TrueHadith

حضرت ابومسعودعقبہ بن عمروانصاری رضی اللہ عنہ کی مرویات

Musnad AhmadHadith 21308

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا وَلَا تَؤُمَّنَّ رَجُلًا فِي سُلْطَانِهِ وَلَا تَجْلِسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَكَ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں قرآن کا سب سے بڑا قاری ہو، اگر سب لوگ قرات میں برابر ہوں تو سب سے زیادہ سنتوں کو جاننے والا امامت کرے ، اگر اس میں بھی برابر ہوں تو سب سے پہلے ہجرت کرنے والا امامت کرے اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں توسب سے زیادہ عمر رسیدہ آدمی امامت کرے کسی شخص کے گھر یا حکومت میں کوئی دوسرا امامت نہ کرائے اسی طرح کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کے باعزت مقام پر نہ بیٹھے الا یہ کہ وہ خود اس کی اجازت دے دے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21309

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ وَيَزِيدُ أَخْبَرَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21310

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلَالٍ أَنْ يُجِيبَهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُشَمِّتَهُ إِذَا عَطَسَ وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ وَإِذَا مَاتَ أَنْ يَشْهَدَهُ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حق ہیں جب وہ دعوت کرے تو اسے قبول کرے ، جب اسے چھینک آئے تو جواب دے ، بیمار ہو تو عیادت کرے اور جب فوت ہوجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21311

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ الْإِيمَانُ هَاهُنَا الْإِيمَانُ هَاهُنَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے دست مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کر کے دو مرتبہ فرمایا ایمان یہاں ہے یاد رکھو! دلوں کی سختی اور درشتی ان متکبروں میں ہوتی ہے جو اونٹوں کے مالک ہوں جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے یعنی ربیعہ اور مضر نامی قبائل میں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21312

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ لَمُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی (اپنے امام کے خوف سے ، میں فجر کی نماز میں رہ جاؤں گا کیونکہ وہ ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ دوران وعظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی غضب ناک نہیں دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! تم میں سے بعض افراد دوسرے لوگوں کو متنفر کر دیتے ہیں تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے چاہئے کہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ نمازیوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21313

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں نے پہلی نبوت کا جو کلام پایا ہے اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب تم میں شرم وحیاء نہ رہے تو جو چاہو کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21314

زِيَادَات الْقُطَيْعِيِّ قَالَ ابْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں نے پہلی نبوت کا جو کلام پایا ہے اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب تم میں شرم وحیاء نہ رہے تو جو چاہو کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21315

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا فَيُحَامِلُ فَيَجِيءُ بِالْمُدِّ وَإِنَّ لِبَعْضِهِمْ الْيَوْمَ مِائَةَ أَلْفٍ قَالَ شَقِيقٌ فَرَأَيْتُ أَنَّهُ يُعَرِّضُ بِنَفْسِهِ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صدقہ و خیرات کی ترغیب دیتے تو ہم میں سے ایک آدمی جاکر مزدوری کرتا اور ایک مد کما کرلے آتا ( اور وہ صدقہ کردیتا) جبکہ آج ان میں سے بعض کے پاس لاکھوں روپے ہیں ، راوی حدیث شقیق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ غالباً اس سے ان کا اشارہ خود اپنی ذات کی طرف تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21316

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا صَدَقَةٌ

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان اپنے اہل خانہ پر کچھ خرچ کرتا ہے اور ثواب کی نیت رکھتا ہے تو وہ خرچ کرنا بھی صدقہ ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21317

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ فِيكُمْ مُنَافِقِينَ فَمَنْ سَمَّيْتُ فَلْيَقُمْ ثُمَّ قَالَ قُمْ يَا فُلَانُ قُمْ يَا فُلَانُ قُمْ يَا فُلَانُ حَتَّى سَمَّى سِتَّةً وَثَلَاثِينَ رَجُلًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ قَالَ فَمَرَّ عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ مِمَّنْ سَمَّى مُقَنَّعٍ قَدْ كَانَ يَعْرِفُهُ قَالَ مَا لَكَ قَالَ فَحَدَّثَهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بُعْدًا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُفْيَانُ أُرَاهُ عِيَاضَ بْنَ عِيَاضٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا تم میں سے بعض لوگ منافقین بھی ہیں، اس لئے میں جس کا نام لوں وہ اپنی جگہ کھڑا ہوجائے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا اے فلاں ! کھڑے ہو جاؤ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٣٦ آدمیوں کے نام لیے پھر فرمایا یہ لوگ تم ہی میں تھے اس لئے اللہ سے ڈرتے رہو، کچھ ہی دیر بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک آدمی پر گذر ہوا جس نے اپناچہرہ چھپا رکھا تھا اور وہ ان ہی آدمیوں میں سے تھا جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے پہچانتے تھے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا؟ اس نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج یہ فرمایا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا دور ہوجا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21318

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَضْرِبُ غُلَامًا لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَإِنِّي أُعْتِقُهُ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن وہ اپنے کسی غلام کو مار پیٹ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! تم اس غلام پر جتنی قدرت رکھتے ہو اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میں اسے اللہ کی رضاء کے لئے آزاد کرتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21319

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا فَأَتَى الرَّجُلَ فَأَعْطَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ أَوْ عَامِلِهِ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا سامان سفر اور سواری ختم ہوگئی ہے لہٰذا مجھے کوئی سواری دے دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تو میرے پاس کوئی جانور نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کر دوں ، ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ایسے آدمی کا پتہ نہ بتا دوں جو اسے سواری کے لئے جانور مہیا کر دے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نیکی کی طرف رہنمائی کر دے اسے بھی نیکی کرنے والے کی طرح اجروثواب ملتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21320

