَا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جسد خاکی کو چار پائی پر لا کر رکھا گیا تو لوگوں نے چاروں طرف سے انہیں گھیر لیا، ان کے لئے دعائیں کرنے لگے اور جنازہ اٹھائے جانے سے قبل ہی ان کی نماز جنازہ پڑھنے لگے، میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا، اچانک ایک آدمی نے پیچھے سے آکر میرے کندھے پکڑ کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا، میں نے دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لئے دعاء رحمت کی اور انہیں مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ نے اپنے پیچھے کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جس کے نامہ اعمال کے ساتھ مجھے اللہ سے ملنا زیادہ پسند ہو، بخدا! مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا، کیونکہ میں کثرت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنتا تھا کہ میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں ابوبکر اور عمر داخل ہوئے ہیں، میں ابوبکر اور عمر نکلے، اس لئے مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان دونوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكُنْتُ إِذَا وَجَدْتُهُ يُصَلِّي سَبَّحَ فَدَخَلْتُ وَإِذَا لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي أَذِنَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا ، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے (اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ابْنَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَالَ أَلَا تُصَلِّيَانِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ يَقُولُ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ هُوَ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ہمارے یہاں تشریف لائے، اور کہنے لگے کہ تم لوگ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ أَبِي سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي خَلِيفَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ نرم ہے، نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطاء فرما دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَكْذَبُ الْكَاذِبِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف نسبت کر کے کوئی ایسی حدیث بیان کرے جسے وہ جھوٹ سمجھتا ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
-
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ قَالَ ثُمَّ قَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَقَالَ لَا وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت ذیل کا نزول ہوا "و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا" تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تین مرتبہ سوال اور خاموشی کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا اور اسی مناسب سے یہ آیت نازل ہوئی کہ اے اہل ایمان! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال مت کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو وہ تمہیں ناگوار گذریں ۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْمَسْحِ فَقَالَتْ ائْتِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي قَالَ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ رَفَعَهُ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا، چنانچہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن رات موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے جو مسافر کے لئے تین دن اور تین رات ہے ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کا نام بتاؤں؟ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ أَخُو سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا قَالَ فَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالثَّانِي قَالَ فَذَكَرَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لَوْ شِئْتُ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِالثَّالِثِ قَالَ وَسَكَتَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَعْنِي نَفْسَهُ فَقُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ يَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ وَإِلَّا صُمَّتَا
عبدخیر ہمدانی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر فرمایا کہ اگر میں چاہوں تو تمہیں تیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں، تاہم وہ خاموش رہے، ہم یہی سمجھتے ہیں کہ وہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی تھی، میں نے راوی سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے؟ انہوں نے کہا رب کعبہ کی قسم ہاں! (اگر میں جھوٹ بولوں ) تو یہ کان بہرے ہوجائیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَقَالَ هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو سکھایا چنانچہ سب سے پہلے انہوں نے تین مرتبہ اپنی ہتھیلیوں کو دھویا، تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا قَالَ ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ و قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً يَعْنِي بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان ادا فرمائی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنْ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ وَالْحَرْبُ خَدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا جب میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گر جانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور جب کسی اور کے حوالے سے کوئی بات کروں تو میں جنگجو آدمی ہوں اور جنگ تو نام ہی تدابیر اور چال کا ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے قریب ایسی اقوام نکلیں گی جن کی عمر تھوڑی ہونگی اور عقل کے اعتبار سے وہ بیوقوف ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کریں گے، لیکن ایمان ان کے گلے سے آگے نہیں جائے گا، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو، کیونکہ ان کا قتل کرنا قیامت کے دن باعث ثواب ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ مِائَتَيْنِ زَكَاةٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ چھوڑ دی ہے (اس لئے چاندی کی زکوۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی) اور دو سو درہم سے کم میں زکوۃ نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ عِنْدَكَ شَيْءٌ قُلْتُ بِنْتُ حَمْزَةَ قَالَ هِيَ بِنْتُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی! فرمایا کہ وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے) دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امیرحمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ أَفَضْتُ مَعَ أَبِي مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ أَفَضْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
عکرمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے انہیں مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا تا آنکہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، میں نے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تھا تو میں نے انہیں بھی جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا، میں نے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مَيْسَرَةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْرَبُ قَائِمًا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ تَشْرَبُ قَائِمًا فَقَالَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا
میسرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کھڑے ہو کر پانی پی رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے اور اگر بیٹھ کرپیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ مسح علی الخفین کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے، حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں نے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي السَّوْدَاءِ عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَهْرَ قَدَمَيْهِ وَقَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ بِالْغَسْلِ
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے کو دھویا اور فرمایا اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتا ہے) ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (ہمیں نبی صلی اللہ علیہ کا طریقہ وضو سکھایا اور) فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، اس وضو میں انہوں نے ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھویا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ عَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ مَسْعُودٍ فَصَعِدَ عَلَى شَجَرَةٍ أَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْهَا بِشَيْءٍ فَنَظَرَ أَصْحَابُهُ إِلَى سَاقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حِينَ صَعِدَ الشَّجَرَةَ فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَضْحَكُونَ لَرِجْلُ عَبْدِ اللَّهِ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أُحُدٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ درخت پر چڑھ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ لانے کا حکم دیا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو درخت پر چڑھتے ہوئے دیکھا تو ان کی پنڈلی پر بھی نظر پڑی، وہ ان کی پتلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر ہنس پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں ہنس رہے ہو؟ یقینا عبداللہ کا ایک پاؤں قیامت کے دن میزان عمل میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجَمَلِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي الْإِمَارَةِ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن فرمایا کہ امارت کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی وصیت نہیں فرمائی تھی جس پر ہم عمل کرتے، بلکہ یہ تو ایک چیز تھی جو ہم نے خود سے منتخب کر لی تھی، پہلے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، ان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، وہ قائم رہے اور قائم کر گئے، پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، ان پر بھی اللہ کی رحمتیں نازل ہوں ، وہ قائم رہے اور قائم کر گئے یہاں تک کہ دین نے اپنی گردن زمین پر ڈال دی (یعنی جم گیا اور مضبوط گیا)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَخَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ ثُمَّ يَجْعَلُ اللَّهُ الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب بہترین شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں اس کے بعد اللہ جہاں چاہتا ہے اپنی محبت پیدا فرما دیتا ہے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَكَمِ عَمَّنْ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولَانِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِوَارِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حق جوار پر فیصلہ فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشی لباس یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پہننے اور رکوع یا سجدہ کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ كَانَتْ لِي مِائَةُ أُوقِيَّةٍ فَأَنْفَقْتُ مِنْهَا عَشْرَةَ أَوَاقٍ وَقَالَ الْآخَرُ كَانَتْ لِي مِائَةُ دِينَارٍ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ وَقَالَ الْآخَرُ كَانَتْ لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِدِينَارٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی بارگارہ رسالت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا میرے پاس سو اوقیےتھے جن میں سے دس اوقیے میں نے راہ خدا میں خرچ کر دیئے، دوسرے نے کہا میرے پاس سو دینار تھے جن میں سے دس دینار میں نے راہ خدا میں خرچ کر دیا اور تیسرے نے کہا کہ میرے پاس دس دینار تھے، جن میں سے ایک دینار میں نے راہ خدا میں خرچ کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سب اجروثواب میں برابر ہو، کیونکہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ خرچ کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَالَ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَإِنَّا قَدْ أَحْدَثْنَا بَعْدَهُمْ أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ تَعَالَى فِيهَا مَا شَاءَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، ان کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جن میں اللہ جو چاہے گا فیصلہ فرما دے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لَيْسَ الْوَتْرُ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الْمَكْتُوبَةِ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ وتر کی نماز اذان فجر کے قریب پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَهُ مَرَّةً قَالَ عَبْدُ الرَّازِقِ وَأَكْثَرُ ذَاكَ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ عَلِيًّا حِينَ رَكِبَ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ثُمَّ حَمِدَ ثَلَاثًا وَكَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ثُمَّ ضَحِكَ قَالَ فَقِيلَ مَا يُضْحِكُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ وَقَالَ مِثْلَ مَا قُلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْنَا مَا يُضْحِكُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ الْعَبْدُ أَوْ قَالَ عَجِبْتُ لِلْعَبْدِ إِذَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا هُوَ
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے پاس سواری کے لئے ایک جانور لایا گیا ، جب انہوں نے اپنا پاؤں اس کی رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر بیٹھ گئے تو یہ دعاء پڑھی کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارا تابع فرمان بنادیا، ہم تو اسے اپنے تابع نہیں کر سکتے تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، پھر تین مرتبہ الحمدللہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا اے اللہ! آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس مجھے معاف فرما دیجئے ، پھر مسکرا دئیے ۔ میں نے پوچھا کہ امیرالمومنین! اس موقع پر مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا جیسے میں نے کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکرائے تھے اور میں نے بھی ان سے اس کی وجہ پوچھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب بندہ یہ کہتا ہے کہ پروردگار! مجھے معاف فرمادے تو پروردگار کو خوشی ہوتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ اس کے گناہ کوئی معاف نہیں کر سکتا۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ وَهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ ابْنَةَ حَمْزَةَ تَبِعَتْهُمْ تُنَادِي يَا عَمُّ يَا عَمُّ فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا وَقَالَ لِفَاطِمَةَ دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ فَحَوِّلِيهَا فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي وَقَالَ جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي وَقَالَ زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا وَقَالَ الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَقَالَ لِزَيْدٍ أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے لگے تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا جان! چچاجان! پکارتی ہوئی ہمارے پیچھے لگ گئی، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کردیا اور ان سے کہا کہ اپنی چچا زاد بہن کو سنبھالو، (جب ہم مدینہ منورہ پہنچے) تو اس بچی کی پرورش کے سلسلے میں میرا، حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا جھگڑا ہوگیا ۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ یعنی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں ہیں، لہٰذا اس کی پرورش میرا حق ہے، حضرت زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ میری بھتیجی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں اور زید! آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہیں، بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی کیونکہ خالہ بھی ماں کے مرتبہ میں ہوتی ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اس سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ فرمایا اس لئے کہ یہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدسب سے بہترین شخص کون ہے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الصُّبَيُّ بْنُ الْأَشْعَثِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَالثَّانِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَلَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُ الثَّالِثَ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فَتَهَجَّاهَا عَبْدُ خَيْرٍ لِكَيْ لَا تَمْتَرُونَ فِيمَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور اگر میں چاہوں تو تیسرے کا نام بھی بتا سکتا ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الصَّعْبَةِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ هَمْدَانَ يُقَالُ لَهُ أَبُو أَفْلَحَ عَنْ ابْنِ زُرَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا اور بائیں ہاتھ میں ریشم پکڑا اور فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْحَرَّةِ بِالسُّقْيَا الَّتِي كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُونِي بِوَضُوءٍ فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ دَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ مِثْلَيْ مَا بَارَكْتَ لِأَهْلِ مَكَّةَ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے، جب ہم حرہ میں اس سیراب کی ہوئی زمین پر پہنچے جو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی ملکیت میں تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے وضو کا پانی لاؤ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر چکے تو قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوگئے اور اللہ اکبر کہہ کر فرمایا اے اللہ! ابراہیم جو آپ کے بندے اور آپ کے خلیل تھے، انہوں نے اہل مکہ کے لئے برکت کی دعاء کی تھی اور میں محمد آپ کا بندہ اور آپ کا رسول ہوں، میں آپ سے اہل مدینہ کے حق میں دعا مانگتا ہوں کہ اہل مدینہ کے مد اور صاع میں اہل مکہ کی نسبت دوگنی برکت عطاء فرما۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ الْمُزَنِيُّ حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ قَالَ وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَنْسَوْا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ وَيَنْهَدُ الْأَشْرَارُ وَيُسْتَذَلُّ الْأَخْيَارُ وَيُبَايِعُ الْمُضْطَرُّونَ قَالَ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّينَ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا لوگوں پر ایک کاٹ کھانے والا زمانہ آنے والا ہے، حتی کہ جسے مالی کشادگی دی گئی ہے وہ بھی اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھائے گا، حالانکہ اسے یہ حکم نہیں دیا گیا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اپنے درمیان حاجت مندوں کو بھول نہ جانا۔ اس زمانے میں شریروں کا مرتبہ بلند ہوجائے گا، نیک اور بہترین لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا اور مجبوروں کو اپنی پونجی فروخت کرنے پر مجبور کیا جائے گا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، نیز اس بیع سے بھی منع فرمایا ہے جس میں کسی نوعیت کا بھی دھوکہ ہو اور پکنے سے قبل یا قبضہ سے قبل پھلوں کی بیع سے بھی منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ وَخَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے بہترین عورت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں اور بہترین عورت حضرت مریم بنت عمران علیہا السلام ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْحَمْرَاءِ وَعَنْ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی کپڑے پہننے، رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ الصَّغِيرِ حَتَّى يَبْلُغَ وَعَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الْمُصَابِ حَتَّى يُكْشَفَ عَنْهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں ۔ (١) بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے۔ (٢) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہو جائے۔ (٣) مصیبت زدہ شخص، جب تک اس کی پریشانی دور نہ ہو جائے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ بِزَانٍ مُحْصَنٍ فَجَلَدَهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةَ جَلْدَةٍ ثُمَّ رَجَمَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقِيلَ لَهُ جَمَعْتَ عَلَيْهِ حَدَّيْنِ فَقَالَ جَلَدْتُهُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهُ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شادی شدہ بدکار کو لایا گیا، انہوں نے جمعرات کے دن اسے سو کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اسے سنگسار کر دیا کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اس پر دو سزائیں جمع کیوں کیں ؟ انہوں نے فرمایا میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ وَأَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ عَنْ هُشَيْمٍ أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ بِمَوْلَاةٍ لِسَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ مُحْصَنَةٍ قَدْ فَجَرَتْ قَالَ فَضَرَبَهَا مِائَةً ثُمَّ رَجَمَهَا ثُمَّ قَالَ جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس سعید بن قیس کی ایک شادی شدہ باندی کو لایا گیا جس نے بدکاری کی تھی، انہوں نے اسے سو کوڑے مارے اور پھر اسے سنگسار کر دیا اور فرمایا میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ شَرِيكٍ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا بِمَاءٍ لِيَتَوَضَّأَ فَتَمَسَّحَ بِهِ تَمَسُّحًا وَمَسَحَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ رَأَيْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَشْرَبَ قَائِمًا
عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرنے کے لئے پانی منگوایا، پانی سے ہاتھ تر کیے اور اپنے پاؤں کے اوپر والے حصے پر انہیں پھیر لیا اور فرمایا کہ یہ اس شخص کا وضو ہے جو بے وضو نہ ہو، پھر فرمایا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح علی الخفین میں پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں یہی رائے دیتا کہ پاؤں کا نچلاحصہ مسح کا زیادہ مستحق ہے، پھر آپ نے وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیا اور فرمایا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ کسی صورت میں بی کھڑے ہو کر پانی پیناجائز نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ عَظِيمَ الْهَامَةِ أَبْيَضَ مُشْرَبًا بِحُمْرَةٍ عَظِيمَ اللِّحْيَةِ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ كَثِيرَ شَعَرِ الرَّأْسِ رَاجِلَهُ يَتَكَفَّأُ فِي مِشْيَتِهِ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ فِي صَبَبٍ لَا طَوِيلٌ وَلَا قَصِيرٌ لَمْ أَرَ مِثْلَهُ لَا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ فِي حَدِيثِهِ وَوَصَفَ لَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ ضَخْمَ الْهَامَةِ حَسَنَ الشَّعَرِ رَجِلَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بڑا رنگ سرخی مائل سفید اور داڑھی گھنی تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، سر کے بال گھنے اور ہلکے گھنگھریالے تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے قد کے، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ سُعَيْدٍ أَوْ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ عَظِيمَ الرَّأْسِ رَجِلَهُ عَظِيمَ اللِّحْيَةِ مُشْرَبًا حُمْرَةً طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ عَظِيمَ الْكَرَادِيسِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَهْبِطُ فِي صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا، بال ہلکے گھنگریالے اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم،
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْمَكِّيِّ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ مُشْرَبًا لَوْنُهُ حُمْرَةً حَسَنَ الشَّعَرِ رَجِلَهُ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ ضَخْمَ الْهَامَةِ طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ مِثْلَهُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا، بال ہلکے گھنگریالے اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِهَا فَاجْتَوَيْنَاهَا وَأَصَابَنَا بِهَا وَعْكٌ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَقْبَلُوا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ وَبَدْرٌ بِئْرٌ فَسَبَقَنَا الْمُشْرِكُونَ إِلَيْهَا فَوَجَدْنَا فِيهَا رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ وَمَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَأَمَّا الْقُرَشِيُّ فَانْفَلَتَ وَأَمَّا مَوْلَى عُقْبَةَ فَأَخَذْنَاهُ فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَهُ كَمْ الْقَوْمُ فَيَقُولُ هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ إِذْ قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ حَتَّى انْتَهَوْا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ كَمْ الْقَوْمُ قَالَ هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ فَجَهَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْبِرَهُ كَمْ هُمْ فَأَبَى ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ كَمْ يَنْحَرُونَ مِنْ الْجُزُرِ فَقَالَ عَشْرًا كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَوْمُ أَلْفٌ كُلُّ جَزُورٍ لِمِائَةٍ وَتَبِعَهَا ثُمَّ إِنَّهُ أَصَابَنَا مِنْ اللَّيْلِ طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَهَا مِنْ الْمَطَرِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ قَالَ فَلَمَّا أَنْ طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَى الصَّلَاةَ عِبَادَ اللَّهِ فَجَاءَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَرَّضَ عَلَى الْقِتَالِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ جَمْعَ قُرَيْشٍ تَحْتَ هَذِهِ الضِّلَعِ الْحَمْرَاءِ مِنْ الْجَبَلِ فَلَمَّا دَنَا الْقَوْمُ مِنَّا وَصَافَفْنَاهُمْ إِذَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ يَسِيرُ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ نَادِ لِي حَمْزَةَ وَكَانَ أَقْرَبَهُمْ مِنْ الْمُشْرِكِينَ مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ وَمَاذَا يَقُولُ لَهُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ يَأْمُرُ بِخَيْرٍ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ فَجَاءَ حَمْزَةُ فَقَالَ هُوَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ يَنْهَى عَنْ الْقِتَالِ وَيَقُولُ لَهُمْ يَا قَوْمُ إِنِّي أَرَى قَوْمًا مُسْتَمِيتِينَ لَا تَصِلُونَ إِلَيْهِمْ وَفِيكُمْ خَيْرٌ يَا قَوْمُ اعْصِبُوهَا الْيَوْمَ بِرَأْسِي وَقُولُوا جَبُنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي لَسْتُ بِأَجْبَنِكُمْ فَسَمِعَ ذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَنْتَ تَقُولُ هَذَا وَاللَّهِ لَوْ غَيْرُكَ يَقُولُ هَذَا لَأَعْضَضْتُهُ قَدْ مَلَأَتْ رِئَتُكَ جَوْفَكَ رُعْبًا فَقَالَ عُتْبَةُ إِيَّايَ تُعَيِّرُ يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ سَتَعْلَمُ الْيَوْمَ أَيُّنَا الْجَبَانُ قَالَ فَبَرَزَ عُتْبَةُ وَأَخُوهُ شَيْبَةُ وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً فَقَالُوا مَنْ يُبَارِزُ فَخَرَجَ فِتْيَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ سِتَّةٌ فَقَالَ عُتْبَةُ لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ يَا عَلِيُّ وَقُمْ يَا حَمْزَةُ وَقُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَتَلَ اللَّهُ تَعَالَى عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ وَجُرِحَ عُبَيْدَةُ فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَصِيرٌ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسِيرًا فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ مَا أَسَرَنِي لَقَدْ أَسَرَنِي رَجُلٌ أَجْلَحُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ مَا أُرَاهُ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَا أَسَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ اسْكُتْ فَقَدْ أَيَّدَكَ اللَّهُ تَعَالَى بِمَلَكٍ كَرِيمٍ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَسَرْنَا وَأَسَرْنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْعَبَّاسَ وعَقِيلًا وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے اور ہم نے یہاں کے پھل کھائے تو ہمیں پیٹ کی بیماری لاحق ہو گئی جس سے بڑھتے بڑھتے ہم شدید قسم کے بخار میں مبتلا ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے، جب ہمیں معلوم ہوا کہ مشرکین مقام بدر کی طرف بڑھ رہے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بدر کی طرف روانہ ہوگئے، جو کہ ایک کنوئیں کا نام تھا، ہم مشرکین سے پہلے وہاں پہنچ گئے، وہاں ہمیں دو آدمی ملے، ایک قریش کا اور دوسرا عقبہ بن ابی معیط کا غلام، قریشی تو ہمیں دیکھتے ہی بھاگ گیا اور عقبہ کے غلام کو ہم نے پکڑ لیا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ ان کے لشکر کی تعداد کتنی ہے؟ اس نے کہا بخدا! ان کی تعداد بہت زیادہ اور ان کا سامان حرب بہت مضبوط ہے، جب اس نے یہ کہا تو مسلمانوں نے اسے مارنا شروع کر دیا اور مارتے مارتے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے مشرکین مکہ کی تعداد پوچھی، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ان کی صحیح تعداد معلوم کرنے کی پوری کوشش کی لیکن اس نے بتانے سے انکار کر دیا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ وہ لوگ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا روزانہ دس اونٹ ذبح کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت فرمایا ان کی تعداد ایک ہزار ہے، کیونکہ ایک اونٹ کم از کم سو آدمیوں کو کفایت کر جاتا ہے۔ رات ہوئی تو ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی، ہم بارش سے بچنے کے لئے درختوں اور ڈھالوں کے نیچے چلے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں ساری رات اپنے پروردگار سے یہ دعاء کرتے رہے کہ اے اللہ! اگر یہ گروہ ختم ہوگیا تو آپ کی عبادت نہیں ہو سکے گی، بہرحال! طلوع فجر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نداء کروائی کہ اللہ کے بندو! نماز تیار ہے، لوگوں نے درختوں اور سائبانوں کو چھوڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد جہاد کی ترغیب دینے لگے، پھر فرمایا کہ قریش کا لشکر اس پہاڑ کی سرخ ڈھلوان میں ہے۔ جب لشکر قریش ہمارے قریب آگیا اور ہم نے بھی صف بندی کرلی، تو اچانک ان میں سے ایک آدمی سرخ اونٹ پر سوار ہو کر نکلا اور اپنے لشکر میں چکر لگانے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا علی! حمزہ سے پکار کر کہو جو کہ مشرکین مکہ کے سب سے زیادہ قریب تھے، یہ سرخ اونٹ والا کون ہے اور کیا کہہ رہا ہے؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لشکر قریش میں کوئی آدمی بھلائی کا حکم دے سکتا ہے تو وہ یہ سرخ اونٹ پر سوار ہی ہوسکتا ہے، اتنی دیر میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آگئے اور فرمانے لگے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ ہے جو کہ لوگوں کو جنگ سے روک رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اے میری قوم! میں ایسے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو ڈھیلے پڑ چکے ہیں، اگر تم میں ذرا سی بھی صلاحیت ہو تو یہ تم تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے، اے میری قوم! آج کے دن میرے سر پر پٹی باندھ دو، اور کہہ دو کہ عتبہ بن ربیعہ بزدل ہوگیا حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں بزدل نہیں ہوں ۔ ابوجہل نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگا کہ یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ بخدا! اگر یہ بات تمہارے علاوہ کسی اور نے کہی ہوتی تو میں اس سے کہتا کہ جا کر اپنے باپ کی شرمگاہ چوس(گالی دیتا) تمہارے پھیپھڑوں نے تمہارے پیٹ میں رعب بھر دیا ہے، عتبہ کہنے لگا کہ او پیلے سرین والے! تو مجھے عار دلاتا ہے، آج تجھے پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے بزدل کون ہے؟ اس کے بعد جوش میں آکر عتبہ، اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید میدان جنگ میں نکل کر مبارز طلبی کرنے لگے، ان کے مقابلے میں چھ انصاری نوجوان نکلے، عتبہ کہنے لگا کہ ہم نے انسے نہیں لڑنا چاہتے، ہمارے مقابلے میں ہمارے بنو عم نکلیں جن کا تعلق بنو عبدالمطلب سے ہو، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیدہ بن حارث بن مطلب کو اٹھنے اور مقابلہ کرنے کا حکم دیا، اس مقابلے میں عتبہ، شیبہ اور ولید تینوں مارے گئے اور مسلمانوں میں حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے۔ اس طرح ہم نے ان کے ستر آدمی مارے اور ستر ہی کو قیدی بنا لیا، اسی اثناء میں ایک چھوٹے قد کا انصاری نوجوان عباس بن عبدالمطلب کو جو بعد میں صحابی بنے قیدی بنا کرلے آیا، عباس کہنے گے یا رسول اللہ! بخدا! اس نے جھے قیدی نہیں بنایا، مجھے تو اس شخص نے قید کیا ہے جس کے سر کے دونوں جانب بال نہ تھے، وہ بڑا خوبصورت چہرہ رکھتا تھا اور ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا، جو مجھے اب آپ لوگوں میں نظر نہیں آرہا، اس پر انصاری نے کہا یا رسول اللہ! انہیں میں نے ہی گرفتار کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاموشی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک معزز فرشتے کے ذریعے اللہ نے تمہاری مدد کی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو عبدالمطلب میں سے ہم نے عباس، عقیل اور نوفل بن حارث کو گرفتار کیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ أَخْبِرِينِي بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ ائْتِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يَلْزَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَسْحِ عَلَى خِفَافِنَا إِذَا سَافَرْنَا
