TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
وضو کا بیان
-
اپنے ساتھی کے پاس پیشاب کرنا اور دیوار سے آڑ کر لینے کا بیان
-
اس پانی کا بیان جس سے انسان کے بال دھوۓ جائیں اور عطاء اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے کہ ان بالوں کے دھاگے اور رسیاں بنائی جائیں، اور کتوں کے جھوٹے اور مسجد میں ان کی آمد و رفت کا بیان، زہری نے کہا ہے کہ جب کتا کسی برتن میں منہ ڈالے اور اس علاوہ وضو کے لئے پانی نہ ہو، تو اس سے وضو کر لیا جائے اور سفیان (ثوری) نے کہا، یہ صحیح فقہ ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر پانی نہ پاؤ تو تیمم کو لو اور یہ پانی تو ہے مگر دل میں اس کی (طہارت کی) طرف سے کچھ شک ہے لہذا اس سے وضو کیا جائے اور اس کے بعد تیمم بھی کر لیا جائے
-
اس شخص کا بیان جو اپنے ساتھی کو وضو کر وائے
-
اس شخص کا بیان جو دو اینٹوں پر (بیٹھ کر) پاخانہ پھرے
-
اس شخص کی فضیلت کا بیان جو با وضو (ہو کر) رات کو سوۓ
-
استنجا کے لئے پانی کے ساتھ نیزہ کے جانے کا بیان
-
اسلاف میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جو صرف پاخانہ پیشاب کے بعد وضو کو فرض سمجھتے ہیں، اس کے علاوہ کسی چیز سے وضو فرض نہیں سمجھتے، ان کی دلیل یہ آیت ہے او جاء احد منکم من الغائط، عطاء نے اس شخص کے بارے میں جس کے پیچھے سے کیڑا خارج ہو یا اس کے عضو خاص سے جوں کی مثل کوئی چیز نکلے، یہ کہا ہے کہ وضو کا اعادہ کر لے، جابر بن عبداللہ نے کہا ہے کہ جب کوئی نماز میں ہنس پڑے، تو وہ اس کا اعادہ کر لے اور وضو کا اعادہ نہ کرے، حسن (بصری) نے کہا ہے اگر ( کوئی) شخص اپنے بال یا اپنے ناخن کتروائے یا اپنے موزے اتار ڈالے تو اس پر وضو (فرض) نہیں، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے کہ وضو فرض نہیں ہوتا مگر حدث کے سبب سے اور جابر سے نقل کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ ذات الرقاع میں تھے، ایک شخص کو تیر مارا گیا ، جس سے ان کا خون نکل آیا، مگر انہوں نے رکوع کیا اور سجدہ کیا اور اپنی نماز پر قائم رہے، حسن بصری کہتے ہیں کہ مسلمان برابر اپنے زخموں میں نماز پڑھا کرتے تھے اور طاؤس اور محمد بن علی اور عطاء اور اہل حجاز کہتے ہیں کہ خون (نکلنے) سے وضو (فرض) نہیں ہوتا، ابن عمر نے اپنی ایک پھنسی کو دبا دیا اور اس سے خون نکلا، مگر انہوں نے وضو نہیں کیا اور ابن ابی اوفی نے خون تھوکا مگر وہ اپنی نماز میں قائم رہے اور ابن عمر اور حسن (بصری) اس شخص کے بارے میں جو پچھنے لگوائے، یہ کہتے ہیں کہ اس پر صرف اپنے پچھنے کے مقامات کا دھو نا ضروری ہے
-
اسلاف میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جو صرف پاخانہ پیشاب کے بعد وضو کو فرض سمجھتے ہیں، اس کے علاوہ کسی چیز سے وضو فرض نہیں سمجھتے، ان کی دلیل یہ آیت ہے او جاء احد منکم من الغائط، عطاء نے اس شخص کے بارے میں جس کے پیچھے سے کیڑا خارج ہو یا اس کے عضو خاص سے جوں کی مثل کوئی چیز نکلے، یہ کہا ہے کہ وضو کا اعادہ کر لے، جابر بن عبداللہ نے کہا ہے کہ جب کوئی نماز میں ہنس پڑے، تو وہ اس کا اعادہ کر لے اور وضو کا اعادہ نہ کرے، حسن (بصری) نے