TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
وصیتوں کا بیان
-
اپنے رشتہ داروں کیلئے وقف اور وصیت کے جواز کا بیان اور رشتہ دار کون کون ہیں ؟ثابت، انس سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوطلحہ سے فرمایا، اپنے اس باغ کو اپنے غریب عزیزوں میں تقسیم کر دو، تو انہوں نے وہ باغ حضرت حسان اور ابی بن کعب کو دے دیا تھا ، انصاری کہتے ہیں کہ مجھے سے میرے والد، بروایت ثمامہ اور حضرت انس ثابت کی حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت نے ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا اس کو اپنے غریب اعزہ کو دیدو، حضرت انس نے بیان کیا کہ پھر انہوں نے حسان اور ابی بن کعب کو دیا اور وہ مجھ سے زیادہ ان کے قریبی رشتہ دار تھے، حسان اور ابی بن کعب کی قرابت ابوطلحہ سے اس طرح ہے کہ ابوطلحہ کا نام زید بن سہیل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمر بن مالک بن نجار اور حسان کا نسب یہ ہے حسان بن ثابت بن منذر بن حرام پس یہ دونوں حرام تک پہنچ کر تیسری پشت میں مل جاتے ہیں اس طرح پر کہ حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمروبن مالک بن نجار پس عمروبن مالک تک اور حسان اور ابی طلحہ اور ابی کی چھ پشتیں، اور ابی بن کعب اپنے شجرہ ابی بن کعب بن قیس بن عبید بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار، پس عمرو بن مالک میں حسان اور ابوطلحہ اور ابی سب مل جاتے ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں اگر اپنے قرابت والوں کیلئے کوئی شخص وصیت کرے، تو وصیت اس کے مسلمان باپ دادا کی طرف ہوئی، اس وصیت کا اثر نہیں لوٹ سکتا۔
-
اس امر کا بیان کیا یتیم کے مال میں وصی کے لئے محنت کرنا اور اس سے اپنی محنت کے مطابق کھانا جائز ہے۔
-
اس فرمان الہٰی کا بیان کہ جب تقسیم مال کے وقت رشتہ دار اور یتیم و مسکین آجائیں تو ان کو بھی اس میں کچھ دو۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں ۔ اور وہ عنقریب دوزخ میں داخل ہوں گے اس باب میں یتیم کا مال کھانے کی ممانعت ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ یتیموں کو انکے مال دے دو اور خراب مال کو اچھے مال سے نہ بدلو، اور انکا مال اپنے مالوں کیساتھ ملا کر نہ کھاؤ، بے شک یہ بڑا گناہ ہے، اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیموں میں برابری نہ کر سکو گے تھے، تو تم نکاح کر لو، ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں ۔
-
ایک مشترکہ جماعت کا زمین صدقہ کر دینے کے بیان میں ۔
-
بغیر حدود بتائے زمین وقف کرنا اور اسی طرح کا صدقہ بھی جائز ہے اس کا بیان۔
-
تہائی مال کی وصیت کا بیان اور حسن بصری نے فرمایا ذمی کو بھی تہائی مال سے زیادہ وصیت جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ذمیوں کے درمیان بھی اس کے موافق فیصلہ کرو، جو اللہ نے نازل فرمایا ہے، معاملات کا اندرونی فیصلہ بھی اللہ کے نازل کردہ حکم کے موافق کرو۔
-
