TrueHadith

سعد کی فضیلت

Mishkat SharifHadith (internal ref #1950758)

وعن علي رضي الله عنه قال : ما جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم أباه وأمه إلا لسعد قال له يوم أحد : " ارم فداك أبي وأمي " وقال له : " ارم أيها الغلام الحزور " . رواه الترمذي

اور حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماں باپ کو سعد کے علاوہ کسی کے لئے جمع نہیں کیا چنانچہ غزوئہ احد کے دن ان کو مخاطب کرکے فرمایا تھا : تیر چلائے جا ، تجھ پر میرے ماں باپ صدقے ۔" نیز ( اس دن ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کو مخاطب کرکے یوں بھی فرمایا تھا : تیر پھینکے جا اے جواں مرد ۔" (ترمذی ) تشریح : اور اس " جواں مرد" نے جب ابوبکر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا تو اس وقت اس کی عمر ١٧سال کی تھی ۔ ان کے کچھ حالات پیچھے گزر چکے ہیں ، انہوں نے اپنے زمانئہ اسلام کے ہر اہم معاملہ اور واقعہ میں سرگرم حصہ لیا تھا اور دین کی سربلندی کے لئے بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں آخر میں جب ملت انتشار وتنازعہ کی صورت حال سے دوچار تھی اور خلافت واقتدار کے مسئلہ پر مختلف گروہوں کی محاذ آرئیاں ہورہی تھیں تو انہوں نے تمام معاملات سے کامل یکسوائی اختیار کرلی تھی اور خود کو گھر کے اندر محصور کرکے ایک قبر تک محدود کر لیا تھا اور اپنے گھر کے لوگوں کو ہدایت دیدی تھی کہ باہر کی کوئی خبر مجھ تک نہ پہنچائی جائے تاآنکہ امت کسی ایک امام پر متفق ومتحد ہوجائے

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1950759)

وعن جابر قال : أقبل سعد فقال النبي صلى الله عليه و سلم : " هذا خالي فليرني امرؤ خاله " . رواه الترمذي وقال : كان سعد من بني زهرة وكانت أم النبي صلى الله عليه و سلم من بني زهرة فلذلك قال النبي صلى الله عليه و سلم : " هذا خالي " . وفي " المصابيح " : " فليكرمن " بدل " فليرني "

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ (ایک دن سعد بن ابی وقاص (مجلس مبارک میں ) آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : یہ میرے ماموں ہیں ۔ اگر کوئی شخص ایسا ماموں رکھتا ہے تو وہ مجھ کو دکھائے ۔" اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ سعد (قریش کے ایک قبیلہ ) بنی زہرہ سے تھے اور (چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ بھی بنی زہرہ ہی سے تھیں ) اس اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا یہ میرے ماموں ہیں نیز مصابیح میں فلیرنی (تو وہ مجھ کو دیکھائے ) کے بجائے فلیکرمن (تو وہ اپنے اس ماموں کی تکریم کرے ) کے الفاظ نقل کئے گئے ہیں ، لیکن ابن حجر نے اس تبدیلی کو " تصحیف " کہا ہے بلکہ ملاعلی قاری نے تو " تحریف " قرار دیا ہے ۔" تشریح : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو وہ مجھ کو دکھائے " یعنی اگر کوئی شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ اس کا ماموں میرے ماموں جیسا ہے نہیں ہوسکتا ۔ " زہرہ " عورت کا نام ہے جو کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب کی بیوی تھی ، اس کی اولاد کو بنوزہرہ کہا جاتا ہے اور یہ قریش کی ایک مشہور شاخ تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص کا نسبی تعلق اسی شاخ سے تھا اور اس اعتبار سے حضرت آمنہ اور سعد بن وقاص بہن بھائی ہوئے ۔"

-

Permalink