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کسی مرد صحابی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب سفر پر جائیں تو اپنے موزوں پر مسح کرلیا کریں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ وَعَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَا نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ قَالَ فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِيدٍ سِتَّةٌ وَمِنْ قِبَلِ زَيْدٍ سِتَّةٌ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ أَلَيْسَ اللَّهُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ قَالُوا بَلَى قَالَ اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرٍو ذِي مُرٍّ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي عَنْ سَعِيدٍ وَزَيْدٍ وَزَادَ فِيهِ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سعید بن وہب اور زید بن یثیع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا کہ جس شخص نے غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے، اس پر سعید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہوگئے اور زید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہوگئے اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کیا اللہ کو مومنین پر کوئی حق نہیں؟ سب نے عرض کیا کیوں نہیں! فرمایا اے اللہ! جس کا میں مولی ہوں، علی بھی اس کے مولی ہیں اے اللہ جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔ گذشتہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ جس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔ گذشتہ روایت اس دوسری سند سے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قُلْتُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حَسَنٌ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ قَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قُلْتُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ فَلَمَّا وَلَدْتُ الثَّالِثَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ ثُمَّ قَالَ سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ شَبَّرُ وَشَبِيرُ وَمُشَبِّرُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن کی پیدائش ہوئی تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بچے کی پیدائش کی خبر معلوم ہوئی تو تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا حرب، فرمایا نہیں، اس کا نام حسن ہے، پھر جب حسین پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھ دیا، اس موقع پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے پھر عرض کیا حرب، فرمایا نہیں اس کا نام حسین ہے، تیسرے بیٹے کی پیدائش پر بھی اسی طرح ہوا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدل کر محسن رکھ دیا، پھر فرمایا کہ میں نے ان بچوں کے نام حضرت ہارون علیہ السلام کے بچوں کے نام پر رکھے ہیں جن کے نام شبر، شبیر اور مشبر تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ فَقَالَ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا قَالَ فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے کی ہو؟ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میری تلوار کے نیام میں ایک چیز ہے یہ کہہ کر انہوں نے اس میں سے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا تھا کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج چوری کرے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ عَفَّانُ قَالَ أَنْبَأَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ أَنَّهُ عَادَ حَسَنًا وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَعُودُ حَسَنًا وَفِي النَّفْسِ مَا فِيهَا قَالَ نَعَمْ إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبِّ قَلْبِي فَتَصْرِفَهُ حَيْثُ شِئْتَ فَقَالَ أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا إِلَّا ابْتَعَثَ اللَّهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ أَيَّ سَاعَةٍ مِنْ النَّهَارِ كَانَتْ حَتَّى يُمْسِيَ وَأَيَّ سَاعَةٍ مِنْ اللَّيْلِ كَانَتْ حَتَّى يُصْبِحَ
عبد اللہ بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عمرو بن حریث حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا یوں تو آپ حسن کی بیمار پرسی کے لئے آئے ہیں اور اپنے دل میں جو کچھ چھپا رکھا ہے اس کا کیا ہوگا؟ عمرو نے کہا کہ آپ میرے رب نہیں ہیں کہ جس طرح چاہیں میرے دل میں تصرف کرنا شروع کر دیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن اس کے باوجود ہم تم سے نصیحت کی بات کہنے سے نہیں رکیں گے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو شام تک دن کے ہر لمحے میں اس کے لئے دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کو گیا ہو تو صبح تک رات کی ہر گھڑی اس کے لئے دعاء کرتے رہتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الْمَعْتُوهِ أَوْ قَالَ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ وَعَنْ الصَّغِيرِ حَتَّى يَشِبَّ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں ۔ (١) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہوجائے (٢) مجنون، جب تک اس کی عقل نہ لوٹ آئے (٣) بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ بَهْزٌ قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ وَلَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یوں فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، تیری درگذر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کرسکتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو بِشْرٍ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَّةِ حَرِيرٍ فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا فَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں نے اسے زیب تن کر لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں دوپٹے کے طور پر تقسیم کردیا۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَيُؤْتَى فَيُقَالُ قَدْ فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْأَشْتَرُ إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ أَفَشَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَاصَّةً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فَهُوَ فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي قَالَ فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ قَالَ فَإِذَا فِيهَا مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ قَالَ وَإِذَا فِيهَا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا وَحِمَاهَا كُلُّهُ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَارَ بِهَا وَلَا تُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ وَلَا يُحْمَلُ فِيهَا السِّلَاحُ لِقِتَالٍ قَالَ وَإِذَا فِيهَا الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ
ابوحسان کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جب بھی کوئی حکم دیتے اور لوگ آکر کہتے کہ ہم نے اس اس طرح کر لیا تو وہ کہتے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، ایک دن اشتر نامی ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ جو یہ جملہ کہتے ہیں، لوگوں میں بہت پھیل چکا ہے، کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو وصیت کی ہے؟ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ مجھے کوئی وصیت نہیں فرمائی، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے وہ ایک صحیفہ میں لکھ کر اپنی تلوار کے میان میں رکھ لیا ہے۔ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وہ صحیفہ دکھانے پر اصرار کیا، انہوں نے وہ نکالا تو اس میں لکھا تھا کہ جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہ ہوگا، نیز اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس کے دونوں کونوں کے درمیان کی جگہ قابل احترام ہے، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، البتہ وہ شخص اٹھا سکتا ہے جو مالک کو اس کا پتہ بتادے، یہاں کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے البتہ اگر کوئی آدمی اپنے جانور کو چارہ کھلائے تو بات جدا ہے اور یہاں لڑائی کے لیے اسلحہ نہ اٹھایا جائے۔ نیز اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنی بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں ، خبردار کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو اس وقت تک قتل کیا جائے جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو اور اس کی شرائط پر برقرار ہو۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے کہ الہی! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا تابع فرمان ہوا، تو ہی میرا رب ہے، میرے کان، آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور پٹھے تیرے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور میرے قدم بھی اللہ رب العالمین کی خاطر جھکے ہوئے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ يَنْشُدُ النَّاسَ أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ لَمَّا قَامَ فَشَهِدَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَحَدِهِمْ فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجِي أُمَّهَاتُهُمْ فَقُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا کہ جس نے غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک سنا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے، کہ جس کا میں مولی ہوں، علی بھی اس کے مولی ہیں، اس پر بارہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی کہ ہم سب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کیا اللہ کو مومنین پر کوئی حق نہیں؟ سب نے عرض کیا کیوں نہیں! فرمایا جس کا میں مولی ہوں، علی بھی اس کے مولی ہیں اے اللہ جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ قَالَ لِصَحِيفَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي سَيْفِهِ
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بخدا! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیا تھا، اس میں زکوۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے، مذکورہ صحیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَانَا عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَنَهَانَا عَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَعَنْ الْحَرِيرِ وَالْحِلَقِ الذَّهَبِ ثُمَّ قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حَرِيرٍ فَخَرَجْتُ فِيهَا لِيَرَ النَّاسُ عَلَيَّ كِسْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي بِنَزْعِهِمَا فَأَرْسَلَ بِإِحْدَاهُمَا إِلَى فَاطِمَةَ وَشَقَّ الْأُخْرَى بَيْنَ نِسَائِهِ
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا، اچانک صعصعہ بن صوحان آگئے اور سلام کر کے کہنے لگے امیرالمومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں سے آپ کو روکا تھا ہمیں بھی ان سے روکیے، انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں کدو کی تونبی، سبز مٹکے، لکڑی کے برتن، لکڑی کو کھود کربنائے گئے برتن کو استعمال کرنے سے منع فرمایا (کیونکہ ان میں شراب کشید کی جاتی تھی) نیز ریشم، سرخ زین، خالص ریشم اور سونے کے حلقوں سے منع فرمایا۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا، میں وہ پہن کر باہر نکلا تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو جوڑا دیا تھا وہ میں نے پہن لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو اسے اتارنے کا حکم دیا اور اس کا ایک حصہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھجوا دیا اور دوسرا حصہ پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ نِزَارٍ الْعَنْسِيُّ حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْعَبْسِيُّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ قَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ وَلَا يَقُومُ إِلَّا مَنْ قَدْ رَآهُ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَقَالُوا قَدْ رَأَيْنَاهُ وَسَمِعْنَاهُ حَيْثُ أَخَذَ بِيَدِهِ يَقُولُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ فَقَامَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ لَمْ يَقُومُوا فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَأَصَابَتْهُمْ دَعْوَتُهُ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا جس نے غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہوجائے اور وہی کھڑا ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو، اس پر بارہ آدمی کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہم نے خود دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ہم نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا، اے اللہ جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما اور جو اسے تنہا چھوڑے تو اسے تنہا فرما، اس موقع پر تین آدمی ایسے بھی تھے جو کھڑے نہیں ہوئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بد دعا دی اور وہ اس کا شکار ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَخُو حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ كَمَا يَقُولُ فَإِذَا قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّ الَّذِينَ جَحَدُوا مُحَمَّدًا هُمْ الْكَاذِبُونَ
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تو وہ یہ کلمات دہراتے جو مؤذن کہتا اور اشہد ان محمدا الرسول اللہ کے جواب میں اشہد ان محمدا الرسول اللہ کہنے کے بعد یہ بھی فرماتے کہ جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَتْ سَلْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ قَالَ يَحْيَى وَكَانَ يَرْفَعُهُ يَعْنِي شُعْبَةَ ثُمَّ تَرَكَهُ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ عِشَاءَ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَيَقُولَ قَائِلٌ أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى أَلَا دَاعٍ يُجَابُ أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز تہائی رات تک مؤخر کرتا کیونکہ رات کی جب پہلی تہائی گذر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ (اپنی شان کے مطابق) آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور طلوع فجر تک وہیں رہتے ہیں اور ایک منادی نداء لگاتا رہتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا، کہ اسے دیا جائے؟ ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعاء قبول کی جائے؟ ہے کوئی بیمار جو شفاء حاصل کرنا چاہتا ہو کہ اسے شفاء مل جائے؟ ہے کوئی گناہگار جو اپنے گناہوں کی معافی مانگے تاکہ اسے بخش دیا جائے؟۔ گذشتہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اس کے الفاظ یہی ہیں لیکن سند مختلف ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ عَنْ الْوَتْرِ أَوَاجِبٌ هُوَ قَالَ أَمَّا كَالْفَرِيضَةِ فَلَا وَلَكِنَّهَا سُنَّةٌ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى مَضَوْا عَلَى ذَلِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے وتر کے متعلق پوچھا کہ آیا یہ فرض ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی سنت سے ثابت ہے اور انہوں نے ہمیشہ اسے ادا کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سُفْيَانَ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا قَالَ فَأَخَذَهُ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ يُحْدِثْ
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرنے کے لئے پانی منگوایا اور فرمایا کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ کسی صورت میں بھی کھڑے ہو کر پانی پینا جائز نہیں ہے؟ پھر انہوں نے وہ برتن لے کر کھڑے کھڑے اس کا پانی پی لیا، پھر ہلکا سا وضو کیا، جوتوں پر مسح کیا اور فرمایا اس طاہر آدمی کا جو بے وضو نہ ہو، یہی وضو ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيَقُلْ مَنْ حَوْلَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ الحمدللہ کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ یرحمک اللہ کہیں اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے یہدیکم اللہ ویصلح بالکم۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ أَوْ عِيسَى شَكَّ مَنْصُورٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ الحمدللہ کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ یرحمک اللہ کہیں اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے یہدیکم اللہ ویصلح بالکم۔
-
حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ الْوَتْرِ فَمَنْ كَانَ مِنَّا فِي رَكْعَةٍ شَفَعَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى اجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ أَوْتَرَ فِي وَسَطِهِ ثُمَّ أَثْبَتَ الْوَتْرَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ قَالَ وَذَلِكَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور فرمایا کہ وتر کے متلعق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ہم میں سے جس شخص نے ایک رکعت پڑھ لی تھی، اس نے جلدی سے دوسری رکعت ملائی اور ہم سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھے ہوگئے، انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھتے تھے، پھر درمیان والے حصے میں پڑھنے لگے، پھر اس وقت مستقل پڑھنے لگے، اس وقت طلوع فجر ہونے والی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ زَائِرًا فَقَالَ أَبُو مُوسَى بَلْ جِئْتُ عَائِدًا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ عَادَ مَرِيضًا بَكَرًا شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ عَادَهُ مَسَاءً شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ
عبداللہ بن نافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا عیادت کی نیت سے آئے ہو یا ملاقات کے لئے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین! میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے توستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے لئے شام تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے اور اگر شام کو عیادت کرے تب بھی ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے صبح تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ زَائِرًا قَالَ لَا بَلْ جِئْتُ عَائِدًا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَا إِنَّهُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ إِنْ كَانَ مُصْبِحًا حَتَّى يُمْسِيَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مُمْسِيًا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ
عبداللہ بن نافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا عیادت کی نیت سے آئے ہو یا ملاقات کے لئے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین! میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے توستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے لئے شام تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے اور اگر شام کو عیادت کرتے تب بھی ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے صبح تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ الْقَسْمَلِيَّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ فِي الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکا حکم پوچھا تو فرمایا منی میں تو غسل واجب ہے اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنَا عَامِرٌ قَالَ كَانَ لِشَرَاحَةَ زَوْجٌ غَائِبٌ بِالشَّامِ وَإِنَّهَا حَمَلَتْ فَجَاءَ بِهَا مَوْلَاهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ زَنَتْ فَاعْتَرَفَتْ فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةً وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحَفَرَ لَهَا إِلَى السُّرَّةِ وَأَنَا شَاهِدٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ شَهِدَ عَلَى هَذِهِ أَحَدٌ لَكَانَ أَوَّلَ مَنْ يَرْمِي الشَّاهِدُ يَشْهَدُ ثُمَّ يُتْبِعُ شَهَادَتَهُ حَجَرَهُ وَلَكِنَّهَا أَقَرَّتْ فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ رَمَاهَا فَرَمَاهَا بِحَجَرٍ ثُمَّ رَمَى النَّاسُ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ فَكُنْتُ وَاللَّهِ فِيمَنْ قَتَلَهَا
عامر کہتے ہیں کہ شراحہ نامی ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا وہ شام گیا ہوا تھا، یہ عورت امید سے ہوگئی، اس کا آقا اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اس عورت نے بدکاری کی ہے، اس عورت نے بھی اعتراف کر لیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے پہلے پچاس کوڑے لگائے، پھر جمعہ کے دن اس پر حد رجم جاری فرمائی اور اس کے لئے ناف تک ایک گڑھا کھدوایا، میں بھی اس وقت موجود تھا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رجم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اگر اس کا یہ جرم کسی گواہ کی شہادت سے ثابت ہوتا تو اسے پتھر مارنے کا آغاز وہی کرتا کیونکہ گواہ پہلے گواہی دیتا ہے اور اس کے بعد پتھر مارتا ہے لیکن چونکہ اس کا یہ جرم اس کے اقرار سے ثابت ہوا ہے اس لئے اب میں اسے سب سے پہلے پتھر ماروں گا، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کا آغاز کیا، بعد میں لوگوں نے اسے پتھر مارنا شروع کیے، ان میں میں بھی شامل تھا اور بخدا! اس عورت کو اللہ کے پاس بھیجنے والوں میں میں بھی تھا۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ يَرْكَبُ الرَّجُلُ هَدْيَهُ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ قَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالرِّجَالِ يَمْشُونَ فَيَأْمُرُهُمْ يَرْكَبُونَ هَدْيَهُ وَهَدْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَا تَتَّبِعُونَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آدمی حج کے موقع پر قربانی کا جو جانور لے کر جارہا ہو جسے ہدی کہتے ہیں اس پر سوار ہو سکتا ہے؟ فرمایا کوئی حرج نہٰیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جب پیدل چلنے والوں کے پاس سے گذر ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا حکم دیتے اور تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے زیادہ افضل کسی چیز کی پیروی نہ کر سکو گے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُطْعِمَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْحَالَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ قَالَ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ النَّوْحِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سودخور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نُهِيَ عَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَخِي يَحْيَى بْنِ سِيرِينَ فَقَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ هَذَا نَعَمْ وَكِفَافِ الدِّيبَاجِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرخ رنگ کے پھول دار کپڑوں، ریشمی کپڑوں اور سونے کی انگوٹھی سے منع کیا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ ذَكَرَ عَلِيٌّ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ أَأَنْتَ سَمِعْتَ مِنْهُ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں رب کعبہ کی قسم۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ لَمَّا قَتَلَ عَلِيٌّ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ قَالَ الْتَمِسُوهُ فَوَجَدُوهُ فِي حُفْرَةٍ تَحْتَ الْقَتْلَى فَاسْتَخْرَجُوهُ وَأَقْبَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَخْبَرْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ مَنْ يَقْتُلُ هَؤُلَاءِ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب اہل نہروان سے قتال کیا تو ایک مخصوص آدمی کے متعلق حکم دیا کہ اسے تلاش کرو، لوگوں کو وہ مقتولین میں ایک گڑھے میں مل گیا، انہوں نے اسے باہر نکالا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں رب کعبہ کی قسم۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ عُشْرِهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ چھوڑ دی ہے اس لئے چاندی کی زکوۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْدَى وَالَّذِي هُوَ أَهْيَا وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي أَهْيَاهُ وَأَهْدَاهُ وَأَتْقَاهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْيَاهُ وَأَتْقَاهُ وَأَهْدَاهُ وَخَرَجَ عَلِيٌّ عَلَيْنَا حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ الْوِتْرِ هَذَا حِينُ وِتْرٍ حَسَنٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں رب کعبہ کی قسم۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ وَتَوْرٍ قَالَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَصَفَ يَحْيَى فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ وَقَالَ وَلَا أَدْرِي أَرَدَّ يَدَهُ أَمْ لَا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْقُطَيْعِيُّ قَالَ لَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا أَخْطَأَ فِيهِ شُعْبَةُ إِنَّمَا هُوَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ
عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کی خدمت میں ایک کرسی اور ایک برتن پیش کیا گیا، انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت تین تین مربتہ دھویا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھنا چاہتا ہے تو یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ التِّرْمِذِيُّ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُرَاهَا الْفَجْرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ يَعْنِي صَلَاةَ الْوُسْطَى
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نماز فجر کوصلاۃ وسطی سمجھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز عصر ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي حَزْمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنی بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں، خبردار کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو قتل کیا جائے جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو اور اس کی شرائط پر برقرار ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِمْ عَلَى بَعِيرٍ يُوضِعُهُ بِمِنًى فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ إِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
یوسف بن مسعود کی دادی کہتی ہیں کہ ایک آدمی اپنے اونٹ پر ان کے پاس سے گذرا جو منی کے میدان میں ایام تشریق میں اپنا اونٹ دوڑا رہا ہے اور کہتا جارہا ہے کہ یہ تو کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں، میں نے لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالْأَشْتَرُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً قَالَ لَا إِلَّا مَا فِي كِتَابِي هَذَا قَالَ وَكِتَابٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ فَإِذَا فِيهِ الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور اشتر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا کیا کوئی ایسی چیز ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو وصیت کی ہو اور عام لوگوں کو اس میں شامل نہ کیا ہو؟ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ مجھے کوئی وصیت نہیں فرمائی، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے وہ ایک صحیفہ میں لکھ کر اپنی تلوار کے درمیان رکھ لیا ہے۔ انہوں نے وہ نکالا تو اس میں لکھا تھا کہ مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنی بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں، خبردار کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو قتل کیا جائے جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو اور اس کی شرائط پر برقرار ہو نیز یہ کہ جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ أَوْ قُبُورَهُمْ نَارًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان مشرکین کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھردے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ أَبِي عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيُقَلْ لَهُ يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ فَقُلْتُ لَهُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ الحمدللہ کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ یرحمک اللہ کہیں اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے یہدیکم اللہ ویصلح بالکم۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَكَتْ إِلَيَّ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَجْلَ يَدَيْهَا مِنْ الطَّحْنِ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاطِمَةُ تَشْتَكِي إِلَيْكَ مَجْلَ يَدَيْهَا مِنْ الطَّحْنِ وَتَسْأَلُكَ خَادِمًا فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ فَأَمَرَنَا عِنْدَ مَنَامِنَا بِثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ وَأَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ مِنْ تَسْبِيحٍ وَتَحْمِيدٍ وَتَكْبِيرٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے شکایت کی کہ چکی چلا چلا کر ہاتھوں میں گٹے پڑگئے، چنانچہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فاطمہ آپ کے پاس چکی چلانے کی وجہ سے ہاتھوں میں پڑجانے والے گٹوں کی شکایت لے کر آئی ہیں اور آپ سے ایک خادم کی درخواست کر رہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تم دونوں کے لئے خادم سے بہتر ہو؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سوتے وقت ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ،٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور٣٤ مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي قَالَ أُخْبِرْتُ عَنْ سِنَانِ بْنِ هَارُونَ حَدَّثَنَا بَيَانٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ لَوْ وُضِعَ قَدَحٌ مِنْ مَاءٍ عَلَى ظَهْرِهِ لَمْ يُهَرَاقْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح رکوع فرماتے تھے کہ اگر پانی سے بھرا ہوا کوئی پیالہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر رکھ دیا جاتا تو وہ نہ گرتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَوَضَّأَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَذَا وُضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو کیا تو اس میں ایک ہی کف سے تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر اس برتن میں ہاتھ ڈال کر سر کا مسح کیا اور پاؤں دھو لئے پھر فرمایا کہ تمہاے نبی صلی اللہ علیہ کا وضو یہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمَّارًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الطَّيِّبُ الْمُطَيَّبُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ رِبْعِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ يَلِجْ النَّارَ قَالَ حَجَّاجٌ قُلْتُ لِشُعْبَةَ هَلْ أَدْرَكَ عَلِيًّا قَالَ نَعَمْ حَدَّثَنِي عَنْ عَلِيٍّ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ وَعَبْدُ الْكَرِيمِ أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا الْأَجْرَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ کے ساتھ موجود رہوں اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دوں اور گوشت بھی تقسیم کردوں اور یہ بھی حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ وَعَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت، سونے کی انگوٹھی، ریشی کپڑے اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فِي الرَّحَبَةِ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رِجَالًا يَكْرَهُونَ هَذَا وَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ ثُمَّ تَمَسَّحَ بِفَضْلِهِ وَقَالَ هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز ظہر کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کوزے میں پانی لایا گیا وہ مسجد کے صحن میں تھے، انہوں نے کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ اسے ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر انہوں نے باقی پانی سے مسح کرلیا اور فرمایا جو آدمی بے وضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز کی کنجی طہارت ہے، نماز میں حلال چیزوں کو حرام کرنے والی چیز تکبیر تحریمہ ہے اور انہیں حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ الْمُرَادِيُّ سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ يَقُولُ قَالَ عَلِيٌّ أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ خَيْرٍ يَؤُمُّنَا فِي الْفَجْرِ فَقَالَ صَلَّيْنَا يَوْمًا الْفَجْرَ خَلْفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَجَاءَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى الرَّحَبَةِ فَجَلَسَ وَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى الْحَائِطِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ يَا قَنْبَرُ ائْتِنِي بِالرَّكْوَةِ وَالطَّسْتِ ثُمَّ قَالَ لَهُ صُبَّ فَصَبَّ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّهُ ثَلَاثًا وَأَدْخَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فَغَسَلَ ذِرَاعَهُ الْأَيْمَنَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَهُ الْأَيْسَرَ ثَلَاثًا فَقَالَ هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابو عبدالملک کہتے ہیں کہ نماز فجر میں عبد خیر ہماری امامت کرتے تھے، ایک دن ہمیں نماز فجر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھنے کا موقع ملا، سلام پھیر کر جب وہ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے، یہاں تک کہ وہ چلتے ہوئے صحن مسجد میں آگئے اور بیٹھ کر دیوار سے ٹیک لگالی، پھر سر اٹھا کر اپنے غلام سے کہا قنبر! ڈول اور طشت لاؤ، پھر فرمایا کہ پانی ڈالو، اس نے پانی ڈالنا شروع کیا، چنانچہ پہلے انہوں نے اپنی ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور پانی نکال کر کلی کی اور تین ہی مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر دونوں ہاتھ ڈال کر پانی نکالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور تین مرتبہ دائیں ہاتھ کو دھویا پھر بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكُنْتُ أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَى عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ فَقَالَ يَتَوَضَّأُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کا حکم پوچھیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص وضو کر لیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي الْحَاجَةَ فَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجِزُهُ أَوْ يَحْجُبُهُ إِلَّا الْجَنَابَةُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے بعد وضو کیے بغیر باہر تشریف لا کر قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ گوشت بھی تناول فرما لیا کرتے تھے اور آپ کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن سے نہیں روکتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى كُلِّ أَثَرِ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَأَبُو خَيْثَمَةَ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ مسح علی الخفین کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے، حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں نے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي السَّوْدَاءِ عَنْ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ وَقَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ بِالْغَسْلِ
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے کو دھویا اور فرمایا اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتا ہے) ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ ظُهُورَهُمَا