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اتنی دیر سکوت فرمایا کہ ہم تمنا کرنے لگے کہ کاش ! ہم نے یہ سوال پوچھا ہی نہ ہوتا پھر فرمایا کہا کرو " اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وبارک علی محمد کمابارکت علی آل ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید " اور سلام کے الفاظ تو تم جانتے ہی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21321

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكُ ابْنُ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِهَذَا أُمِرْتُ فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ بِهِ يَا عُرْوَةُ أَوَأَنَّ جِبْرِيلَ هُوَ الَّذِي أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ فَقَالَ عُرْوَةُ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تھے انہوں نے عصر کی نماز مؤخر کر دی تو عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے پاس آکر کہا کہ ایک مرتبہ کوفہ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی نماز عصر میں تاخیر کر دی تھی تو حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا تھا یہ کیا مغیرہ ! کیا آپ یہ بات جانتے نہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس وقت نماز پڑھی اسی طرح پانچوں نماز کے وقت وہ آئے اور وقت مقرر کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حدیث سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا عروہ ! اچھی طرح سوچ سمجھ کر کہو، کیا جبریل علیہ السلام نے نماز کا وقت متعین کیا تھا ؟ حضرت عروہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جی ہاں ! بشیر بن ابی مسعود نے مجھ سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21322

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَضْرِبُ مَمْلُوكًا لِي إِذَا رَجُلٌ يُنَادِي مِنْ خَلْفِي اعْلَمْ يَا أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ يَا أَبَا مَسْعُودٍ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا قَالَ فَحَلَفْتُ لَا أَضْرِبُ مَمْلُوكًا لِي أَبَدًا

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں اپنے کسی غلام کو مار پیٹ رہا تھا کہ پیچھے سے ایک آواز رہنے دیں سنائی دی اے ابو مسعود! یاد رکھو! میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! تم اس غلام پر جتنی قدرت رکھتے ہو، اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے اسی وقت میں نے قسم کھالی کہ آئندہ کبھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21323

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقُرَيْشٍ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَزَالُ فِيكُمْ وَأَنْتُمْ وُلَاتُهُ حَتَّى تُحْدِثُوا أَعْمَالًا فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ شِرَارَ خَلْقِهِ فَالْتَحَوْكُمْ كَمَا يُلْتَحَى الْقَضِيبُ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ فَالْتَحَوْكُمْ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَقَالَ فَالْتَحَوْكُمْ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ كَمَا يُلْتَحَى الْقَضِيبُ

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے فرمایا یہ حکومت اس وقت تک تمہارے درمیان رہے گی اور تم اس وقت تک اس پر حکمران رہو گے جب تک نئی بدعات ایجاد نہ کر لو، جب تم ایسا کرنے لگو گے تو اللہ تم پر اپنی بدترین مخلوق کو مسلط کر دے گا اور وہ تمہیں اس طرح چھیل دیں گے جیسے لکڑی کو چھیل دیا جاتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21324

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَأْتِيَنَّ أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِسَبْعِ مِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَشُكَّ قَالَ لَتَأْتِيَنَّ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے راہ خدا میں ایک اونٹنی صدقہ کر دی جس کی ناک میں نکیل بھی پڑی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن یہ سات سو اونٹنیاں لے کر آئے گی جن کی ناک میں نکیل پڑی ہوگی ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21325

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْبَرَّادُ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَافَى بَيْنَ إِبْطَيْهِ قَالَ ثُمَّ قَامَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ثُمَّ سَجَدَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ وَجَافَى بَيْنَ إِبِطَيْهِ قَالَ ثُمَّ قَامَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ثُمَّ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ هَكَذَا

سالم البراد " جو ایک قابل اعتماد راوی ہیں " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے نماز کا طریقہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں ؟ یہ کہہ کر انہوں نے کھڑے ہو کر تکبیر کہی، رفع یدین کیا رکوع میں اپنی دونوں ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھا اور ہاتھوں کو بغلوں سے جدا رکھا پھر سیدھے کھڑے ہوگئے حتیٰ کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہوگیا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو بغلوں سے جدا رکھا پھر سر اٹھا کر سیدھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہوگیا، پھر چاروں رکعتیں اسی طرح پڑھ کر دکھائیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21326

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَفَعَهُ وَقَالَ شَاذَانُ مَرَّةً عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ وَذَكَرَ شَاذَانُ أَيْضًا حَدِيثَ الدَّالِّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جس شخص سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے ۔ اور شاذان نے یہ حدیث بھی ذکر کی کہ جو شخص نیکی کی طرف رہنمائی کر دے اسے بھی نیکی کرنے والے کی طرح اجروثواب ملتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 21327

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقُرَيْشٍ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَزَالُ فِيكُمْ وَأَنْتُمْ وُلَاتُهُ مَا لَمْ تُحْدِثُوا فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ شِرَارَ خَلْقِهِ وَالْتَحَوْكُمْ كَمَا يُلْتَحَى الْقَضِيبُ

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے فرمایا یہ حکومت اس وقت تک تمہارے درمیان رہے گی اور تم اس وقت تک اس پر حکمران رہو گے جب تک نئی بدعات ایجاد نہ کرلو، جب تم ایسا کرنے لگو گے تو اللہ تم پر اپنی بدترین مخلوق کو مسلط کر دے گا اور وہ تمہیں اس طرح چھیل دیں گے جیسے لکڑی کو چھیل دیا جاتا ہے۔

-

Permalink