عمرہ کا بیان

- ان کی دلیل جو اس کے قائل ہیں کہ محصر پر بدلہ واجب نہیں اور روح نے بواسطہ شبل، ابن ابی نجیح، مجاہد، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بدلہ اس شخص کے ذمہ واجب ہے جس کا حج صحبت کے باعث ٹوٹ جائے لیکن جس کو کوئی عذر وغیرہ مانع ہو تو وہ احرام سے باہر ہوجائے گا اور قضاء نہ کرے گا، اور اگر اسکے پاس قربانی کا جانور ہو اور وہ روک دیا جائے تو اس کی قربانی کردے اگر اسے بھیجنے پر قدرت نہ ہو، اور اگر بھیجنے پر قدرت ہو تو جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے احرام سے باہر نہ ہو اور امام مالک وغیرہ کا قول ہے کہ اپنی ہدی کو ذبح کر ڈالے اور سر منڈالے جس جگہ پر بھی ہو اس کی قضاء نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے حدیبیہ میں قربانی کی اور سر منڈایا اور طواف اور ہدی کے خانہ کعبہ تک پہنچنے سے پہلے ہی احرام سے باہرہو گئے، پھر یہ منقول نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو قضاء کرنے یا دوبارہ کرنے کا حکم دیا ہو اور حدیبیہ حرم سے باہر ہے ۔