کہا ہے اگر ( کوئی) شخص اپنے بال یا اپنے ناخن کترواۓ یا اپنے موزے اتار ڈالے تو اس پر وضو (فرض) نہیں، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے کہ وضو فرض نہیں ہوتا مگر حدث کے سبب سے اور جابر سے نقل کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ ذات الرقاع میں تھے، ایک شخص کو تیر مارا گیا ، جس سے ان کا خون نکل آیا، مگر انہوں نے رکوع کیا اور سجدہ کیا اور اپنی نماز پر قائم رہے، حسن بصری کہتے ہیں کہ مسلمان برابر اپنے زخموں میں نماز پڑھا کرتے تھے اور طاؤس اور محمد بن علی اور عطاء اور اہل حجاز کہتے ہیں کہ خون (نکلنے) سے وضو (فرض) نہیں ہوتا، ابن عمر نے اپنی ایک پھنسی کو دبا دیا اور اس سے خون نکلا، مگر انہوں نے وضو نہیں کیا اور ابن ابی اوفی نے خون تھوکا مگر وہ اپنی نماز میں قائم رہے اور ابن عمر اور حسن (بصری) اس شخص کے بارے میں جو پچھنے لگوائے، یہ کہتے ہیں کہ اس پر صرف اپنے پچھنے کے مقامات کا دھونا ضروری ہے
-
اعضاء وضو کو صرف ایک ایک چلو سے دھونا بھی (منقول ہے)
-
اگر بے وضو ہو جانے کا شک ہو تو محض شک کی بناء پر وضو کرنا ضروری نہیں جب تک یقین نہ ہو
-
اگر وضو نہ ہو تو ( وضو کئے بغیر) قرآن کی تلاوت کرنے کا بیان اور منصور نے ابراہیم سے نقل کیا ہے کہ حمام میں تلاوت کرنا اور بے وضو خط کا لکھنا جائز ہے حماد نے ابراہیم سے نقل کیا ہے کہ اگر حمام کے لوگوں مے بدن پر ازار ہو تو انہیں سلام کرو ورنہ نہیں
-
اگر کسی نے ستو کھا کر کلی کرلی اور وضو نہیں کیا
-
ان احادیث کے بارے میں جو پیشاب دھونے کے بارے میں منقول ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قبر والے کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ یہ پیشاب سے نہ بچتا تھا، آدمیوں کے پیشاب کے علاوہ کسی دوسرے کے پیشاب کا ذکر نہیں ملتا
-
اونٹ، چوپایوں اور بکری کے پیشاب اور ان کے رہنے کی جگہوں کا بیان، ابوموسی نے دار البرید میں نماز پڑھی اور ان کے ایک اس طرف گوبر تھا اور (دوسری طرف) جنگل، تو انہوں نے کہا کہ یہ جگہ اور وہ جگہ برابر ہے
-
ایڑیوں کے دھونے کا بیان، ابن سیرین جب وضو کرتے تھے تو انگوٹھی کے نیچے کی جگہ ( بھی) دھوتے تھے
-
ایک مد سے وضو کرنے کا بیان
-
ایک ہی چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
-
بچوں کے پیشاب کا بیان
-
بسم اللہ ہر حال میں کہنا چاہیے، یہاں تک کہ صحبت سے پہلے بھی
-
بغیر حدث کے وضو کرنے کا بیان
-
بکری کا گوشت اور ستو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان اور ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم نے گوشت کھایا اس کے بعد وضو نہیں کیا
-
پاخانہ (کے لئے جاتے) وقت پانی رکھ دینے کا بیان
-
پاخانہ (کے لئے جاتے) وقت کیا پڑھے
-
پاخانے یا پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کیا جائے ، البتہ عمارت یا دیوار ہو یا اس کے مثل کوئی اور چیز آڑ کی ہو تو کوئی مضائقہ نہیں
-
پانی سے استنجاء کرنے کا بیان
-
پتھروں سے استنجاء کرنے کا بیان
-