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ جس میں ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَعْنِي هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعضاء کو تین تین مرتبہ دھویا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي أَحَدًا بِأَبَوَيْهِ إِلَّا سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے سوائے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا،غزوہ احد کے دن آپ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کہ سعد تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا قَالَ فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْءٍ فَقَالَ اجْمَعُوا لِي حَطَبًا فَجَمَعُوا حَطَبًا ثُمَّ قَالَ أَوْقِدُوا نَارًا فَأَوْقَدُوا لَهُ نَارًا فَقَالَ أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِيعُوا قَالُوا بَلَى قَالَ فَادْخُلُوهَا قَالَ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ النَّارِ فَكَانُوا كَذَلِكَ إِذْ سَكَنَ غَضَبُهُ وَطَفِئَتْ النَّارُ قَالَ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کر دیا اور لوگوں کو اس کی بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم دیا، جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو راستے میں اس انصاری کو کسی بات پر غصہ آگیا اور اس نے ان سے کہا کہ لکڑیاں اکٹھی کرو، اس کے بعد اس نے آگ منگوا کر لکڑیوں میں آگ لگا دی اور کہا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں؟ اس نے کہا پھر اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے اور کہنے لگے کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہیں، تھوڑی دیر بعد اس کا غصہ بھی ٹھنڈا ہوگیا اور آگ بجھ گئی، جب وہ لوگ واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہو جاتے تو پھر کبھی اس میں سے نکل نہ سکتے، یاد رکھو! اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ أَوْ فِي هَذِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ لِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی یا شہادت والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ فَمَا شَاءَ اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي قَوْلُهُ ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ أَرَادَ أَنْ يَتَوَاضَعَ بِذَلِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور تیسرے نمبر پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اللہ جسے چاہے گا اسے معاف فرما دے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ الْبَقَرَةِ فَقَالَ عَنْ سَبْعَةٍ قَالَ الْقَرَنُ قَالَ لَا يَضُرُّكَ قَالَ فَالْعَرْجَاءُ قَالَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ قَالَ وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کرلو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا كَانَ فِينَا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرُ الْمِقْدَادِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا فِينَا إِلَّا نَائِمٌ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ يُصَلِّي وَيَبْكِي حَتَّى أَصْبَحَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں گھڑ سوار کوئی نہ تھا اور ہمارے درمیان ہر شخص سو جاتا تھا ، سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ایک درخت کے نیچے نماز پڑھتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا فَمَاتَ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي إِلَّا الْخَمْرَ فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ لَوَدَيْتُهُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص پر بھی میں نے کوئی شرعی سزا نافذ کی ہو، اس کے متعلق مجھے اپنے دل میں کوئی کھٹک محسوس نہیں ہوتی، سوائے شراب کے، کہ اگر اس کی سزا اسی کوڑے جاری کرنے کے بعد کوئی شخص مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کرتا ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی (کہ چالیس کوڑے مارے جائیں یا اسی)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ الْأَسَدِيِّ وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ أَنْبَأَنَا أَبُو حَصِينٍ الْأَسَدِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَتْ تَحْتِي ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ تَوَضَّأْ وَاغْسِلْهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کرلیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَأَتَيْنَاهُ فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأُتِيَ بِرَكْوَةٍ فِيهَا مَاءٌ وَطَسْتٍ قَالَ فَأَفْرَغَ الرَّكْوَةَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِكَفٍّ كَفٍّ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَقَابًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ هَذَا وُضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْلَمُوهُ
عبدخیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم فجر کی نماز پڑھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر بیٹھ گئے، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا چنانچہ ایک ڈول میں پانی اور ایک طشت لایا گیا، پھر انہوں نے دائیں ہاتھ پر ڈول سے پانی بہایا اور اپنی ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور پانی نکال کر کلی کی اور تین ہی مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین تین مرتبہ دونوں بازؤوں کو دھویا، پھر دایاں ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور دونوں ہتھیلیوں سے ایک ہی مرتبہ سر کا مسح کر لیا، پھر تین تین مرتبہ دونوں پاؤں دھوئے اور فرمایا کہ یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ، اسے خوب سمجھ لو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ فَذَكَرْتُهُ لِسُفْيَانَ فَقَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رُكَيْنٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيُّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَا فَضْخَ الْمَاءِ وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ وَقَالَ فَضْخَ أَيْضًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کر لیا کرو اور اگر منی خارج ہو تو غسل کر لیا کرو ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ خَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ يَجْعَلُ اللَّهُ الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب بہترین شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں، اس کے بعد اللہ جہاں چاہتا ہے اپنی محبت پیدا فرما دیتا ہے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ وَأَحْدَثْنَا أَحْدَاثًا يَصْنَعُ اللَّهُ فِيهَا مَا شَاءَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ جب اہل بصرہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، اس کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جن میں اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ أَنْبَأَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَإِنَّا قَدْ أَحْدَثْنَا بَعْدُ أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ فِيهَا مَا شَاءَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، اس کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جن میں اللہ جو چا ہے گا سو کرے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ عَمَّارٌ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرتھا) اتنی دیر میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ ذِي حُدَّانَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبَ خَدْعَةً
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کو " چال " قرار دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلْمِقْدَادِ سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يَدْنُو مِنْ الْمَرْأَةِ فَيُمْذِي فَإِنِّي أَسْتَحْيِي مِنْهُ لِأَنَّ ابْنَتَهُ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے اور اس سے مذی خارج ہو تو کیا حکم ہے؟ مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں ہیں چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ أَبِي الضُّحَى عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَغَلُونَا يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ أَجْوَافَهُمْ نَارًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے مشرکین نے ہمیں نماز عصر پڑھنے کاموقع نہیں دیا حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یا اللہ ان مشرکین کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى ثَوْرٍ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ وَقَالَ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اس صحیفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عیر سے ثور تک مدینہ منورہ حرم ہے، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ایک جیسی ہے، جو شخص کسی مسلمان کی پناہ کو توڑے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا۔ اور غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کردے، اس پر بھی اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا بھی کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کیا جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا أَنْ تَزَوَّجَ إِلَيْنَا قَالَ وَعِنْدَكَ شَيْءٌ قَالَ قُلْتُ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی! فرمایا کہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے (دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْيَاهُ وَأَهْدَاهُ وَأَتْقَاهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُنْذِرُ وَالْهَادِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے " کہ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم میں ایک ہادی آیا ہے" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے متعلق فرمایا ڈرانے والا اور رہنمائی کرنے والا بنوہاشم کا ایک آدمی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لَمَّا حَضَرَ الْبَأْسُ يَوْمَ بَدْرٍ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ مَا كَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَقْرَبَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن جب جنگ شروع ہوئی تو ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آجاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری نسبت دشمن سے زیادہ قریب تھے اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ سخت جنگ کی تھی۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ قَالَ إِسْحَاقُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشمی لباس یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَأَبُو خَيْثَمَةَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فُلَانِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ وَعَنْ الْقَسِّيِّ وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ قَالَ أَيُّوبُ أَوْ قَالَ أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ فِي حَدِيثِهِ حُدِّثْتُ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ رَجَعَ عَنْ جَدِّهِ حُنَيْنٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی لباس یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُهُمَا فَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَدْرِكْهُمَا فَارْتَجِعْهُمَا وَلَا تَبِعْهُمَا إِلَّا جَمِيعًا وَلَا تُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے، میں نے ان دونوں کو دو الگ الگ آدمیوں کے ہاتھ فروخت کردیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس جا کر ان دونوں کو واپس لو اور اکٹھا ایک ہی آدمی کے ہاتھ ان دونوں کو فروخت کرو (تاکہ دونوں کو ایک دوسرے سے کچھ تو قرب اور انس رہے) ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا ثُمَّ اسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ وَذَكَرَ عَبْدُ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي حَيَّةَ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ خَيْرٍ قَالَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طُهُورِهِ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ فَشَرِبَ
ابو حیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو کر صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے اور وضو کا بچا ہوا پانی لے کر کھڑے کھڑے پی گئے اور فرمایا کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس کے آخر میں وضو کا پانی دونوں ہاتھوں سے لینے کا ذکر ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سُئِلَ سَعِيدٌ عَنْ الْأَعْضَبِ هَلْ يُضَحَّى بِهِ فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ قَالَ قَتَادَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ الْعَضَبُ النِّصْفُ فَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمَيَاثِرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی لباس پہننے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا بَالَ فِي الرَّحَبَةِ وَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ فَأَرَدْتُ أَنْ أُرِيَكُمُوهُ
ابو حیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو صحن میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے پانی منگوایا اور پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کودھو کر صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی لے کر کھڑے کھڑے پی گئے اور فرمایا کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ ضَرَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا الْمِنْبَرَ وَقَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْكُرَ وَقَالَ إِنَّ خَيْرَ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ أَحْدَثْنَا بَعْدَهُمَا أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ فِيهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن بر سر منبر خطبہ دیتے ہوئے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور جو اللہ کو منظور ہوا وہ کہا پھر فرمایا کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے اس کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جن میں اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَلِيٍّ وَالْمَسْعُودِيُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ ضَخْمَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ مُشْرَبًا وَجْهُهُ حُمْرَةً طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا يَتَقَلَّعُ مِنْ صَخْرٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ أَبُو النَّضْرِ الْمَسْرُبَةُ وَقَالَ كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ و قَالَ أَبُو قَطَنٍ الْمَسْرُبَةُ و قَالَ يَزِيدُ الْمَسْرُبَةُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ كُنْتُ أَرَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَفْضَلُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قُلْتُ لَا وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ أَحَدًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْكَ قَالَ أَفَلَا أُحَدِّثُكَ بِأَفْضَلِ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ بَلَى فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَفَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ قُلْتُ بَلَى قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ابو جحیفہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام لوگوں میں سب سے افضل سمجھتا تھا، میں نے کہا نہیں بخدا اے امیرالمومنین! میں نہیں سمجھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں میں آپ سے افضل بھی کوئی ہوگا، انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدسب سے افضل شخص کون ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں ، انہوں نے فرمایا وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِ وَسَارَ بِسِيرَتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى ذَلِكَ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا وَسَارَ بِسِيرَتِهِمَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کردیا گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور ان کی سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنے پاس بلا لیا، پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے اور وہ ان دونوں حضرات کے طریقے اور سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنے پاس بلا لیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ وَكِيعٍ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ثُمَّ ضَحِكَ قُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ قَالَ كُنْتُ رِدْفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتَنِي فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُضْحِكُكَ قَالَ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَجَبٌ لِعَبْدِي يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ردیف تھا، جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر بیٹھ گئے تو یہ دعاء پڑھی کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارا تابع فرمان بنا دیا، ہم تو اسے اپنے تابع نہیں کر سکتے تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، پھر تین مرتبہ الحمدللہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا اے اللہ! آپ پاک ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس مجھے معاف فرما دیجئے، پھر مسکرا دئیے ۔ میں نے پوچھا کہ امیرالمومنین! اس موقع پر مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا جیسے میں نے کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکرائے تھے اور میں نے بھی ان سے اس کی وجہ پوچھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب بندہ یہ کہتا ہے کہ پروردگار! مجھے معاف فرمادے تو پروردگار کو خوشی ہوتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ اس کے گناہ کوئی معاف نہیں کر سکتا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَكَيْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَاشْفِنِي أَوْ عَافِنِي وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ قُلْتَ قَالَ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ قَالَ فَمَسَحَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اشْفِهِ أَوْ عَافِهِ قَالَ فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي ذَاكَ بَعْدُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطاء فرما اور مجھے اپنے پاس بلا لے، اگر اس میں دیر ہو تو شفاء عطا فرمادے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبر عطاء فرما، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے اپنی بات دہرادی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر ہاتھ پھیر کر دعا فرمائی اے اللہ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات کو جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَبَضَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْرِ مَا قُبِضَ عَلَيْهِ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ السَّلَام ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَمِلَ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَذَلِكَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام انبیاء علیہم السلام میں سب سے زیادہ بہترین طریقے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا ہے، ان کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کردیا گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور ان کی سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے، پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے اور وہ ان دونوں حضرات کے طریقے اور سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى رَحْمَوَيْهِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُجَاشِعٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الثَّالِثَ لَسَمَّيْتُهُ فَقَالَ رَجُلٌ لِأَبِي إِسْحَاقَ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّكَ تَقُولُ أَفْضَلُ فِي الشَّرِّ فَقَالَ أَحَرُورِيٌّ
عبدخیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو (دوران خطبہ یہ) کہتے ہوئے سنا کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ وَعَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَلَا نُضَحِّيَ بِشَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ وَلَا مُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں اور ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے جس کا کان آگے یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو یا اس میں سوراخ ہو یا وہ پھٹ گیا ہو یا جسم کے دیگر اعضاء کٹے ہوئے ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ بات ذکر فرمائی تھی کہ تم سے بغض کوئی منافق ہی کر سکتا ہے اور تم سے محبت کوئی مومن ہی کر سکتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ أَنَّ قَوْمًا بِالْيَمَنِ حَفَرُوا زُبْيَةً لِأَسَدٍ فَوَقَعَ فِيهَا فَتَكَابَّ النَّاسُ عَلَيْهِ فَوَقَعَ فِيهَا رَجُلٌ فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ ثُمَّ تَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ حَتَّى كَانُوا فِيهَا أَرْبَعَةً فَتَنَازَعَ فِي ذَلِكَ حَتَّى أَخَذَ السِّلَاحَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ فَقَالَ لَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَقْتُلُونَ مِائَتَيْنِ فِي أَرْبَعَةٍ وَلَكِنْ سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ إِنْ رَضِيتُمُوهُ لِلْأَوَّلِ رُبُعُ الدِّيَةِ وَلِلثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ فَلَمْ يَرْضَوْا بِقَضَائِهِ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ قَالَ فَأُخْبِرَ بِقَضَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَجَازَهُ
حنش کنانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یمن میں ایک قوم نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گڑھا کھود کر اسے ڈھانپ رکھا تھا شیر اس میں گر پڑا اچانک ایک آدمی بھی اس گڑھے میں گر پڑا، اس کے پیچھے دوسرا، تیسرا حتی کہ چار آدمی گر پڑے (اس گڑھے میں موجود شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا، یہ دیکھ کر ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ پکڑا اور شیر کو دے مارا، چنانچہ شیر ہلاک ہوگیا اور وہ چاروں آدمی بھی اپنے اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسے) ۔ مقتولین کے اولیاء اسلحہ نکال کر جنگ کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، اتنی دیر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ آپہنچے اور کہنے لگے کیا تم چار آدمیوں کے بدلے دو سو آدمیوں کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر تم اس پر راضی ہو گئے تو سمجھو کہ فیصلہ ہوگیا، فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص پہلے گر کر گڑھے میں شیر کے ہاتھوں زخمی ہوا، اس کے ورثاء کو چوتھائی دیت دے دو اور چوتھے کو مکمل دیت دے دو، دوسرے کو تہائی اور تیسرے کو نصف دیت دے دو، ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا (کیونکہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا) چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اتنی دیر میں ایک آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو نافذ کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِي الْهَيَّاجِ أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق " ابو الھیاج " کو مخاطب کر کے فرمایا میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَضَبِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ قَالَ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ مَا الْعَضَبُ فَقَالَ النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ يَنْكُتُ بِهَا ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهَا مِنْ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ إِلَّا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً فَقَالَ الْقَوْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى السَّعَادَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى الشِّقْوَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَإِنَّهُ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ الشِّقْوَةِ وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ کسی جنازے کے ساتھ بقیع میں تھے کہ نبی صی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے گرد بیٹھ گئے، آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ خواہ جنت ہو یا جہنم اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے اور یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ شقی ہے یا سعید؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر ہم اپنی کتاب پر بھروسہ کر کے عمل کو چھوڑ نہ دیں؟ کیونکہ جو اہل سعادت میں سے ہوگا وہ سعادت حاصل کر لے گا اور جو اہل شقاوت میں سے ہوگا وہ شقاوت پالے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کیے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسباب پیدا کر دیں گے۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ جَابِرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَيَأْمُرُ بِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی یوم عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کا ترغیبی حکم دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنَاه خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَى عَيْنَيْهِ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدًا بَيْنَ طَرَفَيْ شَعِيرَةٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ الْبَصْرِيُّ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ ابْنَتَهُ كَانَتْ عِنْدِي فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ مِنْهُ الْوُضُوءُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص وضو کرلیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز کی کنجی طہارت ہے، نماز میں حلال چیزوں کو حرام کرنے والی چیز تکبیر تحریمہ ہے اور انہیں حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو، ہاں ! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى رَحْمَوَيْهِ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالُوا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ مَوْلَى قُرَيْشٍ قَالَ أَخْبَرَنِي السُّدِّيُّ وَقَالَ رَحْمَوَيْهِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ السُّدِّيَّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ قَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثْ مِنْ أَمْرِهِ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ وَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي بِهِنَّ حُمْرُ النَّعَمِ وَسُودُهَا و قَالَ ابْنُ بَكَّارٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ السُّدِّىُّ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا غَسَلَ مَيِّتًا اغْتَسَلَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب خواجہ ابوطالب کی وفات ہوگئی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا چچا مر گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا، چنانچہ جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا کہ جا کر غسل کرو اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا، چنانچہ میں غسل کر کے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اتنی دعائیں دیں کہ مجھے ان کے بدلے سرخ یا سیاہ اونٹ ملنے پر اتنی خوشی نہ ہوتی، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب بھی کسی میت کو غسل دیا تو خود بھی غسل کرلیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ تیار کر لینا چاہیے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ قَالَ سُفْيَانُ فَمَا أَدْرِي بِمَكَّةَ يَعْنِي أَوْ بِغَيْرِهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو، ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔
-
حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ حَدَّثَنَاهُ مِسْعَرٌ عَنْ أَبِي عَوْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً أَوْ ثَوْبَ حَرِيرٍ قَالَ فَأَعْطَانِيهِ وَقَالَ شَقِّقْهُ خُمُرًا بَيْنَ النِّسْوَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دومۃ الجندل، جو شام اور مدینہ کے درمیان ایک علاقہ ہے کے بادشاہ " اکیدر" نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا بطور ہدیہ کے بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے عطاء کر کے فرمایا کہ اس کے دوبٹے بنا کر عورتوں میں تقسیم کردو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبُعٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَتُخْضَبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذَا فَمَا يَنْتَظِرُ بِي الْأَشْقَى قَالُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَخْبِرْنَا بِهِ نُبِيرُ عِتْرَتَهُ قَالَ إِذًا تَالَلَّهِ تَقْتُلُونَ بِي غَيْرَ قَاتِلِي قَالُوا فَاسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا قَالَ لَا وَلَكِنْ أَتْرُكُكُمْ إِلَى مَا تَرَكَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا فَمَا تَقُولُ لِرَبِّكَ إِذَا أَتَيْتَهُ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً إِذَا لَقِيتَهُ قَالَ أَقُولُ اللَّهُمَّ تَرَكْتَنِي فِيهِمْ مَا بَدَا لَكَ ثُمَّ قَبَضْتَنِي إِلَيْكَ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتَهُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتَهُمْ
عبداللہ بن سبیع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ داڑھی اس سر کے خون سے رنگین ہو کر رہے گی، وہ شقی جو مجھے قتل کرے گا نجانے کس چیز کا انتظار کر رہا ہے؟ لوگوں نے کہا امیرالمومنین! ہمیں اس کا نام پتہ بتائیے، ہم اس کی نسل تک مٹادیں گے، فرمایا بخدا اس طرح تو تم میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دوگے، لوگوں نے عرض کیا کہ پھر ہم پر اپنا نائب ہی مقرر کر دیجئے، فرمایا نہیں، میں تمہیں اسی کیفیت پر چھوڑ کر جاؤں گا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ پھر آپ جب اپنے رب سے ملیں گے تو اسے کیا جواب دیں گے (کہ آپ نے کسے خلیفہ مقرر کیا؟) فرمایا میں عرض کروں گا کہ اے اللہ! جب تک آپ کی مشیت ہوئی، آپ نے مجھے ان میں چھوڑے رکھا، پھر آپ نے مجھے اپنے پاس بلا لیا تب بھی آپ ان میں موجود تھے ، اب اگر آپ چاہیں تو ان میں اصلاح رکھیں اور اگر آپ چاہیں تو ان میں پھوٹ ڈال دیں ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ عَمَّارٌ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اتنی دیر میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْيَا وَالَّذِي هُوَ أَهْدَى وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْدَى وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى وَالَّذِي هُوَ أَهْيَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا مَرْثَدٍ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَكُلُّنَا فَارِسٌ فَقَالَ انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ كَذَا قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ خَاخٍ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ رَوْضَةَ كَذَا وَكَذَا وَحَدَّثَنَاهُ عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ حُصَيْنٍ مِثْلَهُ قَالَ رَوْضَةَ خَاخٍ