جانور، گھوڑے اسباب، چاندی سونا وقف کرنے کا بیان زہری نے اس شخص کے بارے میں جس نے ہزار اشرفیاں خدا کی راہ میں وفق کیں اور اپنے غلام تاجر کو اس لئے حوالہ کیں کہ وہ ان سے تجارت کرے اور نفع کو مسکینوں پر اور اپنے اعزاء پر خیرات کر دے تو کیا اس شخص کو جائز ہے کہ اس ہزار اشرفیوں کے نفع میں سے خود بھی کھالے اگرچہ اس نے اس کے نفع کو مسکینوں کے لے خیرات نہیں کیا، کہا اس کو اس میں سے کھانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
-
عورتوں اور بچوں کے عزیزوں میں داخل ہونے کا بیان۔
-
فقیر، مالدار، اور مہمانوں کیلئے وقف کرنے کا بیان۔
-
محتاج و نادر چھوڑنے سے زیادہ اچھا یہ ہے کہ وارثوں کو مالدار چھوڑا جائے
-
مریض اپنے سرے سے کوئی واضح اشارہ کرے تو اعتبار کیا جائے گا۔
-
مسجد کے لئے زمین وقف کر نے کا بیان
-
من بعد وصیتہ تو صون بھا اودین یعنی قرض اور وصیت کا مطلب، رسول اللہ نے وصیت کرنے سے پہلے ایک کا دوسرے سے قرضہ جو اس کے ذمہ واجب تھا، ادا کر دیا تھا، نیزاللہ عزوجل کا ارشاد ہے، ان اللہ یاء مرکم ان توء دو الا مانات الی اھلھا لہٰذا امانت کا ادا کر دینا وصیت نفلی پوری کرنے سے مقدم ہے، رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ، صدقہ مالداری کی حالت میں دینا چاہیے، ابن عباس نے کہا غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر وصیت نہ کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کہ غلام اپنے مالک کے مال کا نگران اور محافظ ہے۔
-
موت کے وقت خیرات کرنے کا بیان۔
-
میت کی نذروں کے پورا کرنے اور اچانک مرنیوالے کی طرف سے خیرات کرنے کے استحباب کا بیان۔
-
نگران کا وقف سے اپنے لئے ضروری خرچ لینے کا بیان۔
-
و صیتوں کا بیان اور آنحضرت صلعم کا ارشاد گرامی کہ وصیت کرنے والے کا وصیت نامہ لکھا ہوا ہونا چاہیے، اور فرمان الٰہی کہ جب تم میں سے کوئی شخص مرنے لگے اور مال چھورے، تو والدین اور رشتہ داروں کے حق میں دستور کے مطابق تم پر وصیت فرض ہے، نیز پرہیز گاروں کیلئے ایسا کرنا ضروری ہے، جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس کا گناہ بدلنے والوں پر ہے، بے شک اللہ تعالیٰ سننے اور جاننے والا ہے اور جو شخص وصیت کرنے والے کی طرف سے حق تلفی یا طرفداری کا ڈر رکھتا ہو، اور ان کے درمیان صلح کرادے تو ان پر گناہ نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے، جنف سے مراد ہے، جھک جانا، متجانف (جھکنے والا) اسی سے ہے۔
-
وارث کے حق میں وصیت درست نہیں ۔
-
واقف کیا اپنے وقف سے منتفع ہو سکتا ہے؟ حضرت عمر نے اپنے وقف میں یہ شرط کی دی تھی، کہ وقف کے متولی پر کچھ گناہ نہیں کہ وہ اس میں سے کھائے اور وقف کا متولی کبھی خود وقف کرنیوالا ہوتا ہے، اور کبھی کوئی دوسرا اور اسی طرح کوئی شخص قربانی کا جانور یا کسی اور چیز کی اللہ کیلئے نذر مانے، تو اس کیلئے جائز ہے کہ اس نفع اٹھائے جیسا کہ اس کا غیر اس سے نفع اٹھا تا، اگرچہ اس نے کوئی شرط نہ کی۔
-
ورثہ کی غیر حاضری میں وصی کا میت کے قرضوں کو ادا کرنے کا بیان۔
-
وصیت کرنیوالے کا وصی سے یہ کہنے کا بیان کہ تم میری اولاد کی نگہداشت کرنا اور یہ کہ وصی کیلئے کس طرح کا دعویٰ جائزہ ہے۔
-
