أَخْبَرَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہاری قسم کا وہی مفہوم معتبر ہوگا جس کی تصدیق تمہارا ساتھی (قسم لینے والا) بھی کرے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَهِشَامٌ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے۔ کان اور صحرا میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے۔ اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے۔ اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
-
أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ يُقَبِّلُ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَقَالَ لَهُ لَا تُقَبِّلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ وُلِدَ لِي عَشَرَةٌ مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عیینہ بن حصن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں سے کسی ایک کو چوم رہے ہیں وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ انہیں چوم رہے ہیں جبکہ میرے یہاں تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو نہیں چوما؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کسی پر رحم نہیں کرتا۔ اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّ بِقَوْمٍ يَتَوَضَّئُونَ فَقَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو وضو کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَةَ أَمْ لَا ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کا بہترین زمانہ وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ۔ پھر اسکے بعد والوں کا زمانہ سب سے بہتر ہے (اب یہ بات اللہ زیادہ جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھی بعد والوں کا ذکر فرمایا یا نہیں) اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹاپے کو پسند کرے گی اور گواہی کے مطالبے سے قبل ہی گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِمَّنْ سِوَاهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ زَكَرِيَّا عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَتْ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً فَعَلَى الْمُرْتَهِنِ عَلَفُهَا وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُهُ نَفَقَتُهُ وَيَرْكَبُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر جانور کو بطور رہن کے کسی کے پاس رکھوایا جائے تو اس کا چارہ مرتہن کے ذمے واجب ہوگا اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ پیا جا سکتا ہے۔ البتہ جو شخص اس کا دودھ پیے گا اس کا خرچہ بھی اس کے ذمے ہوگا اور اس پر سواری بھی کی جا سکتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ يُوسُفَ أَوْ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفُوا فِي الطَّرِيقِ رُفِعَ مِنْ بَيْنِهِمْ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب راستے کی پیمائش میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز پر اتفاق کرکے دور کرلیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُهَيْمِ الْوَاسِطِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرُؤُ الْقَيْسِ صَاحِبُ لِوَاءِ الشُّعَرَاءِ إِلَى النَّارِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امرؤالقیس جہنم میں جانے والے شعراء کا علم بردار ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ جَبْرِ بْنِ عَبِيدَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْهِنْدِ فَإِنْ اسْتُشْهِدْتُ كُنْتُ مِنْ خَيْرِ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے غزوہ ہندوستان کا وعدہ فرما رکھا ہے۔ اگر میں اس جہاد میں شرکت کرسکا اور شہید ہوگیا تو میرا شمار بہترین شہداء میں ہوگا اور اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں نار جہنم سے آزاد ابوہریرہ ہوں گا۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ إِلَى الصَّلَاةِ الَّتِي بَعْدَهَا كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا قَالَ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالشَّهْرُ إِلَى الشَّهْرِ يَعْنِي رَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا قَالَ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ قَالَ فَعَرَفْتُ أَنَّ ذَلِكَ الْأَمْرَ حَدَثَ إِلَّا مِنْ الْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ وَتَرْكِ السُّنَّةِ قَالَ أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ أَنْ تُبَايِعَ رَجُلًا ثُمَّ تُخَالِفَ إِلَيْهِ تُقَاتِلُهُ بِسَيْفِكَ وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ فَالْخُرُوجُ مِنْ الْجَمَاعَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک فرض نماز اگلی نماز تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے اسی طرح ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک ایک مہینہ (رمضان) دوسرے مہینے (رمضان) تک بھی درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا سوائے تین گناہوں کے میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کسی خاص وجہ کی بناء پر فرمایا ہے۔ (بہرحال! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) سوائے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے۔ معاملہ توڑنے کے اور سنت چھوڑنے کے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی علیہ وسلم اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا مطلب تو ہم سمجھ گئے معاملہ توڑنے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاملہ توڑنے سے مراد یہ ہے کہ تم کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرو۔ پھر اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاؤ اور تلوار پکڑ کر اس سے قتال شروع کردو اور سنت چھوڑنے سے مراد جماعت مسلمین سے خروج ہے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ وَالثَّيِّبُ تُشَاوَرُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي قَالَ سُكُوتُهَا رِضَاهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہر دیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکی شرماتی ہے (تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خاموشی ہی اس کی رضامندی کی علامت ہے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُصُّوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَعْنِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا قَالَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ طُعْمٍ وَذِكْرِ اللَّهِ قَالَ مَرَّةً أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ ایک دوسری سند میں صرف کھانے پینے کا ذکر ہے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ فَحَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَتِيرَةَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا فَرَعَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بے حجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَطُوفُ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ تَلِدُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَسْتَثْنِ فَمَا وَلَدَتْ إِلَّا وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ بِشِقِّ إِنْسَانٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ اسْتَثْنَى لَوُلِدَ لَهُ مِائَةُ غُلَامٍ كُلُّهُمْ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا آج رات عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا۔ ان میں سے ہر ایک عورت کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو راہ خدا میں جہاد کرےگا۔ اس موقع پر وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے چنانچہ ان کی بیویوں میں سے صرف ایک بیوی کے یہاں ایک نامکمل بچہ پیدا ہوا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو ان کے یہاں حقیقتا سو بیٹے پیدا ہوتے اور وہ سب کے سب راہ خدا میں جہاد کرتے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ قَالَ هُشَيْمٌ فَلَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔
-
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَالِاسْتِحْدَادُ وَالْخِتَانُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں۔ (١) مونچھیں تراشنا (٢) ناخن کانٹا (٣) بغل کے بال نوچنا (٤) زیرناف بال صاف کرنا (٥) ختنہ کرنا۔
-
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ بَكْرٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ أَوْ قَالَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ سَجَدْتُ فِيهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُهَا حَتَّى أَلْقَاهُ
ابورافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ اس میں انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا۔ نماز کے بعد میں نے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ؟ (آپ نے یہ کیا کیا؟) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اس آیت پر سجدہ کیا ہے اس لئے میں اس آیت پر پہنچ کر ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔
-
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اور وہ بیماری والے پر کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتی ہے (پہلے اسے برتن میں ڈالتی ہے) اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)
-
حَدَّثَنَا بِشْرٌ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَ الْأَوَّلُ بِأَحَقَّ مِنْ الْآخِرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اسے سلام کرنا چاہیے اور جب کسی مجلس سے جانے کے لئے کھڑا ہونا چاہے تب بھی سلام کرنا چاہیے اور پہلا موقع دوسرے موقع سے زیادہ حق نہیں رکھتا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی اولاد اپنے والد کے جرم کا بدلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی (باپ کے جرم کا بدلہ اس کی اولاد سے نہیں لیا جائے گا) البتہ اتنی بات ضرورہے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے تو اسے خرید کر آزاد کردے۔
-
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امام اسی مقصد کے لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہوجب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
-
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو لوگوں کے درمیان جج بنا دیا جائے۔ گویا اسے بغیر چھری کے ذبج کردیا گیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْغِيَابَةُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ لَهُ يَعْنِي قَالَ إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس میں نہ ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى النَّجَاشِىِّ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا حَضَرَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَيُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا قَدْ حُرِمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ماہ رمضان قریب آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آرہاہے یہ مبارک مہینہ ہے اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں اس مبارک مہینے میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتاہے۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہترہے جو شخص اس کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ مکمل طور پر محروم ہی رہا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَالَ أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پکار کر پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتاہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ أَوْ شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ وَتَمِيمٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن قبیلہ اسلم۔ غفار اور مزینہ و جہینہ کا کچھ حصہ اللہ کے نزدیک بنواسد بنوعظفان و ہوازن اور تمیم سے بہتر ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ و قَالَ بِيَدِهِ قُلْنَا يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آ جائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرماتا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر ہونا بیان فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ إِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاكَرُوا الرِّجَالُ أَكْثَرُ أَمْ النِّسَاءُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَوَ لَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ ثِنْتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں فخر یا مذاکرہ کیا کہ مردوں کی تعدادزیادہ ہے یا عورتوں کی؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں ارشاد فرمایا کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہوگا اس کے بعد داخل ہونے والا گر وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے باہر سے نظر آجائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ قَالَ أَيُّوبُ فَأُنْبِئْتُ أَنَّ رَجُلًا شَرِبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے راوی حدیث ایوب کہتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک آدمی نے مشکیزے کے منہ سے اپنا منہ لگا کر پانی پیا تو اس میں سے سانپ نکل آیا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلٌ جَارَهُ أَنْ يَجْعَلَ خَشَبَتَهُ أَوْ قَالَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی (یا شہتیر) رکھنے سے منع نہ کرے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اصل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ بِإِنَاءٍ مَعَهَا فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خدیجہ آپ کے پاس ایک برتن لے کر آرہی ہیں اس میں سالن یا کھانے پینے کی چیز ہے جب یہ آپ کے پاس پہنچیں تو آپ انہیں ان کے رب کی طرف سے اور میری جانب سے سلام کہہ دیں اور انہیں جنت میں ایک ایسے گھر کی بشارت دے دیں جس پر لکڑی کا کام ہوا ہوگا اس میں کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تھکاوٹ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يَخْرُجُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرَسُولِي فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ كُلِمَ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا وَلَكِنِّي لَا أَجِدُ سَعَةً فَيَتْبَعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ فَيَتَخَلَّفُونَ بَعْدِي وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس حال میں اسے اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کر چکا ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا۔ اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں گے تو میں راہ خدا میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ وہ میری پیروی کرسکیں اور ان کی دلی رضامندی نہ ہو اور وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے ہٹنے لگیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے مجھے اس بات کی تمناہے کہ راہ خدا میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں ۔ پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ وَالْمُقَصِّرِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ! حلق کرانے والوں کی بخشش فرما۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قصر کرانے والوں کے لئے بھی دعاء کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ اے اللہ! حلق کرانے والوں کی مغفرت فرما چوتھی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر کرانے والوں کو بھی اپنی دعاء میں شامل فرما لیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ أَمَا وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَلَا تَمَهَّلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تیرے باپ کی قسم! تجھے اس کا جواب ضرور ملے گا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو۔ تمہیں فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو۔ اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگوکہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ تو فلاں (ورثاء) کا ہوچکا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَلَسَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مَلَكٌ يَنْزِلُ فَقَالَ جِبْرِيلُ إِنَّ هَذَا الْمَلَكَ مَا نَزَلَ مُنْذُ يَوْمِ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَةِ فَلَمَّا نَزَلَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَبُّكَ قَالَ أَفَمَلِكًا نَبِيًّا يَجْعَلُكَ أَوْ عَبْدًا رَسُولًا قَالَ جِبْرِيلُ تَوَاضَعْ لِرَبِّكَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ بَلْ عَبْدًا رَسُولًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کی نظر آسمان پر پڑی انہوں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ اتر رہا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ یہ فرشتہ جب سے پید ہوا ہے اس وقت سے لے کر اب تک اس وقت سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا جب وہ نیچے اتر کر آیا تو کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ کے رب نے آپ کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ وہ آپ کو فرشتہ بنا کر نبوت عطاء کردے یا اپنا بندہ بنا کر رسالت عطاء کردے؟ حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے سامنے تواضع اختیار کیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ مجھے بندہ بنا کر رسالت عطاء کردے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو اللہ پر ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَاكْلَفُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کثرت حاصل کرنے کے لئے لوگوں سے روپے پیسے مانگتا پھرتا ہے (کہ اس کے پاس پیسوں کی تعداد زیادہ ہوجائے ) تو وہ یاد رکھے کہ وہ انگارے مانگ رہا ہے اب چاہے تھوڑے مانگے یا زیادہ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ وَجَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ إِسْكَاتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ أَخْبِرْنِي مَا هُوَ قَالَ أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنْ الدَّنَسِ قَالَ جَرِيرٌ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ قَالَ أَبِي كُلُّهَا عَنْ أَبِي زُرْعَةَ إِلَّا هَذَا عَنْ أَبِي صَالِحٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد تکبیر اور قراءۃ کے درمیان کچھ دیرکے لئے سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ تکبیر اور قرات کے درمیان جو سکوت فرماتے ہیں یہ بتائیے کہ آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا فرما دے جتنا تونے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے اے اللہ مجھے گناہوں سے ایسے پاک صاف فرمادے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہو جاتا ہے اے اللہ مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی، اور اولوں سے دھو کر صاف فرما دے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ ضَوْءِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمْ الْحُورُ الْعِينُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ فِي طُولِ سِتِّينَ ذِرَاعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گر وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگایہ لوگ پیشاب پاخانہ نہیں کریں گے۔ نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی۔ ان کی انگیٹھیوں میں عود مہک رہا ہوگا۔ ان کی بیویاں بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی ان سب کے اخلاق ایک شخص کے اخلاق کی مانند ہوں گے۔ وہ سب اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر اور ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ دَارَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ وَهِيَ تُبْنَى فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَيْنِ فَلَمَّا غَسَلَ رِجْلَيْهِ جَاوَزَ الْكَعْبَيْنِ إِلَى السَّاقَيْنِ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَ هَذَا مَبْلَغُ الْحِلْيَةِ
ابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مروان بن حکم کے گھر میں داخل ہوا وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کچھ تصاویر نظر آئیں وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک ذرہ یا ایک دانہ یا ایک جو کا دانہ پیدا کر کے دکھائیں۔ اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا اور اپنے بازؤوں کو دھوتے ہوئے کہنیوں سے بھی آگے بڑھ گئے اور جب پاؤں دھونے لگے تو ٹخنوں سے آگے بڑھ کر پنڈلیوں تک پہنچ گئے میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ زیور کی انتہاء ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے میزان عمل میں بھاری اور رحمان کو محبوب ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي وَقَالَ ابْنُ فُضَيْلٍ مَرَّةً يَتَخَيَّلُ بِي فَإِنَّ رُؤْيَا الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ الصَّادِقَةَ الصَّالِحَةَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہو جائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری زیارت کی کیونکہ شیطان میری شکل وصورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار، اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور مؤذنین کی مغفرت فرما۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ كَيْلًا بِكَيْلٍ وَوَزْنًا بِوَزْنٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ أَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى إِلَّا مَا اخْتَلَفَ أَلْوَانُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گندم کو گندم کے بدلے جو کو جو کے کھجور کو کھجور کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے برابر برابر ماپ کر یا وزن کر کے بیچا جائے جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافہ کا مطالبہ کرے گویا اس نے سودی معاملہ کیا الا یہ کہ اس کا رنگ مختلف ہو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز کا اول وقت بھی ہوتا ہے اور آخر وقت بھی چنانچہ ظہر کا اول وقت زوال شمس کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخروقت نماز عصر کا وقت داخل ہونے تک ہوتا ہے۔ عصر کا اول وقت اس کا وقت داخل ہونے پر ہوتا ہے اور اس کا آخر وقت سورج کے پیلا پڑنے تک ہوتا ہے۔ مغرب کا اول وقت سورج غروب ہونے کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخر وقت افق کے غائب ہونے تک ہوتا ہے۔ نمازعشاء کا اول وقت افق کے غائب ہونے کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخر وقت نصف رات تک ہوتا ہے اور فجر کا اول وقت طلوع فجر کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخروقت طلوع آفتاب تک ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ بَيْتِي قُوتًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا رزق اتنا مقرر فرماکہ گذارہ ہوجائے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا ضِرَارٌ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بدلہ عطاء فرمائے گا تب بھی وہ خوش ہوگا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشب وسے زیادہ عمدہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَلْيَبْدَأْ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تہجد کی نماز کے لئے اٹھے تو اسے چاہئے کہ اس کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ قَالَ إِنْ كَانَ جَامِدًا فَخُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ثُمَّ كُلُوا مَا بَقِيَ وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَأْكُلُوهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گرا ہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کر لو اور اگر گھی مائع کی شکل میں ہو تو اسے مت استعمال کرو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ ضَمْضَمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ فَقُلْتُ لِيَحْيَى مَا يَعْنِي بِالْأَسْوَدَيْنِ قَالَ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھاہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو ماراجاسکتا ہے ۔ راوی نے اپنے استاذ یحییٰ سے دو کالی چیزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی وضاحت سانپ اور بچھو سے کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِشِمَالِهِ وَقَالَ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے نیزیہ بھی فرمایا کہ دونوں جوتیاں پہنا کرو ۔ (ایسا نہ کیا کروکہ ایک پاؤں میں جوتی ہو اور دوسرے میں نہ ہو جیسا کہ بعض لوگ کرتے تھے)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٢) سونے سے پہلے نمازوتر پڑھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے جانور کے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو؟
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ إِلَّا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر پیداہونے والے بچے کو شیطان کچوکے لگاتا ہے جس کی وجہ سے ہر پیداہونے والا بچہ روتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہاالسلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ میں مریم اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے شر سے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزوہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصرہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے راہ خدا میں ضرور خرچ کروگے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَفْضُلُ الصَّلَاةُ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَيَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے ہے اور رات اور دن کے فرشتے نماز فجر کے وقت جمع ہوتے ہیں پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ فجر کے وقت قرآن پڑھنا مشہود ہے (اس پر فرشتے گواہ بن جاتے ہیں کیونکہ وہ اس وقت حاضر ہوتے ہیں )
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قَالَ قَالُوا أَيُّمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب زمانہ قریب آجائے گا لوگوں کے دلوں میں بخل اور کنجوسی انڈیل دی جائے گی ۔ فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُونَ آمِينَ وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب امام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہہ لے تو تم اس پر آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے سو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ قَالُوا وَمَا الْقِيرَاطَانِ قَالَ مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دو قیراط کی وضاحت دریافت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتَهُ وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَكَأَنَّهُ يُعَرِّضُ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ إِبِلٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَا أَلْوَانُهَا قَالَ حُمْرٌ قَالَ فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ قَالَ نَعَمْ فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ قَالَ وَمِمَّا ذَاكَ قَالَ لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ صَاحَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوفزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بچے کا نسب خود سے ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آگیا؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیاہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لوکہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثِ مَسَاجِدَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام۔ دوسرے میری یہ مسجد (مسجدنبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَشَجَرَةِ الْأَرْزَةِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تُسْتَحْصَدَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ کھیت پر بھی ہمیشہ ہوائیں چل کر اسے ہلاتی رہتی ہیں اور مسلمان پر بھی ہمیشہ مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو خود حرکت نہیں کرتا بلکہ اسے جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي قَالَ يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يَنْعِقَانِ لِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَاهَا وُحُوشًا حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ حُشِرَا عَلَى وُجُوهِهِمَا أَوْ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگ مدینہ منورہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ایک وقت میں آ کر چھوڑ دیں گے اور وہاں صرف درندے اور پرندے رہ جائیں گے آخر میں وہاں قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے جمع ہوں گے جو اپنی بکریوں کوہانکتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے۔ لیکن وہاں پہنچ کر وحشی جانوروں کو پائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ ثنیتہ الوداع نامی گھاٹی پر پہنچیں گے تو اپنے چہروں کے بل گر پڑیں گے۔
-
قَالَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لیتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطاء فرمادیتے ہیں اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں دینے والے تو اللہ تعالیٰ ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَذَرُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ بِجَرَّايَ قَالَ يَزِيدُ مِنْ أَجْلِي الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللَّهِ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ میرے لیے ہے اور اس کا بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ وَسَبْعِ أَمْثَالِهَا فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَاحِدَةً فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کر سکے تب بھی اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس نیکی کو کر گذرے تو اس کے لئے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اگر عمل نہ کر سکے تو فقط ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو وہ گناہ اس کے نامہ اعمال میں درج نہیں کیا جاتا اور اگر وہ اس پر عمل کرلے تو صرف ایک گناہ ہی لکھاجاتا ہے۔ اگر اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو تو وہ گناہ نہیں لکھا جاتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمْ يُدْرَ مَا فَعَلَتْ وَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَأْرَ أَلَا تَرَوْنَهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ لَا تَشْرَبُ وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ كَعْبًا فَقَالَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ لِي ذَلِكَ مِرَارًا فَقُلْتُ أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہوگئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گئی؟ میرا توخیال یہی ہے کہ وہ چوہا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھاجائے تو وہ اسے پی لیتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کو سنائی تو وہ کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ انہوں نے مجھ سے یہی سوال کئی مرتبہ کیا۔ بالاخر میں نے ان سے کہا کیا تم نے تورات پڑھی ہے؟
-
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ قَطَنٍ وَهُوَ أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو قَطَنٍ قَالَ فِي الْكِتَابِ مَرْفُوعٌ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا
-
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي أَنْظُرُ أَوْ إِنِّي لَأَنْظُرُ مَا وَرَائِي كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو اور اپنے رکوع و سجود کو خوب اچھی طرح ادا کیا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ إِلَّا رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ قَالَ ذَكَرَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَنَسِيَهَا مُحَمَّدٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَأَتَى خَشَبَةً مَعْرُوضَةً فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ بِيَدِهِ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتْ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ قَالُوا قُصِرَتْ الصَّلَاةُ قَالَ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتْ الصَّلَاةُ فَقَالَ لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ الصَّلَاةُ قَالَ كَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ قَالُوا نَعَمْ فَجَاءَ فَصَلَّى الَّذِي تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ قَالَ فَكَانَ مُحَمَّدٌ يُسْأَلُ ثُمَّ سَلَّمَ فَيَقُولُ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ ثُمَّ سَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی دو میں سے کوئی ایک نماز(جس کا نام حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا راوی محمد بھول گئے۔ غالبا مغرب یا عشاء) پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر ہی سلام پھیر دیا اور مسجد میں موجود اس تنے کے پاس تشریف لائے جو چوڑائی میں تھا اور اپنے ہاتھ سے ایسا اشارہ کیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ہوں جلد باز قسم کے لوگ مسجد سے نکلنے اور کہنے لگے کہ نماز کی رکعتیں کم ہوگئیں اس وقت لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگوکرنے میں انہیں ہیبت محسوس ہوئی انہی لوگوں میں ایک اور آدمی بھی تھا جس کے ہاتھ کچھ زیادہ لمبے تھے اور اسی بناء پر اسے ذوالیدین کہا جاتا تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور جتنی رکعتیں چھوٹ گئی تھیں انہیں ادا کیا اور سلام پھیر کر اللہ اکبر کہا اور نماز کے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا پھر سر اٹھا کر تکبیر کہی (اور بیٹھ گئے پھر دوبارہ تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا جو پہلے کی طرح یا اس سے کچھ طویل تھا پھر سجدہ سے سر اٹھا کر (تکبیر کہی) محمدنامی راوی سے جب پوچھا جاتا تھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سلام پھیرا؟ تو وہ کہتے کہ مجھے خبردی گئی ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنَجِّيهِ عَمَلهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الا یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ دہرایا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْعَلَاءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْتَصَّ لِلشَّاةِ الْجَمَّاءِ مِنْ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ تَنْطَحُهَا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کیے جائیں گے حتی کہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائےگا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْعَلَاءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دو آدمی جو کچھ بھی کہیں اس کا گناہ گالی گلوچ کی ابتداء کرنے والے پر ہوگا جب تک کہ مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَلَا عَفَا رَجُلٌ عَنْ مَظْلَمَةٍ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عِزًّا وَلَا تَوَاضَعَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کے ذریعے مال کم نہیں ہوتا ہے اور جو آدمی کسی ظلم سے درگذر کرلے اللہ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو آدمی اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اسے رفعتیں ہی عطاء کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْعَلَاءِ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ الْبَرَكَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹی قسم کھانے سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّذْرِ وَقَالَ إِنَّهُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَكِنَّهُ يَسْتَخْرِجُ مِنْ الْبَخِيلِ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے کوئی چیز وقت سے پہلے نہیں مل سکتی البتہ منت کے ذریعہ بخیل آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ وَيُكَفِّرُ بِهِ الْخَطَايَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ يَغَارُ الْمُؤْمِنُ يَغَارُ الْمُؤْمِنُ يَغَارُ وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے مومن غیرت کرتا ہے مومن باغیرت ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ أَيْنَ كُنْتَ فَقُلْتُ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْلِسَ إِلَيْكَ وَأَنَا جُنُبٌ فَانْطَلَقْتُ فَاغْتَسَلْتُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ناپاکی کی حالت میں میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگئی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتارہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے میں موقع پا کر پیچھے سے کھسک گیا اور اپنے خیمے میں آ کر غسل کیا اور دوبارہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی وہیں تشریف فرما تھے مجھے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تم کہاں چلے گئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ جس وقت آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں ناپاکی حالت میں تھا مجھے ناپاکی کی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اچھا نہ لگا اس لئے میں چلا گیا اور غسل کیا (پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! مومن تو ناپاک نہیں ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِكُمْ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَأَلْتُ أَبِي عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ وَسُهيْلٍ عَنْ أَبِيهِ فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا ذَكَرَ الْعَلَاءَ إِلَّا بِخَيْرٍ وَقَدَّمَ أَبَا صَالِحٍ عَلَى الْعَلَاءِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر کون ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کی عمر طویل ہو اور عمل بہترین ہو۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ بَرَكَةَ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُدُّ يَدَيْهِ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَقَالَ سُلَيْمَانُ يَعْنِي فِي الِاسْتِسْقَاءِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح ہاتھ پھیلائے ہوئے دیکھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغل کی سفیدی دیکھ رہا تھا راوی کہتے ہیں کہ یہ نماز استسقاء کا موقع تھا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ قَبْلَنَا فَاخْتَلَفُوا فِيهَا وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ غَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور پرسوں کا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا يَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا فِي النَّارِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں ستر سال تک جہنم میں لڑھکتا رہے گا
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَدْرَكْتَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَصَلِّ عَلَيْهَا أُخْرَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں طلوع آفتاب سے قبل نماز فجر کی ایک رکعت مل جائے تو اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی شامل کرلو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى فَأَلْقَتْ جَنِينًا فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اس کے پیٹ کا بچہ مرا ہوا پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے میں ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں مدینہ منورہ میں ہرنوں کو دیکھ بھی لوں تب بھی انھیں نہ ڈراؤں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کی درمیانی جگہ حرم ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ وَلَكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ وَيَقُولُ إِنِّي أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوسلمہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے ہوئے جب بھی سر کو جھکاتے یا بلند کرتے تو تکبیر کہتے اور فرماتے کہ میں تم سب سے زیادہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَنْثُرْ وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہیے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدداختیار کرنا چاہیے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ يَوْمًا وَلَيْلَةً إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ مِنْ أَهْلِهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ایسی عورت کے لئے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ فَأَكْلُهُ حَرَامٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ درندہ جو کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو اسے کھانا حرام ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنْ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهُ فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر بھی عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی کو اس کے کھانے پینے اور نیند سے روک دیتا ہے پس جب تم میں سے کوئی شخص اپنی ضرورت کو پورا کرچکے تو وہ جلد از جلد اپنے گھر کو لوٹ آئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُوا مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُوا مَا فِي الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور صف اول میں نماز کا کیا ثواب ہے اور پھر انہیں یہ چیزیں قرعہ اندازی کے بغیرحاصل نہ ہوسکیں تو وہ ان دونوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگیں اور اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جلدی نماز میں آنے کا کتنا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کتنا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شرکت کریں خواہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولَ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک (ایسا نہ ہوجائے کہ) ایک آدمی دوسرے کی قبر پر سے گذرے گا اور کہے گا کہ اے کاش! میں تیری جگہ ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ تیس کے قریب دجال و کذاب لوگ نہ آجائیں جن میں سے ہر ایک کا گمان یہی ہوگا کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ كَذَاكَ عِلْمِي قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمنان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطرآپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ میرے جلال کی قسم! آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہیں۔ جگہ عطاء کروں گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ملا جو دوسری تمام بستیوں کو کھاجائے گی۔ لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ اس کا صحیح نام مدینہ ہے اور مدینہ لوگوں کے گناہوں کو ایسے دور کردیتا ہے جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَاءِ الْبَحْرِ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے پانی کے متعلق فرمایا کہ اس کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ کے سوراخوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے اس لئے یہاں دجال یا طاعون داخل نہیں ہوسکتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اسے وہ بھلائی پہنچا دیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ مَا فِي دُونِ خَمْسَةٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا یعنی پانچ وسق یا اس سے زیادہ مقدار کواندازے سے بیچنے کی رخصت عطاء فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنْ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قعدہ اخیرہ سے فارغ ہوجائے تو اسے چاہئے کہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے عذاب جہنم سے عذاب قبر سے زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ مَقَامَهُ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنْ مَكَانَكُمْ فَخَرَجَ وَقَدْ اغْتَسَلَ وَرَأْسُهُ يَنْطِفُ فَصَلَّى بِهِمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی اور لوگ صفیں درست کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو غسل فرما رکھا تھا اور سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَبِيٍّ وَلَا وَالٍ إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا وَمَنْ وُقِيَ شَرَّهُمَا فَقَدْ وُقِيَ وَهُوَ مَعَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی نبی یا حکمران ایسا نہیں ہے کہ اس کے دو قسم کے مشیر نہ ہوں ایک گروہ اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا گروہ (اس بدنصیبی میں اپنا کردار ادا کرنے میں ) کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ جو ان دونوں کے شر سے بچ گیا وہ محفوظ رہا اور جو گروہ اس پر غالب آ گیا اس کا شمار انہی میں ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْغَدِ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ بِمِنًى نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر سے اگلے دن (گیارہ ذی الحجہ کو) جبکہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم منٰی ہی میں تھے فرمایا کہ کل ہم (انشاء اللہ) خیف بنی کنانہ جہاں قریش نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں میں پڑاو کریں گے مراد وادی محصب تھی دراصل واقعہ یہ ہے کہ قریش اور بنوکنانہ نے بنوہاشم اور بنوعبدالمطلب کے خلاف باہم یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ قریش اور بنوکنانہ ان سے باہمی مناکحت اور خرید و فروخت نہیں کریں گے تا آنکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کردیں۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي قُرَّةُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے مجھے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ بندہ ہے جو افطار کا وقت ہوجانے کے بعد روزہ افطار کرنے میں جلدی کرے۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبِي وَأَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَعْنَى قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ النَّهَارِ ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يَفْدِيَ وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبُوا لِي فَقَالَ اكْتُبُوا لَهُ فَقَالَ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ وَمَا قَوْلُهُ اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ وَمَا يَكْتُبُوا لَهُ قَالَ يَقُولُ اكْتُبُوا لَهُ خُطْبَتَهُ الَّتِي سَمِعَهَا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ لَيْسَ يُرْوَى فِي كِتَابَةِ الْحَدِيثِ شَيْءٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ قَالَ اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ مَا سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر مکہ مکرمہ کو فتح کروا دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اللہ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کو دور کیا اور اپنے رسول اور مومنین کو اس پر تسلط عطاء فرمایا میرے لیے بھی اس میں قتال دن کے کچھ حصے میں حلال کیا گیا ہے اس کے بعد یہ قیامت تک کے لئے حرام ہے اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اس کے شکار کو خوفزدہ نہ کیا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز اٹھانا کسی کے لئے حلال نہیں الا یہ کہ وہ اس کا اعلان کردے اور جس شخص کا کوئی عزیز مارا گیا ہو اسے دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار ہے جو وہ اپنے حق میں بہتر سمجھے یا تو فدیہ لے لے یا پھر قاتل کو قصاصا قتل کردے۔ یہ خطبہ سن کر یمن کا ایک آدمی کھڑا ہوا جس کا نام ابوشاہ تھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! مجھے یہ خطبہ لکھ کر عنایت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ یہ خطبہ لکھ کر ابو شاہ کو دے دو اسی اثناء میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذخرنامی گھاس کو مستثنٰی کردیجئے کیونکہ وہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مستثنٰی کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ابوشاہ کو لکھ کردے دو سے کیا مراد ہے؟ وہ اسے کیا لکھ کر دیتے؟ انہوں نے فرمایا کہ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ابوشاہ کو وہ خطبہ لکھ کر دے دوجو انہوں نے سنا ہے۔ نیز امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کے صاحبزادے عبداللہ فرماتے ہیں کہ کتابت حدیث کی اجازت سے متعلق اس سے زیادہ کوئی صحیح حدیث مروی نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وہ خطبہ لکھنے کا حکم دیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا وَلَيْسَ لَنَا مَا نَتَصَدَّقُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَاتٍ إِذَا عَمِلْتَ بِهِنَّ أَدْرَكْتَ مَنْ سَبَقَكَ وَلَا يَلْحَقُكَ إِلَّا مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُكَبِّرُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَخْتِمُهَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ مال و دولت والے تو اجر و ثواب کے ڈھیر لے گئے جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں جیسے ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں اور ان کے پاس زائد مال بھی ہے جسے وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں کہ ہم انہیں صدقہ کرسکیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ بتا دوں کہ اگر تم ان پر عمل کرنے لگو تو اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پا لو اور کوئی تمہارے مرتبے کو نہ پہنچ سکے؟ الا یہ کہ کوئی شخص تمہاری طرح ہی اس پر عمل کرنا شروع کر دے انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نماز کے بعد٣٣ مرتبہ اللہ اکبر ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ پڑھ لیا کرو اور آخر میں یہ کہہ لیا کرو۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَفِظْنَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام آمین کہے تو تم بھی اس پر آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں اور جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے ابن آدم مجھے ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ زمانہ پیدا کرنے والا تو میں ہوں تمام امور میرے ہاتھ میں ہیں اور میں ہی دن رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اشْتَكَتْ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ فَأَشَدُّ مَا يَكُونُ مِنْ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھا لیا ہے اللہ نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی ایک مرتبہ سردی میں اور ایک مرتبہ گرمی میں چنانچہ شدید ترین گرمی جہنم کی تپش کا ہی اثر ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ أَوْ يَتَنَاجَشُوا أَوْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا أَوْ إِنَائِهَا وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّمَا رِزْقُهَا عَلَى اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت کرے یا بیع میں دھوکہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لیے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کارزق بھی اللہ کے ذمے ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى قَالَ سُفْيَانُ وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثِ مَسَاجِدَ سَوَاءً
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف تین مسجدوں کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر کیا جائے ایک تو مسجد حرام دوسرے میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قِيلَ لَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ إِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاةَ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي ثَوْبٍ قَالَ أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَتَعْرِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَثِيَابُهُ عَلَى الْمِشْجَبِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتاہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟ اس حدیث کو بیان کر کے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کیا تم ابوہریرہ کو جانتے ہو؟ وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھتا تھا اور اس کے کپڑے لکڑی کے ڈنڈے پر ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَلَكِنْ امْشُوا إِلَيْهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کےلئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا دو رکعتیں پڑھیں اور یہ دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! مجھ پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر رحم فرما اور اس میں کسی کو ہمارے ساتھ شامل نہ فرما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تونے وسعت والے اللہ کو پابند کر دیا تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ اس دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کردیا لوگ جلدی سے اس کی طرف دوڑے یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو مشکل میں ڈالنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے اس کے پیشاب کی جگہ پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِيلَ لَهُ مَرَّةً رَفَعْتَهُ فَقَالَ نَعَمْ وَقَالَ مَرَّةً يَبْلُغُ بِهِ يَقُولُونَ الْكَرْمُ وَإِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ انگور کو کرم کہتے ہیں حالانکہ اصل کرم تو مومن کا دل ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مساجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو صحیفے اور کھاتے لپیٹ دئیے جاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ! ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزورں کو قریش کے ظلم وستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً رِوَايَةً خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں (١) ختنہ کرنا (٢) زیر ناف بال صاف کرنا (٣) مونچھیں تراشنا (٤) ناخن کاٹنا (٥) بغل کے بال نوچنا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَحَدِهِمَا أَوْ كِلَيْهِمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کر لو جن کے چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ وَلَدًا أَسْوَدَ قَالَ هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا أَلْوَانُهَا قَالَ حُمْرٌ قَالَ هَلْ فِيهَا أَوْرَقُ قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا قَالَ أَنَّى أَتَاهُ ذَلِكَ قَالَ عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ قَالَ وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوفزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بچے کا نسب خود سے ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آگیا؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لو کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ لِمُسْلِمٍ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے باوجود جہنم میں داخل ہوجائے الا یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے جہنم میں جانا پڑے (ہمشہ جہنم میں نہیں رہے گا)
