-
اذان اللہ تعالیٰ کے اذکار میں ایک بہت بڑے رتبے کا ذکر ہے اس میں تو حید اور رسالت کی شہادت اعلان کے ساتھ ہوتی ہے اس سے اسلام کی شان و شوکت ظاہر ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اذان دینے کی فضیلت اور اس کا ثواب بہت زیادہ ہے چنانچہ اس عنوان کے تحت وہ احادیث ذکر کی جائیں گی جن سے معلوم ہوگا کہ اذان دینا درحقیقت برکت و سعادت سے اپنا دامن بھرنا ہے۔ اب اس میں کلام ہے کہ آیا اذان کہنا زیادہ افضل ہے یا امامت کہنا؟ چنانچہ مختار اور معتمد قول یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو یہ یقین ہو کہ وہ امامت کے پورے حقوق بجا لائے گا تو اس کے لیے امامت کرنا افضل ہوگا ورنہ بصورت دیگر اس کے لیے اذان کہنا ہی افضل ہوگا۔ علماء کا اس معاملے میں اختلاف ہے کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اذان کہی ہے یا نہیں؟ گو ایک حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کہی ہے مگر بعض حضرات نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے کر اذان کہلائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو اس طرح تعبیر کیا گیا ہے جیسے کہ محاورے میں کہا جاتا ہے کہ فلاں بادشاہ نے قلعہ بنایا ہے حالانکہ بادشاہ خود اپنے ہاتھ سے قلعہ نہیں بناتا بلکہ اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس نے حکم دے کر قلعہ بنوایا ہے ۔ دار قطنی کی ایک روایت میں اس کی تصریح بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کہنے کا حکم کیا تھا (نہ کہ خود اذان دی تھی) وا اللہ اعلم۔ اذان کا جواب دینا واجب ہے اگر کئی آدمی مل کر اذان دیں تو اس شکل میں حرمت اول کے لیے ہوگی یعنی اس کا جواب دینا چاہئے اور اگر کوئی آدمی کئی طرف سے یعنی مختلف محلوں کی مساجد سے اذان سنے تو صرف اپنی مسجد کے مؤذن کا جواب دینا واجب ہوگا اور اگر کوئی آدمی اذان کے وقت مسجد میں بیٹھا ہوا ہو تو اس کے لیے اذان کا جواب واجب نہیں ہے کیونکہ اس شکل میں تو اسے اجابت فعلی حاصل ہی ہے۔ اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے کہ قرآن پڑھنے والا آدمی اذان کا جواب دے یا نہ دے !چنانچہ اس سلسلے میں مختار قول یہ ہے کہ وہ اذان کا جواب نہ دے۔
-
عَنْ مُعَاوِیہ قال سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُوْنَ اَطْوَلُ النَّاسِ اَعْنَاقًا ےَّوْمَ الْقِےٰمَۃِ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے روز لوگوں میں سے زیادہ اونچی گردنوں والے مؤذن ہوں گے۔ تشریح اونچی گردن کے معنی کے تعین میں مختلف اقوال ہیں چنانچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ دنیا میں اذان دیتے تھے وہ قیامت کے روز بہت زیادہ ثواب والے اور مرتبے والے ہوں گے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ موذن قیامت کے روز سردار ہوں گے ۔ کچھ حضرات فرماتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں قیامت کے روز موذن بہت زیادہ ثواب کے امیدوار ہوں گے کیونکہ جو آدمی کسی چیز کے حصول کی امید رکھتا ہے وہ گردن اونچی کر کے اس چیز کو دیکھتا ہے، اسی طرح میدان حشر میں جب کہ تمام لوگ حساب و کتاب کی بناء پر رنج و فکر میں ہوں گے۔ مؤذن آرام و راحت کے ساتھ اس بات کے منتظر ہوں گے کہ اب جنت میں داخلے کا حکم کیا جائے گا۔ بعض حضرات نے اس کے معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ قیامت کے روز موذنوں کو باری تعالیٰ رب العزت کی بارگاہ میں مقام قرب و عزت حاصل ہوگا۔
-
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ اَدْبَرَ الشَّےْطَانُ لَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَا ےَسْمَعَ التَأذِےْنَ فَاِذَا قُضِیَ النِّدَآءُ اَقْبَلَ حَتّٰی اِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلٰوۃِ اَدْبَرَ حَتّٰی اِذَا قُضِیَ التَّثْوِےْبُ اَقْبَلَ حَتّٰی ےَخْطُرَ بَےْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِہٖ ےَقُوْلُ اذْکُرْ کَذَا اُذْکُرْ کَذَا لِمَالَمْ ےَکُنْ ےَّذْکُرُ حَتّٰی ےَظَلَّ الرَّجُلُ لَا ےَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگ کھڑا ہوتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے، جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو پھر آتا ہے اور جس وقت تکبیر ہوتی ہے تو پھر پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو واپس آجاتا ہے تاکہ انسان اور اس کے دل کے درمیان خطرات پیدا کرے چنانچہ (نمازی سے) کہتا ہے کہ فلاں چیز یاد کرو، فلاں بات یاد کرو (اس طرح نماز شروع کرنے سے پہلے مال و اولاد، حساب و کتاب اور خرید و فروخت کے سلسلے میں) جو باتیں نمازی کو یاد نہیں ہوتیں وہ یاد دلاتا ہے، یہاں تک کہ آدمی (یعنی نمازی کو) کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔" (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح بعض فرماتے ہیں کہ شیطان کا گوز مارنا حقیقۃ ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی جسم رکھتا ہے اس لیے ایسا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے چنانچہ جس طرح گدھے پر جب وزن رکھ دیا جاتا ہے تو وہ بوجھ کی زیادتی کی وجہ سے گوز مارتا ہے اسی طرح شیطان پر بھی اذان بہت بھاری ہوتی ہے اور وہ گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب اذان شروع ہوتی ہے تو شیطان ایک آواز نکالتا ہے جو کان میں بھر جاتی ہے اور اس سے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اذان نہ سن سکے۔ اس آواز کو اس کی برائی و خرابی بیان کرنے کے لیے یہاں گوز مارنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انسان اور اس کے دل کے درمیان خطرات پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نمازی اور اس کے دل کے درمیان وساوس و خطرات حائل کر دیتا ہے اور اس کے دل کو دنیا کی باتوں کی طرف لگا دیتا ہے تاکہ نماز میں حضوری قلب کی دولت میسر نہ آسکے۔ اگر کوئی یہ پوچھے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ شیطان قرات قرآن اور عظمت سے تو بھاگتا نہیں مگر اذان سے بھاگتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اذان کے کلمات میں ایسی ہیبت اور عظمت رکھ دی ہے جو شیطان کو خوف و ہر اس میں مبتلا کر دیتا ہے۔
-
وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدِ نِ الْخُدْرِیِّص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَسْمَعُ مَدٰی صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا اِنْسٌ وَّلَا شَیْ ءٌ اِلَّا شَھِدَ لَہُ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ ۔(صحیح البخاری)
" اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤذن کی انتہائی آواز کو جو بھی سنتا ہے خواہ انسان ہو یا جن اور یا جو بھی چیز وہ سب قیامت کے دن مؤذن (کے ایمان) کی گواہی دیں گے۔" (صحیح البخاری ) تشریح مدی کے معنی" انتہا یعنی اخیر" ہیں۔ آواز کی انتہا یہ ہے کہ اس کی بھنک میں آجائے اور یہ نہ معلوم ہو کہ آواز دینے والا کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں اگرچہ یہی معنی کافی تھا کہ " موذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے الخ" لیکن مدی بمعنی انتہاء کو ذکر کر کے اس طرف اشارہ مقصود تھا کہ جن کے کان میں اذان کی محض بھنک پڑ جائے گی جب وہ موذن کے ایمان کی گواہی دیں گے تو وہ لوگ تو بطریقی اولیٰ گواہ ہوں گے جو موذن کے قریب ہوں گے اور اذان کو قریب سے سنیں گے۔ علماء لکھتے ہیں کہ درحقیقت اس حدیث سے موذن کو ترغیب دلانی مقصود ہے کہ اذان نہایت بلند آواز سے کہا کریں تاکہ ان کے ایمان کی گواہی دینے والے زیادہ سے زیادہ ہوں۔
-
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا ےَقُوْلُ ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ فَاِنَّہُ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ صَلٰوۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَےْہِ بِھَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُواللّٰہَ لِیَ الْوَسِےْلَۃَ فَاِنَّھَا مَنْزِلَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ لَا تَنْبَغِیْ اِلَّا لِعَبْدٍ مِّنْ عِبَادِ اللّٰہِ وَاَرْجُوْا اَنْ اَکُوْنَ اَنَا ھُوَ فَمَنْ سَاَلَ لِیَ الْوَسِےْلَۃَ حَلَّتْ عَلَےْہِ الشَّفَاعَۃُ۔ (صحیح مسلم)
" اور حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم موذن کی آواز سنو تو (اس کے جواب میں) اس کے الفاظ کو دہراؤ اور پھر (اذان کے بعد) مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو آدمی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اس کے بدلے میں اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرماتا ہے پھر (مجھ پر درود بھیج کر) میرے لیے (اللہ سے) وسیلے کی دعا کرو۔ وسیلہ جنت کا ایک (اعلیٰ) درجہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندہ کو ملے گا اور مجھ کو امید ہے کہ وہ بندہ خاص میں ہوں گا لہٰذا جو آدمی میرے لیے وسیلے کی دعا کرے گا (قیامت کے روز) اس کی سفارش کرنا مجھ پر ضروری ہو جائے گی۔" (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب مؤذن اذان کہے تو تم بھی مؤذن کے ساتھ اذان کے کلمات دہراتے جاؤ البتہ چند کلمات ایسے ہیں جن کو بعینہ دہرانا نہیں چاہئے بلکہ ان کے جواب میں دوسرے کلمات کہنے چاہیں جس کی تفصیل آئندہ حدیث میں آرہی ہے چنانچہ فجر کی اذان میں جب موذن الصلوۃ خیر من النوم کہے تو اس کے جواب میں صَدَقْتَ وَ بَرَرْتَ َو بِالْحَقِّ نَطَقْتَ (یعنی تم نے سچ کہا ہے اور خیر کثیر کے مالک ہوئے اور تم نے سچ بات کہی ) کہنا چاہئے۔ " وسیلہ" اصل میں اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے مطلوبہ چیز کو خاص کیا جائے اور اس کے سبب سے مطلوبہ چیز کا قرب حاصل ہو چنانچہ جنت کے ایک خاص اور اعلیٰ درجے کا نام وسیلہ اسی لیے ہے کہ جو آدمی اس میں داخل ہوتا ہے اسے باری تعالیٰ عزاسمہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور اس کے دیدار کی سعادت میسر آتی ہے نیز جو فضیلت اور بزرگی اس درجے والے کو ملتی ہے وہ دوسرے درجے والوں کو نہیں ملتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارجو (یعنی مجھ کو امید ہے) فرمانا عاجزی اور انکساری کے طور پرہے کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق سے افضل و بہتر ہیں تو یہ درجہ یقینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لیے ہے۔ کوئی دوسر اس درجے کے لائق کیسے ہو سکتا ہے؟ لہٰذا اس لفظ کی تاویل یہ کی جائے گی کہ یہ یقین سے کنایہ ہے یعنی مجھے یہ یقین ہے کہ یہ درجہ مجھے ہی حاصل ہوگا۔
-
وَعَنَ عُمَرَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ فَقَالَ اَحَدُکُمْ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اللّٰہُ اَکْبَرُ ثُمَّ قَالَ اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ قَالَ اَشْھَدُ اَنْ لاَّاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ثُمَّ قَالَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ قَالَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ ثُمَّ قَالَ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ثُمَّ قَالَ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ قاَلَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ثُمَّ قَالَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ قَالَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اللّٰہُ اَکْبَرُ ثُمَّ قَالَ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مِنْ قَلْبِہٖ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ۔ (صحیح مسلم)
" اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب مؤذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو تم میں سے بھی ہر آدمی اللہ اکبر اللہ اکبر کہے، پھر جب مؤذن اشھد ان لا الہ الا اللہ کہے تو تم میں سے بھی ہر آدمی اشھد ان لا الہ الاا اللہ کہے، پھر جب اشھد ان محمد الرسول اللہ کہے تو تم میں سے بھی ہر آدمی اشھد ان محمد الرسول اللہ کہے پھر جب مؤذن حی علی الصلوٰۃ کہے تو تم میں سے ہر آدمی لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہے پھر جب مؤذن حی علی الفلاح کہے تو تم میں سے ہر آدمی لاھول ولاقوۃ الا باللہ کہے، پھر جب مؤذن اللہ اکبر ، اللہ اکبر کہے تو تم میں سے ہر آدمی کہے اللہ اکبر، اللہ اکبر پھر جب مؤذن کہے لا الہ لا اللہ تو تم بھی کہو لا الہ لا اللہ جس نے (اذان کے جواب میں یہ کلمات) صدق دل سے کہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔" (صحیح مسلم) تشریح یہاں اللہ اکبر اختصار کی وجہ سے دو مرتبہ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ سمجھانے کے لیے دو ہی مرتبہ کہنا کافی تھا اس لیے شہادتین یعنی اشھدان لا الہ الاا اللہ اور اشھد ان محمد الرسول اللہ کو بھی صرف ایک ایک مرتبہ ہی ذکر کیا گیا ہے۔ لا حول ولاقوۃ الا باللہ کے معنی یہ ہیں، برائی سے بچنے اور نیک کام کرنے کی قوت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے، جب مؤذن حی علی الصلوۃ ، حی علی الفلاح کہتا ہے تو وہ لوگوں کو نماز کے لیے بلاتا ہے۔ لہٰذا اس کے جواب میں یہ کلمہ کہنے والا گویا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک امر عظیم اور زبردست فرض کی ادائیگی کا معاملہ ہے میں ایک عاجز و کمزور بندہ ہوں۔ میری قوت و طاقت کی کیا مجال کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی کی متحمل ہو سکوں ۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ہی ہوتی ہے جو ہم اس امر عظیم کو پورا کرتے ہیں اور چونکہ نماز کے لیے آنے کی طاقت اور قوت اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے ہوتی لہٰذا اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرماتا ہے تو ہم نماز کے لیے آتے ہیں۔ امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مؤذن جب اذان کہتا ہے تو اس کے کہے ہوئے کلمات کو اسی طرح دہرانا یعنی اس کا جواب دینا مستحب ہے البتہ حیعلتین یعنی حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کے جواب میں لا حول و لاقوۃ الا باللہ پڑھنا چاہئے۔ بعض مقامات پر کچھ حضرات حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کے جواب میں ما شاء اللہ کان ولم یشاء لم یکن فرماتے ہیں یہ غلط اور مسنون طریقے کے خلاف ہے۔ اذان کا جواب ہر سننے والے کو دینا چاہئے خواہ باوضو ہو یا بے وضو اور خواہ جنبی ہو یا حائض، بشر طیکہ جواب دینے میں کوئی چیز مانع نہ ہو مثلاً کوئی بیت الخلا میں ہو یا جماع کرتا ہوا، یا نماز پڑھ رہا ہو یا ایسے ہی کوئی دوسرا مانع ہو تو وہ اس وقت جواب نہ دے لیکن اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ان امور سے فراغت کے بعد اذان کے کلمات جواب میں کہے۔ " صدق دل سے کہے" کا تعلق یا تو لاحول ولاقوۃ الا باللہ سے ہے کہ یہ کلمہ صدق دل سے کہا جائے یا پھر اس کا تعلق پوری اذان کے کلمات سے ہے کہ جواب میں تمام کلمات پورے خلوص اور صدق دل کے ساتھ کہے جائیں اور ظاہری طور پر بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق پوری اذان سے ہے۔ جنت میں تو تمام مسلمان ہی داخل ہوں گے چاہے وہ کسی عذاب کے بغیر داخل ہوں یا عذاب کے بعد داخل ہوں۔ لہٰذا یہاں جنت میں داخل ہونے سے مراد یہ ہے کہ ایسا آدمی جو اذان کا جواب صدق دل سے دیتا ہے یعنی زبان سے تو ان کلمات کو ادا کرتا ہے اور دل میں ان کلمات کی صداقت کا پورا اعتقاد رکھتا ہے تو وہ نجات پائے ہوئے لوگوں کے ہمراہ جنت میں داخل ہوگا۔
-
وَعَنْ جَابِرٍقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ قَالَ حِےْنَ ےَسْمَعُ النِّدَآءَ اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّآمَۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَآئِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَنِ الْوَسِےْلَۃَ وَالْفَضِےْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَحْمُوْدَنِ الَّذِیْ وَعَدتَّہُ حَلَّتْ لَہُ شَفَاعَتِیْ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِِ ۔( بخاری)
" اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس آدمی نے اذان سن کر (یعنی اذان ختم ہونے اور اس کا جواب دینے کے بعد) یہ دعا پڑھی تو قیامت کے روز مجھ پر اس کی شفاعت لازم ہوگی۔" دعا یہ ہے : اَللَّھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدنِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابَعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدْتَہُ " اے اللہ ! مالک اس کامل دعا (اذان) کے اور پروردگار اس نماز قائمہ کے ہمارے سرادر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ (جنت کا سب سے خاص و اعلیٰ درجہ ) اور بزرگی عنایت فرما اور پہنچا ان کو مقام محمود پر جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔" (بخاری) تشریح اس دعاء میں اذان کو " دعا " سے تعبیر کیا گیا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ اذان لوگوں کو نماز اور اللہ کے ذکر کی طرف بلاتی ہے۔ نماز کو قائمہ اس لیے کہا گیا ہے کہ نماز ہمیشہ قیامت تک قائم و برقرار رہے گی۔ اس دعاء میں والفضیلۃ کے بعد والدرجۃ الرفیعۃ کے الفاظ بھی پڑھے جاتے ہیں مگر یہ کسی روایت میں مذکور نہیں ہیں۔ " مقام محمود" شفاعت عظمی کا مقام ہے اور یہ وہ مقام ہوگا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے روز عاصیوں کے لیے شفاعت کرنے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ میدان حشر میں جب ہر طرف نفسی نفسی کا عالم ہوگا اللہ کی مخلوق حساب و کتاب کی پریشانیوں میں مبتلا ہوگی اور تمام لوگ وہاں کی سختیوں کی بناء پر حیران و سرگرداں ہوں گے تو یکے بعد دیگرے تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کے پاس شفاعت کے لیے جائیں گے مگر وہ سب ہیبت و دہشت کی بنا پر شفاعت کی جرات نہ کر سکیں گے اور کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ کیونکہ ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو چکے ہیں، وہی اللہ کی مخلوق کی شفاعت کے حقدار ہیں۔ چنانچہ تمام لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو کر لوگوں کی شفاعت کریں گے۔ اس وقت ہر آدمی کی زبان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہوگی اور حق تعالیٰ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کریں گے گویا شان محمدیت کا پورا پورا ظہور ہوگا۔ اور تمام مخلوق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظمت و برتری کو رشک کی نگاہوں سے دیکھے گی۔ وعدتہ (جس کا تو نے وعدہ کیا ہے) اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔ آیت (عَسٰ ي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) 17۔ الاسراء : 79) " امید ہے کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا پروردگار آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو مقام محمود میں جگہ دے گا۔" خداوند کریم عنقریب آپ کو شافع محشر بنا کر مقام محمود پر کھڑا کرنے والا ہے۔ اور یہ وہ عزت و کرامت ہے جو بنی آدم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کو نصیب نہیں اس لیے کہ سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی پر عبادت اور شب کا سوز و گداز بھی فرض ہوا ہے۔ دلا بسوز کہ سوزے تو کارہا بکند دعائے نیم شبی دفع صد بلا بکند بیہقی کی روایت میں اس دعاء میں وَعَدْتہ کے بعد اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادِ (یعنی بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا) بھی مذکور ہے۔ بعض لوگ اس کے آگے یاارحم الرٰحمین بھی پڑھتے ہیں حالانکہ احادیث میں اس کا تذکرہ نہیں ہے۔
