TrueHadith

وہ خوش قسمت جن کی دعائیں رد نہیں ہوتیں

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920770)

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " ثلاثة لا ترد دعوتهم : الصائم حين يفطر والإمام العادل ودعوة المظلوم يرفعها الله فوق الغمام وتفتح لها أبواب السماء ويقول الرب : وعزتي لأنصرنك ولو بعد حين " . رواه الترمذي

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین شخص ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی۔ (١) روزہ دار جب افطار کرتا ہے (یعنی روزہ دار جب افطار کرتے وقت دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے کیونکہ وہ عبادت کی ادائیگی کے بعد ہوتی ہے اور یہ کہ اس وقت عاجزی اور مسکینی کا پیکر ہوتا ہے (٢) لوگوں کا سردار حاکم جو عدل و انصاف کرے (کیونکہ حدیث میں منقول ہے ایک ساعت کا عدل ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے اس لئے اس فضیلت و شرف کی وجہ سے عادل سردار و حاکم کی دعا قبول ہوتی ہے۔ (٣) مظلوم کی دعا جب مظلوم دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو بادلوں کے اوپر اٹھاتا ہے اور اس دعا کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور پروردگار فرماتا ہے کہ قسم ہے مجھے اپنی عزت کی میں تیری مدد ضرور کروں گا اگرچہ وہ کچھ مدت بعد ہی ہو (یعنی تیرا حق ضائع نہیں کروں گا) اور تیری دعا کو رد نہیں کروں گا اگر مدت دراز گزر جائے۔ (ترمذی) تشریح مظلوم کی دعا کو بادلوں کے اوپر اٹھانا اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازوں کا کھلنا دراصل کنایہ ہے اس بات سے کہ مظلوم کی دعا اوپر پہنچتی ہے اور جلد قبول ہوتی ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920771)

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " ثلاث دعوات مستجابات لا شك فيهن : دعوة الوالد ودعوة المسافر ودعوة المظلوم " . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ایک تو باپ کی دعا ، دوسری مسافر کی دعا اور تیسری مظلوم کی دعا۔ (ترمذی، ابوداؤد ، ابن ماجہ) تشریح باپ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ باپ اپنی اولاد کے حق میں خواہ دعا کرے یا بددعا دونوں جلد قبول ہو جاتی ہیں اور جب باپ کی دعا قبول ہوتی ہے تو ماں کی دعا بطریق اولیٰ قبول ہوتی ہے اگرچہ یہاں حدیث میں ماں کی دعا کے بارہ میں ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن بات یہی ہے کیونکہ ماں اپنی اولاد کے حق میں باپ کی بہ نسبت زیادہ شفیق ہوتی ہے۔ " مسافر کی دعا " کے بارہ میں دو احتمال ہیں یا تو یہ کہ مسافر کی دعا اس شخص کے حق میں قبول ہوتی ہے جو اس کے ساتھ احسان اور اچھا سلوک کرتا ہے اور اس کی بددعا اس شخص کے حق میں قبول ہوتی ہے جو اسے تکلیف و ایذاء پہنچاتا ہے اور اس کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، یا پھر یہ کہ مسافر کی دعا مطلقاً قبول ہوتی ہے خواہ وہ اپنے لئے کرے یا دوسرے کے لئے۔ مظلوم کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مظلوم کی مدد کرتا ہے یا اس کو تسلی و تسکین دلاتا ہے اور مظلوم اس کے حق میں دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے اسی طرح جو شخص مظلوم پر ظلم کرتا ہے یا جو شخص ظالم کی حمایت و تائید کر کے مظلوم کی ذہنی، روحانی اور جسمانی تکلیف و مصیبت میں اضافہ کرتا ہے اور مظلوم اس شخص کے حق میں بد دعا کرتا ہے تو اس کی بد دعا قبول ہوتی ہے۔ اسی طرح جو شخص ظالم کی حمایت وتائید کر کے مظلوم کی ذہنی روحانی اور جسمانی تکلیف و مصیبت میں اضافہ کرتا ہے اور مظلوم اس کے حق میں بد دعا کرتا ہے تو اس کی بد دعا قبول ہوتی ہے۔

-

Permalink