TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
طلاق کا بیان
-
آیت لم تحرم ما احل اللہ لک کا شان نزول
-
اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں سامان دیکر اچھی طرح رخصت کردوں ۔
-
اختلاف کا بیان اور کیا ضرورت کی بناء پر خلع کا اشارہ کیا جاسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تمہیں ان کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو اس کے گھر والوں میں سے ایک حکم (ثالث) مقرر کرلو، آخر آیت خبیرا تک
-
اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی سے کہے تو مجھ پر حرام ہے، حسن نے کہا مرد کی نیت کا اعتبار ہوگا اور اہل علم نے کہا کہ جب تین طلاق دے تو اس پر حرام ہے () اور اس کو کہتے ہیں طلاق یا فراق کے باعث حرام ہے، لیکن یہ تحریم ایسی نہیں جیسے کوئی شخص کھانے کو حرام کہہ دے اس لیے کہ حلال کھانے کو حرام نہیں کہہ سکتے اور طلاق دی گئی عورت کو حرام کہا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تین طلاق دینے کے متعلق فرمایا کہ عورت اس کے حلال نہیں جب تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے اور لیث نے نافع سے نقل کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس شخص کے متعلق پوچھا جاتا جس نے تین طلاق دی ہو تو کہتے کاش ایک یا دوطلاق دیتا اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا، اگر اس کو تین طلاق دیدی تو وہ حرام ہوگئی، جب تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرلے۔
-
اس شخص کا بیان جو طلاق دے اور کیا یہ ضروری ہے کہ مرد اپنی بیوی کی طرف طلاق دیتے وقت متوجہ نہ ہو
-
اس شخص کی دلیل جس نے تین طلاقوں کو جائز کہا ہے ، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا طلاق دوبار ہے ، پھر قاعدے کے مطابق روک لینا یا اچھی طرح چھوڑ دینا اور اس مریض کے متعلق جس نے (بحالت مرض اپنی بیوی کو) طلاق دے دی، ابن زبیر نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ وہ عدت گذارنے والی عورت اس کی وارث ہوگی، شعبی نے کہا کہ وہ وارث ہوگی، ابن شبرمہ نے پوچھا کہ وہ عدت گذر جانے کے بعد نکاح کرسکتی ہے، انہوں نے کہا ہاں ، پھر پوچھا بتائیے کہ اگر دوسرا شوہر مر جائے (تو کیا ہوگا) شعبی نے اپنے قول سے رجوع کرلیا
-
اس عورت کے متعہ کا بیان، جس کا مہر مقرر نہیں ہوا، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم پر کوئی حرج نہیں، اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو، اس حال میں کہ تم نے ان سے صحبت نہیں کی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ طلاق دی ہوئی عورتوں کے لئے قاعدہ کے مطابق فائدہ اٹھانا ہے متقیوں پر حق ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے شاید کہ تم سمجھو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان میں متعہ کا ذکر نہیں کیا، جب کہ اس کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی
-
اس عورت کے مہر کا بیان، جس سے صحبت کی جاچکی ہے اور دخول کب متحقق ہوتا ہے یا دخول یا مسیس سے پہلے اس کو طلاق دے تو کیا حکم ہے
-
اگر حیض والی عورت کو طلاق دی جائے تو یہ طلاق شمار ہوگی
-
اللہ تعالیٰ کا قول اے نبی جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو اس وقت دو کہ اس کی عدت کا وقت شروع ہو اور عدت کو شمار کرو، احصینا کے معنی ہیں ہم نے یاد کیا اور شمار کیا اور سنت کے مطابق طلاق یہ ہے کہ ایسے طہر میں اس کو طلاق دے کہ جس میں صحبت نہ کی ہو اور دو گواہ مقرر کرے
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان عورتوں کے لئے حلال نہیں کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں پیداکی ہے یعنی حیض اور حمل
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان لوگوں کے لئے جوا پنی بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں، چار ماہ تک انتظار کرنا ہے ، سمیع علم تک، فان فاء وا کا معنی ہے کہ اگر وہ رجوع کرلیں
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان کا شوہر عدت میں ان کے لوٹانے کا زیادہ مستحق ہے اور کس طرح عورت سے رجوع کیا جائے جب کہ اس کو ایک یا دو طلاقیں دے دے