-
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےُغِےْرُ اِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ وَکَانَ ےَسْتَمِعُ الْاَذَانَ فَاِنْ سَمِعَ اَذَانًا اَمْسَکَ وَاِلَّا اَغَارَ فَسَمِعَ رَجُلًا ےَقُوْلُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَی الْفِطْرَۃِ ثُمَّ قَالَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ فَنَظَرُوْا اِلَےْہِ فَاِذَا ھُوَ رَاعِیْ مِعْزًی۔ (صحیح مسلم)
" اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم (جب لشکر لے کر کسی جگہ جاتے تو) فجر ہو جانے پر (دشمن کے اوپر) حملہ کیا کرتے تھے اور فجر ہوجانے پر) اذان کا انتظار کیا کرتے تھے (اس آبادی میں سے جس کا حملہ کر دیتے۔ چنانچہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن پر حملہ کے لیے جا رہے تھے تو ایک مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اللہ اکبر، اللہ اکبر کہتے ہوئے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، یہ آدمی اسلام کے (طریقہ) پر ہے (کیونکہ اذان تو مسلمان ہی کہتا ہے) پھر اس آدمی نے کہ اشھدان لا الہ الا اللہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا کہ تم شرک سے باز آجانے کی وجہ سے دوزخ سے نکل گئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے (چاروں طرف دیکھ کر معلوم کرنا چاہا کہ اذان دینے والا کون ہے تو ) دیکھا کہ وہ توبکریاں چرانے والا ایک آدمی ہے)۔ " تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دشمنوں پر حملہ کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تو اس بات کا خیال رکھتے کہ صبح کا وقت ہو، تاکہ اس بات کا اچھی طرح پتہ چل جائے کہ جس آبادی پر حملہ کیا جائے گا اس میں مسلمان ہیں یا کافر ہی کافر رہتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فجر ہو جانے پر) اذان کا انتظار کیا کرتے تھے چنانچہ جس آبادی پر حملہ مقصود ہوتا اس میں سے اگر اذان کی آواز آجاتی تو یہ جان کر کہ اس آبادی میں مسلمان ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حملے سے باز رہتے تھے اور اگر اذان کی آواز نہ آتی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آبادی پر حملہ کر دیتے تھے ۔ اذان کا انتظار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے کرتے تھے کہ مبادا اس آبادی میں مسلمان ہوں اور ان جانے میں وہ اسلامی لشکر کی زد میں آجائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کے ہونے اور نہ ہونے کو ایمان اور کفر کی علامت سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے روایت فقیہہ میں آتا ہے کہ جو لوگ اذان کو ترک کر دیں گے تو باوجودیکہ اذان سنت ہے ایسے لوگ مستحق قتال ہوں گے کیونکہ اذان اسلامی شعار میں سے ہے۔
-
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ قَالَ حِےْنَ ےَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ رَضِےْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِالْاِ سْلَامِ دِےْنًا غُفِرَ لَہُ ذَنْبُہُ۔ (صحیح مسلم)
" اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو آدمی مؤذن (کی اذان) کو سن کر یہ کہے کہ، اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا ا وَحْدَہُ لَا شَرَیْکَ لَہُ وَاَنَّ مُحَمَّدً اعَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ رَضِیْتُ بِا رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا وَ بِا لَّاسْلَامِ دِیْنًا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی شریک ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اس کے (صغیرہ) گناہ بخش دیے جائیں گے۔" (صحیح مسلم) تشریح اس میں اختیار ہے کہ ان کلمات کو یا تو اس وقت پڑھا جائے جب مؤذن اشھد ان لا الہ الا اللہ کہے یا اذان ختم ہو جانے کے بعد پڑھے۔ مناسب تو یہی ہے کہ اذان ختم ہونے کے بعد یہ کلمات پڑھے جائیں تاکہ اذان کے دوسرے کلمات کے جواب ترک نہ ہوں۔ اور ظاہر تو یہ ہے کہ مذکورہ ثواب اسی وقت ملے گا جبکہ اذان کے کلمات کا جواب دے کر بعد میں ان کلمات کو پڑھا گا۔
-
وعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَےْنَ کُلِّ اَذَانَےْنِ صَلٰوۃٌ بَےْنَ کُلِّ اَذَانَےْنِ صَلٰوۃٌ ثُمَّ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ لِمَنْ شَآئَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
" اور حضرت عبداللہ ابن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے اور پھر تیسری دفعہ میں یہ فرمایا کہ (یہ نماز) اس آدمی کے لیے ہے جو پڑھنا چاہئے۔" (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح " دو اذانوں" سے مراد اذان و تکبیر ہیں یعنی اذان اور تکبیر کے درمیان نماز پڑھنی فلاح و سعادت کی بات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان و تکبیر کے درمیان نوافل پڑھنے کی رغبت دلانے کے لیے یہ جملہ مکرر سہ مکرر فرمایا کیونکہ اذان و تکبیر کے درمیان کا وقت بہت زیادہ با برکت اور فضیلت کا حامل ہوتا ہے اس لیے اس وقت نماز پڑھ کر جو دعا مانگی جاتی ہے وہ بارگاہ احدیت سے رد نہیں کی جاتی ہے بلکہ قبولیت کا درجہ پاتی ہے اور پھر یہ کہ بابر کت اور با فضیلت وقت میں عبادت کا ثواب بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ حاصل یہ کہ اذان و تکبیر کے درمیان میں نماز پڑھنی سنت ہے مگر آپ نے لمن شاء فرما کر اس طرف اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ اس وقت نماز پڑھنا واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک مغرب میں اذان و تکبیر کے درمیان نفل پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ حضرت بریرہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مغرب کے علاوہ (بقیہ اوقات میں) دونوں اذانوں (یعنی اذان و تکبیر) کے درمیان دو دو رکعتیں (نماز) ہیں۔
-
