حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ سَمِعَا أَبَا الضُّحَی يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ قَاصًّا يَقُصُّ يَقُولُ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ الْأَرْضِ الدُّخَانُ فَيَأْخُذُ بِمَسَامِعِ الْکُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ کَهَيْئَةِ الزُّکَامِ قَالَ فَغَضِبَ وَکَانَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ إِذَا سُئِلَ أَحَدُکُمْ عَمَّا يَعْلَمُ فَلْيَقُلْ بِهِ قَالَ مَنْصُورٌ فَلْيُخْبِرْ بِهِ وَإِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ مِنْ عِلْمِ الرَّجُلِ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَی قَالَ لِنَبِيِّهِ قُلْ مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَکَلِّفِينَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَی قُرَيْشًا اسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ قَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ فَأَحْصَتْ کُلَّ شَيْئٍ حَتَّی أَکَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَقَالَ أَحَدُهُمَا الْعِظَامَ قَالَ وَجَعَلَ يَخْرُجُ مِنْ الْأَرْضِ کَهَيْئَةِ الدُّخَانِ فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ إِنَّ قَوْمَکَ قَدْ هَلَکُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ فَهَذَا لِقَوْلِهِ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَی النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ مَنْصُورٌ هَذَا لِقَوْلِهِ رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ فَهَلْ يُکْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ قَدْ مَضَی الْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَالدُّخَانُ و قَالَ أَحَدُهُمْ الْقَمَرُ وَقَالَ الْآخَرُ الرُّومُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَاللِّزَامُ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
محمود بن غیلان، عبدالملک بن ابراہیم جدی، شعبہ، اعمش ومنصور، ابوالضحی، مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص عبداللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ایک واعظ بیان کر رہا تھا کہ قیامت کے قریب زمین میں سے ایسا دھواں نکلے کہ اس سے کافروں کے کان بند ہو جائیں گے اور مومنوں کو زکام کا سا ہو جائے گا۔ مسروق کہتے ہیں کہ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ غصے ہوگئے اور اٹھ کر بیٹھ گئے (پہلے تکیہ لگائے بیٹھے تھے) اور فرمایا اگر کسی سے ایسی بات پوچھی جائے جس کا اس کے پاس علم ہو تو بیان کرے یا فرمایا بتا دے اور اگر نہ جانتا ہو تو کہہ دے کہ اللہ جانتا ہے۔ یہ بھی انسان کا علم ہے کہ جو چیز نہیں جانتا اسکے بارے میں کہے کہ اللہ اعلم، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ کہہ دیجئے میں تم لوگوں سے اجرت نہیں مانگا اور میں اپنے پاس سے بات بنانے والا نہیں ہوں۔ اس دھوئیں کی حقیقت یہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ قریشی نافرمانی پر تل چکے ہیں تو دعا کی یا اللہ پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی طرح سات سال کا قحط نازل فرما۔ چنانچہ قحط آیا اور سب چیزیں ختم ہوگئی، یہاں تک کہ لوگ کھالیں اور مردار کھانے لے۔ اعمش یا منصور کہتے ہیں کہ ہڈیاں بھی کھانے لگے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ پھر زمین میں سے ایک دھواں نکلنے لگا، راوی کہتے ہیں کہ پھر ابوسفیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ آپ کی قوم ہلاک ہوگئی ہے (فَارْتَ قِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَا ءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ ) 44۔ الدخان : 10) (سو اس دن کا انتظار کیجئے کہ آسمان دھواں ظاہر لائے، جو لوگوں کو ڈھانپ لے۔ یہی دردناک عذاب ہے۔) منصور کہتے ہیں یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ لوگ دعا کریں گے ربنا اکشف الآیۃ (اے ہمارے رب ! ہم سے یہ عذاب دور کر دے بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں۔) کیوں کہ قیامت کا عذاب تو دور نہیں کیا جائے گا۔ (یعنی یہ آیت بھی عبداللہ کے قول کی تائید کرتی ہے) عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بطشہ لزام اور دخان کے عذاب گذرچکے ہیں۔ اعمش یا منصور کہتے ہیں چاند کا پھٹنا بھی گذرگیا۔ اور پھر ان دونوں میں سے ایک یہ بھی کہتے ہیں کہ روم غالب ہونا بھی گذر گیا، امام ابوعیسی ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لزام سے مراد جنگ بدر کے موقع پر جو لوگ قتل ہوئے ہیں وہ ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Masruq reported that a man came to Sayyidina Abdullah (RA) and said that a preacher preached that a smoke would emerge from the earth whereby the hearing of the disbelievers would be impaired and the Believers would get something like common cold. Abdullah (RA) was enraged and he sat up straight though he had been reclining (before being told of that). Then he said, "If one of you is asked of something of which he has knowledge then he may answer"-or he said, inform. "But, if he is asked something of whch he has no knowledge then he must say Allah knows best." Then he said that Allah has said to His Prophet: "Say, 'I ask of you no reward for this, nor am I of the impostors.'" -------------------------------------------------------------------------------- (38: 86) When Allah's Messenger (SAW) observed that the Quraysh disobeyed him, he prayed, "O Allah! Help me over them with the seven like the seven of Yusuf." (seven years of famine). So, a year came upon them when everything was exhausted and they were driven to eat hides and carriory.-And one of the narrators saide-even bones. The like of smoke emerged from the earth. Abu Sufyan came to the Prophet (SAW) and said, "Your people are perishing. Pray to Allah for them." This was for his people: "...the Day when the heaven shall bring a manifest smoke enveloping the people. This will be a painful chastisement." (44: 10-11) Mansur (a narrator) said that this is for his people (who will pray): "Our Lord remove from us the chastisement, surely we are believers. (44 : 12) (This cannot be the punishment of the Hereafter). Obviously, the Punishment of the Hereafter is not removed. (Abdullah said:) "The batshah, the lizam and the dukhan have passed." And one of the narrators (Mansur or A'mash) said, "The (splitting of the) moon" and the other said, (The liberation of) Rome have also passed. [Ahmed 4206, Bukhari 4693, Muslim 2798] Lizam means (the people who were killed during) the Battle of Badr. --------------------------------------------------------------------------------
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَهُ بَابَانِ بَابٌ يَصْعَدُ مِنْهُ عَمَلُهُ وَبَابٌ يَنْزِلُ مِنْهُ رِزْقُهُ فَإِذَا مَاتَ بَکَيَا عَلَيْهِ فَذَلِکَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا بَکَتْ عَلَيْهِمْ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ وَمَا کَانُوا مُنْظَرِينَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَمُوسَی بْنُ عُبَيْدَةَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبَانَ الرَّقَاشِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ
حسین بن حریث، وکیع، موسیٰ بن عبیدة، یزید بن ابان، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مومن کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کے نیک عمل اوپر چڑھتے ہیں اور دوسرے سے اس کا رزق اترتا ہے۔ جب وہ مر جاتا ہے تو دونوں اسکی موت پر روتے ہیں۔ چنانچہ کفار کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَا ءُ وَالْاَرْضُ وَمَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ) 44۔ الدخان : 29) (نہ آسمان رویا، نہ زمین اور نہ انکو مہلت دی گئی اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس ذلت کے عذاب سے نجات دی۔) یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے مرفوعاً جانتے ہیں۔ اور موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث میں ضعیف ہیں۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah's Messenger (SAW) said, "There is not a Believer but there are for him two gates a gate through which his deeds ascend and a gate through which his provision descends. When he dies, both weep over him." This is as the saying of Allah: "So the heaven and the earth wept not for them, nor were they respite." (44: 29) --------------------------------------------------------------------------------
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْکِنْدِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ ابْنِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا أُرِيدَ عُثْمَانُ جَائَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ مَا جَائَ بِکَ قَالَ جِئْتُ فِي نَصْرِکَ قَالَ اخْرُجْ إِلَی النَّاسِ فَاطْرُدْهُمْ عَنِّي فَإِنَّکَ خَارِجٌ خَيْرٌ لِي مِنْکَ دَاخِلٌ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ إِلَی النَّاسِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ کَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فُلَانٌ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ وَنَزَلَ فِيَّ آيَاتٌ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ نَزَلَتْ فِيَّ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَی مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَکْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ وَنَزَلَتْ فِيَّ قُلْ کَفَی بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ إِنَّ لِلَّهِ سَيْفًا مَغْمُودًا عَنْکُمْ وَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ قَدْ جَاوَرَتْکُمْ فِي بَلَدِکُمْ هَذَا الَّذِي نَزَلَ فِيهِ نَبِيُّکُمْ فَاللَّهَ اللَّهَ فِي هَذَا الرَّجُلِ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَوَاللَّهِ إِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَتَطْرُدُنَّ جِيرَانَکُمْ الْمَلَائِکَةَ وَلَتَسُلُّنَّ سَيْفَ اللَّهِ الْمَغْمُودَ عَنْکُمْ فَلَا يُغْمَدُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَالُوا اقْتُلُوا الْيَهُودِيَّ وَاقْتُلُوا عُثْمَانَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
علی بن سعید کندی، ابومحیاة، عبدالملک بن عمیر، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھتیجے بیان کرتے ہیں کہ جب لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کا ارداہ کیا تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کیوں آئے ہیں؟ عبداللہ کہنے لگے آپ کی مدد کے لیے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ آپ جائیں اور لوگوں کو مجھ سے دور رکھیں کیونکہ آپ کا باہر رہنا میرے لیے اندر رہنے سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ عبداللہ بن سلام باہر نکلے اور لوگوں سے کہنے لگے کہ لوگو زمانہ جاہلیت میں میرا یہ نام تھا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام عبداللہ رکھا اور میرے بارے میں کئی آیات نازل ہوئیں چنانچہ (وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ بَنِيْ اِسْرَا ءِيْلَ عَلٰي مِثْلِه فَاٰمَنَ وَاسْ تَكْبَرْتُمْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْ قَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ) 46۔ الاحقاف : 10) (اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ ایک ایسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان بھی لے آیا اور تم اکڑے ہی رہے۔ بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔) اور (كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدً ا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ) 17۔ اسراء : 96) یہ دونوں آیتیں میرے بارے میں ہی نازل ہوئیں۔ (اور جان لو) کہ تم سے اللہ کی ایک تلوار چھپی ہوئی ہے اور فرشتے تمہارے اس شہر میں جس میں تمہارے نبی رہے پڑوسی ہیں۔ لہذا تم لوگ اس شخص (عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ اللہ کی قسم اگر تم لوگوں نے اسے قتل کر دیا تو فرشتے تمہارا پڑوس چھوڑ دیں گے، اور تم لوگوں پر اللہ کی وہ تلوار نکل آئے گی جو چھپی ہوئی تھی اور پھر اسکے بعد قیامت تک میان میں نہیں ڈالی جائے گی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس پر لوگ کہنے لگے کہ اس یہودی ( عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور عثمان دونوں کو قتل کر دو۔ یہ حدیث غریب ہے۔ اس حدیث کو شعیب بن صفوان، عبد الملک بن عمیر سے وہ ابن محمد بن عبداللہ بن سلام سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن سلام سے نقل کرتے ہیں۔
The nephew of Sayyidina Abdullah ibn Salaam (RA) narrated: When the people intended to slay Usman (RA) , Abdullah ibn Salaam (RA) came to Usman (RA) asked him. "What has brought you here?" He said, "I have come to" help you, He said, "Then go out and send the men away from me, for you are better for me outside then you are inside." So, Abdullah went out to the people and said, "O People! During the jahiliyah my name was so-and-so. Then Allah's Messenger (SAW) named me Abdullah and verses were revealed in Allah's Book about me. This was (also) revealed concerning me : "And a witness from among the children of Isra'il has already testified to its similarity and has believed, while, you are arrogant. Surely Allah guides not the evildoing people." (46: 10) And also this verse was about me : "Say, Allah suffices as a witness between me and you and whosoever has with him know-ledge of the Book." (13: 43) A sword of Allah is concealed from you and, indeed, the angels are your neighbours in this your city where your Prophet (SAW) had come. By Allah! Allah! About this man that you wish to slay. By Allah, if you slay him, the angels will give up your neighbourhood and the concealed sword of Allah will come upon you. It will never again be sheathed till the Last Day." The people responded, "Kill the Jewl and kill Usman!"
