TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
غزوات کا بیان
-
عبداللہ بن حزافہ سہمی اور علقمہ بن مجر زمدلجی کے دستہ کا بیان اور اسی کو" سریہ انصار" بھی کہا جاتا ہے۔
-
(اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے) کہ اللہ نے غم کے بعد پھر امن کی اونگھ ڈال دی جس نے تم میں سے ایک جماعت کو ڈھانپ لیا اور بعضوں کو اس وقت بھی اپنی جان کی فکر لگی ہوئی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق جاہلیت کے سے گمان کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہمارے لئے اس کام میں وہ بہتری کہاں ہے جس کا وعدہ کیا تھا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کہہ دیجئے کہ ہر کام اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے یہ منافق اپنے دل میں چھپائے رکھتے ہیں ظاہر نہیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر فتح و نصرت ہماری یہاں ہوتی تو ہم کیوں مارے جاتے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اپنے گھر میں ہوتے جب بھی جن کی قسمت میں مارا جانا لکھا جا چکا تھا وہ کسی نہ کسی طرح اپنی قتل گاہ میں آجاتے اس لڑائی میں یہ بھی حکمت تھی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو تمہارے دلوں کو آزمانہ اور تمہارے دلی خیالات کو صاف کرنا منظور تھا اور اللہ تعالیٰ دلوں کی باتیں خوب جانتا ہے۔
-
(ان لوگوں کا بیان) جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم مانا۔
-
(نصاری) اہل نجران کا قصہ بیان
-
۹ ھ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لوگوں کا حج کرانے کا بیان
-
۹ھ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لوگوں کا حج کرانے کا بیان
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہل خیبر پر عامل مقرر کرنا۔
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہل خیبر کے ساتھ بٹائی کا معاملہ کرنا۔
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری اور وفات کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ انک میت الخیعنی اے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے شک تم کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے پھر قیامت کے دن تم سب اپنے رب کے سامنے جھگڑا کرو گے یونس زہری عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیماری میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت واقع ہوئی فرماتے تھے کہ خیبر میں مجھے جو زہر دیا گیا تھا، اس کا درد پیٹ میں مجھے ہمیشہ معلوم ہوتا رہا ہے اور (اب) یوں معلوم ہو رہا ہے کہ یہ درد میری رگیں کاٹ رہا ہے۔
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام حجر میں قیام فرمانے کا بیان
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض الموت میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بغرض جہاد امیر لشکر بنا کر روانہ فرمانے کا بیان
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وفات سے قبل آخری کلام کا بیان
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ احد ہم سے محبت رکھتا ہے عباس بن سہل نے ابوحمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت بیان کی ہے۔
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کفار قریش کی ہلاکت کے لئے شیبہ عتبہ ولید بن عتبہ اور ابوجہل بن ہشام۔
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شریف اور وفات کا تذکرہ
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد اور ان کی تعداد کا بیان
-
ابن اسحاق کہتے ہیں عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو تمیم کی شاخ بنو عنبر سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے شبخون مار کر مردوں کو تہ و تیغ کر کے ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا۔
-
ابوجہل کے قتیل کا بیان ۔
-
اس آیت کریمہ کے متعلق کہ جب دو جماعتوں نے تم میں سے سستی کرنے کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ ان کا مدد گار تھا اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔
-
اس باب میں کوئی عنوان نہیں
-
اس باب میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
-
اسود عنسی کے قصہ کا بیان
-
اشعریوں اور یمنیوں کی آمد کا بیان ابوموسیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول (اشعریین کے بارے میں) نقل کیا ہے کہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔
-
