غزوات کا بیان

- فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب تم اپنے مالک سے فریاد کر رہے تھے اس نے تمہاری فریاد کو سن لیا پھر فرمایا میں مسلسل ایک ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری امداد کروں گا اور مدد جو اللہ نے کی وہ صرف تم کو خوش کرنے اور تمہارے اطمینان قلب کے لئے تھی ورنہ اصلی فتح تو خدا ہی کی طرف سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ زبردست اور حکمت والا ہے یہ وہ وقت تھا جب کہ اللہ تم کو بے ڈر بنانے کے لئے تم پر اونگھ ڈال رہا تھا اور آسمان سے تمہارے پاک کرنے کو پانی برسایا تاکہ تم سے شیطان کا وسوسہ دور کر دے اور تمہارے دل محکم ہو جائیں اور تم ثابت قدم رہ سکو اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت تمہارے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم جا کر مسلمانوں کا دل مضبوط کرو میں ابھی کافروں کے دل میں رعب بٹھائے دیتا ہوں تم ان کی گردنوں اور جوڑ جوڑ پر مار لگانا ان کی یہی سزا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے خلاف کیا اور جو کوئی اللہ اور رسول کی مخالفت کرے گا اس کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔

- نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ کے اوپر سے داخل ہونے کا بیان لیث یونس نافع عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ کے اوپر والے حصہ سے اپنی سوری پر اسامہ بن زید کو بٹھائے ہوئے تشریف لائے آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حاجب کعبہ عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے آپ نے مسجد میں اپنی سواری کو بٹھا دیا اور عثمان کو کعبہ کی چابی لانے کا حکم دیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ میں داخل ہوگئے اور اس میں بہت دیر تک ٹھہرے رہے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے آئے اب لوگ دوڑے سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر گئے انہوں نے دروازے کے پیچھے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھڑا ہوا دیکھا تو ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ بتا دی عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں ۔

- نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ کے اوپر سے داخل ہونے کا بیان لیث، یونس، نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ کے اوپر والے حصہ سے اپنی سوری پر اسامہ بن زید کو بٹھائے ہوئے تشریف لائے آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حاجب کعبہ عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے آپ نے مسجد میں اپنی سواری کو بٹھا دیا اور عثمان کو کعبہ کی چابی لانے کا حکم دیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ میں داخل ہوگئے اور اس میں بہت دیر تک ٹھہرے رہے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے آئے اب لوگ دوڑے سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر گئے انہوں نے دروازے کے پیچھے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھڑا ہوا دیکھا تو ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ بتا دی عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں ۔