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَی مَخِيلَةً أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ وَمَا أَدْرِي لَعَلَّهُ کَمَا قَالَ اللَّه تَعَالَی فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ
عبدالرحمن بن اسود ابوعمرو بصری، محمد بن ربیعہ، ابن جریج، عطاء، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل دیکھتے تو اندر آتے اور باہر جاتے پھر جب بارش ہونے لگتی تو خوش ہو جاتے۔ فرماتی ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا سبب دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معلوم نہیں شاید یہ اس طرح جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَ تِهِمْ) 46۔ الاحقاف : 24) (پھر جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک ابر ہے جو ہم پر بر سے گا۔ (نہیں) بلکہ یہ وہی ہے جسے تم جلدی چاہتے تھے یعنی آندھی جس میں درد ناک عذاب ہے۔) یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated: Whenever the Prophet (SAW) saw a cloud, he would come in and go out (become restless). But when it rained, he was pleased with that, I asked him (about it) and he said: I cannot realise, for, it can be as Allah says: "Then, when they saw it as a sudden cloud advancing tewards their valleys, they said, "This is a cloud bringing us rain." (46: 24) [Ahmed 24401, Bukhari 3206, Muslim 899, Abu Dawud 5098]
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْکُمْ أَحَدٌ قَالَ مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ وَلَکِنْ قَدْ افْتَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ بِمَکَّةَ فَقُلْنَا اغْتِيلَ أَوْ اسْتُطِيرَ مَا فُعِلَ بِهِ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ حَتَّی إِذَا أَصْبَحْنَا أَوْ کَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيئُ مِنْ قِبَلِ حِرَائَ قَالَ فَذَکَرُوا لَهُ الَّذِي کَانُوا فِيهِ فَقَالَ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ فَانْطَلَقَ فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ قَالَ الشَّعْبِيُّ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ وَکَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ فَقَالَ کُلُّ عَظْمٍ يُذْکَرُ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيکُمْ أَوْفَرَ مَا کَانَ لَحْمًا وَکُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّکُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِکُمْ الْجِنِّ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
علی بن حجر، اسماعیل بن ابراہیم، داؤد، شعبی، حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ جس رات جن آئے تھے کیا آپ لوگوں میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا نہیں لیکن ایک مرتبہ مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گم ہوگئے۔ ہم لوگ سمجھے کہ شاید کسی نے آپ کو پکڑ لیا ہے یا کوئی اغوا کرکے لے گیا ہے۔ وہ رات بہت بری گزری جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح ہی صبح غار حراء کی طرف سے آرہے تھے چنانچہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی گھبراہٹ بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس ایک جن مجھے بلانے کیلئے آیا تھا ۔ میں وہاں چلا گیا اور انکو قرآن پڑھ کر سنایا۔ پھر آپ ہمیں لے گئے اور انکے اور انکی آگ کے نشانات دکھائے پھر جنوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے توشا مانگا وہ کسی جزیرے کے رہنے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام نہیں لیا جائیگا تمہارے لیے ہوگی اور خوب گوشت لگا ہوا ہوگا اور ہر اونٹ کی مینگنیاں اور گوبر تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی اور گوبر سے استنجا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ تمہارے بھائی جنونں کی خوراک ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Alqamah reported that he asked Ibn Mas'ud (RA) "Did anyone of you accompany the Prophet (SAW) on the night of the jinn"? He said: None of us did accompany him, but we lost him one night while he was in Makkah and we thought that someone may have captured him or kidnapped him. That night was very evil for us till it was morning. Early morning he was seen coming from the side of (the cave of) Hira. They mentioned to him how they had felt. He said, "A jinn had come to invite me. I went to them and recited the Qur'an to them." Then, he took us there and showed us their traces and traces of their fires. Sha'bi said that the jinns then asked him for provision and they were from the island. And the Prophet (SAW) said, "For you is every bone on which Allah's name is not called, and it will be clothed in much flesh. And the droppings and excretion of every camel will be the grazing of your animals." Then Allah's Messenger (SAW) disallowed us to make istinja (abstertion) with bone or dung, saying, "This is the food of your brothers, the Jinns." [Bukhari 3859, Muslim 450, Abu Dawud 85]