TrueHadith

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرأت

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920707)

وعن قتادة قال : سئل أنس : كيف كانت قراءة النبي صلى الله عليه و سلم فقال : كانت مدا مدا ثم قرأ : بسم الله الرحمن الرحيم يمد ببسم الله ويمد بالرحمن ويمد بالرحيم . رواه البخاري

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرات کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا کہ آپ کی قرات درازی کے ساتھ ہوتی تھی پھر انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ اس طرح بسم اللہ دراز کرتے تھے (یعنی بسم اللہ الہ کے الف کو الف کے مقصود کے بقدر کھینچتے تھے، رحمن کو دراز کرتے تھے (یعنی اس کے الف کو بھی کھینچتے تھے) اور رحیم کو دراز کرتے تھے (یعنی رحیم کی یا کو اصلی یا عرضی مد کرتے تھے۔ (بخاری) تشریح آپ کی قرات درازی کے ساتھ ہوتی تھی۔ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حروف مد اور لین کو بقدر معروف مد کرتے تھے جو ارباب وقوف (یعنی ارباب تجوید) کے قواعد وشرائط کے مطابق ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حروف تین ہیں واؤ، الف، یا ، چنانچہ اس بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ جب ان کے بقدر ہمزہ ہو تو الف کے بقدر ان کو مد کرنا چاہئے بعض حضرات کہتے ہیں کہ دو الف سے پانچ الف تک کے بقدر مد کرنا چاہئے۔ بقدر الف سے درازگی آواز مراد ہے جب کہ کہا جائے با یا تا۔ اور اگر حروف مد کے تشدید ہو تو بقدر چار الفوں کے مد کرنا چاہئے اتفاقا جیسے دابۃ اور ان کے بعد حرف ساکن ہو تو بقدر دو الفوں کے مد کرنا چاہئے اتفاقا جیسے مار اور یعلمون اور ان کے بعد مذکورہ بالا حروف کے علاوہ حرف ہو تو مد نہیں کرنا چاہئے صرف اسی آواز پر اکتفاء کرنا چاہئے جو اس حرف کے نکلنے کے بقدر ہو جیسے ایاک یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ بسم اللہ میں جو مد ہوتے ہیں وہ سب اسی قبیل سے ہیں۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920721)

وعن الليث بن سعد عن ابن أبي مليكة عن يعلى بن مملك أنه سأل أم سلمة عن قراءة النبي صلى الله عليه و سلم فإذا هي تنعت قراءة مفسرة حرفا حرفا . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

حضرت لیث ابن سعد حضرت ابن ابی ملیکہ سے نقل کرتے ہیں اور وہ حضرت یعلیٰ بن مملک کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرات کے بارہ میں پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کریم کس طرح پڑھتے تھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرات کو واضح طور پر اور ایک ایک حرف کر کے بیان کیا۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) تشریح مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کریم اس طرح پڑھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرات کے حروف کو اگر کوئی شمار کرنا چاہتا تو یہ ممکن تھا گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوب ترتیل سے تجوید کے طور پر پڑھتے تھے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارہ میں منقول الفاظ دونوں احتمال رکھتے ہیں یا تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرات کی کیفیت کو الفاظ میں بیان کی یا یہ کہ انہوں نے قرآن کریم اسی طرح پڑھ کر سنایا جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بارہ میں منقول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے بغیر ترتیل کے سارے قرآن کو پڑھنے کی بہ نسبت صرف ایک سورت ترتیل کے ساتھ پڑھنا میرے نزدیک محبوب و پسندیدہ ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920722)

وعن ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن أم سلمة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقطع قراءته يقول : الحمد لله رب العالمين ثم يقف ثم يقول : الرحمن الرحيم ثم يقف . رواه الترمذي وقال : ليس إسناده بمتصل لأن الليث روى هذا الحديث عن ابن أبي مليكة عن يعلى بن مملك عن أم سلمة وحديث الليث أصح

ابن جریج حضرت ابن ملیکہ رحمہما اللہ سے اور وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرات علیحدہ علیحدہ ہوتی تھی الحمدللہ رب العالمین پڑھتے اور پھر ٹھہرتے پھر الرحمن الرحیم پڑھتے اور ٹھہرتے امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند متصل نہیں ہے کیونکہ اس کا اصل سلسلہ سند یہ ہے حضرت ابن ملیکہ نے نقل کیا حضرت یعلی بن مملک سے اور انہوں نے نقل کیا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے (جیسا کہ پہلی حدیث کا سلسلہ سند ہے) اور حضرت لیث کی حدیث جو پہلے گزری زیادہ صحیح ہے۔ تشریح بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں ہے اہل بلاغت اس روایت کو قبول نہیں کرتے کیونکہ از روئے قاعدہ وقف تام مالک یوم الدین پر ہے اسی لئے امام ترمذی نے فرمایا کہ اس بارہ میں زیادہ صحیح حدیث حضرت لیث کی ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک اس قسم کی آیتوں میں کہ جو آپس میں ایک دوسرے سے مربوط ومتعلق ہیں وصل اولیٰ ہے جب کہ جزری کا قول ہے کہ وقت مستحب ہے ان کی دلیل یہی حدیث ہے دیگر شوافع کا مسلک بھی یہی ہے کہ اس حدیث کے بارہ میں جمہور کی طرف سے یہ جواب دیا ہے کہ وقف اسلیے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سننے والوں کو یہ بتا دیں کہ ان آیتوں کی ابتداء کہاں سے ہے۔

-

Permalink