TrueHadith

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرغوب دنیاوی چیزیں

Mishkat SharifHadith (internal ref #1941184)

وعن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعجبه من الدنيا ثلاثة الطعام والنساء والطيب فأصاب اثنين ولم يصب واحدا أصاب النساء والطيب ولم يصب الطعام . رواه أحمد

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ دنیا کی چیزوں میں سے تین چیزیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں نہایت پسندیدہ تھیں ایک تو کھانا (کہ جس کے ذریعہ جسم و بدن کو محفوظ و توانا رکھ کر دینی خدمات پر قدرت و طاقت حاصل کی جا سکے) دوسرے عورتیں ( کہ جن کے ذریعہ نفس کو برے خیالات سے محفوظ رکھا جا سکے) اور تیسرے خوشبو (کہ جس کے ذریعہ دماغ کو نشاط و تقویت حاصل ہو، کیونکہ حکماء کے قول کے مطابق عقل و فراست کا مخزن دماغ ہی ہے) چنانچہ ان تینوں چیزوں میں سے دو چیزیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (کثرت کے ساتھ) حاصل ہوئی اور ایک چیز (زیادہ) حاصل نہیں ہوئی یعنی ایک تو عورتیں آپ کو زیادہ ملیں (بایں طور کہ آپ نے نو شادیاں کیں اور دوسرے خارجی طور پر خوشبو آپ کو بہت ملی باوجودیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ مبارک ہی تمام طرح کی خوشبو سے زیادہ معطر اور خوشگوار تھا، لیکن تیسری چیز کھانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (زیادہ) نہیں ملا۔ (احمد) تشریح کھانے " پر نفی کا اطلاق بطور مبالغہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غذائی ضروریات جس تنگی و قلت کے ساتھ پوری ہوتی تھیں اور جتنا کم کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نصیب ہوتا تھا اس کی بناء پر اس کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ کھانا، نہ ملنے ہی کے برابر تھا، چنانچہ پہلے یہ روایت گزر چکی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ تا وفات ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلسل دو دن جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر کھائی ہو، اگرچہ کھانے کی یہ تنگی و قلت خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اختیار کردہ تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لئے تنگی معیشت اور فقر و غربت کی زندگی کو ترجیح دی تھی اور حق تعالیٰ نے اپنے حبیب کے لئے جو اس بات کو پسند کیا تو اس میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ تھیں۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1941185)

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حبب إلي الطيب والنساء وجعلت قرة عيني في الصلاة . رواه أحمد والنسائي . وزاد ابن الجوزي بعد قوله حبب إلي من الدنيا