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے خط سے متعلق یہ روایت مختلف رواۃ سے مروی ہے جو اس جگہ کا نام کبھی روضہ خاخ بتاتے ہیں ، بعض صرف خاخ بتاتے ہیں اور بعض روضہ کذا و کذا کہتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا كُنْتُ لِأُقِيمَ عَلَى رَجُلٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْهُ إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ فَلَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ وَزَادَ سُفْيَانُ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص پر بھی میں نے کوئی شرعی سزا نافذ کی ہو، اس کے متعلق مجھے اپنے دل میں کوئی کھٹک محسوس نہیں ہوتی، سوائے شرابی کے کہ اگر اس کی سزا اسی کوڑے جاری کرنے کے بعد کوئی شخص مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کرتا ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی (کہ چالیس کوڑے مارے جائیں یا اسی) ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقُلْتُ تَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْكَ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ اسْتَغْفَرَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَهُوَ مُشْرِكٌ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو اپنے مشرک والدین کے دعاء مغفرت کرتے ہوئے سنا تو میں نے کہا کہ کیا تم اپنے مشرک والدین کے لئے دعاء مغفرت کر رہے ہو؟ اس نے کہا کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے مشرک باپ کے لئے دعاء مغفرت نہیں کرتے تھے؟ میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ پیغمبر اور اہل ایمان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لئے دعاء مغفرت کریں ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنْ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَسْفَاهُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَإِذَا لَقِيتَهُمْ فَاقْتُلْهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا جب میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گرجانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور جب کسی اور کے حوالے سے کوئی بات کروں تو میں جنگجو آدمی ہوں اور جنگ تو نام ہی تدابیر اور چال کا ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے قریب ایسی اقوام نکلیں گی جن کی عمر تھوڑی ہوگی اور عقل کے اعتبار سے وہ بیوقوف ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کریں گے، لیکن ایمان ان کے گلے سے آگے نہیں جائے گا، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو کیونکہ ان کا قتل کرنا قیامت کے دن باعث ثواب ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ قَالَ شُكْرَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ قَالَ تَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ تم نے اپنا حصہ یہ بنا رکھا ہے کہ تم تکذیب کرتے رہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ کہتے ہو فلاں فلاں ستارے کے طلوع و غروب سے بارش ہوئی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُرَاهُ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہئے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ وَأَبَا مَرْثَدٍ وَكُلُّنَا فَارِسٌ فَقَالَ انْطَلِقُوا حَتَّى تَبْلُغُوا رَوْضَةَ خَاخٍ كَذَا قَالَ أَبُو عَوَانَةَ فَإِنَّ فِيهَا امْرَأَةً مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے خط والی روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ میت کے قرض کی ادائیگی اجراء نفاذ وصیت سے پہلے ہوگی جبکہ قرآن میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے ہے اور یہ کہ اخیافی بھائی تو وارث ہوں گے لیکن علاتی بھائی وارث نہ ہوں گے۔ فائدہ : ماں شریک بھائی کو اخیافی اور باپ شریک بھائی کو علاتی کہتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْيَا وَالَّذِي هُوَ أَهْدَى وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ فَقَالَ انْطَلِقْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَوَارَيْتُهُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ دَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِنَّ مَا عَرُضَ مِنْ شَيْءٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب خواجہ ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا اور گمراہ چچا مر گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے کسی گڑھے میں چھپا دو اور میرے پاس آنے سے پہلے کسی سے کوئی بات نہ کرنا، چنانچہ میں گیا اور اسے ایک گڑھے میں چھپا دیا، نبی صلی اللہ علیہ نے اس کے بعد مجھے غسل کرنے کا حکم دیا اور مجھے اتنی دعائیں دیں کہ ان کے مقابلے میں کسی وسیع و عریض چیز کی میری نگاہوں میں کوئی حیثیت نہیں ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجَنَازَةِ فَقُمْنَا ثُمَّ جَلَسَ فَجَلَسْنَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجاتے تھے تو ہم بھی کھڑے ہو جاتے تھے پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تو ہم بھی بیٹھنے لگے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَجْمَلِ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ قَالَ وَمَنْ هِيَ قُلْتُ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنْ النَّسَبِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کو قریش کی ایک خوبصورت ترین دوشیزہ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے بھی وہ تمام رشتے حرام قرار دئیے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام قرار دیئے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَكِنْ هَاتُوا رُبُعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ چھوڑی دی ہے اس لئے چاندی کی زکوۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ وَكِيعٌ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُنَيْنٍ وَقَالَ عُثْمَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ الْمُعَصْفَرِ وَالتَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے " میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں" سونے کی انگوٹھی اور عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے منع کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ عِنْدَكَ شَيْءٌ قُلْتُ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ هِيَ ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی! فرمایا کہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے) در اصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امیرحمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَحَرَ الْبُدْنَ أَمَرَنِي أَنْ أَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ زَادَ سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا عَلَى جِزَارَتِهَا شَيْئًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اونٹ ذبح کیے تو مجھے حکم دیا کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کردوں اور گوشت بھی تقسیم کردوں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ الْمِيثَرَةِ وَعَنْ الْقَسِّيِّ وَعَنْ الْجِعَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش اور جو کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَيْقَظَ أَهْلَهُ وَرَفَعَ الْمِئْزَرَ قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ مَا رَفَعَ الْمِئْزَرَ قَالَ اعْتَزَلَ النِّسَاءَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے اور تہہ بند کس لیتے، کسی نے راوی سے پوچھا کہ تہبند کس لینے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ازواج مطہرات سے جدا رہتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ وَإِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات کو جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي يُوسُفُ الصَّفَّارُ مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ شَدَّ الْمِئْزَرَ وَأَيْقَظَ نِسَاءَهُ قَالَ ابْنُ وَكِيعٍ رَفَعَ الْمِئْزَرَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے اور تہہ بند کس لیتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ فَصَاعِدًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ قربانی کے جانوروں کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں ان میں کوئی عیب تو نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي هَاشِمِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ فَهُوَ مَا شَاءَ اللَّهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور تیسرے نمبر پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اب اللہ جو چاہے گا وہ ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑوں پر گدھوں کو کدوانے سے (جفتی کروانے سے) منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ وَخَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین عورت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں اور بہترین عورت حضرت مریم بنت عمران ہیں رضی اللہ عنہا ہیں ۔
-
وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ أُرَاهُ قَالَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ فَنَكَتَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَمَقْعَدُهُ مِنْ النَّارِ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ قَالَ لَا اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ کسی جنازے کے ساتھ بقیع میں تھے کہ نبی صی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے گرد بیٹھ گئے، آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ خواہ جنت ہو یا جہنم اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے اور یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ شقی ہے یا سعید؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر ہم اپنی کتاب پر بھروسہ کر کے عمل کو چھوڑ نہ دیں؟ کیونکہ جو اہل سعادت میں سے ہوگا وہ سعادت حاصل کر لے گا اور جو اہل شقاوت میں سے ہوگا وہ شقاوت پالے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کیے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسباب پیدا کر دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اطْلُبُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَإِنْ غُلِبْتُمْ فَلَا تُغْلَبُوا عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو، اگر پورے عشرے میں نہ کر سکو تو آخری سات راتوں میں اس کی تلاش سے مغلوب نہ ہوجانا (آخری سات راتوں میں اسے ضرور تلاش کرنا)
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يُؤْمِنَ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَأَنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لے آئے، اللہ پر ایمان لے آئے اور یہ کہ اس نے مجھے برحق نبی بنا کر بھیجا ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ الْمِيثَرَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَيَرْفَعُ الْمِئْزَرَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے اور تہہ بند کس لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ عَنْ شُعْبَةَ وَإِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ قَالَ كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ فَدَعَا ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ عُثْمَانُ لَهُ ذُؤَابَةٌ
ھبیرہ بن یریم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو بلایا جس کا نام عثمان تھا اس کے بالوں کی مینڈھیاں بنی ہوئی تھیں ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ أَبِي يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ فَكَانَ عَلِيٌّ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ فَقِيلَ لَهُ لَوْ سَأَلْتَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَمِدٌ فَتَفَلَ فِي عَيْنِي وَقَالَ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدُ قَالَ وَقَالَ لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَيْسَ بِفَرَّارٍ قَالَ فَتَشَرَّفَ لَهَا النَّاسُ قَالَ فَبَعَثَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کے وقت مختلف امور پر بات چیت کیا کرتے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عجیب عادت تھی کہ وہ سردی کے موسم میں گرمی کے کپڑے اور گرمی کے موسم میں سردی کے کپڑے پہن لیا کرتے تھے، کسی نے میرے والد صاحب سے کہا کہ اگر آپ اس چیز کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھیں تو شاید وہ جواب دے دیں؟ چنانچہ والد صاحب کے سوال کرنے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ غزوہ خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس ایک قاصد بھیجا، مجھے آشوب چشم کی بیماری لاحق تھی، اس لیے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے تو آشوب چشم ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر میری آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ! اس کی گرمی سردی دور فرما، اس دن سے آج تک مجھے کبھی گرمی اور سردی کا احساس ہی نہیں ہوا۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور خود اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں محبوب ہوگا، وہ بھاگنے والا نہ ہوگا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو نمایاں کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جھنڈا مجھے عنایت فرما دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو السَّرِيِّ هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ فِي حَدِيثِهِ أَمَا تَغَارُونَ أَنْ يَخْرُجَ نِسَاؤُكُمْ وَقَالَ هَنَّادٌ فِي حَدِيثِهِ أَلَا تَسْتَحْيُونَ أَوْ تَغَارُونَ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ نِسَاءَكُمْ يَخْرُجْنَ فِي الْأَسْوَاقِ يُزَاحِمْنَ الْعُلُوجَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا تمہیں شرم یا غیرت نہیں آتی کہ تمہاری عورتیں گھروں سے باہر نکلیں، مجھے پتہ چلا ہے کہ تمہاری عورتیں بازاروں میں نکل کر طاقتور لوگوں کے رش میں گھس جاتی ہیں (ان کا جسم مردوں سے ٹکراتا ہے اور انہیں کچھ خبر نہیں ہوتی کہ ان کے جسم کا کون ساحصہ مرد کے جسم کے کون سے حصے سے ٹکراتا ہے) ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ سَلْ عَنْ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ قِيلَ لِمُحَمَّدٍ كَانَ يَرْفَعُهُ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ يَرَى أَنَّهُ مَرْفُوعٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ يَهَابُهُ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ لَعَنَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُتَوَشِّمَةَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ قُلْتُ إِلَّا مِنْ دَاءٍ قَالَ نَعَمْ وَالْحَالَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَقَالَ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ النَّوْحِ وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ فَقُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے سودخور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ عِمْرَانَ الْوَاسِطِيُّ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَهَذَا لَفْظُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنْ النَّارِ قَالَ عَلِيٌّ فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي كَمَا تَرَوْنَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے، بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ عُمَيْرٍ قَالَ شَرِيكٌ قُلْتُ لَهُ عَمَّنْ يَا أَبَا عُمَيْرٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ قَالَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْهَامَةِ مُشْرَبًا حُمْرَةً شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ضَخْمَ اللِّحْيَةِ طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ يَمْشِي فِي صَبَبٍ يَتَكَفَّأُ فِي الْمِشْيَةِ لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بڑا، رنگ سرخی مائل سفید اور داڑھی گھنی تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، سینے سے لے کرناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، سر کے بال گھنے اور ہلکے گھنگھریالے تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے قد کے، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مستقل قرآن پڑھاتے رہتے تھے الا یہ جنبی ہو جاتے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِىُّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي فَجَاءَ عَلِيٌّ فَقَامَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ أَمَرَ أَبَا مُوسَى بِأُمُورٍ مِنْ أُمُورِ النَّاسِ قَالَ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلْ اللَّهَ الْهُدَى وَأَنْتَ تَعْنِي بِذَلِكَ هِدَايَةَ الطَّرِيقِ وَاسْأَلْ اللَّهَ السَّدَادَ وَأَنْتَ تَعْنِي بِذَلِكَ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ وَنَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوْ هَذِهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى قَالَ فَكَانَ قَائِمًا فَمَا أَدْرِي فِي أَيَّتِهِمَا قَالَ وَنَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِيثَرَةِ وَعَنْ الْقَسِّيَّةِ قُلْنَا لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَيُّ شَيْءٍ الْمِيثَرَةُ قَالَ شَيْءٌ يَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى رِحَالِهِنَّ قَالَ قُلْنَا وَمَا الْقَسِّيَّةُ قَالَ ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنْ قِبَلِ الشَّامِ مُضَلَّعَةٌ فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ قَالَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَلَمَّا رَأَيْتُ السَّبَنِيَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِيَ
حضرت ابو بردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے آکر ہمیں سلام کیا اور میرے والد صاحب کو لوگوں کا کوئی معاملہ سپرد فرمایا اور فرمانے لگے کہ مجھ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا اللہ سے ہدایت کی دعاء مانگا کرو اور ہدایت سے ہدایت الطریق مراد لے لیا کرو اور اللہ سے درستگی کی دعاء کیا کرو اور آپ اس سے تیر کی درستگی مراد لے لیا کرو ۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شہادت یا درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اس لئے انگلیوں کے اشارہ میں صحیح طور پر سمجھ نہ سکا، پھر انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سرخ دھاری دار اور ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے، ہم نے پوچھا امیرالمومنین! " میثرہ " (یہ لفظ حدیث میں استعمال ہوا ہے) سے کیا مراد ہے؟ یہ کیا چیز ہوتی ہے؟ فرمایا عورتیں اپنے شوہروں کی سواری کے کجاوے پر رکھنے کے لئے ایک چیز بناتی تھیں (جسے زین پوش کہا جاتا ہے) اس سے وہ مراد ہے ، پھر ہم نے پوچھا کہ " قسیہ" سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا شام کے وہ کپڑے جن میں " اترج " جیسے نقش و نگار بنے ہوتے تھے، ابو بردہ کہتے ہیں کہ جب میں نے کتان کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مَيْسَرَةَ وَزَاذَانَ قَالَا شَرِبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَائِمًا ثُمَّ قَالَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ جَالِسًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ جَالِسًا
میسرہ رحمہ اللہ اور زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا اور فرمایا اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مسح کی اجازت دی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَأَنْ أَقَعَ مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ وَلَكِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ
ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا جب میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گر جانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور جنگ تو نام ہی تدبیر اور چال کا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ شَرِبَ قَائِمًا فَنَظَرَ النَّاسُ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَنْظُرُونَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگ ان کی طرف تعجب سے دیکھنے لگے، انہوں نے فرمایا مجھے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہے ہو؟ اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنِي وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم مبارک کی رگ سے زائد خون نکلوایا اور یہ کام کرنے والے کو "جسے حجام کہا جاتا تھا" اس کی مزدوری دے دی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم مبارک کی رگ سے زائد خون نکلوایا اور یہ کام کرنے والے کو "جسے حجام کہا جاتا تھا" اس کی مزدوری دے دی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَتْ خَدِيجَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمَا فِي النَّارِ قَالَ فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهَا قَالَ لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لَأَبْغَضْتِهِمَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَلَدِي مِنْكَ قَالَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ان دو بچوں کے متعلق پوچھا جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوگئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دونوں جہنم میں ہیں، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے چہرے پر اس کے نا خوشگوار اثرات دیکھے تو فرمایا کہ اگر تم ان دونوں کا ٹھکانہ دیکھ لیتیں تو تمہیں بھی ان سے نفرت ہو جاتی۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر میرے ان بچوں کا کیا ہوگا جو آپ سے ہوئے ہیں؟ فرمایا وہ جنت میں ہیں، پھر فرمایا کہ مومنین اور ان کی اولاد جنت میں ہوگی اور مشرکین اور ان کی اولاد جہنم میں ہوگی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور اس ایمان لانے میں ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی، ہم انہیں ان کی اولاد سے ملا دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَاعِدًا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ فَقَالَ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ بُطُونَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خندق کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ خَيْرٍ قَالَ جَلَسَ عَلِيٌّ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ قَالَ لِغُلَامِهِ ائْتِنِي بِطَهُورٍ فَأَتَاهُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ فَأَخَذَ بِيَمِينِهِ الْإِنَاءَ فَأَكْفَأَهُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ فَعَلَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنْ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَغَرَفَ بِكَفِّهِ فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ
عبد خیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز پڑھ کر " رحبہ " کے پاس بیٹھ گئے، پھر اپنے غلام سے وضو کا پانی لانے کے لئے فرمایا، وہ ایک برتن لایا جس میں پانی تھا اور ایک طشت، انہوں نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلنے لگے، پھر دونوں ہتھیلیوں کو دھویا (پھر دائیں ہاتھ سے اسی طرح کیا) تین مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد داہنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کی، تین مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد داہنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر تین مرتبہ داہنا ہاتھ کہنی سمیت دھویا، پھر بایاں ہاتھ تین مرتبہ کہنی سمیت دھویا، پھر داہنا ہاتھ برتن میں اچھی طرح ڈبو کر باہر نکالا اور اس پر جو پانی لگ گیا تھا بائیں ہاتھ پر مل کر دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا اور بائیں ہاتھ سے اسے مل کر دھویا، پھر بائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا اور بائیں ہاتھ سے اسے مل کر دھویا تین مرتبہ اسی طرح کیا، پھر داہنا ہاتھ برتن میں ڈال کر چلو بھر پانی نکالا اور اسے پی کر فرمایا یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ، جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ یہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ اللَّهُمَّ امْلَأْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جُعْتُ مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ جُوعًا شَدِيدًا فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْعَمَلَ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَدْ جَمَعَتْ مَدَرًا فَظَنَنْتُهَا تُرِيدُ بَلَّهُ فَأَتَيْتُهَا فَقَاطَعْتُهَا كُلَّ ذَنُوبٍ عَلَى تَمْرَةٍ فَمَدَدْتُ سِتَّةَ عَشَرَ ذَنُوبًا حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَأَصَبْتُ مِنْهُ ثُمَّ أَتَيْتُهَا فَقُلْتُ بِكَفَّيَّ هَكَذَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَبَسَطَ إِسْمَاعِيلُ يَدَيْهِ وَجَمَعَهُمَا فَعَدَّتْ لِي سِتَّةَ عَشْرَ تَمْرَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكَلَ مَعِي مِنْهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بھوک کی شدت سے تنگ آکر میں اپنے گھر سے نکلا میں ایک عورت کے پاس سے گذرا، جس نے کچھ گارا اکٹھا کر رکھا تھا، میں سمجھ گیا کہ یہ اسے پانی سے تربتر کرنا چاہتی ہے، میں نے اس کے پاس آکر اس سے یہ معاہدہ کیا کہ ایک ڈول کھینچنے کے بدلے تم مجھے ایک کھجور دوگی، چنانچہ میں نے سولہ ڈول کھینچے یہاں تک کہ میرے ہاتھ تھک گئے پھر میں نے پانی کے پاس آکر پانی پیا، اس کے بعد اس عورت کے پاس آکر اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا دیا اور اس نے گن کر سولہ کھجوریں میرے ہاتھ پر رکھ دیں میں وہ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہیں یہ سارا واقعہ بتایا اور کچھ کھجوریں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلادیں اور کچھ خود کھالیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِي جَنَابٍ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِينَ فَرَغَ كَمْ خَرَاجُكَ قَالَ صَاعَانِ فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُهُ صَاعًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے، فراغت کے بعد پچھنے لگانے والے سے اس کی مزدوری پوچھی، اس نے دو صاع بتائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک صاع کم کر دیا اور مجھے ایک صاع اس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَرَتْ فَأَمَرَنِي أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَوَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا فَأَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِهَا فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمَةٍ لَهُ فَجَرَتْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خادمہ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا کہ اس کا تو خون ہی بند نہیں ہو رہا، میں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اس کا خون بند ہو جائے تب اس پر حد جاری کر دینا، یاد رکھو! اپنے غلاموں اور باندیوں پر بھی حد جاری کیا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهَلَّ بِهِمَا فَقَالَ لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ مَعًا فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْهُ وَأَنْتَ تَفْعَلُهُ قَالَ لَمْ أَكُنْ أَدَعُ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ
مروان بن حکم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حج تمتع یعنی حج اور عمرہ کو ایک ہی سفر میں جمع کرنے سے منع فرماتے تھے، یہ دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دونوں کا احرام باندھ لیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ میں نے اس کی ممانعت کا حکم جاری کر دیا ہے اور آپ پھر بھی اس طرح کر رہے ہیں؟ فرمایا لیکن کسی کی بات کے آگے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو نہیں چھوڑ سکتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَإِسَحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ جَمِيعًا عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مَيْسَرَةَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَرِبَ قَائِمًا فَقُلْتُ تَشْرَبُ وَأَنْتَ قَائِمٌ قَالَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا
میسرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کھڑے ہو کر پانی پی رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَى فِي يَدِهَا وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَيْهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَكَانِكُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آٹا پیس پیس کر ہاتھوں میں نشان پڑگئے ہیں، اس دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ قیدی آئے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ سلم نہ ملے، تو وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا کر واپس آگئیں ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی، چنانچہ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہم نے کھڑا ہونا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ رہو، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بیٹھ گئے، حتی کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی اور فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو٣٣ مرتبہ سبحان اللہ،٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ فِي حَدِيثِهِ عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَمَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ زَنَتْ لِأَجْلِدَهَا الْحَدَّ قَالَ فَوَجَدْتُهَا فِي دِمَائِهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لِي إِذَا تَعَالَتْ مِنْ نُفَاسِهَا فَاجْلِدْهَا خَمْسِينَ وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا جَفَّتْ مِنْ دِمَائِهَا فَحُدَّهَا ثُمَّ قَالَ أَقِيمُوا الْحُدُودَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سیاہ فام خادمہ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا کہ اس کا تو خون ہی بند نہیں ہو رہا، میں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اس کا خون بند ہوجائے تب اس پر حد جاری کر دینا، یاد رکھو! اپنے غلاموں اور باندیوں پر بھی حد جاری کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَسِيرُ حَتَّى إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَأَظْلَمَ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ عَلَى أَثَرِهَا ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا شَكَتْ إِلَى أَبِيهَا مَا تَلْقَى مِنْ يَدَيْهَا مِنْ الرَّحَى فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ (جب سفر پر روانہ ہوتے تو) چلتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب سورج غروب ہو جاتا اور اندھیرا چھا جاتا تو وہ اتر کر مغرب کی نماز اس کے آخر وقت میں ادا کرتے اور اس کے فورا بعد ہی عشاء کی نماز اس کے اول وقت میں ادا کر لیتے اور فرماتے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حدیث نمبر (١١٤١) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ تَبْعَثُنِي وَأَنَا رَجُلٌ حَدِيثُ السِّنِّ وَلَيْسَ لِي عِلْمٌ بِكَثِيرٍ مِنْ الْقَضَاءِ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ وَيَهْدِي قَلْبَكَ قَالَ فَمَا أَعْيَانِي قَضَاءٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نوعمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعا کوئی علم نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مار کر فرمایا اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہوا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ فَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَالْعُمْرَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهَا فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنَا مِنْكَ
حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مقام عسفان میں اکٹھے ہوگئے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے روکتے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کام کو کیا ہو، اس سے روکنے میں آپ کا کیا مقصد ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ مسئلہ رہنے ہی دیجئے۔ (کیونکہ میں نے اسکا حکم نہیں دیا، صرف مشورہ کے طور پر یہ بات کہی ہے)
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ يَقُولُ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنَّ يَوْمَ أُحُدٍ جَعَلَ يَقُولُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے سوائے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا غزوہ احد کے دن آپ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کہ سعد تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَمُعَاذٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ وَقَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ فِي حَدِيثِهِ ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَوْلُ الْغُلَامِ الرَّضِيعِ يُنْضَحُ وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ قَالَ قَتَادَةُ وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ فَإِذَا طَعِمَا الطَّعَامَ غُسِلَا جَمِيعًا قَالَ عَبْد اللَّهِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو خَيْثَمَةَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَ قَتَادَةَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا، قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو اور جب وہ کھانا پینا شروع کر دیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّضِيعِ يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ قَالَ قَتَادَةُ وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیرخوار بچے کے متعلق ارشاد فرمایا بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا، قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو اور جب وہ کھانا پینا شروع کردیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا أَوْ بُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ شَكَّ شُعْبَةُ فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ نَارًا شَكَّ فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ فَأَمَّا الْقُبُورُ فَلَيْسَ فِيهِ شَكٌّ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھایا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ حُلَّةٌ مِنْ حَرِيرٍ فَكَسَانِيهَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسْتُ أَرْضَى لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي قَالَ فَأَمَرَنِي فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي خُمُرًا بَيْنَ فَاطِمَةَ وَعَمَّتِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز میں اپنے لیے ناپسند سمجھتا ہوں، تمہارے لیے بھی اسے پسند نہیں کر سکتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر میں نے اسے اپنی عورتوں یعنی فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اس کی پھوپھی میں تقسیم کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عُتَيْبَةُ وَهُوَ الضَّرِيرُ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكَ دِينَارًا وَدِرْهَمًا فَقَالَ كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہوگیا، کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! انہوں نے ترکہ میں ایک دینار اور ایک درہم چھوڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں جن سے داغا جائے گا، تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ قَالَ قَتَادَةُ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ قُلْتُ مَا عَضَبُ الْأُذُنِ فَقَالَ إِذَا كَانَ النِّصْفَ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف یا اس سے زیادہ سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ قَالَ قَتَادَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ نَعَمْ الْعَضَبُ النِّصْفُ أَوْ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف یا اس سے زیادہ سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَوْ نَهَانِي عَنْ الْمِيثَرَةِ وَالْقَسِّيِّ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمَّارًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الطَّيِّبُ الْمُطَيَّبُ ائْذَنْ لَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اتنی دیر میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ مُضَرِّبٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا لَيْلَةَ بَدْرٍ وَمَا مِنَّا إِنْسَانٌ إِلَّا نَائِمٌ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي إِلَى شَجَرَةٍ وَيَدْعُو حَتَّى أَصْبَحَ وَمَا كَانَ مِنَّا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے درمیان ہر شخص سو جاتا تھا ، سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ایک درخت کے نیچے نماز پڑھتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور غزوہ بدر کے دن حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں کوئی گھڑ سوار نہ تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ جَاءَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ حَدِّثْنِي مَا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَانِي عَنْ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْجِعَةِ وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ قَالَ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَعَنْ الْحَرِيرِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ قَالَ وَأُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَكَسَانِيهَا فَخَرَجْتُ فِيهَا فَأَخَذَهَا فَأَعْطَاهَا فَاطِمَةَ أَوْ عَمَّتَهُ إِسْمَاعِيلُ يَقُولُ ذَلِكَ حَدَّثَنَاه يُونُسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ جَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں زید بن صوحان آگئے اور سلام کر کے کہنے لگے امیرالمومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں سے آپ لوگوں کو روکا تھا ہمیں بھی ان سے روکیے، انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کدو کی تونبی، سبز مٹکے، لکڑی کے برتن، لکڑی کو کھود کر بنائے گئے برتن کو استعمال کرنے اور جو کی نبیذ سے منع فرمایا (کیونکہ ان میں شراب کشید کی جاتی تھی) نیز ریشم، سرخ زین پوش، خالص ریشم اور سونے کے حلقوں سے منع فرمایا۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا، میں وہ پہن کر باہر نکلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما یا ان کی پھوپھی کو بھجوا دیا۔ گذشتہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ حُصَيْنٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ إِلَّا الْحَدَثُ لَا أَسْتَحْيِيكُمْ مِمَّا لَا يَسْتَحْيِي مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالْحَدَثُ أَنْ يَفْسُوَ أَوْ يَضْرِطَ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا لوگو! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نماز " حدث " کے علاوہ کسی اور چیز سے نہیں ٹوٹتی اور میں تم سے اس چیز کو بیان کرنے میں شرم نہیں کروں گا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرم محسوس نہیں فرمائی، حدث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی ہوا نکل جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ أَبُو عَبَّادٍ الذَّارِعُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عُتَيْبَةُ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ وَتَرَكَ دِينَارًا وَدِرْهَمًا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكَ دِينَارًا وَدِرْهَمًا فَقَالَ كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہوگیا، کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! انہوں نے ترکہ میں ایک دینار اور ایک درہم چھوڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں جن سے داغا جائے گا، تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا مَشَى فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ فِي الرَّحْمَةِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وُكِّلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لئے جاتا ہے گویا وہ جنت کے باغات میں چلتا ہے، جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت کے سمندر میں غوطے کھاتا ہے اور جب وہاں سے واپس روانہ ہوتا ہے تو اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیئے جاتے ہیں جو اس دن اس کے لئے بخشش کی دعاء مانگتے رہتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي جَنَازَةٍ فَقُمْنَا وَرَأَيْتُهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجاتے تھے تو ہم بھی کھڑے ہو جاتے تھے پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی بیٹھے رہنے لگے تو ہم بھی بیٹھنے لگے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ قَالَ وَنَهَى أَوْ نَهَانِي عَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ وَعَنْ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ أَوْ الْوُسْطَى