وصیت کے اجراء اور ادائے قرض کے بعد حصے تقسیم ہوں ۔ بیان کیا گیا ہے کہ شریح اور عمر بن عبدالعزیز اور، طاؤس اور عطاء اور ابن اذینہ، نے مریض کا اقرار قرض کے متعلق جائز قرار دیاہے۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ آدمی کا سب سے زیادہ تصدیق کرنے کے قابل وہ دن ہے جو دنیا کا آخری دن، اور آخرت کا پہلا دن ہو اور ابراہم اور حکم کہتے ہیں کہ جب وارث قرض سے کسی شخص کو بری کر دے تو وہ بری الذمہ ہو جائے گا، رافع بن خدیج نے یہ وصیت کی تھی کہ میری بیوی فزار یہ سے وہ مال نہ لیا جائے جو اسکے دروازہ کے اندر بند ہو چکا ہے، اور جس پر اس کا قبضہ ہے، حسن بصری کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص مرتے وقت اپنے غلام سے کہے کہ میں نے تجھے آزاد کر دیا، تو جائز ہے، شعبی کہتے ہیں کہ عورت اگر اپنے مرتے وقت کہے کہ میرے شوہر نے میرا مہر مجھے دیدیا اور میں نے اس سے لے لیا، تو یہ معتبر ہوگا، لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ مریض کا اقرار معتبر نہ ہو، کیونکہ وارثوں کو اس سے بدگمانی ہو سکتی ہے، اس کے بعد انہوں نے استحسان کیا (یعنی بلحاظ اصول اصطلاح فقہ کسی حکم کی توفیق اور باریک دلیل جو غور و فکر کے بغیر جلد ذہن نشین نہ ہو سکے، اور سمجھ میں نہ آسکے، اس کا اظہار کیا) اور کہا کہ مریض کا اقرار، ودیعت اور بضاعت اور مضاربت کے متعلق جائز ہے ، رسول اللہ نے فرمایا ہے، بد ظنی سے بچو، کیونکہ بدظنی ایک جھوٹی چیز ہے، اور مسلمانوں کا مال ناحق لے لینا جائزہ نہیں، رسول اللہ نے فرماتے ہیں، منافق کی نشانی یہ ہے کہ جب وہ امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے، اللہ نے فرمایا ہے ان اللہ یا مر کم الخ بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں کی طرف واپس کر دو) ۔ پس اللہ تعالیٰ نے وارث اور غیر وارث کی اس میں تخصیص نہیں کی، اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
-
وصیتوں کا بیان اور آنحضرت صلعم کا ارشاد گرامی کہ وصیت کرنے والے کا وصیت نامہ لکھا ہوا ہونا چاہیے، اور فرمان الٰہی کہ جب تم میں سے کوئی شخص مرنے لگے اور مال چھورے، تو والدین اور رشتہ داروں کے حق میں دستور کے مطابق تم پر وصیت فرض ہے، نیز پرہیز گاروں کیلئے ایسا کرنا ضروری ہے، جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس کا گناہ بدلنے والوں پر ہے، بے شک اللہ تعالیٰ سننے اور جاننے والا ہے اور جو شخص وصیت کرنے والے کی طرف سے حق تلفی یا طرفداری کا ڈر رکھتا ہو، اور ان کے درمیان صلح کرادے تو ان پر گناہ نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے، جنف سے مراد ہے، جھک جانا، متجانف (جھکنے والا) اسی سے ہے۔
-
وقت اور صدقے میں گواہ کرنے کا بیان۔
-
وقف کرنے والے کا کہنا کہ اس کی قیمت اللہ ہی سے مطلوب ہے تو ایسے وقف کا بیان۔
-
وقف کے کاغذات لکھے جانے کا بیان۔
-
کسی شخص کا پنی ماں کی طرف سے اپنے باغ یا زمین کو صدقہ دینے بیان، تو یہ جائز ہے اگرچہ یہ بیان نہ کرے کہ فلاں کیلئے اس کو وقف کر رہا ہے۔
-
کسی شخص کا صدقہ و خیرات کیلئے اپنا مال اپنا کوئی غلام یا کوئی جانور وقف کر نے کا بیان۔
-
یتیم سے سفر و حضر میں کام لینے کا بیان اگر یہ اس کیلئے بہتر ہو مال اور سوتیلے باپ کا یتیم کی نگہداشت کرنا۔