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا قَالَ سُفْيَانُ أُرَاهُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
امام زہری رحمتہ اللہ علیہ سے مرسلا مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لیے زمین کو مسجد اور پاکیزگی بخش قرار دے دیا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ فَإِنْ كَانَ صَالِحًا قَدَّمْتُمُوهُ إِلَيْهِ وَإِنْ كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً خَيْرٌ تُقَدِّمُوهَا إِلَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفا اور مرفوعا دونوں طرح مروی ہے کہ جنازے لے جانے میں جلدی سے کام لیا کرو کیونکہ اگر میت نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے راہ خدا میں ضرور خرچ کرو گے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا يَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ ابْنَ أُكَيْمَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً يَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَالَ رَجُلٌ أَنَا قَالَ أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ قَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ خَفِيَتْ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَةُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی ہمارا گمان یہ ہے کہ وہ فجر کی نماز تھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے قرات کی ہے؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں نے قرات کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا؟ امام زہری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد لوگ جہری نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرات کرنے سے رک گئے راوی حدیث سفیان کہتے ہیں کہ یہ آخری جملہ مجھ پر مخفی رہا (میں سن نہیں سکا)
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَرَّبْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ شَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ قَالَ أَبِي وَوَافَقَ سُفْيَانَ مَعْمَرٌ وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنِ ابْنِ أَبِي حَفْصَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ جنازے کو لے جانے میں جلدی سے کام کرو کیونکہ اگر نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے ایسا ضرور ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمْ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمْ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ فَحَضَرْتُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا فَقَالَ مَنْ يَبْسُطْ رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي ثُمَّ يَقْبِضْهُ إِلَيْهِ فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي وَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ ثُمَّ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ لَوْلَا آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا ثُمَّ يَتْلُو هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنْ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّكُمْ تَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ فَذَكَرَهُ
عبد الرحمن اعرج رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ علیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بکثرت حدیثیں بیان کرتے ہیں (اللہ کے یہاں سب کے جمع ہونے کا وعدہ ہے میں تو ایک مسکین آدمی تھا) اور اپنے پیٹ بھرنے کے لیے گذارے کے بقد ر کھانا حاصل کرنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹا رہتا تھا (مجھے وہاں سے اتنا کھانا مل جاتا تھا کہ پیٹ بھر جائے پھر سارا دن بارگاہ نبوت میں ہی رہتا) جب کہ مہاجرین بازاروں اور منڈیوں میں تجارت میں مشغول رہتے اور انصاری صحابہ اپنے اموال و باغات کی خبرگیری میں مصروف رہتے تھے۔ میں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو میری گفتگو ختم ہونے تک اپنی چادر (میرے بیٹھنے کے لئے) بچھادے پھر اسے جسم سے چمٹا لے؟ پھر وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات ہرگز نہ بھولے گا۔ چنانچہ میں نے اپنے جسم پر جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ بچھا دی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو مکمل فرمائی تو میں نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس دن کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات بھی سنی اسے کبھی نہیں بھولا۔ اعرج رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بڑی کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں اگر کتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کبھی ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ پھر وہ ان دو آیتوں کی تلاوت فرماتے جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح دلیلوں اور ہدایت کی باتوں کو چھپاتے ہیں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلَا يَمْنَعْهُ فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں اپنا شہتیر گاڑنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث لوگوں کے سامنے بیان کی تو لوگ سر اٹھا اٹھا کر انہیں دیکھنے لگے (جیسے انہیں اس پر تعجب ہوا ہو) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں تمہیں اعراض کرتا ہوا دیکھ رہاہوں بخدا میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان مار کر (نافذ کر کے) رہوں گا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ سَأَلْتُهُ عَنْهُ كَيْفَ الطَّعَامُ أَيْ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْأَعْرَجُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَرُّ الطَّعَامِ الْوَلِيمَةُ يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ أَبِي سَمِعْتُهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ مِنْ سُفْيَانَ وَقَالَ مَرَّةً مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَالَ مَرَّةً مَنْ قَامَ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے۔ اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے میرے والد فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان سے یہ حدیث چار مرتبہ سنی ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرلے اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ يَعْنِي رَمَضَانَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام رمضان کی ترغیب دیتے ہوئے سنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایتہ مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھونہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَاسْتَغْفَرُوا لَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شاہ حبشہ نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے انتقال کی اطلاع دی چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنم نے ان کے لئے استغفار کیا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةٍ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پا لے گویا اس نے پوری نماز پالی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے توشیطان اس کے پاس آ کر اسے اشتباہ میں ڈال دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ جس شخص کے ساتھ ایسا معاملہ ہو تو اسے چاہیے کہ جب وہ قعدہ اخیرہ میں بیٹھے تو سہو کے دو سجدے کرلے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قَالَ سُفْيَانُ السَّامُ الْمَوْتُ وَهِيَ الشُّونِيزُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوْ سَعِيدٍ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاجْتَنِبُوا الْحَنَاتِمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت نامی برتنوں میں نبیذ بنانے اور پینے سے منع فرمایا ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ حنتم نامی برتن استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَقْرَعُ يُقَبِّلُ حَسَنًا فَقَالَ لِي عَشَرَةٌ مِنْ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ قَطُّ قَالَ إِنَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چوم رہے ہیں وہ کہنے لگے کہ میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی نہیں چوما؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلَكْتُ قَالَ وَمَا أَهْلَكَكَ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ فَقَالَ أَتَجِدُ رَقَبَةً قَالَ لَا قَالَ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا قَالَ تَسْتَطِيعُ تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ لَا قَالَ اجْلِسْ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرْقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَالْعَرْقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهَذَا قَالَ عَلَى أَفْقَرَ مِنَّا مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ وَقَالَ مَرَّةً فَتَبَسَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ وَقَالَ أَطْعِمْهُ عِيَالَكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے ہلاک کردیا؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرلیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کر دو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں؟ نبی کریم نے فرمایا بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکرا آیا جس میں کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھا لیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ فِي بَيْتِهِ عَلَى فِرَاشِهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيُّمَا صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَقَالَ قَبْلَ ذَلِكَ حَبِيبِي عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ فَقَالَ يَا فَارِسِيُّ اقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَقَالَ مَرَّةً لِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ حَمِدَنِي عَبْدِي فَإِذَا قَالَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ مَجَّدَنِي عَبْدِي أَوْ أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي فَإِذَا قَالَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ قَالَ فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي فَإِذَا قَالَ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ قَالَ فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ وَقَالَ مَرَّةً مَا سَأَلَنِي فَيَسْأَلُهُ عَبْدُهُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ هَذَا لِعَبْدِي لَكَ مَا سَأَلْتَ وَقَالَ مَرَّةً وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَنِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے اور یہ بات مجھ سے پہلے میرے حبیب علیہ السلام نے بھی فرمائی ہے پھر فرمایا کہ اے فارسی! سورت فاتحہ پڑھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے ( اور میرا بندہ جو مانگے گا اسے وہ ملے گا) چنانچہ جب بندہ الحمد للہ رب العلمین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری تعریف بیان کی جب بندہ کہتا ہے الرحمن الرحیم۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری بزرگی یا ثناء بیان کی جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیاجب بندہ ایاک نعبد و ایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا اسے وہ ملے گا پھر جب بندہ اھدناالصراط المستقیم سے آخر تک پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لئے ہے اور جو تونے مجھ سے مانگاوہ تجھے مل کر رہے گا ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرے بندے نے مجھ سے جو مانگا وہ اسے ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا فَسَأَلَهُ كَيْفَ تَبِيعُ فَأَخْبَرَهُ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک ایسے آدمی پر ہوا جو گندم بیچ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کس حساب بیچ رہے ہو؟ اس نے قیمت بتائی اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی ہوئی کہ اس گندم کے ڈھیر میں اپنا ہاتھ ڈال کر دیکھئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ اندر سے گیلا نکلا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوکہ دینے والا ہم میں سے نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹی قسم کھانے سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى فِيهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اپنے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عِرَاكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا عَبْدِهِ صَدَقَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ فَاكْتُبُوهُ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَا تَكْتُبُوهَا فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا فَإِنْ تَرَكَهَا فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ (اپنے فرشتوں سے) فرماتے ہیں اگر میرا کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو اسے لکھ لیا کرو پھر اگر وہ اس پر عمل کرلے تو اسے دس گنا بڑھا کر لکھ لیا کرو اور اگر وہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے مت لکھا کرو اگر وہ گناہ کر گذرے تو صرف ایک ہی گناہ لکھا کرو اور اگر اسے چھوڑ دے تو ایک نیکی لکھ لیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ بِشَيْءٍ لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ يُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا لَا يُؤْتِينِي عَلَى الْبُخْلِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے میں نے جس چیز کا فیصلہ نہیں کیا ابن آدم کی منت اسے وہ چیز نہیں دلا سکتی البتہ اس منت کے ذریعے میں کنجوس آدمی سے پیسہ نکلوا لیتاہوں وہ مجھے منت مان کر وہ کچھ دے دیتا ہے جو اپنے بخل کی حالت میں کبھی نہیں دیتا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ وَقَالَ يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى سَحَّاءُ لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم! خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا اور فرمایا اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا اور خوب سخاوت کرنے والاہے اسے کسی چیز سے کمی نہیں آتی اور وہ رات دن خرچ کرتا رہتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَسْتَنْثِرْ وَقَالَ مَرَّةً لِيَنْثُرْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنی چاہیے ۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً تَغْدُو بِعُسٍّ وَتَرُوحُ بِعُسٍّ إِنَّ أَجْرَهَا لَعَظِيمٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ یاد رکھو جو آدمی کسی گھروالوں کو ایسی اونٹنی بطور ہدیہ کے دیتا ہے جو صبح بھی برتن بھر کر دودھ دے اور شام کو بھی برتن بھر دے اس کا ثواب بہت عظیم ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ وَابْنِ عَجْلَانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالْجُرْحُ يَثْعَبُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ وَأَفْرَدَهُ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ أَبِي الزِّنَادِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگاہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تر و تازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ وَقَالَ مَرَّةً قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ورثاء دینار و درہم کی تقسیم نہیں کریں گے میں نے اپنی بیویوں کے نفقہ اور اپنے عامل کی تنخواہوں کے علاوہ جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ قَالَ أَبِي لَمْ نَكُنْ نُكَنِّهِ بِأَبِي الزِّنَادِ كُنَّا نُكَنِّيهِ بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اگر تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے یہ کہہ دینا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلَقَّوْا الْبَيْعَ وَلَا تُصَرُّوا الْغَنَمَ وَالْإِبِلَ لِلْبَيْعِ فَمَنْ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا بِصَاعِ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر سودا مت کیا کرو اور اچھے داموں فروخت کرنے کے لئے بکری یا اونٹنی کا تھن مت باندھا کرو جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اس دین کے معاملے میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں عام مسلمان قریشی مسلمانوں اور عام کافر قریشی کافروں کے تابع ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ وَقَالَ مَرَّةً عَاتِقِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی شخص اس طرح ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کپڑے کا کوئی حصہ بھی نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلًا طَوِيلًا فَارْقُدْ وَقَالَ مَرَّةً يَضْرِبُ عَلَيْهِ بِكُلِّ عُقْدَةٍ لَيْلًا طَوِيلًا قَالَ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَتَانِ فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتْ الْعُقَدُ وَأَصْبَحَ طَيِّبَ النَّفْسِ نَشِيطًا وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان تم میں سے کسی ایک کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگاتا ہے ہر گرہ پر وہ یہ کہتا ہے کہ رات بڑی لمبی ہے آرام سے سوجا اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ اس کا دل مطمئن اور وہ چست ہوتا ہے ورنہ وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کا دل گندہ اور وہ خود سست ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا فِي ثَوْبِهِ فَقِيلَ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ يَكْفِكَ مَا أَعْطَيْنَاكَ قَالَ أَيْ رَبِّ وَمَنْ يَسْتَغْنِي عَنْ فَضْلِكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لیے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ كُلِّ أُمَّةٍ وَقَالَ مَرَّةً بَيْدَ أَنَّ وَجَمَعَهُ ابْنُ طَاوُسٍ فَقَالَ قَالَ أَحَدُهُمَا بَيْدَ أَنَّ وَقَالَ الْآخَرُ بَايْدَ كُلِّ أُمَّةٍ أُوتِيَتْ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ فَلِلْيَهُودِ غَدٌ وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم یوں توسب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہو گئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (ا تو ار) ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا رَجُلٍ آذَيْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَصَلَاةً
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں جیسے دوسرے لوگوں کو غصہ آتا ہے مجھے بھی آتا ہے (اے اللہ) میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذا پہنچائی ہو یا کوڑا مارا ہو اسے اس شخص کے لئے باعث تزکیہ و رحمت بنا دے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت نہ کرے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ وَقَالَ مَرَّةً لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ بِغَيْرِ إِذْنِكَ فَحَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ جُنَاحٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی تمہاری اجازت کے بغیر تمہارے گھر میں جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری دے مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ بِالْمَسْأَلَةِ فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ النَّاسُ هَلَكُوا فَقَالَ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ نافرمانی اور انکار پر ڈٹے ہوئے ہیں اس لئے آپ ان کے خلاف بد دعا کیجئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی جانب رخ کر کے دونوں ہاتھ اٹھا لیے لوگ کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ تو ہلاک ہوگئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں یہاں پہنچا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنْ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ فَيَحْمِلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَأْكُلَ أَوْ يَتَصَدَّقَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَغْنَاهُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ بِأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے لکڑیاں باندھے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے بہ نسبت اس کے کہ کسی ایسے آدمی کے پاس جائے جسے اللہ نے اپنے فضل سے مال اور دولت عطاء فرما رکھی ہو اور اس سے جا کر سوال کرے اس کی مرضی ہے کہ اسے کچھ دے یا نہ دے کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شخص شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْظُرْ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فَوْقَهُ فِي الْخَلْقِ أَوْ الْخُلُقِ أَوْ الْمَالِ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو جسم اور مال کے اعتبار سے اپنے سے اوپر والے کو نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھنا چاہیے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَالثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ وَالدَّوَابُّ تَتَقَحَّمُ فِيهَا فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ وَأَنْتُمْ تَوَاقَعُونَ فِيهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کر جاتا ہے۔ اور میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے آس پاس کی جگہ کو روشن کردیا تو پروانے اور درندے اس میں گھسنے لگے چنانچہ میں تمہیں پشت سے پکڑ کر کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں گرے چلے جا رہے ہو۔
-
وَبِإِسْنَادِهِ وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَكْمَلَهُ وَأَجْمَلَهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ يَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِلَّا هَذِهِ الثُّلْمَةَ فَأَنَا تِلْكَ الثُّلْمَةُ وَقِيلَ لِسُفْيَانَ مَنْ ذَكَرَ هَذِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
اور انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال ایسے ہے کہ ایک آدمی نے کوئی عمارت تعمیر کی اسے خوب حسین و جمیل اور کامل بنایا لوگ اس کے گرد چکر لگاتے جاتے اور کہتے جاتے کہ ہم نے اس سے خوبصورت کوئی عمارت نہیں دیکھی البتہ اگر یہ سوراخ بھی بھر دیا جاتا تو کتنا اچھا ہوتا (ختم نبوت کی عمارت کا) وہ سوراخ میں ہوں (جس نے اب اس عمارت کو مکمل کر دیا ہے)
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ نے حضرت أدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُمْنَعْ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ قَالَ سُفْيَانُ يَكُونُ حَوْلَ بِئْرِكَ الْكَلَأُ فَتَمْنَعُهُمْ فَضْلَ مَائِكَ فَلَا يَعُودُونَ أَنْ يَدَعُوا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے گھاس روکی جا سکے۔ راوی حدیث سفیان اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے کنوئیں کے پاس گھاس ہو اور آپ لوگوں کو زائد از ضرورت پانی لینے سے روکیں تو وہ لوگ اپنے جانور چرانے کے لئے وہاں دوبارہ نہیں آئیں گے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سر انجام دیتے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَضْحَكُ مِنْ الرَّجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ جَمِيعًا يَقُولُ كَانَ كَافِرًا قَتَلَ مُسْلِمًا ثُمَّ إِنَّ الْكَافِرَ أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ فَأَدْخَلَهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کر دیا ہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہوجائیں اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی کافر تھا اس نے کسی مسلمان کو شہید کر دیا پھر اپنی موت سے پہلے اس کافر نے بھی اسلام قبول کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جنت میں داخلہ نصیب فرما دیا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمْرٌو عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَيْنِ وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْفَعَةً لِأَحَدٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری یہ دنیا کی آگ جہنم کی آگ کا سترواں جزء ہے اور دو مرتبہ اس پر سمندر کا پانی لگایا گیا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس میں اللہ بندوں کا کوئی فائدہ نہ رکھتا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَيُقِيمَ الصَّلَاةَ ثُمَّ آمُرَ فِتْيَانِي وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فِتْيَانًا فَيُخَالِفُونَ إِلَى قَوْمٍ لَا يَأْتُونَهَا فَيُحَرِّقُونَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ إِذًا لَشَهِدَ الصَّلَوَاتِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً الْعِشَاءَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرادل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کردے پھر اپنے نوجوانوں کو حکم دوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں اگر تم میں سے کسی کو یقین ہو کہ اسے خوب موٹی تازی ہڈی یا دو عمدہ گھر ملیں گے تو وہ ضرور نماز میں (دوسری روایت کے مطابق نماز عشاء میں بھی) شرکت کرے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ أَخْنَعِ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَوْضَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں سب سے حقیر نام اس شخص کا ہوگا جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلواتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنِّي شَتْمُ قُرَيْشٍ كَيْفَ يَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَيَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ کس عجیب طریقے سے قریش کی دشنام طرازیوں کو مجھ سے دور کردیا جاتا ہے؟ وہ کس طرح مذمم پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں جبکہ میرا نام تو محمد ہے (مذمم نہیں )
-
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ يُحَدِّثُ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَيْتَ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔
-
قَالَ قُرئَ عَلَى سُفْيَانَ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَرَى خُشُوعَكُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارا خشوع و خضوع دیکھتا ہوں ۔
-
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے امیر کی اطاعت کرتا ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے اور جو میری اطاعت کرتا ہے گویا وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔
-
قَالَ أَبِي و قَالَ سُفْيَانُ فِي حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَغَتْ الدِّرْعُ أَوْ مَرَّتْ تُجِنُّ بَنَانَهُ وَتَعْفُو أَثَرَهُ يُوَسِّعُهَا قَالَ أَبُو الزِّنَادِ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَّسِعُ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ وَلَا يَتَوَسَّعُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قمیص بعض اوقات کشادہ ہوتی ہے اور بعض اوقات تنگ (مراد آدمی کی سخاوت اور کنجوسی ہے ) وہ اس کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کے نشانات کو مٹادیتی ہے اور کنجوس آدمی کشادگی حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اسے کشادگی حاصل نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قِيلَ لِسُفْيَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ الْمَطْلُ ظُلْمُ الْغَنِيِّ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہیے۔
-
قَالَ قرئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّهُ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے۔
-
سَمِعْت سُفْيَانَ يَقُولُ إِذَا كَفَى الْخَادِمُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ فَلْيُجْلِسْهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيُرَوِّغْهَا فِيهِ فَيُنَاوِلْهُ وَقُرِئَ عَلَيْهِ إِسْنَادُهُ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر اسے سالن میں اچھی طرح تر بتر کر کے ہی اسے دے دے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعامروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیتا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً قَالَ مَرَّةً يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ فَإِنْ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَالسِّوَاكِ مَعَ الصَّلَاةِ وَلَا تَصُومُ امْرَأَةٌ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ يَوْمًا غَيْرَ رَمَضَانَ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَقُرِئَ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثُ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیتا۔ اور کوئی عورت جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو ماہ رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي الْمُؤْمِنِينَ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ وَلَا يَتَخَلَّفُونَ عَنِّي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں گے تو میں راہ خدا میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں ان سب کو سواریاں مہیا کر سکوں اور کہیں وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے نہ ہٹنے لگیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو طاق عدد میں پتھر استعمال کرے کیونکہ اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَعَلَّهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ غَسَلَاتٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ يَعْنِي عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات وخیرات میں ان لوگوں سے ابتدا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَخَلْعِ الْيُسْرَى وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاوں کی اتارے نیز یہ کہ اگر تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ پھرے بلکہ دونوں اتار دے یا دونوں پہن لے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مَرَّةً فَقَالَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لیے جا رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ اس نے دوبارہ عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانورہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر سوار ہونے کا حکم دیا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبَهَا فَضَرَبَهَا قَالَتْ إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَةِ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَتَكَلَّمُ فَقَالَ فَإِنِّي أُومِنُ بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ غَدًا غَدًا وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ وَبَيْنَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا عَلَيْهَا الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاةً مِنْهَا فَطَلَبَهُ فَأَدْرَكَهُ فَاسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ فَقَالَ يَا هَذَا اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي قَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ إِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد ہماری طرف رخ کرکے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ ایک آدمی ایک بیل کو ہانک کر لیے جا رہا تھا راستے میں وہ اس پر سوار ہوگیا اور اسے مارنے لگا وہ بیل قدرت خداوندی سے گویا ہوا اور کہنے لگا ہمیں اس مقصد کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہمیں تو ہل جوتنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے لوگ کہنے لگے سبحان اللہ ! کبھی بیل بھی بولتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔ پھر فرمایا کہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیئے نے ریوڑ پر حملہ کردیا اور ایک بکری اچک کر لے گیا وہ آدمی بھیڑئیے کے پیچھے بھاگا اور کچھ دور جا کر اسے جا لیا اور اپنی بکری کو چھڑا لیایہ دیکھ کر وہ بھیڑیا قدرت خداوندی سے گویا ہوا اور کہنے لگا کہ اے فلاں! آج تو تونے مجھ سے اس بکری کو چھڑا لیا اس دن اسے کون چھڑائے گا جب میرے علاوہ اس کا کوئی چرواہانہ ہوگا؟ لوگ کہنے لگے سبحان اللہ کیا بھیڑیا بھی بولتاہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ خَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَامْرَأَةً وَابْنًا لَهُمَا فَخَيَّرَ الْغُلَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا غُلَامُ هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ اخْتَرْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی اور عورت اور ان دونوں کے بیٹے کو اختیار دیا اور لڑکے کو اختیار دیتے ہوئے فرمایا اے لڑکے یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان میں سے جس کے ساتھ جانے کا ارادہ ہو اسے اختیار کرلے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَنَا سَأَلْتُهُ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ اتَّبَعَهَا حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ شَأْنِهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ أَصْغَرُهُمَا أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے چھوٹا یا ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي سُمَيٌّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ وَالْعُمْرَتَانِ أَوْ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ يُكَفَّرُ مَا بَيْنَهُمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ نہیں اور دو عمرے اپنے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِيذُ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ أَوْ جَهْدِ الْقَضَاءِ قَالَ سُفْيَانُ زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تین چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے بدنصیبی ملنے سے دشمنوں کے ہنسی اڑانے سے برے فیصلے سے اور مصیبتوں کی مشقت سے راوی حدیث سفیان کہتے ہیں کہ ان میں ایک چیز کا اضافہ مجھ سے ہوگیا ہے معلوم نہیں کہ وہ کون سی چیز ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ مَوْلَى ابْنِ أَبِي رُهْمٍ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ امْرَأَةً مُتَطَيِّبَةً فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدِينَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ فَقَالَتْ الْمَسْجِدَ فَقَالَ وَلَهُ تَطَيَّبْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّهُ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا مُتَطَيِّبَةً تُرِيدُ الْمَسْجِدَ لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا صَلَاةً حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ مِنْهُ غُسْلَهَا مِنْ الْجَنَابَةِ
ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہوگیا جس نے خوشبولگا رکھی تھی انہوں نے اس سے پوچھا کہ اے امۃ الجبار کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا مسجد کا انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبولگا رکھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَ نِسْوَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ فِي مَجْلِسِكَ مِنْ الرِّجَالِ فَوَاعِدْنَا مِنْكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ قَالَ مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلَانٍ وَأَتَاهُنَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلِذَلِكَ الْمَوْعِدِ قَالَ فَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُنَّ يَعْنِي مَا مِنْ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ ثَلَاثًا مِنْ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُهُنَّ إِلَّا دَخَلَتْ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ أَوْ اثْنَانِ قَالَ أَوْ اثْنَانِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کی موجودگی میں ہم آپ کے پاس بیٹھنے سے محروم رہتی ہیں آپ ایک دن ہمارے لیے مقرر فرما دیجئے جس میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر (دین سیکھ) سکیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم فلاں شخص کے گھر میں اکٹھی ہوجانا اور اس دن اس جگہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے منجملہ ان باتوں کے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمائیں ایک بات یہ بھی تھی کہ تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیجے (فوت ہوجائیں) اور وہ ان پر صبر کرے وہ جنت میں داخل ہوگی کسی عورت نے پوچھا اگر دو ہوں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری قبر کو بت نہ بنائیے گا (جس کی پوجا شروع کردیں) ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْعَجْلَانِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً وَالْآخَرِ دَاءً
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفا اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ فَقَالَ سُفْيَانُ هُوَ هَكَذَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ يَقُولُ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر اپنا پہلو رکھتے تو یوں فرماتے کہ پروردگار میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس پر رحم فرمائیے اور اگر واپس بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ سُفْيَانُ الَّذِي سَمِعْنَاهُ مِنْهُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ لَا أَدْرِي عَمَّنْ سُئِلَ سُفْيَانُ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ فَقَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ أَسَرُوهُ أَخَذُوهُ فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِهِ قَالَ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ قَالَ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تُرِدْ مَالًا تُعْطَ مَالًا قَالَ فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِهِ قَالَ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ قَالَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُرِدْ الْمَالَ تُعْطَ الْمَالَ قَالَ فَبَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطْلَقَهُ وَقَذَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِهِ قَالَ فَذَهَبُوا بِهِ إِلَى بِئْرِ الْأَنْصَارِ فَغَسَلُوهُ فَأَسْلَمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَمْسَيْتَ وَإِنَّ وَجْهَكَ كَانَ أَبْغَضَ الْوُجُوهِ إِلَيَّ وَدِينَكَ أَبْغَضَ الدِّينِ إِلَيَّ وَبَلَدَكَ أَبْغَضَ الْبُلْدَانِ إِلَيَّ فَأَصْبَحْتَ وَإِنَّ دِينَكَ أَحَبُّ الْأَدْيَانِ إِلَيَّ وَوَجْهَكَ أَحَبُّ الْوُجُوهِ إِلَيَّ لَا يَأْتِي قُرَشِيًّا حَبَّةٌ مِنْ الْيَمَامَةِ حَتَّى قَالَ عُمَرُ لَقَدْ كَانَ وَاللَّهِ فِي عَيْنِي أَصْغَرَ مِنْ الْخِنْزِيرِ وَإِنَّهُ فِي عَيْنِي أَعْظَمُ مِنْ الْجَبَلِ خَلَّى عَنْهُ فَأَتَى الْيَمَامَةَ حَبَسَ عَنْهُمْ فَضَجُّوا وَضَجِرُوا فَكَتَبُوا تَأْمُرُ بِالصِّلَةِ قَالَ وَكَتَبَ إِلَيْهِ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ عَنْ سُفْيَانَ سَمِعْتُ ابْنَ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو (جو اپنے قبیلے میں بڑا معزز اور مالدار آدمی تھا) گرفتار کر کے قید کرلیا جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ثمامہ کا کیا ارادہ ہے؟ اس نے کہا کہ اگر آپ مجھے قتل کردیں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون قیمتی ہے اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک شکر گذار پر احسان کریں گے اور اگر آپ کو مال و دولت درکار ہو تو آپ کو وہ مل جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی اس کے پاس سے گذر ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مذکورہ بالا سوال کرتے اور وہ حسب سابق وہی جواب دے دیتا۔ ایک دن اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ بات ڈالی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ ہوئی کہ اسے چھوڑ دیا جائے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کردیا لوگ اس کی درخواست پر اسے انصار کے ایک کنوئیں کے پاس لے گئے اور اسے غسل دلوایا اور پھر اس نے اسلام قبول کرلیا اور کہنے لگا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کل شام تک میری نگاہوں میں آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ ناپسندیدہ اور آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین اور آپ کے شہر سے زیادہ کوئی شہر ناپسندیدہ نہ تھا اور اب آپ کا دین میری نگاہوں میں تمام ادیان سے زیادہ اور آپ کا مبارک چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے آج کے بعد یمامہ سے غلہ کا ایک دانہ بھی قریش کے پاس نہیں پہنچے گا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا یہ میری نگاہوں میں خنزیر سے بھی زیادہ حقیر تھا اور اب پہاڑ سے بھی زیادہ عظیم ہے اور اس کا راستہ چھوڑ دیا چنانچہ ثمامہ نے یمامہ پہنچ کر قریش کا غلہ روک لیا جس سے قریش کی چیخیں نکل گئیں اور وہ سخت پریشان ہوگئے مجبور ہو کر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عریضہ لکھا کہ ثمامہ کو مہربانی اور نرمی کرنے کا حکم دیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ کو اس نوعیت کا ایک خط لکھ دیا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ أَوَّلُهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایۃ منقول ہے کہ مردوں کی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ قَالَ فَأَهْدَى لَهُ نَاقَةً يَعْنِي قَوْلَهُ قَالَ لَا أَتَّهِبُ إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی بطور ہدیہ کے پیش کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آئندہ میں صرف کسی قریشی یا دوسی یا ثقفی ہی کا ہدیہ قبول کروں گا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ وَلَا تُكَلِّفُونَهُ مِنْ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلام کا حق ہے کہ اسے کھانا اور لباس مہیا کیا جائے اور تم انہیں کسی ایسے کام کا مکلف مت بناؤ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا هَارُونُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرٌو أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ عَنْ الْعَجْلَانِ مَوْلَى فَاطِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ وَلَا يُكَلَّفُ مِنْ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلام کا حق ہے کہ اسے کھانا اور لباس مہیا کیا جائے اور تم انہیں کسی ایسے کام کا مکلف مت بناؤ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے ہوں۔
-
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ ابْنَ عَجْلَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ يَعْنِي الْحَيَّاتِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپوں کے متعلق فرمایا ہم نے جب سے ان کے ساتھ جنگ شروع کی ہے کبھی صلح نہیں کی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَمَا أَمَرْتُكُمْ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء علیہم السلام سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ إِذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَنَهَى عَنْ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ وَلَا يَسْتَطِيبُ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے لیے باپ کی طرح ہوں (اس لئے تمہیں سمجھانا میری ذمہ داری ہے) جب بیت الخلاء جایا کرو تو قبلہ کی جانب منہ کر کے یا پشت کر کے مت بیٹھا کرو نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لید اور بوسیدہ ہڈی سے استنجاء کرنا ممنوع قرار دیاہے اور فرمایا کہ کوئی شخص دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۔
-
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ سُفْيَانُ لَا تَرُشُّ فِي وَجْهِهِ تَمْسَحُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ملا جو دوسری تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ اس کا صحیح نام مدینہ ہے اور مدینہ لوگوں کے گناہوں کو ایسے دور کردیتا ہے جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت انشقاق اور سورت علق میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مُفْلِسٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دےدیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُحَدِّثُكُمْ بِأَشْيَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِصَارٍ لَا يَشْرَبْ الرَّجُلُ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہارے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مختصر احادیث بیان کرتا ہوں مثلا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا بَعْدَ التَّسْلِيمِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد کیے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں جھگڑا کیا کہ جنت میں مردوں کی تعدادزیادہ ہوگی یا عورتوں کی ؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہنے لگے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگاوہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہوگا اس کے بعد داخل ہونے وال اگر وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گوداگوشت کے باہر سے نظر آجائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعَ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ صَلَّى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ إِمَّا الظُّهْرُ وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ فَسَلَّمَ فِي اثْنَتَيْنِ ثُمَّ أَتَى جِذْعًا كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهِ فَجَلَسَ إِلَيْهِ مُغْضَبًا وَقَالَ سُفْيَانُ ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي الْقِبْلَةِ كَانَ يُسْنِدُ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ فَأَسْنَدَ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا قُصِرَتْ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ قَالَ مَا قُصِرَتْ وَمَا نَسِيتُ قَالَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ قَالَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا نَعَمْ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ كَسَجْدَتِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ وَكَبَّرَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کی دو میں سے کوئی ایک نماز ظہر یا عصر، غالب گمان کے مطابق پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر ہی سلام پھیر دیا اور مسجد میں موجود اس تنے کے پاس تشریف لائے جو چوڑائی میں تھا اور اپنے ہاتھ سے ایسا اشارہ کیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ہوں جلد باز قسم کے لوگ مسجد سے نکلنے اور کہنے لگے کہ نماز کی رکعتیں کم ہوگئیں اس وقت لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگوکرنے میں انہیں ہیبت محسوس ہوئی اس پر ذوالیدین نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں ذو الیدین نے کہا آپ نے تو دو رکعتیں پڑھی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر دو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیر کر اللہ اکبر کہا اور نماز کے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر سر اٹھا کر تکبیر کہی اور بیٹھ گئے، پھر دوبارہ تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا۔
-