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْامَامُ ضَا مِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ اَللّٰھُمَّ اَرْشِدِ الْاَ ئِمَّۃَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِنِیْنَ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَ الشَّافِعِیُّ وَفِی اُخْرٰی لَہُ بِلَفْظِ الْمَصَابِیْحِ۔
" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار ہوتا ہے (پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی) اے اللہ ! اماموں کی ہدایت دے (یعنی ان کو نیک علم، صالح علم اور صلاح و تقوی کی توفیق دے) اور مؤذنوں (سے اگر اذان کہنے میں کمی و زیادتی ہو جائے تو ان) کو بخش دے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، جامع ترمذی ، سنن نسائی) اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے دوسری روایت مصابیح کے ہم لفظ نقل کی ہے۔" تشریح " ضامن" کا مطلب یہ ہے کہ امام دوسروں کی نماز کا ذمہ دار ہوتا ہے بایں طور پر کہ وہ متقدیوں کے امور نماز مثلا قرات کا اور اگر مقتدی رکوع میں امام کے ساتھ مل جائے تو قیام وغیرہ کا متکفل ہوتا ہے اسی طرح وہ سب کی نمازوں کے افعال و ارکان نیز رکعتوں کی تعداد پر نگاہ رکھتا ہے ۔ مؤذنوں کے امانت دار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کے سلسلے میں اذان کی آوازوں پر اعتماد و بھروسہ کرتے ہیں۔
-
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَذَّنَ سَبْعَ سَنِیْنَ مُحْتَسِبًا کُتِبَ لَہُ بَرَاءَ ۃٌ مِنَ النَّارِ۔ (رواہ الترمذی وابوداؤد و ابن ماجہ)
" اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی (مزدوری و اجرت کے لالچ کے بغیر) محض ثواب حاصل کرنے کے لیے سات سال تک اذان دے تو اس کے لیے دوزخ سے نجات لکھ دی جاتی ہے۔" (جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)
-
وَعَنْ عَقْبَۃَ بْنِ عَامِرِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْجَبُ رَبُّکَ مِنْ رَاعِی غَنَمِ فِی رَأْسٍ شَظِیَّۃٍ لِلْجَبَلِ یُؤَذِّنُ بِالصَّلَاۃِ وَیُصَلِّی فَیَقُوْلُ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ اُنْظُرُوْ اِلٰی عَبْدِی ھٰذَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیْمُ الصَّلَاۃَ یَخَافُ مِنِّی قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِی وَاَدْخَلْتُہُ الْجَنَّۃَ۔ (رواہ ابوداؤدوالسنن نسائی )
" اور حضرت عقبہ ابن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا رب راضی ہوتا ہے پہاڑ کی چوٹی پر بکریاں چرانے والے سے جو نماز کے لیے اذان کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے ۔ چنانچہ اللہ بزرگ و برتر (ملائکہ اور ارواح مقربین سے) فرماتا ہے۔ میرے اس بندے کی طرف دیکھو وہ اذان دیتا ہے اور (پابندی کے ساتھ) نماز پڑھتا ہے اور مجھ سے ڈرتا ہے، چنانچہ میں نے بھی اس بندے کے گناہ بخش دیے ہیں اور میں اسے جنت میں داخل کروں گا۔" (ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح یعنی وہ چرواہا جو لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کر کے اور دنیا کے علائق سے دست بردار ہو کر پہاڑ کی چوٹی پر بسیرا کئے ہوئے ہے جب نماز کا وقت آتا ہے تو اذان کہہ کر اللہ اور اس کے رسول کا نام بلند کرتا ہے اور پابندی سے نماز ادا کر کے اپنے پروردگار کی خوشنودی حاصل کرتا ہے۔ ابن ملک رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اذان دینے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی اذان کے ذریعے ملائکہ اور جنات نماز کے وقت سے مطلع ہو جاتے ہیں، نیز یہ کہ اس کی اذان مخلوقات میں سے جو چیز بھی سنتی ہے قیامت کے روز اس کے ایمان کی گواہی دے گی اور سنت کی اتباع ہوتی ہے اور جماعت کے معاملے میں اسے مسلمانوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے۔ اذان سے اعلام عام یعنی اذان و تکبیر دونوں مراد ہیں۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ایسا آدمی جب اذان و تکبیر کہتا ہے تو ملائکہ اس کے ہمراہ نماز میں شامل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اسے جماعت کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔ وا اللہ اعلم۔ " مجھ سے ڈرتا ہے" کا مطلب یہ ہے کہ اس بندے کی عبادت کا مقصد نمائش و ریا نہیں ہے بلکہ وہ میرے عذاب سے چونکہ ڈرتا ہے اس لیے اذان بھی کہتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان و تکبیر کہنا مستحب ہے۔
-
وَعَنِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَۃٌ عَلَی کُثْبَانِ الْمِسْکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَبْدٌ اَدَّ ی حَقَّ اﷲِ وَحَقَّ مَوْلَاہُ وَرَجُلٌ اَمَّ قَوْمًا وَھُمْ بِہٖ رَاضُوْنَ وَرَجُلٌ یُنَادِی بِالصَّلٰوۃِ الْخَمْسِ کُلَّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھَذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔
" اور حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قیامت کے روز تین آدمی مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے۔ (پہلا ) وہ غلام جس نے اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کر کے اپنے آقا کے حقوق بھی اداء کئے اور (دوسرا) وہ آدمی جو لوگوں کو نماز پڑھاتا ہے اور لوگ اس سے خوش ہیں اور (تیسرا) وہ آدمی جو رات دن (یعنی ہمیشہ) پانچوں وقت کے نماز کے لیے اذان کہتا ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور کہا ہے یہ حدیث غریب ہے۔" تشریح " عبد" سے مراد مملوک ہے خواہ غلام ہو یا لونڈی، امام سے لوگوں کو خوش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی اپنے امام سے اس وجہ سے مطمئن و راضی ہوتے ہیں کہ وہ نماز کے احکام و ارکان اور سنن و آداب کی پوری پوری رعایت کرتا ہے۔ اور قرات اصول و قواعد کے مطابق نیز عمدہ آواز کے ساتھ کرتا ہے لیکن اتنی بات ملحوظ رہے کہ اس سلسلے میں اعتبار اکثر لوگوں کا ہوگا جو کہ صاحب علم و فراست ہوں۔ بہر حال قیامت کے روز ان تینوں کو مشک کے ٹیلے اس لیے ملیں گے کہ یہ لوگ دنیا میں خواہشات نفسانی کی لذتوں کو اطاعت الہٰی اور فرمانبرداری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سختیوں پر قربان کر دیں گے اس لیے پروردگار عالم اس کے صلہ میں انہیں خوشبو کی صورت میں عظیم انعام عطا فرمائے گا تاکہ دوسرے لوگوں پر ان کی عظمت و بزرگی ظاہر ہو سکے۔
-