پورے سر کا مسح کرنے کا بیان، بدلیل قول اللہ تعالیٰ کے وامسحو برئوسکم اور ابن میسب نے کہا ہے کہ عورت بھی مثل مرد کے ہے وہ بھی اپنے سر پر مسح کرے، امام مالک سے پوچھا گیا کہ کیا بعض سر کا مسح کافی ہے ؟ تو انہوں نے عبداللہ بن زید کی حدیث سے استدلال کیا (اور کہا کہ کافی نہیں)
-
پیشاب سے نہ بچنا گناہ کبیرہ میں سے ہے
-
پیشاب کرتے وقت اپنے عضو خاص کو اپنے داہنے ہاتھ سے نہ پکڑے
-
جب نماز کا وقت آجائے تو پانی تلاش کرنا اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ سفر میں صبح ہوگئی اور پانی ڈھونڈا گیا، نہ ملا تو تیمم (کا حکم) نازل ہو ا
-
جب نماز کی پیٹھ پر نجاست یا مردار ڈال دیا جائے تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اپنے کپڑے میں خون دیکھتے اور وہ نماز پڑھتے ہوتے تو اس کپڑے کو اتار ڈالتے اور اپنی نماز کو پورا کر لیتے، ابن مسیب اور شعبی نے کہا ہے جب کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے کپڑے میں خون یا جنابت لگی ہو یا قبلہ کے خلاف جانب نماز پڑھی ہو یا تیمم کر کے نماز پڑھی ہو پھر نماز کے وقت کے اندر پانی مل جائے یا بعد میں قبلے کی سمت معلوم ہو جائے تو ان سب صورتوں میں نماز کا اعادہ نہ کرے
-
جب کتا برتن میں منہ ڈال کر پی لے
-
جنابت وغیرہ کو دھوئیے، مگر اس کا دھبہ نہ جائے
-
جنابت وغیرہ کو دھوۓ، مگر اس کا دھبہ نہ جائے
-
جو نجاستیں گھی اور پانی میں گر جائیں ان کا بیان، زہری نے کہا یہ کہ ان سے پانی کو کوئی فرق نہیں پڑتا، جب تک کہ اس کا مزہ یا بویا رنگ نہ بدلے، حماد نے کہا ہے کہ مردار ( پرندے کے پروں کے پانی میں پڑ جانے) سے پانی کو کچھ نہیں ہوتا، زہری نے ہاتھی وغیرہ جیسے مردوں کی ہڈیوں کے بارے میں کہا ہے کہ میں نے سابقہ علماء میں سے کچھ علماء کو ان کی کنگھیاں اور انکے روغن دان بنائے ہوۓ دیکھا ہے وہ اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے، ابن سیرین اور ابراہیم نے کہا ہے کہ ہاتھی دانت کی تجارت میں کچھ حرج نہیں
-
خون دھونے کا بیان
-
داہنے ہاتھ سے استنجا کر نے کی ممانعت کا بیان
-
دونوں پاؤں دھونے کا بیان اور دونوں قدموں پر مسح نہ کیا جائے
-
دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھونے کا بیان
-
زیادہ غشی کے علاوہ وضو نہ کرنے کا بیان
-
سر کا مسح ایک مرتبہ کرنے کا بیان
-
طاق پتھروں سے استنجا کا بیان
-
طشت سے وضو کرنے کا بیان
-
عورت کا اپنے والد کے چہرہ سے خون کو دھونے کا بیان اور ابوالعالیہ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے پیر پر مالش کردو کیونکہ وہ بیمار تھے
-
عورتوں کا قضائے حاجت کے لئے باہر نکلنے کا بیان
-
گوبر سے استنجا نہ کرے
-
لگن، پیالے اور لکڑی اور پتھر کے برتن سے غسل اور وضو کرنے کا بیان
-
لوگوں کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کرنے کا بیان، جریر بن عبداللہ نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا کہ ان کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کریں
-
مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ وضو کرنا اور عورت کے وضو کا بچا ہو پانی استعمال کرنا، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گرم پانی سے اور نصرانیہ کے گھر (کے پانی) سے وضو فرمایا
-
مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ وضو کرنا اور عورت کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا۔
-
مسجد میں پیشاب پر پانی ڈالنے کا بیان
-
مسواک کرنے کا بیان اور ابن عباس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزاری تو آپ نے مسواک کیا
-
منی دھونے اور اس کے رگڑ نے اور اس تری کے دھونے کا بیان جو عورت کو لگ جائے
-
مو زوں کو وضو کی حالت میں پہننے کا بیان
-
موزوں پر مسح کرنے کا بیان
-
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سب لوگوں کا اعرابی کو مہلت دینا، تاکہ وہ اپنے پیشاب سے جو مسجد میں کر رہا تھا، فارغ ہو جائے
-
نبیذ یا کسی اور نشہ لانے والی چیز سے وضو جائز نہیں اور حسن بصری اور ابوالعالیہ نے اسے مکروہ سمجھا ہے، اور عطا نے کہا ہے کہ مجھے نبیذ اور دودھ سے وضو کر نے سے تیمم اچھا معلوم ہوتا ہے
-
نعلین پہنے ہوۓ ہو، تو دونوں پاؤں کا دھونا (ضروری ہے) نعلین پر مسح نہیں ہوسکتا
-
نیند سے وضو کر نے کا بیان اور بعض وہ لوگ جو ایک دو مرتبہ اونگھ جانے سے یا سر کے ہل جانے سے وضو کو فرض نہیں سمجھتے
-
وضو (میں اعضا) کو پورا دھونے کا بیان، اور ابن عمر نے کہا کہ وضو کا پورا کرنا (اس کا مطلب یہ ہے کہ صاف کرنا (ضروری ہے)
-
وضو اور غسل کرنے میں دائیں طرف سے شروع کر نے کا بیان
-
وضو میں اعضاء کو ایک ایک مرتبہ دھونے کا بیان
-
وضو میں اعضاء کو تین تین بار دھونے کا بیان
-
وضو میں اعضاء کو دو دو مرتبہ دھونے کا بیان
-
وضو میں تخفیف کرنے کا بیان
-
وضو میں ناک صاف کرنے کیا بیان، اس کو عثمان، عبداللہ بن زید اور عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے
-
وضو میں کلی کرنے کا بیان، اس کو ابن عباس اور عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے
-
وضو کی فضیلت ( کا بیان) اور ( یہ کہ قیامت کے دن لوگ) وضو کے نشانات کے سبب سے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں گے
-
ٹھہرے ہوۓ پانی میں پیشاب کرنے کا بیان
-
کپڑے میں تھوک اور رینٹ وغیرہ کے لینے کا بیان اور عروہ نے مسور اور مروان سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں نکلے پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کرنے کے بعد کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جتنی مرتبہ تھوکا وہ کسی شخص کے ہاتھ میں پڑا اور اس نے اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا
-
کسی شخص کے ہمراہ اس کی طہارت کے لئے پانی لے جانا (جائز نہیں ہے)، ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عراق والوں سے کہا کہ کیا تم میں صاحب النعلین والطہور والو سادۃ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نہیں ہیں ؟ (پھر تم انہیں چھوڑ کر مجھ سے کیوں مسائل پوچھتے ہو)
-
کسی قوم کی روڑی کے پیشاب کرنے کا بیان
-
کوئی نماز بغیر طہارت کے مقبول نہیں ہوتی
-
کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پیشاب کرنے کا بیان
-
کیا دودھ پی کر کلی کی جائے
-
یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے
-
یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