TrueHadith

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پچھونا

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940242)

وعن عائشة قالت : كان فراش رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي ينام عليه أدما حشوه ليف

اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بچھونا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے چمڑے کا تھا اور اس میں (روئی کی جگہ ) کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔" (بخاری ومسلم ) تشریح شمائل ترمذی میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے جو روایت منقول ہے اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچھونا ٹاٹ کا تھا، لہٰذا ان دونوں روایتوں میں کوئی تضاد و تناقض نہیں، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی زمانہ میں چمڑے کا بچھونا رہا ہو گا، اور کسی زمانے میں ٹاٹ کا یا یہ کہ سونے کا بچھونا تو چمڑے کا ہو گا اور بیٹھنے کا بچھونا ٹاٹ کا ہو گا ۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940256)

وعن أسماء بنت أبي بكر : أنها أخرجت جبة طيالسة كسروانية لها لبنة ديباج وفرجيها مكفوفين بالديباج وقالت : هذه جبة رسول الله صلى الله عليه وسلم كانت عند عائشة فلما قبضت قبضتها وكان النبي صلى الله عليه وسلم يلبسها فنحن نغسلها للمرضى نستشفي بها . رواه مسلم

اور حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے طیلسانی کا کسروانی جبہ نکالا، اس کے گریبان پر (سبخاف یعنی گوٹ کے طور پر ) ریشمی کپڑے کا ٹکڑا سلا ہوا تھا اور اس کی دونوں کشادگیوں پر بھی ریشمی بیل ٹکی ہوئی تھی پھر انہوں نے فرمایا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا اور جب ان کی وفات ہوئی تو (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی میراث سے جو میری بہن تھیں ) میرے قبضے میں آ گیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جبہ کو (کبھی کبھی ) پہن لیا کرتے تھے، ہم اس کو بیماروں کے لئے دھوتے ہیں (یعنی اس کے دھوئے ہوئے پانی کو بیماروں کو پلاتے ہیں) اور اس کے ذریعہ شفا حاصل کرتے ہیں ۔" (مسلم ) تشریح " طیالس " اصل میں " طیلسان " کی جمع ہے اور طیلسان، ایک دوسری زبان کے لفظ " تالسان " کا معرب ہے جو ایک خاص قسم کی چادر کو کہتے ہیں، یہ چادر سیاہ رنگ کی ہوتی ہے اور صوف (اون) سے بنتی ہے پہلے زمانہ میں اس چادر کو عام طور پر یہودی لوگ اوڑھا کرتے تھے یہاں حدیث میں جس جبہ (چغہ ) کا ذکر کیا گیا ہے وہ اسی چادر کا بنایا گیا تھا، اور سیاہ رنگ کا مدور تھا چونکہ اس طرح کا جبہ فارس (ایران) کے بادشاہ خسرو کی طرف منسوب ہوتا تھا اور خسرو کا عربی لفظ کسریٰ یا بعض کے مطابق کسریٰ ہے اس لئے اس جبہ کو کسروانی کہا گیا ہے ۔ " دونوں کشادگیوں " سے مراد جبہ کے وہ دونوں کنارے ہیں جہاں سے جبہ کھلا ہوتا ہے اور جو ایک آگے اور ایک پیچھے ہوتا ہے جیسا کہ عام طور پر بعض جبوں کے آگے اور پیچھے دامن میں چاک کھلے ہوتے ہیں انہی دونوں چاکوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان پر جو سبخاف (گوٹ یا بیل ) ٹکی ہوئی تھی وہ ریشم کی تھی ۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے اس جبہ کو اس لئے نکالا تھا کہ لوگوں کو اس نعمت و برکت کا ان (اسماء رضی اللہ عنہا ) کے پاس ہونا معلوم ہوا اور یہ ظاہر کرنا بھی مقصد تھا کہ اگر جبہ پر اس طرح کی ریشمی سبخاف ٹکی ہوئی ہو تو اس کو پہننا جائز ہے ۔ واضح رہے کہ اس حدیث سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی سبخاف لگے ہوئے جبہ کو پہنا ہے جب کہ اسی باب کی دوسری فصل میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ " میں ایسا کرتا نہیں پہنتا جس پر ریشمی سبخاف ٹکا ہو۔" لہٰذا ان دونوں روایتوں میں بظاہر جو تضاد نظر آتا ہے اس کو اس توجیہ کے ذریعہ دور کیا جائے گا کہ حضرت عمران رضی اللہ عنہ کی روایت اس صورت پر محمول ہے جب کہ وہ ریشمی سبخاف چار انگشت سے زائد ہو اور یہاں جو روایت نقل کی گئی ہے یہ چار انگشت یا اس سے کم ریشمی سبخاف کے ٹکے ہوئے ہونے پر محمول ہے یا یہ کہ حضرت عمران رضی اللہ عنہ کی روایت کا منشاء احتیاط و تقویٰ کی صورت کو بیان کرنا ہے اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا مقصد اصل جواز کو ظاہر کرنا ہے ۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ بعض اعتبار سے کرتے میں جبہ کی بہ نسبت زیادہ ٹھاٹ باٹ اور آسودگی کا اظہار ہوتا ہے (اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی سبخاف کے ٹکے ہوئے کرتے کو پہننا پسند نہیں فرمایا اور ریشمی سبخاف ٹکا ہوا جبہ پہنا ۔ " اور اس کے ذریعہ شفا حاصل کرتے ہیں " کا مطلب یہ ہے کہ یا تو اس کے دھوئے ہوئے پانی کو بیماروں کو پلاتے ہیں جس سے ان کو شفا ملتی ہے یا اس شفایابی کے مقصد سے اس جبہ کو مریض کے سر پر اور آنکھوں پر رکھتے لگاتے ہیں اور یا اس جبہ کو ہاتھ سے چھو کر یا اس کو بوسہ دے کر اس کی برکت سے شفا حاصل کرتے ہیں ۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940315)