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْمُؤَذِّنُ یُغْفَرُلَہ، مَدیَ صَوْتِہٖ وَیَشْھَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ وَشَّاھِدُ الصَّلَاۃِ یُکْتَبُ لَہ، خَمْسٌ وَعِشْرُوْنَ صَلَاۃً وَ یُکَفَّرُ عَنْہُ مَا بَیْنَھُمَا رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْداَؤدَ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَی النِّسَائِیُّ اِلَی قَوْلِہٖ کُلَّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ وَقَالَ لَہُ مِثْلُ اَجْرِمَنْ صَلَّی۔
" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اذان دینے والے کی بخشش اس کی آواز کی انتہاء کے مطابق کی جاتی ہے۔ ہر خشک و تر چیز اور نماز میں آنے والے آدمی اس کے ایمان کے گواہ ہو جاتے ہیں۔ پچیس نمازوں کا ثواب (اس کے زائد اعمال میں) لکھا جاتا ہے اور نمازوں کے درمیان اس سے جو گناہ سرزد ہوتے ہیں معاف ہو جاتے ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) اور نسائی نے اس روایت کو کل رطب و یابس تک نقل کیا ہے ، اور یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں کہ وَلَہُ مِثْلُ اَجْرٍ مَنْ صَلّٰی یعنی اور اسے نماز پڑھنے والے کے برابر ثواب ملے گا۔" تشریح " آواز کی انتہا کے مطابق بخشش" کا مطلب یہ ہے کہ مؤذن اذان کہتے وقت جس قدر آواز بلند کرتا ہے اس کی مغفرت اسی قدر ہوتی ہے اور اگر وہ آواز کو انتہائی درجے تک پہنچا دیتا ہے یعنی اس کی جتنی طاقت ہوتی ہے اتنی ہی آواز بلند کرتا ہے تو مغفرت بھی پوری ہی پاتا ہے۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اگر گناہ کا جسم فرض کیا جائے اور وہ اتنے ہوں کہ مؤذن کی آواز جہاں تک بھی پہنچے وہاں تک سما جائیں تو اس کے وہ سب گناہ بخشش دیے جاتے ہیں۔ رطب (تر) سے مراد وہ مخلوق ہیں جن میں نمو ہوتا ہے جیسے انسان اور نباتات وغیرہ اور یا بس (خشک) سے جمادات یعنی پتھر اور مٹی وغیرہ مراد ہیں۔ علامہ طیبی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ لفظ وَشَاھِدُ الصَّلٰوۃَ لفظ اَلْمُؤَذِنُ پر عطف کیا گیا ہے اس طرح پورے جملہ کے معنی یہ ہوں گے " مغفرت کی جاتی ہے مؤذن کی اور ان لوگوں کی جو جماعت میں حاضر ہوتے ہیں۔" مگر ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ اس کا عطف کل رطب پر ہے اور اسے عطف خاص علیٰ عام کہا جاتا ہے یکتب لہ اور عنہ کی ضمیر یا تو شَاھِدُ کی طرف راجع ہے یا پھر مؤذن کی طرف راجع ہوگی۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ مؤذن نمازیوں کا سا ثواب پاتا ہے کیونکہ یہ ان کو نماز کی طرف بلاتا ہے اور حدیث میں وارد ہے کہ جو آدمی بھلی بات کا باعث ہوتا ہے اسے اس بھلائی کے کرنے والے کی مانند ثواب ملتا ہے۔
-
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اجَعَلْنِیْ اِمَامَ قَوْمِی قَالَ اَنْتَ اِمَامُھُمْ وَاقْتَدِ بِاَضْعَفِھِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذَّّنًا لَا یَأْخُذُ عَلٰی اَذَانِہٖ اَجْرًا۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد، والنسائی )
" اور حضرت عثمان بن ابی عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کے امام ہو (یعنی میں نے تمہیں تمہاری قوم کا امام مقرر کر دیا مگر یہ یاد رکھو کہ نماز پڑھانے میں) تم ان میں سے بہت زیادہ ضعیف و نا تو اں کی اقتداء کرنا اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان کہنے کی مزدوری نہ لے۔" (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح " ضعیفوں کی اقتداء کرنے" کا مطلب یہ ہے کہ امامت میں ضعیف و کمزور لوگوں کی رعایت کی جائے یعنی قرات اتنی لمبی نہ کی جائے اور ارکان نماز اس طرح ادا نہ کئے جائین کہ لوگ تنگ و پریشان ہو جائیں اور جماعت سے نماز پڑھنا چھوڑ دیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام اور مؤذن کے لیے نماز پڑھانے اور اذان دینے کی اجرت حلال نہیں ہے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک اذان اقامت اور تعلیم قرآن کے سلسلہ میں معاوضہ لینا جائز نہیں ہے۔ مگر علماء نے یہ لکھا ہے کہ اگر امام اور مؤذن بطور خود اپنی اجرت مقرر نہ کرائیں بلکہ لوگ ان کے پاس ان کی حاجت کے مطابق روپیہ پیسہ از خود بھیج دیا کریں تو یہ جائز و حلال ہوگا۔ لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ امام و مؤذن کی خبر گیری کریں اور ان کے پاس از خود اتنا روپیہ اور مال بھجوا دیا کریں جس سے ان کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ فتاوی قاضی خاں میں مرقوم ہے کہ جو مؤذن اوقات نماز وغیرہ کے سلسلہ میں علم نہیں رکھتا اسے اذان کہنے کا ثواب نہیں ملتا، اس لیے جو مؤذن اجرت لے گا اسے تو بطریق اولیٰ ثواب نہیں ملے گا۔
-
وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ عَلَّمَنِی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ اَقُوْلَ عِنْدَاَذَانِ الْمَغْرِبِ اَللّٰھُمَّ ھٰذَا اِقْبَالُ لَیْلِکَ وَاِدْبَارُ نَھَارِکَ وَاَصْوَاتُ دُعَائِکَ فَاغْفِرْلِی رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالْبَیْھَقِی فِی الدَّعْوَاتِ الْکَبِیْرِ۔
" اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھلایا تھا کہ میں مغرب کی اذان کے وقت یہ دعا پڑھ لیا کروں اَللَّھُمَّ ھَذَا اِقْبَالُ لَیْلِکَ وَاِدْبَارِ نَھَا رِکَ َواَصْوَاتُ دُعَا ئِکَ فَاغْفِرْلِیْ اے اللہ ! یہ وقت ہے تیری رات کے آنے کا اور تیرے دن کے واپس جانے کا اور تیرے پکارنے والوں (یعنی مؤذنوں) کی آوازوں کا!لہٰذا تو میری مغفرت فرما۔" (ابوداؤد، بیہقی) تشریح بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا یا تو اذان کا جواب دینے کے دوران پڑھ لی جائے یا پھر جواب سے فارغ ہونے کے بعد پڑھی جائے ۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اذان کا وقت بارگاہ احدیث میں دعاء کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے اس لیے ایسے وقت اپنے گناہوں کی معافی اور خیر و بھلائی کے راستہ پر چلنے کی توفیق کی زیادہ سے زیادہ دعا مانگنی چاہئے تاکہ قبولیت کے مرتبے کو پہنچ سکے۔
-
وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ اَوْبَعْضُ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ بِلَالًا اَخَذَ فِی الْاِ قَامَۃِ فَلَمَّا اَنْ قَالَ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَقَامَھَا اﷲُ وَاَدَامَھَا وَقَالَ فِی سَائِرِ الْاِ قَامَۃِ کَنَحْوِ حَدِیْثِ عُمَرَ فِی الْاِذَانِ۔ (رواہ ، ابوداؤد)
