TrueHadith

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سبیل زمزم پر

Mishkat SharifHadith (internal ref #1921210)

وعن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء إلى السقاية فاستسقى . فقال العباس : يا فضل اذهب إلى أمك فأت رسول الله صلى الله عليه و سلم بشراب من عندها فقال : " اسقني " فقال : يا رسول الله إنهم يجعلون أيديهم فيه قال : " اسقني " . فشرب منه ثم أتى زمزم وهم يسقون ويعملون فيها . فقال : " اعملوا فإنكم على عمل صالح " . ثم قال : " لولا أن تغلبوا لنزلت حتى أضع الحبل على هذه " . وأشار إلى عاتقه . رواه البخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سبیل پر تشریف لائے اور زمزم کا پانی مانگا، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے سے کہا کہ فضل! اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ان سے (زمزم کا وہ ) پانی مانگ لاؤ جو ان کے پاس رکھا ہوا ہے اور ابھی استعمال نہیں ہوا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم تو مجھے اسی سبیل سے پانی پلا دو۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی مضائقہ نہیں ہے مجھے اسی میں سے پلا دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پانی میں سے پیا اور پھر زمزم کے کنویں کے پاس تشریف لائے جہاں لوگ(یعنی عبدالمطلب کے خاندان والے) لوگوں کو پانی پلا رہے تھے اور اس خدمت میں پوری طرح مصروف تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا اپنا کام کئے جاؤ، کیونکہ تم ایک نیک کام میں لگے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا۔ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غلبہ پا لیں گے تو میں اپنی اونٹنی پر سے اترتا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب کے سامنے رہیں اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حج کے عملی احکام سیکھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مونڈھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ رسی اس پر رکھتا (یعنی اگر مجھے اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ مجھے پانی کھینچتا دیکھ کر میری سنت کی اتباع میں پانی کھینچنے لگیں گے اور اس سعادت کے حصول کے لئے اتنا اژدحام کریں گے کہ وہ تم پر غالب آ جائیں گے اور تمہیں پانی نہ کھینچنے دیں گے جس کی وجہ سے یہ مقدس خدمت تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے گی تو میں بھی اپنی اونٹنی سے اتر کر اس کنویں سے پانی کھینچتا۔ (بخاری) تشریح " لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں" اس بات سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ یہاں پانی پینے والوں کا اژدحام رہتا ہے اس میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جن کے ہاتھ صاف ستھرے نہیں ہوتے اور وہ پانی پینے کے لئے اس حوض میں اپنے ہاتھ ڈالتے رہتے ہیں اس لئے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اس پانی میں سے منگایا ہے جو بالکل الگ رکھا ہوا ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے منظور نہیں کیا اور فرمایا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے تم تو مجھے اسی حوض میں سے پانی پلا دو چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حوض سے پانی پیا گویا یہ بات اس روایت کی مانند ہے جس میں منقول ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچا ہوا پانی از راہ تبرک پینا پسند فرماتے تھے! نیز حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بطریق مرفوع (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی) نقل کیا ہے کہ " یہ چیز تواضع میں داخل ہے کہ انسان اپنے (کسی ) بھائی کا جھوٹا پئے ۔ لیکن لوگوں میں جو یہ حدیث مشہور ہے کہ سورت المؤمنین شفاء (مومنین کا جھوٹا شفا ہے) تو اس کے بارہ میں علماء لکھتے ہیں کہ یہ حدیث غیر معروف ہے۔ اس کے صحیح ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ مذکورہ بالا روایت سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمزم کے کنوئیں سے پانی کھینچنے اور پینے کے لئے اونٹنی سے اترے نہیں، جب کہ ایک اور روایت میں جو حضرت عطاء رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یہ بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب طواف افاضہ کر چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمزم کے کنویں سے ڈول (میں پانی کھینچا اور اس کھینچنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کوئی اور شریک نہیں تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے پیا اور ڈول میں جو پانی بچ گیا اسے کنویں میں ڈال دیا۔ ان دونوں روایتوں میں مطابقت یہ ہے کہ پہلے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھیڑ کی وجہ سے اونٹنی سے نہ اترے ہوں گے پھر دوبارہ تشریف لائے تو بھیڑ دیکھ کر پانی کھینچا اور پیا چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت کا تعلق پہلی مرتبہ سے ہے اور حضرت عطاء رضی اللہ عنہ کی روایت کا تعلق دوسری مرتبہ سے ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1921222)

وعنها قالت : أفاض رسول الله صلى الله عليه و سلم من آخر يومه حين صلى الظهر ثم رجع إلى منى فمكث بها ليالي أيام التشريق يرمي الجمرة إذا زالت الشمس كل جمرة بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة ويقف عند الأولى والثانية فيطيل القيام ويتضرع ويرمي الثالثة فلا يقف عندها . رواه أبو داود

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن آخری حصہ میں اس وقت فرض طواف کیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اس کے بعد منیٰ میں واپس آ گئے اور منیٰ میں ایام تشریق (یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخوں) کی راتیں بسر کیں، ان ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمروں پر اس وقت کنکریاں مارتے جب دوپہر ڈھل جاتی ہر جمرہ پر سات سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہتے اور پہلے دوسرے جمرہ (یعنی جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطی ) دعا و اذکار کے لئے دیر تک ٹھہرتے اور اس وقت مختلف دعاؤں اور عرض حاجات کے لئے تضرع اختیار کرتے اور پھر جب تیسرے جمرہ یعنی جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارتے تو اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔ (ابوداؤد) تشریح یہ حدیث اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو ظہر کی نماز مکہ میں پڑھی منیٰ میں نہیں پڑھی تھی۔ فلا یقف عندہا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ عقبہ کے پاس یا اس کے بعد ذکر و دعا نہیں کرتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرح دعا و اذکار کے لئے جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطی کے پاس دیر تک کھڑے رہتے تھے اس طرح دعا و اذکار کے لئے جمرہ عقبہ کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ وہاں چلتے چلتے ہی دعا وغیرہ کر لیا کرتے تھے۔

-

Permalink