TrueHadith

عقیقہ کے جانوروں کی تعداد

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940090)

عن أم كرز قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : " أقروا الطير على مكناتها " . قالت : وسمعته يقول : " عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة ولا يضركم ذكرانا كن أو إناثا " . رواه أبو داود وللترمذي والنسائي من قوله : يقول : " عن الغلام " إلا آخره وقال الترمذي : هذا صحيح

" حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں قرار دو ، ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ۔ اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ " ( عقیقہ میں ) لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ، اور اس میں تمہارے لئے کوئی نقصان نہیں ہے کہ وہ ( بکری ) نر ہو یا مادہ ، یعنی اس بات کا لحاظ ضروری نہیں کہ لڑکے کے عقیقہ میں بکرے ذبح کئے جائیں اور لڑکی کے عقیقہ میں بکری ذبح کی جائے ( ابوداؤد ، ترمذی ) نسائی کی روایت میں یقول عن الغلام سے آخر تک ہے ۔ نیز ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔ " تشریح مکنات " میم کے زبر اور کاف کے زیر اور زبر کے ساتھ ہے اور مشکوٰۃ کے ایک نسخہ میں کاف کے پیش کے ساتھ بھی منقول ہے ۔ اس کے معنی " مکان " کے ہیں ۔ اس ارشاد گرامی " پرندوں کو ان کے کھونسلوں میں قرار دو " کا مطلب یہ ہے کہ ان ( پرندوں ) کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو اڑاؤ نہیں ۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مکنات اصل میں جمع ہے مکنۃ کی جس کے معنی ' ' سو سمار ( گوہ ) کے انڈے " کے ہیں ، لیکن یہاں یہ لفظ مطلق انڈوں کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے ، اس صورت میں اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر پرندے انڈوں پر بیٹھے ہوں تو ان کے گھونسلوں کو ہلا کر ان کو ستاؤ مت ۔ یا پھر اس ارشاد گرامی کا تعلق تطیر اور فال بد لینے کی ممانعت سے ہے ، جیسا کہ عرب میں لوگوں کا قاعدہ تھا کہ جب کوئی شخص کسی کام کا قصد کرتا، یا کہیں کا سفر کرنے کا ارادہ کرتا ، تو پرندے کے گھونسلے پر آتا اور اس کو چھیڑ کر اڑاتا ، اگر وہ پرندہ داہنی طرف اڑتا تو مبارک جان کر اور فال نیک سمجھ کر اس کام کو کرتا ، یا سفر پر روانہ ہو جاتا ، اور اگر وہ پرندہ بائیں طرف اڑتا تو اس کو منحوس سمجھ کر اس کام یا سفر سے باز رہتا ، اس کو تطیر کہتے ہیں ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ، کہ پرندہ جہاں ہو اس کو وہیں رہنے دو کہ اس کو مت اڑاؤ اور نہ اس سے بد فالی لو ۔

-

Permalink