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْتُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى أَخْبَرَهُ عَنْ ضَمْضَمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھاہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جا سکتا ہے یعنی سانپ اور بچھو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قِيلَ لِسُفْيَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَعَمْ قِيلَ لَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ مَنْ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً أَوْ مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ فَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا فَلْيَرُدَّهَا وَإِنْ شَاءَ يُمْسِكُهَا أَمْسَكَهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بے حجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنِ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَهُ فَقَالَ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعِزَّةُ إِزَارِي فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أُلْقِيهِ فِي النَّارِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عزت میری نیچے کی چادر ہے جو دونوں میں سے کسی ایک کے بارے مجھ سے جھگڑا کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ يُسْلِمُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچاشعر کہا ہے وہ یہ کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت اسلام قبول کرلیتا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي الْأَوْبَرِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا وَحَافِيًا وَمُنْتَعِلًا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَزَادَ فِيهِ وَيَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی جوتی اتار کر بھی اور جوتی پہن کر بھی۔ گذشتہ حدیث میں اس دوسری سند سے یہ اضافہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب سے بھی واپس چلے جاتے تھے اور بائیں جانب سے بھی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي ابْنُ مُحَيْصِنٍ شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ سَهْمِيٌّ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ شَقَّتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَبَلَغَتْ مِنْهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْلُغَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَكُلُّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو شخص برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ ۔ تو یہ بات مسلمانوں پر بہت شاق گذری اور ان کے دلوں میں مختلف قسم کے وسوسے پیدا ہونے لگے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل کے قریب رہو اور سیدھی راہ اور بات پر رہو کیونکہ مسلمان کو جو بھی مصیبت پیش آتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے حتیٰ کہ جو زخم اسے لگتا ہے یا جو کانٹا اسے چبھتا ہے (وہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے)۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ طَاوُسًا سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام فَقَالَ مُوسَى يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ يَا مُوسَى أَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَقَالَ مَرَّةً بِرِسَالَتِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ حَجَّ آدَمُ مُوسَى حَجَّ آدَمُ مُوسَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم! آپ ہمارے باوا ہیں آپ نے ہمیں شرمندہ کیا اور جنت سے نکلوادیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا اور تمہیں اپنے ہاتھ سے تورات لکھ کر دی کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے چالیس برس پہلے کرلیا تھا؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا أَنَا قُلْتُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا يَصُومُ مُحَمَّدٌ وَرَبِّ الْبَيْتِ قَالَهُ مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُحَمَّدٌ نَهَى عَنْهُ وَرَبِّ الْبَيْتِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت جنابت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمائی ہے اور جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ مُنَبِّهٍ يَعْنِي وَهْبًا عَنْ أَخِيهِ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مجھ سے زیادہ بکثرت جاننے والا کوئی نہیں سوائے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَيَحْيَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مُفْلِسٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیاہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ سَمِعَهُ مِنْ شَيْخٍ فَقَالَ مَرَّةً سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَعْرَابِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَبَلَغَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ فَلْيَقُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَنْ قَرَأَ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَلْيَقُلْ بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ وَمَنْ قَرَأَ أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى فَلْيَقُلْ بَلَى قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ هَلْ حَفِظَ وَكَانَ أَعْرَابِيًّا فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَظَنَنْتَ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا سَنَةٌ إِلَّا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سورت مرسلات کی آخری آیت فبأی حدیث بعدہ یؤمنون کی تلاوت کرے اسے یوں کہنا چاہئے آمنا باللہ (ہم اللہ پر ایمان لائے ) اور جو شخص سورت قیامۃ کی آخری آیت "الیس ذلک بقادر علی ان یحیی الموتی" کی تلاوت کرے اسے یوں کہنا چاہئے بلی (کیوں نہیں) راوی حدیث اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے جس سے یہ حدیث سنی چونکہ وہ ایک دیہاتی آدمی تھا اس لئے میں نے اس کے حافظے کا امتحان لینا چاہا کہ وہ صحیح طرح یاد بھی رکھ سکاہے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا کہ اے بھتیجے کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں اس حدیث کو یاد نہیں رکھ سکا میں نے ساٹھ مرتبہ حج کیا ہے اور جس سال میں نے جس اونٹ پر حج کیا ہے مجھے اس تک کی شناخت یاد ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْعُذْرِيِّ قَالَ مَرَّةً عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ جَدِّهِ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَلْيَنْصِبْ عَصًا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا وَلَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ و قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اپنے سامنے کوئی چیز (بطور سترہ کے) رکھ لے اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی ہی کھڑی کرلے اور اگر لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لے اس کے بعد اس کے سامنے سے کچھ بھی گذرے اسے کوئی حرج نہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ قَالَ سُفْيَانُ لَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا أَيْ لَا يُعَيِّرْهَا عَلَيْهَا فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزادے لیکن اسے عار نہ دلائے پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ یہی گناہ سرزد ہونے پر فرمایا کہ اسے بیچ دے خواہ اس کی قیمت صرف بالوں سے گندھی ہوئی ایک رسی ہی ملے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت انشقاق اور سورت علق میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحَسَنٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتِيَتْ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ فَلِلْيَهُودِ غَدًا وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ قَالَ أَحَدُهُمَا بَيْدَ أَنَّ وَقَالَ الْآخَرُ بَايْدَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَصَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ لَا أَدْرِي هَذَا الْحَدِيثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جمعہ کے بعد نوافل پڑھنا چاہو تو پہلے چار رکعتیں پڑھو۔ اگر تمہیں کسی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعتیں مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعتیں واپس آ کر پڑھ لینا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي أُمِرُوا بِهِ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَجَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا عِيدًا فَالْيَوْمَ لَنَا وَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتناہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہمارے لیے عید بنادیا اب یہ ہمارا دن ہے اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور ان میں سب سے بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جوامع الکلم دئیے گئے ہیں اور میرے لیے روئے زمین کو مسجد اور پاکیزگی بخش قرار دے دیا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ أَنْ تَسْكُتَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہر دیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کنواری لڑکی شرماتی ہے) تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی کی علامت ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ إِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَنَخَّعْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَتْفُلْ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ فَوَصَفَ الْقَاسِمُ فَتَفَلَ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ مَسْحَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم میں سے کسی کا کیا معاملہ ہے کہ اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے اور پھر تھوک بھی پھینکتا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ کوئی آدمی اس کے سامنے رخ کر کے کھڑا ہوجائے اور اس کے چہرے پر تھوک دے؟ جب تم میں سے کوئی شخص تھوک پھینکنا چاہے تو اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہئے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تو اس طرح اپنے کپڑے میں تھوک لے راوی حدیث قاسم نے کپڑے میں تھوک کر اسے کپڑے سے مل کر دکھایا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ يَا فَارِسِيُّ اقْرَأْهَا فِي نَفْسِكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ! اگر کبھی میں امام کے پیچھے ہوں؟ انہوں نے میرے بازو میں چٹکی بھر کر فرمایا اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ لَتُنَبَّأَنَّ أَنْ تَتَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَتَخَافُ الْفَقْرَ وَلَا تَمَهَّلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے اس کا جواب ضرور ملے گا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو تمہیں فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ توفلاں (ورثاء) کا ہوچکا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنْ الْخَيْلِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کی تین ٹانگوں کا رنگ سفید ہو اور چوتھی کا رنگ باقی جسم کے رنگ کے مطابق ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوهَا وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَا يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَيَنْهَى عَنْ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے لئے باپ کی طرح ہوں اس لئے تمہیں سمجھانا میری ذمہ داری ہے جب تم بیت الخلاء جایا کرو تو قبلہ کی جانب منہ کر کے یا پشت کر کے مت بیٹھا کرو نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لید اور بوسیدہ ہڈی سے استنجاء کرنے کو ممنوع قرار دیاہے اور فرمایا کہ کوئی شخص دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین پتھروں سے استنجاء کرنے کا حکم دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنْ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے جو رات کو اٹھ کر خود بھی نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی نماز پڑھنے کے لئے جگائے اور اگر وہ انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے اور اس عورت پر اللہ رحمتوں کا نزول ہو جو رات کو اٹھ کر خود بھی نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی نماز پڑھنے کے لئے جگائے اور اگر وہ انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَصَى وَبَيْعِ الْغَرَرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں مار کر بیع کرنے سے اور دھوکہ کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ شَطْرِ اللَّيْلِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ فَإِنَّهَا تَجِيءُ بِالرَّحْمَةِ وَالْعَذَابِ وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا وَتَعَوَّذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوا کو برا بھلا نہ کہا کرو کیونکہ وہ تو رحمت اور زحمت دونوں کے ساتھ آتی ہے البتہ اللہ سے اس کی خیر مانگا کرو اور اس کے شر سے پناہ مانگا کرو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ يَوْمًا إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ایسی عورت کے لئے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنِي ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ شَكَّ يَعْنِي يَحْيَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالنَّاكِحُ الْمُسْتَعْفِفُ وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں کہ جن کی مدد کرنا اللہ کے ذمے واجب ہے (١) راہ خدا میں جہاد کرنے والا (٢) اپنی عفت کی حفاظت کی خاطر نکاح کرنے والا (٣) وہ عبد مکاتب جو اپنا بدل کتابت ادا کرنا چاہتا ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنِي وَلَا يَنَامُ قَلْبِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ رَجُلٌ كَمْ يَكْفِي رَأْسِي فِي الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا قَالَ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ قَالَ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا کہ غسل جنابت میں میرے سر کے لئے کتنا پانی کافی ہوگا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر ہاتھ سے تین مرتبہ پانی ڈالتے تھے وہ کہنے لگا کہ میرے بال بہت گھنے ہیں؟ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بھی بہت زیادہ گھنے اور عمدہ تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا قَالَ رَجُلٌ عِنْدِي دِينَارٌ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ قَالَ عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجِكَ قَالَ عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ قَالَ عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ قَالَ عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ قَالَ أَنْتَ أَبْصَرُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ و خیرات کیا کرو ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر میرے پاس صرف ایک دینار ہو تو؟ فرمایا اسے اپنی ذات پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا اپنی بیوی پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا اسے اپنے بچے پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا اسے اپنے خادم پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا تم زیادہ بہتر سمجھتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَجَنَّبْ الْوَجْهَ وَلَا تَقُلْ قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے اور یہ نہ کہے کہ اللہ تمہارا اور تم سے مشابہت رکھنے والے کا چہرہ ذلیل کرے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ قَالَ الَّذِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھا کہ کون سی عورت سب سے بہتر ہے؟ فرمایا وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے جب حکم دے تو اس کی بات مانے اور اپنی ذات اور اس کے مال میں جو چیز اس کے خاوند کو ناپسند ہو اس میں اپنے خاوند کی مخالفت نہ کرے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا مَعَ عَبْدِي حِينَ يَذْكُرُنِي فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا فَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے کسی مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتاہوں۔ ابن نمیر کی حدیث میں آغاز اس طرح ہے کہ میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَيَعْلَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ مَضَى مِنْ الشَّهْرِ قَالَ قُلْنَا مَضَتْ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ ثَمَانٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بَلْ مَضَتْ مِنْهُ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ سَبْعٌ اطْلُبُوهَا اللَّيْلَةَ قَالَ يَعْلَى فِي حَدِيثِهِ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ مہینے کے کتنے دن گذرگئے؟ ہم نے عرض کیا کہ بائیس دن گذر گئے اور آٹھ دن رہ گئے فرمایا نہیں بائیس دن گذر گئے اور سات دن رہ گئے شب قدر کو آج کی رات میں تلاش کرو (کیونکہ مہینہ ٢٩دن کا بھی ہوتا ہے)
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ هُوَ شَكَّ يَعْنِي الْأَعْمَشَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا هَلُمُّوا إِلَى بُغْيَتِكُمْ فَيَجِيئُونَ فَيَحُفُّونَ بِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ اللَّهُ أَيَّ شَيْءٍ تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ يَحْمَدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيَذْكُرُونَكَ فَيَقُولُ هَلْ رَأَوْنِي فَيَقُولُونَ لَا فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَحْمِيدًا وَتَمْجِيدًا وَذِكْرًا فَيَقُولُ فَأَيَّ شَيْءٍ يَطْلُبُونَ فَيَقُولُونَ يَطْلُبُونَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا قَالَ فَيَقُولُونَ لَا فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا قَالَ فَيَقُولُ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَتَعَوَّذُونَ فَيَقُولُونَ مِنْ النَّارِ فَيَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَا قَالَ فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا هَرَبًا وَأَشَدَّ مِنْهَا خَوْفًا قَالَ فَيَقُولُ إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ قَالَ فَيَقُولُونَ فَإِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ لَمْ يُرِدْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ فَيَقُولُ هُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ نَحْوَهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَبْتَغُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے جو لوگوں کا نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں اس کام پر مقرر ہیں کہ وہ زمین میں گھومتے پھریں یہ فرشتے جہاں کچھ لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دے کر کہتے ہیں کہ اپنے مقصود کی طرف آؤ چنانچہ وہ سب اکھٹے ہو کر آجاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ ( پھر جب وہ آسمان پر جاتے ہیں تو) اللہ ان سے پوچھتا ہے کہ میرے بندوں کو تم کیا کرتے ہوئے چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں اس حال میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ آپ کی تعریف و تحمید بیان کررہے تھے اور آپ کا ذکر کررہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ آپ کو دیکھ لیتے تو اور زیادہ شدت کے ساتھ آپ کی تحمید اور تمجید اور ذکر میں مشغول رہتے اللہ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز کو طلب کر رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ جنت طلب کر رہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو وہ اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کی حرص اور طلب کرتے اللہ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ جہنم سے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جہنم کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو اور زیادہ شدت کے ساتھ اس سے دور بھاگتے اور خوف کھاتے اللہ فرماتا ہے کہ تم گواہ رہو میں نے ان سب کے گناہوں کو معاف فرما دیا فرشتے کہتے ہیں کہ ان میں تو فلاں گنہگار آدمی بھی شامل تھا جو ان کے پاس خود نہیں آیا تھا بلکہ کوئی ضرورت اور مجبوری اسے لے آئی تھی اللہ فرماتا ہے کہ یہ ایسی جماعت ہے جن کے ساتھ بیٹھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ دنیا و آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا جو شخص کسی تنگدست کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے اللہ دنیا و آخرت میں اس کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے اور جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے پر چلتا ہے اللہ اس کی برکت سے اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے جب بھی لوگوں کی کوئی جماعت اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرے اور آپس میں اس کا ذکر کرے اس پر سکینہ کا نزول ہوتا ہے رحمت الہٰی ان پر چھا جاتی ہے اور فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں کے سامنے ان کا تذکرہ فرماتا ہے اور جس کے عمل نے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جا سکے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْعَبْدُ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ قَالَ فَحَدَّثْتُهُمَا كَعْبًا قَالَ كَعْبٌ لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کے حقوق کو ادا کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کعب احبار کو سنائی تو کعب نے اس پر اپنی طرف سے یہ اضافہ کیا کہ اس کا اور دنیا سے بے رغبت مومن کا کوئی حساب نہ ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى تَقُولُ امْرَأَتُكَ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا طَلِّقْنِي وَيَقُولُ خَادِمُكَ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَبِعْنِي وَيَقُولُ وَلَدُكَ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا شَيْءٌ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ أَمْ هَذَا مِنْ كِيسِكَ قَالَ بَلْ هَذَا مِنْ كِيسِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤور نہ مجھے طلاق دےدو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں؟ لوگوں نے پوچھا اے ابوہریرہ ! یہ آخری جملے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ہیں یا یہ آپ کی تھیلی میں سے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں! بلکہ یہ میری تھیلی میں سے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَنْ صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتْ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِهِمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی جو نماز جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے وہ گھر میں یا بازار میں پڑھی جانے والی انفرادی نماز سے بیس درجوں سے کچھ او پر فضیلت رکھتی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرتا ہے اور خوب اچھی طرح کرتا ہے پھر مسجد میں آتا ہے جہاں اس کا مقصد سوائے نماز کے کوئی اور نہیں ہوتا اور نماز ہی اسے اٹھا کر لاتی ہے تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے اس کے ہر قدم کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی طرح وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے۔ پھر جب وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے تو جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعا کرتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما اے اللہ اس پر خصوصی توجہ فرما بشرطیکہ وہ کسی کو تکلیف نہ پہنچائے یا بے وضو نہ ہوجائے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَقَالَ عَثْرَةً أَقَالَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی لغزش کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے معاف فرما دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَيَعْلَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل اور رقیق القلب ہیں ایمان اور حکمت اہل یمن میں بہت عمدہ ہے جبکہ ابومعاویہ نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ کفر کا مرکز مشرق کی جانب ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ سُودِ الرُّءُوسِ قَبْلَكُمْ كَانَتْ تَنْزِلُ النَّارُ مِنْ السَّمَاءِ فَتَأْكُلُهَا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ أَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَوْلَا كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے کسی کالے سر والی قوم کے لئے مال غنیمت کو حلال قرار نہیں دیا گیا بلکہ آسمان سے ایک آگ اترتی تھی اور وہ اس سارے مال غنیمت کو کھا جاتی تھی جب غزوہ بدر کا موقع آیا تو لوگ مال غنیمت کے حصول میں جلدی دکھانے لگے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر اللہ نے پہلے سے فیصلہ نہ کر رکھا ہوتا تو تم نے جو مال غنیمت حاصل کیا اس کی وجہ سے تمہیں بہت بڑا عذاب چھوتا اب جو تم نے مال غنیمت حاصل کیا ہے اسے حلال و طیب سمجھ کر کھا لو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ وَقَالَ وَكِيعٌ الْإِمَامَ فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي وَقَالَ وَكِيعٌ الْإِمَامَ فَقَدْ عَصَانِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی در حقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ لَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَمَخَّطُونَ وَلَا يَبْزُقُونَ أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى طُولِ أَبِيهِمْ سِتِّينَ ذِرَاعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا اس کے بعد درجہ بدرجہ لوگ ہوں گے یہ لوگ پیشاب پاخانہ نہیں کریں گے۔ نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی۔ ان کی انگیٹھیوں میں عود مہک رہا ہوگا۔ ان سب کے اخلاق ایک شخص کے اخلاق کی مانند ہوں گے وہ سب اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر اور ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوری کرنے والے پر خدا کی لعنت ہو وہ ایک انڈہ چوری کرتا ہے (اور بعد میں عادی مجرم بننے کی وجہ سے) اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور ایک رسی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ وَقَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَظَلُّ عِنْدَ رَبِّي فَيُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے لوگوں کو پتہ چلا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے لوگوں کو منع کرتے ہوئے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ قَالَ وَقَالَ وَكِيعٌ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي رَزِينٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ ثَلَاثًا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَتَّى يَغْسِلَهَا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔ ۔ گذشتہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک یا دومرتبہ ہاتھ دھونے کے حکم کے ساتھ بھی ایک دوسری سند سے مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِيَةُ رَأْسِ أَحَدِكُمْ حَبْلٌ فِيهِ ثَلَاثُ عُقَدٍ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا قَالَ فَيُصْبِحُ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ قَدْ أَصَابَ خَيْرًا وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَصْبَحَ كَسْلَانَ خَبِيثَ النَّفْسِ لَمْ يُصِبْ خَيْرًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شیطان تم میں سے کسی ایک کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگاتا ہے ہر گرہ پر وہ یہ کہتا ہے کہ رات بڑی لمبی ہے آرام سے سوجا اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ اس کا دل مطمئن اور وہ چست ہوتا ہے ورنہ وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کا دل گندہ اور وہ خود سست ہوتا ہے۔ اور اسے کوئی خیر حاصل نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنْ ابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٌ بَايَعَ الْإِمَامَ لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ قَالَ وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کے آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوگا نہ ان پر نظر کرم فرمائے گا اور نہ ان کا تزکیہ فرمائے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ایک تو وہ آدمی جس کے پاس صحرائی علاقے میں زائد پانی موجود ہو اور وہ کسی مسافر کو دینے سے انکار کردے۔ دوسرا وہ آدمی جو کسی حکمران بیعت کرے اور اس کا مقصد صرف دنیا ہو اگر مل جائے تو وہ اس حکمران کا وفادار رہے اور نہ ملے تو اپنی بیعت کا وعدہ پورا نہ کرے اور تیسرا وہ آدمی جو نماز عصر کے بعد کوئی سامان تجارت فروخت کرے اور خریدار کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ اس نے وہ چیز اتنی قیمت میں لی ہے اور خریدار اسے سچا سمجھ لے حالانکہ وہ اپنی بات میں سچا نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ وَابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مَوْلُودٌ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً عَلَى الْمِلَّةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُولَدُ مَوْلُودٌ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی بنا دیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ حَتَّى يُبِينَ عَنْهُ لِسَانُهُ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُشَرِّكَانِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ مَا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مشرک بنا دیتے ہیں؟ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے (مرجانے والے کے ساتھ) کیا ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے؟
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ هَلْ أَنَا وَمَالِي إِلَّا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر کے مال نے مجھے جتنا نفع پہنچایا ہے اتنا کسی کے مال نے نفع نہیں پہنچایا یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ روپڑے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں اور میرا مال آپ ہی کا تو ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي رَزِينٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِي فِي نَعْلِهِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ اور جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف دوسری جوتی پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرلے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ بِيَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ فَسُمُّهُ بِيَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يُرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آپ کو کسی تیز دھار آلے سے قتل کرلے (خودکشی کرلے) اس کا وہ تیز دھار آلہ اس کے ہاتھ میں ہو گا جسے وہ جہنم کے اندر اپنے پیٹ میں گھونپتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا جو شخص زہر پی کر خود کشی کرلے اس کا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر پھانکتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیش رہے گا اور جو شخص اپنے آپ کو پہاڑ سے نیچے گرا کر خود کشی کرلے وہ جہنم میں بھی پہاڑ سے نیچے گرتا رہے گا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَلَيْكُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (دنیا کے معاملے میں) اپنے سے نیچے والے کو دیکھا کرو اپنے سے اوپر والے کو مت دیکھا کرو اس طرح تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر سمجھنے سے بچ جاؤگے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ هُوَ شَكَّ يَعْنِي الْأَعْمَشَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ عُتَقَاءَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لِكُلِّ عَبْدٍ مِنْهُمْ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دن اور ہر رات اللہ کی طرف سے کچھ لوگوں کو جہنم سے خلاصی نصیب ہوتی ہے اور ان میں سے ہر بندے کی ایک دعا ایسی ضرور ہوتی ہے جو قبول ہوجائے۔
-
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبِي وَهُوَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ قَالَ أَبِي وَكَانَ يُفَضَّلُ عَلَى أَخِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ فَانْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ قَالَ رِبْعِيٌّ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ قَالَ أَوْ أَحَدُهُمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آدمی کی ناک خاک آلودہ ہو جس کے سامنے میرا تذکرہ کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے وہ آدمی ہلاک ہو جس کے پاس رمضان کا مہینہ آیا لیکن اس کی بخشش ہونے سے قبل ہی وہ ختم ہوگیا اور وہ شخص برباد ہو جس کے والدین پر اس کی موجودگی میں بڑھاپا آیا اور وہ اسے جنت میں داخل نہ کرا سکیں۔ (خدمت کرکے انہیں خوش نہ کرنے کی وجہ سے )
-
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہیے۔
-
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَطْلُ ظُلْمُ الْغَنِيِّ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہیے۔
-
حَدَّثَنَا رِبْعِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لیے جا رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ۔
-
حَدَّثَنَا رِبْعِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي فَرَسِهِ وَلَا عَبْدِهِ
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ تَجِيءُ الْأَعْرَابُ يَقُولُ يَا أَعْرَابِيُّ نَحْنُ نَبِيعُ لَكَ قَالَ دَعُوهُ فَلْيَبِعْ سِلْعَتَهُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
مسلم بن ابی مسلم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس وقت دیکھا جب ہم بچے تھے دیہاتی لوگ آتے تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ اے دیہاتی ہم تمہارا سامان بیچ دیتے ہیں؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ اسے چھوڑ دو اسے اپنا سامان خود فروخت کرنا چاہے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شہری کو کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلَمْ تَفُتْهُ وَمَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلَمْ تَفُتْهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پڑھ لے اس کی وہ نماز فوت نہیں ہوئی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پڑھ لے اس کی وہ نماز بھی فوت نہیں ہوئی۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثَلَاثٌ أَوْصَانِي بِهِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهُنَّ أَبَدًا الْوَتْرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا (١) سونے سے پہلے نمازوتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا وَمَنْ أَدْرَكَهَا مِنْ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پا لے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پا لے اس نے وہ نماز پا لی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى شَيْءٍ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ فَعَصًا وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَصًا فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اپنے سامنے کوئی چیز (بطور سترہ کے) رکھ لے اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی ہی کھڑی کرلے اور اگر لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لے اس کے بعد اس کے سامنے سے کچھ بھی گذرے اسے کوئی حرج نہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَلَقِيَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَرِنِي أُقَبِّلْ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ قَالَ فَقَالَ بِالْقَمِيصَةِ قَالَ فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ
عمیر بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ راستے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی وہ کہنے لگے کہ مجھے دکھاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے جسم کے جس حصے پر بوسہ دیا تھا میں بھی اس کی تقبیل کا شرف حاصل کروں اس پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیص اٹھائی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ وَأَبُو عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَمَا يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا! نماز میں میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوں ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز ظہر، عشاء اور نماز فجر کی آخری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں مسلمانوں کے لئے دعا اور کفار پر لعنت فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَى أَحَدٍ أَوْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَرُبَّمَا قَالَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ قَالَ يَجْهَرُ بِذَلِكَ وَيَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا حَيَّيْنِ مِنْ الْعَرَبِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے خلاف بد دعا یا کسی کے حق میں دعا کا ارادہ فرماتے تو رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا و لک الحمد کہنے کے بعد یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزورں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بلند آواز میں فرماتے تھے اور بعض اوقات نماز فجر میں عرب کے دو قبیلوں کا نام لے کر فرماتے تھے اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت نازل فرما یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں اللہ چاہے تو ان پر متوجہ ہو یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لینے چاہئیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَحْتَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ حَدَّثَنَا الْخَفَّافُ عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ بِخَطِّ التُّجِيبِيِّ الصَّوَابُ عَنِ ابْنِ يَعْقُوبَ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ وَالِدُ الْعَلَاءِ وَهَذَا حَدِيثُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ شِقْصٌ فِي مَمْلُوكٍ فَأَعْتَقَ نِصْفَهُ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي ثَمَنِ رَقَبَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کر دے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ مالدار نہ ہو تو بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لئے غلام سے اس طرح کوئی محنت مزدوری کروائی جائے کہ اس پر بوجھ نہ بنے (اور بقیہ قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ مکمل آزاد ہوجائے گا)
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ ضَمْضَمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ يَحْيَى وَالْأَسْوَدَانِ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جا سکتا ہے یحییٰ نے دو کالی چیزوں کی وضاحت سانپ اور بچھو سے کی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُجُوِّزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ فِي أَنْفُسِهَا أَوْ وَسْوَسَتْ بِهِ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا بَاتَتْ تَلْعَنُهَا الْمَلَائِكَةُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَتَّى تَرْجِعَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تا آنکہ وہ واپس آ جائے
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً وَجَعَلَ ابْنُ عَوْنٍ يُرِينَا بِكَفِّهِ الْيُمْنَى فَقُلْنَا يُزَهِّدُهَا لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسرآجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَمَمْتُمْ فَخَفِّفُوا فَإِنَّ فِيكُمْ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَالصَّغِيرَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بچے سب ہی ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ حَبِيبٍ الْهُذَلِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَوْ رَأَيْتُ الْأَرْوَى تَجُوسُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يَعْنِي الْمَدِينَةَ مَا هِجْتُهَا وَلَا مَسِسْتُهَا وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّمُ شَجَرَهَا أَنْ يُخْبَطَ أَوْ يُعْضَدَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں مدینہ منورہ میں پہاڑی بکرے کو گھومتا ہوا دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں اور نہ ہاتھ لگاؤں کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے درختوں کے پتے توڑنے یا کانٹے کو حرام قرار دیتے ہوئے سنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُ أَحَدَكُمْ إِذَا أَشَارَ لِأَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف خواہ وہ حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو کسی تیز دھار چیز سے اشارہ کرتا ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْجُلَاسِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ شَمَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَرَّ عَلَيْهِ مَرْوَانُ فَقَالَ بَعْضَ حَدِيثِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ حَدِيثَكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ فَقُلْنَا الْآنَ يَقَعُ بِهِ قَالَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى جَنَائِزَ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَنْتَ خَلَقْتَهَا وَأَنْتَ رَزَقْتَهَا وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا تَعْلَمُ سِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا
عثمان بن شماس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان کا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا تو وہ کہنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنی کچھ حدیثیں سنبھال کر رکھو تھوڑی دیر بعدوہ واپس آگیا ہم لوگوں نے اپنے دل میں سوچا کہ اب یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرے گا (کیونکہ ان کے درمیان کچھ ناراضگی تھی) مروان کہنے لگا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسے رزق دیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ عَنْ زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا كِسْرَى بَعْدَ كِسْرَى وَلَا قَيْصَرَ بَعْدَ قَيْصَرَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے راہ خدا میں ضرور خرچ کروگے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ أَحَدُكُمْ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الا یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مُنْخُرَيْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَلَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکھٹے نہیں ہوسکتے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ سَلْمَانَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرَّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْحَكَمِ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جا سکتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ مِنْهَا إِلَّا اتَّسَعَتْ حَلَقَةٌ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا عَلَيْهِ وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَإِنَّهَا لَا تَزْدَادُ عَلَيْهِ إِلَّا اسْتِحْكَامًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک لوہے کے دو جبے ہوں خرچ کرنے والا جب بھی کچھ خرچ کرتا ہے تواسی کے بقدر اس جبے میں کشادگی ہوتی جاتی ہے اور وہ اس کے لئے کھلتاجاتا ہے اور کنجوس آدمی کی جکڑ بندی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ لَوْ كَانَ أُحُدٌ عِنْدِي ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ أُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ فِي دَيْنٍ يَكُونُ عَلَيَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے راہ خدا میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَكْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِلَّا مَوْضِعَ هَذِهِ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا هَذِهِ اللَّبِنَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی آدمی نے نہایت حسین و جمیل عمارت بنائی البتہ اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس کے گرد چکر لگاتے تعجب کرتے اور کہتے جاتے تھے کہ ہم نے اس سے عمدہ عمارت کوئی نہیں دیکھی سوائے اس اینٹ کی جگہ کے سو وہ اینٹ میں ہوں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ عِيَاضِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا۔
-
وَفِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ
اور جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آ جائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔
-
قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ دِينَارٍ اللَّيْثِيُّ وَكَانَ ثِقَةً عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَلِيفَةَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَيَّامَ الْحَجِّ يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ زُمْرَةٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
اور ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک علم کو اٹھا نہ لیا جائے فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا نبی اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔ حدیث نمبر 6868 اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث خطبہ جمعہ میں سنائی تھی جبکہ وہ مدینہ منورہ کے گورنر تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَذْهَبَ إِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبَ ثُمَّ يَأْتِيَ بِهِ يَحْمِلُهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ فَيَأْكُلَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ وَلَأَنْ يَأْخُذَ تُرَابًا فَيَجْعَلَهُ فِي فِيهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْعَلَ فِي فِيهِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے پہاڑ پر جا کر لکڑیاں کاٹے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے بہ نسبت اس کے کسی سے جا کر سوال کرے اور انسان کے لئے مٹی لے کر اپنے منہ میں ڈال لینا اس سے بہتر ہے کہ اپنے منہ میں حرام کا لقمہ ڈالے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَتَعَاقَبُونَ مَلَائِكَةَ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةَ النَّهَارِ فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ كَانُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ فَيَقُولُ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ يُصَلُّونَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو زمین پر باری باری آتے ہیں ان میں سے کچھ فرشتے رات کے ہیں اور کچھ دن کے یہ فرشتے نماز فجر اور نماز عصر کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں پھر جو فرشتے تمہارے درمیان رہ چکے ہوتے ہیں وہ آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ باوجودیکہ ہر چیز جانتا ہے ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں کہ جس وقت ہم ان سے رخصت ہوئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ وَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ وَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
-
وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّمَا يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي فَصِيَامُهُ لَهُ وَأَنَا أَجْزِي بِهِ كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ
نیز ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ابن آدم کا ہر عمل اسی کے مناسب ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے مناسب ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار میری خاطر اپنا کھانا پینا چھوڑتا ہے لہذا اس کا روزہ میری وجہ سے ہوا اس لئے بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے اور سات سو گنا تک چلی جاتی ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَسْتُ فِي ذَلِكَ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَاكْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ مَعَادِنُ تَجِدُونَ خِيَارَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارَهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں تم محسوس کروگے کہ ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔
-
حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ لَا يَقْطَعُهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایساہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے جو کچھ میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ و بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ الشَّيْءِ فَاجْتَنِبُوهُ وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالشَّيْءِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک میں کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء علیہم السلام سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاو اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا بے شک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ أَبُو عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كُلُّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ فِيهَا فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرات کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرات سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قراءت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرات کریں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَرَأَيْتُ حَلْقَةً عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ فَقِيلَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ فَسَأَلْتُ فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ سَمِعْتُ حِبِّي أَوْ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا وَالْجَفَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَصْحَابِ الْوَبَرِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ
ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مدینہ منورہ حاضر ہوا میں نے مسجد نبوی میں منبر کے قریب ایک حلقہ درس دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کا حلقہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا حلقہ ہے میں نے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ پوچھا وہ کہنے لگے کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں اہل یمن میں سے ہوں یہ سن کر انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے ایمان اور حکمت یمن والوں کی بہت عمدہ ہے یہ لوگ نرم دل ہوتے ہیں جبکہ دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہوتی ہے اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَكُنْتُ إِذَا مَشَيْتُ سَبَقَنِي فَأُهَرْوِلُ فَإِذَا هَرْوَلْتُ سَبَقْتُهُ فَالْتَفَتُّ إِلَى رَجُلٍ إِلَى جَنْبِي فَقُلْتُ تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ وَخَلِيلِ إِبْرَاهِيمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنازے میں گیا میں جب اپنی رفتار سے چل رہا ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے بڑھ جاتے پھر میں دوڑنا شروع کردیتا تو میں آگے نکل جاتا اچانک میری نظر اپنے پہلو کے ایک آدمی پر پڑی تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ خلیل ابراہیم کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ أَوْ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِدَالٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَقِيَ ثُلُثُ اللَّيْلِ نَزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَرْزِقُنِي فَأَرْزُقَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَكْشِفُ الضُّرَّ فَأَكْشِفَهُ عَنْهُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟ کون ہے جو مجھ سے رزق طلب کرے کہ میں اسے رزق عطا کروں؟ کون ہے جو مصائب دور کرنے کی درخواست کرے کہ میں اس کے مصائب دور کروں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک وشبہ نہیں مظلوم کی دعا مسافر کی دعا اور باپ کی اپنے بیٹے کے متعلق دعا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَغَزْوٌ لَا غُلُولَ فِيهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَجٌّ مَبْرُورٌ يُكَفِّرُ خَطَايَا تِلْكَ السَّنَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل اللہ پر ایسا ایمان ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حج مبرور اس سال کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ عَنْ خَلَفِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَصَمِّ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَلَاةِ الضُّحَى وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا)۔ (١) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٢) چاشت کی نماز کی (٣) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ بِوُضُوءٍ أَوْ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ سِوَاكٌ وَلَأَخَّرْتُ عِشَاءَ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْلَحَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ لَهُ طَعَامَهُ فَكَفَاهُ حَرَّهُ وَبَرْدَهُ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکائے اور گرمی سردی سے اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے دے دے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فِي مُصَلَّاهُ فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ فَانْصَرَفَ ثُمَّ قَالَ كَمَا أَنْتُمْ فَصَفَفْنَا وَإِنَّ رَأْسَهُ لَيَنْطِفُ فَصَلَّى بِنَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آیا کہ انہوں نے غسل نہیں کیا چنانچہ انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھ لو اور جب چاند دیکھ لو تو عید الفطر منا لو اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزے رکھو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ اللَّيْلِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی بھی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھونہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات پھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُولُوا خَيْبَةَ الدَّهْرِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ وَلَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو کہ زمانے کی تباہی ہو کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے اور انگور کو کرم نہ کہا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَكَتَبُوا مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَتْ الْمَلَائِكَةُ الصُّحُفَ وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّكْرَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مساجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں اور امام نکل آتا ہے تو فرشتے وہ صحیفے اور کھاتے لپیٹ دیتے ہیں اور مسجد میں داخل ہو کر ذکر سننے لگتے ہیں۔
-
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي شَاةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَطَّةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَيْضَةً
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا بکری قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر بطخ پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ دینے والے کی طرح ثواب پاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سر انجام دیتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ يَخْلُقُ كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا بَعُوضَةً أَوْ لِيَخْلُقُوا ذَرَّةً
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہیے کہ ایک مکھی یا ایک جو کا دانہ پیدا کر کے دکھائیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت حبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ عَوْفٍ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً فَحَلَبَهَا فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ بِالْخِيَارِ إِلَى أَنْ يَحُوزَهَا أَوْ يَرُدَّهَا وَإِنَاءً مِنْ طَعَامٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر ) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ایک برتن گندم بھی ساتھ دے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ عَوْفٍ عَنْ خِلَاسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي عَطِيَّتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ فَأَكَلَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو ہدیہ دے کر واپس مانگ لے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو خوب سیراب ہو کر کھائے اور جب پیٹ بھر جائے تو اسے قے کردے اور اس قے کو چاٹ کر دوبارہ کھانے لگے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ عَوْفٍ عَنْ خِلَاسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرنے لگے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کے متعلق اجازت لی جائے گی اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی جانب سے اجازت تصور ہوگی اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر زبردستی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء علیہم السلام باپ شریک بھائی ہیں میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی (علیہ السلام) نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ وَحُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کو خواہشات سے اور جنت کو ناپسندیدہ (مشکل) امور سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي أَبُو مَوْدُودٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَدْرَدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَدْفِنْهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص مسجد میں تھوکنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ دور چلا جائے اگر ایسا نہ کرسکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو۔ لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ عَنْ الصَّلْتِ بْنِ غَالِبٍ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ مُسْلِمٍ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَ رَاحِلَتَهُ وَهِيَ مُنَاخَةٌ وَأَنَا آخِذٌ بِخِطَامِهَا أَوْ زِمَامِهَا وَاضِعًا رِجْلِي عَلَى يَدِهَا فَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَامُوا حَوْلَهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ثُمَّ نَاوَلَ الَّذِي يَلِيهِ عَنْ يَمِينِهِ فَشَرِبَ قَائِمًا حَتَّى شَرِبَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ قِيَامًا