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے اختیار میں کچھ نہیں ہے۔
-
بدر کے مقتولین کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا۔
-
بنو تمیم کے وفد کا بیان
-
بنی جذیمہ کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانہ کرنے کا بیان
-
بھاگنے والوں کے بیان میں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ تم میں سے بھاگ نکلے اس وقت جب کہ دو گروہ بھڑ گئے شیطان نے ان کے بعض اعمال کی وجہ سے ان کو بھڑکادیا تھا اور بے شک اللہ نے ان کا قصور معاف کر دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا تحمل والا ہے۔
-
جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یمن کی طرف جانے کا بیان
-
جنگ تبوک کا بیان اور اسے غزوہ عسرۃ بھی کہتے ہیں
-
جنگ حدیبیہ کا قصہ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ اللہ تبارک وتعالی مسلمانوں سے راضی ہو گیا جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے ۔
-
جنگ خندق کا بیان اسے احزاب بھی کہتے موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں یہ لڑائی شوال 4 ھ میں واقع ہوئی تھی۔
-
جنگ خندق کا بیان اسے احزاب بھی کہتے موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں یہ لڑائی شوال ھ میں واقع ہوئی تھی۔
-
جنگ خیبر کا بیان (جو سن ۷ھ میں ہوئی)
-
جنگ خیبر کا بیان (جو سن ھ میں ہوئی)
-
جنگ ذی قرد کا بیان یعنی جنگ خیبر سے تین روز پہلے کچھ کافروں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (بیس) اونٹوں کو لوٹ لیا تھا۔
-
جنگ عشیرہ یا عسیرہ کا بیان ابن اسحاق کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ابواء کا غزوہ کیا پھر بواط کا پھر عشیرہ کا ۔
-
حجۃ الوداع سے پہلے ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاذ کو یمن روانہ کرنے کا بیان
-
حجۃ الوداع کا بیان
-
حضرت ام سلیط رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر۔
-
خیبر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (کھانے کے) لئے زہر آلود بکری کا بیان، اسے عروہ بواسطہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔
-
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگ خندق سے واپس آنا اور یہود ان بنی قریظہ پر چڑھائی کرنا اور ان کا محاصرہ کرنا ۔
-
زید بن حارثہ کے غزوہ کا بیان
-
شرکاء اصحاب بدر کی فضیلت کا بیان۔
-
شرکاء جنگ بدر کی تعداد کا بیان۔
-
شہادت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا بیان۔
-
شہدا احد کا بیان جیسے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب حضرت یمان حضرت نضر بن انس اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہم۔
-
صبر و استقلال کے بیان میں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تم بھاگے جا رہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر نہ دیکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو پیچھے کی طرف بلا رہے تھے لیکن تم مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے (آخر میں نے بھی تم کو رنجیدہ کیا) اور غم پر غم پہنچے اور اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ جب تم سے کوئی اچھی چیز نکل جائے یا مصیبت آئے تو رنج نہ کرو بلکہ صبر سے کام لو اور اللہ تمہارے کاموں کی خبر رکھتا ہے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں اس آیت میں تصعدون کے معنی تذھبون ہیں یعنی چلے جا رہے تھے وصعد فوق البیت گھر کے اوپر چڑھ گیا۔
-
علی بن ابی طالب اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کی حجۃ الوداع سے پہلے یمن کی طرف روانگی کا بیان
-
عمان اور بحرین کے قصہ کا بیان
-
عمرہ قضاء کا بیان اسے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
-
غزوہ اوطاس کا بیان
-
غزوہ بنی انمار (یہ قبیلہ ہے)
-
غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے والے تین اشخاص کی معافی کا بیان کعب بن مالک کی حدیث اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا اور ان تین آدمیوں پر جو پیچھے رہ گئے۔
-
غزوہ ذات الرقاع یہ جنگ قبیلہ محارب سے ہوئی جو خصفہ کی اولاد تھی اور خصفہ ثعلبہ کی اولاد میں سے تھے جو قبیلہ غطفان کی ایک شاخ ہے اس لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نخلستان میں جا کر اترے تھے یہ لڑائی جنگ خیبر کے بعد ہوئی کیونکہ ابوموسیٰ خیبر کے بعد حبش سے آئے ہیں
-
غزوہ ذی الخلصہ کا بیان
-
غزوہ رجیع کا بیان
-