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعاء پڑھا کرو اے اللہ میں تجھ سے ہدایت اور سداد کا سوال کرتا ہوں اور ہدایت کا لفظ بولتے وقت راستے کی رہنمائی کو ذہن میں رکھا کرو ، اور سداد کا لفظ بولتے وقت تیر کی درستگی کو ذہن میں رکھا کرو نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم، سرخ زین پوش اور سبابہ یا وسطی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَوْنٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ ذَكَرْتُ ابْنَةَ حَمْزَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي الْمُوَرِّعِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ مَنْ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَلَا يَدَعُ قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخَهَا وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا ثُمَّ هَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَجَلَسَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَدَعْ بِالْمَدِينَةِ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخْتُهَا وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَّرْتُهُ قَالَ فَقَالَ مَنْ عَادَ فَصَنَعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ يَا عَلِيُّ لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا أَوْ قَالَ مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ الْخَيْرِ فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمْ الْمُسَوِّفُونَ فِي الْعَمَلِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ ایک جنازے میں شریک تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کون شخص مدینہ منورہ جائے گا کہ وہاں جا کر کوئی بت ایسا نہ چھوڑے جسے اس نے توڑ نہ دیا ہو، کوئی قبر ایسی نہ چھوڑے جسے برابر نہ کردیا اور کوئی تصویر ایسی نہ دیکھے جس پر گارا اور کیچڑ نہ مل دے؟ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں یہ کام کروں گا، چنانچہ وہ آدمی روانہ ہوگیا، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچا تو وہ اہل مدینہ سے مرعوب ہو کر واپس لوٹ آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں جاتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ جب وہ واپس آئے تو عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے جہاں بھی کسی نوعیت کا بت پایا اسے توڑ دیا، جو قبر بھی نظر آئی اسے برابر کر دیا اور جو تصویر بھی دکھائی دی اس پر کیچڑ ڈال دیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جو شخص ان کاموں میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا گویا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی کا انکار کرتا ہے، نیز یہ بھی فرمایا کہ اے علی! تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے یا شیخی خورے مت بننا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَوْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا قَالَ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آگئے حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے نہیں دیا تھا ، پھر مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَلَائِكَةُ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا جُنُبٌ وَلَا كَلْبٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی جنبی ہو، یا تصویر یا کتا ہو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ أُتِيَ بِتَوْرٍ فَأَخَذَ حَفْنَةَ مَاءٍ فَمَسَحَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ وَوَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أُتِيَ بِكُوزٍ
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے تاکہ لوگوں کے مسائل حل کریں، جب نماز عصر کا وقت آیا تو انہوں نے چلو بھر کر پانی لیا اور اپنے ہاتھوں، بازؤوں، چہرے، سر اور پاؤں پانی کا گیلا ہاتھ پھیرا، پھر کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا ہے اور جو آدمی بے وضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَهُ أَنْ يُسَوِّيَ الْقُبُورَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ انہیں مدینہ منورہ بھیجا اور تمام قبریں برابر کرنے کا حکم دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنِ الْحَكَمِ بنِ عُتَيْبَةَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَنْ يُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ يُلَطِّخَ كُلَّ صَنَمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَدْخُلَ بُيُوتَ قَوْمِي قَالَ فَأَرْسَلَنِي فَلَمَّا جِئْتُ قَالَ يَا عَلِيُّ لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ فَإِنَّ أُولَئِكَ مُسَوِّفُونَ أَوْ مَسْبُوقُونَ فِي الْعَمَلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ وَأَهْلُ الْبَصْرَةِ يُكَنُّونَهُ أَبَا مُوَرِّعٍ قَالَ وَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ عَنْ أَبِي شِهَابٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری آدمی کو بھیجا اور اسے حکم دیا کہ ہر قبر برابر کر دو اور ہر بت پر گارا مل دو، اس نے کہا یا رسول اللہ! میں اپنی قوم کے گھروں میں داخل نہیں ہونا چاہتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا، جب میں واپس آیا تو فرمایا کہ تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے یا شیخی خورے مت بنا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ قَالَ حَجَّاجٌ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ قَالَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا مَعَ الِاسْتِنْشَاقِ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا قَالَ حَجَّاجٌ ثَلَاثًا ثَلَاثًا بِيَدٍ وَاحِدَةٍ وَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي التَّوْرِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ قَالَ حَجَّاجٌ فَأَشَارَ بِيَدَيْهِ مِنْ مُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ قَالَ وَلَا أَدْرِي أَرَدَّهَا إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ أَمْ لَا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا قَالَ حَجَّاجٌ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کرسی لائی گئی، میں نے انہیں اس پر بیٹھے ہوئے دیکھا، پھر ایک برتن لایا گیا، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر ایک ہی پانی سے تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ آگے سے پیچھے کی طرف مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چاہے تو وہ یہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ قَالَ الْتَمِسُوا إِلَيَّ الْمُخْدَجَ فَطَلَبُوهُ فِي الْقَتْلَى فَقَالُوا لَيْسَ نَجِدُهُ فَقَالَ ارْجِعُوا فَالْتَمِسُوا فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ فَرَجَعُوا فَطَلَبُوهُ فَرَدَّدَ ذَلِكَ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يَحْلِفُ بِاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ فَانْطَلَقُوا فَوَجَدُوهُ تَحْتَ الْقَتْلَى فِي طِينٍ فَاسْتَخْرَجُوهُ فَجِيءَ بِهِ فَقَالَ أَبُو الْوَضِيءِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حَبَشِيٌّ عَلَيْهِ ثَدْيٌ قَدْ طَبَقَ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ مِثْلُ شَعَرَاتٍ تَكُونُ عَلَى ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ
ابوا لوضی کہتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل نہروان کے ساتھ جنگ میں مشغول تھے تو میں وہاں موجود تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا مقتولین میں ایک ایسا آدمی تلاش کرو جس کا ہاتھ ناقص اور نامکمل ہو، لوگوں نے اسے لاشوں میں تلاش کیا لیکن وہ نہیں ملا اور لوگ کہنے لگے کہ ہمیں نہیں مل رہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا دوبارہ جا کر تلاش کرو، بخدا! میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا ۔ کئی مرتبہ اسی طرح ہوا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ہر مرتبہ لوگوں کو تلاش کرنے کے لئے دوبارہ بھیجتے رہے اور ہر مرتبہ قسم کھا کر یہ فرماتے رہے کہ نہ میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا، آخری مرتبہ جب لوگوں نے اسے تلاش کیا تو وہ انہیں مقتولین کی لاشوں کے نیچے مٹی میں پڑا ہوا مل گیا، انہوں نے اسے نکالا اور لا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ابو الوضی کہتے ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا میں اب بھی اسے اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں وہ ایک حبشی تھا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی جیسا نشان بنا ہوا تھا اور اس چھاتی پر اسی طرح بال تھے جیسے کسی جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور لک سے بنے ہوئے برتن کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنْ النَّارِ أَوْ مِنْ الْجَنَّةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي بِهِ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ فَلَمْ أُنْكِرْ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ شَيْئًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے انتظار میں بیٹھے تھے (آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی) جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ خواہ جنت ہو یا جہنم اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کیے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ عَنِ الْمُنْذِرِ الثَّوْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ الْوُضُوءُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص وضو کر لیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ أَنْ يَرْجُمَ مَجْنُونَةً فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ مَا لَكَ ذَلِكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الطِّفْلِ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَعْقِلَ فَأَدْرَأَ عَنْهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک دیوانی عورت کو رجم کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے کہ تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں ۔ (١) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہوجائے۔ (٢) بچہ، جب تک بالغ نہ ہوجائے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی سزامعطل کردی۔ (٣) مجنون، جب تک اس کی عقل لوٹ نہ آئے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ عَنْ حُضَيْنٍ قَالَ شُهِدَ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ عِنْدَ عُثْمَانَ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ فَكَلَّمَ عَلِيٌّ عُثْمَانَ فِيهِ فَقَالَ دُونَكَ ابْنُ عَمِّكَ فَاجْلِدْهُ فَقَالَ قُمْ يَا حَسَنُ فَقَالَ مَا لَكَ وَلِهَذَا وَلِّ هَذَا غَيْرَكَ فَقَالَ بَلْ عَجَزْتَ وَوَهَنْتَ وَضَعُفْتَ قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ فَجَلَدَهُ وَعَدَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا كَمَّلَ أَرْبَعِينَ قَالَ حَسْبُكَ أَوْ أَمْسِكْ جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ
حضین کہتے ہیں کہ کوفہ سے کچھ لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ولید کی شراب نوشی کے حوالے سے کچھ خبریں بتائیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان سے اس حوالے سےگفتگو کی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کا چچا زاد بھائی آپ کے حوالے ہے، آپ اس پر سزا جاری فرمائیے انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حسن! کھڑے ہو کر اسے کوڑے مارو، انہوں نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے، کسی اور کو اسکا حکم دیجئے، فرمایا اصل میں تم کمزور اور عاجز ہوگئے ہو، اس لئے عبداللہ بن جعفر! تم کھڑے ہو کر اس پر سزا جاری کرو، چنانچہ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کوڑے مارتے جاتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے، جب چالیس کوڑے ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا بس کرو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کو چالیس کوڑے مارے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے تھے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی مارے تھے اور دونوں ہی سنت ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ أَتَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ إِنِّي زَنَيْتُ فَقَالَ لَعَلَّكِ غَيْرَى لَعَلَّكِ رَأَيْتِ فِي مَنَامِكِ لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ فَكُلٌّ تَقُولُ لَا فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
امام شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراحہ ہمدانیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھ سے بدکاری کا ارتکاب ہوگیا ہے اس لئے مجھے سزا دیجئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہوسکتا ہے تو نے خواب میں اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہو، شاید تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ لیکن وہ ہر بات کے جواب میں " نہیں" کہتی رہی، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اسے کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اس پر حد رجم فرمائی اور فرمایا کہ میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اسے کوڑے مارے ہیں اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اسے رجم کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَنْبَأَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ يَا فَرُّوخُ أَنْتَ الْقَائِلُ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ أَخْطَتْ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ حَيٌّ وَإِنَّمَا رَخَاءُ هَذِهِ وَفَرَجُهَا بَعْدَ الْمِائَةِ
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گذریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی سب لوگ مر جائیں گے؟ آپ سے اس میں خطا ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گذرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی کہ جس کی پلکیں جھپکتی ہوں، یعنی قیامت مراد نہیں ہے، بخدا! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ قَالَ الْتَمِسُوا الْمُخْدَجَ فِي الْقَتْلَى قَالُوا لَمْ نَجِدْهُ قَالَ اطْلُبُوهُ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ حَتَّى اسْتَخْرَجُوهُ مِنْ تَحْتِ الْقَتْلَى قَالَ أَبُو الْوَضِيءِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حَبَشِيٌّ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ مِثْلُ ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ
ابو الوضی کہتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل نہروان کے ساتھ جنگ میں مشغول تھے تو میں وہاں موجود تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا مقتولین میں ایک ایسا آدمی تلاش کرو جس کا ہاتھ ناقص اور نامکمل ہو، لوگوں نے اسے لاشوں میں تلاش کیا لیکن وہ نہیں ملا اور لوگ کہنے لگے کہ ہمیں نہیں مل رہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا دوبارہ جا کر تلاش کرو، بخدا! میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا ۔ آخری مرتبہ جب لوگوں نے اسے تلاش کیا تو وہ انہیں مقتولین کی لاشوں کے نیچے مٹی میں پڑا ہوا مل گیا، انہوں نے اسے نکالا اور لا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ابو الوضی کہتے ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا میں اب بھی اسے اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک حبشی تھا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی جیسا نشان بنا ہوا تھا اور اس چھاتی پر اسی طرح کے بال تھے جیسے کسی جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا بَلَغْنَا مَسِيرَةَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ مِنْ حَرُورَاءَ شَذَّ مِنَّا نَاسٌ كَثِيرٌ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا يَهُولَنَّكُمْ أَمْرُهُمْ فَإِنَّهُمْ سَيَرْجِعُونَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي أَنَّ قَائِدَ هَؤُلَاءِ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِهِ شَعَرَاتٌ كَأَنَّهُنَّ ذَنَبُ الْيَرْبُوعِ فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا إِنَّا لَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ فَالْتَمِسُوهُ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا فَقُلْنَا لَمْ نَجِدْهُ فَجَاءَ عَلِيٌّ بِنَفْسِهِ فَجَعَلَ يَقُولُ اقْلِبُوا ذَا اقْلِبُوا ذَا حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْكُوفَةِ فَقَالَ هُوَ ذَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَأْتِيكُمْ أَحَدٌ يُخْبِرُكُمْ مَنْ أَبُوهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ هَذَا مَلِكٌ هَذَا مَلِكٌ يَقُولُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابْنُ مَنْ هُوَ
ابو الوضی کہتے ہیں کہ ہم کوفہ کے ارادے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے، جب ہم " حروراء " نامی جگہ سے دو یا تین راتوں کے فاصلے کے برابر رہ گئے تو ہم سے بہت سارے لوگ جدا ہو کرچلے گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہم نے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم گھبراؤ مت، عنقریب یہ لوگ واپس لوٹ آئیں گے، اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا کہ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا تھا کہ ان لوگوں کا قائد ایک ایسا آدمی ہوگا جس کا ہاتھ نامکمل ہوگا اور اس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی جیسی گھنڈی بھی ہوگی جس پر اس طرح کے بال ہوں گے جیسے جنگلی چوہے کی دم ہوتی ہے، تم مقتولین میں اس کی لاش تلاش کرو۔ لوگوں نے اس کی تلاش شروع کی لیکن نہ مل سکی، ہم نے آکر عرض کر دیا کہ ہمیں تو اس کی لاش نہیں مل رہی، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ خود بنفس نفیس اسے تلاش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے اس پلٹو، اسے پلٹو، اتنی دیر میں کوفہ کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یہ رہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور فرمایا تم میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کا باپ کون ہے؟ لوگ کہنے لگے کہ اس کا نام مالک ہے، اس کا نام مالک ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کس کا بیٹاہے؟ (تو اس کا کوئی جواب نہ مل سکا)
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِشَرَاحَةَ لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ لَعَلَّ زَوْجَكِ أَتَاكِ لَعَلَّكِ لَعَلَّكِ قَالَتْ لَا قَالَ فَلَمَّا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا جَلَدَهَا ثُمَّ رَجَمَهَا فَقِيلَ لَهُ جَلَدْتَهَا ثُمَّ رَجَمْتَهَا قَالَ جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (شراحہ ہمدانیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھ سے بدکاری کا ارتکاب ہو گیا ہے اس لئے سزا دیجئے) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہوسکتا ہے تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ شاید وہ تمہارا شوہر ہی ہو، لیکن وہ ہر بات کے جواب میں " نہیں " کہتی رہی، چنانچہ وضع حمل کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے کوڑے مارے اور اس پر حد رجم جاری فرمائی کسی شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اسے کوڑے بھی مارے اور رجم بھی کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اسے کوڑے مارے ہیں اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اسے رجم کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَنَا أَوَّلُ رَجُلٍ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلا نماز پڑھنے والا آدمی میں ہی ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ ثُمَّ شَهِدْتُهُ مَعَ عَلِيٍّ فَصَلَّى قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ تَأْكُلُوا نُسُكَكُمْ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَلَا تَأْكُلُوهَا بَعْدُ
ابو عبید کہتے ہیں کہ عید الفطر اور عید الاضحی دونوں موقعوں پر مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہونے کاموقع ملا ہے، انہوں نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا لوگو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا ہے لہذا تین دن کے بعد اسے مت کھایا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو! ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوَاصِلُ مِنْ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سحری سے سحری تک روزہ ملاتے تھے (غروب آفتاب کے وقت افطار نہ فرماتے تھے)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ جَاءَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ قَالَ فَقَالَ لِي أَبِي اذْهَبْ بِهَذَا الْكِتَابِ إِلَى عُثْمَانَ فَقُلْ لَهُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَكَوْا سُعَاتَكَ وَهَذَا أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ فَمُرْهُمْ فَلْيَأْخُذُوا بِهِ قَالَ فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ فَلَوْ كَانَ ذَاكِرًا عُثْمَانَ بِشَيْءٍ لَذَكَرَهُ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي بِسُوءٍ
محمد بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ کچھ گورنروں کی شکایت لے کر آئے، مجھ سے والد صاحب نے کہا کہ یہ خط حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ لوگ آپ کے گورنروں کی شکایت لے کر آئے ہیں، زکوۃ کی وصولی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اس خط میں درج ہیں، آپ اپنے گورنروں کو حکم جاری کر دیجئے کہ لوگوں سے اسی کے مطابق زکوۃ وصول کریں، چنانچہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے ساری بات دہرادی، راوی کہتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا غیر مناسب انداز میں تذکرہ کرنا چاہتا تو اس دن کے حوالے سے کرتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمُخْدَجِ قَالَ عَلِيٌّ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا فَقَالَ عَلِيٌّ أَمَا إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي ثَلَاثَةَ إِخْوَةٍ مِنْ الْجِنِّ هَذَا أَكْبَرُهُمْ وَالثَّانِي لَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ وَالثَّالِثُ فِيهِ ضَعْفٌ
ابو الوضی کہتے ہیں کہ ہم کوفہ کے ارادے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے، پھر انہوں نے حدیث نمبر1179 ذکر کی اور اس کے آخر میں یہ بھی کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یاد رکھو میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتا رکھا ہے کہ جنات میں تین بھائی ہیں، یہ ان میں سب سے بڑا ہے، دوسرے کے پاس بھی جم غفیر ہے اور تیسرا کمزور ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى رَحْمَوَيْهِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَجَلَسْنَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ مَرَّتَيْنِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ هَذَا وُضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْلَمُوا
عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ کر ہم ان کے پاس ہی بیٹھ گئے انہوں نے وضو کا پانی منگوایا تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر ایک ہی کف سے دو مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، اسے خوب سمجھ لو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ أَتَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِكُوزٍ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا تَمَضْمَضَ مِنْ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ هَذَا
عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ فجر کی نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر ایک ہی کف سے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرنا چاہتا ہے تو وہ یہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا نَاسٌ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ أَفْتَاكُمْ هَذَا فَقَالُوا أَبُو مُوسَى قَالَ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِأَهْلِ الْكِتَابِ فَلَمَّا نُهِيَ انْتَهَى
ابو معمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے وہاں سے ایک جنازہ گذرا ، لوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تمہیں یہ مسئلہ کس نے بتایا ہے؟ لوگوں نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کا نام لیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح صرف ایک مرتبہ کیا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی مشابہت اختیار فرمایا کرتے تھے، لیکن جب اس کی ممانعت کردی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ لِأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ وَمِنْ السَّنَامِ قَالَ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ فَانْطَلَقَ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے مال غنیمت سے مجھے ایک عمر رسیدہ اونٹنی حاصل ہوئی تھی اور ایک ایسی ہی اونٹنی مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، ایک دن میں نے ان دونوں کو ایک انصاری کے گھر کے دروازے پر بٹھایا، میرا ارادہ تھا کہ ان پر اذخر نامی گھاس کو لاد کر بازار لے جاؤں گا اور اسے بیچ دوں گا، میرے ساتھ بنو قینقاع کا ایک سنار بھی تھا، جس سے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں کام لینا چاہتا تھا ۔ ادھر اس انصاری کے گھر میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شراب پی رہے تھے (کیونکہ اس وقت تک شراب کی حرمرت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا) اونٹنیوں کو دیکھ کر وہ اپنی تلوار لے کر ان پر پل پڑے، ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر نکال لیے اور انہیں اندر لے گئے، میں نے جب یہ منظر دیکھا تو میں بہت پریشان ہوا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ نکلے، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ان سے خوب ناراضگی کا اظہار کیا ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا اور فرمایا کہ تم سب میرے باپ کے غلام ہی تو ہو، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس چلے آئے اور یہ واقعہ حرمت شراب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا تُحَدِّثُنَا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَالتَّطَوُّعِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَا تُطِيقُونَهَا فَقَالُوا لَهُ أَخْبِرْنَا بِهَا نَأْخُذْ مِنْهَا مَا أَطَقْنَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ إِمْلَاءً عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ يُصَلِّي إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا كَصَلَاةِ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا كَصَلَاةِ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَبَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کل سولہ رکعتیں پڑھتے تھے، فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے، جب سورج مشرق سے اس مقدار میں نکل آتا جتنا عصر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے، پھر تھوڑی دیر انتظار فرماتے اور جب سورج مشرق سے اتنی مقدار میں نکل آتاجتنا ظہر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَبَلَغَهُ أَنَّهُ رَخَّصَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں ہی نکاح متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فر مادی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تھا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چا ہے وہ اسے دیکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ شَيْخٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ سَالِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ مِنْ أُمَّتِهِ وَأُعْطِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ نَجِيبًا مِنْ أُمَّتِهِ مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
عبداللہ بن ملیل رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو سات نقباء وزراء، نجبا دیئے گئے جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت کے ساتھ چودہ وزراء نقباء نجباء دیئے گئے جن میں حضرات شیخین بھی ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ إِذَا شَهِدَ مَشْهَدًا أَوْ أَشْرَفَ عَلَى أَكَمَةٍ أَوْ هَبَطَ وَادِيًا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي يَشْكُرَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ رَأَيْنَاكَ إِذَا شَهِدْتَ مَشْهَدًا أَوْ هَبَطْتَ وَادِيًا أَوْ أَشْرَفْتَ عَلَى أَكَمَةٍ قُلْتَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهَلْ عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ شَيْئًا فِي ذَلِكَ قَالَ فَأَعْرَضَ عَنَّا وَأَلْحَحْنَا عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا إِلَّا شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ النَّاسَ وَقَعُوا عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَتَلُوهُ فَكَانَ غَيْرِي فِيهِ أَسْوَأَ حَالًا وَفِعْلًا مِنِّي ثُمَّ إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَحَقُّهُمْ بِهَذَا الْأَمْرِ فَوَثَبْتُ عَلَيْهِ فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَصَبْنَا أَمْ أَخْطَأْنَا
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ جب بھی لوگوں کے کسی مجمع کو دیکھتے، یا کسی ٹیلے پر چڑھتے یا کسی وادی میں اتر تے تو فرماتے سبحان اللہ، صدق اللہ و رسولہ، میں نے بنو یشکر کے ایک آدمی سے کہا کہ آؤ، ذرا امیرالمومنین! ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ کسی مجمع کو دیکھیں، کسی وادی میں اتریں یا کسی ٹیلے پر چڑھیں تو آپ صدق اللہ و رسولہ کہتے ہیں ، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے آپ کو کچھ بتا رکھا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمارا سوال سن کر اعراض فرمایا، لیکن ہم نے بہت اصرار کیا جب انہوں نے ہمارا اصرار دیکھا تو فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی بات بتائی ہے تو وہ لوگوں کو بھی بتائی ہے، لیکن لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑ گئے یہاں تک کہ انہیں شہید کر کے ہی دم لیا، اب میرے علاوہ دوسرے لوگوں کا حال بھی کچھ بہتر نہ تھا اور کام بھی، پھر میں نے یہ محسوس کیا کہ مجھے خلافت کا حق بھی پہنچتا ہے اس لئے میں اس سواری پر سوار ہوگیا، اب اللہ جانتا ہے کہ ہم نے صحیح کیا یا غلط؟
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَأَبُو خَيْثَمَةَ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ح قَالَ عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَإِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ تِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَقَلَّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ وَقَالَ أَبِي قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ يَا أَبَا إِسْحَاقَ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِحَدِيثِكَ هَذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ هَذَا ذَهَبًا
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا پورے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی سولہ رکعتیں ہوتی تھیں لیکن ان پر دوام کرنے والے بہت کم ہیں ۔ حبیب بن ابی ثابت نے گذشتہ حدیث بیان کر کے فرمایا اے ابواسحاق! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آپ کی اس حدیث کے عوض مجھے یہ مسجد سونے سے بھر کر دے دی جائے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ کے ساتھ موجود رہوں اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کردوں ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ قَالَ حَمَلَتْ شُرَاحَةُ وَكَانَ زَوْجُهَا غَائِبًا فَانْطَلَقَ بِهَا مَوْلَاهَا إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَعَلَّ زَوْجَكِ جَاءَكِ أَوْ لَعَلَّ أَحَدًا اسْتَكْرَهَكِ عَلَى نَفْسِكِ قَالَتْ لَا وَأَقَرَّتْ بِالزِّنَا فَجَلَدَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ أَنَا شَاهِدُهُ وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأَنَا شَاهِدُهُ فَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَى السُّرَّةِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَتْ نَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ فَهَلَكَ مَنْ كَانَ يَقْرَؤُهَا وَآيًا مِنْ الْقُرْآنِ بِالْيَمَامَةِ
امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ شراحہ ہمدانیہ بچے کی امید سے ہوگئی حالانکہ اس کا شوہر موجود نہیں تھا، چنانچہ اس کا آقا اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہو سکتا ہے وہ تمہارا شوہر ہی ہو، شاید تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ لیکن وہ ہر بات کے جواب میں نہیں کہتی رہی، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اسے کوڑے مارے، اور جمعہ کے دن اس پر حد رجم جاری فرمائی اور میں دونوں موقعوں پر موجود تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ناف تک اس کے لئے گڑھا کھودنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ رجم سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور آیت رجم کا نزول بھی ہوا تھا، بعد میں یمامہ کے وہ لوگ جو آیت رجم اور قرآن کی دیگر آیات پڑھتے تھے، وہ ہلاک ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ مَا يَقُولُ الْآخَرُ تَرَى كَيْفَ تَقْضِي قَالَ فَمَا زِلْتُ بَعْدُ قَاضِيًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا، تم دیکھو گے کہ تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں مسلسل عہدہ قضاء پر فائز رہا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے بہترین عورت حضرت مریم بنت عمران ہیں اور بہترین عورت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ وَيُوَسَّعَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُدْفَعَ عَنْهُ مِيتَةُ السُّوءِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو، اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اسے بری موت سے محفوظ رکھا جائے، اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اہل قرآن وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھایا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ عَنْ رَجُلٍ يُدْعَى حَنَشًا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ فَقَرَأَ يس أَوْ نَحْوَهَا ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ السُّورَةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ أَيْضًا قَدْرَ السُّورَةِ ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا حَتَّى صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ حَتَّى انْكَشَفَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ فَعَلَ