ایک مرتبہ مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ بھتیجے ! میں نے دیکھاہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو باندھا وہ بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے اس کی لگام اس طرح پکڑ رکھی تھی کہ میرا پاؤں اس کے ہاتھ پر تھا اتنی دیر میں قریش کے کچھ لوگ آ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد کھڑے ہوگئے اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک برتن لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر ہی اسے نوش فرمایا پھر دائیں جانب والے صاحب کو مرحمت فرما دیا انہوں نے اسے کھڑے کھڑے پی لیا یہاں تک کہ سب لوگوں نے ہی کھڑے کھڑے وہ دودھ پیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا يَخَافُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے جیسا بنا دے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُؤْمِنُ الَّذِي رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کی شکل گدھے جیسی بنا دے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالْوِتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ وَالْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٢) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی۔ (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَوْ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى أَصْبَحَ قَالَ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں لوگوں نے یا ایک آدمی نے ایک شخص کا تذکرہ کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فلاں آدمی ساری رات سوتا رہا اور فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی یہاں تک کہ صبح ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کردیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پا لے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پا لے اس نے وہ نماز پا لی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَالْأُكْلَةُ وَالْأُكْلَتَانِ قَالُوا فَمَنْ الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى وَلَا يَعْلَمُ النَّاسُ بِحَاجَتِهِ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَذَلِكَ هُوَ الْمَحْرُومُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ الْمِسْكِينُ قَالَ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ پھر مسکین کون ہوتا ہے؟ فرمایا جس کے پاس خود بھی مالی کشادگی نہ ہو اور دوسری کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کردیں۔ امام زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص محروم ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! پھر مسکین کون ہوتا ہے؟ فرمایا جس کے پاس خود بھی مالی کشادگی نہ ہو اور وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال بھی نہ کرتا ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوا عَلَيْهِمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ مَعَادِنُ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَيَزِيدُ قَالَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُجِّرَتْ أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ مِنْ الْجَنَّةِ الْفُرَاتُ وَالنِّيلُ وَسَيْحَانُ وَجَيْحَانُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کی چار نہریں دنیا میں بہتی ہیں دریائے فرات دریائے نیل دریائے جیحون دریائے سیحون۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالوں کی سفیدی کو بدل لیا کرو اور یہود و نصاری کی مشابہت اختیار نہ کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُوقَفُ عَلَى الصِّرَاطِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ وَجِلِينَ أَنْ يُخْرَجُوا وَقَالَ يَزِيدُ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ فَيُقَالُ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالُوا نَعَمْ رَبَّنَا هَذَا الْمَوْتُ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ فَيَطَّلِعُونَ فَرِحِينَ مُسْتَبْشِرِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ فَيُقَالُ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالُوا نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ فَيَأْمُرُ بِهِ فَيُذْبَحُ عَلَى الصِّرَاطِ ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلَاهُمَا خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ لَا مَوْتَ فِيهِ أَبَدًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن موت کو لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ جی پروردگار! یہ موت ہے پھر اہل جہنم کو پکار کر آواز دی جائے گی وہ اس خوشی سے جھانک کر دیکھیں گے کہ شاید انہیں اس جگہ سے نکلنا نصیب ہوجائے پھر ان سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے جی ہاں یہ موت ہے چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہوگے اس میں کبھی موت نہ آئے گی۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تُرْسِلْهَا فَتَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَيَزِيدُ قَالَا أَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ كَهَيْئَتِي إِنَّ اللَّهَ حِبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ وَقَالَ يَزِيدُ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَيَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم اٹھا لیا جائے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُومْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے پھر اپنے مصلی پر ہی بیٹھتا رہتا ہے تو فرشتے مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ ! اس پر رحم فرما بشرطیکہ وہ بے وضو نہ ہوجائے یا وہاں سے اٹھ نہ جائے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى وَيَزِيدُ قَالَا أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فِي مَنَاقِبِ الْخَيْرِ فَقَالَ وَجَبَتْ ثُمَّ مَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ أُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فِي مَنَاقِبِ الشَّرِّ فَقَالَ وَجَبَتْ ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ شُهَدَاءُ فِي الْأَرْضِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا لوگ اس کے عمدہ خصائل اور اس کی تعریف بیان کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی اسی اثناء میں ایک اور جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کے برے خصائل اور اس کی مذمت بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی پھر فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى وَيَزِيدُ قَالَا أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَشَبَّهُ بِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْسِرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ تِسْعَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے حتی کہ ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى وَيَزِيدُ قَالَا أَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الْأَمْرِ خِيَارُهُمْ تَبَعٌ لِخِيَارِهِمْ وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دین کے معاملے میں لوگ قریش کے تابع ہیں اچھے لوگ اچھے لوگوں کے اور برے لوگ برے لوگوں کے تابع ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَيَعْلَى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا السَّامُ قَالَ الْمَوْتُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں سام کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سام سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ فَهُوَ رِبًا وَلَا تُبَاعُ ثَمَرَةٌ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے برابر سرابر وزن کرکے بیچا جائے جو شخص اس میں اضافہ کرے گویا اس نے سودی معاملہ کیا۔ اور کسی قسم کا پھل اس وقت تک نہ بیچا جائے جب تک وہ پک نہ جائے۔
-
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ مِنْ عَمَلِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُنَّ أَهْلُ الْإِسْلَامِ النِّيَاحَةُ وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ وَكَذَا قُلْتُ لِسَعِيدٍ وَمَا هُوَ قَالَ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ يَا آلَ فُلَانٍ يَا آلَ فُلَانٍ يَا آلَ فُلَانٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کے تین کام ایسے ہیں جنہیں مسلمان نہیں چھوڑیں گے میت پر نوحہ، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور اس طرح کرنا میں نے سعید سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب؟ انہوں نے بتایا کہ زمانہ جاہلیت کی طرح لڑائی جھگڑوں میں اپنے اپنے خاندان والوں کو یا آل فلاں، یا آل فلاں کہہ کر بلانا۔
-
حَدَّثَنَا رِبْعِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ دورد بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں کوئی حدیث اور اس کی سند موجود نہیں ہے صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے اور حاشیے میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ مسنداحمد کے بعض نسخوں میں یہاں یہ غلطی ہوئی ہے کہ کاتبین نے حدیث نمبر٧٥٥٣کی سند کو لے کر اس پر حدیث نمبر٧٥٥١کا متن چڑھا دیا جو کہ غلط ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ إِلَّا جُعِلَ صَفَائِحَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جَبْهَتُهُ وَجَنْبُهُ وَظَهْرُهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ثُمَّ سُئِلَ عَنْ الْخَيْلِ فَقَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَجَمَالٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ أَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا يُعِدُّهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ وَإِنْ مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ وَإِنْ مَرَّتْ فَمَا أَكَلَتْ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ وَإِنْ اسْتَنَّتْ شَرَفًا فَلَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ حَتَّى ذَكَرَ أَرْوَاثَهَا وَأَبْوَالَهَا وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ وَجَمَالٌ فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا وَلَا يَنْسَى حَقَّ بُطُونِهَا وَظُهُورِهَا وَعُسْرِهَا وَيُسْرِهَا وَأَمَّا الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا بَذَخًا وَأَشَرًا وَرِيَاءً وَبَطَرًا ثُمَّ سُئِلَ عَنْ الْحُمُرِ فَقَالَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا إِلَّا الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الْجَامِعَةَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص خزانوں کا مالک ہو اور اس کا حق ادا نہ کرے اس کے سارے خزانوں کو ایک تختے کی صورت میں ڈھال کر جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اس کے بعد اس سے اس شخص کی پیشانی پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا تا آنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مندحالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا پھر وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی ان میں سے کوئی بکری مڑے ہوئے سینگوں والی یا بے سینگ نہ ہوگی جوں ہی آخری بکری اسے روندتے ہوئے گذرے گی پہلے والی دوبارہ آجائے گی تا آنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آ جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے گھوڑوں کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانی ستروجمال ہوتا ہے اور بعض اوقات باعث عقاب ہوتا ہے جس آدمی کے لئے گھوڑا باعث ثواب ہوتا ہے وہ تو وہ آدمی ہے جو اسے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے پالتا اور تیار کرتا رہتا ہے ایسے گھوڑے کے پیٹ میں جو کچھ بھی جاتا ہے وہ سب اس کے لئے باعث ثواب ہوتا ہے اگر وہ کسی نہر کے پاس سے گذرتے ہوئے پانی پی لے تو اس کے پیٹ میں جانے والا پانی بھی باعث اجر ہے اور اگر وہ کہیں سے گذرتے ہوئے کچھ کھا لے تو وہ بھی اس شخص کے لئے باعث اجر ہے اور اگر وہ کسی گھاٹی پر چڑھے تو اس کی ہر ٹاپ اور ہر قدم کے بدلے اسے اجر عطاء ہوگا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لید اور پیشاب کا بھی ذکر فرمایا۔ اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث ستر و جمال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو اسے زیب وزینت حاصل کرنے کے لئے رکھے اور اس کے پیٹ اور پیٹھ کے حقوق اس کی آسانی اور مشکل کو فراموش نہ کرے اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث وبال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو غرور و تکبر اور نمود و نمائش کے لئے گھوڑے پالے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تو یہی ایک جامع مانع آیت نازل فرما دی ہے کہ جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرے کے برابر بھی برا عمل سر انجام دے گا وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا لَا تُكِنُّ مِنْهُ بُيُوتُ الْمَدَرِ وَلَا تُكِنُّ مِنْهُ إِلَّا بُيُوتُ الشَّعَرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ ایسی بارش نہ ہوجائے جس سے پکے مکانات بھی نہ بچ سکیں صرف بالوں سے بنے ہوئے مکانات ہی بچ پائیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَعَتْ الْعِرَاقُ قَفِيزَهَا وَدِرْهَمَهَا وَمَنَعْتِ الشَّامُ مُدَّهَا وَدِينَارَهَا وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ وَذَكَرَ أَبَا كَامِلٍ فَقَالَ كُنْتُ آخُذُ مِنْهُ ذَا الشَّأْنَ وَكَانَ أَبُو كَامِلٍ بَغْدَادِيًّا مِنْ الْأَبْنَاءِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرب قیامت میں عراق اپنے قفیز اور درہم روک لے گا شام اپنے مد اور دینار روک لے گا مصر اپنے اردب اور دینار روک لے گا اور تم جہاں سے چلے تھے وہیں واپس آ جاؤگے (یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا) اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا گوشت اور خون گواہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ فَلَا تَبْدَؤُهُمْ وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا قَالَ زُهَيْرٌ فَقُلْتُ لِسُهَيْلٍ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم ان لوگوں سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو راوی حدیث زہیر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد سہیل سے پوچھا کہ اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ انہوں نے فرمایا تمام مشرکین مراد ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے ہاتھ پر چکنائی کے اثرات ہوں اور وہ انہیں دھوئے بغیر ہی سو جائے جس کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے (کہ کیوں ہاتھ دھو کر نہ سویا)
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی اولاد اپنے والد کے جرم کا بدلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی (باپ کے جرم کا بدلہ اس کی اولاد سے نہیں لیا جائے گا) البتہ اتنی ضرور ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ فَإِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيْهِ دَاءٌ وَالْآخَرَ دَوَاءٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفا اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَوْ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنْ تَجُرَّ الذَّيْلَ ذِرَاعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا (یا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کو حکم دیا کہ اپنے کپڑے کا دامن ایک گز تک لمبا رکھ سکتی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَأَطَاعَ سَيِّدَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہو تو اسے دہرا اجر ملتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ بَعْدَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے بعد سیدھا راستہ اختیار کرلے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ فَقَالَ لَهُ إِنْ أَرَدْتَ تَلْيِينَ قَلْبِكَ فَأَطْعِمْ الْمِسْكِينَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے دل کی سختی کی شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اگر تم اپنے دل کو نرم کرنا چاہتے ہو تو مسکینوں کو کھانا کھلایا کرو اور یتیم کے سر پر شفقت کے ساتھ ہاتھ پھیرا کرو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صبر کے مہینے (رمضان) کا روزہ اور ہر مہینے تین دن کا روزہ رکھنا ایسے ہے جیسے پورے سال روزہ رکھنا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَيَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنٌ فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ خَيْرًا وَإِمَّا مُسِيءٌ فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اور اضافہ ہوجائے اور اگر وہ گناہ گار ہے تو ہوسکتا ہے کہ توبہ کرلے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا قَالَ فَلَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوجوانوں سے کہہ دیتا تھا کہ جب تم کسی تنگدست سے قرض وصول کرنے جاؤ تو اس سے درگذر کرنا شاید اللہ تم سے بھی درگذر کرے چنانچہ (موت کے بعد) جب اللہ سے اس کی ملاقات ہوئی تو اللہ نے اس سے درگذر فرمایا (اسے معاف فرمایا)
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل ہم (انشاء اللہ) خیف بنی کنانہ جہاں قریش نے کفر پر قسمیں کھائیں تھیں میں پڑاوکریں گے (مراد وادی محصب تھی)
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم چاند دیکھ لو توروزہ رکھ لو اور جب چاند دیکھ لو تو عید الفطر منا لو اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزے رکھو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنِ الْأَغَرِّ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَيَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَغَرَّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ يَعْقُوبُ أَبَا سَلَمَةَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَاه يُونُسُ عَنِ الْأَغَرِّ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ وَجَاءُوا فَاسْتَمَعُوا الذِّكْرَ
یہاں حدیث کی صرف سند مذکور ہے غالبا اس کا متن وہی ہے جو اگلی حدیث کا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے آ جاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو وہ صحیفے اور کھاتے لپیٹ کر ذکر سننے کے لئے آ جاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ وَيَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يُؤْذِينَا بِهَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا قَالَ يَعْقُوبُ يَعْنِي الثُّومَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس درخت (لہسن) میں سے کچھ کھا کر آئے وہ ہمیں ہماری اس مسجد میں تکلیف نہ پہنچائے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَشُكَّ يَعْقُوبُ قَالَ فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ جُزْءًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ وَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ فَلَطَمَ عَيْنَ الْيَهُودِيِّ فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَأَجِدُ مُوسَى مُمْسِكًا بِجَانِبِ الْعَرْشِ فَمَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمیوں میں جن میں سے ایک مسلمان اور دوسرا یہودی تھا تلخ کلامی ہوگئی مسلمان نے اپنی بات پر قسم کھاتے ہوئے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اور یہودی نے قسم کھاتے ہوئے کہہ دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اس پر مسلمان کو غصہ آیا اور اس نے یہودی کو ایک طمانچہ دے مارا اس یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بلا کر اس سے دریافت فرمایا اس نے تھپڑ مارنے کا اعتراف کیا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو کیونکہ قیامت کے دن سب لوگوں پر بیہوشی طاری ہوجائے گی سب سے پہلے مجھے افاقہ ہوگا میں اس وقت دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرش کے پائے کو پکڑ رکھا ہے مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بیہوش ہونے والوں میں سے ہوں گے کہ انہیں مجھ سے قبل افاقہ ہوگیا یا ان لوگوں میں سے ہوں گے جنہیں اللہ نے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں۔ الا یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام فَقَالَ لَهُ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ وَأَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَبِرِسَالَتِهِ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم! آپ ہی ہیں جن کی غلطی نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ تم وہی ہو کہ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے اور اپنی پیغام بری کے لئے منتخب کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے پہلے کرلیا تھا؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا جہاد فی سبیل اللہ سائل نے پوچھا کہ اس کے بعد؟ فرمایا حج مبرور۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام! کوئی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنِ الْأَغَرِّ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَلِذَلِكَ كَانُوا يُفَضِّلُونَ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ أَوَّلِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے کہ میں اسے معاف کردوں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے اسی وجہ سے وہ لوگ رات کے پہلے حصے کی بجائے آخری حصے میں نماز پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَتَيْتُ سَعِيدَ ابْنَ مَرْجَانَةَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَمْ يَمْشِ مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تَغِيبَ عَنْهُ وَمَنْ مَشَى مَعَهَا فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ پڑھے لیکن تدفین کے لئے اس کے ساتھ نہ جاسکے تو اسے جنازہ کی نظروں سے غائب ہونے تک کھڑا رہنا چاہئے اور جو شخص جنازے کے ساتھ چلا جائے وہ قبرستان پہنچ کر جنازہ زمین پر رکھے جانے سے قبل نہ بیٹھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پا لے گویا اس نے پوری نماز پا لی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ أَوْصَانِي بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى قَالَ وَنَهَانِي عَنْ الِالْتِفَاتِ وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْقِرْدِ وَنَقْرٍ كَنَقْرِ الدِّيكِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے اور تین چیزوں سے منع کیا ہے وصیت تو (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ (٣) اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی فرمائی ہے اور ممانعت نماز میں دائیں بائیں دیکھنے، بندر کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّمَّاكِ حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَبِصَلَاةِ الضُّحَى فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ین چیزوں کی وصیت کی ہے) (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ (٣) چاشت کی نماز کی کیونکہ یہ رجوع کرنے والوں کی نماز ہے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ مَنْ أَذْهَبْتُ حَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ لَمْ أَرْضَ لَهُ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں جس شخص کی دونوں پیاری آنکھوں کا نور ختم کردوں اور وہ اس پر صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے تو میں اس کے لئے جنت کے سوا کسی دوسرے ثواب پر راضی نہیں ہوں گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ كَعْبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَاسْأَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ قَالَ أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم مجھ پر درود بھیجا کرو تو اللہ سے میرے لیے وسیلہ مانگا کرو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! وسیلہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا یہ جنت کے سب سے اعلیٰ ترین درجے کا نام ہے جو صرف ایک آدمی کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيُبْغِضُ أَوْ يَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمْ هَا هَا فَإِنَّمَا ذَلِكَ الشَّيْطَانُ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی سے نفرت کرتا ہے۔ جب کوئی آدمی جمائی لینے کے لیے منہ کھول کر ہاہا کرتا ہے تو وہ شیطان ہوتا ہے جو اس کے پیٹ میں سے ہنس رہا ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ أَوْ قَالَ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ فَقَالَ إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ أَنَّ مَعْمَرًا كَانَ يَذْكُرُهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَيَذْكُرُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں گر کر مر جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گرا ہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی استعمال کرلو اور اگر گھی مائع کی شکل میں ہو تو اسے مت استعمال کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے وضو کرنے لگے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی برتن میں کتا منہ مار دے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھو لیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ قَالَ مَرَرْتُ بِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ أَتَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ
ابراہیم بن عبداللہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا تو وہ وضو کررہے تھے مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ تم جانتے ہو کہ میں کس چیز سے وضو کر رہا ہوں؟ میں نے پینرکے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ قَالَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتاہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ تُضَاعَفُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي وَيَدَعُ طَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي فَرْحَتَانِ لِلصَّائِمِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کی ہر نیکی کو اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزے کے (جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتاہے) روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا اور جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گاتب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لینے چاہئیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّهَا بِمَرْوَةٍ أَوْ بِشَيْءٍ ثُمَّ قَالَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا وَلَكِنْ لِيَتَنَخَّمْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا تو اسے کسی پتھر وغیرہ سے صاف کرکے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہو تو اپنے سامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے کیونکہ اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے بلکہ اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہئے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلَا يُؤْذِينَا فِي مَسْجِدِنَا وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُؤْذِينَا بِرِيحِ الثُّومِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس درخت (لہسن) میں سے کچھ کھا کر آئے وہ ہمیں ہماری مسجد میں تکلیف نہ پہنچائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ أُنَيْسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤَذِّنَ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ وَيُصَدِّقُهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ سَمِعَهُ وَالشَّاهِدُ عَلَيْهِ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ دَرَجَةً
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤذن کی اذان کی آواز جہاں جہاں تک جاتی (ان سب کی گواہی کی برکت سے) اس کی بخشش کردی جاتی ہے اور ہر خشک اور تر چیز جس نے اذان کی آواز سنی ہو مؤذن کی تصدیق کرتی ہے اور اس پر شہادت دینے والے کو پچیس درجات ملتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمْعِ عَلَى صَلَاةِ الْوَاحِدِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے ہے اور رات اور دن کے فرشتے نماز فجر کے وقت جمع ہوتے ہیں پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لوکہ فجر کے وقت قرآن پڑھنا مشہود ہے (اس پر فرشتے گواہ بن جاتے ہیں کیونکہ وہ اس وقت حاضر ہوتے ہیں)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا كَانَ فِي مَسْجِدٍ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لیے اس وقت تک دعاء کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى شَيْءٍ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ فَعَصًا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَصًا فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعا مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اپنے سامنے کوئی چیز ( بطور سترہ کے ) رکھ لے اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی ہی کھڑی کر لے اور اگر لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لے اس کے بعد اس کے سامنے سے کچھ بھی گذرے اسے کوئی حرج نہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اطَّلَعَ عَلَى قَوْمٍ فِي بَيْتِهِمْ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَئُوا عَيْنَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی کسی کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں جھانک کر دیکھے اور وہ اسے کنکری دے مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبْتَدِئُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم یہود و نصاریٰ سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بد شگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے البتہ فال سب سے بہتر ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فال سے کیا مراد ہے؟ فرمایا اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سنے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ قَالَ أَعْرَابِيٌّ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ كَانَ أَعْدَى الْأَوَّلَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کھوپڑی سے کیڑا نکلنے کی کوئی حقیقت نہیں ایک دیہاتی کہنے لگا کہ پھر اونٹوں کا کیا معاملہ ہے جو صحرا میں ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے ہیں اچانک ان میں ایک خارشی اونٹ شامل ہوجاتا ہے اور سب کو خارش زدہ کردیتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس سے پہلے اونٹ کو خارش کہاں سے لگی؟
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کے علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کے برابر کمی ہوتی رہے گی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالْأَغَرُّ صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو ہمارا رب آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کو قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطا کروں؟
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَزَادَ فِيهِ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا اور ہمام سے یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ بے شک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَالْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى الْغَنِيُّ وَيُتْرَكُ الْمِسْكِينُ وَهِيَ حَقٌّ وَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ عَصَى وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ بد ترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے حالانکہ وہ برحق ہے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ قَالَ فَيَقُولُ جِبْرِيلُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ رَبَّكُمْ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ قَالَ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ قَالَ وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ قَالَ وَإِذَا أَبْغَضَ فَمِثْلُ ذَلِكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو اور جبریل علیہ السلام آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تب بھی اسی طرح ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَهُمْ رَهْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ قَالَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ وَقَتَادَةُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں انصار کے سب سے بہترین گھر کا پتہ نہ بتاؤں۔ ؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! فرمایا عبد الاشہل کے لوگ ( جو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا گروہ تھا) لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کون لوگ ہیں ؟ فرمایا بنی نجار لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کون لوگ ہیں؟ فرمایا بنی حارث بن خزرج ۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کے بعد کون ہیں؟ فرمایا بنی ساعدہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کون لوگ ہیں؟ فرمایا اس کے بعد انصار کے ہر گھر میں ہی خیر و برکت ہے۔ یہی روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے البتہ اس میں بنی نجار پھر بنی عبدالاشہل کا ذکر ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ مُعْجَبٌ بِجُمَّتِهِ قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ أَوْ قَالَ يَهْوِي فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کر کے ناز و تکبر کی چال چلتا ہوا جا رہا تھا اسے اپنے بالوں پر بڑا عجب محسوس ہورہا تھا اور اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَذَتْ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَاجٌّ فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَهُ مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنْ الرِّيحِ فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ مِنْ ذَلِكَ فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنْ الرِّيحِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا وَاسْتَعِيذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج پر جا رہے تھے کہ مکہ مکرمہ کے راستے میں تیز آندھی نے لوگوں کو آ لیا لوگ اس کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوگئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا آندھی کے متعلق کون شخص ہمیں حدیث سنائے گا؟ کسی نے انہیں کوئی جواب نہ دیا مجھے پتہ چلا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس نوعیت کی کوئی حدیث دریافت فرمائی ہے تو میں نے اپنی سواری کی رفتار تیز کردی حتیٰ میں نے انہیں جا لیا اور عرض کیا کہ امیرالمومنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے آندھی کے متعلق کسی حدیث کا سوال کیا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ آندھی یعنی تیز ہوا اللہ کی مہربانی ہے کبھی رحمت لاتی ہے اور کبھی زحمت جب تم اسے دیکھا کرو تو اسے برا بھلا نہ کہا کرو بلکہ اللہ سے اس کی خیر طلب کیا کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلَامِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ جِيءَ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے مجھے جوامع الکلم دئیے گئے ہیں اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہ خدا میں اپنے مال میں سے دو جوڑے والی چیزیں خرچ کرے اسے جنت کے دروازوں سے پکارا جائے گا اور جنت کے کئی دروازے ہیں جو اہل نماز میں سے ہوگا اسے باب الصلاۃ سے پکارا جائے گا جو اہل صدقہ میں سے ہوگا اسے باب الصدقہ سے پکارا جائے گا جو اہل جہاد میں سے ہوگا اسے باب الجہاد سے پکارا جائے گا جو اہل صیام سے ہوگا اسے باب الریان سے پکارا جائے گا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ویسے ضرورت تو کوئی نہیں لیکن کیا کسی آدمی کو سارے دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَصَدَّقَ مِنْ طَيِّبٍ تَقَبَّلَهَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَخَذَهَا بِيَمِينِهِ وَرَبَّاهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَصِيلَهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَصَدَّقُ بِاللُّقْمَةِ فَتَرْبُو فِي يَدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ فِي كَفِّ اللَّهِ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ فَتَصَدَّقُوا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے اور انسان ایک لقمہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک لقمہ پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے اس لئے خوب صدقہ کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ مُوسَى لِآدَمَ يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي أَدْخَلْتَ ذُرِّيَّتَكَ النَّارَ فَقَالَ آدَمُ يَا مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ فَهَلْ وَجَدْتَ أَنِّي أَهْبِطُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَحَجَّهُ آدَمُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام میں مباحثہ ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم ! آپ ہی وہ ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو جہنم میں داخل کرا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ! اللہ نے تمہیں اپنی رسالت اور اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا اور تم پر تورات نازل فرمائی کیا تم نے مجھے بھی زمین پر اترا ہوا دیکھا؟ انہوں نے کہا جی ہاں اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال انجام دیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلشُّونِيزِ عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا السَّامَ يُرِيدُ الْمَوْتَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ قَالَ مَعْمَرٌ وَقَالَ غَيْرُ سُهَيْلٍ وَتُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا إِلَّا الْمُتَشَاحِنَيْنِ يَقُولُ اللَّهُ لِلْمَلَائِكَةِ ذَرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں (دوسری روایت کے مطابق اعمال پیش کیے جاتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ قَالُوا فَمَنْ الشَّدِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٍپہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ پھر پہلوان کون ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے فرمایا جہاد فی سبیل اللہ سائل نے پوچھا کہ اس کے بعد فرما یا حج مبرور۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ لَا تَكَادُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ بُشْرَى مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرُّؤْيَا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں مؤمن کا خواب جھوٹا نہیں ہوا کرے گا اور تم میں سے سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہو گا جو بات کا سچا ہو گا اور خواب کی تین قسمیں ہیں اچھے خواب تو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں بعض خواب انسان کا تخیل ہوتے ہیں اور بعض خواب شیطان کی طرف سے انسان کو غمگین کرنے کے لئے ہوتے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے نا پسند ہو تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنا شروع کردے۔
-
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خواب میں قید کا دکھائی دینا پسند ہے لیکن بیڑی نا پسند ہے کیونکہ قید کی تعبیر دین میں ثابت قدمی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھپالیسواں جز ہے
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ حَسَّانَ قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي أَيَّدَكَ اللَّهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ فَقَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ
سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک حلقے کے لوگوں سے جن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے فرمایا اے ابوہریرہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری طرف سے جواب دو اللہ روح القدس کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی ہاں بخدا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہیے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ قَالَ فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ فَقَالَ أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَهْ قَالَ ثُمَّ الْمَوْتُ قَالَ فَالْآنَ فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنْ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملک الموت کو حضرت موسی علیہ السلام کے پاس جب ان کی روح قبض کرنے کے لئے بھیجا گیا اور وہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت موسی علیہ السلام نے ایک طمانچہ مارا ان کی آنکھ پھوٹ گئی وہ پروردگار کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آ گئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہو جائے گا حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا فرمایا پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی پھر حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی کہ انہیں ایک پتھر پھینکنے کی مقدار کے برابر بیت المقدس کے قریب کردے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کی جانب ایک سرخ ٹیلے کے نیچے حضرت موسی علیہ السلام کی قبر دکھاتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ لِي الزُّهْرِيُّ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ قَالَ الزُّهْرِيُّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ فَقَالَ إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا مَا عُذِّبَهُ أَحَدٌ قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ لِلْأَرْضِ أَدِّي مَا أَخَذْتِ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ أَوْ مَخَافَتُكَ فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر یہ وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلانا پھر اسے خوب باریک کرکے پیسنا اور سمندری ہواؤں میں مجھے بکھیر دینا بخدا اگر اللہ کو مجھ پر قدرت اور دسترس حاصل ہوگئی تو وہ مجھے ایسی سزا دے گا کہ مجھ سے پہلے کسی کو نہ دی ہوگی۔ اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ تونے اس کے جتنے حصے وصول کئے ہیں سب کو واپس کر اسی لمحے وہ بندہ پھر اپنی شکل وصورت میں کھڑا ہوگیا اللہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے اس حرکت پر کس چیز نے برانگیختہ کیا؟ اس نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے خوف نے اللہ نے اس پر اس کی بخشش فرما دی۔
-
قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ قَالَ الزُّهْرِيُّ ذَلِكَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ رَجُلٌ وَلَا يَيْأَسَ رَجُلٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسٌ فَقَالَ الْأَقْرَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنْ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ إِنْسَانًا مِنْهُمْ قَطُّ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا اس وقت مجلس میں اقرع بن حابس تمیمی بھی بیٹھے ہوئے تھے وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی نہیں چوما؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کسی پر رحم نہیں کرتا۔ اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَلِي عِيَالٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بَعِيرًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی چچا زاد بہن ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے لیے پیغام نکاح بھیجا وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ! میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم علیہ السلام نے کبھی اونٹ کی سواری نہیں کی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں آخری جملہ نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ أَوْ أَحَدِهِمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ مِنْ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فخر و تکبراونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون اطمینان بکریوں والوں میں ہوتا ہے اور اہل یمن کا ایمان اور ان کی حکمت بہت عمدہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا وَإِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا وَأْتُمِنُوا فَأَدَّوْا وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا قریش پر ایک حق ہے اور قریش کا تم پر ایک حق ہے جب فیصلہ کریں عدل سے کام لیں جب امین بنائے جائیں تو امانت ادا کریں اور جب ان سے رحم کی بھیک مانگی جائے رحم کریں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعِمَّا لِلْعَبْدِ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ بِحُسْنِ عِبَادَةِ رَبِّهِ وَبِطَاعَةِ سَيِّدِهِ نِعِمَّا لَهُ وَنِعِمَّا لَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی غلام کے لئے کیا ہی خوب ہے کہ اللہ اسے اپنی بہترین عبادت اور اس کے آقا کی اطاعت کے ساتھ موت دے دے کیا ہی خوب ہے کیا ہی خوب ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُصَلِّي بِنَا فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَمَا يَرْفَعُ مِنْ الرُّكُوعِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَمَا يَرْفَعُ مِنْ السُّجُودِ وَإِذَا جَلَسَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَيُكَبِّرُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي صَلَاتَهُ مَا زَالَتْ هَذِهِ صَلَاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا صَلَّيَا خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَذَكَرَا نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے وہ جب کھڑے ہوتے یا رکوع میں جاتے یا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سجدہ میں جانے کا ارادہ کرتے یا ایک سجدہ سے سر اٹھا کر دوسرا سجدہ کرنا چاہتے یا جب قعدہ میں بیٹھتے یا دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تو ہر موقع پر تکبیر کہتےاسی طرح دیگر رکعتوں میں بھی تکبیر کہتے تھے اور جب سلام پھیرتے تو فرماتے کہ بخدا نماز میں میں تم سے سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قریبی مشابہت رکھتا ہوں ان کی نماز بھی ہمیشہ اسی طرح رہی یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُونَ آمِينَ وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام غیر المغضوب علیہم و لا الضالین کہہ لے تو تم اس پر آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے سو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو کہتے تھے اللہم ربنا و لک الحمد
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَقَدْ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَلَكِنْ ائْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَذَكَرَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کھڑی ہوجائے تو تم نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا قَالَ مَعْمَرٌ وَلَمْ يَذْكُرْ سُجُودًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پا لے گویا اس نے پوری نماز پا لی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ أَخُفِّفَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ قَالُوا صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَتَمَّ بِهِمْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اس پر ذوالشمالین بن عبد عمرو جو بنی زہرہ کا حلیف تھے نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں انہیں ادا کیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ أَوْ أَحَدِهِمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص امام بن کر نماز پڑھایا کرے تو ہلکی نماز پڑھایا کرے کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور اہل حاجت سب ہی ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُؤْمِنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے جیسا بنا دے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْجِ الْوَلِيدَ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو اللہم ربنا و لک الحمد کہہ کر یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم وستم سے نجات عطاء فرما اے اللہ قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے کسی چیز کی ایسی اجازت نہیں دی جیسی اپنے نبی کو قرآن کریم ترنم کےساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
-
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَوْصَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ نَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى قَالَ ثُمَّ أَوْهَمَ الْحَسَنُ فَجَعَلَ مَكَانَ الضُّحَى غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے جنہیں میں سفر و حضر میں کبھی نہ چھوڑوں (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتوں کی۔ بعد میں حسن کووہم ہوا تو وہ اس کی جگہ۔ ۔ غسل جمعہ ۔ ۔ کا ذکر کرنے لگے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ عِيَاضٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَيْضًا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هِلَالُ بْنُ أُسَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ بِذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہیے کہ اس برتن کوسات مرتبہ دھوئے ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ نَائِمًا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَأَرَادَ الْوُضُوءَ فَلَا يَضَعْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَصُبَّ عَلَى يَدِهِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَجَدَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّمَا أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ
ابراہیم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے ہوئے دیکھا وہ فرمانے لگے میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اس لئے وضو کر رہا ہوں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَكُمْ قَوْمٌ يَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرلو جن کے چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلْيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَتْ صَنَمًا يَعْبُدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِتَبَالَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کی سرینیں ذوالخلصہ کے گرد حرکت نہ کرنے لگیں ذوالخلصہ ایک بت کا نام ہے جس کی پوجا قبیلہ دوس کے لوگ زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْهَبُ كِسْرَى فَلَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ وَيَذْهَبُ قَيْصَرُ فَلَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے راہ خدا میں ضرور خرچ کروگے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلًا وَإِمَامًا مُقْسِطًا يَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهَا أَحَدٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ بِكُمْ إِذَا نَزَلَ بِكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّكُمْ أَوْ قَالَ إِمَامُكُمْ مِنْكُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہو گی جب حضرت عیسی علیہ السلام تم میں نزول فرمائیں گے اور تمہاری امامت تم ہی میں کا ایک فرد کرے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ مِنْ فَجِّ الرَّوْحَاءِ بِالْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ أَوْ لَيُثَنِّيَهُمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ایسا ضرور ہو گا کہ حضرت عیسی علیہ وسلم مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسُبُّ أَحَدُكُمْ الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ فَإِنَّ الْكَرْمَ هُوَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص زمانے کو برا بھلا نہ کہے کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے اور انگور کو کرم نہ کہا کرو کیونکہ اصل کرم تو مرد مسلم ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ قَالَ يَقُولُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِنْ شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ ابن آم مجھے ایذاء دیتا ہے کہتا ہے کہ زمانے کی تباہی حالانکہ میں ہی زمانے کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی اس کے رات دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور جب چاہوں گا ان دونوں کو اپنے پاس کھینچ لوں گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی شرمگاہ میں آتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرمائے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتُمْ رَجُلًا يَقُولُ قَدْ هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ يَقُولُ اللَّهُ إِنَّهُ هُوَ هَالِكٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنوکہ لوگ تباہ ہوگئے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَابْنُ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ و عَنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا تَغْرُبُ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا تَفْزَعُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا هَذَيْنِ الثَّقَلَيْنِ مِنْ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكَانِ يَكْتُبَانِ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ طَائِرًا وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً فَإِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن سے زیادہ کسی افضل دن پر سورج طلوع یا غروب نہیں ہوتا اور جن و انس کے علاوہ ہر جاندار مخلوق جمعہ کے دن گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہے (کہ کہیں آج ہی کا جمعہ وہ نہ ہو جس میں قیامت قائم ہوگی) جمعہ کے دن مسجد کے ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو درجہ بدرجہ پہلے آنے والے افراد کو لکھتے رہتے ہیں اس آدمی کی طرح جس نے اونٹ پیش کیا پھر جس نے گائے پیش کی پھر جس نے بکری پیش کی پھر جس نے پرندہ پیش کیا پھر جس نے انڈہ پیش کیا اور جب امام آ کر بیٹھ جاتا ہے تو صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهِيَ بَعْدَ الْعَصْرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آ جائے کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے اور وہ عصر کے بعد ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ غُسْلِهَا الْغُسْلُ وَمِنْ حَمْلِهَا الْوُضُوءُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنازہ کو غسل دینے سے غسل دینے والے پر بھی غسل مستحسن ہوتا ہے اور جنازے کو اٹھانے سے وضو کرنا مستحسن ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَاتَّبَعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِثْلَيْ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّى وَلَمْ يَتْبَعْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ مِثْلُ أُحُدٍ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اور جنازے کے ساتھ جائے تو اسے احد پہاڑ کے برابر دو قیراط ثواب ملے گا اور جو شخص نماز تو پڑھ لے لیکن جنازے کے ساتھ نہ جا سکے اسے احد پہاڑ کے برابر ایک قیراط ثواب ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَزْرَقِ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِالسُّوقِ فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَعَابَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَانْتَهَرَهُنَّ فَقَالَ لَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ لَا تَقُلْ ذَلِكَ فَأَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَتُوُفِّيَتْ امْرَأَةٌ مِنْ كَنَائِنِ مَرْوَانَ وَشَهِدَهَا وَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالنِّسَاءِ اللَّاتِي يَبْكِينَ يُطْرَدْنَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ دَعْهُنَّ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ فَإِنَّهُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا وَأَنَا مَعَهُ وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَانْتَهَرَ عُمَرُ اللَّاتِي يَبْكِينَ مَعَ الْجِنَازَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَإِنَّ النَّفْسَ مُصَابَةٌ وَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَإِنَّ الْعَهْدَ حَدِيثٌ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ
محمد بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلمہ بن ازرق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں وہاں سے جنازہ گذرا جس کے پیچھے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے معیوب قرار دے کر انہیں ڈانٹا سلمہ بن ازرق کہنے لگے آپ اس طرح نہ کہیں میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ گواہی دیتا ہوں کہ ایک مرتبہ مروان کے اہل خانہ میں سے کوئی عورت مر گئی عورتیں اکھٹی ہو کر اس پر رونے لگیں مروان کہنے لگا کہ عبد الملک جاؤ اور ان عورتوں کو رونے سے منع کرو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے خود سنا کہ اے ابوعبدالملک رہنے دو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے بھی ایک جنازہ گذرا تھا جس پر رویا جا رہا تھا میں بھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے جنازے کے ساتھ رونے والی عورتوں کو ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب رہنے دو کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور زخم ابھی ہرا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا یہ روایت آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں اس پر وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جس نے ماہ رمضان کے روزے میں بیوی کے قریب جا کر روزہ توڑ دیا تھا حکم دیا کہ ایک غلام آزاد کرے یا دومہینے کے مسلسل روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرِحَ بِصِيَامِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے لیکن روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ ڈھال ہے جس دن تم میں سے کسی شخص کا روزہ ہو اسے اس دن بے تکلفی کی باتیں اور شور و غل نہیں کرنا چاہئے اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں (دومرتبہ) روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ کر اسے اشتباہ میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ جس شخص کے ساتھ ایسا معاملہ ہو تو اسے چاہئے کہ جب وہ قعدہ اخیرہ میں بیٹھے تو سہو کے دو سجدے کرلے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ إِذْ مَرَّ بِهِمَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ خَتَنُ زَيْدِ بْنِ الرَّيَّانِ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ ابْنِ الزَّبَّانِ فَدَعَاهُ نَافِعٌ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ مَعَ الْإِمَامِ أَفْضَلُ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً يُصَلِّيهَا وَحْدَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُهُمْ فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ فِي كُلِّ صَلَاةٍ قُرْآنٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرات کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرات سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرات فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قراءت کریں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے زائد گھاس روکی جا سکے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَإِنَّهُ يَحْلُبُهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَخَذَهَا وَإِلَّا رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے ( اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَخْبَرَنِي أَبُو كَثِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمْ الشَّاةَ أَوْ اللَّقْحَةَ فَلَا يُحَفِّلْهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری اونٹنی کو بیچنا چاہے تو اس کے تھن نہ باندھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِهِ وَلَا تَسْأَلُ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے بیع میں دھوکہ نہ دے کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ نہ کرے کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَسَّعَ عَلَى مَكْرُوبٍ كُرْبَةً فِي الدُّنْيَا وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ كُرْبَةً فِي الْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ فِي الْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْمَرْءِ مَا كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَةً عَلَى جِدَارِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ مَالِي أَرَاكُمْ مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں اپنا شہتیر گاڑنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث لوگوں کے سامنے بیان کی تو لوگ سر اٹھا اٹھا کر انہیں دیکھنے لگے (جیسے انہیں اس پر تعجب ہوا ہو) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں تمہیں اعراض کرتا ہوا دیکھ رہاہوں بخدا میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان مار کر (نافذ کر کے) رہوں گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَأَصَابَتْ بَطْنَهَا فَقَتَلَتْهَا وَأَلْقَتْ جَنِينًا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدِيَتِهَا عَلَى الْعَاقِلَةِ وَفِي جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ فَقَالَ قَائِلٌ كَيْفَ يُعْقَلُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا زَعَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اور اس عورت کو قتل کردیا اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرا ہوا پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے میں قاتلہ کے خاندان والوں پر مقتولہ کی دیت اور اس کے بچے کے حوالے سے ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا اس فیصلے پر ایک شخص نے اعتراض کرتے ہوئے (مسجع کلام میں) کہا کہ اس بچے کی دیت کا فیصلہ کیسے عقل میں آسکتا ہے جس نے کچھ کھایا پیا اور نہ بولا چلایا اس قسم کی چیزوں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے بقول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ وَالْجُبَارُ الْهَدَرُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنویں میں گر کرمرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّكُمْ تَقُولُونَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ الْمُوعِدُ إِنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ لَا يُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ وَمَا بَالُ الْأَنْصَارِ لَا يُحَدِّثُونَ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ وَإِنَّ أَصْحَابِي مِنْ الْمُهَاجِرِينَ كَانَتْ تَشْغَلُهُمْ صَفَقَاتُهُمْ فِي الْأَسْوَاقِ وَإِنَّ أَصْحَابِي مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَتْ تَشْغَلُهُمْ أَرْضُوهُمْ وَالْقِيَامُ عَلَيْهَا وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُعْتَكِفًا وَكُنْتُ أُكْثِرُ مُجَالَسَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْضُرُ إِذَا غَابُوا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا يَوْمًا فَقَالَ مَنْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ حَدِيثِي ثُمَّ يَقْبِضُهُ إِلَيْهِ فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي أَبَدًا فَبَسَطْتُ ثَوْبِي أَوْ قَالَ نَمِرَتِي ثُمَّ قَبَضْتُهُ إِلَيَّ فَوَاللَّهِ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ أَبَدًا ثُمَّ تَلَا إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنْ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى الْآيَةَ كُلَّهَا
عبد الرحمن اعرج رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ علیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بکثرت حدیثیں بیان کرتے ہیں (اللہ کے یہاں سب کے جمع ہونے کا وعدہ ہے اور تم کہتے کہ یہ احادیث مہاجرین صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں روایت نہیں کرتے؟ یا انصار ان احادیث کو کیوں بیان نہیں کرتے؟ تو بات یہ ہے کہ مہاجرین بازاروں اور منڈیوں میں تجارت میں مشغول رہتے اور انصاری صحابہ اپنے اموال و باغات کی خبر گیری میں مصروف رہتے تھے جبکہ میں اکیلا آدمی تھا اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں موجود ہوتا تھا جب وہ غائب ہوتے تھے تو میں حاضر ہوتا تھا جب وہ بھول جاتے تو میں یاد رکھتا تھا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو میری گفتگو ختم ہونے تک اپنی چادر (میرے بیٹھنے کے لئے) بچھادے پھر اسے جسم سے چمٹا لے؟ پھر وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات ہرگز نہ بھولے گا۔ چنانچہ میں نے اپنے جسم پر جو چادراوڑھ رکھی تھی وہ بچھا دی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو مکمل فرمائی تو میں نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس دن کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات بھی سنی اسے کبھی نہیں بھولا۔ اور بخدا اگر کتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں تم سے کبھی ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا پھر انہوں نے ان دو آیتوں کی تلاوت فرمائی جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح دلیلوں اور ہدایت کی باتوں کو چھپاتے ہیں
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَحْنُ أَوَّلُ النَّاسِ دُخُولًا الْجَنَّةَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَدَانَا اللَّهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنْ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي هَدَانَا اللَّهُ لَهُ وَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ غَدًا لِلْيَهُوَدِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم یوں توسب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتناہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (ا تو ار) ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ فَالْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم یوں توسب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتناہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (ا تو ار) ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا الشَّيْطَانُ يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچوکے لگاتا ہے جس کی وجہ سے ہر پیدا ہونے والا بچہ روتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہاالسلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لوکہ میں مریم اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے شر سے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صُلَّحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ لِزَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بَعِيرًا قَطُّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم علیہ السلام نے کبھی اونٹ کی سواری نہیں کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ يَعْنِي الْأَمْعَاءَ فِي النَّارِ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جہنم میں عمرو بن عامرخزاعی کو اپنی آنتیں کھینچتے ہوئے دیکھا ہے یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑنے کا رواج قائم کیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ أَبِي عُرْوَةَ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا قُبِلَ مِنْهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ثُمَّ يَقُولُ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک جانور کے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو؟ یہ حدیث بیان کر کے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو یہ اللہ کی تخلیق ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى عَبْدٍ أَحْيَاهُ حَتَّى بَلَغَ سِتِّينَ أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندے کا عذر پورا کردیتے ہیں جسے اللہ نے ساٹھ ستر سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ اجْتَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَكَعْبٌ فَجَعَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ كَعْبًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَعْبٌ يُحَدِّثُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ الْكُتُبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قاسم بن محمد کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور کعب احبار رحمۃ اللہ علیہ اکٹھے ہوگئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کعب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سناتے اور کعب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سابقہ آسمانی کتابوں کی باتیں سناتے اسی اثناء میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِمِائَةِ امْرَأَةٍ تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَنَسِيَ أَنْ يَقُولَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَأَطَافَ بِهِنَّ قَالَ فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا آج رات میں سو عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا۔ ان میں سے ہر ایک عورت کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو راہ خدا میں جہاد کرےگا۔ اس موقع پر وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے چنانچہ ان کی بیویوں میں سے صرف ایک بیوی کے یہاں ایک نامکمل بچہ پیدا ہوا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو ان کے یہاں حقیقتا سو بیٹے پیدا ہوتے اور وہ سب کے سب راہ خدا میں جہاد کرتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ زمانے کی تباہی کیونکہ میں ہی زمانے کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی اس کے رات دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور جب چاہوں گا ان دونوں کو اپنے پاس کھینچ لوں گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ فَقَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَيَتْبَعُهُ فَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي تَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ قَالَ فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا فَيَتْبَعُونَهُ قَالَ وَيُضْرَبُ جِسْرٌ عَلَى جَهَنَّمَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَبِهَا كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ هَلْ رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ الْمُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنْ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَرْحَمَ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدْ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِنْ مَاءٍ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وَيَبْقَى رَجُلٌ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنْ النَّارِ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَقُولَ فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ فَيَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ يَا رَبِّ قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَقُولَ فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ وَيُعْطِي مِنْ عُهُودِهِ وَمَوَاثِيقِهِ أَنْ لَا يَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا دَنَا مِنْهَا انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا مِنْ الْحِبَرَةِ وَالسُّرُورِ سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَهُ وَقَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا فَإِذَا أُدْخِلَ قِيلَ لَهُ تَمَنَّ مِنْ كَذَا فَيَتَمَنَّى ثُمَّ يُقَالُ تَمَنَّ مِنْ كَذَا فَيَتَمَنَّى حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ فَيُقَالُ لَهُ هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ وَأَبُو سَعِيدٍ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَا يُغَيِّرُ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ قَوْلِهِ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَفِظْتُ مِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا سورج کو دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل نہ ہو دشواری ہوتی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل بھی نہ ہو کوئی دشواری پیش آتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح اپنے رب کا دیدار کروگے۔ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کر کے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے اور جو چاند کو پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہوجائے اور جو بتوں اور شیطانوں کی عبادت کرتا تھا وہ انہی کے ساتھ ہوجائے اور اس میں اس امت کے منافق باقی رہ جائیں گے اللہ تعالیٰ ایسی صورت میں ان کے سامنے آئے گا کہ جس صورت میں وہ اسے نہیں پہچانتے ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب تک ہمارا رب نہ آئے ہم اس جگہ ٹھہرتے ہیں پھر جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئیں گے جسے وہ پہنچانتے ہوں گے اور کہیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں وہ جواب دیں گے بے شک تو ہمارا رب ہے پھر سب اس کےساتھ ہوجائیں گے اور جہنم کی پشت پر پل صراط قائم کیا جائے گا اور سب سے پہلے اس پل صراط سے گزریں گے رسولوں کے علاوہ اس دن کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور رسولوں کی بات بھی اس دن اللہم سلم سلم اے اللہ سلامتی رکھ ہوگی اور جہنم میں سعدان نامی خاردار جھاڑی کی طرح کانٹے ہوں گے کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کانٹوں کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنے بڑے ہوں گے؟ لوگ اپنے اپنے اعمال میں جھکے ہوئے ہوں گے اور بعض مومن اپنے (نیک) اعمال کی وجہ سے بچ جائیں گے اور بعضوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور بعض پل صراط سے گزر کر نجات پا جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرکے فارغ ہوجائیں گے اور اپنی رحمت سے دوزخ والوں میں سے جسے چاہیں گے فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان کو دوزخ سے نکال دیں جہنوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور ان میں سے جس پر اللہ اپنا رحم فرمائیں اور جو لاالہ الا اللہ کہتا ہوگا فرشتے ایسے لوگوں کو اس علامت سے پہچان لیں گے کہ ان کے (چہروں) پر سجدوں کے نشان ہوں گے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ کو ان پر حرام کردیا ہے کہ وہ انسان کے سجدہ کے نشان کو کھائے پھر ان لوگوں کو جلے ہوئے جسم کے ساتھ نکالا جائے گا پھر ان پر آب حیات بہایا جائے گا جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح تروتازہ ہو کر اٹھیں گے کہ جیسے کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ اگ پڑتا ہے پھر ایک شخص رہ جائے گا کہ جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہوگا اور وہ اللہ سے عرض کرے گا اے میرے پروردگار میرا چہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی تپش مجھے جلا رہی ہے وہ دعا کرتا رہے گا پھر اللہ اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمائیں گے کہ میں نے تیرا سوال پورا کردیا تو پھر تو اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا کہ آپ کی عزت کی قسم میں اس کے علاوہ کوئی سوال آپ سے نہیں کروں گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دوزخ سے پھیر دیں گے ( اور جنت کی طرف کردیں گے) پھر کہے گا اے میرے پروردگار مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے تو اللہ اس سے کہیں گے کہ کیا تونے مجھے عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا۔ افسوس ابن آدم تو بڑا وعدہ شکن ہے وہ اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار فرمائیں گے کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو پھر اور تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم میں کچھ اور نہیں مانگوں گا اللہ تعالیٰ اس سے جو چاہیں گے نئے وعدہ کی پختگی کے مطابق عہد و پیمان لیں گے اور اس کو جنت کے دروازے پر کھڑا کردیں گے جب وہ وہاں کھڑا ہوگا تو ساری جنت آگے نظر آئے گی جو بھی اس میں راحتیں اور خوشیاں ہیں سب اسے نظر آئیں گی پھر جب تک اللہ چاہیں گے وہ خاموش رہے گا پھر کہے گا اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کردے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ کیا تونے مجھ سے یہ عہد و پیمان نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا وہ کہے گا اے میرے پروردگار مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہ بنا وہ اسی طرح اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس پڑیں گے جب اللہ تعالیٰ کو ہنسی آجائے گی تو فرمائیں گے جنت میں داخل ہوجا اور جب اللہ اسے جنت میں داخل فرمائیں گے تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ اپنی تمنائیں اور آرزوئیں ظاہر کر۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتوں کی طرف متوجہ فرمائیں گے اور یاد دلائیں گے فلاں چیز مانگ فلاں چیز مانگ جب اس کی ساری آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ یہ نعمتیں بھی لے اور اتنی اور نعمتیں بھی لے لو اس مجلس میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کسی بات میں تبدیلی نہیں کی لیکن جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا کہ ہم نے یہ چیزیں دیں اور اس جیسی اور بھی دیں تو حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ یہ نعمتیں بھی تیری اور اس سے دس گنا زیادہ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے تو یہی یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے کہ ہم نے یہ سب چیزیں دیں اور اتنی ہی اور دیں پھر فرمایا کہ یہ وہ آدمی ہے جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتْ الْجَنَّةُ يَا رَبِّ مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا فُقَرَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَقَالَتْ النَّارُ مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ فَقَالَ لِلنَّارِ أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ وَقَالَ لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا فَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا مَا يَشَاءُ وَأَمَّا النَّارُ فَيُلْقَوْنَ فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ فِيهَا فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ قَطْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا جنت کہنے لگی کہ پروردگار میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا چنانچہ جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس۔ بس بس۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنْ الزِّنَا أَدْرَكَهُ لَا مَحَالَةَ وَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے صغیرہ گناہ کے سب سے زیادہ مشابہہ کوئی چیز نہیں دیکھی بہ نسبت اس کے کہ جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان فرمائی کہ اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے جسے وہ لامحالہ پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے انسان کا نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ يُكْوَى بِهَا جَبِينُهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا حَسِبْتُهُ قَالَ وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا يَرِدُ أَوَّلُهَا عَنْ آخِرِهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ وَإِنْ كَانَتْ غَنَمًا فَكَمِثْلِ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّهَا تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے مال کی زکوۃ ادانہ کرے اس کے سارے خزانوں کو ایک تختے کی صورت میں ڈھال کر جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اس کے بعد اس سے اس شخص کی پیشانی پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے اس کے بعد اسے اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آجائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو اس کا بھی یہی حال ہوگا البتہ وہ اسے سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ قَالَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ يَعْنِي الْوُرُودَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے باوجود جہنم میں داخل ہوجائے الا یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے جہنم میں جاناپڑے (ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اشْتَكَتْ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَنَفِّسْنِي فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنْ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِ جَهَنَّمَ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنْ الْحَرِّ مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھا لیا ہے اللہ نے اسے سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی اسی وجہ سے انتہائی شدید سردی جہنم کے زمہریر کی وجہ سے ہوتی ہے اور شدیدترین گرمی جہنم کی تپش کا ہی اثر ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا الْإِيمَانُ يَمَانٍ الْفِقْهُ يَمَانٍ الْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سورت نصر نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَكَانَ مَعْمَرٌ يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ فَقِيرٍ أَوْ غَنِيٍّ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ قَالَ مَعْمَرٌ وَبَلَغَنِي أَنَّ الزُّهْرِيَّ كَانَ يَرْوِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ ہر اس شخص پر جو آزاد ہو یا غلام مرد ہو یا عورت۔ بچہ ہو یا بوڑھا تنگدست ہو یا مالدار صدقہ فطر کے طور پر ایک صاع کھجور یا نصف صاع گندم ادا کرنا واجب ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ أَبَدًا لَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ وَفِي صَلَاةِ الضُّحَى وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) چاشت کی نماز کی (٣) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ ثُمَّ جَاءَ بِهِ قَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوفًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکا کر لائے اور اس کی گرمی سردی سے بچانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر کھانا تھوڑا ہو تو ایک دو لقمے ہی اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَسْبُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو دھوکہ نہ دو بغض نہ رکھو قطع تعلقی نہ کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے اس پر ظلم نہیں کرتا اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا اس کی تحقیر نہیں کرتا تقویٰ یہاں ہوتا ہے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا کسی مسلمان کے شر کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان مال اور عزت و آبرو قابل احترام ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو میں ابوالقاسم ہوں صلی اللہ علیہ وسلم۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَذَلِكَ الرِّبَاطُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے؟ طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹاھنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہ سرحدوں کی حفاظت کرنے کی طرح ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْثِرْ وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہئے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ مِنْ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَشُكَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی بغیر شک کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا لِثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام دوسرے میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يُسَايِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عُنُقِهَا نَعْلٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کے پاس سے گذرتے ہوئے اسے دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لیے جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا جا رہا ہے اور اونٹ کی گردن میں جوتی پڑی ہوئی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِمَا وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا فَقُلْتُ لِمَالِكٍ أَمَا يُكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الْعَتَمَةَ قَالَ هَكَذَا قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور صف اول میں نماز کا کیا ثواب ہے (اور پھر انہیں یہ چیزیں۔ قرعہ اندازی کے بغیر حاصل نہ ہو سکیں) تو وہ ان دونوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگیں اور اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جلدی نماز میں آنے کا کتنا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کیا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شرکت کریں خواہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ عَائِشَةَ فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَشُكَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی بغیر شک کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى قُلْتُ لِأَيُّوبَ مَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى قَالَ عَنْ فَضْلِ غِنَاكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِشَرِّ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ النَّارَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ عَذَابٌ مُهِينٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان ستر سال تک نیکو کاروں والے اعمال سر انجام دیتا ہے لیکن جب وصیت کرتا ہے تو اس میں ناانصافی کرتا ہے اس طرح اس کا خاتمہ بدترین عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ دوسرا آدمی ستر سال تک گناہگاروں والے اعمال سر انجام دیتا رہتا ہے لیکن اپنی وصیت میں انصاف سے کام لیتا ہے اس طرح اس کا خاتمہ بہترین عمل پر ہوتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو تلک حدود اللہ الی قولہ عذاب مہین۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَلْجَجَ أَحَدُكُمْ بِالْيَمِينِ فِي أَهْلِهِ فَإِنَّهُ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ الْكَفَّارَةِ الَّتِي أُمِرَ بِهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل خانہ کے متعلق اپنی قسم پر (غلط ہونے کے باوجود) اصرار کرے تو یہ اس کے لئے بارگاہ خداوندی میں اس کفارہ سے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے زیادہ بڑے گناہ کی بات ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ شَيْخٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يُخَيَّرُ فِيهِ الرَّجُلُ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ فَلْيَخْتَرْ الْعَجْزَ عَلَى الْفُجُورِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں انسان کو لاچاری اور فسق و فجور میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا موقع دیا جائے گا جو شخص وہ زمانہ پائے اسے چاہئے کہ لاچاری کو فسق و فجور پر ترجیح دے کر اسی کو اختیار کرلے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي أَبِي أَخْبَرَنَا مِينَاءُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ حِمْيَرَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ الْعَنْ حِمْيَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرَ أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت کیجیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا وہ دوسری جانب سے سامنے آیا اور پھر یہی کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعراض کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ قبیلہ حمیر پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ان کی زبانوں پر سلام اور ہاتھوں میں (دوسروں کے لئے) طعام ہوتا ہے اور یہ امن و ایمان والے لوگ ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَسْتَنْثِرْ وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہئے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكُونُ فِي الرَّمْلِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ خَمْسَةَ أَشْهُرٍ فَيَكُونُ فِينَا النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ فَمَا تَرَى قَالَ عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں چار پانچ مہینے تک مسلسل صحرائی علاقوں میں رہتا ہوں ہم میں حیض و نفاس والی عورتیں اور جنبی مرد بھی ہوتے ہیں (پانی نہیں ملتا) تو آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مٹی کو اپنے اوپر لازم کرلو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ اللَّيْلِ فَلْيَسْتَفْتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تہجد کی نماز کے لئے اٹھے تو اسے چاہئے کہ اسکا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ دُعِيَ فَلْيُجِبْ فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا أَكَلَ وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ وَلْيَدْعُ لَهُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے نہ ہو تو اسے کھا لینا چاہئے اور اگر روزے سے ہو تو ان کے حق میں دعا کرنی چاہئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ الْفَأْرَةُ مَمْسُوخَةٌ بِآيَةِ أَنَّهُ يُقَرَّبُ لَهَا لَبَنُ اللِّقَاحِ فَلَا تَذُوقُهُ وَيُقَرَّبُ لَهَا لَبَنُ الْغَنَمِ فَتَشْرَبُهُ أَوْ قَالَ فَتَأْكُلُهُ فَقَالَ لَهُ كَعْبٌ أَشَيْءٌ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفَنَزَلَتْ التَّوْرَاةُ عَلَيَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چوہا ایک مسخ شدہ قوم ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے؟ کعب احبار رحمۃ اللہ علیہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے کہا کہ کیا مجھ پر تورات نازل ہوئی ہے؟
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دباء اور مزفت حنتم اور نقیر نامی برتنوں سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَخْبَرَنِي أَبُو كَثِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور ایک انگور۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا وَجَعَلَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حِمًى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیاہے اس لئے اگر میں مدینہ منورہ میں ہرنوں کو دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے آس پاس بارہ میل کی جگہ کو چرا گاہ قرار دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلَمْ يُؤَدِّ حَقَّهُ جُعِلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُهُ حَتَّى يَضَعَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَلَا يَزَالُ يَقْضِمُهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس مال و دولت ہو اور وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو قیامت کے دن اس مال کو گنجا سانپ جس کے منہ میں دو دھاریں ہوں گی بنا دیا جائے گا اور وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر اسے چبانے لگا اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک بندوں کے درمیان فیصلہ شروع نہ ہوجائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِهِ فَلَمَّا فَرَغَ حَمَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَاتِقِهِ فَسَالَ لُعَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَإِذَا تَمْرَةٌ فِي فِيهِ فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صدقہ کی کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب انہیں تقسیم کرکے فارغ ہوئے تو امام حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کجھور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر ان کے منہ میں سے وہ کجھور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُسْتَأْمَرُ الثَّيِّبُ وَتُسْتَأْذَنُ الْبِكْرُ قَالُوا وَمَا إِذْنُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تَسْكُتُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہر دیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کنواری لڑکی شرماتی ہے) تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی کی علامت ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ كَذَا قَالَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ وَذَكَرَ حَدِيثَ الْفَزَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَلَدَتْ امْرَأَتِي غُلَامًا أَسْوَدَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ إِبِلٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَا أَلْوَانُهَا قَالَ حُمْرٌ قَالَ أَفِيهَا أَوْرَقُ قَالَ نَعَمْ فِيهَا ذَوْدٌ وُرْقٌ قَالَ مِمَّ ذَاكَ تَرَى قَالَ مَا أَدْرِي لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهَا عِرْقٌ قَالَ وَهَذَا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنوفزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بچے کا نسب خود ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آ گیا؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لو کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے نسب کی نفی کرنے کی اجازت نہیں دی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً
امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی نے ہمیں یہ حدیث سنائی جبکہ ہم حضرت سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پئے تو پھر کوڑے مارو سہ بارہ پیئے تو پھر کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پیئے تو اسے قتل کردو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَمَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَوْتَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہاہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغوکام کیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پا لے گویا اس نے پوری نماز پا لی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي الْأَغَرُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ جَلَسَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ كُلَّ مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَتْ الْمَلَائِكَةُ الصُّحُفَ وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّكْرَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر بیٹھ جاتے ہیں اور جمعہ میں آنے والوں کا اندراج کرتے جاتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو وہ صحیفے لپیٹ کر مسجد میں ذکر سننے کے لئے داخل ہوجاتے ہیں
-
قَالَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي شَاةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي حَسِبْتُهُ قَالَ بَيْضَةً حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَشُكَّ فِي الْبَيْضَةِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ نَحْوَهُ
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے جمعہ کے لئے آنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے اونٹ پیش کیا پھر جس نے گائے پیش کیا پھر جس نے بکری پیش کی پھر جس نے مرغی کو پیش کیا پھر جس نے انڈہ پیش کیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً وَأَشَارَ بِكَفِّهِ كَأَنَّهُ يُقَلِّلُهَا لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بر سر منبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آ جائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر ہونا بیان فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میت کو غسل دینے سے غسل دینے والا بھی غسل کرلے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میت کو غسل دینے سے غسل دینے والا بھی غسل کرلے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً عَجَّلْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ وَإِنْ كَانَتْ طَالِحَةً اسْتَرَحْتُمْ مِنْهَا وَوَضَعْتُمُوهَا عَنْ رِقَابِكُمْ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ أَبِي وَخَالَفَهُمَا يُونُسُ وَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفا اور مرفوعا دونوں طرح مروی ہے کہ جنازے کو لے جانے میں جلدی سے کام لیا کرو کیونکہ اگر میت نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار کر راحت حاصل کر رہے ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ انْتَظَرَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَلَهُ قِيرَاطَانِ وَالْقِيرَاطَانِ مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور دو قیراط دو عظیم پہاڑوں کے برابر ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ لِأَصْحَابِهِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ فَصَفُّوا خَلْفَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی موت کی اطلاع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دی حالانکہ وہ خود مدینہ منورہ میں تھے چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَسْجُدُ فِيهَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا يَعْنِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ
ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم چاند کو دیکھ لو تو روزہ رکھ لو اور جب چاند دیکھ لو تو عید الفطر منا لو اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزے رکھو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَجَّلَ شَهْرُ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَيَأْتِي ذَلِكَ عَلَى صِيَامِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي أُنَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ ذُكِرَ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِيهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَاه عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي أَنَسٍ فَذَكَرَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے عشرہ اخیرہ میں ہمیشہ اعتکاف فرماتے تھے (اوریہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ وَاقَعْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَجِدُ رَقَبَةً قَالَ لَا قَالَ أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ لَا أَجِدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرْقٍ وَالْعَرْقُ الْمِكْتَلُ فِيهِ تَمْرٌ قَالَ اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهَا فَقَالَ عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے ہلاک کردیا؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرلیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کر دو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکرا آیا جس میں کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلادو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھا لیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُوَاصِلُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي قَالَ فَلَمْ يَنْتَهُوا عَنْ الْوِصَالِ فَوَاصَلَ بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ كَالْمُنَكِّلِ بِهِمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے مت رکھا کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ تو اس طرح تسلسل کےساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے لیکن لوگ اس سے باز نہ آئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن اور دو راتوں تک وصال فرمایا پھر لوگوں کو چاند نظر آ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا اگر چاند ابھی نظر نہ آتا تو میں مزید وصال کرتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے لیکن پختہ حکم نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے البتہ روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
-
قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ لَقِيتُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَنَعَتَهُ قَالَ رَجُلٌ قَالَ حَسِبْتُهُ قَالَ مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ قَالَ وَلَقِيتُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَنَعَتَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ أُخْرِجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي حَمَّامًا قَالَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ قَالَ فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا فِيهِ لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ خَمْرٌ فَقَالَ لِي خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ فَقِيلَ لِي هُدِيتَ الْفِطْرَةَ وَأَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج کے موقع پر میری ملاقات حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان کرتے ہوئے غالبا یہ فرمایا وہ ایک بکھرے بالوں والے آدمی محسوس ہوئے ان کے سر کے بال گھنگریالے تھے اور وہ قبیلہ شنوءہ کے مرد محسوس ہو رہے تھے اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی میری ملاقات ہوئی اور ان کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ درمیانے قد کے سرخ و سفید رنگ کے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی ابھی حمام سے نکل کر آ رہے ہیں اسی طرح میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی زیارت کی میں نے ان کی ساری اولاد میں ان سے سب سے زیادہ مشابہہ ہوں اس کے بعد میرے پاس دو برتن لائے گئے ن میں سے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی مجھ سے کہا گیا کہ ان میں جیسے چاہیں منتخب کرلیں میں نے دودھ اٹھا کر اسے پی لیا مجھ سے کہا گیا کہ فطرت صحیحہ کی طرف آپ کی رہنمائی ہوئی اگر آپ شراب اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ لَمْ أَدْرِ مَا هُوَ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اللَّهُ أَكْبَرُ سَأَلَ عَنْهَا اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ رِجَالًا سَتَرْتَفِعُ بِهِمْ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يَقُولُوا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَهُ
محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے ان سے کوئی بات پوچھی جس کا مجھے علم نہیں کہ اس نے کیا بات پوچھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کا سوال سن کر کہنے لگے اللہ اکبر اس چیز کے متعلق مجھ سے دو آدمیوں نے پہلے پوچھا تھا اب یہ تیسرا آدمی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کچھ لوگوں پر سوال کی عادت غالب آجائے گی حتی کہ وہ یہ سوال بھی کرنے لگیں گے کہ ساری مخلوق کو تو اللہ نے پیدا کیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنْ النَّارِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ لَيْلَةٍ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ إِلَى الْفَجْرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ میں ہوں حقیقی بادشاہ کون ہے جو تجھ سے مانگے کہ میں اسے عطاء کروں؟ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخشش دوں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَى مِنْكُمْ الصَّلَاةَ فَلْيَأْتِهَا بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص نماز کے لئے آ ئے وہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرے جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرے اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ مَوْلُودٍ وُلِدَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ مِثْلَ الْأَنْعَامِ تُنْتَجُ صِحَاحًا فَتُكْوَى آذَانُهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہربچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک جانور کے یہاں صحیح سالم جانور پیدا ہوتا ہے پھر تم اس کے کانوں میں سوراخ کردیتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنْ الْمَاشِي وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنْ السَّاعِي وَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَعُذْ بِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب فتنوں کا دور دورہ ہوگا اس دور میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا کھڑا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اور جسے کوئی ٹھکانہ یا پناہ گاہ مل جائے اسے چاہئے کہ وہ اس کی پناہ میں چلا جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ تَكُونُ فِتْنَةٌ لَمْ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَعُذْ بِهِ
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا يُرْوَى ذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ أَدْرَكَ مِنْ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بحوالہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پا لے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پا لے اس نے وہ نماز پا لی۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ فَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ سَجْلَ مَاءٍ أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا اور مسجد میں پیشاب کرنا شروع کردیا لوگ جلدی سے اس کی طرف دوڑے یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑ دو تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو مشکل میں ڈالنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے اس کے پیشاب کی جگہ پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ وَيُمْحَى عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ قدم جو نماز کے لئے اٹھتا ہے اس کے بدلے میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہم بھی ان کے ہمراہ کھڑے ہو گئے دوران نماز ایک دیہاتی یہ دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! مجھ پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر رحم فرما اور اس میں کسی کو ہمارے ساتھ شامل نہ فرما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر کر اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تونے وسعت والے اللہ (کی رحمت) کو پابند کردیا۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي أَنْ زَادَ أَمْ نَقَصَ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ کر اسے اشتباہ میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ جس شخص کے ساتھ ایسا معاملہ ہو تو اسے چاہئے کہ جب وہ قعدہ اخیرہ میں بیٹھے تو سہو کے دو سجدے کرلے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ رَبَاحٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ لِلصَّلَاةِ وَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِهِ فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ فَقَالَ لِلنَّاسِ مَكَانَكُمْ فَرَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ صُفُوفٌ فَقَامَ فِي الصَّلَاةِ يَنْطُفُ رَأْسَهُ قَدْ اغْتَسَلَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی اور لوگ صفیں درست کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور چلتے ہوئے اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آیا کہ انہوں نے تو غسل ہی نہیں کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم یہیں رکو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو ہم اسی طرح صفوں میں کھڑے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرما رکھا تھا اور سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ فَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَمَشَقَّتَهُ وَدُخَانَهُ وَمُؤْنَتَهُ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکا کر لائے اور اس کی گرمی سردی سے بچانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر کھانا تھوڑا ہو تو ایک دو لقمے ہی اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھا کر شکر کرنے والا روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کی طرح ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ فِي السَّحُورِ وَالثَّرِيدِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری اور ثرید میں برکت کی دعا فرمائی ہے۔ (ثرید اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں روٹیوں کو ٹکڑے کرکے شوربے میں بھگو دیتے ہیں )
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ الَّذِي يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ مَا فِي بَطْنِهِ لَاسْتَقَاءَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کھڑے ہو کر پانی پینے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کے پیٹ میں کیا جا رہا ہے تو وہ اسی وقت قے کردے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ اللَّيْلِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ بَعْدُ ثُمَّ لِيَقُلْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِاسْمِكَ أَرْفَعُهُ اللَّهُمَّ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ الصَّالِحِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدار ہو پھر اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہے کہ اپنے تہبند ہی سے اپنے بستر کو جھاڑ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کیا چیز اس کے بستر پر آ گئی ہو پھر یوں کہے کہ اے اللہ میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اور آپ کے نام سے ہی اٹھاؤں گا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس کی مغفرت فرمائیے اور اگر بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُمْنَى وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُسْرَى وَلْيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا وَلْيَنْعَلْهُمَا جَمِيعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے نیز یہ بھی فرمایا کہ دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتار دیا کرو (ایسا نہ کیا کرو کہ ایک پاؤں میں جوتی ہو اور دوسرے میں نہ ہو۔ جیسا کہ بعض لوگ کرتے تھے)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ الِاسْتِحْدَادُ وَالْخِتَانُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں (١) زیر ناف بال صاف کرنا۔ (٢) ختنہ کرنا (٣) مونچھیں تراشنا (٤) بغل کے بال نوچنا (٥) ناخن کاٹنا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا يَزَالُ الرِّيحُ تُفِيئُهُ وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ بَلَاءٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزَةِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تُسْتَحْصَدَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ کھیت پر بھی ہمیشہ ہوائیں چل کر اسے ہلاتی رہتی ہیں اور مسلمان پر بھی ہمیشہ مصیبتیں آتی رہتی ہیں اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو خودحرکت نہیں کرتا بلکہ اسے جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ أَوْ قَالَ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مَرَّ بِقَوْمٍ يَتَوَضَّئُونَ مِنْ مَطْهَرَةٍ فَقَالَ أَحْسِنُوا الْوُضُوءَ يَرْحَمْكُمْ اللَّهُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو وضو کر رہے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے وضو خوب اچھی طرح کرو کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے؟
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أُرَاهُ قَالَ عَنْ ضَمْضَمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْتُلَ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْعَقْرَبَ وَالْحَيَّةَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ هَكَذَا حَدَّثَنَا مَا لَا أُحْصِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں یعنی سانپ اور بچھو کو مارا جا سکتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ أَمِينٌ اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور مؤذنین کی مغفرت فرما۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بَعْدَمَا سَلَّمَ فَقَالَ هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ مَعِي آنِفًا قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ مِنْ الْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرات کی ہے؟ لوگوں نے کہا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا؟ اس کے بعد لوگ جہری نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرات کرنے سے رک گئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا خُفِّفَتْ الصَّلَاةُ فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ أَخُفِّفَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ قَالُوا صَدَقَ فَصَلَّى بِهِمْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَرَكَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا سَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر ہی سلام پھیر دیا اس پر جلد باز لوگ نکل گئے اور کہنے لگے کہ نماز کی رکعتیں کم ہوگئیں ادھر ذوالشمالین بن عبد عمرو جو بنی زہرہ کے حلیف تھے نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں انہیں ادا کیا پھر سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لئے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنْ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي أَزَادَ أَمْ نَقَصَ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ کر اسے اشتباہ میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ جس شخص کے ساتھ ایسا معاملہ ہو تو اسے چاہئے کہ جب وہ قعدہ اخیرہ میں بیٹھے تو سہو کے دو سجدے کرلے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آ جائے کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں کوئی حدیث اور اس کی سند موجود نہیں ہے صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے اور حاشیے میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ مسنداحمد کے بعض نسخوں میں یہاں یہ غلطی ہوئی ہے کہ کاتبین نے حدیث نمبر (7489) کی سند کو لے کر اس پر حدیث نمبر (7491) کا متن چڑھا دیا۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْأَجْلَابِ فَمَنْ تَلَقَّى وَاشْتَرَى فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ إِذَا هَبَطَ السُّوقَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر خریداری کرنے سے منع فرمایا ہے جو شخص اس طرح کوئی چیز خریدے تو بیچنے والے کو بازار اور منڈی میں پہنچنے کے بعد اختیار ہوگا (کہ وہ اس بیع کو قائم رکھے یا فسخ کردے )