غزوہ رجیع کے بیان میں اور رعل، ذکوان، بیرمعونہ اور عضل وقارہ کا بیان اور عاصم بن عمرو نے بیان کیا کہ ثابت، خبیب اور ان کے ہمراہیوں کا قصہ، ابن اسحاق کہتیہیں کہ ہم سے عاصم بن غزوہ رجیع احد کے بعد ہوا (صفر ۴ھ)
-
غزوہ سلاسل کا بیان، اسمٰعیل بن ابوخالد نے کہا ہے کہ یہ (قبائل) لخم و جذام سے جنگ ہوئی تھی اور ابن اسحق نے بواسطہ یزید، عروہ سے روایت کیا ہے کہ یہ (قبائل) بلی عذرہ اور بنو القین کے شہر ہیں ۔
-
غزوہ سیف البحر (ساحل سمندر) کا بیان اور وہ (اسی جنگ میں) قافلہ قریش کے منتظر تھے اور مسلمانوں کے امیر ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
-
غزوہ طائف کا بیان جو بقول موسیٰ بن عقبہ شوال سن ۸ھ میں ہوا۔
-
غزوہ فتح (مکہ) اور حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لشکرکشی کی جواطلاع بھیجی تھی اس کا بیان۔
-
غزوہ فتح (مکہ) کا بیان جو رمضان (سنہ۸ھ) میں پیش آیا
-
غزوہ موتہ کا بیان، جو ملک شام میں ہے۔
-
فتح (مکہ) کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اترنے کی جگہ کا بیان
-
فتح (مکہ) کے دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پر چم کہاں نصب فرمایا
-
فرمان الٰہی (یاد کرو) حنین کے دن کو جب تم اپنی کثرت پر پھول گئے تھے تو اس نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور زمین باوجود اپنی فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم نے پشت پھیر لی پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری تسکین (کی صورت) نازل فرمائی۔ غفور رحیم تک کا بیان
-
فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب تم اپنے مالک سے فریاد کر رہے تھے اس نے تمہاری فریاد کو سن لیا پھر فرمایا میں مسلسل ایک ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری امداد کروں گا اور مدد جو اللہ نے کی وہ صرف تم کو خوش کرنے اور تمہارے اطمینان قلب کے لئے تھی ورنہ اصلی فتح تو خدا ہی کی طرف سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ زبردست اور حکمت والا ہے یہ وہ وقت تھا جب کہ اللہ تم کو بے ڈر بنانے کے لئے تم پر اونگھ ڈال رہا تھا اور آسمان سے تمہارے پاک کرنے کو پانی برسایا تاکہ تم سے شیطان کا وسوسہ دور کر دے اور تمہارے دل محکم ہو جائیں اور تم ثابت قدم رہ سکو اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت تمہارے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم جا کر مسلمانوں کا دل مضبوط کرو میں ابھی کافروں کے دل میں رعب بٹھائے دیتا ہوں تم ان کی گردنوں اور جوڑ جوڑ پر مار لگانا ان کی یہی سزا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے خلاف کیا اور جو کوئی اللہ اور رسول کی مخالفت کرے گا اس کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔
-
قبیلہ جہینہ کی قوم حرقات کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسامہ بن زید کو بھیجنا۔
-
قبیلہ دوس اور طفیل بن عمرو دسی کے قصہ کا بیان۔
-
قصہ افک یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تہمت لگانے کا بیان افک کا لفظ نجس اور نجس کی طرح ہے اور کہتے ہیں اس کو افکھم۔
-
قصہ جنگ احد فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورہ
-
قصہ غزوہ بدر فرمایا اللہ تعالیٰ نے بے شک بدر کے دن اللہ نے تمہاری مدد فرمائی جس وقت تم کمزور تھے پس تم اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے شکر گزار ہو جب اے پیغمبر تم ایمان والوں سے کہہ رہے تھے کہ تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتوں کو تمہاری مدد کے لئے اتار دے بلکہ اگر تم صبر کرو اور خدا سے ڈرتے رہو اور کافر تم پر حملہ آور ہوں تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار نشان شدہ فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے وہ تمہارے دلوں کی خوشی اور اطمینان کے لئے کیا ہے ورنہ مدد اللہ ہی کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست حکمت والا ہے تاکہ اللہ کافروں کے گروہ کو ہلاک کر دے اور وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ جائیں (آل عمران) اور وحشی (قاتل امیر حمزہ) نے کہا کہ بدر کے دن حضرت حمزہ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا اور اللہ کا قول کہ جب اللہ تعالیٰ نے دو جماعتوں سے ایک کا تم سے وعدہ کیا آخر تک۔
-
قصہ غزوہ بنی مصطلق بنی مصطلق خزاعہ کی ایک شاخ ہے اس غزوہ کو مریسیع بھی کہتے ہیں کہ ابن اسحاق نے کہا کہ یہ جنگ ھ میں اور موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ ھ میں ہوئی اور نعمان بن راشد نے زہری سے سے روایت کی کہ تہمت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعی اسی جنگ میں ہوا۔