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم أراد أن يكتب إلى كسرى وقيصر والنجاشي فقيل : إنهم لا يقبلون كتابا إلا بخاتم فصاغ رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما حلقة فضة نقش فيه : محمد رسول الله . رواه مسلم . وفي رواية للبخاري : كان نقش الخاتم ثلاثة أسطر : محمد سطر ورسول الله سطر والله سطر وعنه أن نبي الله صلى الله عليه وسلم كان خاتمه من فضة وكان فصه منه . رواه البخاري

اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ واپس آ کر، کسری (فارس کے بادشاہ ) قیصر (روم کے بادشاہ ) اور نجاشی (حبشہ کے بادشاہ ) کو (اسلام کی دعوت دینے کے لئے ) خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو عرض کیا گیا کہ (مروج قاعدہ کے مطابق ) یہ (بادشاہ ) اسی خط کو قبول کرتے ہیں یعنی مستند سمجھتے ہیں جس پر مہر لگی ہوئی ہو، چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے حلقہ والی انگوٹھی بنوائی جس میں محمد رسول اللہ کندہ کر دیا گیا ۔ ( مسلم ) اور بخاری کی ایک ورایت میں یوں منقول ہے کہ اس انگوٹھی میں جو الفاظ کندہ کرائے گے تھے وہ تین سطروں میں تھے اس طرح کہ ایک سطر میں (جو سب سے نیچی تھی ) محمد کا لفظ تھا ایک سطر میں (جو پیچ میں تھی ) رسول کا لفظ تھا اور ایک سطر میں (جو سب سے اوپر تھی ) اللہ (کا لفظ ) تھا ۔ تشریح یہاں انگوٹھی کے ضمن میں صرف اس کے حلقہ کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے اس کے نگینہ کے بارے میں ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ انگلی میں خلقہ ہی پہنا جاتا ہے اور وہی محل استبعاد بھی ہے اس لئے بیان جواز کی خاطر اس کا ذکر کیا گیا تاہم دوسری احادیث میں نگینہ کا بھی ذکر ہے چنانچہ بعض روایتوں میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ اس کا نگینہ حبشی یعنی عقیق کا تھا چنانچہ اس کا ذکر ا گے ا ر ہا ہے مہر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو الفاظ کندہ تھے ان کی ہیت امام نووی نے وہی بیان کی ہے جو اوپر ذکر کی گئی یعنی اوپر کی سطر میں اللہ بیچ کی سطر میں رسول اور نییچے کی سطر میں محمد کا لفظ تھا گویا اس مہر کی یہ صورت تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض حضرات نے اس مہر کی یہ صورت بیان کی ہے محمد رسول اللہ و اللہ اعلم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہا کرتی تھی ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اور ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ا ئی لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلافت کے ا خری دور میں وہ انگوٹھی ایک دن معیقیب کے ہاتھ سے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خادم تھے اریس کنویں میں گر پڑی اور پھر اس کو بہت زیادہ تلاش کیا گیا مگر نہیں ملی علماء لکھتے ہیں کہ وہ فتنہ و فساد اور اختلاف و انتشار جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ا خری دور خلافت میں اور پھر ان کے بعد اسلامی مملکت میں پیدا ہوا اس کا باعث اس مبارک انگوٹھی کا گم ہونا تھا کیونکہ اس انگوٹھی میں حق تعالیٰ نے ایسی برکت عطا فرمائی تھی جو حکومت و مملکت کے انتظام و انصرام کا ایک مؤثر ذریعہ تھی جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی مہر والی انگوٹھی کی خاصیت تھی

-

Permalink