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اللہ تعالیٰ کی مار ہویہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ قَالَ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مال و دولت کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی تپش شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ أَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتاہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْذَنْ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِمَنْ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ لِمَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ قَالَ صَاحِبٌ لَهُ زَادَ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے کسی چیز کی ایسی اجازت نہیں جی جیسی اپنے نبی کو قرآن کریم ترنم کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ يَقُولُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً يَجْهَرُ فِيهَا ثُمَّ سَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ آنِفًا قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی جہری نماز پڑھائی پھر سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرات کی ہے؟ لوگوں نے کہا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا؟
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُخْبِرُهُمْ قَالَ وَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قُرْآنٌ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَاهُ مِنْكُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرات کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے ) قرات سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرات فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرات کریں گے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُعِنَ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ قَالَ أَبُو السَّائِبِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ قَالَ أَبُو السَّائِبِ فَغَمَزَ أَبُو هُرَيْرَةَ ذِرَاعِي فَقَالَ يَا فَارِسِيُّ اقْرَأْهَا فِي نَفْسِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا يَقُولُ فَيَقُولُ الْعَبْدُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ اللَّهُ حَمِدَنِي عَبْدِي وَيَقُولُ الْعَبْدُ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَيَقُولُ اللَّهُ أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي فَيَقُولُ الْعَبْدُ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ فَيَقُولُ اللَّهُ مَجَّدَنِي عَبْدِي وَقَالَ هَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ قَالَ أَجِدُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ قَالَ يَقُولُ عَبْدِي اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَا كُلٌّ مِنْهُمَا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ وَقَالَا مَالِكِ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا يَقُومُ الْعَبْدُ فَيَقُولُ قَالَ و حَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُهْرَةَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نماز میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے ابوسائب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ بعض اوقات میں امام کے پیچھے بھی تو ہوتا ہوں انہوں نے میرے بازو میں چٹکی بھر کر کہا کہ اے فارسی! اپنے دل میں سورت فاتحہ پڑھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے (اور میرا بندہ جو مانگے گا اسے وہ ملے گا) چنانچہ جب بندہ الحمد للہ رب العلمین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری تعریف بیان کی جب بندہ کہتا ہے الرحمن الرحیم۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری بزرگی یا ثناء بیان کی جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیاجب بندہ ایاک نعبد و ایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کا اجر میرے بندے کے لئے اور میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا اسے وہ ملے گا پھر جب بندہ اھدنا الصراط المستقیم سے آخر تک پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لئے ہے اور جو اس نے مجھ سے مانگا وہ تجھے مل کر رہے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَكِنْ مُحَمَّدٌ نَهَى عَنْهُ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا أَنَا قُلْتُ مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ جُنُبًا فَلْيُفْطِرْ وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ يَحْيَى بْنَ جَعْدَةَ أَخْبَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْقَارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے اس بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت جنابت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم! یہ بات محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بے تکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا رَفَعَ غُصْنَ شَوْكٍ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَغُفِرَ لَهُ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَهَذَا الْحَدِيثُ مَرْفُوعٌ وَلَكِنْ سُفْيَانُ قَصَّرَ فِي رَفْعِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَجُلٌ خَطَبَ امْرَأَةً فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے فرمایا کہ اسے ایک نظر دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے (جس میں مہر مقرر کیے بغیر ایک دوسرے کے رشتے کے تبادلے ہی کو مہر سمجھ لیا جائے ) منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِي مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ ثُمَّ جَاءَ بَنِي حَارِثَةَ فَقَالَ يَا بَنِي حَارِثَةَ مَا أُرَاكُمْ إِلَّا قَدْ خَرَجْتُمْ مِنْ الْحَرَمِ ثُمَّ نَظَرَ فَقَالَ بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری زبانی مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کا درمیانی علاقہ حرم قرار دیا گیا ہے تھوڑی دیر بعد بنوحارثہ کے کچھ لوگ آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے بنوحارثہ میرا خیال ہے کہ تم لوگوں کی رہائش حرم سے باہر نکل رہی ہے پھر تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد فرمایا نہیں تم حرم کے اندر ہی ہوتم حرم کے اندر ہی ہو۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ شِعْرًا يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ قَالَ وَأَبَقَ مِنِّي غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا غُلَامُكَ قُلْتُ هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْتَقْتُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوا تو راستے میں یہ شعر پڑھتا جاتا تھا اگرچہ یہ رات کٹھن اور لمبی ہے لیکن ہے پیاری۔ کیونکہ اسی نے مجھے دارالکفر سے نجات دلائی ہے۔ میرا ایک غلام راستے میں میرے پاس سے بھاگ گیا تھا جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کرلی ابھی میں وہاں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ میرا غلام آ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابوہریرہ! یہ تمہارا غلام ہے میں نے عرض کیا کہ یہ راہ خدا میں آزاد ہے چنانچہ میں نے اسے آزاد کردیا۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب ایمان مدینہ منورہ کی طرف ایسے سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ أَمْسَكَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ مِنْ الْجُوعِ لَمْ تَكُنْ تُطْعِمُهَا وَلَمْ تُرْسِلْهَا فَتَأْكُلَ مِنْ حَشَرَاتِ الْأَرْضِ وَغُفِرَ لِرَجُلٍ نَحَّى غُصْنَ شَوْكٍ عَنْ الطَّرِيقِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا نہ خوداسے کھلایا پلایا اور نہ اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَاءٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَالِدٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَلَمَّا جَاءَ فِي الرَّابِعَةِ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ مِثْلَهُ
حضرت ابومالک اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ واپس بھیجا تھا پھر جب وہ چوتھی مرتبہ آئے تو انہیں رجم کرنے کا حکم دیا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْمَجْلِسَ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَقْعُدَ فَلْيُسَلِّمْ إِذَا قَامَ فَلَيْسَتْ الْأُولَى بِأَوْجَبَ مِنْ الْآخِرَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اسے سلام کرنا چاہئے اور جب کسی مجلس سے جانے کے لئے کھڑا ہونا چاہے تب بھی سلام کرنا چاہئے اور پہلا موقع دوسرے موقع سے زیادہ حق نہیں رکھتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ و قَالَ يَعْنِي عَبْدَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْيَمَامِيُّ عَنْ طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهِينَ بِالرِّجَالِ وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر اور جنگل میں تنہا سفر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَّ آدَمُ مُوسَى فَقَالَ يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي أَخْرَجْتَ النَّاسَ مِنْ الْجَنَّةِ بِذَنْبِكَ وَأَشْقَيْتَهُمْ قَالَ فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِهِ وَكَلَامِهِ فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ كَتَبَهُ اللَّهُ أَوْ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم! آپ نے اپنی معمولی غلطی کی وجہ سے لوگوں کو شرمندہ کیا اور جنت سے نکلوا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنی پیغمبری اور اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے بھی پہلے کرلیا تھا؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ يَعْقُوبَ أَوْ ابْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى عَضَلَةِ سَاقَيْهِ ثُمَّ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ ثُمَّ إِلَى كَعْبَيْهِ فَمَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فِي النَّارِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کا تہبند پنڈلی کی مچھلی تک ہوتا ہے یا نصف پنڈلی تک یا ٹخنون تک پھر جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ لَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے آپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کروبغض نہ رکھو اور بندگان خدا! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ وَفِي مَالِهِ وَفِي وَلَدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مرد و عورت پر جسمانی یا مالی یا اولاد کی طرف سے مستقل پریشانیاں آتی رہتیں ہیں یہاں تک کہ جب وہ اللہ سے ملتا ہے تو اس کا ایک گناہ بھی باقی نہیں ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ قُومُوا فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہوجاؤ کیونکہ موت کی ایک گھبراہٹ ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مال و دولت چھوڑ کر مرے وہ اس کے اہل خانہ کی ملیکت ہے اور جو شخص یتیم بچے چھوڑ جائے ان کی ضرویات میرے ذمے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى بَطْنِهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ لَضِجْعَةٌ مَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک ایسے آدمی پر ہوا جو پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیٹنے کا یہ طریقہ ایسا ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ وَأَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَنَامُ الْعَمَلِ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ حَجٌّ مَبْرُورٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا جہادفی سبیل اللہ عمل کا کوہان ہے سائل نے پوچھا کہ اس کے بعد؟ فرمایا حج مبرور۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھ لو اور جب چاند دیکھ لو تو عید الفطر منا لواگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزے رکھو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا وَشَهِيدًا أَوْ شَهِيدًا وَشَفِيعًا قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ شَكَّ فِيهِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات وخیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَرْيَمَ يَذْكُرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ثُمَّ يُتَوَضَّأَ مِنْهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کہ پھر اس سے وضو کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا مَعَهُ فَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَعْطِنِي يَا مُحَمَّدُ قَالَ فَقَالَ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فَجَذَبَهُ فَخَدَشَهُ قَالَ فَهَمُّوا بِهِ قَالَ دَعُوهُ قَالَ ثُمَّ أَعْطَاهُ قَالَ وَكَانَتْ يَمِينُهُ أَنْ يَقُولَ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے اسی اثناء میں ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے کچھ دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "نہیں استغفر اللہ" یہ سن کر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے پکڑ کر کھینچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جسم پر خراشیں ڈال دیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ کر سزا دینا چاہی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ دے دیا دراصل یہ الفاظ "نہیں استغفر اللہ" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قَسم کے الفاظ تھے۔
-
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ أَرْبَعٍ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے عذاب جہنم سے عذاب قبر سے مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے۔
-
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ قَالَ حَدَّثَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَلَاكَ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مروان بن حکم کو حدیث سناتے ہوئے فرمایا کہ مجھے میرے محبوب ابوالقاسم جو کہ صادق ومصدوق تھے (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ حدیث سنائی ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بے وقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَا أَدْرِي كَمْ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَائِمًا فِي السُّوقِ يَقُولُ يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَحَرَّفَهَا
سالم کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ میں نے کتنی مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بازار میں کھڑے ہو کر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا (قتل قتل)
-
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ بھی ہے وہ صدقہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔
-
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ کیا کرو دھوکہ اور حسد نہ کیا کرو اور بندگان خدا آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي يَعْنِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کے متعلق فرمایا جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے در حقیقت وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان دونوں سے بغض رکھتا ہے درحقیقت وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اپنے اعضاء وضو کو صرف دو دو مرتبہ دھویا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ قَالُوا وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجَارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا بَوَائِقُهُ قَالَ شَرُّهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا بخدا وہ شخص مومن نہیں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ کون؟ فرمایا وہ پڑوسی جس کی ایذا رسانی سے دوسرا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَجْلَانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ بِأُصْبُعِهِ إِلَّا مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ وَابْنَهَا عِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچہ کو شیطان کچوکے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہاالسلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَرَأَى أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَسًا مِنْ رِقَاعٍ فِي يَدِ جَارِيَةٍ فَقَالَ أَلَا تَرَى هَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَعْمَلُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةَ
مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک بچی کے ہاتھ میں کپڑے کا گھوڑا دیکھا تو فرمانے لگے اسے تو دیکھو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے یہ کام وہ کرتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ النَّاسَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ وَيَقُولُ مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى الْقِيَامِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے لیکن پختہ حکم نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو قیام پر جمع نہیں فرمایا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ فُقِدَ سِبْطٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَذَكَرَ الْفَأْرَةَ فَقَالَ أَلَا تَرَى أَنَّكَ لَوْ أَدْنَيْتَ مِنْهَا لَبَنَ الْإِبِلِ لَمْ تَقْرَبْهُ وَإِنْ قَرَّبْتَ إِلَيْهَا لَبَنَ الْغَنَمِ شَرِبَتْهُ فَقَالَ أَكَذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہوگئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گئی؟ میرا تو خیال یہی ہے کہ وہ چوہا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے؟ اس پر کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے کہا کہ کیا میں تورات پڑھتا ہوں؟
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطِّيَرَةُ فِي ثَلَاثٍ فِي الْمَسْكَنِ وَالْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ قَالَ قُلْتُ إِذَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَصْدَقُ الطِّيَرَةِ الْفَأْلُ وَالْعَيْنُ حَقٌّ
محمد بن قیس رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی تین چیزوں میں ہوتی ہے گھر میں۔ گھوڑے میں۔ عورت میں انہوں نے فرمایا اگر میں اثبات میں اس کا جواب دوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات کی نسبت کروں گا جوانہوں نے نہیں فرمائی البتہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے سچا شگون فال ہے اور نظر لگنا برحق ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ سَمِعْتُ أَبَا الْغَادِيَةَ الْيَمَامِيَّ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَجَاءَ رَسُولُ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَدَعَاهُمْ فَمَا قَامَ إِلَّا أَبُو هُرَيْرَةَ وَخَمْسَةٌ مِنْهُمْ أَنَا أَحَدُهُمْ فَذَهَبُوا فَأَكَلُوا ثُمَّ جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَغَسَلَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ يَا أَهْلَ الْمَسْجِدِ إِنَّكُمْ لَعُصَاةٌ لِأَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوغادیہ یمامی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا وہاں کثیر بن صلت کا قاصد آ گیا اس نے وہاں کے لوگوں کی دعوت کی لیکن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ پانچ دوسرے آدمیوں کے علاوہ جن میں سے ایک میں بھی تھا کوئی کھڑا نہ ہوا یہ حضرات چلے گئے اور اس کے یہاں کھانا تناول فرمایا پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آ کر ہاتھ دھوئے اور فرمایا بخدا! تم لوگ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے نافرمان ہو۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا دریائے فرات، دریائے نیل، دریائے جیحون، دریائے سیحون، یہ سب جنت کی نہریں ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَبِيٍّ وَلَا خَلِيفَةٍ أَوْ قَالَ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنْ الْمُنْكَرِ وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا وَمَنْ وُقِيَ شَرَّ بِطَانَةِ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ يَقُولُهَا ثَلَاثًا وَهُوَ مَعَ الْغَالِبَةِ عَلَيْهِ مِنْهُمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی نبی یا حکمران ایسا نہیں ہے کہ اس کے دو قسم کے مشیر نہ ہوں ایک گروہ اسے نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے اور دوسرا گروہ (اس کی بدنصیبی میں اپنا کردار ادا کرنے میں) کوئی کسر نہیں چھوڑتا جو اس برے گروہ کے شر سے بچ گیا وہ محفوظ رہا (تین مرتبہ فرمایا) ورنہ جو گروہ اس پر غالب آ گیا اس کا شمار انہی میں ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَنْشَقَ أَدْخَلَ الْمَاءَ فِي مَنْخِرَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ناک میں پانی ڈالتے تو ناک کے نتھنوں میں پانی داخل کرتے۔
-
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ عَنْ عَمِّهِ حَكِيمِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلطَّاعِمِ الشَّاكِرِ مِثْلُ مَا لِلصَّائِمِ الصَّابِرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھا کر شکر کرنے والے کا ثواب روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کی طرح ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَنْبَغِي لِذِي الْوَجْهَيْنِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی دوغلے آدمی کا امین ہونا ممکن نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ عَنْ طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهِينَ بِالرِّجَالِ وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنْ الرِّجَالِ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا نَتَزَوَّجُ وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ اللَّائِي يَقُلْنَ ذَلِكَ وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ وَقَالَ الْبَائِتُ وَحْدَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر گوشہ نشین مردوں پر جو یہ کہیں کہ وہ شادی نہیں کریں گے اور گوشہ نشین عورتوں پر جو یہی بات کہیں اور جنگل میں تنہا سفر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ بات اتنی محسوس ہوئی کہ اس کے آثار ان کے چہروں سے ظاہر ہونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے رات گذارنے والے کا بھی ذکر فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ وَهْبًا يَقُولُ أَخْبَرَنِي يَعْنِي هَمَّامًا كَذَا قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَنْتَظِرُ الَّتِي بَعْدَهَا وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَسْجِدِهِ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ وَمَا ذَلِكَ الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ إِنْ فَسَا أَوْ ضَرَطَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فر شتے اس کے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بے وضو نہ ہوجائے اس پر حضرموت کے ایک آدمی نے پوچھا اے ابوہریرہ بے وضو ہونے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا اس کی ہوا خارج ہوجائے یا زور سے آواز نکلے۔
-
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَبَّحَ لِي فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ إِنَّ إِذْنَ الرَّجُلِ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ يُسَبِّحَ وَإِنَّ إِذْنَ الْمَرْأَةِ أَنْ تُصَفِّقَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ أَخْبَرَنِي عَوْفٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
یزید بن کیسان رحمتہ اللہ علیہ ایک مرتبہ نماز پڑہ رہے تھے کہ سالم بن ابی الجعد رحمتہ اللہ علیہ نے اندر آنے کی اجازت چاہی انہوں نے سبحان اللہ کہہ دیا سلام پھیرنے کے بعد وہ کہنے لگے اگر مرد نماز پڑھ رہاہو تو اس کی طرف سے سبحان اللہ کہنے کو اجازت سمجھنا چاہئے اور عورت کا تالی بجانا اس کی طرف سے اجازت ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نُهِيَ عَنْ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ قُلْنَا لِهِشَامٍ مَا الِاخْتِصَارُ قَالَ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى خَصْرِهِ وَهُوَ يُصَلِّي قَالَ يَزِيدُ قُلْنَا لِهِشَامٍ ذَكَرَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِرَأْسِهِ أَيْ نَعَمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کو کھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ إِذَا أَمْسَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّهُ حُمَةٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ فَكَانَ أَهْلُنَا قَدْ تَعَلَّمُوهَا فَكَانُوا يَقُولُونَهَا فَلُدِغَتْ جَارِيَةٌ مِنْهُمْ فَلَمْ تَجِدْ لَهَا وَجَعًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شام ہونے پر تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق۔ اس رات اسے کوئی زہریلی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی ہمارے اہل خانہ نے اس دعا کوسیکھ رکھا تھا اور وہ دعاکو پڑھتے تھے اتفاق سے ایک مرتبہ ہماری ایک بچی کو کسی چیز نے ڈس لیا لیکن اسے کسی قسم کا کوئی درد محسوس نہ ہوا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَهِدَ جَنَازَةً سَأَلَ هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ هَلْ لَهُ وَفَاءٌ فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ صَلَّى عَلَيْهِ وَإِنْ قَالُوا لَا قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ اسے ادا کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو پھر اللہ نے فتوحات کا دروازہ کھولا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ میں مؤمنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنِ ابْنِ مِكْرَزٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ وَقَالُوا لِلرَّجُلِ عُدْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ لَمْ يَفْهَمْ فَعَادَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ ثُمَّ عَادَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس کا مقصد دنیاوی ساز و سامان کا حصول ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا لوگوں پر یہ چیز بڑی گراں گذری انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ مسئلہ پوچھو ہو سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات اچھی طرح نہ سمجھ سکے ہوں اس نے دوبارہ وہی سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا اس نے سہ بارہ وہی سوال کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نماز میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے، نامکمل ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ قَالَ قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَ مِصْرِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَوَّلُ شَيْءٍ مِمَّا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ الْمَكْتُوبَةُ فَإِنْ صَلَحَتْ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً فَإِنْ أَتَمَّهَا وَإِلَّا زِيدَ فِيهَا مِنْ تَطَوُّعِهِ ثُمَّ يُفْعَلُ بِسَائِرِ الْأَعْمَالِ الْمَفْرُوضَةِ كَذَلِكَ
انس بن حکیم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو انہیں بتا دینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہوگی اگر وہ صحیح نکل آئی تو بہت اچھا ورنہ نوافل کے ذریعے اس میں اضافہ کیا جائے اس کے بعد دیگر فرض اعمال میں بھی اسی طرح کیا جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَمْحُو الصَّلِيبَ وَتُجْمَعُ لَهُ الصَّلَاةُ وَيُعْطَى الْمَالُ حَتَّى لَا يُقْبَلَ وَيَضَعُ الْخَرَاجَ وَيَنْزِلُ الرَّوْحَاءَ فَيَحُجُّ مِنْهَا أَوْ يَعْتَمِرُ أَوْ يَجْمَعُهُمَا قَالَ وَتَلَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا فَزَعَمَ حَنْظَلَةُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ يُؤْمِنُ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ عِيسَى فَلَا أَدْرِي هَذَا كُلُّهُ حَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے نماز قائم کریں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور روحاء میں پڑاؤ کر کے وہاں سے حج یا عمرے یا دونوں کا احرام باندھیں گے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی اہل کتاب میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے جو ان کی وفات سے قبل ان پر ایمان نہ لے آئے اور وہ قیامت کے دن ان سب پر گواہ ہوں گے حنظلہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یومن کا فاعل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیتے ہیں اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ مکمل حدیث ہے یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش انصار جہینہ مزینہ اسلم غفار اور اشجع نامی قبائل میرے موالی ہیں اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ان کا کوئی مولی نہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ الْمَعْنَى عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ بُيِّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ومَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَكَانَ تَلَاحٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ فَأَتَيْتُهُمَا لِأَحْجِزَ بَيْنَهُمَا فَأُنْسِيتُهُمَا وَسَأَشْدُو لَكُمْ مِنْهُمَا شَدْوًا أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ أَجْلَى الْجَبْهَةِ عَرِيضُ النَّحْرِ فِيهِ دَفَأٌ كَأَنَّهُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَضُرُّنِي شَبَهُهُ قَالَ لَا أَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ امْرُؤٌ كَافِرٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے پاس آنے کے لئے گھر سے نکلا تھا درحقیقت لیلۃ القدر اور مسیح الضلالۃ(دجال) کی تعیین مجھ پر واضح کردی گئی تھی لیکن مسجد کے ایک دروازے کے قریب دو آدمیوں کے درمیان کچھ جھگڑا ہو رہا تھا میں نے ان دونوں کے درمیان معاملہ رفع دفع کرانے کے لئے آیا تو مجھے وہ دونوں چیزیں بھول گئیں البتہ میں تمہیں اس کی علامت کا کچھ اندازہ بتائے دیتا ہوں۔ جہاں تک شب قدر کا تعلق ہے تو تم اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو باقی رہامسیح ضلالت تو وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا کشادہ پیشانی اور چوڑے سینے والا ہوگا اس کے جسم میں کندھے کا جھکاؤ سینہ کی طرف ہوگا اور وہ قطن بن عبد العزی کے مشابہہ ہوگایہ سن کر قطن کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس سے مشابہت میرے لیے نقصان دہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم ایک مسلمان آدمی ہو اور وہ کافر ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَوْنٍ عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ أَعْجَمِيَّةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ عِتْقَ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ اللَّهُ فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِإِصْبَعِهَا السَّبَّابَةِ فَقَالَ لَهَا مَنْ أَنَا فَأَشَارَتْ بِإِصْبَعِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ أَيْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَعْتِقْهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سیاہ فام عجمی لونڈی لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ذمے ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا واجب ہے (کیا میں اسے آزاد کرسکتا ہوں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باندی سے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اس نے اپنی شہادت والی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا میں کون ہوں؟ اس نے اپنی انگلی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور آسمان کی طرف اشارہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کر دو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ النَّاسُ بِهِ النَّارَ فَقَالَ الْأَجْوَفَانِ الْفَمُ وَالْفَرْجُ وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ بِهِ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُسْنُ الْخُلُقِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم میں کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ کثرت سے داخل کرے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو جوف دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ پھر سوال ہوا کہ جنت میں کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ کثرت سے لے جائے گی؟ تو فرمایا حسن اخلاق۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ النَّاسُ التَّعْيِيرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ وَالْأَنْوَاءُ وَأَجْرَبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائَةً مَنْ أَجْرَبَ الْبَعِيرَ الْأَوَّلَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے حسب نسب میں عار دلانا میت پر نوحہ کرنا بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور بیماری کو متعدی سمجھنا ایک اونٹ خارش زدہ ہوا اور اس نے سو اونٹوں کو خارش میں مبتلا کردیا تو پہلے اونٹ کو خارش زدہ کس نے کیا؟
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُولُوا لِحَائِطِ الْعِنَبِ الْكَرْمَ فَإِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُؤْمِنُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انگور کے باغ کو کرم نہ کہا کرو کیونکہ اصل کرم تو مرد مومن ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ أَبَا قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُبَايَعُ لِرَجُلٍ مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا يُسْأَلُ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا وَهُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں۔ پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ وہ کبھی آباد نہ ہو سکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ سَكْرَانَ فِي الرَّابِعَةِ فَخَلَّى سَبِيلَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پئے تو پھر کوڑے مارو سہ بارہ پیئے تو پھر کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پیئے تو قتل کردو امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب نوشی کی تھی تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا راستہ چھوڑ دیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَأْتِي عَلَى النَّاسِ سِنُونَ خَدَّاعَةٌ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ السَّفِيهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب لوگوں پر ایسے سال آئیں گے جو دھوکے کے سال ہوں گے ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گاخائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا اور اس میں رویبضہ کلام کرے گا کسی نے پوچھا کہ روبیضہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا بیوقوف آدمی بھی عوام کے معاملات میں بولنا شروع کردے گا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَإِسْرَافِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا فرمایا کرتے تھے اے اللہ میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر سب گناہوں اور حد تجاوز کرنے کو معاف فرما اور ان گناہوں کو بھی معاف فرما جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ لَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا وَلَا تَتْبَعُونِي بِمِجْمَرٍ وَأَسْرِعُوا بِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السُّوءُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ يَا وَيْلَهُ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي
عبد الرحمن بن مہران رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو فرمانے لگے مجھ پر کوئی خیمہ نہ لگانا میرے ساتھ آگ نہ لے کر جانا اور مجھے جلدی لے جانا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کسی نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے جلدی آگے بھیجو مجھے جلدی آگے بھیجو اور اگر کسی گناہگار آدمی کوچارپائی پر رکھاجائے تو وہ کہتا ہے ہائے افسوس مجھے کہاں لیے جاتے ہو؟
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ مِنْ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا عَلَيْهِمَا السَّلَام
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیداہونے والے بچے کو شیطان اپنی انگلی سے کچوکے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہاالسلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ مِمَّنْ حَوْلَ الْمَسْجِدِ لَا يَشْهَدُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي الْجَمِيعِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُيُوتِهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد کے اردگرد رہنے والے جو لوگ نماز عشاء میں نہیں آتے وہ نماز ترک کرنے سے باز آجائیں ورنہ میں ان کے گھروں کے پاس لکڑیوں کے گٹھے جمع کرکے انہیں آگ لگا دوں گا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيَتْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فِي رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَهَا أُمَّةٌ قَبْلَهُمْ خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَتَسْتَغْفِرُ لَهُمْ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُفْطِرُوا وَيُزَيِّنُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ جَنَّتَهُ ثُمَّ يَقُولُ يُوشِكُ عِبَادِي الصَّالِحُونَ أَنْ يُلْقُوا عَنْهُمْ الْمَئُونَةَ وَالْأَذَى وَيَصِيرُوا إِلَيْكِ وَيُصَفَّدُ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ فَلَا يَخْلُصُوا إِلَى مَا كَانُوا يَخْلُصُونَ إِلَيْهِ فِي غَيْرِهِ وَيُغْفَرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ قَالَ لَا وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو رمضان میں پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے افطار تک فرشتے ان کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ روزانہ جنت کو مزین فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ عنقریب میرے نیک بندے اپنے اوپر سے محنت و تکلیف کو اتار پھینکیں گے اور تیرے پاس آئیں گے اس مہینے میں سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ لہٰذا غیر رمضان میں انہیں جو آزادی حاصل ہوتی ہے وہ اس میہنے میں نہیں ہوتی اور ماہ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی بخشش کردی جاتی ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہی شب قدرہے ؟ فرمایا نہیں البتہ بات یہ ہے کہ جب مزدور اپنی مزدوری پوری کرلے تو اسے اس کی تنخواہ پوری پوری دے دی جاتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً فَعَوَّضَهُ سِتَّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ فُلَانًا أَهْدَى إِلَيَّ نَاقَةً وَهِيَ نَاقَتِي أَعْرِفُهَا كَمَا أَعْرِفُ بَعْضَ أَهْلِي ذَهَبَتْ مِنِّي يَوْمَ زَغَابَاتٍ فَعَوَّضْتُهُ سِتَّ بَكَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوان اونٹ کا ہدیہ پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھ جوان اونٹ عطا فرمائے لیکن وہ اس پر بھی ناخوش رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ فلاں آدمی نے مجھے اونٹ ہدیہ کے طور پر دیا حالانکہ وہ میرا ہی اونٹ تھا اور میں اسے اسی طرح پہنچاتا تھا جیسے اپنے کسی گھر والے کو پہچانتا ہوں یوم زغابات کے موقع پر وہ میرے ہاتھ سے نکل گیا تھا (لیکن پھر بھی میں نے اسے قبول کرلیا) اور اسے چھ جوان اونٹ دیئے تاہم وہ اس پر بھی ناخوش ہے میں تو یہ ارادہ کر رہا ہوں کہ آئندہ کسی شخص سے ہدیہ قبول نہ کروں سوائے اس کے جو قریش یا انصار یا ثقیف یا دوس سے تعلق رکھتا ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ يَزُورُ أَخًا لَهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا مَرَّ بِهِ قَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أُرِيدُ فُلَانًا قَالَ لِقَرَابَةٍ قَالَ لَا قَالَ فَلِنِعْمَةٍ لَهُ عِنْدَكَ تَرُبُّهَا قَالَ لَا قَالَ فَلِمَ تَأْتِيهِ قَالَ إِنِّي أُحِبُّهُ فِي اللَّهِ قَالَ فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ أَنَّهُ يُحِبُّكَ بِحُبِّكَ إِيَّاهُ فِيهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے جو دوسری بستی میں رہتا تھا روانہ ہوا اللہ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جب وہ فرشتے کے پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ فلاں آدمی سے ملاقات کے لئے جا رہا ہوں فرشتے نے پوچھا کیا تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا کہ کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جسے تم پال رہے ہو؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا پھر تم اس کے پاس کیوں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا کہ میں اللہ کے پاس سے تیری طرف قاصد بن کر آیا ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ فَرْقَدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَكْذَبُ النَّاسِ أَوْ مِنْ أَكْذَبِ النَّاسِ الصَّوَّاغُونَ وَالصَّبَّاغُونَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑھ کر جھوٹے لوگ رنگریز اور زرگر ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ فَلْيَقْبَلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ بن مانگے کچھ مال و دولت عطا فرما دے تو اسے قبول کرلینا چاہئے کیونکہ یہ رزق ہے جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ مامون ہے اور جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ بھی مامون ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہے تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ قَالَ أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ أَبُو بَنِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِتِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ حَدِيثًا ثُمَّ أَتَمَّهَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَامَ مِائَةِ حَدِيثٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لذتوں کو توڑنے والی چیز موت کا تذکرہ کثرت سے کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْمُنَافِقِينَ عَلَامَاتٍ يُعْرَفُونَ بِهَا تَحِيَّتُهُمْ لَعْنَةٌ وَطَعَامُهُمْ نُهْبَةٌ وَغَنِيمَتُهُمْ غُلُولٌ وَلَا يَقْرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هَجْرًا وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دَبْرًا مُسْتَكْبِرِينَ لَا يَأْلَفُونَ وَلَا يُؤْلَفُونَ خُشُبٌ بِاللَّيْلِ صُخُبٌ بِالنَّهَارِ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً سُخُبٌ بِالنَّهَارِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا منافقین کی کچھ علامات ہوتی ہیں جن کے ذریعہ انہیں پہچاناجاتا ہے ان کا سلام لعنت (کے الفاظ پر مشتمل) ہوتا ہے ان کا کھانا لوٹ مار کا ہوتا ہے ان کا مال غنیمت خیانت کا ہوتا ہے وہ مساجد کے قریب رہ کر بھی دور ہوتے ہیں نماز کے لئے آتے ہوئے بھی اس سے پیٹھ پھیر رہے ہوتے ہیں متکبر ہوتے ہیں نہ کسی سے الفت کرتے ہیں اور نہ کوئی ان سے الفت کرتا ہے رات میں بانس اور دن میں شور و شغب ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبِي وَأَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الْمَعْنَى أَنَّ النَّاسَ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ فَيَتْبَعُ مَنْ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ وَيَتْبَعُ مَنْ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ وَيَتْبَعُ مَنْ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا شَافِعُوهَا أَوْ مُنَافِقُوهَا قَالَ أَبُو كَامِلٍ شَكَّ إِبْرَاهِيمُ فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا فَيَتَّبِعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَفِي جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ هَلْ رَأَيْتُمْ السَّعْدَانَ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ أَوْ قَالَ الْمُوثَقُ بِعَمَلِهِ أَوْ الْمُخَرْدَلُ وَمِنْهُمْ الْمُجَازَى قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ شَكَّ إِبْرَاهِيمُ وَمِنْهُمْ الْمُخَرْدَلُ أَوْ الْمُجَازَى ثُمَّ يَتَجَلَّى حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنْ النَّارِ مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ يَعْرِفُونَهُمْ بِأَثَرِ السُّجُودِ تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ قَدْ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ الْحَبَّةُ أَيْضًا فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنْ النَّارِ فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي دُخَانُهَا فَيَدْعُو اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَهُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فُعِلَ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُ غَيْرَهُ وَيُعْطِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ مَا شَاءَ فَيَصْرِفُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَآهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَيْ رَبِّ قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَ مَا أَعْطَيْتُكَ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ فَيَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَقُولَ لَهُ فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُ غَيْرَهُ فَيُعْطِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا شَاءَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا قَامَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَرَأَى مَا فِيهَا مِنْ الْحَبْرَةِ وَالسُّرُورِ فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَ مَا أَعْطَيْتُكَ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ مِنْهُ فَإِذَا ضَحِكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ قَالَ ادْخُلْ الْجَنَّةَ فَإِذَا دَخَلَهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ تَمَنَّهْ فَيَسْأَلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَتَمَنَّى حَتَّى إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُذَكِّرُهُ يَقُولُ مِنْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا حَتَّى إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا حَفِظْتُ إِلَّا قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ فِي ذَلِكَ الرَّجُلِ لَكَ عَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا سورج کو دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل بھی نہ ہو دشواری پیش آتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح اپنے رب کا دیدار کروگے اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرکے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے اور جو چاند کو پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہوجائے اور جو بتوں اور شیطانوں کی عبادت کرتا تھا وہ انہی کے ساتھ ہوجائے اور اس میں اس امت کے منافق باقی رہ جائیں گے اللہ تعالیٰ ایسی صورت میں ان کے سامنے آئے گا کہ جس صورت میں وہ اسے نہیں پہچانتے ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں پھر وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب تک ہمارا رب نہ آئے ہم اس جگہ ٹھہرتے ہیں پھر جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئیں گے جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور کہیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں وہ جواب دیں گے بے شک تو ہمارا رب ہے پھر سب اس کےساتھ ہوجائیں گے اور جہنم کی پشت پر پل صراط قائم کیا جائے گا اور سب سے پہلے اس پل صراط سے گزریں گے رسولوں کے علاوہ اس دن کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور رسولوں کی بات بھی اس دن اللہم سلم سلم اے اللہ سلامتی رکھ ہوگی اور جہنم میں سعدان نامی خار دار جھاڑی کی طرح کانٹے ہوں گے کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کانٹوں کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنے بڑے ہوں گے؟ لوگ اپنے اپنے اعمال میں جھکے ہوئے ہوں گے اور بعض مومن اپنے (نیک) اعمال کی وجہ سے بچ جائیں گے اور بعضوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور بعض پل صراط سے گزر کر نجات پا جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرکے فارغ ہوجائیں گے اور اپنی رحمت سے دوزخ والوں میں سے جسے چاہیں گے فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان کو دوزخ سے نکال دیں جہنوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور ان میں سے جس پر اللہ اپنا رحم فرمائیں اور جو لاالہ الا اللہ کہتا ہوگا فرشتے ایسے لوگوں کو اس علامت سے پہچان لیں گے کہ ان کے ( چہروں) پر سجدوں کے نشان ہوں گے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ کو ان پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انسان سجدہ کے نشان کو کھائے پھر ان لوگوں کو جلے ہوئے جسم کے ساتھ نکالا جائے گا پھر ان پر آب حیات بہایا جائے گا جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح تروتازہ ہو کر اٹھیں گے کہ جیسے کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ اگ پڑتا ہے پھر ایک شخص رہ جائے گا کہ جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہوگا اور وہ اللہ سے عرض کرے گا اے میرے پروردگار میرا چہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی تپش مجھے جلا رہی ہے وہ دعا کرتا رہے گا پھر اللہ اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمائیں گے کہ اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کر دیا تو پھر تو اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا کہ آپ کی عزت کی قسم میں اس کے علاوہ کوئی سوال آپ سے نہیں کروں گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دوزخ سے پھیر دیں گے (اور جنت کی طرف کردیں گے) پھر کہے گا اے میرے پروردگار مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے تو اللہ اس سے کہیں گے کہ کیا تونے مجھے عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا۔ افسوس ابن آدم تو بڑا وعدہ شکن ہے وہ اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار فرمائیں گے کہ اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو پھر اور تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم میں کچھ اور نہیں مانگوں گا اللہ تعالیٰ اس سے جو چاہیں گے نئے وعدہ کی پختگی کے مطابق عہد و پیمان لیں گے اور اس کو جنت کے دروازے پر کھڑا کردیں گے جب وہ وہاں کھڑا ہوگا تو ساری جنت آگے نظر آئے گی جو بھی اس میں راحتیں اور خوشیاں ہیں سب اسے نظر آئیں گی پھر جب تک اللہ چاہیں گے وہ خاموش رہے گا پھر کہے گا اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کردے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ کیا تونے مجھ سے یہ عہد و پیمان نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا وہ کہے گا اے میرے پروردگار مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہ بنا وہ اسی طرح اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس پڑیں گے جب اللہ تعالیٰ کو ہنسی آ جائے گی تو فرمائیں گے جنت میں داخل ہوجا اور جب اللہ اسے جنت میں داخل فرمائیں گے تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ اپنی تمنائیں اور آرزوئیں ظاہر کر۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتوں کی طرف متوجہ فرمائیں گے اور یاد دلائیں گے فلاں چیز مانگ فلاں چیز مانگ جب اس کی ساری آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ یہ نعمتیں بھی لے اور اتنی اور نعمتیں بھی لے لو اس مجلس میں حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کسی بات میں تبدیلی نہیں کی لیکن جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا کہ ہم نے یہ چیزیں دیں اور اس جیسی اور بھی دیں تو حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ یہ نعمتیں بھی تیری اور اس سے دس گنا زیادہ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے تو یہی یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے کہ ہم نے یہ سب چیزیں دیں اور اتنی ہی اور دیں پھر فرمایا کہ یہ وہ آدمی ہے جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَبِي وَهَذَا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيِّ حَلِيفِ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رَهْطٍ عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَّةِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ فَنَفَرُوا لَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمْ التَّمْرَ فِي مَنْزِلٍ نَزَلُوهُ قَالُوا نَوَى تَمْرِ يَثْرِبَ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ فَلَمَّا أُخْبِرَ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ فَأَحَاطَ بِهِمْ الْقَوْمُ فَقَالُوا لَهُمْ انْزِلُوا وَأَعْطُونَا بِأَيْدِيكُمْ وَلَكُمْ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمِيرُ الْقَوْمِ أَمَّا أَنَا وَاللَّهِ لَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةٍ وَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَلَمَّا تَمَكَّنُوا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ وَاللَّهِ لَا أَصْحَبُكُمْ إِنَّ لِي بِهَؤُلَاءِ لَأُسْوَةً يُرِيدُ الْقَتْلَ فَجَرَّرُوهُ وَعَالَجُوهُ فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَقَتَلُوهُ فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ فَابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ خُبَيْبًا وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا قَتْلَهُ فَاسْتَعَارَ مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا لِلْقَتْلِ فَأَعَارَتْهُ إِيَّاهَا فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا قَالَتْ وَأَنَا غَافِلَةٌ حَتَّى أَتَاهُ فَوَجَدْتُهُ يُجْلِسُهُ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ قَالَتْ فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ قَالَ أَتَخْشَيْنَ أَنِّي أَقْتُلُهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ فِي يَدِهِ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرَةٍ وَكَانَتْ تَقُولُ إِنَّهُ لَرِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ خُبَيْبًا فَلَمَّا خَرَجُوا بِهِ مِنْ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فِي الْحِلِّ قَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ دَعُونِي أَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ فَتَرَكُوهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَحْسِبُوا أَنَّ مَا بِي جَزَعًا مِنْ الْقَتْلِ لَزِدْتُ اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا فَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ جَنْبٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ أَبُو سِرْوَعَةَ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ سَنَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا الصَّلَاةَ وَاسْتَجَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ أُصِيبَ فَأَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ يَوْمَ أُصِيبُوا خَبَرَهُمْ وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ حِينَ حُدِّثُوا أَنَّهُ قُتِلَ لِيُؤْتَى بِشَيْءٍ مِنْهُ يُعْرَفُ وَكَانَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عَاصِمٍ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنْ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى أَنْ يَقْطَعُوا مِنْهُ شَيْئًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمی فوج کی طرف سے جاسوسی کرنے کے لیے بھیجے اور عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا سردار مقرر کیا چنانچہ وہ جاجوس چلے گئے جب مقام ہدہ میں جو عسفان اور مکہ کے درمیان ہے پہنچے تو قبیلہ ہذیل یعنی بنو لحیان کو ان کا علم ہو گیا اور ایک سو تیرانداز ان کے واسطے چلے اور جس جگہ جاسوسوں نے کھجوریں بیٹھ کر کھائی تھیں جو بطور زادراہ کے مدینہ سے لائے تھے وہاں پہنچ کر کہنے لگے یہ مدینہ کی کھجوریں ہیں پھر وہ کھجوروں کے نشان کی وجہ سے ان کے پیچھے پیچھے ہو لئے حضرت عاصم اور ان کے ساتھیوں نے جو کافروں کو دیکھا تو ایک اونچی جگہ پر پناہ لے لی کافروں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور کہنے لگے تم اتر آؤ اور اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو ہم اقرار کرتے ہیں کہ کسی کو قتل نہیں کریں گے سردار جماعت یعنی حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا خدا کی قسم آج میں تو کافر کی پناہ میں نہ اتروں گا الہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حال کی اطلاع دے دے کفار نے یہ سن کر ان کے تیر مارے اور عاصم سمیت سات آدمیوں کو شہید کر دیا با قی تین آدمی یعنی خبیب انصاری زید بن دثنہ اور ایک اور شخص قول و قرار لے کر کفار کی پناہ میں گئے کافروں کا جب ان پر قابو چل گیا تو کمانوں کی تانت اتار کر ان کو مضبوط جکڑ لیا ان میں تیسرا آدمی بولا یہ پہلی عہد شکنی ہے خدا کی قسم میں تمہارے ساتھ نہ جاؤں گا مجھ کو ان شہیدوں کی راہ پر چلنا ہے کافروں نے اس کو پکڑ کر کھینچا اور ہر چند ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ گیا آخر کار اس کو قتل کر دیا اور خبیب و ابن دثنہ کو لے چلے اور واقعہ بدر کے بعد دونوں کو فروخت کر دیا خبیب کو حارث بن عامر کی اولاد نے خریدا جنگ بدر کے دن خبیب نے ہی حارث بن عامر کو قتل کیا تھا بہر حال خبیب ان کے پاس قید رہے حارث کی بیٹی کا بیان ہے کہ جب سب کافر خبیب کو شہید کرنے کے لئے جمع ہوئے تو خبیب نے اصلاح کرنے کے لئے مجھ سے استرا مانگا میں نے دے دیا خبیب نے میرے ایک لڑکے کو ران پر بٹھا لیا مجھے اس وقت خبر نہ ہوئی جب میں اس کے پاس پہنچی اور میں نے دیکھا کہ میرا لڑ کا اس کی ران پر بیٹھا ہے اور استرا اس کے ہاتھ میں ہے تو میں گھبرا گئی خبیب نے بھی خوف کے آثار میرے چہرہ پر دیکھ کر پہچان لیا اور کہنے لگے کہ کیا تم کو اس بات کا خوف ہے کہ میں اس کو قتل کردوں گا خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا بنت حارث کہتی ہے بخدا میں نے خبیب سے بہتر کبھی کوئی قیدی نہیں دیکھا خدا کی قسم میں نے ایک روز دیکھا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا انگور کا ایک خوشہ ہاتھ میں لیے کھا رہا ہے حالانکہ ان دونوں مکہ میں میوہ نہ تھا درحقیقت وہ خداداد حصہ تھا جو خدا تعالیٰ نے خبیب کو مرحمت فرمایا تھا جب کفار خبیب کو قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر حل میں لے چلے تو قتل ہونے سے قبل خبیب بولے مجھے ذرا چھوڑ دو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں کافروں نے چھوڑ دیا خبیب نے دو رکعتیں پڑھ کر کہا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ یہ لوگ گمان کریں گے کہ موت سے ڈر گیا تو نماز طویل پڑھتا پھر کہنے لگے الہٰی ان سب کو ہلاک کردے ایک کو باقی نہ چھوڑ اس کے بعد یہ شعر پڑھے۔ اگر حالت اسلام میں میرا قتل ہو تو پھر مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں کہ راہ خدا میں کس پہلو پر میری موت ہوگی میرا یہ مارا جانا راہ خدا میں ہے اور اگر خدا چاہے گا تو کٹے ہوئے عضو کے جوڑوں پر برکت نازل فرمائے گا اس کے بعد حارث کے بیٹے نے خبیب کو قتل کردیا۔ حضرت خبیب سب سے پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے ہر اس مسلمان کے لیے جو راہ خدا میں گرفتار ہو کر مارا جائے قتل ہوتے وقت دو رکعتیں پڑھنے کا طریقہ نکالا ہے۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے شہید ہوتے وقت جو دعا کی تھی خدا تعالیٰ نے وہ قبول کرلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شہادت کی خبر دے دی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے عاصم رضی اللہ عنہ وغیرہ کے مصائب کی کیفیت بیان فرمادی ۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے چونکہ بدر کے دن کفار قریش کے ایک بڑے سردار کو مارا تھا اس لیے کافروں نے کچھ لوگوں کو بھیجا کہ جا کر عاصم کی کوئی نشانی لے آؤ تاکہ نشانی کے ذریعہ سے عاصم کی شناخت ہوجائے لیکن کچھ بھڑوں (زنبور) نے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی نعش کو محفوظ رکھا اور کفار حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے بدن کا گوشت نہ کاٹ سکے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَيْدٍ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَأَمْشِي فَإِذَا مَشَيْتُ سَبَقَنِي فَأُهَرْوِلُ فَأَسْبِقُهُ فَالْتَفَتَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي فَقَالَ تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ وَخَلِيلِ إِبْرَاهِيمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنازے میں گیا میں جب اپنی رفتار سے چل رہا ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے بڑھ جاتے پھر میں دوڑنا شروع کردیتا تو میں آگے نکل جاتا اچانک میری نظر اپنے پہلو کے ایک آدمی پر پڑی تو میں نے اپنے دل میں سوچاکہ خلیل ابراہیم کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نُهِيَ عَنْ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ فَقُلْنَا لِهِشَامٍ ذَكَرَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِرَأْسِهِ أَيْ نَعَمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کو کھ پرہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الرَّحِمُ شِجْنَةٌ مِنْ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَقُولُ يَا رَبِّ قُطِعْتُ يَا رَبِّ ظُلِمْتُ يَا رَبِّ أُسِيءَ إِلَيَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحم رحمن کا ایک جزو ہے جو قیامت کے دن آئے گا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار مجھے توڑا گیا مجھ پر ظلم کیا گیا پروردگار میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي وَقَرَّتْ عَيْنِي فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ فَقَالَ كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْبِئْنِي عَنْ أَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطْعِمْ الطَّعَامَ وَصِلْ الْأَرْحَامَ وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ثُمَّ ادْخُلْ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور آنکھوں کو قرار آ جاتا ہے آپ مجھے ہر چیز کی اصل بتائیے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے میں نے عرض کیا کہ مجھے ایسی چیز بتا دیجئے کہ اگر میں اسے تھام لوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام پھیلاؤ طعام کھلاؤ۔ صلہ رحمی کرو اور راتوں کو جس وقت لوگ سو رہے ہوں تم قیام کرو اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ جُرْدًا مُرْدًا بِيضًا جِعَادًا مُكَحَّلِينَ أَبْنَاءَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ عَلَى خَلْقِ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي عَرْضِ سَبْعِ أَذْرُعٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کے جسم بالوں سے خالی ہوں گے وہ نوعمر ہوں گے گورے چٹے رنگ والے ہوں گے گھنگھریالے بال سرمگیں آنکھیں والے ہوں گے ٣٣ سال کی عمر ہوگی حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ساٹھ گز لمبے اور سات گز چوڑے ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کپڑا اس طرح لٹکانے سے منع فرمایا ہے کہ وہ جسم کی ہیئت پر نہ ہو اور اس میں کوئی روک نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کی روحیں لشکروں کی شکل میں رہتی ہیں سو جس روح کا دوسری کے ساتھ تعارف ہوجاتا ہے ان میں الفت پیدا ہوجاتی ہے اور جن میں تعارف نہیں ہوتا ان میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ لِإِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَجُرُّ أَحَدَ شِقَّيْهِ سَاقِطًا أَوْ مَائِلًا شَكَّ يَزِيدُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کو دوسری پر ترجیح دیتا ہو (ناانصافی کرتا ہو) وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اپنے جسم کے گرے ہوئے (فالج زدہ) حصے کو کھینچ رہا ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَخْرُجُ الدَّابَّةُ وَمَعَهَا عَصَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَخَاتَمُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام فَتَخْطِمُ الْكَافِرَ قَالَ عَفَّانُ أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتَمِ وَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ بِالْعَصَا حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْخِوَانِ لَيَجْتَمِعُونَ عَلَى خِوَانِهِمْ فَيَقُولُ هَذَا يَا مُؤْمِنُ وَيَقُولُ هَذَا يَا كَافِرُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دابۃ الارض کا خروج ہوگا جس کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی وہ کافر کی ناک پر مہر سے نشان لگا دے گا اور مسلمان کے چہرے کو عصا کے ذریعے روشن کردے گا یہاں تک کہ لوگ ایک دسترخوان پر اکٹھے ہوں گے اور ایک دوسرے کو اے مومن اور اے کافر کہہ کر پکاریں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْفُضْهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا حَدَثَ بَعْدَهُ وَإِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ فَلْيَقُلْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ اللَّهُمَّ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدار ہو پھر اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہئے کہ اپنے تہبند ہی سے اپنے بستر کو جھاڑ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کیا چیز اس کے بستر پر آ گئی ہو پھر یوں کہے کہ اے اللہ میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اور آپ کے نام سے ہی اسے اٹھاؤں گا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس کی مغفرت فرمائیے اور اگر واپس بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے اہل بدر کو آسمان پر سے جھانک کر دیکھا اور فرمایا تم جو بھی عمل کرتے رہو میں نے تمہیں معاف کردیا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ فَانْتَهَى إِلَى الْحَرَّةِ فَإِذَا هُوَ فِي أَذْنَابِ شِرَاجٍ وَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدْ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ فَتَبِعَ الْمَاءَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا اسْمُكَ قَالَ فُلَانٌ بِالِاسْمِ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لِمَ تَسْأَلُنِي عَنْ اسْمِي قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ يَقُولُ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِكَ فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا قَالَ أَمَّا إِذَا قُلْتَ هَذَا فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثَهُ وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی جنگل میں چلا جا رہا تھا کہ اس کے کانوں میں ایک آواز پڑی جو بادل سے آرہی تھی کہ فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو۔ اس آواز پر وہ بادل ایک جانب چلا گیا اور اس کا پانی ایک پتھریلی جگہ پر جا کر برس گیا وہ آدمی اس جگہ پہنچا تو وہاں کچھ نالیوں کے سرے دکھائی دیئے ان میں سے ایک نالی ایسی تھی جس میں وہ سارا پانی جمع ہوگیا وہ آدمی پانی کے پیچھے چلتا گیا چلتے چلتے وہ ایک آدمی کے پاس پہنچا جو اپنے باغ میں کھڑا پانی آگے پیچھے لگا رہا تھا اس نے اس سے کہا کہ اے بندہ خدا تمہارا کیا نام ہے؟ اس نے اپنا نام بتایا یہ وہی نام تھا جو اس نے بادل سے آنے والی آواز میں سنا تھا وہ آدمی کہنے لگا کہ اے اللہ کے بندے تم میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں نے ایک بادل میں سے ایک آواز سنی تھی جس کا یہ پانی ہے اور اس میں تمہارا نام لے کر کہا گیا تھا کہ فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کرو اب تم بتاؤ کہ تم اس میں کون سا ایسا عمل کرتے ہو (جس کی یہ برکت ہے؟) اس نے کہا کہ اگر آپ اصرار کرتے ہیں تو بات یہ ہے کہ میں اس باغ کی پیداوار پر غور کرتا ہوں پھر ایک تہائی حصہ صدقہ کرتا ہوں ایک تہائی خود اور اپنے اہل خانہ کو کھلاتا ہوں اور ایک تہائی اسی میں واپس لگا دیتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الْآخِرَةِ وَمَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً يَوْمَ الْقِيَامَةَ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ دنیا و آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةَ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ خَرَجَ مِنْ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَتِهِ وَيُقَاتِلُ لِعَصَبَتِهِ وَيَنْصُرُ عَصَبَتَهُ فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يَتَحَاشَى لِمُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حال میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی اور جو شخص کسی جھنڈے کے نیچے بے مقصد لڑتا ہے (قومی یا لسانی) تعصب کی بناء پر غصہ کا اظہار کرتا ہے اسی کی خاطر لڑتا ہے اور اسی کے پیش نظر مدد کرتا ہے اور مارا جاتا ہے تو اس کا مرنا بھی جاہلیت کے مرنے کی طرح ہوا اور جو شخص میری امت پر خروج کرے نیک و بد سب کو مارے مومن سے حیا نہ کرے اور عہد والے سے عہد پورا نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ إِنَّ الْحَسَنَةَ تُضَاعَفُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ قَالَ وَمَا أَعْجَبَكَ مِنْ ذَلِكَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا قَالَ أَبِي يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَيُضَاعِفُ الْحَسَنَةَ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ
ابوعثمان نہدی رحمۃ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ فرماتے ہیں ایک نیکی پر بڑھا چڑھا کر دس لاکھ نیکیوں کا ثواب بھی مل سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے؟ بخدا! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ ایک نیکی کو دوگنا کرتے کرتے بیس لاکھ نیکیوں کے برابر بنا دیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِخَمْسِ مِائَةِ عَامٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ زَكَرِيَّا عَلَيْهِ السَّلَام نَجَّارًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت زکریا علیہ السلام پیشے کے اعتبار سے بڑھئی تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ قَالَ عَمِلْتُ عَمَلًا ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدِي عَمِلَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ فَقَالَ عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی گناہ کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ کا ارتکاب ہوا مجھے معاف فرمادے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کا کام کیا اور اسے یقین ہے کہ اس کا کوئی رب بھی ہے جو گناہوں کو معاف فرماتا یا ان پر مواخذہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو تین مرتبہ مزید دہرایا کہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور حسب سابق اعتراف کرتا ہے اور اللہ حسب سابق جواب دیتا ہے چوتھی مرتبہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں گواہ رہو میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا اب وہ جو چاہے کرے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي قَحْذَمٍ قَالَ وُجِدَ فِي زَمَنِ زِيَادٍ أَوْ ابْنِ زِيَادٍ صُرَّةٌ فِيهَا حَبٌّ أَمْثَالُ النَّوَى عَلَيْهِ مَكْتُوبٌ هَذَا نَبَتَ فِي زَمَانٍ كَانَ يُعْمَلُ فِيهِ بِالْعَدْلِ
ابوقحذم کہتے ہیں کہ زیاد یا ابن زیاد کے دور حکومت میں کہیں سے ایک تھیلی ملی جس میں کھجور کی گٹھلی جیسا ایک دانہ تھا اور اس پر لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگا تھا جب عدل و انصاف کا معاملہ کیا جاتا تھا ۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ وَهُوَ الْأَزْرَقُ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ أُنَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہوا تو ابناء فارس کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَوَجَدْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں خواتین کی اکثریت دکھائی دی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں فقراء کی اکثریت دکھائی دی۔
-
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُهُ وَإِنْ زَادَ زَادَتْ حَتَّى يَعْلُوَ قَلْبَهُ ذَاكَ الرَّيْنُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے اگر وہ توبہ و استغفار کرلے تو اس کا دل پھر سے صاف روشن ہوجاتا ہے ورنہ جتنے گناہ بڑھتے جاتے ہیں اتنے ہی سیاہ دھبے بڑھتے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے دل پر وہ زنگ چھا جاتا ہے جس کا ذکر اللہ نے قرآن کریم میں ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے۔ کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون۔
-
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مَسِّ الْقَرْصَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہید کو شہادت کی وجہ سے اتنی بھی تکلیف محسوس نہیں ہوتی جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنِي صَفْوَانُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ عَنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ کس کے لئے؟ فرمایا اللہ کے لئے اس کی کتاب کے لئے اس کے پیغمبر کے لئے اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لئے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ الشَّهِيدُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَجِفُّ الْأَرْضُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ حَتَّى يَبْتَدِرَهُ زَوْجَتَاهُ كَأَنَّهُمَا ظِئْرَانِ أَظَلَّتَا أَوْ أَضَلَّتَا فَصِيلَيْهِمَا بِبَرَاحٍ مِنْ الْأَرْضِ بِيَدِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُلَّةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شہید کا تذکرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین پر شہید کا خون خشک نہیں ہونے پاتا کہ اس کے پاس اس کی دو جنتی بیویاں سبقت کر کے پہنچ جاتی ہیں اور وہ اس ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتی ہوئی آتی ہیں جنہوں نے زمین کے کسی حصے میں اپنے بچوں کو سایہ لینے کے لئے چھوڑ دیا ہو ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک جوڑا ہوتا ہے جو دنیا و مافیہا سے بہتر ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ أَنَا وَمَنْ مَعِي قَالَ فَقِيلَ لَهُ ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي عَلَى الْأَثَرِ قِيلَ لَهُ ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرَفَضَهُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے بہتر انسان کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور میرے ساتھی پوچھا گیا اس کے بعد کون لوگ؟ فرمایا جو ہمارے بعد ہوں گے پوچھا گیا اس کے بعد؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا يَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا فِي النَّارِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں ستر سال تک جہنم میں لڑھکتا رہے گا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلًى لِأَبِي رُهْمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ لَقِيَ امْرَأَةً فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ إِعْصَارٍ طَيِّبَةً فَقَالَ لَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَسْجِدَ تُرِيدِينَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ وَلَهُ تَطَيَّبْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ فَيَقْبَلُ اللَّهُ لَهَا صَلَاةً حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْهُ اغْتِسَالَهَا مِنْ الْجَنَابَةِ فَاذْهَبِي فَاغْتَسِلِي
ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہوگیا جس نے خوشبو لگا رکھی تھی؟ انہوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارا مسجد کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبولگا رکھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے لہٰذا تم جا کر اسے دھو دو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي إِنَّهُ سَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ
ابوحازم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھنے کا شرف پانچ سال تک حاصل ہوا ہے میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سناہے کہ بنی اسرائیل میں ملکی نظم و نسق انبیاء کرام علیہماالسلام ہی چلایا کرتے تھے جب ایک نبی رخصت ہوتے تو دوسرے نبی ان کے جانشین بن جاتے لیکن میرے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں ہے اس لئے اس امت میں خلفاء ہوں گے اور خوب ہوں گے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درجہ بدرجہ ہر ایک کی بیعت پوری کرو اور انہیں ان کا وہ حق دو جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کیا ہے کیونکہ اللہ ان سے ان کی رعایا کے متعلق خود ہی پوچھ گچھ کرلے گا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں صبح وشام پڑھ لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا یوں کہہ لیا کرو کہ اے اللہ اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جاننے والے ہر چیز کے پالنہار اور مالک میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہوسکتا میں اپنی ذات کے شر شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں یہ کلمات صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت کہہ لیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرَ وَالْمَاءَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارے پاس سوائے دو کالی چیزوں کھجور اور پانی کے کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ هَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسَبُهُ قَالَ شَهْرًا فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ الْحَصِيرُ بِظَهْرِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كِسْرَى يَشْرَبُونَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَأَنْتَ هَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي حَيَاتِهِمْ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَكَسَرَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو (ایک مہینہ) کے لئے چھوڑ دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کمرے میں چٹائی پر تشریف فرما تھے جس کے نشانات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک پر پڑ گئے تھے یہ دیکھ کر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (قیصر و) کسریٰ تو سونے چاندی کے برتنوں میں پانی پئیں اور آپ اس حال میں رہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کو عمدہ چیزیں فوری طور پر اسی دنیا کی زندگی میں دے دی گئی ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مہینہ ٢٩ کا بھی ہوتا ہے اتنا اتنا اور تیسری مرتبہ میں انگوٹھا بند کرلیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ جَهَنَّمَ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عذاب جہنم سے عذاب قبر سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ جُوعٌ قَالَ وَنَحْنُ سَبْعَةٌ فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ لِكُلِّ إِنْسَانٍ تَمْرَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں بھوک نے ستایا ہم سات افراد تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات کھجوریں عطاء فرمائیں ہر آدمی کے لئے صرف ایک کھجور تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بَلْجٍ قَالَ هَاشِمٌ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُكَ قَالَ هَاشِمٌ أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ يَقُولُ أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کا خزانہ ہے اور عرش کے نیچے سے آیا ہے وہ کلمہ ہے لا قوۃ الا باللہ جسے سن کر اللہ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے سر تسلیم خم کردیا اور اپنے آپ کو سپرد کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ هَاشِمٌ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ و قَالَ مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي بَلْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَحَبَّ وَقَالَ هَاشِمٌ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو یہ بات محبوب ہو کہ وہ ایمان کا ذائقہ چکھے اسے چاہئے کہ کسی شخص سے صرف اللہ کی رضا کے لئے محبت کیا کرے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَذُودَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ عَنْ حَوْضِي كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنْ الْإِبِلِ عَنْ الْحَوْضِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے میں تم سے کچھ لوگوں کو اپنے حوض سے اس طرح دور کروں گا جیسے کسی اجنبی اونٹ کو حوض سے دور کیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنْ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَدَعَتُّهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ قَالَ فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي قَالَ فَرَدَّهُ خَاسِئًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات ایک سرکش جن مجھ پر حاوی ہونے کی کوشش کرنے لگا کہ میری نماز تڑوا دے اللہ نے مجھے اس پر قابو فرما دیا اور میں نے اسے پکڑ لیا میرا ارادہ یہ تھا کہ میں اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں اور صبح ہو تو تم سب اسے دیکھو لیکن پھر مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی کہ پروردگار مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دھتکار کر بھگا دیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَ بِي عُمُرٌ أَنْ أَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امید ہے کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میری ملاقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوجائے گی لیکن میری رخصت کا پیغام پہلے آجائے گا تو تم میں سے جس کی بھی ان کے ساتھ ملاقات ہو وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَتْ بِي حَيَاةٌ أَنْ أُدْرِكَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ فَمَنْ أَدْرَكَهُ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امید ہے کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میری ملاقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوجائے گی لیکن میری رخصت کا پیغام پہلے آ جائے گا تو تم میں سے جس کی بھی ان کے ساتھ ملاقات ہو وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ وَيُونُسَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثَانَ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَمَّا عَلِيٌّ فَرَفَعَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّا يُونُسُ فَلَمْ يَعْدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ قَالَ يَعْنِي الشَّاهِدَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَالْمَوْعُودَ يَوْمَ الْقِيَامَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفا یا مرفوعا مروی ہے کہ و شاہد و مشہود میں شاہد سے مراد یوم عرفہ ہے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يُونُسَ قَالَ سَمِعْتُ عَمَّارًا مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ قَالَ الشَّاهِدُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْمَشْهُودُ يَوْمَ عَرَفَةَ وَالْمَوْعُودُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفا یا مرفوعا مروی ہے کہ و شاہد و مشہود میں شاہد سے مراد یوم عرفہ ہے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ إِنَّ هَلَاكَ أُمَّتِي أَوْ فَسَادَ أُمَّتِي رُءُوسٌ أُمَرَاءُ أُغَيْلِمَةٌ سُفَهَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم جو کہ صادق و مصدوق تھے صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بے وقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ سُورَةً مِنْ الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ وَهِيَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم میں تیس آیات پر مشتمل ایک سورت ایسی ہے جس نے ایک آدمی کے حق میں سفارش کی حتی کہ اس کی بخشش ہوگئی اور وہ سورت ملک ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي نُعْمٍ يُحَدِّثُ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ أَبِي إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ وَلَكِنْ غُنْدَرٌ كَذَا قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ وَكَسْبِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ قَالَ وَعَسْبِ الْفَحْلِ قَالَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذِهِ مِنْ كِيسِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگانے والے کی اور جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس میں سانڈ کی جفتی پر دی جانے والی قیمت کو بھی شامل کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ میری تھیلی میں سے ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِبَرَاءَةٌ فَقَالَ مَا كُنْتُمْ تُنَادُونَ قَالَ كُنَّا نُنَادِي أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَإِنَّ أَجَلَهُ أَوْ أَمَدَهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ وَلَا يَحُجُّ هَذَا الْبَيْتَ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ قَالَ فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جسں وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کواہل مکہ کی طرف براءت کا پیغام دے کربھیجا تھا میں ان کے ساتھ ہی تھا کسی نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا اعلان کررہے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ یہ منادی کررہے تھے کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوگا جو مومن ہو آج کے بعد بیت اللہ کا طواف کوئی شخص برہنہ ہو کر نہیں کر سکے گا جس شخص کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو اس کی مدت چار مہینے مقرر کی جاتی ہے۔ چار مہینے گذرنے کے بعد اللہ اور اس کے رسول مشرکین سے بری ہوں گے اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج بیت اللہ نہیں کر سکے گا یہ اعلان کرتے کرتے میری آواز بیٹھ گئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَتْ بِي حَيَاةٌ أَنْ أُدْرِكَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امید ہے کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میری ملاقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوجائے گی لیکن میری رخصت کا پیغام پہلے آجائے گا تو تم میں سے جس کی بھی ان کے ساتھ ملاقات ہو وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً يَعْنِي مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے انصار کی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے فرمایا کہ اسے ایک نظر دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ تَضْرِبُوا وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الْإِبِلِ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ لَا يَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَقَالَ قَوْمٌ هُوَ الْعُمَرِيُّ قَالَ فَقَدَّمُوا مَالِكًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ زمانہ قریب ہے کہ جب لوگ دور دراز سے حصول علم کے لیے سفر پر نکلیں گے اس وقت وہ مدینہ منورہ کے عالم سے بڑا کوئی عالم نہ پائیں گے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا اور لوگ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي صَالِحٍ يَعْنِي سُهَيْلًا عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يُخْبِرُهُمْ ذَلِكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ صَنْعَةَ طَعَامِهِ وَكَفَاهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ فَإِنْ أَبَى فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيُرَوِّغْهَا ثُمَّ لِيُعْطِهَا إِيَّاهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اور اس کی گرمی سردی میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر اسے سالن میں اچھی طرح تربتر کر کے ہی اسے دے دے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ الزُّبَيْدِيِّ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ عَنْ مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتُحِبُّونَ أَنْ تَجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ قُولُوا اللَّهُمَّ أَعِنَّا عَلَى شُكْرِكَ وَذِكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم دعا میں خوب محنت کرنا چاہتے ہو؟ تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ اپناشکر اداکرنے اپنا ذکر اور اپنی بہترین عبادت کرنے پر ہماری مدد فرما۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت کتا اور گدھا نماز کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِذَا شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعِي كَانَ لَهُ أَعْظَمُ مِنْ شَاةٍ سَمِينَةٍ أَوْ شَاتَيْنِ لَفَعَلَ فَمَا يُصِيبُ مِنْ الْأَجْرِ أَفْضَلُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو یقین ہو کہ میرے ساتھ نماز میں شریک ہونے پر اسے خوب موٹی تازی ہڈی یا دو عمدہ گھر ملیں گے تو وہ ضرور نماز میں شرکت کرے حالانکہ اس پر ملنے والا اجر اس سے بھی زیادہ افضل ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً يَعْنِي مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ انْظُرْ إِلَيْهَا يَعْنِي أَنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے انصار کی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے فرمایا کہ اسے ایک نظر دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْرِبُوهُ قَالَ فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ وَلَكِنْ قُولُوا رَحِمَكَ اللَّهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب نوشی کی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مارو چنانچہ ہم میں سے کسی نے اسے ہاتھوں سے مارا کسی نے جوتیوں سے اور کسی نے کپڑے سے ماراجب وہ واپس چلا گیا تو کسی نے اس سے کہا اللہ تجھے رسوا کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات نہ کہو اس کے معاملے میں شیطان کی مدد نہ کرو بلکہ یوں کہو اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ قَالَ نَزَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ بِالْكُوفَةِ قَالَ فَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوْلَانَا قَرَابَةٌ قَالَ سُفْيَانُ وَهُوَ مَوْلَى الْأَحْمَسِ فَاجْتَمَعَتْ أَحْمَسُ قَالَ قَيْسٌ فَأَتَيْنَاهُ نُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَأَتَاهُ الْحَيُّ فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَؤُلَاءِ أَنْسِبَاؤُكَ أَتَوْكَ يُسَلِّمُونَ عَلَيْكَ وَتُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرْحَبًا بِهِمْ وَأَهْلًا صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ لَمْ أَكُنْ أَحْرَصَ عَلَى أَنْ أَعِيَ الْحَدِيثَ مِنِّي فِيهِنَّ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقُولُ وَاللَّهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَأْكُلَ وَيَتَصَدَّقَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَغْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ قَرِيبٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْ السَّاعَةِ سَتَأْتُونَ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعَرُ كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ
قیس رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کوفہ میں ہمارے مہمان بنے ان کے ہمارے آقاؤں کے ساتھ کچھ تعلقات قرابت داری کے تھے ہم ان کے پاس سلام کے لئے حاضر ہوئے تو میرے والد صاحب نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ یہ آپ کے ہم نسب لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ کو سلام کریں اور آپ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خوش آمدید کہا اور فرمایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں تین سال رہا ہوں جماعت صحابہ میں ان تین سالوں کے درمیان حفظ حدیث کا مجھ سے زیادہ شیدائی نہیں رہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے بخدا تم میں سے کوئی آدمی رسی لے اور اس میں لکڑیاں باندھ کر اپنی پیٹھ پر لادے اور اس کی کمائی خود بھی کھائے اور صدقہ بھی کرے یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی کے پاس جائے جسے اللہ نے اپنے فضل سے مال و دولت عطاء فرما رکھا ہو اور اس سے جا کر سوال کرے اس کی مرضی ہے کہ اسے دے یا نہ دے۔ پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا قیامت کے قریب تم ایسی قوم سے قتال کروگے جن کے چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اسْتَقْرَضْتُ عَبْدِي فَلَمْ يُقْرِضْنِي وَيَشْتُمُنِي عَبْدِي وَهُوَ لَا يَدْرِي يَقُولُ وَا دَهْرَاهْ وَا دَهْرَاهْ وَأَنَا الدَّهْرُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے سے قرض مانگا لیکن اس نے نہیں دیا اور میرا بندہ مجھے انجانے میں برا بھلا کہتا ہے اور یوں کہتا ہے ہائے زمانہ ہائے زمانہ حالانکہ زمانے کا خالق بھی تو میں ہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم سات حرفوں پر نازل ہوا ہے قرآن میں جھگڑنا کفر ہے یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا اس لئے جو تمہیں سمجھ آ جائے اس پر عمل کرو اور جو سمجھ نہ آئے اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو (اس سے پوچھ لو)
-
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ بِذَلِكَ سَبْعِينَ خَرِيفًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک دن روزہ رکھتا اللہ اسے جہنم سے ستر سال کے فاصلے پر دور کردیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ قَالَ سُلَيْمَانُ كَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ ہو سوائے فلاں شخص کے راوی کہتے ہیں کہ وہ نماز ظہر میں پہلی دو رکعتوں کو نسبتًا لمبا اور آخری دو رکعتوں کو مختصر پڑھتا تھا عصر کی نماز ہلکی پڑھتا تھا مغرب میں قصار مفصل میں سے کسی سورت کی تلاوت کرتا عشاء میں اوساط مفصل میں سے اور نماز فجر میں طوال مفصل میں سے قرات کرتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ قَالَ لَئِنْ كُنْتَ كَمَا تَقُولُ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمْ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنْ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے کچھ رشتے دار ہیں میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں میں ان سے درگذر کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر واقعۃ حقیقت اسی طرح ہے جیسے تم نے بیان کی تو گویا تم انہیں جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اپنی روش پر قائم رہوگے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ایک مددگار رہے گا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ ثُمَّ قَالَ وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا بِإِخْوَانِكَ قَالَ بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ مِنْ أُمَّتِكَ بَعْدُ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ أَلَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهَا قَالُوا بَلَى قَالَ فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ثُمَّ قَالَ أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستاں تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قبرستان والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا اے جماعت مومنین کے مکینو تم پر سلام ہو ان شاء اللہ ہم بھی تم سے آ کر ملنے والے ہیں پھر فرمایا کہ میری تمنا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ سکیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو میرے صحابہ ہو میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے اور جن کا میں حوض کوثر پر منتظر ہوں گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے جو امتی ابھی تک نہیں آئے آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر کسی آدمی کا سفید روشن پیشانی والا گھوڑا کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو کیا وہ اپنے گھوڑے کو نہیں پہچان سکے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ لوگ بھی قیامت کے دن وضو کے آثار کی برکت سے روشن سفید پیشانی کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض کوثر پر ان کا انتظار کروں گا۔ پھر فرمایا یاد رکھو تم میں سے کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح دور کیا جائے گا جیسے گمشدہ اونٹ کو بھگایا جاتا ہے میں انہیں آواز دوں گا کہ ادھر آؤ لیکن کہا جائے گا کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل ڈالا تھا تو میں کہوں گا کہ دور ہوں دور ہوں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ الْمُؤْمِنُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا يَغَارُ يَغَارُ وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ وَيَمْحُو بِهِ الْخَطَايَا كَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے؟ کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھنا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنْ الْقَرْنَاءِ تَنْطَحُهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کیے جائیں گے حتی کہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيِّ عَنْ حَفْصِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ قَالَ زِيَادُ بْنُ حُدَيْرٍ وَدِدْتُ أَنِّي فِي حَيِّزٍ مِنْ حَدِيدٍ مَعِي مَا يُصْلِحُنِي لَا أُكَلِّمُ النَّاسَ وَلَا يُكَلِّمُونِي
زیاد بن حدیر کہتے ہیں کہ میری خواہش تو یہ ہے کہ میں لوہے کی کسی ایسی جگہ پر ہوں جہاں میرے پاس صرف ضرورت کی چیزیں ہوں نہ میں کسی سے بات کروں اور نہ کوئی مجھ سے بات کرے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ النَّذْرِ وَقَالَ لَا يَرُدُّ مِنْ الْقَدَرِ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے تقدیر ٹل نہیں سکتی البتہ منت کے ذریعے بخیل آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ فَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي فَأَنَا بَرِيءٌ مِنْهُ وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ میں تمام شرکاء میں سب سے بہتر ہوں جو شخص کوئی عمل سر انجام دے اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کرے تو میں اس سے بیزار ہوں اور وہ عمل اسی کا ہوگا جسے اس نے میرا شریک قرار دیا۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ مَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ میں تمام شرکاء میں سب سے بہتر ہوں جو شخص کوئی عمل سر انجام دے اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کرے تو میں اس سے بیزار ہوں اور وہ عمل اسی کا ہوگا جسے اس نے میرا شریک قرار دیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ أَبَا الْقَاسِمِ صَاحِبَ الْحُجْرَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ قَالَ شُعْبَةُ كَتَبَ بِهِ إِلَيَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ يَعْنِي مَنْصُورًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے صادق و مصدوق ابوالقاسم صاحب الحجرۃ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رحمت اسی شخص سے کھینچتی جاتی ہے جو خود شقی ہو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنْ الْجَنَّةِ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ مِنْ السُّمِّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور اس کا پانی زہر کی شفاء ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي زِيَادٍ الطَّحَّانِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَشْرَبُ قَائِمًا فَقَالَ لَهُ قِه قَالَ لِمَهْ قَالَ أَيَسُرُّكَ أَنْ يَشْرَبَ مَعَكَ الْهِرُّ قَالَ لَا قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ شَرِبَ مَعَكَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ الشَّيْطَانُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَذَكَرَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھڑے ہو کر پانی پیتے ہوئے دیکھا تو اس سے فرمایا اسے قے کر دو اس نے پوچھا کیوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہارے ساتھ کوئی بلا پانی پیئے؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ساتھ بلے سے بھی زیادہ شر والی چیز نے پانی پیا ہے اور وہ ہے شیطان۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
مَضْرُوبٌ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ و قَالَ أَبِي فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ اضْرِبْ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ خِلَافُ الْأَحَادِيثِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي قَوْلَهُ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَاصْبِرُوا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو قریش کا یہ قبیلہ ہلاک کردے گا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا اگر لوگ الگ ہی رہیں تو بہتر ہے عبداللہ بن احمد۔ جو امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کے صاحبزادے ہیں کہتے ہیں کہ میرے والد نے مرض الموت میں فرمایا اس حدیث پر نشان لگا دو کیونکہ یہ دیگر احادیث کے خلاف ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی بات سنو اطاعت کرو اور صبر کرو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ سُئِلَ عَنْ قِرَاءَةِ الْإِمَامِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ فِي كُلِّ الصَّلَوَاتِ يُقْرَأُ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرات کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرات سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرات فرمائی ہے اس میں ہم بھی سرا قرات کریں گے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا قَالَ رَجُلٌ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جہری نماز سے فارغ ہونے کے بعد پوچھا کہ کیا تم میں کسی نے میرے ساتھ قرات کی ہے؟ ایک آدمی نے کہا کہ جی یا رسول اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا؟ اس کے بعد لوگ جہری نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرات کرنے سے رک گئے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَكُتِبَ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنْ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص دن میں سومرتبہ یہ کلمات کہہ لے ۔ لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہوعلی کل شیء قدیر تو یہ دس غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس شخص کے لئے سونیکیاں لکھی جائیں گی سو گناہ مٹادئیے جائیں گے اور شام تک وہ شیطان سے اس کی حفاظت کا سبب ہوں گے اور کوئی شخص اس سے افضل عمل نہیں پیش کرسکے گا۔ سوائے اس شخص کے جو اس سے زیادہ عمل کرے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص دن میں سومرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لے اس کے سارے گناہ مٹادئیے جائیں گے خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان میں سب سے بدترین چیزبے صبرے پن کے ساتھ بخل اور حد سے زیادہ بزدل ہوتاہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ وَجَبَتْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَبَتْ قَالَ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سورت اخلاص کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا واجب ہوگئی لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا چیز واجب ہوگئی ؟ فرمایا اس کےلئے جنت واجب ہوگئی ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ الْكَلَامِ أَرْبَعًا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عِشْرِينَ حَسَنَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ عِشْرِينَ سَيِّئَةً وَمَنْ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فَمِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ كُتِبَتْ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً وَحُطَّ عَنْهُ ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چارقسم کے جملے منتخب فرمائے ہیں سبحان اللہ والحمد للہ ولاالہ اللہ و اللہ اکبر جو شخص سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یابیس گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں جو شخص اللہ اکبر اور لاالہ الا اللہ کہے اس کا بھی یہی ثواب ہے اور جو شخص اپنی طرف سے الحمدللہ رب العلمین کہے اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یاتیس گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ہمارے رب کو اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جارہی ہوتی ہے)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ أَكَلَ وَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ قَالَ كُلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھرکے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرمالیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرمادیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ مِنْ الْمَدِينَةِ رِجَالٌ رَغْبَةً عَنْهَا وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ کچھ لوگ مدینہ منورہ سے بے رغبتی کے ساتھ نکل جائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے زیادہ بہترتھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَدْخُلُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ رَجُلٌ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ میرے امت میں سے سترہزار آدمی بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کردیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کردی اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرما پھر دوسرے نے کھڑے ہو کر بھی یہی عرض کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُطْبَةُ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ قَالَ عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَخُو حَجَّاجٍ الْأَنْمَاطِيُّ وَكَانَ ثِقَةً قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس خطبے میں تو حید ورسالت کی گواہی نہ ہو وہ جذام کے مارے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی نہیں ادا کرتا ۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوْ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنِهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوَ هَذَا فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَ بِهَا مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنْ الذُّنُوبِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ مومن وضو کرتا ہے اور اپناچہرہ دھوتا ہے تو وضو کے پانی کے ساتھ اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہوجب ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے ہاتھ کے وہ سارے گناہ نکل جاتے ہیں جو اس نے ہاتھ سے پکڑ کرکیے ہوں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکل آتاہے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ قَالَ إِسْحَاقُ فِي الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَذَلِكُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمْ الرِّبَاطُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہبتاوں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے ؟ طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں ) خوب اچھی طرح وضو کرنا کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنایہی چیزسرحدوں کی حفاظت کرنے کی طرح ہے (تین مرتبہ فرمایا)