-
قصہ قبائل عکل و عرینہ ۔
-
قصہ قتل ابورافع عبداللہ بن ابی الحقیق بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا نام سلام بن ابی الحقیق ہے اور وہ خیبر میں رہتا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ اپنے قلعہ واقع حجاز میں رہتا تھا زہری کا بیان ہے کہ ابورافع کو کعب بن اشرف کے بعد قتل کیا گیا ہے (رمضان ھ میں)
-
لیث، یونس، ابن شہاب، عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر سے روایت کرتے ہیں جن کی پیشانی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے سال ہاتھ پھیرا تھا۔
-
میدان بدر میں فرشتوں کی حاضری کا بیان۔
-
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ کے اوپر سے داخل ہونے کا بیان لیث یونس نافع عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ کے اوپر والے حصہ سے اپنی سوری پر اسامہ بن زید کو بٹھائے ہوئے تشریف لائے آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حاجب کعبہ عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے آپ نے مسجد میں اپنی سواری کو بٹھا دیا اور عثمان کو کعبہ کی چابی لانے کا حکم دیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ میں داخل ہوگئے اور اس میں بہت دیر تک ٹھہرے رہے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے آئے اب لوگ دوڑے سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر گئے انہوں نے دروازے کے پیچھے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھڑا ہوا دیکھا تو ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ بتا دی عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں ۔
-
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ کے اوپر سے داخل ہونے کا بیان لیث، یونس، نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ کے اوپر والے حصہ سے اپنی سوری پر اسامہ بن زید کو بٹھائے ہوئے تشریف لائے آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حاجب کعبہ عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے آپ نے مسجد میں اپنی سواری کو بٹھا دیا اور عثمان کو کعبہ کی چابی لانے کا حکم دیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ میں داخل ہوگئے اور اس میں بہت دیر تک ٹھہرے رہے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے آئے اب لوگ دوڑے سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر گئے انہوں نے دروازے کے پیچھے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھڑا ہوا دیکھا تو ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ بتا دی عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں ۔
-
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان خطوط کا ذکر جو کسریٰ اور قیصر کو لکھے گئے
-
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ فتح میں مکہ میں ٹھہرنے کا بیان
-
نجد کی طرف دستہ کی روانگی کا بیان
-
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہ بن اثال کے قصہ کا بیان
-
وفد بنی طے اور عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قصہ کا بیان
-
وفد عبدالقیس کا بیان
-
کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا واقعہ
-
یث، یونس، ابن شہاب، عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر سے روایت کرتے ہیں جن کی پیشانی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے سال ہاتھ پھیرا تھا۔
-
یوم احد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسم کے زخمی ہونے کا بیان
-
یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔
-
یہ باب عنوان سے خالی ہے۔
-
یہ بات ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔
-
یہود بنی نضیر کے پاس آنحضرت کا جانا دو آدمیوں کی دیت کے سلسلہ میں اور ان کا رسول خدا سے دغا کرنا زہری عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں ان کا بیان ہے کہ غزوہ بنی نضیر بدر سے چھ ماہ بعد اور احد سے پہلے ہوا اور اللہ تعالیٰ کا سورت حشر میں فرمانا ہوالذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتاب من دیارھم لاول الحشر وہی پروردگار ہے جس نے اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے نکالا یہ ان کا پہلا نکلنا تھا اور ابن اسحق نے بھی بنی نضیر کے بعد بیرمعونہ اور جنگ احد کا ذکر کیا ہے۔