حنش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز کسوف پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، انہوں نے سورت یس یا اس جیسی کوئی سورت تلاوت فرمائی، پھر سورت کے بقدر رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور سورت کی تلاوت کے بقدر کھڑے رہے اور دعا کرتے رہے، پھر تکبیر کہہ کر دوبارہ اتنا ہی طویل رکوع کیا جو سورت کی تلاوت کے بقدر تھا پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر مزید اتنی ہی دیر کھڑے رہے، اس طرح انہوں نے چار رکوع کیے، پھر سجدہ کیا اور دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح یہ دوسری رکعت بھی پرھی، پھر بیٹھ کر دعا کرتے رہے یہاں تک کہ سورج گرہن ختم ہوگیا پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک مرتبہ اسی طرح کیا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي صَلَاةً إِلَّا صَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور عصرکے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَفِي أَوْسَطِهِ وَفِي آخِرِهِ ثُمَّ ثَبَتَ لَهُ الْوَتْرُ فِي آخِرِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصَّلَاةِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ وَإِنْ جَلَسَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص نماز کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس پر صلوۃ پڑھتے رہتے ہیں اور فرشتوں کی صلوۃ یہ دعاء ہے کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ! اس پر رحم فرمادے، اسی طرح اگر وہ بیٹھ کر اگلی نماز کا انتظار کرتا رہے تو فرشتے اس پر بھی صلوۃ پڑھتے ہیں اور ان کی صلوۃ یہی دعاء ہے کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ، اس پر رحم فرما دے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الْوَتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيْدُ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَا لَهُمْ مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھردے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا زَكَرِيَّا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ میت کے قرض کی ادائیگی اجراء نفاذ وصیت سے پہلے ہوگی جبکہ قرآن میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے ہے اور یہ کہ اخیافی بھائی تو وارث ہوں گے لیکن علاتی بھائی وارث نہ ہوں گے۔ فائدہ : ماں شریک بھائی کو اخیافی اور باپ شریک بھائی کو علاتی کہتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ أَقْوَامًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبَ أَحَدُهُمْ وَهُوَ قَائِمٌ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ فَتَمَسَّحَ ثُمَّ قَالَ هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز ظہر کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کوزے میں پانی لایا گیا ، وہ مسجد کے صحن میں تھے، انہوں نے کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ اسے ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر انہوں نے باقی پانی سے مسح کر لیا اور فرمایا جو آدمی بے وضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ لِأَهْلِ النَّهْرَوَانِ مِنْهُمْ رَجُلٌ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَنْبَأْتُكُمْ مَا قَضَى اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ قَتَلَهُمْ قَالَ عَبِيدَةُ فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ آنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَحْلِفُ عَلَيْهَا ثَلَاثًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کیا آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا ہاں ! رب کعبہ کی قسم۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اہل قرآن وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى أَثَرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي صَلَاةً يُصَلَّى بَعْدَهَا إِلَّا صَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر اور عصر کے علاوہ) ہرفرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اہل قرآن وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ قَالَ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى وَضَعَ قَدَمَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ فَاطِمَةَ فَعَلَّمَنَا مَا نَقُولُ إِذَا أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً قَالَ عَلِيٌّ فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور میرے اور فاطمہ کے درمیان قدم مبارک رکھ کر ہمیں بستر پر لیٹنے کے بعد یہ کلمات پڑھنے کے لئے سکھائے ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ،٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور٣٤ مرتبہ اللہ اکبر، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا، کسی نے پوچھا صفین کی رات میں بھی نہیں؟ فرمایا ہاں ! ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ أَرْبَعًا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَزِيدُكُمْ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ قَالَ وَفِيمَ أَنْتَ وَذَاكَ فَقَالَ عَلِيٌّ بَلْ عَجَزْتَ وَوَهَنْتَ قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ فَاجْلِدْهُ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ قَالَ لَهُ أَمْسِكْ ثُمَّ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ وَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ
حضین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے لوگوں کو فجر کی نماز میں دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھا دیں، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ شاید میں نے نماز کی رکعتوں میں اضافہ کر دیا ہے؟ یہ معاملہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے ولید پر شراب نوشی کی سزا جاری کرنے کا حکم دے دیا،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حسن! کھڑے ہو کر اسے کوڑے مارو، انہوں نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے، کسی اور کو اسکا حکم دیجئے، فرمایا اصل میں تم کمزور اور عاجز ہوگئے ہو، اس لئے عبداللہ بن جعفر! تم کھڑے ہو کر اس پر سزا جاری کرو۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کوڑے مارتے جاتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے، جب چالیس کوڑے ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا بس کرو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کو چالیس کوڑے مارے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے تھے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی مارے تھے اور دونوں ہی سنت پر ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَارِيَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُفِسَتْ مِنْ الزِّنَا فَأَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَوَجَدْتُهَا فِي الدَّمِ لَمْ يَجِفَّ عَنْهَا فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي إِذَا جَفَّ الدَّمُ عَنْهَا فَاجْلِدْهَا الْحَدَّ ثُمَّ قَالَ أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خادمہ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا کہ اس کا تو خون ہی بند نہیں ہو رہا، میں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اس کا خون بند ہو جائے تو اس پر حد جاری کر دینا اور یاد رکھو! اپنے غلاموں اور باندیوں پر بھی حد جاری کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے اس لئے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَأَدُّوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ چھوڑ دی ہے اس لئے چاندی کی زکوۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا، ایک سو نوے درہم تک کچھ واجب نہ ہوگا، لیکن جب ان کی تعداد دو سو تک پہنچ جائے تو اس پر پانچ درہم واجب ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ پوری رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی سولہ رکعتیں ہوتی تھیں ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَى كِسْرَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ مِنْهُ وَأَهْدَى قَيْصَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ مِنْهُ وَأَهْدَتْ الْمُلُوكُ فَقَبِلَ مِنْهُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا اسی طرح قیصر نے ہدیہ بھیجا تو وہ بھی قبول فرما لیا اور دیگر بادشاہوں نے بھییجا تو وہ بھی قبول فرما لیا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ النَّابِغَةِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنْ الْأَوْعِيَةِ وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ قَالَ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مَا أَسْكَرَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ حَدَّثَنَاه عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ النَّابِغَةِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَإِيَّاكُمْ وَكُلَّ مُسْكِرٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء قبرستان جانے سے، مخصوص برتنوں کے استعمال سے اور تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرما دیا تھا، اس کے بعد فرمایا کہ میں نے پہلے تمہیں قبرستان جانے سے روکا تھا ، اب اجازت دیتا ہوں اس لئے قبرستان جایا کرو کیونکہ اس سے آخرت کی یاد آتی ہے، میں نے تمہیں مخصوص برتن استعمال کرنے سے بھی روکا تھا، اب انہیں پینے کے لئے استعمال کر لیا کرو لیکن نشہ آور چیزوں سے بچتے رہو اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے بھی منع کیا تھا اب تہیں اجازت ہے کہ جب تک چاہو رکھو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْيَ فَقَالَ ذَلِكَ مَاءُ الْفَحْلِ وَلِكُلِّ فَحْلٍ مَاءٌ فَلْيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا ، مجھے خود سے یہ مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی کہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں، چنانچہ میں نے مقداد سے کہا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تو مرد کاپانی ہے اور ہر طاقتور مرد کا پانی ہوتا ہے اس لئے جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کر لیا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ ابْنِ أَشْوَعَ عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَ صَاحِبَ شُرْطَتِهِ فَقَالَ أَبْعَثُكَ لِمَا بَعَثَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدَعْ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا وَضَعْتَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق حیان کو مخاطب کر کے فرمایا میں تمہیں اس کام لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا ، کوئی قبر برابر کیے بغیر نہ چھوڑنا، اور کوئی تصویر مٹائے بغیر نہ چھوڑنا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا سَقَتْ السَّمَاءُ فَفِيهِ الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ وَالدَّالِيَةِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ فَحَدَّثْتُ أَبِي بِحَدِيثِ عُثْمَانَ عَنْ جَرِيرٍ فَأَنْكَرَهُ وَكَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ لِضَعْفِهِ عِنْدَهُ وَإِنْكَارِهِ لِحَدِيثِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو زمین بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہو اس میں عشر واجب ہے اور جو زمین ڈول یا رہٹ سے سیراب ہوتی ہو، اس میں نصف عشر واجب ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي الرَّازِيَّ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کے علاوہ رات کو سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَالْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ أَتَيْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تُحَدِّثُنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعَهُ فَقَالَ وَأَيُّكُمْ يُطِيقُهُ قَالُوا نَأْخُذُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ النَّهَارِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ہم نے عرض کیا آپ بتا دیجئے، ہم اپنی طاقت اور استطاعت کے بقدر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کے علاوہ دن کو سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ وَشَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَأَدُّوا رُبُعَ الْعُشُورِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ چھوڑ دی ہے اس لئے چاندی کی زکوۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ إِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي لَا تَقْرَأْ وَأَنْتَ رَاكِعٌ وَلَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ وَلَا تُصَلِّ وَأَنْتَ عَاقِصٌ شَعْرَكَ فَإِنَّهُ كِفْلُ الشَّيْطَانِ وَلَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَلَا تَعْبَثْ بِالْحَصَى وَلَا تَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْكَ وَلَا تَفْتَحْ عَلَى الْإِمَامِ وَلَا تَتَخَتَّمْ بِالذَّهَبِ وَلَا تَلْبَسْ الْقَسِّيَّ وَلَا تَرْكَبْ عَلَى الْمَيَاثِرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا علی! میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں، رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت نہ کیا کرو، بالوں کی مینڈھیاں بنا کر نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطان کا طریقہ ہے، دو سجدوں کے درمیان اپنی سرین پر مت بیٹھو، کنکریوں کے ساتھ دوران نماز مت کھیلو، سجدے میں اپنے بازو زمین پر مت بچھاؤ، امام کو لقمہ مت دو، سونے کی انگوٹھی مت پہنو، ریشمی لباس مت پہنو، اور سرخ زین پوش پر مت سوار ہوا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ عَلَيْكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ الْعَبْسِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ صَلَّيْنَا الْعَصْرَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَأَجْوَافَهُمْ نَارًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم نےعصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ قَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا بَوْلٌ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنَاه شَيْبَانُ مَرَّةً أُخْرَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَبَّةَ بْنِ أَبِي حَبَّةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يُسَلِّمُ عَلَيَّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَكَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ يَعْنِي كَانَ حَدِيثُهُ لَا يَسْوَى عِنْدَهُ شَيْئًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبرئیل میرے پاس آئے لیکن گھر میں داخل نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اندر کیوں نہیں آئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو یا پیشاب ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الْبَيْسَرِيُّ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا علی! اپنی ران کسی کے سامنے ظاہر نہ کرو، اور کسی زندہ یا مردہ شخص کی ران پر نگاہ مت ڈالو۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَحُسَيْنٌ وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِفَاطِمَةَ لَوْ أَتَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا فَقَدْ أَجْهَدَكِ الطَّحْنُ وَالْعَمَلُ قَالَ حُسَيْنٌ إِنَّهُ قَدْ جَهَدَكِ الطَّحْنُ وَالْعَمَلُ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ قَالَتْ فَانْطَلِقْ مَعِي قَالَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهَا فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ ذَلِكَ إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ عَلَى اللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَرَكْتُهَا بَعْدَمَا سَمِعْتُهَا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آٹا پیس پیس کر تمہارے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے ہیں، اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ان سے ایک خادم کی درخواست کر تیں (تو شاید کچھ بہتر ہو جاتا) انہوں نے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں، چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے درخواست پیش کردی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو ، کہنے کو تو یہ سو ہوں گے لیکن میزان عمل میں ایک ہزار کے برابر ہوں گے، چنانچہ اس دن کے بعد سے میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا، ایک سائل نے پوچھا کہ جنگ صفین کی رات بھی نہیں؟ فرمایا ہاں ! جنگ صفین کی رات بھی نہیں ۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَقَدْ صَلَّى الْفَجْرَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَجْلِسِ فَقُلْتُ لَوْ قُمْتَ إِلَى فِرَاشِكَ كَانَ أَوْطَأَ لَكَ فَقَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ وَمَنْ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص نماز کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھارہتا ہے تو فرشتے اسپر صلوۃ پڑھتے رہتے ہیں اور فرشتوں کی صلوۃ یہ دعاء ہے کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ! اس پر رحم فرمادے، اسی طرح اگر وہ بیٹھ کراگلی نماز کا انتظار کرتا رہے تو فرشتے اس پر بھی صلوۃ پڑھتے ہیں اور ان کی صلوۃ یہی دعاء ہے کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ اس پر رحم فرمادے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى حِينَ كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ الْمَشْرِقِ مِنْ مَكَانِهَا مِنْ الْمَغْرِبِ صَلَاةَ الْعَصْرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج مشرق سے اتنا نکل آتا جتنا عصر کے وقت مغرب سے قریب ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَمِينَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً عَنْ ظَهْرِ غِنًى اسْتَكْثَرَ بِهَا مِنْ رَضْفِ جَهَنَّمَ قَالُوا مَا ظَهْرُ غِنًى قَالَ عَشَاءُ لَيْلَةٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص " ظہر غنی " کی موجودگی میں کسی سے سوال کرتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگاروں کی تعداد بڑھاتا ہے، لوگوں نے پوچھا کہ ظہر غنی سے کیا مراد ہے؟ تو فرمایا رات کا کھانا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ وَعَنْ ثَمَنِ الْمَيْتَةِ وَعَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ وَعَنْ الْمَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے جو کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو اور ہر وہ پرندہ جو اپنے پنجوں سے شکار کرتا ہو، نیز مردار کی قیمت کھانے سے، پالتو گدھوں کے گوشت سے، فاحشہ عورت کی کمائی سے، سانڈ کو جفتی پر دے کر اس سے حاصل ہونے والی کمائی سے اور سرخ زین پوشوں سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَارَ عَلِيٌّ إِلَى النَّهْرَوَانِ فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ فَقَالَ اطْلُبُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ سِيمَاهُمْ أَوْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ مُخْدَجُ الْيَدِ فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ إِنْ كَانَ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ قَالَ ثُمَّ إِنَّا وَجَدْنَا الْمُخْدَجَ قَالَ فَخَرَرْنَا سُجُودًا وَخَرَّ عَلِيٌّ سَاجِدًا مَعَنَا
طارق بن زیاد کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج سے جنگ کے لئے نکلے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا، اور فرمایا دیکھو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو بات تو صحیح کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گی، وہ لوگ حق سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ ان میں ایک شخص کا ہاتھ ناتمام ہوگا، اس کے ہاتھ (ہتھیلی) میں کالے بال ہوں گے، اب اگر ایسا ہی ہے تو تم نے ایک بدترین آدمی کے وجود سے دنیا کو پاک کر دیا اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم نے ایک بہترین آدمی کو قتل کر دیا، یہ سن کر ہم رونے لگے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے تلاش کرو، چنانچہ ہم نے اسے تلاش کیا تو ہمیں ناقص ہاتھ والا ایک آدمی مل گیا، جسے دیکھ کر ہم سجدے میں گر پڑے، حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ ہی سربسجود ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ قَالَ خَطَبَ رَجُلٌ يَوْمَ الْبَصْرَةِ حِينَ ظَهَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ عَلِيٌّ هَذَا الْخَطِيبُ الشَّحْشَحُ سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ بَعْدَهُمْ يَصْنَعُ اللَّهُ فِيهَا مَا شَاءَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور تیسرے نمبر پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اب اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِي عَوْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قِيلَ لِعَلِيٍّ وَلِأَبِي بَكْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ أَوْ قَالَ يَشْهَدُ الصَّفَّ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو غزوہ بدر کے موقع پر بتایا گیا کہ آپ میں سے ایک کے ساتھ حضرت جبرئیل علیہ السلام اور دوسرے کے ساتھ میکائیل علیہ السلام ہیں اور اسرافیل علیہ السلام بھی جو ایک عظیم فرشتہ ہیں میدان کار زار میں موجود ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھی ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ أَبِي هَاشِمٍ بَيَّاعِ السَّابِرِيِّ عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَثَلَّثَ عُمَرُ ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ فَكَانَ مَا شَاءَ اللَّهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور تیسرے نمبر پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اب اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدُوَيْهِ أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ أَبُو مَعْمَرٍ الْهِلَالِيُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ التَّطَوُّعِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَبِالنَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت نفل پڑھتے تھے اور دن میں بارہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَنْدَلٍ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا فِي سَنَةِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا إِنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَصَلَاتِكُمْ الْمَكْتُوبَةِ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ ثُمَّ قَالَ أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَنْدَلٍ وَمَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وتر فرض نماز کی طرح یقینی نہیں ہیں (قرآن سے اس کا ثبوت نہیں) البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ وتر پڑھے ہیں اس لیے اے اہل قرآن! تم بھی وتر پڑھا کرو ، کیونکہ اللہ بھی وتر ہے اور طاق عدد ہی کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ كَثِيرِ بْنِ نَافِعٍ النَّوَّاءِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُلَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ قَبْلِي نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ رُفَقَاءَ نُجَبَاءَ وُزَرَاءَ وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ حَمْزَةُ وَجَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَالْمِقْدَادُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَرٍّ وَحُذَيْفَةُ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَبِلَالٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات رفقاء، نجباء اور وزراء دیئے گئے ہیں جبکہ مجھے چودہ دیئے گئے ہیں ۔ حضرت حمزہ، جعفر، علی، حسن، حسین، صدیق اکبر، عمر فاروق، مقداد، عبداللہ بن مسعود، ابوذر غفاری، حذیفہ، سلمان، عمار اور حضرت بلال رضی اللہ عنہم اجمعین۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ لَرَأَيْتُ أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ هُوَ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے نعلین پر مسح کیا اور فرمایا اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتاہے)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انسان کے مال پر اس وقت تک زکوۃ واجب نہیں ہوتی جب تک اس پر پورا سال نہ گذر جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ إِنَّ الشِّيعَةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْجِعُ قَالَ كَذَبَ أُولَئِكَ الْكَذَّابُونَ لَوْ عَلِمْنَا ذَاكَ مَا تَزَوَّجَ نِسَاؤُهُ وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ شیعوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ دوبارہ واپس آئیں گے؟ فرمایا یہ کذاب لوگ جھوٹ بولتے ہیں، اگر ہمیں اس بات کا یقین ہوتا تو ان کی بیویاں دوسرے شوہروں سے نکاح نہ کرتیں اور ہم ان کی میراث تقسیم نہ کرتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَا صَدَقَةَ فِيهِمَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ چھوڑ دی ہے اس لئے ان میں زکوۃ نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ أَبُو عُمَرَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ شُفِّعَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَدْ وَجَبَتْ لَهُمْ النَّارُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے قرآن پڑھا اور وہ اس پر غالب آگیا تو قیامت کے دن اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی جن کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَفَوْتُ عَنْ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فِي الصَّدَقَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ چھوڑ دی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو سَلْمٍ خَلِيلُ بْنُ سَلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ أَوْ كَلْبٌ وَكَانَ الْكَلْبُ لِلْحَسَنِ فِي الْبَيْتِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر یا کتا ہو، اس وقت گھر میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ایک چھوٹا سا کتا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ أَرَأَيْتَ مَسِيرَكَ هَذَا عَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ رَأْيٌ رَأَيْتَهُ قَالَ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا قُلْتُ دِينَنَا دِينَنَا قَالَ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَلَكِنْ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ
قیس بن عبادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک سفر کے دوران پوچھا کہ یہ توبتایئے، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس سفر کی وصیت کی تھی یا یہ آپ کی رائے پر مبنی ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس سوال سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ میں نے عرض کیا کہ صرف دین، فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی کوئی وصیت نہیں کی تھی، یہ تو ایک رائے ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رُمْحٌ فَكُنَّا إِذَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ خَرَجَ بِهِ مَعَهُ فَيَرْكُزُهُ فَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيَحْمِلُونَهُ فَقُلْتُ لَئِنْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُخْبِرَنَّهُ فَقَالَ إِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تَرْفَعْ ضَالَّةً
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نیزہ تھا، ہم جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے کے لئے نکلتے تو وہ اس نیزے کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاتے تھے، وہ اسے گاڑ دیتے، لوگ وہاں سے گذرتے تو انہیں اٹھا کر پکڑا دیتے، میں نے یہ دیکھ کر اپنے دل میں سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر آپ کو یہ ساری صورت حال ضرور بتاؤں گا (چنانچہ جب میں نے ذکر کیا تو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا کرنے لگے تو کوئی گمشدہ چیز اس کے مالک تک پہنچانے کے لئے نہیں اٹھائی جائے گی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ تَوَضَّأَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُمْ فِي جَنَازَةٍ فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ وَأُعْطِيَ نَبِيُّكُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ نَجِيبًا مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مجھ سے پہلے ہر نبی کوسات رفقاء، نجباء، وزراء دیئے گئے ہیں جبکہ مجھے چودہ دیئے گئے ہیں ۔ جن میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ، عمرفاروق، عبداللہ بن مسعود اور عمار رضی اللہ عنہم شامل ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ وَلَا مُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ قَالَ زُهَيْرٌ فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ أَذَكَرَ عَضْبَاءَ قَالَ لَا قُلْتُ مَا الْمُقَابَلَةُ قَالَ هِيَ الَّتِي يُقْطَعُ طَرَفُ أُذُنِهَا قُلْتُ فَالْمُدَابَرَةُ قَالَ الَّتِي يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ قُلْتُ مَا الشَّرْقَاءُ قَالَ الَّتِي يُشَقُّ أُذُنُهَا قُلْتُ فَمَا الْخَرْقَاءُ قَالَ الَّتِي تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ اچھی طرح دیکھ لیں، کانے جانور کی قربانی نہ کریں، مقابلہ، مدابرہ، شرقاء یا خرقاء کی قربانی نہ کریں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق سے پوچھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عضباء کا ذکر بھی کیا تھا یا نہیں؟ انہوں نے کہا نہیں! پھر میں نے پوچھا کہ مقابلہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا وہ جانور جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، پھر میں نے پوچھا کہ مدابرہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا وہ جانور جس کا کان پیچھے سے کٹا ہوا ہو، میں نے شرقاء کا معنی پوچھا تو فرمایا جس کا کان چیرا ہوا ہو، میں نے خرقاء کا معنی پوچھا تو انہوں بتایا وہ جانور جس کا کان پھٹ گیا ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْبِسُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرمایا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ سَلْ عَلِيًّا فَهُوَ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي هُوَ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي أَبَا عُمَرَ الْقَارِئَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ وَحَفِظَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُمْ النَّارُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے قرآن پڑھا اور وہ اس پر غالب آگیا تو قیامت کے دن اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی جن کے لئے جہنم واجب ہو چکی ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَفْعَلَهُ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ فِي حَدِيثِهِ ضَحَّى عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ وَاحِدٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ عَنْهُ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ إِنَّهُ أَمَرَنِي فَلَا أَدَعُهُ أَبَدًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے اپنی طرف سے دو مینڈھوں کی قربانی کرنے کا حکم دیا، چنانچہ میں آخر دم تک ان کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاضِيًا فَقَالَ إِذَا جَاءَكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ عَلَى أَحَدِهِمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنْ الْآخَرِ فَإِنَّهُ يَبِينُ لَكَ الْقَضَاءُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قاضی بنا کر بھیجا اور ارشاد فرمایا جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا، تم دیکھو گے کہ تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى رَحْمَوَيْهِ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا فَقُلْتُ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ وَأَنَا حَدَثُ السِّنِّ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ ثَبَّتَكَ اللَّهُ وَسَدَّدَكَ إِذَا جَاءَكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ مِنْ الْآخَرِ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يَبِينَ لَكَ الْقَضَاءُ قَالَ فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو الضَّبِّيِّ وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ كَلَامًا مِنْ بَعْضٍ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاضِيًا إِلَى الْيَمَنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُثَبِّتٌ قَلْبَكَ وَهَادٍ فُؤَادَكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ لُوَيْنٌ وَحَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نوعمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعا کوئی علم نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مار کر فرمایا اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا، جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو دوسرے فریق کی بات سنے بغیر پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرنا، اس طرح تمہارے لیے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں مسلسل قاضی بنتا رہا۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ عَنْ حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَعَثَ عَامِلَ شُرْطَتِهِ فَقَالَ لَهُ أَتَدْرِي عَلَى مَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْحِتَ كُلَّ يَعْنِي صُورَةً وَأَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق حیان کو مخاطب کر کے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ مَا يَقُولُ الْآخَرُ فَإِنَّكَ سَوْفَ تَرَى كَيْفَ تَقْضِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا، تم دیکھو گے کہ تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا فَقَالَ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ