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور صف اول میں نماز کا کیاثواب ہے اور پھر انہیں یہ چیزیں قرعہ اندازی کے بغیر حاصل نہ ہو سکیں تو وہ ان دونوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگیں اور اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جلدی نماز میں آنے کا کتناثواب ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر کاثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرورت شرکت کریں خواہ انہیں گھسٹ گھسٹ کرہی آناپڑے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُبَّ يَمِينٍ لَا تَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ بِهَذِهِ الْبُقْعَةِ فَرَأَيْتُ فِيهَا النَّخَّاسِينَ بَعْدُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہوئے سناہے کہ قسم کے بہت سے مواقع ایسے ہیں جن میں انسان کی قسم زمین کے اس تکڑے سے بھی اوپر چڑھ کر اللہ کے پاس نہیں پہنچتی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بعد میں میں نے اس جگہ غلاموں اور جانوروں کی تجارت کرنے والوں کو دیکھا۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلَا رُكُوعُكُمْ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میرا قبلہ یہاں سمجھتے ہو؟ بخدا مجھ پر تمہاراخشوع مخفی ہوتا ہے اور نہ رکوع میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے دیکھتاہوں ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامِكُمْ إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ جمعہ کا دن عید کا دن ہوتا ہے اس لئے عید کے دن روزہ نہ رکھا کرو الا یہ کہ اس کے ساتھ جمعرات یاہفتہ کا روزہ بھی رکھو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ قَالَ الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قِيلَ أَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ قَالَ شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا فرض نمازوں کے بعد کون سی نماز سب سے زیادہ افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے درمیانی حصے میں پڑھی جانے والی نماز پوچھا گیا کہ ماہ رمضان کے روزوں کے بعد کس دن کا روزہ سب سے زیادہ افضل ہے؟ فرمایا اللہ کا مہینہ جسے تم محرم کہتے ہو (اس کے روزے افضل ہیں)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ مِنْ خَطَايَاهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو جو پریشانی اور تکلیف دکھ اور غم مشکل اور ایذا پہنچتی ہے حتی کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمُؤَمَّلٌ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ مُؤَمَّلٌ الْخُرَاسَانِيُّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِطُ وَقَالَ مُؤَمَّلٌ مَنْ يُخَالِلُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لئے تمہیں غور کرلینا چاہئے کہ تم کسے اپنا دوست بنا رہے ہو؟
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زُهَيْرٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَنْ الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ قَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصِيَامٍ وَصَلَاةٍ وَزَكَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ عِرْضَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَكَلَ مَالَ هَذَا فَيُقْعَدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ مِنْ الْخَطَايَا أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان تو مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوۃ لے کر آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اسے بٹھا لیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے پھر اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا قَلِيلٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ہوں گے اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرلو اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے ساز و سامان کے عوض فروخت کردیا جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ قَالَ أَبِي وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَهْدِيٍّ الْعَبْديِّ
عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے میدان عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو الْهَجَرِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ وَلَمْ يَخْبُثْ الطَّعَامُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ظَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فَسَادَ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بے وقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ النَّجْمَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ إِلَّا رَجُلَيْنِ أَرَادَا الشُّهْرَةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نجم کی تلاوت فرمائی آیت سجدہ پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا۔ سوائے دو آدمیوں کے جو شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ يَعْنِي الْفَرْوِيَّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدَنَّ عِشَاءَ الْآخِرَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت خوشبو لگائے وہ نماز عشاء میں شریک نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ أَوْ أُثَالَةَ أَسْلَمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ فَمُرُوهُ أَنْ يَغْتَسِلَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ثمامہ بن اثال نے اسلام قبول کرلیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں فلاں آدمی کے باغ میں لے جاؤ اور انہیں غسل کرنے کا حکم دو۔ فائدہ ان کا مکمل واقعہ حدیث نمبر ٧٣٥٥ میں مفصل گذر چکا ہے وہاں ملاحظہ کیجئے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ يَعْنِي ابْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ فَقَالَ أَلَمْ أُغْنِكَ يَا أَيُّوبُ قَالَ يَا رَبِّ وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ أَوْ قَالَ مِنْ فَضْلِكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لیے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار آپ کے فضل یا رحمت سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا عَنْ الطَّرِيقِ فَأُدْخِلَ بِهَا الْجَنَّةَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک درخت کی وجہ سے راستے میں گذرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی ایک آدمی نے اسے کاٹ کر راستے سے ہٹا کر ایک طرف کردیا اور اس کی برکت سے اسے جنت میں داخلہ نصیب ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِيرِينَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ يُحْرِقُوهُ حَتَّى يَدَعُوهُ حُمَمًا ثُمَّ اطْحَنُوهُ ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمِ رِيحٍ فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ قَالَ أَيْ رَبِّ مِنْ مَخَافَتِكَ قَالَ فَغُفِرَ لَهُ بِهَا وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جس نے تو حید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کریہ وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلانا یہاں تک وہ کوئلہ بن جائے پھر اسے خوب باریک کر کے پیسنا اور سمندری ہواؤں میں مجھے بکھیر دینا اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا اسی لمحے وہ بندہ اللہ کے قبضہ میں تھا اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم تجھے اس حرکت پر کس چیز نے بر انگیختہ کیا؟ اس نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے خوف نے اللہ نے اس پر اس کی بخشش فرما دی۔ حالانکہ اس نے تو حید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیٹنے کا یہ طریقہ ایسا ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ عَمْرٌو وَهِشَامٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاص بن وائل کے دونوں بیٹے ہشام اور عمرو مومن ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ قَالَ أَبُو النَّضْرِ سَعْدٌ أَبُو مُجَاهِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا إِذَا رَأَيْنَاكَ رَقَّتْ قُلُوبُنَا وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ وَإِذَا فَارَقْنَاكَ أَعْجَبَتْنَا الدُّنْيَا وَشَمَمْنَا النِّسَاءَ وَالْأَوْلَادَ قَالَ لَوْ تَكُونُونَ أَوْ قَالَ لَوْ أَنَّكُمْ تَكُونُونَ عَلَى كُلِّ حَالٍ عَلَى الْحَالِ الَّتِي أَنْتُمْ عَلَيْهَا عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ بِأَكُفِّهِمْ وَلَزَارَتْكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنَا عَنْ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا قَالَ لَبِنَةُ ذَهَبٍ وَلَبِنَةُ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ قُلْتُ لِزُهَيْرٍ أَهُوَ أَبُو الْمُجَاهِدِ قَالَ نَعَمْ قَدْ حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم آپ کی زیارت کرتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہوجاتے ہیں اور ہم اہل آخرت میں سے ہوجاتے ہیں اور جب آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمیں دنیا اچھی لگتی ہے اور ہم اپنی عورتوں اور بچوں کو سونگھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ہر وقت اسی کیفیت پر رہنے لگو جو تمہیں میرے پاس حاصل ہوتی ہے تو فرشتے اپنے ہاتھوں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کرنے لگیں اور تمہارے گھروں میں تمہاری زیارت کو آنے لگیں اور اگر تم گناہ نہ کرو گے تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے کر آئے گا جو گناہ کرے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرمائے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنت کے بارے میں کچھ بتائیے کہ اس کی تعمیر کیسی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ چاندی کی اس کا گارا خالص مشک ہے اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران ہے جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہے گا کبھی تنگ نہ ہوگا ہمیشہ رہےگا اسے کبھی موت نہ آئے گی اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی ختم نہ ہوگی۔ تین آدمی ایسے ہیں جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل حکمران روزہ دار تا آنکہ روزہ کھول لے اور مظلوم کی بد دعا وہ بادلوں پر سوار ہو کر جاتی ہے اور اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ دیر بعد ہی کروں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْكَ الْبَيْتَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ يُقْطَعْ فَيُصَيَّرَ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ يُقْطَعْ فَيُجْعَلَ مِنْهُ وِسَادَتَانِ تُوطَآَنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَيُخْرَجَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا الْكَلْبُ جَرْوٌ كَانَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَام تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمَا قَالَ وَمَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ رَأَيْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رات کو آپ کے پاس آیا تھا اور تو کسی چیز نے مجھے آپ کے گھر میں داخل ہونے سے نہ رو کا البتہ گھر میں ایک آدمی کی تصویر تھی۔ دراصل گھر میں ایک پردہ تھا جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی تھی اب آپ حکم دیجئے کہ اس تصویر کا سر کاٹ دیا جائے تاکہ وہ درخت کی طرح ہوجائے اور پردے کو کاٹنے کا حکم دیجئے جس کے دو تکیے بنا لیے جائیں جو پڑے رہیں اور انہیں روندا جائے اور گھر سے کتے کو نکالنے کا حکم دے دیجئے نبی علیہ السلام نے ایسا ہی کیا پتہ چلا کہ ایک کتے کا پلہ تھا جو حضرات حسنین رضی اللہ عنہم کی چارپائی کے نیچے گھسا ہوا تھا۔ اور فرمایا حضرت جبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُبَاهِي الْمَلَائِكَةَ بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل عرفات کو دیکھ کر اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے ان بندوں کو دیکھو جو بکھرے ہوئے بالوں اور گرد و غبار کے ساتھ آئے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ادویات کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ أَكَلَ وَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ قَالَ كُلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھا لو اور خود نہ کھاتے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَتَنَازَعُونَ فِي هَذِهِ الشَّجَرَةِ الَّتِي اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ فَقَالُوا نَحْسَبُهَا الْكَمْأَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنْ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنْ السُّمِّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور زہر کی شفا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا قَفَّا وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ امْرِئٍ حَسِيبُ نَفْسِهِ لِيَنْتَبِذْ كُلُّ قَوْمٍ فِيمَا بَدَا لَهُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر شخص اپنے اپنے نفس کا خود محاسب ہے اور ہر قوم ان برتنوں میں نبیذ بنا سکتی ہے جو انہیں مناسب معلوم ہوں۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ میں فقر و فاقہ قلت اور ذلت سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور اس کی بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَلَكًا بِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يَقُولُ مَنْ يُقْرِضْ الْيَوْمَ يُجْزَى غَدًا وَمَلَكًا بِبَابٍ آخَرَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَعَجِّلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمان کے ایک دروازے پر ایک فرشتہ مقرر ہے جو یہ کہتا ہے کہ کون ہے جو قرض دے اور کل اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے؟ اور دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ یہ کہتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما اور روک کر رکھنے والے کا مال جلد ہلاک فرما۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَجُلًا حَمَلَ مَعَهُ خَمْرًا فِي سَفِينَةٍ يَبِيعُهُ وَمَعَهُ قِرْدٌ قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ الْخَمْرَ شَابَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ بَاعَهُ قَالَ فَأَخَذَ الْقِرْدُ الْكِيسَ فَصَعِدَ بِهِ فَوْقَ الدَّقَلِ قَالَ فَجَعَلَ يَطْرَحُ دِينَارًا فِي الْبَحْرِ وَدِينَارًا فِي السَّفِينَةِ حَتَّى قَسَمَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا وہ آدمی جب شراب بیچتا تو پہلے اس میں پانی کی ملاوٹ کرتا پھر اسے فروخت کرتا ایک دن بندرنے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کہ اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا)
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ هَمَّامٌ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ الصُّبْحِ ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے فجر کی ایک رکعت یہ پڑھی تھی کہ سورج نکل آیا تو اسے اپنی نماز مکمل کرلینی چاہئے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سَلِيمٌ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ مِينَاءَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْمُ جُنَّةٌ فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ فَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ وَقَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلْنَا وَقَالَ عَفَّانُ فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِعِصِيِّنَا وَسِيَاطِنَا وَنَقْتُلُهُنَّ وَأُسْقِطَ فِي أَيْدِينَا فَقُلْنَا مَا نَصْنَعُ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم نے اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کر کے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچاکہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَخَرَجَ مِنْ الطَّاعَةِ فَمَاتَ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي بِسَيْفِهِ يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يُحَاشِي مُؤْمِنًا لِإِيمَانِهِ وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ بِعَهْدِهِ فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِلْعَصَبِيَّةِ أَوْ يُقَاتِلُ لِلْعَصَبِيَّةِ أَوْ يَدْعُو إِلَى الْعَصَبِيَّةِ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حال میں مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی اور جو شخص میری امت پر خروج کرے نیک و بدسب کو مارے مومن سے حیا کرے اور عہد والے سے عہد پورا نہ کرے وہ میرا امتی نہیں ہے اور جو شخص کسی جھنڈے کے نیچے بے مقصد لڑتا ہے (قومی یا لسانی) تعصب کی بناء پر غصہ کا اظہار کرتا ہے اسی کی خاطر لڑتا ہے اور اسی کے پیش نظر مدد کرتا ہے اور مارا جاتا ہے تو اس کا مرنا بھی جاہلیت کے مرنے کی طرح ہوا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْسِرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعُونَ أَوْ قَالَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ كُلُّهُمْ يَرَى أَنَّهُ يَنْجُو
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے قریب) دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں حتی کہ ہر سو میں سے نوے (یا ننانوے ) آدمی مارے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا خیال یہی ہوگا کہ وہ بچ جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ قَالَ فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ فَأَقْعَى وَاسْتَذْفَرَ فَقَالَ عَمَدْتَ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْتَزَعْتَهُ مِنِّي فَقَالَ الرَّجُلُ تَالَلَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبًا يَتَكَلَّمُ قَالَ الذِّئْبُ أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ وَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ وَخَبَّرَهُ فَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا أَمَارَةٌ مِنْ أَمَارَاتٍ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعَ حَتَّى تُحَدِّثَهُ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیا بکریوں کے ایک ریوڑ کے پاس آیا اور وہاں سے ایک بکری لے کر بھاگ گیا چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور بکری کو اس سے چھڑا لیا وہ بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور لوٹ پوٹ ہو کر کہنے لگا کہ اللہ نے مجھے جو رزق دیا تھا تونے وہ مجھ سے چھین لیا؟ وہ آدمی حیران ہو کر کہنے لگا بخدا میں نے آج جیسا دن پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا بات کر رہا ہے یہ سن کر وہ بھیڑیا کہنے لگا کہ اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ دو پتھریلے علاقوں کے درمیان درختوں میں ایک آدمی ہے جو تمہیں ماضی کی خبریں اور آئندہ کے واقعات بتا رہا ہے۔ وہ چرواہا یہودی تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا قرار دیا اور فرمایا کہ یہ قرب قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے عنقریب ایک آدمی اپنے گھر سے نکلے گا اور جب واپس آئے گا تو اس کے جوتے اور کوڑے اسے یہ بتائیں گے کہ اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ نے کیا کیا۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ مِنْ اللَّيْلِ فَإِنَّمَا رَأَتْ مَلَكًا سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحِمَارِ فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم رات کے وقت مرغ کی بانگ سنو تو یاد رکھو کہ اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوگا اس لئے اس وقت اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو اور جب رات کے وقت گدھے کی آواز سنو تو اس نے شیطان کو دیکھا ہوگا اس لئے اللہ سے شیطان کے شر سے پناہ مانگا کرو۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ أَحَدٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ وَيُسْبِغُهُ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِيهِ إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِطَلْعَتِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح اور مکمل احتیاط سے کرے پھر مسجد میں آئے اور اس کا مقصد صرف نماز پڑھنا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی مسافر کے اپنے گھر پہنچنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَا فِرْسِنَ شَاةٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ وَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اسی نے اپنے لشکر کو غالب کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں پر تنہا غالب آ گیا اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔
-
حَدَّثَنِي هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ فَقَالَ إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں ایک لشکرکے ساتھ بھیجا اور قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا اگر تم ان دونوں کو پاؤ انہیں آگ میں جلا دینا پھر جب ہم لوگ روانہ ہونے کے ارادے سے نکلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں فلاں فلاں آدمیوں کے متعلق یہ حکم دیا تھا کہ انہیں آگ میں جلا دینا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اس لئے اگر تم انہیں پاؤ تو انہیں قتل کر دینا۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں میں سب سے بد ترین شخص وہ آدمی ہوتا ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ والْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْهُذَلِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا يَهُمُّنِي مِنْ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھا کہ شفاعت کے بارے آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے میرا یہی گمان تھا کہ اس چیز کے متعلق میری امت میں سب سے پہلے تم ہی سوال کرو گے کیونکہ میں علم کے بارے تمہاری حرص دیکھ رہاہوں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے میرے نزدیک لوگوں کا سیلاب جنت کے دروازے پر آنا میری شفاعت کی تکمیل سے زیادہ اہم نہیں ہے اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو خلوص دل کے ساتھ لاالہ الہ اللہ کی گواہی دیتا ہو اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَكَانَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَابِدٌ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ فَابْتَنَى صَوْمَعَةً وَتَعَبَّدَ فِيهَا قَالَ فَذَكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَوْمًا عِبَادَةَ جُرَيْجٍ فَقَالَتْ بَغِيٌّ مِنْهُمْ لَئِنْ شِئْتُمْ لَأُصْبِيَنَّهُ فَقَالُوا قَدْ شِئْنَا قَالَ فَأَتَتْهُ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا فَأَمْكَنَتْ نَفْسَهَا مِنْ رَاعٍ كَانَ يَأْوِي غَنَمَهُ إِلَى أَصْلِ صَوْمَعَةِ جُرَيْجٍ فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالُوا مِمَّنْ قَالَتْ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ فَشَتَمُوهُ وَضَرَبُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا إِنَّكَ زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ فَوَلَدَتْ غُلَامًا قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالُوا هَا هُوَ ذَا قَالَ فَقَامَ فَصَلَّى وَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْغُلَامِ فَطَعَنَهُ بِإِصْبَعِهِ وَقَالَ بِاللَّهِ يَا غُلَامُ مَنْ أَبُوكَ قَالَ أَنَا ابْنُ الرَّاعِي فَوَثَبُوا إِلَى جُرَيْجٍ فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَهُ وَقَالُوا نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ ابْنُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ قَالَ وَبَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِي حِجْرِهَا ابْنٌ لَهَا تُرْضِعُهُ إِذْ مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ ذُو شَارَةٍ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذَا قَالَ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ قَالَ ثُمَّ عَادَ إِلَى ثَدْيِهَا يَمُصُّهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَلَيَّ صَنِيعَ الصَّبِيِّ وَوَضْعَهُ إِصْبَعَهُ فِي فَمِهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا ثُمَّ مُرَّ بِأَمَةٍ تُضْرَبُ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا قَالَ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَى أُمِّهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا قَالَ فَذَلِكَ حِينَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ فَقَالَتْ حَلْقَى مَرَّ الرَّاكِبُ ذُو الشَّارَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَمُرَّ بِهَذِهِ الْأَمَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَقُلْتَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا فَقَالَ يَا أُمَّتَاهْ إِنَّ الرَّاكِبَ ذُو الشَّارَةِ جَبَّارٌ مِنْ الْجَبَابِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْأَمَةَ يَقُولُونَ زَنَتْ وَلَمْ تَزْنِ وَسَرَقَتْ وَلَمْ تَسْرِقْ وَهِيَ تَقُولُ حَسْبِيَ اللَّهُ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَصَبِيٌّ كَانَ فِي زَمَانِ جُرَيْجٍ وَصَبِيٌّ آخَرُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَأَمَّا جُرَيْجٌ فَكَانَ رَجُلًا عَابِدًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَانَتْ لَهُ أُمٌّ وَكَانَ يَوْمًا يُصَلِّي إِذْ اشْتَاقَتْ إِلَيْهِ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ الصَّلَاةُ خَيْرٌ أَمْ أُمِّي آتِيهَا ثُمَّ صَلَّى وَدَعَتْهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَعَتْهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ وَصَلَّى فَاشْتَدَّ عَلَى أُمِّهِ وَقَالَتْ اللَّهُمَّ أَرِ جُرَيْجًا الْمُومِسَاتِ ثُمَّ صَعِدَ صَوْمَعَةً لَهُ وَكَانَتْ زَانِيَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین لڑکوں کے علاوہ گہوارے کے اندر اور کسی نے کلام نہیں کیا۔ (١) حضرت عیسیٰ علیہ السلام (٢) وہ لڑکا جو جریج سے بولا تھا۔ جریج بنی اسرائیل میں ایک عبادت گذار شخص کا نام تھا اس نے اپنا گرجا بنا رکھا تھا اور وہاں عبادت کرتا تھا ایک دن بنی اسرائیل کے لوگ اس کی عبادت کا تذکرہ کر رہے تھے جسے سن کر ایک فاحشہ عورت نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں اسے فتنے میں مبتلا کر سکتی ہوں؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو ہماری خواہش ہے۔ چنانچہ ایک روز جریج اپنے عبادت خانہ میں تھا کہ وہ عورت اس کے پاس آئی اور جریج سے کار برآری کی خواستگار ہوئی جریج نے انکار کیا تو اس عورت نے جا کر ایک چرواہے کو اپنے نفس پر قابو دیا جو جریج کے گرجے کے نیچے اپنی بکریاں رکھتا تھا اور چرواہے کے نطفہ سے اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا لیکن اس نے یہ اظہار کیا کہ لڑکا جریج کا ہے لوگ جریج کے پاس آئے (اور غصہ میں) اسے نیچے اتارا اسے گالیاں دیں مارا پیٹا اور اس کا عبادت خانہ ڈھا دیا جریج نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے اس فاحشہ کے ساتھ بدکاری کی ہے اور اس کے یہاں بچہ بھی پیدا ہوگیا ہے جریج نے پوچھا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ہے چنانچہ جریج نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور پھر اس بچہ کے پاس آ کر اسے انگلی چبھا کر دریافت کیا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے؟ لڑکا بولا فلاں چرواہا لوگ (یہ صداقت دیکھ کر) اسے چومنے اور کہنے لگے ہم تیرا عبادت خانہ سونے کا بنائے دیتے ہیں جریج نے جواب دیا مجھے اس کی ضرورت نہیں پہلے کی طرح صرف مٹی کا بنا دو۔ (٣) بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جو اپنے لڑکے کو دودھ پلا رہی تھی اتفاقا ادھر سے ایک سوار زردوزی کے کپڑے پہنے نکلا عورت نے کہا الہی میرے بچے کو اس کی طرح کردے بچہ نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر سوار کی طرف رخ کر کے کہا الہی مجھے ایسا نہ کرنا یہ کہہ کر پھر دودھ پینے لگا کچھ دیر کے بعد ادھر سے لوگ ایک باندی کو لے گزرے (جس کو راستے میں مارتے جا رہے تھے) عورت نے کہا الہٰی میرے بچہ کو ایسا نہ کرنا بچہ نے فورا دودھ پینا چھوڑ کر کہا الہی مجھے ایسا ہی کرنا ماں نے بچہ سے کہا تونے یہ خواہش کیوں کی؟ بچہ نے جواب دیا وہ سوار ظالم تھا (اس لیے میں نے ویسا نہ ہونے کی دعا کی ) اور اس باندی کو لوگ کہتے ہیں کہ تونے زنا اور چوری کی ہے حالانکہ اس نے یہ فعل نہیں کیے اور وہ کہتی رہی کہ مجھے اللہ کافی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے۔ (١) حضرت عیسیٰ السلام (٢) وہ بچہ جو جریج کے زمانے میں تھا (٣) اور ایک اور بچہ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جریج بنی اسرائیل میں ایک عبادت گذار آدمی تھا اس کی ایک ماں تھی ایک دن وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں اس سے ملنے کے شوق میں اس کے پاس آئی اور اس کا نام لے کر اسے پکارا اس نے اپنے دل میں کہا کہ پروردگار نماز بہتر ہے یا ماں کے پاس جانا؟ پھر وہ نماز پڑھتا رہا اس کی ماں نے تین مرتبہ اسے پکارا پھر اس کی طبیعت پر سخت گرانی ہوئی اور وہ کہنے لگی کہ اے اللہ جریج کو فاحشہ عورتوں کا چہرہ دکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ قُبَاءٍ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ طَالَ بِكَ مُدَّةٌ أَوْشَكْتَ أَنْ تَرَى قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَتِهِ فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو عنقریب تم ایک ایسی قوم کو دیکھو گے جس کی صبح اللہ کی ناراضگی میں اور شام اللہ کی لعنت میں ہوگی اور ان کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح ڈنڈے ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ قَالَ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْفَقْرَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ التَّكَاثُرَ وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْخَطَأَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْعَمْدَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر مال کی کثرت کا اندیشہ ہے اور مجھے تم پر غلطی کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر جان بوجھ کر (گناہوں میں ملوث ہونے کا) اندیشہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَذَكَرَ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَالْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَيْفَ قُلْتَ قَالَ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ كَمَا قَالَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَيْفَ قُلْتَ قَالَ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ أَيْضًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ قَالَ نَعَمْ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام سَارَّنِي بِذَلِكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان باللہ اور جہاد فی سبییل اللہ کو اللہ کے نزدیک افضل اعمال میں سے قرار دیا ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر میں راہ خدا میں شہید ہوجاؤں میں اپنے دین پر ثابت قدم رہا ہوں اور ثواب کی نیت سے جہاد میں شریک ہوں میں آگے بڑھتا رہا ہوں اور پیٹھ نہ پھیری ہو تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما دے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے یہی سوال تین مرتبہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا آخری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے کہ یہ بات مجھے حضرت جبریل علیہ السلام نے ابھی ابھی کان میں بتائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فِي الصَّلَاةِ فَيَجْهَرُ وَيُخَافِتُ فَجَهَرْنَا فِيمَا جَهَرَ فِيهِ وَخَافَتْنَا فِيمَا خَافَتَ فِيهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز میں ہماری امامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے وہ کبھی جہری قرات فرماتے تھے اور کبھی سری۔ لہٰذا ہم بھی ان نمازوں میں جہر کرتے ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہر کیا اور ہم بھی ان نمازوں میں سری قرات کرتے ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سری قرات فرمائی ہے اور میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرات کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْثِرْ وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہیے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ مَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو حدث لاحق ہوجائے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وضو کرلے حضر موت کے ایک آدمی نے یہ سن کرپوچھا اے ابوہریرہ! حدث سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہلکی یا زوردار آواز میں ہوا کا خارج ہونا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ صَوْتَهُ فَقَالَ ادْخُلْ فَقَالَ إِنَّ فِي الْبَيْتِ سِتْرًا فِي الْحَائِطِ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَاقْطَعُوا رُءُوسَهَا فَاجْعَلُوهَا بِسَاطًا أَوْ وَسَائِدَ فَأَوْطَئُوهُ فَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کیا دراصل گھر میں ایک پردہ ہے جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی ہے اب آپ حکم دیجئے کہ اس تصویر کا سر کاٹ دیا جائے جس کے دو تکیے بنا لیے جائیں جو پڑے رہیں اور انہیں روندا جائے کیونکہ ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویریں ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمْ يَا عُمَرُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کچھ حبشی نیزوں سے کرتب دکھا رہے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آ گئے وہ انہیں مارنے کے لئے کنکریاں اٹھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر انہیں چھوڑ دو۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَذَهَبَ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ أَوْ أَبْنَاءِ فَارِسَ حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہوا تو ابناء فارس کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کروگے تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کرے گی پھر اللہ سے معافی مانگے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرمائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْأَمْرُ بِالْأَصْبَاغِ فَأَحْلَكُهَا أَحَبُّ إِلَيْنَا قَالَ مَعْمَرٌ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیاہ خضاب بہت پسند ہے اور معمر کہتے ہیں کہ امام زہری رحمتہ اللہ علیہ سیاہ خضاب لگاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے زائد گھاس روکی جا سکے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لِبَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَثَا بِكَفِّهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ثُمَّ مَشَى سَاعَةً فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَلْجَأَ مِنْ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ مَشَى سَاعَةً فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ النَّاسِ عَلَى اللَّهِ وَمَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَحَقٌّ عَلَيْهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی کے باغ میں چلا جا رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر کچھ دیرچلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الا باللہ ولا ملجا من اللہ الا الیہ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر لوگوں کا کیا حق ہے؟ اور لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ یہ کرلیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنٌ فَيَزْدَادَ إِحْسَانًا وَإِمَّا مُسِيءٌ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیکو کار ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اور اضافہ ہو جائے اور اگر وہ گناہ گار ہے تو ہو سکتا ہے کہ توبہ کرلے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللَّاتِ فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور اس میں یوں کہہ دے لات کی قسم تو اسے دوبارہ کلمہ پڑھنا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلتے ہیں تو اسے صرف اتنی بات کہنے پر کوئی چیز صدقہ کرنی چاہئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَهُوَ اخْتَصَرَهُ يَعْنِي مَعْمَرًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور ساتھ ہی ان شاء اللہ کہہ لے تو وہ اپنی قسم میں حانث نہیں ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنِّسَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ الثَّلَاثَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ ابوقاسم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ يَعْنِي لِرَجُلٍ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا وَقَدْ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّارِ فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ قِيلَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمُتْ وَلَكِنْ بِهِ جِرَاحٌ شَدِيدٌ فَلَمَّا كَانَ مِنْ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الْجِرَاحِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ شَهِدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ يُذْعِنُ بِالْإِسْلَامِ إِنَّ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَاشْتَدَّ عَلَى رِجَالٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ وَقَدْ انْتَحَرَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدعی اسلام کے متعلق فرمایا کہ یہ جہنمی ہے جب ہم لوگ لڑائی میں شریک ہوئے تو اس نے خوب بہادری کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا اور اسے کئی زخم آئے کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے جس آدمی کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے اس نے تو آج بڑی بہادری سے جنگ میں حصہ لیا ہے اور فوت ہو گیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنم میں پہنچ گیا۔ اس پر قریب تھا کہ لوگ شک میں پڑجاتے کہ اسی دوران کسی نے کہا کہ وہ ابھی مرا نہیں ہے البتہ اس کے زخم انتہائی کاری ہیں رات ہوئی تو وہ زخموں کی تاب نہ لاسکا اور اس نے خودکشی کرلی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی خبر ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ منادی کرنے کا حکم دیا کہ جنت میں صرف مسلمان آدمی ہی داخل ہوسکے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد بعض اوقات کسی فاسق و فاجر آدمی سے بھی کروا لیتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ قَالُوا مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْبَطَنُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم لوگ اپنے درمیان شہید کسے سمجھتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا مارا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت میں شہداء کی تعداد بہت کم ہوگی جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے اور نفاس کی حالت میں عورت کا مرنا بھی شہادت ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اصْطَفَى مِنْ الْكَلَامِ أَرْبَعًا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ وَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ كُتِبَتْ لَهُ بِهَا عِشْرُونَ حَسَنَةً وَحُطَّ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً وَمَنْ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فَمِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ كُتِبَ لَهُ بِهَا ثَلَاثُونَ حَسَنَةً وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چار قسم کے جملے منتخب فرمائے ہیں سبحان اللہ و الحمد للہ و لاالہ اللہ و اللہ اکبر جو شخص سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا بیس گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں جو شخص اللہ اکبر اور لاالہ الا اللہ کہے اس کا بھی یہی ثواب ہے اور جو شخص اپنی طرف سے الحمدللہ رب العلمین کہے اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا تیس گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَظْهَرُ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ عَلَى الْكَعْبَةِ قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ فَيَهْدِمُهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں دو چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا ایک آدمی خانہ کعبہ پر چڑھائی کرے گا اور اسے منہدم کردے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي طَارِقٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَأْخُذُ مِنْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ قَالَ قُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّهُنَّ فِيهَا ثُمَّ قَالَ اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا وَلَا تُكْثِرْ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون آدمی ہے جو مجھ سے پانچ باتیں حاصل کرے اور ان پر عمل کرے یا کم از کم کسی شخص کو بتادے جو ان پر عمل کرے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور انہیں شمار کرنے لگے۔ (١) حرام کاموں سے بچوسب سے بڑے عابد بن جاؤ گے۔ (٢) اللہ کی تقسیم پر راضی رہو سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے۔ (٣) پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو مومن بن جاؤ گے۔ (٤) جو اپنے لیے پسند کرتے ہو لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو مسلمان بن جاؤ گے۔ (٥) کثرت سے نہ ہنسا کرو کیونکہ کثرت ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ نُزُولًا ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ فَتَبِعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى نَزَلُوا مَنْزِلًا نَزَلُوهُ فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ تَزَوَّدُوهُ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ فَقَالُوا هَذَا مِنْ تَمْرِ يَثْرِبَ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ فَلَمَّا أَحَسَّهُمْ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ وَقَدْ جَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ وَقَالُوا لَكُمْ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِنْ نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا رَسُولَكَ قَالَ فَقَاتَلُوهُمْ فَرَمَوْهُمْ فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ وَبَقِيَ خُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَعْطَوْهُمْ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ إِنْ نَزَلُوا إِلَيْهِمْ فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَجَرُّوهُ فَأَبَى أَنْ يَتْبَعَهُمْ فَضَرَبُوا عُنُقَهُ فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ قَدْ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمُ بَدْرٍ فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَجْمَعُوا قَتْلَهُ اسْتَعَارَ مُوسَى مِنْ إِحْدَى بَنَاتِ الْحَارِثِ لِيَسْتَحِدَّ بِهَا فَأَعَارَتْهُ قَالَتْ فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي فَدَرَجَ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ قَالَتْ فَأَخَذَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ فَزِعْتُ فَزَعًا عَرَفَهُ وَالْمُوسَى فِي يَدِهِ فَقَالَ أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ وَكَانَتْ تَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ قَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقًا رَزَقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ قَالَ ثُمَّ خَرَجُوا بِهِ مِنْ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فَقَالَ دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَرَوْا مَا بِي جَزَعًا مِنْ الْمَوْتِ لَزِدْتُ قَالَ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ هُوَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا مَا أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ إِلَى عَاصِمٍ لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ يَعْرِفُونَهُ وَكَانَ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنْ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى شَيْءٍ مِنْهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمی فوج کی طرف سے جاسوسی کرنے کے لیے بھیجے اور عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا سردار مقرر کیا چنانچہ وہ جاجوس چلے گئے جب مقام ہدہ میں جو عسفان اور مکہ کں درمیان ہے پہنچے تو قبیلہ ہذیل یعنی بنو لحیان کو ان کا علم ہو گیا اور ایک سو تیر انداز ان کے واسطے چلے اور جس جگہ جاسوسوں نے کھجوریں بیٹھ کر کھائی تھیں جو بطور زاد راہ کے مدینہ سے لائے تھے وہاں پہنچ کر کہنے لگے یہ مدینہ کی کھجوریں ہیں پھر وہ کھجوروں کں نشان کی وجہ سے ان کے پیچھے پیچھے ہو لئے حضرت عاصم اور ان کے ساتھیوں نے جو کافروں کو دیکھا تو ایک اونچی جگہ پر پناہ لے لی کافروں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور کہنے لگے تم اترآؤ اور اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو ہم اقرار کرتے ہیں کہ کسی کو قتل نہیں کریں گے سردار جماعت یعنی حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا خدا کی قسم آج میں تو کافر کی پناہ میں نہ اتروں گا الہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حال کی اطلاع دے دے کفار نے یہ سن کر ان کے تیر مارے اور عاصم سمیت سات آدمیوں کو شہید کر دیا با قی تین آدمی یعنی خبیب انصاری زید بن دثنہ اور ایک اور شخص قول و قرار لے کر کفار کی پناہ میں گئے کافروں کا جب ان پر قابو چل گیا تو کمانوں کی تانت اتار کر ان کو مضبوط جکڑ لیا ان میں تیسرا آدمی بولا یہ پہلی عہد شکنی ہے خدا کی قسم میں تمہارے ساتھ نہ جاؤں گا مجھ کو ان شہیدوں کی راہ پر چلنا ہے کافروں نے اس کو پکڑ کر کھینچا اور ہر چند ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ گیا آخر کار اس کو قتل کر دیا اور خبیب و ابن دثنہ کو لے چلے اور واقعہ بدر کے بعد دونوں کو فروخت کر دیا خبیب کو حارث بن عامر کی اولاد نے خریدا جنگ بدر کے دن خبیب نے ہی حارث بن عامر کو قتل کیا تھا بہر حال خبیب ان کے پاس قید رہے حارث کی بیٹی کا بیان ہے کہ جب سب کافر خبیب کو شہید کرنے کے لئے جمع ہوئے تو خبیب نے اصلاح کرنے کے لئے مجھ سے استرا مانگا میں نے دے دیا خبیب نے میرے ایک لڑکے کو ران پر بٹھا لیا مجھے اس وقت خبر نہ ہوئی جب میں اس کے پاس پہنچی اور میں نے دیکھا کہ میرا لڑکا اس کی ران پر بیٹھا ہے اور استرا اس کے ہاتھ میں ہے تو میں گھبرا گئی خبیب نے بھی خوف کے آثار میرے چہرہ پر دیکھ کر پہچان لیا اور کہنے لگے کہ کیا تم کو اس بات کا خوف ہے کہ میں اس کو قتل کردوں گا خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا بنت حارث کہتی ہے بخدا میں نے خبیب سے بہتر کبھی کوئی قیدی نہیں دیکھا خدا کی قسم میں نے ایک روز دیکھا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا انگور کا ایک خوشہ ہاتھ میں لیے کھا رہا ہے حالانکہ ان دنوں مکہ میں میوہ نہ تھا درحقیقت وہ خدا داد حصہ تھا جو خدا تعالیٰ نے خبیب کو مرحمت فرمایا تھا جب کفار خبیب کو قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر حل میں لے چلے تو قتل ہونے سے قبل خبیب بولے مجھے ذرا چھوڑ دو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں کافروں نے چھوڑ دیا خبیب نے دو رکعتیں پڑھ کر کہا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ یہ لوگ گمان کریں گے کہ موت سے ڈر گیا تو نماز طویل پڑھتا پھر کہنے لگے الہٰی ان سب کو ہلاک کردے ایک کو باقی نہ چھوڑ اس کے بعدیہ شعر پڑھے۔ اگرحالت اسلام میں میرا قتل ہو تو پھر مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں کہ راہ خدا میں کس پہلو پر میری موت ہوگی۔ میرا یہ مارا جانا راہ خدا میں ہے اور اگر خدا چاہے گا تو کٹے ہوئے عضو کے جوڑوں پر برکت نازل فرمائے گا اس کے بعدحارث کے بیٹے نے خبیب کو قتل کردیا۔ حضرت خبیب سب سے پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے ہر اس مسلمان کے لیے جو راہ خدا میں گرفتار ہو کر مارا جائے قتل ہوتے وقت دو رکعتیں پڑھنے کا طریقہ نکالا ہے۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے شہید ہوتے وقت جو دعاکی تھی خداتعالیٰ نے وہ قبول کرلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شہادت کی خبردے دی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے عاصم رضی اللہ عنہ وغیرہ کے مصائب کی کیفیت بیان فرما دی۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے چونکہ بدر کے دن کفار قریش کے ایک بڑے سردار کو مارا تھا اس لیے کافروں نے کچھ لوگوں کو بھیجا کہ جا کر عاصم کی کوئی نشانی لے آؤ تاکہ نشانی کے ذریعہ سے عاصم کی شناخت ہوجائے لیکن کچھ بھڑوں (زنبور) نے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی نعش کو محفوظ رکھا اور کفار حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے بدن کا گوشت نہ کاٹ سکے ۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کےساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَدُ الزِّنَا أَشَرُّ الثَّلَاثَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زناء کی پیداوار تین آدمیوں کا شر ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ عُتْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا فِي خِيَارٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بائع اور مشتری کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں یا یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْتَاعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِهِ وَلَا تَشْتَرِطُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی ) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لیے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اسے وہ مل کررہے گا جو اللہ نے اس کے لئے لکھ دیا ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الْحِمْصِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ دَعَوَاتٌ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَتْرُكُهَا مَا عِشْتُ حَيًّا سَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دعائیں سنی ہیں میں جب تک زندہ ہوں انہیں ترک نہیں کروں گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے اے اللہ مجھے اپنا شکر ادا کرنے والا کثرت سے اپنا ذکر کرنے والا اپنی نصیحت کی پیروی کرنے والا اور اپنی وصیت کی حفاظت کرنے والا بنا۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَيِّ شَيْءٍ سُمِّيَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَالَ لِأَنَّ فِيهَا طُبِعَتْ طِينَةُ أَبِيكَ آدَمَ وَفِيهَا الصَّعْقَةُ وَالْبَعْثَةُ وَفِيهَا الْبَطْشَةُ وَفِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْهَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا اسْتُجِيبَ لَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جمعہ کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کو جمعہ اس لئے کہتے ہیں کہ اسی دن تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی جمع کی گئی اسی دن صور پھونکاجائے گا اسی میں مردے دوبارہ زندہ ہوں گے اسی میں پکڑہوگی اور اس دن کی آخری تین ساعتیں ایسی ہیں کہ ان میں جو شخص اللہ سے دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ وَحَسْبُ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے اس پر ظلم نہیں کرتا اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا اس کی تحقیر نہیں کرتا کسی مسلمان کے شر کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى وَاللَّفْظُ لَفْظُ يَحْيَى بْنِ آدَمَ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلَاءَ فَأَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ فَاسْتَنْجَى ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ غَسَلَهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ بِهِ قَالَ أَبِي قَالَ أَسْوَدُ يَعْنِي شَاذَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ فِي رَكْوَةٍ وَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی ایک مرتبہ بیت الخلاء میں داخل ہوئے میں ایک برتن لے کر حاضر ہوا جسمیں پانی تھا نبی نے استنجاء کیا پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر اسے دھویا پھر میں ایک برتن لایا نبی نے اس سے وضو فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ أَمَرَنِي بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى كُلَّ يَوْمٍ وَالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَنَهَانِي عَنْ نَقْرَةٍ كَنَقْرَةِ الدِّيكِ وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْكَلْبِ وَالْتِفَاتٍ كَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے اور تین چیزوں سے منع کیا ہے وصیت تو (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی فرمائی ہے اور ممانعت نماز میں دائیں بائیں دیکھنے بندر کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمتوں کے آثار اپنے بندے پر دیکھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تُفْضِيَ إِلَى جِلْدِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی چنگاری پر بیٹھ جائے اور اس کے کپڑے جل جائیں اور آگ کا اثر اس کی کھال تک پہنچ جائے یہ کسی قبر پر بیٹھنے سے بہت بہتر ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي وَمَنْ اكْتَنَى بِكُنْيَتِي فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے نام پر اپنا نام رکھے وہ میری کنیت اختیار نہ کرے اور جو میری کنیت پر اپنی کنیت رکھے وہ میرا نام اختیار نہ کرے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا قَالَ دَخَلُوا زَحْفًا وَقُولُوا حِطَّةٌ قَالَ بَدَّلُوا فَقَالُوا حِنْطَةٌ فِي شَعَرَةٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادباری تعالیٰ ادخلوا الباب سجدا کی تفسیر میں فرمایا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ اپنی سرینوں کے بل گھستے ہوئے اس شہر میں داخل ہوں اور یوں کہیں حطۃ (الہٰی معاف فرما) لیکن انہوں نے اس لفظ کو بدل دیا اور کہنے لگے حنطۃ فی شعیرۃ (گندم درکار ہے جو کے ساتھ)
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ أَوْ قَالَ إِلَى الْمَسْجِدِ صَدَقَةٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی بات بھی صدقہ ہے اور جو قدم مسجد کی طرف اٹھاؤ وہ بھی صدقہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمَّى الْحَرْبَ خَدْعَةً
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کا نام چال رکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَضِرِ قَالَ إِنَّمَا سُمِّيَ خَضِرًا أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَحْتَهُ تَهْتَزُّ خَضْرَاءَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خضر علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ انہیں خضر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک سفید گھاس پر بیٹھے تو وہ نیچے سے سبز رنگ میں تبدیل ہو کر لہلہانے لگی۔
-
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَبَا قَتَادَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَجِيءُ الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا هُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہ کرنا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ وہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔
-