" اور حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی اور صحابی فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تکبیر کہنی شروع کی۔ جب انہوں نے قد قامت الصلوۃ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے جواب میں) فرمایا، اَقَامَھَا ا وَاَدَمَھَا یعنی اللہ تعالیٰ نماز کو قائم و دائم رکھے اور تکبیر کے بقیہ کلمات کے جوابات وہی فرمائے جس کا ذکر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان والی حدیث میں ہو چکا ہے۔" (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اسی باب کی حدیث نمبر پانچ میں اذان کے کلمات اور ان کے جواب کو جس طرح ذکر کیا گیا ہے اسی طرح تکبیر کے وقت مؤذن جو کلمات کہتا گیا ۔ آپ بھی ویسے ہی کلمات کو دہراتے رہے البتہ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کے جواب میں لا حول ولاقوۃ الابا اللہ اور قد قامت الصلوۃ کے جواب میں اَقَامَھَا ا وَاَدَمَھَاکہا۔
-
وَعَنْ اَنَس قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُرَدُّ الدُّعَاءُ بَیْنَ الْاِذَانِ وَالْاِقَامَۃِ۔ (رواہ ابوداؤد و الترمذی)
" اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اذان اور تکبیر کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی۔" (ابوداؤد، الترمذی) تشریح یوں تو پروردگار عالم اپنی رحمت و شفقت کے ناطے ہر وقت ہی اپنے بندوں کی دعا قبول کرتا ہے اور ان کے دامن امید کو اپنے فضل و کرم کے موتیوں سے معمور کرتا ہے مگر اس ارشاد کے ذریعے مسلمانوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اذان و تکبیر کے درمیان کا وقت اتنا با برکت و با سعادت ہوتا ہے کہ اس وقت پروردگار عالم کے سامنے بندہ اپنی جس حاجت کے لیے بھی دامن پھیلاتا ہے اس کی مراد یقینا پوری کی جاتی ہے اور مانگنے والا جو بھی دعا مانگتا ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس وقت اپنی دینی اور دنیاوی فلاح و سعادت اور کامیابی و کامرانی کے لیے ضرور دعا مانگا کریں۔ اس سلسلے میں ایک روایت یہ بھی منقول ہے کہ دعاء خواہ اذان کے بعد متصلا ہی مانگی جائے یا کچھ دیر کے بعد، ہر صورت میں قبول ہوگی مگر صحیح اور اولیٰ یہ ہے کہ اذان کے فورا بعد مانگ لینی چاہئے۔
-
وَعَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ اَوْقَلَّمَا تُرَدَّانِ الدُّعَاءُ عِنْدَا لنِّدَاءِ وَعِنْدَ البَأْسِ حَیْنَ یَلْحَمُ بَعْضُھُمْ بَعْضًا وَفِی رِوَایَۃٍ وَتَحْتَ الْمَطْرِ رَوَاہُ اَبُوْدَؤدَ وَ الدَّارِمِیُّ اِلَّا اَنَّہ، لَمْ یَذْکُرْ وَ تَحْتَ الْمَطَرِ۔
" اور حضرت سہل ابن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا فرمایا کہ کم رد کی جاتی ہیں۔ ایک تو وہ دعا جو اذان (ہونے کے بعد یا اذان شروع ہونے) کے وقت مانگی جاتی ہے، اور دوسری وہ دعا جو (کفار کے ساتھ ) جنگ میں مڈھ بھیڑ (یعنی آپس میں قتل و قتال) شروع ہو جانے کے وقت مانگی جاتی ہے۔ ایک دوسری روایت میں (جنگ میں مڈھ بھیڑ کے بجائے) یہ منقول ہے کہ دوسری وہ دعا جو بارش میں (کھڑے ہو کر) مانگی جائے۔ (سنن ابوداؤد، دارمی) مگر دارمی کی روایت میں " تحت المطر " منقول نہیں ہے۔"
-
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرٍ وَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنَّ الْمُؤَذِنِیْنَ یَفْضُلُوْنَنَا فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قُلْ کَمَا یَقُوْلُوْنَ فَاِذَا انْتَھَیْتَ فَسَلْ تُعْطَ۔ (رواہ ابوداؤد)
" اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ ایک صحابی نے عرض کیا، یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) ! اذان دینے والے تو بزرگی میں ہم سے بڑھے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح وہ فرماتے ہیں (ساتھ ساتھ) تم بھی اسی طرح کہتے جاؤ اور جب (اذان کے جواب سے) فارغ ہو جاؤ تو جو چاہو مانگو، دیا جائے گا۔" (ابوداؤد) تشریح صحابی کا مطلب یہ تھا کہ جو لوگ اذان دیتے ہیں وہ تو اذان دینے کی سعادت و برکت کی وجہ سے ہماری بہ نسبت زیادہ ثواب کے حقدار ہوتے ہیں اس لیے ہمیں بھی کوئی ایسا طریقہ بتا دیجئے جس پر چل کر ہم بھی ثواب میں ان کے ہم پلہ ہو جائیں۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ طریقہ بتا دیا کہ جب مؤذن اذان کے کلمات کہے تو تم بھی ان کے ساتھ اذان کے کلمات دہراتے جاؤ (سوائے حی علی الصلوۃ وحی علی الفلاح کے کہ ان کے جواب میں لا حول ولاقوۃ الا باا اللہ کہنا چاہئے) اسی طرح تمہیں بھی ان کے اصل ثواب کی طرح ثواب ملے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسری چیز اذان کے جواب سے فراغت کے بعد دعاء مانگنے کو بتا کر اس طرف اشارہ کر دیا کہ اگر اذان کا جواب دینے کے بعد دعاء مانگی جائے تو فضیلت و بزرگی میں اور اضافہ ہوگا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی اذان کے وقت مسجد میں موجود ہو تو اسے بھی اذان کے کلمات کا جواب دینا چاہئے۔ جو لوگ یہ فرماتے ہیں کہ اذان کے وقت مسجد میں موجود آدمی کو اذان کا جواب دینا ضروری نہیں ہے کیونکہ اس وقت جب اجابت فعلی حاصل ہے تو اجابت قولی کی کیا ضرورت ہے۔ دل کو لگنے والی بات نہیں۔
-
عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِنَّ الشَیْطٰنَ اِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاۃِ ذَھَبَ حَتّٰی یَکُوْنَ مَکَانَ الرَوْحَآءِ قَالَ الرَّاوِی وَالرَّوْحَاءُ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ عَلٰی سِتَّۃٍ وَّثَلاَتِیْنَ مِیْلاً (رواہ صحیح مسلم)
" حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا، سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب شیطان نماز کی اذان سنتا ہے تو بھاگتا ہے یہاں تک کہ مقام روحا تک پہنچ جاتا ہے۔ روای کہتے روحا مدینہ سے چھتیں کوس کے فاصلے پر ہے۔" (صحیح مسلم) تشریح شیطان سے مراد جنسی شیطان ہے یعنی اذان سن کر یا تو تمام شیطان بھاگ کھڑے ہوتے ہیں یا ان کا سردار بھاگ جاتا ہے اور صحیح یہی ہے۔ حدیث کے آخر جزو کا مطلب یہ ہے کہ اذان سن کر شیطان نماز پڑھنے والے سے اتنا دور ہو جاتا ہے جتنا دور مدینہ سے روحا ہے۔ " راوی" سے حضرت ابوسفیان، نافع ابن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ذات مراد ہے جنہوں نے اس حدیث کو حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا ہے۔
