وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا فَسَا اَحَدُکُمْ فِی الصَّلٰوۃِ فَلْیَنْصَرِفْ وَلْیَتَوَضَّأْ وَلْیُعِدِ الصَّلَاۃَ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَی التَّرِمِذِیُّ مَعَ زِیَادَۃٍ وَ نُقْصَانٍ۔
" اور حضرت طلق ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کو نین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " نماز کی حالت میں جب تم میں سے کسی کی بغیر آواز کے ریح خارج ہو تو اسے چاہیے کہ جا کر وضو کرے اور نماز کو دوبارہ پڑھے۔ اس روایت کو ترمذی نے بھی کچھ کمی زیادتی کے ساتھ نقل کیا ہے۔" (ابوداؤد) تشریح جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر نماز کی حالت میں کسی کی ریح خود بخود خارج ہوجائے تو اسے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھنا افصل ہے لیکن فقہی شرائط کے مطابق اگر کوئی آدمی وضو کر کے نماز از سر نو شروع نہ کرے بلکہ جہاں سے نماز چھوڑی تھی اسی پر بقیہ نماز کی بناء کرے تو جائز ہے چنانچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہی مسلک ہے اور انہوں نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے لیکن حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک، اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمم اللہ تعالیٰ علیہم کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے۔ یہ مسئلہ تو خود بخود ریح خارج ہونے کا ہے، اگر کوئی آدمی حالت نماز میں قصدا ریح خارج کرے تو اس کے لیے دوبارہ وضو کر کے از سر نو نماز پڑھنا واجب ہے۔
-
وَعَنْ عَآئِشَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ قَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَحْدَثَ اَحَدُکُمْ فِی صَلَا تِہٖ فَلْیَأْخُذْ بِاَنْفِہٖ ثُمَّ لِیَنْصَرِفْ۔ (رواہ ابوداؤد)
" اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کو نین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جب تم میں سے کسی کا وضو حالت نماز میں ٹوٹ جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی ناک پکڑ کر نماز سے نکل آئے۔" (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر حالت نماز میں کسی آدمی کی ریح خارج ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ ناک پکڑ کر وضو کے لیے چلا جائے تاکہ لوگ یہ گمان کریں کہ نکسیر پھوٹی ہے۔ ناک پکڑ کر نماز سے نکلنے کا حکم اس لیے فرمایا گیا تاکہ ایسا آدمی ایسے موقعہ پر شرمندگی و ندامت سے بچ جائے۔ کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ جس آدمی کی ریح خارج ہوئی ہے عام طور پر شرمندگی و ندامت کا باعث بنتا ہے پھر یہ کہ لوگ اس کے بارے میں کوئی چہ میگوئی نہ کریں گے بلکہ یہ جانیں گے کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی ہے جس کی وجہ سے نماز سے نکل گیا ہے۔ اس لیے علماء نے لکھا ہے کہ اگر کسی آدمی سے کوئی ایسا فعل سرزد ہو جائے جو لوگوں کی نظروں میں معیوب اور محل اعتراض بنتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اس فعل کو پوشیدہ رکھے اور لوگوں پر ظاہر نہ کرے تاکہ لوگ نہ اس کے بے آبروئی کے درپے ہوں اور نہ کھلم کھلا اس کی طرف وہ عیب منسوب کیا جائے جسے وہ چھپائے رکھنا چاہتا ہے اور اس کا یہ فعل چھپانا جھوٹ میں شمار نہیں ہوگا بلکہ معاریض ( کسی واقعہ کو اس طرح بیان کرنا کہ واقعہ کی پوری صراحت نہ ہو ایسے انداز کو تعریض فرماتے ہیں۔١٢۔) کی قسم سے ہوگا۔
-
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اَحْدَثَ اَحَدُکُمْ وَقَدْ جَلَسَ فِیْ اٰخِرِصَلَاتِہٖ قَبْلَ اَنْ یُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلٰوتُہُ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ اِسْنَادُہُ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ وَقَدِ اضْطَرَبُوْا فِی اَسْنَادِہٖ۔
" اور حضرت عبدا اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کو نین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اگر تم میں سے کسی کا وضو اس وقت ٹوٹے جب کہ وہ اپنی نماز کے آخری قعدے میں (بمقدار تشہد بیٹھ چکا) ہو اور سلام نہ پھیرا ہو تو اس کی نماز پوری ہوگئی۔ ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک ایسی حدیث ہے جس کی اسناد مضبوط نہیں ہے اور انہوں نے اس کی اسناد میں اضطراب ہونا بیان کیا ہے۔" تشریح حدیث کی مذکورہ صورت میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی قصدًا وضو توڑے گا تو اسکی نماز پوری ہو جائے گی کیونکہ اس کے نزدیک نمازی کا اپنے کسی بھی فعل کے ذریعے نماز سے نکلنا فرض ہے یعنی اگر کوئی آدمی نماز کے پورے ارکان ادا کرنے کے بعد نماز کو مکمل طور ختم کرنا چاہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی ایسا فعل اختیار کرے جو نماز کے خاتمے کا ذریعہ بن جائے جیسا کہ سلام پھیرنا۔ چنانچہ اتنی بات سمجھ لیجئے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک نماز کو محض سلام کے ذریعے ہی ختم کرنا فرض نہیں ہے بلکہ اگر کوئی آدمی نماز کے ارکان کے بعد بجائے سلام پھیرنے کے کوئی ایسا دوسرا فعل اختیار کرے جو نماز کے منافی ہو تو اس کی نماز پوری ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ امام اعظم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی آخری قعدے میں تشہد وغیرہ پڑھنے کے بعد قصدا اپنا وضو توڑ ڈالے تو اس کی نماز پوری ہو جائے گی کیونکہ اس نے نماز کے ارکان پورے کرنے کے بعد ایسا طریقہ اختیار کیا ہے جو نماز کے خاتمہ کا ذریعہ بن گیا ہے اگرچہ وہ ترک واجب کا گنہ گاہ ہوگا مگر فرض ادا ہو جائے گا کیونکہ امام اعظم کے نزدیک سلام کے ذریعہ نماز کو پورا کرنا واجب ہے۔ صاحبین یعنی امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک قصدا وضو توڑنے کی شرط نہیں ہے بلکہ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا صورت میں کسی کا وضو خود بخود ٹوٹ جائے تو اس کی نماز تمام ہو جائے گی یعنی فرض پورا ہو جائے گا۔ لہٰذا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک یہ حدیث قصدا وضو توڑنے پر محمول ہے اور صاحبین کے نزدیک مطلق ہے خواہ کوئی قصدا وضو توڑ دے یا اس کا وضو خود بخود ٹوٹ جائے۔ چنانچہ یہ حدیث حنفیہ خصوصا صاحبین کے مسلک کی موید ہے بخلاف حضرات امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے کہ ان کے نزدیک نماز کو صرف سلام کے ذریعے پورا کرنا فرض ہے۔ حدیث مضطرب وہ حدیث کہلاتی ہے جو مختلف الفاظ اور مختلف وجوہ سے نقل کی گئی ہو اور یہ چیز حدیث کے ضعف کی علامت ہوتی ہے کیونکہ حدیث کا اس طرح مروی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ راویان حدیث کو حدیث پوری طرح یاد نہیں رہی۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کو مضطرب و ضعیف تسلیم نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے کہا ہے کہ یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے جن کو امام طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے نقل کیا ہے اور اصول حدیث میں یہ بات مسلم ہے کہ کسی حدیث ضعیف کا متعدد طرق سے مروی ہونا اسے حسن کے قریب کر دیتا ہے۔
-