TrueHadith

باآواز بلند رونا برا ہے

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920212)

وعن عبد الله بن عمر قال : اشتكى سعد بن عبادة شكوى له فأتاه النبي صلى الله عليه و سلم يعوده مع عبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص وعبد الله بن مسعود فلما دخل عليه وجده في غاشية فقال : ( قد قضى ؟ قالوا : لا يا رسول الله فبكى النبي صلى الله عليه و سلم فلما رأى القوم بكاء النبي صلى الله عليه و سلم بكوا فقال : ألا تسمعون ؟ إن الله لا يعذب بدمع العين ولا بحزن القلب ولكن يعذب بهذا وأشار إلى لسانه أو يرحم وإن الميت لعيذب ببكاء أهله

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبداللہ بن مسعود بھی آپ کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو انہیں بے ہوشی کی حالت پایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ان کا انتقال ہو گیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سعد کی حالت دیکھ) رونے لگے جب صحابہ نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رونے لگے پھر آپ نے فرمایا۔ اچھی طرح سن لو ! کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں کے آنسو بہانے اور دل کے غمگین ہونے پر عذاب نہیں کرتا آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا البتہ خدا اس کی وجہ سے عذاب بھی کرتا ہے اور رحم بھی یعنی اگر کسی حادثہ و مصیبت کے وقت زبان سے ناشکری کے یا بارگاہ الوہیت میں بے ادبی کے الفاظ نکلیں یا نوحہ کر کے رویا جائے تو یہ مستحق عذاب ہے اور اگر ایسے موقع پر زبان حمد و شکر میں مشغول رہے اور انا للہ پڑھا جائے تو مستحق رحمت و ثواب ہے نیز مردہ کو اپنے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر مردہ کے اہل و عیال اور اس کے گھر والے باآواز بلند یعنی پکار پکار روتے ہیں یا نوحہ کرتے ہیں تو اس مردہ کو عذاب ہوتا ہے، اس مسئلہ کی تحقیق تیسری فصل میں آئے گی انشاء اللہ۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920213)

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " جو شخص ہمارے راستے پر چلنے والوں میں سے نہیں ہے جو رخساروں کو پیٹے، گریبان چاک کرے اور ایام جاہلیت کی طرح آواز بلند کرے (یعنی رونے کے وقت زبان سے ایسے الفاظ اور ایسی آواز نکالے جو شرعا ممنوع ہے جیسے نوحہ یا واویلا کرنا وغیرہ وغیرہ۔ (بخاری ومسلم) تشریح یہاں رخساروں کو پیٹنے اور گریبان چاک کرنے والے کے لیے جو وعید فرمائی جا رہی ہے یہی وعید اس شخص کے لیے بھی ہے جو سر سے پگڑی و ٹوپی اتار پھینکے یا سر اور داڑھی کے بال نوچنے لگے کیونکہ ان سب چیزوں کا ایک ہی حکم ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920214)

وعن أبي بردة قال : أغمي على أبي موسى فأقبلت امرأته أم عبد الله تصيح برنة ثم أفاق فقال : ألم تعلمي ؟ وكان يحدثها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " أنا بريء ممن حلق وصلق وخرق " . ولفظه لمسلم

حضرت ابی بردہ کہتے ہیں (ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ بے ہوش ہو گئے تو ان کی عورت ام عبداللہ چلا چلا کر رونے لگی جب حضرت ابوموسیٰ کو ہوش آیا تو انہوں نے کہا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم؟ کہ چلا چلا کر رونا کتنا برا ہے چنانچہ راوی کہتے ہیں کہ پھر ابوموسیٰ ان سے یہ حدیث بیان کرنے لگے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس شخص سے بیزار ہوں جو مصیبت و حادثہ کے وقت سر کے بال منڈائے چلاچلا کر روئے اور اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ (بخار ومسلم) حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ تشریح زمانہ جاہلیت میں اس قسم کے افعال عورتوں سے سرزد ہوتے تھے لہٰذا مسلمانوں کو ان باتوں سے اچھی طرح پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے شخص سے بیزار ہوتے ہیں جو ان غلط اور باطل چیزوں میں مبتلا ہوتا ہے۔

-

Permalink