-
وَعَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ قَالَ اِنِیِّ لَعِنْدَ مُعَاوِیَۃَ اِذَاَذَّنَ مُؤَذِّنُہُ فَقَالَ مَعَاوِیَۃُ کَمَا قَالَ مُؤَذِنُہُ حَتّٰی اِذَا قَالَ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِقَالَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ فَلَمْاَ قَالَ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ وَ قَالَ بَعْدَ ذٰلِکَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ذٰلِکَ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
" اور حضرت علقمہ ابن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں (ایک روز) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان دی، چنانچہ مؤذن جس طرح کہتا تھا حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی طرح ( اس کے ساتھ ساتھ) کہتے رہے، جب مؤذن نے حی علی الصلوۃ کہا تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا لا حول و لا قوۃ الا باللہ جب مؤذن نے حی علی الفلاح کہا تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لا حول و لاقوۃ الا باللہ العلی العظیم کہا اور اس کے بعد مؤذن جو کچھ کہتا رہا حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی کہتے رہے۔ (پھر فارغ ہو کر) حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے۔" (مسند احمد بن حنبل) تشریح علامہ طیبی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حی علی الفلاح کے جواب میں لاحول و لاقوۃ الا باللہ کے بعد العلی العظیم کا اضافہ مرویات میں نادر ہے۔
-
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَامَ بِلَالٌ یُنَادِی فَلَمَّا سَکَتَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ قَالَ مِثْلَ ھٰذَا یَقِیْنًا دَخَل الْجَنَّۃَ۔ (رواہ النسائی )
" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور اذان کہنے لگے۔ جب وہ (اذان دے کر) خاموش ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس آدمی نے اسی طرح یقینا (یعنی خلوص دل سے ) کہا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔" (سنن نسائی) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو آدمی یقین و اعتماد کی پوری قوت اور دل کے پورے خلوص کے ساتھ ان کلمات کو یا تو اذان میں کہے یا اذان کے جواب میں کہے یا مطلقا کہے تو وہ جنت میں داخل ہونے کا مسحتق ہوگا یا نجات پانے والوں کے ہمراہ جنت میں داخل ہوگا۔
-
وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سَمِعَ الْمِؤَذِّنَ یَتَشَھَّدُ قَالَ وَ اَنَا وَاَنَا۔ (ابوداؤد)
" اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو شہادتین کہتے ہوئے سنتے تو فرماتے اور میں بھی اور میں بھی۔" (ابوداؤد) تشریح یعنی جب مؤذن اذان میں اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھدان محمدا رسول اللہ کہتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہادتین کے جواب میں دو مرتبہ فرماتے واناوانا (اور میں بھی اور میں بھی ) یعنی جس طرح تم خدا کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ کی رسالت کی گواہی دے رہے ہو اسی طرح میں بھی وحدانیت الہی اور رسالت محمد کی گواہی دیتاہوں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام امت کی طرح خود آنحضرت صلی اللہ علیہ بھی اپنی رسالت کی گواہی دینے کے مکلف تھے ۔ اب اس میں اختلاف ہے کہ ا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کے افراد کی طرح اشھد ان محمد رسول اللہ (میں گواہی دیتاہوں کہ محمد اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ) یہ کہہ کر گواہی دیتے تھے یا اشھد انی رسول اللہ (میں گواہی دیتاہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ) کہہ کر گواہی دیتے تھے ؟ چنانچہ علماء لکھتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ امت کے افراد کی طرح اپنی رسالت کی گواہی دیتے تھے جیساکہ ابھی حدیث نمبر (۲۱) میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں گزرا ہے کہ انہوں اذان کے جواب میں اشھد ان محمدا رسول اللہ کہا اور پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اذان کے جواب میں اشھد ان محمدا رسول اللہ ہی کہتے تھے)۔ اس طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اس روایت میں اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں چونکہ تعارض پیدا ہوتا ہے اس لیے کہا جائے گا کہ کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح فرماتے ہوں گے جیسا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا اور کبھی اس طرح فرماتے ہوں گے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہاں بتا رہی ہیں۔
-
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ اَذَّنَ ثِنْتَی عَشْرَۃَ سَنَۃً وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ وَکُتِبَ لَہُ بِتَاذِیْنِہٖ فِی کُلٍّ یَوْمٍ سِتُّوْنَ حَسَنَۃً وِلِکُلِّ اِقَامَۃٍ ثَـلَاثُوْنَ حَسَنَۃً۔(رواہ ابن ماجہ)
" اور حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو آدمی بارہ برس تک اذان دے اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے اور اس کے اذان کے بدلے میں (اس کے نامہ اعمال میں) ہر روز(یعنی ہر اذان کے عوض) ساٹھ نیکیاں اور ہر تکبیر کے بدلہ میں تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔" (سنن ابن ماجہ) تشریح اذان کی بہ نسبت تکبیر کا ثواب آدھا غالباً اس لیے ہوتا ہے کہ تکبیر خاص طور پر ان لوگوں کو مطلع کرنے کے لیے ہوتی ہے جو جماعت میں حاضر ہوتے ہیں اور اذان کے ذریعہ عمومی طور پر حاضرین اور غائبین سب ہی کو مطلع کیا جاتا ہے یا پھر اس کی وجہ یہ ہوگی کہ اذان دینے میں زیادہ محنت برداشت کرنی پڑتی ہے اور اس کی بہ نسبت تکبیر میں کم محنت ہوتی ہے۔
-
وَعَنْہُ قَالَ کُنَّا نُؤْمَرُ بِالدُّعَاءِ عِنْدَاَذَانِ الْمَغْرِبِ رَوَاہُ الْبَیْھِقِیُّ فِی الدَّعْوَاتِ الْکَبِیْرِ۔
" اور حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں مغرب کی اذان کے وقت دعا مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔" (بیہقی) تشریح غالباً یہاں وہی مراد ہے جس کا تزکرہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث نمبر پانچ میں آچکا ہے (یعنی اللھم ھذا اقبال لیلک و ادبار نھارک الخ)۔
-