نماز قصر کا بیان

- نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کو کھڑے ہونے اور سونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے کملی اوڑھنے والے رات کو کھڑے ہوجا، تھوڑی دیر یعنی آدھی رات یا اس سے کچھ کم یا اس پر کچھ زیادہ کرو اور قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھو بے شک ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بھاری کلام ڈالنے والے ہیں، بے شک رات کے اٹھنے میں دل اور زبان کا خوب میل ہوتا ہے اور بات خوب ٹھیک نکلتی ہے، بے شکل تم کو دن میں کام ہے بہت اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اسے معلوم ہے کہ تم اسے محفوظ نہیں رکھ سکتے لہٰذاس نے تم پر توجہ فرمائی جس قدر آسان ہو قرآن پڑھو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں بعض مریض ہیں، اور بعض زمین میں اللہ کا فضل تلاش کرتے ہوئے سفر کرتے ہیں اور کچھ لوگ اللہ کے راستہ میں جنگ کرتے ہیں، پس جس قدر آسان ہو پڑھو، نماز پڑھو، زکوۃ دو اور اللہ کو قرض حسنہ دو اور جو نیکی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، اس کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک پاؤ گے، یہ بہتر ہے اور اجر کے اعتبار سے بڑا ہے، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حبشی زبان میں نشا کے معنی ٹھہرنا ہے اور وطا سے مرادمواطاۃ القرن ہے اس لئے کہ یہ سمع، بصر، قلب کے بہت موافق ہے لیوا طوا سے مراد لیوافقواہے