TrueHadith

سورت بقرہ اور آیة الکرسی کی فضیلت کے متعلق

Jami' TirmidhiHadith 2802

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَکُمْ مَقَابِرَ وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ الْبَقَرَةُ لَا يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

قتیبہ، عبدالعزیزبن محمد، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ اور جس گھر میں سورت بقرہ پڑھی جاتی ہے وہاں شیطان داخل نہیں ہوتا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Sayyidina Abu Huraira (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “Do not turn you homes into graves. The devil does not enter the house in which al-Baqarah is recited.” [Muslim 780,Ahmed 7826]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 2803

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ حَکِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ شَيْئٍ سَنَامٌ وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَفِيهَا آيَةٌ هِيَ سَيِّدَةُ آيِ الْقُرْآنِ هِيَ آيَةُ الْکُرْسِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَکِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ وَقَدْ تَکَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَکِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ وَضَعَّفَهُ

محمود بن غیلان، حسین جعفی، زائدة، حکیم بن جبیر، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کا ایک کوہان (یعنی بلندی) ہوتا ہے اور قرآن کا کوہان سورت بقرہ ہے۔ اس میں ایک آیت ایسی بھی ہے جو قرآن کی تمام آیتوں کی سردار ہے۔ اور وہ آیة الکرسی ہے۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حکیم بن جبیر کی روایت سے جانتے ہیں۔ شعبہ انہیں ضعیف کہتے ہیں۔

Sayyidina Abu Huraira (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “Everything has a hump and the hump of the Quran is surah al-Baqarah. There is a verse in it that is the chief of all verses of the Qur’an, the ayat ul-Kursi.” (2:255)

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 2804

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ الْمُلَيْکِيِّ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ مُصْعَبٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ حم الْمُؤْمِنَ إِلَی إِلَيْهِ الْمَصِيرُ وَآيَةَ الْکُرْسِيِّ حِينَ يُصْبِحُ حُفِظَ بِهِمَا حَتَّی يُمْسِيَ وَمَنْ قَرَأَهُمَا حِينَ يُمْسِي حُفِظَ بِهِمَا حَتَّی يُصْبِحَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَدْ تَکَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ الْمُلَيْکِيِّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَزُرَارَةُ بْنُ مُصْعَبٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَهُوَ جَدُّ أَبِي مُصْعَبٍ الْمَدَنِيِّ

یحیی بن مغیرة ابوسلمة مخزومی مدینی، ابن ابی فدیک، عبدالرحمن ملیکی، زرارة بن مصعب، ابوسلمة، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے صبح کے وقت (حم الْمُؤْمِنَ إِلَی إِلَيْهِ الْمَصِيرُ وَآيَةَ) تک پڑھی اور آیة الکرسی پڑھی تو آیات کی برکت سے اس کی شام تک حفاظت کی جائے گی اور جو شام کو پڑھے گا تو اس کی صبح تک حفاظت کی جائے گی۔ یہ حدیث غریب ہے۔ بعض علماء عبدالرحمن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ الملیکی کے حافظے پر اعتراض کرتے ہیں۔

Sayyidina Abu Huraira (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “If anyone recites in the morning (Al-Quran 40:1-3) and ayat al-kursi (2:255) then he is protected thereby until evening. And, if anyone recites these verses in the evening then he is protected thereby till it is morning.” --------------------------------------------------------------------------------

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 2805

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ أَخِيهِ عِيسَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ کَانَتْ لَهُ سَهْوَةٌ فِيهَا تَمْرٌ فَکَانَتْ تَجِيئُ الْغُولُ فَتَأْخُذُ مِنْهُ قَالَ فَشَکَا ذَلِکَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاذْهَبْ فَإِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَخَذَهَا فَحَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا فَجَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَسِيرُکَ قَالَ حَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَقَالَ کَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْکَذِبِ قَالَ فَأَخَذَهَا مَرَّةً أُخْرَی فَحَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا فَجَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَسِيرُکَ قَالَ حَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَقَالَ کَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْکَذِبِ فَأَخَذَهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِتَارِکِکِ حَتَّی أَذْهَبَ بِکِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي ذَاکِرَةٌ لَکَ شَيْئًا آيَةَ الْکُرْسِيِّ اقْرَأْهَا فِي بَيْتِکَ فَلَا يَقْرَبُکَ شَيْطَانٌ وَلَا غَيْرُهُ قَالَ فَجَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَسِيرُکَ قَالَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَتْ قَالَ صَدَقَتْ وَهِيَ کَذُوبٌ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَفِي الْبَاب عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ

محمد بن بشار، ابواحمد، سفیان، ابن ابی لیلی، ان کے بھائی، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت ابوایوب انصاری فرماتے ہیں کہ ان کے ہاں ایک طاق تھا جس میں کھجوریں تھیں ایک جننی آتی اور اس میں سے کھجوریں چرا لیتی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور جب وہ آئے تو کہنا بِسْمِ اللَّهِ اور پھر کہنا کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ ابوایوب نے اسے پکڑ لیا تو وہ جننی قسم کھانے لگی کہ دوبارہ نہیں آئے گی۔ انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ عرض کیا اس نے قسم کھائی ہے کہ اب نہیں آئے گی۔ آپ نے فرمایا اس نے جھوٹ بولا کیونکہ وہ جھوٹ کی عادی ہے۔ چنانچہ حضرت ابوایوب نے اسے پکڑا تو اس نے پھر قسم کھائی اور ابوایوب نے اسے دوبارہ چھوڑ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوچھا تمہارے قیدی کا کیا ہوا؟ عرض کیا اس نے قسم کھائی ہے کہ اب نہیں آئے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس نے جھوٹ کہا کیونکہ وہ جھوٹ کی عادی ہے چنانچہ حضرت ابوایوب نے پھر اسے پکڑا اور فرمایا میں تجھے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤں۔ اس نے کہا میں تمہیں ایک چیز بتاتی ہوں وہ یہ کہ تم گھر میں آیة الکرسی پڑھا کرو تو شیطان یا کوئی اور چیز تمہارے قریب نہیں آئے گی۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے قول کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا اگرچہ وہ جھوٹی ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

