کھیتی اور بٹائی کے متعلق

- نصف یا اس کے قریب پیداوار پر کاشت کرنے کا بیان اور قیس بن مسلم نے ابوجعفر سے نقل کیا، انہوں نے بیان کیا، کہ مدینہ میں مہاجرین کا کوئی ایسا گھر نہ تھا، جو تہائی اور چوتھائی پر کاشت نہ کرتا ہو اور علی، سعد بن مالک، عبداللہ بن مسعود، عمر بن عبدالعزیز، قاسم، عروہ اور ابوبکرکے خاندان کے لوگ اور عمر اور علی کے خاندان لوگ اور ابن سیرین نے بھی مزارعت کی اور عبدالرحمن بن اسود نے بیان کیا کہ میں عبدالرحمن بن یزید کا کھیتی میں شریک رہتا، اور حضرت عمر نے لوگوں سے اس شرط پر معاملہ کیا، کہ اگر بیج حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیں تو آدھی پیداواران لوگوں کی ہوگی اور اگر وہ لوگ بیج لائیں، تو اسی طرح آدھی پیدا وار ان لوگوں کی ہوگی، اور حسن نے کہا، کہ اگر زمین ان میں سے کسی ایک کی ہو اور دونوں اس میں خرچ کریں تو پیداوار برابر تقسیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور زہری کا بھی یہی خیال ہے۔ اور حسن نے کہا کہ روئی اس شرط پر چنی جائے کہ آدھی آدھی دونوں کی ہو گی، تو حرج نہیں اور ابراہیم ابن سیرین، عطائ، حکم، زہری اور قتادہ نے کہا کہ کپڑا تہائی یا چوتھائی پر ( جولاہے) کو دینے میں کوئی حرج نہیں اور معمر نے کہا کہ مویشی تہائی اور چوتھائی پر ایک مدت معین کے لئے کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں ۔