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔" خوشبو اور عورتیں میرے لئے پسندیدہ بنائی گئی ہیں اور میرا قلبی سکون و نشاط، نماز میں رکھا گیا ہے" (احمد، نسائی) اور ابن جوزی نے اس ارشاد میں حبب الی کے بعد من الدنیا کے الفاظ بھی نقل کئے ہیں۔ تشریح " میرا قلبی سکون و نشاط نماز میں رکھا گیا ہے" کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو جو ذوق و لذت، استغراق وحضور اور راحت و سرور نماز میں حاصل ہوتا ہے وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی عبادت میں میسر نہیں ہوتا چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز کے تئیں اس لذت بے خودی اور اسی ذوق حضور کے نشاط کا یہ اثر تھا کہ جونہی نماز کا وقت آتا، تو نہایت شوق کے عالم میں فرماتے ارحنا یا بلال! جلدی اٹھو اور اذان کہو، تاکہ میں نماز پڑھنے لگوں اور دوسرے امور کی مشغولیت و فکرات سے دامن چھڑا کر مناجات حق میں مشغول ہو جاؤں۔ لفظ قرۃ یا تو قر سے مشتق ہے جس کے معنی قرار و ثبات کے ہیں اور چونکہ جب نگاہ کو محبوب کا دیدار نصیب ہو جاتا ہے تو نہ صرف نظر کو قرار مل جاتا ہے کہ نگاہیں پھر کسی دوسرے کو دیکھنے کی روادار نہیں ہوتیں، بلکہ دل و دماغ کو بھی راحت واطمینان کی دولت مل جاتی ہے، جس طرح کہ محبوب کا دیدار نہ ہونے کی صورت میں نظریں پریشان اور دل بے قرار رہتا ہے، لہٰذا نگاہ ودل کے اسی قرار وسکون کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے " قرۃ عینی" سے تعبیر فرمایا۔ یا کہ یہ لفظ قرۃ اصل میں قر سے مشتق ہے، جس کے معنی اس ٹھنڈک اور خنکی و لذت کے ہیں جو کسی عزیز ترین چیز اور محبوب کے دیدار اور مشاہدہ کے سرور سے آنکھوں کو حاصل ہوتی ہے، چنانچہ جس طرح کسی دشمن اور قابل نفرت چیز کو دیکھ کر آنکھوں میں چنگاریاں سلگتی معلوم ہوتی ہیں اسی طرح اپنی کسی عزیز ترین چیز اور محبوب کو دیکھ کر آنکھوں میں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے ، اسی لئے بیٹے کو " قرۃ العین" کہا جاتا ہے۔ روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ابن جوزی نے اس حدیث کو جس طرح نقل کیا ہے اس میں شروع کا جملہ اس طرح ہے حبب الی من الدنیا الطیب الخ (یعنی دنیا کی جن چیزوں کو میرے لئے پسندیدہ بنایا گیا ہے، ان میں سے ایک تو خوشبو ہے اور دوسری عورت ہے) تاہم یہ بات واضح رہے کہ حدیث کے وہ الفاظ کہ جن کو امام احمد اور امام ترمذی نے متفقہ طور پر نقل کیا ہے، زیادہ صحیح وہی ہیں جو اوپر متن میں نقل کئے گئے ہیں چنانچہ طبرانی نے اپنے تینوں معاجم میں ، خطیب نے تاریخ بغداد میں، اور ابن عدی نے کامل میں اس روایت کو انہی الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، نیز حاکم نے بھی اپنی مستدرک میں اسی طرح نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے البتہ ان کی روایت میں جعلت کا لفظ نہیں ہے۔ ویسے نسائی کی ایک روایت میں بھی من الدنیا کا لفظ ایک دوسری وجہ سے منقول ہے ایک اور بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ بعض ناقلین حدیث کے ہاں اس روایت میں حبب الی من الدنیا کے بعد " ثلث" کا جو ایک اور لفظ نقل کیا جاتا ہے، تو جیسا کہ سخاوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ تحقیق تفتیش کے باوجود یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں اس روایت کے دوران نہیں ملتا، البتہ کتاب احیاء العلوم اور کشاف کی تفسیر سورت آل عمران میں یہ لفظ ضرور ملتا ہے، شیخ ابن حجر اور شیخ ولی الدین عراقی نے بھی یہی لکھا ہے کہ حدیث کی جس کتاب میں بھی یہ روایت ہے ثلث کا لفظ کہیں منقول نہیں ہے، لہٰذا یہ حدیث یہاں جن الفاظ کے ساتھ نقل کی گئی ہے اس کے مفہوم میں کوئی اشکال واقع نہیں ہوتا، اسی طرح ان دونوں لفظوں یعنی " من الدنیا " اور " ثلث" میں سے کوئی بھی ایک لفظ شامل روایت ہو تب بھی مفہوم بالکل واضح رہتا ہے، ہاں! اگر یہ دونوں لفظ ایک ساتھ شامل روایت ہوں تو اس صورت میں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ " نماز" پر " دنیاوی چیز" کا اطلاق کس طرح ہو سکتا ہے کیونکہ نماز دنیاوی امور میں سے نہیں ہے؟ لہٰذا جو ناقلین حدیث ان دونوں لفظوں کے ساتھ اس روایت کو بیان کرتے ہیں ان کی طرف سے اشکال کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ " دنیا " سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اس عالم کی حیات ہے ، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گویا یہ فرمایا کہ اس عالم میں تین چیزیں میری پسندیدہ ہیں جن میں سے دو چیزیں تو طبعی اور دنیاوی امور سے تعلق رکھتی ہیں یعنی خوشبو اور عورت، اور تیسری چیز یعنی نماز کا تعلق دینی امور سے ہے۔ آخر میں ایک بات اور ، حدیث میں " صلوۃ" کا لفظ تقریباً تمام علماء کے نزدیک " نماز" ہی پر محمول ہے، لیکن بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ اس حدیث میں " صلوۃ" کے لفظ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر (درود و سلام) مراد ہے۔

-

Permalink