Abu Ayyub Ansari (RA) reported that he had a niche that contained dates. A female jinn would come and take away dates from it. He complained about it to the Prophet (SAW) who said, “Go. When you see her, say, ‘In the name of Allah, obey Allah’s Messenger (SAW). So, he nabbed her and she swore that she would not return. He let her go and went to the Prophet (SAW) who asked, “What has your prisoner done?” He said, “She has promissed not to come again.” He said, “She has lied. She will come again.” He nabbed her again and she promised that she would not come again, so he let her go. He went to the Prophet (SAW) who asked, “What has your prisoner done?” He said that she had promised not to return. The Prophet (SAW) said, “She has lied and will come back.” So, he nabbed her, (the third time) and said, “I am not going to free you till I take you to the Prophet (SAW). She said, “I mention to you something the ayat ul-Kursi. Recite it in your house. The devil or any other than him will not approach you. “He went to the Prophet (SAW), who asked him what his prisoner had done and he informed him of what she had said. The Prophet (SAW) said, “She has spoken truth though she is a liar.” --------------------------------------------------------------------------------

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 2801

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَطَائٍ مَوْلَی أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَهُمْ ذُو عَدَدٍ فَاسْتَقْرَأَهُمْ فَاسْتَقْرَأَ کُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَا مَعَهُ مِنْ الْقُرْآنِ فَأَتَی عَلَی رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا فَقَالَ مَا مَعَکَ يَا فُلَانُ قَالَ مَعِي کَذَا وَکَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ قَالَ أَمَعَکَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَاذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ إِلَّا خَشْيَةَ أَلَّا أَقُومَ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْرَئُوهُ فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ کَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْکًا يَفُوحُ رِيحُهُ فِي کُلِّ مَکَانٍ وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَيَرْقُدُ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ کَمَثَلِ جِرَابٍ وُکِئَ عَلَی مِسْکٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَطَائٍ مَوْلَی أَبِي أَحْمَدَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ اللَّيْثِ فَذَکَرَهُ

حسن بن علی خلال، ابواسامة، عبدالحمید بن جعفر، سعید مقبری، عطاء مولی ابی احمد، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک لشکر روانہ کیا۔ اس میں گنتی کے لوگ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے قرآن پڑھنے کو کہا جسے جو یاد تھا پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے ایک کمسن (چھوٹی عمر والے شخص) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تمہیں کتنا قرآن یاد ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں سورت اور سورت بقرہ یاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تمہیں سورت بقرہ یاد ہے۔ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر جاؤ تم ان کے امیر ہو۔ چنانچہ ان کے معززین میں سے ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم میں نے سورت بقرہ محض اس لیے نہیں سیکھی کہ میں اس کے ساتھ (نماز میں) کھڑا نہ ہو سکوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ قرآن سیکھو اور پڑھو اس لیے کہ جس نے قرآن کو سیکھا اور پھر اسے تہجد وغیرہ میں پڑھا اس کی مثال ایک مشک سے بھری ہوئی تھیلی کی سی ہے کہ اس کے خوشبو ہر جگہ پھیلتی رہتی ہے اور جس نے اسے یاد کیا اور پھر سو گیا تو وہ اس کے دل میں محفوظ ہے جیسے مشک کی تھیلی کو باندھ کر رکھ دیا گیا ہو۔ یہ حدیث حسن ہے اسے مقبری بھی ابواحمد کے مولی عطاء سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کی مانند مرسلا نقل کرتے ہیں۔ قتیبہ اسے لیث بن سعد سے وہ سعید مقبری سے وہ عطاء سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کے ہم معنی مرسلا نقل کرتے ہوئے ابوہریرہ کا ذکر نہیں کرتے۔ اس باب میں حضرت ابی بن کعب سے بھی روایت ہے۔

Sayyidina Abu Huraira (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) sent a small army and they were a countable number. He got them to recite the Qur’an and each man of them recited whatever he had of the Qur’an (in memory). He came to a man among them, the youngest of them in years and asked him, ‘What do you have of the Qur’an with you, O so-and-so?” He said, “I have this and that and surah al-Baqarah.” He asked him “Oh, do you have surah al-Baqarah?” He said, ‘Yes.’ The Prophet (SAW) said, “Go. You are their amir.” Then a man of the nobles among them remaked, “By Allah, nothing prevented me from learning al-Baqarah but that I was apprehensive that I might not be able to recite it in salah (in tahajjud).” Allah’s Messenger (SAW) said, “Learn the Qur’an and recite it. The example of the Qur’an for one who learns it, recites it and stands in salah with it is like a bag full of musk, its fragrance spreading in every corner. And the example of one who learns it but goes to sleep while it is in his heart is like a bag of musk tied close (at its mouth).”

Permalink