حنش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دو مینڈھے ذبح کرتے ہوئے دیکھا، میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے اپنی طرف سے قربانی کرنے کا حکم دیا، (چنانچہ میں آخر دم تک ان کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَسْبَاطِ بْنِ نَصْرٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةٌ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لَسْتُ بِاللَّسِنِ وَلَا بِالْخَطِيبِ قَالَ مَا بُدٌّ أَنْ أَذْهَبَ بِهَا أَنَا أَوْ تَذْهَبَ بِهَا أَنْتَ قَالَ فَإِنْ كَانَ وَلَا بُدَّ فَسَأَذْهَبُ أَنَا قَالَ فَانْطَلِقْ فَإِنَّ اللَّهَ يُثَبِّتُ لِسَانَكَ وَيَهْدِي قَلْبَكَ قَالَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَمِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مشرکین سے اعلان براءت کے لئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھیجا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں تو کوئی فصیح و بلیغ آدمی نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی خطیب ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ یا تم چلے جاؤ یا میں چلاجاؤں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اگر یہی ضروری ہے تو پھر میں ہی چلا جاتا ہوں، فرمایا تم جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو جمادے گا اور تمہارے دل کو صحیح راہ پر رکھے گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے منہ پر رکھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ بَهْدَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ زِرًّا يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتِ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُتَوَشِّمَةَ وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَنَهَى عَنْ النَّوْحِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نُجَيٍّ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ لِي سَاعَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ يَنْفَعُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا جِرْوٌ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ تَحْتَ السَّرِيرِ فَأَخْرَجْتُهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رات کو ایک مخصوص وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا ، جس سے اللہ مجھے خوب فائدہ پہنچاتا تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی کتا، کوئی جنبی یا کوئی تصویر اور مورتی ہو، میں نے دیکھا تو چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلہ نطر آیا جو حسن کا تھا، میں نے اسے باہر نکال دیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَضَعَ الْخَاتَمَ فِي الْوُسْطَى
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ يَلِجْ النَّارَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیوکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ النَّهْدِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یوں فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتاہوں ، تیری درگذر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں ، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کرسکتا، تواسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ عَنْ حُكَيْمِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا قَالَ اللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ وَبِكَ أَحُولُ وَبِكَ أَسِيرُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہونے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعاء پڑھتے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ! میں آپ ہی کے نام کی برکت سے حملہ کرتا ہوں، آپ ہی کے نام کی برکت سے حرکت کرتا ہوں اور آپ ہی کے نام کی برکت سے چلتا ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آيَاتٍ مِنْ بَرَاءَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَعَثَهُ بِهَا لِيَقْرَأَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ ثُمَّ دَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَيْثُمَا لَحِقْتَهُ فَخُذْ الْكِتَابَ مِنْهُ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَاقْرَأْهُ عَلَيْهِمْ فَلَحِقْتُهُ بِالْجُحْفَةِ فَأَخَذْتُ الْكِتَابَ مِنْهُ وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ لَا وَلَكِنَّ جِبْرِيلَ جَاءَنِي فَقَالَ لَنْ يُؤَدِّيَ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سورت براءۃ کی ابتدائی دس آیات نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں اہل مکہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں یہ پڑھ کر سنا دیں، ان کے جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے جاؤ وہ تمہیں جہاں بھی ملیں، ان سے وہ خط لے کر تم اہل مکہ کے پاس جاؤ اور انہیں وہ خط پڑھ کر سناؤ، چنانچہ میں نے مقام جحفہ میں انہیں جا لیا اور ان سے وہ خط وصول کر لیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے تو عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے۔ فرمایا نہیں اصل بات یہ ہے کہ میرے پاس جبرئیل آئے تھے اور انہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ پیغام آپ خود پہنچائیں یا آپ کے خاندان کا کوئی فرد، (اس لئے مجبورا مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس خدمت پر مامور کرنا پڑا)
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ قِيلَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَكُمْ كَانَ يَخُصُّكُمْ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ عَامَّةً قَالَ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَخُصَّ بِهِ النَّاسَ إِلَّا بِشَيْءٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ أَسْنَانِ الْإِبِلِ وَفِيهَا أَنَّ الْمَدِينَةَ حَرَمٌ مِنْ بَيْنِ ثَوْرٍ إِلَى عَائِرٍ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَإِنَّ عَلَيْهِ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ تَوَلَّى مَوْلًى بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ
حارث بن سوید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ آپ سے کوئی بات بیان فرمائی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت سے ہمیں کوئی بات نہیں بتائی، البتہ میری تلوار کے اس نیام میں جو کچھ ہے وہی ہے، پھر انہوں نے ایک صحیفہ نکالا جس میں اونٹوں کی عمریں درج تھیں اور لکھا تھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عیر سے ثور تک مدینہ منورہ حرم ہے، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا اور جو غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کردے، اس پر بھی اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ اس کا بھی کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کرے گا اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ایک جیسی ہے، جو شخص کسی مسلمان کی ذمہ داری کو پامال کرتا ہے اس پر اللہ کی فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا قَالَ شُعْبَةُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا لَا أَدْرِي أَفِي الْحَدِيثِ هُوَ أَمْ لَيْسَ فِي الْحَدِيثِ أَشُكُّ فِيهِ
حضرت علی سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کوا گ سے بھر دے گا کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِفْهُ لَنَا فَقَالَ كَانَ لَيْسَ بِالذَّاهِبِ طُولًا وَفَوْقَ الرَّبْعَةِ إِذَا جَاءَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَهُمْ أَبْيَضَ شَدِيدَ الْوَضَحِ ضَخْمَ الْهَامَةِ أَغَرَّ أَبْلَجَ هَدِبَ الْأَشْفَارِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ فِي صَبَبٍ كَأَنَّ الْعَرَقَ فِي وَجْهِهِ اللُّؤْلُؤُ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ بِأَبِي وَأُمِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ انْعَتْ لَنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ لَيْسَ بِالذَّاهِبِ طُولًا فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً
یوسف بن مازن کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ امیرالمومنین! ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کیجئے، فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے قد کے نہ تھے، درمیانے قد سے تھوڑے اونچے تھے، لیکن جب لوگوں کے ساتھ آرہے ہوتے توسب سے اونچے محسوس ہوتے، سفیدکھلتا ہوا رنگ تھا، سر مبارک بڑا تھا ، روشن کشادہ پیشانی تھی، پلکوں کے بال لمبے تھے، ہتھیلیاں اور پاؤں مبارک بھرے ہوئے تھے، جب چلتے تو پاؤں اٹھا کر چلتے، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی گھاٹی میں اتر رہے ہوں، پسینہ کے قطرات روئے انور پر موتیوں کی مانند محسوس ہوتے تھے، میں نے ان جیسا نہ ان سے پہلے دیکھا اور نہ ان کے بعد، میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں، صلی اللہ علیہ وسلم۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ عَلَى الْكَعْبَةِ أَصْنَامٌ فَذَهَبْتُ لِأَحْمِلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا فَلَمْ أَسْتَطِعْ فَحَمَلَنِي فَجَعَلْتُ أَقْطَعُهَا وَلَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ السَّمَاءَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خانہ کعبہ پر بہت سے بت پڑے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیٹھنے کے لئے فرمایا اور خود میرے کندھوں پر چڑھ گئے، میں نے کھڑا ہونا چاہا لیکن نہ ہو سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لے کر کھڑے ہوگئے اور میں بتوں کو توڑنے لگا اس وقت مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو افق کو چھو لوں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنِي أَبُو مَرْيَمَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ قَوْمًا يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک قوم ایسی آئے گی جو اسلام سے ایسے نکل جائے گی جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر سکے گا، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو انہیں قتل کرے یا ان کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرلے، ان کی علامت وہ آدمی ہے جس کا ہاتھ نامکمل ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْوَلِيدَ يَضْرِبُهَا وَقَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ تَشْكُوهُ قَالَ قُولِي لَهُ قَدْ أَجَارَنِي قَالَ عَلِيٌّ فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ فَقَالَتْ مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا فَأَخَذَ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهِ فَدَفَعَهَا إِلَيْهَا وَقَالَ قُولِي لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَارَنِي فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ فَقَالَتْ مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْوَلِيدَ أَثِمَ بِي مَرَّتَيْنِ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْقَوَارِيرِيِّ وَمَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو خَيْثَمَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَنْبَأَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ امْرَأَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي الْوَلِيدَ أَنَّهُ يَضْرِبُهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! ولید مجھے مارتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اس سے جا کر کہنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پناہ دی ہے، کچھ ہی عرصے بعد وہ دوبارہ آگئی اور کہنے لگی کہ اب تو اسنے مجھے اور زیادہ مارنا پیٹنا شروع کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کا ایک کونہ پکڑ کر اسے دیا اور فرمایا اسے جا کر کہنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ دی ہے لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد وہ واپس آگئی، اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اس نے مجھے اور زیادہ مارنا شروع کر دیاہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا الہی! ولید سے سمجھ لے، اس نے دو مرتبہ میری نافرمانی کی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ فَقَالَ شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خندق کے کسی کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ فَقَالَ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا قَالَ فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فِيهَا مَكْتُوبٌ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتایئے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میری تلوار کی نیام میں جو کچھ ہے وہ ہے کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ اللَّهُمَّ امْلَأْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ الْبَقَرَةِ فَقَالَ عَنْ سَبْعَةٍ وَسَأَلَهُ عَنْ الْأَعْرَجِ فَقَالَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ وَسُئِلَ عَنْ الْقَرَنِ فَقَالَ لَا يَضُرُّهُ وَقَالَ عَلِيٌّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ
ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کرلو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں ۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ بِالْيَمَنِ فَاحْتَفَرُوا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ فَجَاءَ حَتَّى وَقَعَ فِيهَا رَجُلٌ وَتَعَلَّقَ بِآخَرَ وَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ وَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ حَتَّى صَارُوا أَرْبَعَةً فَجَرَحَهُمْ الْأَسَدُ فِيهَا فَمِنْهُمْ مَنْ مَاتَ فِيهَا وَمِنْهُمْ مَنْ أُخْرِجَ فَمَاتَ قَالَ فَتَنَازَعُوا فِي ذَلِكَ حَتَّى أَخَذُوا السِّلَاحَ قَالَ فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ وَيْلَكُمْ تَقْتُلُونَ مِائَتَيْ إِنْسَانٍ فِي شَأْنِ أَرْبَعَةِ أَنَاسِيَّ تَعَالَوْا أَقْضِ بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ فَإِنْ رَضِيتُمْ بِهِ وَإِلَّا فَارْتَفِعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَضَى لِلْأَوَّلِ رُبُعَ دِيَةٍ وَلِلثَّانِي ثُلُثَ دِيَةٍ وَلِلثَّالِثِ نِصْفَ دِيَةٍ وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةَ كَامِلَةً قَالَ فَرَضِيَ بَعْضُهُمْ وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ وَجَعَلَ الدِّيَةَ عَلَى قَبَائِلِ الَّذِينَ ازْدَحَمُوا قَالَ فَارْتَفَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَهْزٌ قَالَ حَمَّادٌ أَحْسَبُهُ قَالَ كَانَ مُتَّكِئًا فَاحْتَبَى قَالَ سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ قَالَ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَضَى بِكَذَا وَكَذَا قَالَ فَأَمْضَى قَضَاءَهُ قَالَ عَفَّانُ سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ
حنش کنانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یمن میں ایک قوم نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گڑھا کھود کر اسے ڈھانپ رکھا تھا شیر اس میں گر پڑا اچانک ایک آدمی بھی اس گڑھے میں گر پڑا، اس کے پیچھے دوسرا، تیسرا حتی کہ چار آدمی گر پڑے (اس گڑھے میں موجود شیر نے ان سب کو زخمی کردیا، یہ دیکھ کر ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ پکڑا اور شیر کو دے مارا، چنانچہ شیر ہلاک ہوگیا اور وہ چاروں آدمی بھی اپنے اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسے) ۔ مقتولین کے اولیاء اسلحہ نکال کر جنگ کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، اتنی دیر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ آپہنچے اور کہنے لگے کیا تم چار آدمیوں کے بدلے دو سو آدمیوں کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر تم اس پر راضی ہوگئے تو سمجھو کہ فیصلہ ہوگیا، فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص پہلے گر کر گڑھے میں شیر کے ہاتھوں زخمی ہوا، اس کے ورثاء کو چوتھائی دیت دے دو اور چوتھے کو مکمل دیت دے دو، دوسرے کو تہائی اور تیسرے کو نصف دیت دے دو، ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا (کیونکہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا) چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اتنی دیر میں ایک آدمی کہنے لگا، یا رسول اللہ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو نافذ کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي حَجَّاحُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنِي أَبُو مَرْيَمَ وَرَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ قَالَ فَزَادَ النَّاسُ بَعْدُ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے موقع پر یہ فرمایا تھا کہ جس کا میں مولی ہوں، علی بھی اس کے مولی ہیں، بعد میں لوگوں نے اس پر یہ اضافہ کر لیا کہ اے اللہ! جس کا یہ دوست ہو تو اس کا دوست بن جا اور جس کا یہ دشمن ہو تو اس کا دشمن بن جا۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ الْبَقَرَةِ فَقَالَ عَنْ سَبْعَةٍ وَسُئِلَ عَنْ الْمَكْسُورَةِ الْقَرْنِ فَقَالَ لَا بَأْسَ وَسُئِلَ عَنْ الْعَرَجِ فَقَالَ مَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ ثُمَّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَيْنِ وَالْأُذُنَيْنِ
ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کر لو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْوَرْدِ عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا ابْنَ أَعْبُدَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الطَّعَامِ قَالَ قُلْتُ وَمَا حَقُّهُ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ تَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا قَالَ وَتَدْرِي مَا شُكْرُهُ إِذَا فَرَغْتَ قَالَ قُلْتُ وَمَا شُكْرُهُ قَالَ تَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مِنْ أَكْرَمِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَكَانَتْ زَوْجَتِي فَجَرَتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَ الرَّحَى بِيَدِهَا وَأَسْقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ الْقِرْبَةُ بِنَحْرِهَا وَقَمَّتْ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا وَأَوْقَدَتْ تَحْتَ الْقِدْرِ حَتَّى دَنِسَتْ ثِيَابُهَا فَأَصَابَهَا مِنْ ذَلِكَ ضَرَرٌ فَقُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ أَوْ خَدَمٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلِيهِ خَادِمًا يَقِيكِ حَرَّ مَا أَنْتِ فِيهِ فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ خَدَمًا أَوْ خُدَّامًا فَرَجَعَتْ وَلَمْ تَسْأَلْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ سَبِّحِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ فَأَخْرَجَتْ رَأْسَهَا فَقَالَتْ رَضِيتُ عَنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ مَرَّتَيْنِ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ أَوْ نَحْوَهُ
ابن اعبد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا ابن اعبد! تمہیں معلوم ہے کہ کھانے کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا آپ ہی بتائیے کہ اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا کھانے کا حق یہ ہے کہ اس کے آغاز میں یوں کہو بسم اللہ اللہم بارک لنا فیما رزقتنا، کہ اللہ کے نام سے شروع کر رہاہوں، اے اللہ! تونے ہمیں جو عطاء فرما رکھا ہے اس میں برکت پیدا فرما۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ کھانے سے فراغت کے بعد اس کا شکر کیا ہے، تمہیں معلوم ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ ہی بتایئے کہ اس کا شکر کیا ہے؟ فرمایا تم یوں کہو الحمدللہ الذی اطعمنا وسقانا، اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا، پھر فرمایا کہ کیا میں تمہیں اپنی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی ایک بات نہ بتاؤں؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں میں تمام بچوں سے زیادہ قابل عزت بھی تھیں اور میری رفیقہ حیات بھی تھیں، انہوں نے اتنی چکی چلائی کہ ان کے ہاتھوں میں اس کے نشان پڑ گئے اور اتنے مشکیزے ڈھوئے کہ ان کی گردن پر اس کے نشان پڑ گئےگھر کو اتنا سنوارا کہ اپنے کپڑے غبار آلود ہوگئے، ہانڈی کے نیچے اتنی آگ جلائی کہ کپڑے بیکار ہوگئے جس سے انہیں جسمانی طور پر شدید اذیت ہوئی۔ اتفاقا انہی دنوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی یاخادم آئے ہوئے تھے، میں نے ان سے کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خادم کی درخواست کرو تاکہ اس گرمی سے تو بچ جاؤ، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ کے پاس ایک یا کئی خادم موجود ہیں، لیکن وہ اپنی درخواست پیش نہ کر سکیں اور واپس آگئیں ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ذکر کیا کہ کیا میں تمہیں خادم سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹو تو٣٣ مرتبہ سبحان اللہ،٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو ، اس پر انہوں نے چادر سے اپنا سر نکال کر کہا کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے راضی ہوں، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ كُنَّا نَرَى أَنَّ صَلَاةَ الْوُسْطَى صَلَاةُ الصُّبْحِ قَالَ فَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ يَوْمَ الْأَحْزَابِ اقْتَتَلُوا وَحَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ امْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا أَوْ امْلَأْ بُطُونَهُمْ نَارًا كَمَا حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى قَالَ فَعَرَفْنَا يَوْمَئِذٍ أَنَّ صَلَاةَ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ
عبیدہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم صلوۃ وسطی فجر کی نماز کو سمجھتے تھے، پھر ایک حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے غزوہ احزاب کے موقع پر جنگ شروع کی تو مشرکین نے ہمیں نماز عصر پڑھنے سے روک دیا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، اس دن ہمیں پتہ چلا کہ صلوۃ وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيْهِ حُلَّةً سِيَرَاءَ فَلَبِسَهَا وَخَرَجَ عَلَى الْقَوْمِ فَعَرَفَ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يُشَقِّقَهَا بَيْنَ نِسَائِهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی جوڑا میرے پاس بھیج دیا، میں نے اسے زیب تن کر لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ قَعَدَ لِحَوَائِجِ النَّاسِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ أُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ ثُمَّ أَخَذَ فَضْلَهُ فَشَرِبَ قَائِمًا وَقَالَ إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ هَذَا وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے تاکہ لوگوں کے مسائل حل کریں، جب نماز عصر کا وقت آیا تو ان کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا، انہوں نے چلو بھر کر پانی لیا اور اپنے ہاتھوں، بازؤوں، چہرے، سر اور پاؤں پر پانی کا گیلا ہاتھ پھیرا، پھر کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا ہے اور جو آدمی بے وضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِشَرَاحَةَ لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ لَعَلَّ زَوْجَكِ أَتَاكِ لَعَلَّكِ قَالَتْ لَا فَلَمَّا وَضَعَتْ جَلَدَهَا ثُمَّ رَجَمَهَا فَقِيلَ لَهُ لِمَ جَلَدْتَهَا ثُمَّ رَجَمْتَهَا قَالَ جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
امام شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراحہ ہمدانیہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہو سکتا ہے تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ شاید وہ تمہارا شوہر ہی ہو؟ لیکن وہ ہر بات کے جواب میں " نہیں " کہتی رہی، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضع حمل کے بعد اسے کوڑے مارے، اور پھر اس پر حد رجم جاری فرمائی کسی نے پوچھا کہ آپ نے اسے دونوں سزائیں کیوں دیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اسے کوڑے مارے ہیں اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اسے رجم کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ مُكَاتَبَتِي فَأَعِنِّي فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَنَانِيرَ لَأَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ قُلْتُ بَلَى قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
ابو وائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ امیرالمومنین! میں بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز آگیا ہوں، آپ میری مدد فرمائیے، انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھا دوں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائے تھے؟ اگر تم پر جبل صیر کے برابر بھی دینار قرض ہوگا تو اللہ اسے ادا کروا دے گا، اس نے کہا کیوں نہیں، فرمایا یہ دعاء پڑھتے رہا کرو ، اللہم اکفنی بحلالک عن حرامک واغننی بفضلک عمن سواک، اے اللہ آپ اپنے حلال کے ذریعے حرام سے میری کفایت فرمائیے اور اپنی مہربانی سے مجھے اپنے علاوہ ہر ایک سے بے نیاز فرما دیجئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَرَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى فَأَتَانَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَأَمَرَهُ بِأَمْرٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَ السَّهْمِ وَنَهَانِي أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ وَأَهْوَى أَبُو بُرْدَةَ إِلَى السَّبَّابَةِ أَوْ الْوُسْطَى قَالَ عَاصِمٌ أَنَا الَّذِي اشْتَبَهَ عَلَيَّ أَيَّتَهُمَا عَنَى وَنَهَانِي عَنْ الْمِيثَرَةِ وَالْقَسِّيَّةِ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَقُلْتُ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مَا الْمِيثَرَةُ وَمَا الْقَسِّيَّةُ قَالَ أَمَّا الْمِيثَرَةُ شَيْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ يَجْعَلُونَهُ عَلَى رِحَالِهِمْ وَأَمَّا الْقَسِّيُّ فَثِيَابٌ كَانَتْ تَأْتِينَا مِنْ الشَّامِ أَوْ الْيَمَنِ شَكَّ عَاصِمٌ فِيهَا حَرِيرٌ فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَلَمَّا رَأَيْتُ السَّبَنِيَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِيَ
حضرت ابو بردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے آکر ہمیں سلام کیا اور میرے والد صاحب کو لوگوں کا کوئی معاملہ سپرد فرمایا اور فرمانے لگے کہ مجھ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا اللہ سے ہدایت کی دعاء مانگا کرو اور ہدایت سے ہدایت الطریق مراد لے لیا کرو اور اللہ سے درستگی اور سداد کی دعاء کیا کرو اور اس سے تیر کی درستگی مراد لیا کرو ۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شہادت یا درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اس لئے انگلیوں کا اشارہ میں صحیح طور پر سمجھ نہ سکا، پھر انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سرخ دھاری دار اور ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے، ہم نے پوچھا امیرالمومنین! " میثرہ " (یہ لفظ حدیث میں استعمال ہوا ہے) سے کیا مراد ہے؟ یہ کیا چیز ہوتی ہے؟ فرمایا عورتیں اپنے شوہروں کی سواری کے کجاوے پر رکھنے کے لئے ایک چیز بناتی تھیں (جسے زین پوش کہا جاتاہے) اس سے وہ مراد ہے ، پھر ہم نے پوچھا کہ " قسیہ" سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا شام کے وہ کپڑے جن میں " اترج " جیسے نقش ونگار بنے ہوتے تھے، ابو بردہ کہتے ہیں کہ جب میں نے کتان کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَخُو حَجَّاجٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعَلِيٍّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ فَقَالَ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْ هَذَا بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ صَائِمًا شَهْرًا بَعْدَ رَمَضَانَ فَصُمْ الْمُحَرَّمَ فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ وَفِيهِ يَوْمٌ تَابَ عَلَى قَوْمٍ وَيَتُوبُ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ
نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا امیرالمومنین! رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے کے روزے رکھنے کی تاکید کرتے ہیں؟ فرمایا کہ میں نے صرف ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سوال کرتے ہوئے سنا تھا، اس کے بعد یہ واحد آدمی ہے جس سے میں یہ سوال سن رہا ہوں، اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر تم رمضان کے بعد کسی مہینے کے روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہ محرم کے روزے رکھو، کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اللہ ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ أُرَاهُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِطَهُورٍ فَقُلْنَا مَا يَصْنَعُ بِالطَّهُورِ وَقَدْ صَلَّى مَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُعَلِّمَنَا فَأُتِيَ بِطَسْتٍ وَإِنَاءٍ فَرَفَعَ الْإِنَاءَ فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ غَمَسَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَتَنَثَّرَ مِنْ الْكَفِّ الَّذِي أَخَذَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا ثُمَّ جَعَلَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ طُهُورَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ هَذَا
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے پانی منگوایا، ہم سوچنے لگے کہ نماز پڑھنے کے بعد اب یہ پانی کا کیا کریں گے، ان کا مقصد صرف ہمیں تعلیم دینا تھا ، چنانچہ ان کے پاس ایک طشت اور برتن لایا گیا، انہوں نے وہ برتن اٹھایا اور اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور تین مرتبہ انہیں دھویا، پھر اسے برتن میں ڈالا، تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ ناک صاف کی اور تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرنا چاہتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ أَنْبَأَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا قَالَ نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ کے ساتھ موجود رہوں اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کردوں اور گوشت بھی تقسیم کردوں اور یہ بھی حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں اور فرمایا کہ اسے ہم اپنے پاس سے مزدوری دیتے تھے۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کے آخر میں یہ نہیں ہے کہ اس کی مزدوری ہم اپنے پاس سے دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا حَبَسُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ أَوْ قَالَ حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ إِحْدَى الْكَلِمَتَيْنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ الْجَنْبِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ زَنَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا فَذَهَبُوا بِهَا لِيَرْجُمُوهَا فَلَقِيَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا هَذِهِ قَالُوا زَنَتْ فَأَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا فَانْتَزَعَهَا عَلِيٌّ مِنْ أَيْدِيهِمْ وَرَدَّهُمْ فَرَجَعُوا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا رَدَّكُمْ قَالُوا رَدَّنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا فَعَلَ هَذَا عَلِيٌّ إِلَّا لِشَيْءٍ قَدْ عَلِمَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ فَجَاءَ وَهُوَ شِبْهُ الْمُغْضَبِ فَقَالَ مَا لَكَ رَدَدْتَ هَؤُلَاءِ قَالَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ وَعَنْ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَعْقِلَ قَالَ بَلَى قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّ هَذِهِ مُبْتَلَاةُ بَنِي فُلَانٍ فَلَعَلَّهُ أَتَاهَا وَهُوَ بِهَا فَقَالَ عُمَرُ لَا أَدْرِي قَالَ وَأَنَا لَا أَدْرِي فَلَمْ يَرْجُمْهَا
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک عورت لائی گئی جس نے بدکاری کی تھی، جرم ثابت ہو جانے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا، لوگ اسے رجم کرنے کے لئے لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے اس کے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ اس نے بدکاری کی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو ان کے ہاتھوں سے چھڑا لیا اور ان لوگوں کو واپس بھیج دیا، وہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے پوچھا کہ تم لوگ واپس کیوں آگئے؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے واپس بھیجا ہے، فرمایا علی رضی اللہ عنہ نے یہ کام یوں ہی نہیں کیا ہوگا، انہیں ضرور اس کے متعلق کچھ علم ہوگا چنانچہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو کچھ ناراض سے محسوس ہو رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے لوگوں کو واپس بھیجنے کی وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہوتے ہیں، سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہوجائے، بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے اور دیوانہ جب تک اس کی عقل واپس نہ آجائے؟ فرمایا کیوں نہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ عورت فلاں قبیلے کی دیوانی عورت ہے، ہوسکتا ہے کہ جس شخص نے اس سے بدکاری کی ہے، اس وقت یہ اپنے ہوش میں نہ ہو اور دیوانی ہو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بھائی! مجھے تو نہیں پتہ، انہوں نے کہا کہ پھر مجھے بھی نہیں پتہ، تاہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر اس پر حد رجم جاری نہیں فرمائی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ و حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ وَهُوَ رَاكِعٌ وَقَالَ إِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا اللَّهَ وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَادْعُوا فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جب تم رکوع میں جاؤ تو اللہ کی عظمت بیان کیا کرو اور جب سجدہ میں جاؤ تو اس سے دعاء کیا کرو، امید ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ عَبِيدَةُ لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْهُ قَالَ مُحَمَّدٌ فَحَلَفَ لَنَا عَبِيدَةُ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَحَلَفَ لَهُ عَلِيٌّ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَنْ لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَحْسَبُهُ قَالَ أَوْ مُودَنُ الْيَدِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا عَلَى أَرْجُلِهِمْ يُحْشَرُونَ وَلَا يُحْشَرُ الْوَفْدُ عَلَى أَرْجُلِهِمْ وَلَكِنْ عَلَى نُوقٍ لَمْ تَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا عَلَيْهَا رَحَائِلُ مِنْ ذَهَبٍ فَيَرْكَبُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَضْرِبُوا أَبْوَابَ الْجَنَّةِ
نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی کہ قیامت کا دن وہ ہوگا جس میں ہم متقیوں کو رحمن کی بارگاہ میں ایک وفد کی صورت میں جمع کریں گے اور فرمایا کہ بخدا! انہیں پاؤں کے بل چلا کر جمع نہیں کیا جائے گا، بلکہ انہیں ایسی اونٹنیوں پر سوار کیا جائے گا جن کی مثل اس سے قبل مخلوق نے نہ دیکھی ہوگی، ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے اور وہ اس پر سوار ہوں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے کھٹکھٹائیں گے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ وَقَفْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يَقُولُ لَبَّيْكَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا هَذَا الْإِهْلَالُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُهِلُّ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ وَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهَا
عکرمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے انہیں مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا تا آنکہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، میں نے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تھا تو میں نے انہیں بھی جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا، میں نے ان سے اس حوالے پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِشَهْرٍ أَصُومُهُ بَعْدَ رَمَضَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتَ صَائِمًا شَهْرًا بَعْدَ رَمَضَانَ فَصُمْ الْمُحَرَّمَ فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ وَفِيهِ يَوْمٌ تَابَ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ وَيُتَابُ فِيهِ عَلَى آخَرِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! رمضان کے علاوہ مجھے کوئی ایسا مہینہ بتائیے جس کے میں روزے رکھ سکوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم رمضان کے بعد کسی مہینے کے روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہ محرم کے روزے رکھو، کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اللہ ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ إِنَّا جِيرَانُكَ وَحُلَفَاؤُكَ وَإِنَّ نَاسًا مِنْ عَبِيدِنَا قَدْ أَتَوْكَ لَيْسَ بِهِمْ رَغْبَةٌ فِي الدِّينِ وَلَا رَغْبَةٌ فِي الْفِقْهِ إِنَّمَا فَرُّوا مِنْ ضِيَاعِنَا وَأَمْوَالِنَا فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَقُولُ قَالَ صَدَقُوا إِنَّهُمْ جِيرَانُكَ قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَقُولُ قَالَ صَدَقُوا إِنَّهُمْ لَجِيرَانُكَ وَحُلَفَاؤُكَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے پڑوسی اور آپ کے حلیف ہیں، ہمارے کچھ غلام آپ کے پاس آگئے ہیں، انہیں دین سے رغبت ہے اور نہ ہی اس کی سمجھ بوجھ سے کوئی دلچسپی ہے، اصل میں وہ ہماری جائیداد اور مال و دولت اپنے قبضہ میں کر کے فرار ہو گئے ہیں، اس لئے آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ان کی یہ بات تو صحیح ہے کہ یہ آپ کے پڑوسی ہیں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور کا رنگ بدل گیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی رائے پوچھی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ یہ آپ کے پڑوسی اور حلیف تو واقعۃ ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ سَنَةَ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ آقْرَأُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا اللَّهَ وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ
نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا میں رکوع اور سجدہ میں قرائت کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں تلاوت قرآن سے منع کیا گیا ہے، جب تم رکوع کرو تو اللہ کی عظمت بیان کیا کرو اور جب سجدہ کرو تو خوب توجہ سے دعاء مانگو، امید ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى بُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا وَظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنْ هِيَ قَالَ لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں ایسے بالاخانے بھی ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے ہی نظر آتا ہے اور بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے، ایک دیہاتی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ کس کے لئے ہیں؟ فرمایا اس شخص کے لئے جو اچھی بات کرے، ضرورت مندوں کو کھانا کھلائے اور جب لوگ رات کو سو رہے ہوں تو صرف رضاء الہی کے لئے نماز تہجد ادا کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ و حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبُعٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ لَتُخْضَبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ قَالَ قَالَ النَّاسُ فَأَعْلِمْنَا مَنْ هُوَ وَاللَّهِ لَنُبِيرَنَّ عِتْرَتَهُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَنْ يُقْتَلَ غَيْرُ قَاتِلِي قَالُوا إِنْ كُنْتَ قَدْ عَلِمْتَ ذَلِكَ اسْتَخْلِفْ إِذًا قَالَ لَا وَلَكِنْ أَكِلُكُمْ إِلَى مَا وَكَلَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن سبع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ داڑھی اس سر کے خون سے رنگین ہو کر رہے گی، لوگوں نے کہا امیرالمومنین! ہمیں اس کا نام پتہ بتائیے، ہم اس کی نسل تک مٹا دیں گے، فرمایا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہیں میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل نہ کر دینا، لوگوں نے عرض کیا کہ جب یہ بات آپ کو معلوم ہے تو پھر ہم پر اپنا نائب ہی مقرر کر دیجئے، فرمایا نہیں، میں تمہیں اسی کیفیت پر چھوڑ کر جاؤں گا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَنْبَأَنَا زَائِدَةُ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمْ الْحُدُودَ مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ تَمُوتَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَحْسَنْتَ
ابو عبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا لوگو! اپنے غلاموں باندیوں پر بھی حدود جاری کیا کرو خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، کیونکہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک باندی سے بدکاری کا ارتکاب ہوگیا تھا، نبی صلی اللہ نے مجھے اس پر سزا جاری کرنے کا حکم دیا، جب میں اس پر حد جاری کرنے لگا تو پتہ چلا کہ ابھی اس کے نفاس کا زمانہ تازہ ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں کوڑے لگنے سے یہ مر ہی نہ جائے، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا معاملہ ذکر کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا کیا ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ إِنَّكَ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ وَهُمْ أَسَنُّ مِنِّي لِأَقْضِيَ بَيْنَهُمْ فَقَالَ اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف فیصلہ کرنے کے لئے بھیج رہے ہیں جو مجھ سے بڑی عمر کے ہیں فرمایا اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا مَا فِيهَا بَيْعٌ وَلَا شِرَاءٌ إِلَّا الصُّوَرُ مِنْ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَ فِيهَا وَإِنَّ فِيهَا لَمَجْمَعًا لِلْحُورِ الْعِينِ يَرْفَعْنَ أَصْوَاتًا لَمْ يَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا يَقُلْنَ نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِيدُ وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْؤُسُ فَطُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَهَا قَالَ وَفِيهَا مُجْتَمَعُ الْحُورِ الْعِينِ يَرْفَعْنَ أَصْوَاتًا فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک بازار ہوگا لیکن اس میں خرید و فروخت نہ ہوگی، اس میں صرف مردوں اور عورتوں کی صورتیں ہوں گی، جس آدمی کو جو صورت پسند ہوگی وہ اس میں داخل ہوجائے گا، نیز جنت میں حور عین کا ایک مجمع لگتا ہے جہاں وہ " کہ ان جیسا حسین خلائق عالم نے نہ دیکھا ہوگا " اپنی آوازیں بلند کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں، ہم کبھی فناء نہ ہوں گی، ہم ہمیشہ راضی رہنے والی ہیں، ہم کبھی ناراض نہ ہوں گی، ہم نازونعم میں پلی ہوئی ہیں اس لئے ہم تنگی میں نہیں رہیں گی، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو ہمارا ہے اور جس کے ہم ہیں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ یہ دیکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ قِتَالُهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک قوم ایسی آئے گی جو اسلام سے ایسے نکل جائے گی جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر سکے گا، ان سے قتال کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ الْمُضَرِّبِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ وَلَقِيَ الْقَوْمُ الْقَوْمَ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَكُونُ مِنَّا أَحَدٌ أَدْنَى مِنْ الْقَوْمِ مِنْهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آجاتے تھے، اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی دشمن کے اتنا قریب نہ تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ هَذَا الْمَوْقِفُ وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ وَدَفَعَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ فَأَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهَا الصَّلَاتَيْنِ يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثُمَّ بَاتَ بِهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ وَقَفَ عَلَى قُزَحَ فَقَالَ هَذَا قُزَحُ وَهُوَ الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ قَالَ ثُمَّ سَارَ فَلَمَّا أَتَى مُحَسِّرًا قَرَعَهَا فَخَبَّتْ حَتَّى جَازَ الْوَادِيَ ثُمَّ حَبَسَهَا وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ فَقَالَ هَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ ثُمَّ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ قَدْ أَفْنَدَ وَقَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ فَهَلْ يُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ فَأَدِّي عَنْ أَبِيكِ قَالَ وَلَوَى عُنُقَ الْفَضْلِ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ قَالَ رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَخِفْتُ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا قَالَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ قَالَ فَاحْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ قَالَ وَأَتَى زَمْزَمَ فَقَالَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سِقَايَتَكُمْ لَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمْ النَّاسُ عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر غروب شمس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، اپنے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے لوگو! سکون اور اطمینان اختیار کرو، پھر آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں اور رات بھر وہیں رہے، صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل قزح پر تشریف لائے، وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے، وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کو سرپٹ دوڑا دیا تا آنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی) ۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور چلتے چلتے منی پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے اور منی پورا ہی قربان گاہ ہے، اتنی دیر میں بنوخثعم کی ایک نوجوان عورت کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ تقریبا ختم ہو چکے ہیں لیکن ان پر حج بھی فرض ہے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! تم اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتی ہو، یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کی گردن موڑ دی (کیونکہ وہ اس عورت کو دیکھنے لگے تھے) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر پوچھا یا رسول اللہ! آپ نے اس کی گردن کس حکمت کی بنا پر موڑی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے دیکھا کہ دونوں نوجوان ہیں، مجھے ان کے بارے شیطان سے امن نہ ہوا اس لئے دونوں کا رخ پھیر دیا، بہرحال تھوڑی دیر بعد ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال کٹوا لیے اب کیا کروں؟ فرمایا اب قربانی کرلو، کوئی حرج نہیں ایک اور شخص نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے حلق سے پہلے طواف زیارت کر لیا، فرمایا کوئی بات نہیں اب حلق یا قصر کر لو۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم طواف زیارت کے لئے حرم شریف پہنچے، طواف کیا، زمزم پیا اور فرمایا بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری پوری کرتے رہو، اگر لوگ تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی اس میں سے ڈول کھینچ کھینچ کر نکالتا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ الْحَنَفِيِّ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ أَخَذَ بِيَدِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي حَتَّى جَلَسْنَا عَلَى شَطِّ الْفُرَاتِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا قَدْ سَبَقَ لَهَا مِنْ اللَّهِ شَقَاءٌ أَوْ سَعَادَةٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَ إِذًا نَعْمَلُ قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى
ابوعبدالرحمن سلمی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم چہل قدمی کرتے ہوئے چلتے رہے، حتی کہ فرات کے کنارے جا کر بیٹھ گئے، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر شخص کا شقی یا سعید ہونا اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر ہم عمل کیوں کریں؟ فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کیے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی تو ہم اس کے لئے آسانی کے اسباب پیدا کر دیں گے اور جو شخص بخل اختیار کرے، اپنے آپ کو مستغنی ظاہر کرے اور اچھی بات کی تکذیب کرے تو ہم اس کے لئے تنگی کے اسباب پیدا کر دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَالَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ
ابوحیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو صحن میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے پانی منگوایا اور پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو کر صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے اور وضو کابچا ہوا پانی لے کر کھڑے کھڑے پی گئے اور فرمایا کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَأَنْقَى كَفَّيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوحیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پہلے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو صاف کیا، پھر تین مرتبہ چہرہ اور دونوں بازو دھوئے، سر کا مسح کیا پھر ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، پھر کھڑے ہو کر وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا اور فرمایا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ نَافِعٍ حَدَّثَنِي أَبُو مَطَرٍ الْبَصْرِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَلِيًّا اشْتَرَى ثَوْبًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ فَلَمَّا لَبِسَهُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنْ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي ثُمَّ قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
ابو مطر بصری جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پایا تھا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین درہم کا ایک کپڑا خریدا، جب اسے پہنا تو یہ دعاء پڑھی کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ لباس عطاء فرمایا جس سے میں لوگوں میں خوبصورت لگتا ہوں اور اپنا ستر چھپاتا ہوں پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَيَّ قَالَ فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھنا چاہتا ہے وہ میری طرف دیکھے، پھر انہوں نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمَّارُ عَنْ أَبِي مَطَرٍ أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا أَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَلَبِسَهُ إِلَى مَا بَيْنَ الرُّسْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ يَقُولُ وَلَبِسَهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنْ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي فَقِيلَ هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ أَوْ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ عِنْدَ الْكُسْوَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنْ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي
ابو مطر بصری جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پایا تھا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین درہم کا ایک کپڑا خریدا، جب اسے پہنا تو یہ دعاء پڑھی کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ لباس عطاء فرمایا جس سے میں لوگوں میں خوبصورت لگتا ہوں اور اپنا ستر چھپاتا ہوں ، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُخْتَارٌ عَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَابِ الرَّحَبَةِ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ أَرِنِي وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ ائْتِنِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِهِ فِي فِيهِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَاحِدَةً فَقَالَ دَاخِلُهُمَا مِنْ الْوَجْهِ وَخَارِجُهُمَا مِنْ الرَّأْسِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا وَلِحْيَتُهُ تَهْطِلُ عَلَى صَدْرِهِ ثُمَّ حَسَا حَسْوَةً بَعْدَ الْوُضُوءِ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا كَانَ وُضُوءُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابو مطر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ زوال کے وقت مسجد میں باب الرحبیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وضو کر کے دکھائیے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام قنبر کو بلا کر فرمایا ایک کٹورے میں پانی لے کر آؤ، پھر انہوں نے اپنے ہاتھوں اور چہرے کو تین مرتبہ دھویا،٣ مرتبہ کلی کی اور اپنی ایک انگلی منہ میں ڈالی، ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالا، تین مرتبہ بازوؤں کو دھویا، ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، چہرہ کی طرف سے اندر کے حصے کا اور سر کی طرف سے باہر کے حصے کا اور تین مرتبہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھوئے، اس وقت ان کی داڑھی سینے پر لٹک رہی تھی، پھر انہوں نے وضو کے بعد ایک گھونٹ پانی پیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح وضو فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدٍ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے سوائے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا، غزوہ احد کے دن آپ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کہ سعدتیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَلَا تَزَوَّجُ إِلَيْنَا قَالَ وَعِنْدَكَ شَيْءٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ تِلْكَ ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی! فرمایا کہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے (دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ فَرَكِبَهَا فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ لَوْ اتَّخَذْنَا مِثْلَ هَذَا قَالَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تُنْزُوا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے، کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا اگر ہم بھی یہ جانور حاصل کرنا چاہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم گھوڑوں پر گدھوں کو کدوانا چاہتے ہو؟ یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَأْتُونِي بِطَسْتٍ وَتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا
ابو حیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا پھر میرے پاس ایک طشت اور پانی کا ایک برتن لے کر آؤ، چنانچہ پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِعُمَرَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ وَعَنْ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَعْقِلَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے امیرالمومنین! کیا آپ نے نہیں سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں ۔ (١) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہوجائے (٢) بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے (٣) مجنون، جب تک اس کی عقل نہ لوٹ آئے
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْأَكْبَرِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ أَرْبَعًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنْ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے چار چیزیں ایسی دی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں، مجھے زمین کے خزانے دیئے گئے ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لیے پانی کی طرح پاک کرنے والا قرار دیا گیا ہے اور میری امت کو بہترین امت کا خطاب دیا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ وَعَنْ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَعْقِلَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے امیرالمومنین! کیا آپ نے نہیں سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں ۔ (١) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہو جائے (٢) بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے (٣) مجنون، جب تک اس کی عقل نہ لوٹ آئے
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غُفِرَ لَكَ عَلَى أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تم انہیں زبان سے ادا کر لو تو تمہارے گناہ معاف کر دیئے جائیں حالانکہ تمہارے گناہ معاف ہوچکے، یہ کلمات کہہ لیا کرو جن کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ حلیم و کریم ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، وہ عرش عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَنَهَى عَنْ النَّوْحِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَذْنَبَ فِي الدُّنْيَا ذَنْبًا فَعُوقِبَ بِهِ فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے اور اسے اس کی سزا بھی مل جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت عادل ہے کہ اپنے بندے کو دوبارہ سزادے، اور جو شخص دنیا میں کوئی گناہ کر بیٹھے اور اللہ اس کی پردہ پوشی کرتے ہوئے اسے معاف فرما دے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت کریم ہے کہ جس چیز کو وہ معاف کر چکا ہو اس کا معاملہ دوبارہ کھولے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الظُّهْرَ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ لَهُ يَجْلِسُهُ فِي الرَّحَبَةِ فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ ثُمَّ حَضَرَتْ الْعَصْرُ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ بِرِجْلَيْهِ ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ إِنَائِهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي حُدِّثْتُ أَنَّ رِجَالًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبَ أَحَدُهُمْ وَهُوَ قَائِمٌ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نےحضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر وہ اپنی نشست پر تشریف لے گئے جہاں وہ باب الرحبہ کے قریب بیٹھتے تھے، جب وہ بیٹھے تو ہم بھی ان کے گرد بیٹھ گئے، جب عصر کی نماز کا وقت آیا تو ان کے پاس ایک برتن لایا گیا، انہوں نے اس سے ایک چلو بھرا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، چہرے اور ہاتھوں پر پھیرا، سر اور پاؤں پر پھیرا اور کھڑے ہو کر بچا ہوا پانی پی لیا اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَأَرْبُطُ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنْ الْجُوعِ وَإِنَّ صَدَقَتِي الْيَوْمَ لَأَرْبَعُونَ أَلْفًا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَإِنَّ صَدَقَةَ مَالِي لَتَبْلُغُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجھ پر ایسا وقت بھی گذرا ہے کہ بھوک کی شدت سے میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا اور آج میرے مال کی صرف زکوۃ چالیس ہزار دینار بنتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُتْبِعْ النَّظَرَ النَّظَرَ فَإِنَّ الْأُولَى لَكَ وَلَيْسَتْ لَكَ الْأَخِيرَةُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا علی! پہلی نظر کسی نامحرم پر پڑنے کے بعد اس پر دوسری نظر نہ ڈالنا کیونکہ پہلی نظر تو تمہیں معاف ہوگی، دوسری نہیں ۔
-
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّاهُ حَمْزَةَ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّاهُ بِعَمِّهِ جَعْفَرٍ قَالَ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُغَيِّرَ اسْمَ هَذَيْنِ فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَمَّاهُمَا حَسَنًا وَحُسَيْنًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن کی پیدائش ہوئی تو ان کا نام حمزہ رکھا گیا اور جب حسین کی پیدائش ہوئی تو ان کا نام ان کے چچا کے نام پر جعفر رکھا گیا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ان دونوں کے نام بدل دوں، میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام علی الترتیب حسن اور حسین رکھ دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِي صَادِقٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِيهِمْ رَهْطٌ كُلُّهُمْ يَأْكُلُ الْجَذَعَةَ وَيَشْرَبُ الْفَرَقَ قَالَ فَصَنَعَ لَهُمْ مُدًّا مِنْ طَعَامٍ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا قَالَ وَبَقِيَ الطَّعَامُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ ثُمَّ دَعَا بِغُمَرٍ فَشَرِبُوا حَتَّى رَوَوْا وَبَقِيَ الشَّرَابُ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ أَوْ لَمْ يُشْرَبْ فَقَالَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنِّي بُعِثْتُ لَكُمْ خَاصَّةً وَإِلَى النَّاسِ بِعَامَّةٍ وَقَدْ رَأَيْتُمْ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَا رَأَيْتُمْ فَأَيُّكُمْ يُبَايِعُنِي عَلَى أَنْ يَكُونَ أَخِي وَصَاحِبِي قَالَ فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ قَالَ فَقَالَ اجْلِسْ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ أَقُومُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ لِي اجْلِسْ حَتَّى كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى يَدِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو دعوت پر جمع فرمایا، ان میں سے کچھ لوگ تو ایسے تھے کہ پورا پورا بکری کا بچہ کھاجاتے اور سولہ رطل کے برابر پانی پی جاتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی دعوت میں صرف ایک مد (آسانی کے لئے ایک کلو فرض کر لیں) کھانا تیار کروایا، ان لوگوں نے کھانا شروع کیا تو اتنے سے کھانے میں وہ سب لوگ سیر ہوگئے اور کھانا ویسے ہی بچا رہا، محسوس ہوتا تھا کہ اسے کسی نے چھوا تک نہیں ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا پانی منگوایا وہ ان سے نے سیراب ہو کر پیا لیکن پانی اسی طرح بچا رہا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ان تمام مراحل سے فراغت پا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا اے بنو عبد المطلب! مجھے خصوصیت کے ساتھ تمہاری طرف اور عمومیت کے ساتھ پوری انسانیت کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور تم نے کھانے کا یہ معجزہ تو دیکھ ہی لیا ہے، اب تم میں سے کون مجھ سے اس بات پر بیعت کرتا ہے کہ وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی بنے؟ اس پر کوئی بھی کھڑا نہ ہوا، یہ دیکھ کر " کہ اگرچہ میں سب سے چھوٹا ہوں" میں کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بیٹھ جانے کا حکم دیا اور تین مرتبہ اپنی بات کو دہرایا اور تینوں مرتبہ اسی طرح ہوا کہ میں کھڑا ہوجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بیٹھنے کا حکم دے دیتے، یہاں تک کہ تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا (بیعت فرما لیا)
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا عَلِيُّ إِنَّ لَكَ كَنْزًا مِنْ الْجَنَّةِ وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا فَلَا تُتْبِعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے علی! جنت میں تمہارے لیے ایک خزانہ رکھا گیا ہے اور تم اس کے دو سینگوں والے ہو (مکمل مالک ہو) اس لئے اگر کسی نامحرم پر نظر پڑ جائے تو دوبارہ اس پر نظر مت ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہیں معاف ہوجائے گی لیکن دوسری معاف نہیں ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ نَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثِينَ وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا وَقَالَ اقْسِمْ لُحُومَهَا بَيْنَ النَّاسِ وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا وَلَا تُعْطِيَنَّ جَازِرًا مِنْهَا شَيْئًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی شروع کی تو اپنے دست مبارک سے تیس اونٹ ذبح کیے اور مجھے حکم دیا تو باقی کے اونٹ میں نے ذبح کیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کردیں اور گوشت بھی تقسیم کردوں اور یہ کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ يَقُولُ سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ النَّهَارِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَ ذَلِكَ قُلْنَا مَنْ أَطَاقَ مِنَّا ذَلِكَ قَالَ إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَإِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعًا وَيُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا وَيَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ہم نے عرض کیا آپ بتا دیجئے، ہم اپنی طاقت اور استطاعت کے بقدر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے، جب سورج مشرق سے اس مقدار میں نکل آتا جتنا عصر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے، پھر تھوڑی دیر انتظار فرماتے اور جب سورج مشرق سے اتنی مقدار میں نکل آتاجتنا ظہر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھتے، پھر سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد اور چار رکعتیں عصر سے پہلے پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں میں ملائکہ مقربین، انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں اور مومنین کے لئے سلام کے کلمات کہتے (تشہد پڑھتے)
-
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ أَبُو الْحَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ عَنْ أَبِي صَادِقٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَ بِهِ ثُمَّ قَالَ يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تمہارے معاملہ میں وہی ہوگا جیسا حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ ہوا، یہودیوں نے ان سے بغض کیا یہاں تک کہ ان کی والدہ پر گناہ کا بہتان باندھا اور عیسائیوں نے ان سے اتنی محبت کی کہ انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جوان کا مقام ومرتبہ نہ تھا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، ایک وہ محبت میں حد سے آگے بڑھ جانے والے جو مجھے اس مقام پر فائز کر دیں گے جو میرا مقام نہیں ہے اور دوسرے وہ بغض رکھنے والے جو میری عدات میں آکر مجھ پر ایسے بہتان باندھیں گے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ مَلِيحٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَيْلَانَ الشَّيْبَانِيُّ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ عَنْ أَبِي صَادِقٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ فِيكَ مِنْ عِيسَى مَثَلًا أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ أَلَا وَإِنَّهُ يَهْلِكُ فِيَّ اثْنَانِ مُحِبٌّ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي أَلَا إِنِّي لَسْتُ بِنَبِيٍّ وَلَا يُوحَى إِلَيَّ وَلَكِنِّي أَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَطَعْتُ فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ فَحَقٌّ عَلَيْكُمْ طَاعَتِي فِيمَا أَحْبَبْتُمْ وَكَرِهْتُمْ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا کہ تمہارے معاملہ میں وہی ہوگا جیسا حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ ہوا، یہودیوں نے ان سے بغض کیا یہاں تک کہ ان کی والدہ پر گناہ کا بہتان باندھا اور عیسائیوں نے ان سے اتنی محبت کی کہ انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جو ان کا مقام و مرتبہ نہ تھا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، ایک وہ محبت میں حد سے آگے بڑھ جانے والے جو مجھے اس مقام پر فائز کر دیں گے جو میرا مقام نہیں ہے اور دوسرے وہ بغض رکھنے والے جو میری عداوت میں آکر مجھ پر ایسے بہتان باندھیں جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خبردار! میں نبی نہیں ہوں اور نہ ہی مجھ پر وحی آتی ہے، میں تو حسب استطاعت صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہوں، اس لئے اللہ کی اطاعت کے حوالے سے میں تمہیں جو حکم دوں ، خواہ وہ تمہیں اچھا لگے یا برا، اس میں تم پر میری اطاعت کرنا میرا حق بنتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنْ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَمِنْهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ كَأَنَّ يَدَيْهِ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَشُغِلَ عَنْهُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ كَذَا وَكَذَا فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ثُمَّ عَادَ فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَقَالَ قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ كَأَنَّ يَدَهُ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ فِيهِمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
کلیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت سوائے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اور نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے ابن ابی طالب! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ایسی ایسی قوم سے تمہارا پالا پڑے گا؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، فرمایا ایک قوم ہوگی جو مشرق سے نکلے گی، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جاسکے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جس کا ہاتھ ناقص ہوگا اور اس کے ہاتھ ایک حبشی عورت کی چھاتی کی طرح محسوس ہوں گے۔ کلیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ایک آدمی ان کے پاس آیا جس پر سفر کے کپڑے تھے، اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو کہ لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے اندر آنے کی اجازت لی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے منہ پھیرنے کے بعد فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت سوائے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اور نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے ابن ابی طالب! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ایسی ایسی قوم سے تمہارا پالا پڑے گا؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، دو مرتبہ اسی طرح ہوا پھر فرمایا ایک قوم ہوگی جو مشرق سے نکلے گی، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جاسکے گا، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جس کا ہاتھ ناقص ہوگا اور اس کے ہاتھ ایک حبشی عورت کی چھاتی کی طرح محسوس ہوں گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ عَنْ عَمْرٍو ذِي مُرٍّ قَالَ أَبْصَرْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ قَالَ وَأَنَا أَشُكُّ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ ثَلَاثًا ذَكَرَهَا أَمْ لَا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ قَالَ أَحَدُهُمَا ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ آخِرُ مُسْنَدِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو سکھایا، چنانچہ سب سے پہلے انہوں نے اپنے ہاتھوں کو دھویا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور اپنے ہاتھ کو اس کے نیچے ڈبو دیا، پھر اسے باہر نکال کر دوسرے ہاتھ پر مل لیا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر ہتھیلی سے چلو بنا کر تھوڑا سا پانی لیا اور اسے پی گئے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔
-