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم میں سے جو وفات پاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، بماتعملون خبیر تک
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ جننے) تک ہے
-
امام کا دولعان کرنے والوں سے کہنا کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹاہے، اس لئے کون توبہ کرتا ہے
-
امام کا یہ کہنا کہ اے اللہ اصل حقیقت ظاہر کردے
-
بچہ لعان کرنے والی عورت کو دیا جائے
-
بریرہ کے شوہر کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا
-
جب عورت کو تین طلاقیں دے پھر وہ عدت گذارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرلے اور وہ بغیر صحبت کئے اسے طلاق دے دے
-
جس عورت کا شوہر مرجائے وہ چار ماہ دس دن تک اس کا سوگ منائے گی اور زہری نے کہا کہ میں مناسب نہیں سمجھتا کہ کمسن لڑکی جس کا شوہر مرجائے وہ خوشبو لگائے، اس لئے کہ اس پر بھی عدت ہے
-
حیض سے پاک ہونے کے وقت سوگ والی عورت کا قسط استعمال کرنا
-
حیض والی عورت سے رجوع کرنے کا بیان
-
خلع اور اس امر کا بیان کہ خلع میں طلاق کس طرح ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو کچھ تم نے ان عورتوں کو دیا ہے، اس کا لینا تمہارے حلال نہیں ہے، آخر آیت ظالمون تک، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلع کو جائز کہا ہے، اگرچہ سلطان کے سامنے نہ ہو اور حضرت عثمان رضی اللہ نے سرکے چٹلے سے کم قیمت کے عوض بھی خلع کو جائز کہا اور آیت الا ان یخافا الایقیما حدود اللہ کے متعلق طاؤس فرماتے ہیں کہ یہ ان حدود کے متعلق ہے جو اللہ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے ایک دوسرے پر مقرر کی ہیں، یعنی صحبت اور ایک ساتھ رہنا اور طاؤس نے نادانوں کی سی بات نہیں کی کہ خلع جائز نہیں، جب تک وہ یہ نہ کہے کہ میں تجھ سے جنابت کا غسل نہیں کروں گا
-
خلع اور اس امر کا بیان کہ خلع میں طلاق کس طرح ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو کچھ تم نے ان عورتوں کو دیاہے، اس کالینا تمہارے حلال نہیں ہے، آخر آیت ظالمون تک، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلع کو جائز کہا ہے ، اگرچہ سلطان کے سامنے نہ ہو اور حضرت عثمان رضی اللہ نے سرکے چٹلے سے کم قیمت کے عوض بھی خلع کو جائز کہا اور آیت الا ان یخافا الایقیما حدود اللہ کے متعلق طاؤس فرماتے ہیں کہ یہ ان حدود کے متعلق ہے جو اللہ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے ایک دوسرے پر مقرر کی ہیں، یعنی صحبت اور ایک ساتھ رہنا اور طاؤس نے نادانوں کی سی بات نہیں کی کہ خلع جائز نہیں، جب تک وہ یہ نہ کہے کہ میں تجھ سے جنابت کا غسل نہیں کروں گا
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اگر میں بغیر گواہ کے سنگسار کرتا
-
زانیہ کی کمائی اور نکاح فاسد کا بیان اور حسن نے کہا کہ اگر کسی ایسی عورت سے نادانستگی میں نکاح کیا، جس سے نکاح تھا، تو ان دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے اور جو اس نے لے لیا وہ اسی کا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں پھر بعد میں ان کا ایک قول یہ ہے کہ وہ مہر مثل کی مستحق ہے
-
زبردستی، نشہ اور جنون کی حالت میں طلاق دینے اور غلطی اور بھول کر طلاق دینے اور شرک وغیرہ کا بیان (اسکا حکم نیت پر ہے) اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی نیت کی ہو۔ شعبی نے یہ آیت تلاوت کی کہ اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمارا مواخذہ نہ کر اور اس امر کا بیان کہ وہمی شخص کا اقرار جائز نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جس نے (زناکا) اقرار کیا تھا فرمایا کہ کیا تو دیوانہ ہوگیا ہے اور علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری اونٹنیوں کے پہلو چیردئیے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ کو ملامت کرنے لگے دیکھا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں سرخ ہیں اور نشہ میں چور ہیں، پھر حمزہ نے کہا کیا تم میرے باپ کے غلام نہیں ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ وہ نشہ میں ہیں تو آپ وہاں سے روانہ ہوگئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل دئیے ۔عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجنون اور مست کی () طلاق نہیں ہوگی، ابن عباس نے کہا مست اور مجبور کی طلاق نہیں ہوتی اور عقبہ بن عامرنے کہا وہمی آدمی کی طلاق نہیں ہوتی، عطاء کا قول ہے اگر طلاق کے لفظ سے ابتدا کرے (اور اسکے بعد شرط بیان کرے) تو وقوع شرط کے بعد ہی طلاق ہوگی، نافع نے پوچھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی، اس شرط پر کہ وہ گھر سے باہر نکلے (تواسکا کیا حکم ہے) ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر وہ عورت گھر سے باہر نکل گئی تو اسکو طلاق بتہ ہوجائے گی اگر باہر نہ نکلی تو کچھ بھی نہیں اور زہری نے کہا اگر کوئی شخص کہے کہ اگر میں ایسا ایسا نہ کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ہے (اس صورت میں) اس سے پوچھا جائے گا کہ اس قول سے قائل کی نیت کیا تھی، اگر وہ کوئی مدت بیان کردے کہ قسم کھاتے وقت دل میں اسکی نیت یہ تھی تو دینداری اور امانت کی وجہ سے اسکا اعتبار کیا جائے گا۔ ابراہیم نے کہا اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ مجھے تیری ضرورت نہیں تو اسکی نیت کا اعتبار ہوگا اور ہر قوم کی طلاق انکی زبان میں جائز ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ اگر تو حاملہ ہوجائے تو تجھ کو تین طلاق ہے، اس صورت میں قتادہ نے کہا اس کو ہر طہر میں ایک طلاق پڑے گی اور جب اسکا حمل ظاہر ہوجائے تو وہ اس سے جدا ہوجائے گی، اور اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ اپنے گھروالوں کے پاس چلی جاتوحسن نے اس صورت میں کہا کہ اس کی نیت کا اعتبار کیا جائے گا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ طلاق بوقت ضرورت جائز ہے اور آزاد کرنا اسی صورت میں بہتر ہے جب کہ خدا کی خوشنودی پیش نظر ہو۔زہری کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے تو میری بیوی نہیں ہے تو اسکی نیت کا اعتبار ہوگا، اگر اس نے طلاق کی نیت کی ہے تو طلاق ہوگی ورنہ طلاق نہ ہوگی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہیں، مجنون جب تک کہ وہ ہوش میں نہ آجائے، بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے اور سونے والاجب تک کہ نیند سے بیدار نہ ہوجائے اور حضرت علی نے کہا کہ تمام طلاقیں سوا مجنون کی طلاق کے جائز ہیں
-
زبردستی، نشہ اور جنون کی حالت میں طلاق دینے اور غلطی اور بھول کر طلاق دینے اور شرک وغیرہ کا بیان (اسکا حکم نیت پر ہے) اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی نیت کی ہو۔ شعبی نے یہ آیت تلاوت کی کہ اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمارا مواخذہ نہ کر اور اس امر کا بیان کہ وہمی شخص کا اقرار جائز نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جس نے (زناکا) اقرار کیا تھا فرمایا کہ کیا تو دیوانہ ہوگیا ہے اور علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری اونٹنیوں کے پہلوچیردئیے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ کو ملامت کرنے لگے دیکھا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں سرخ ہیں اور نشہ میں چور ہیں، پھر حمزہ نے کہا کیا تم میرے باپ کے غلام نہیں ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ وہ نشہ میں ہیں تو آپ وہاں سے روانہ ہوگئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل دئیے ۔عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجنون اور مست کی () طلاق نہیں ہوگی، ابن عباس نے کہا مست اور مجبور کی طلاق نہیں ہوتی اور عقبہ بن عامرنے کہا وہمی آدمی کی طلاق نہیں ہوتی، عطاء کا قول ہے اگر طلاق کے لفظ سے ابتدا کرے ( اور اسکے بعد شرط بیان کرے) تو وقوع شرط کے بعد ہی طلاق ہوگی، نافع نے پوچھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی، اس شرط پر کہ وہ گھر سے باہر نکلے (تواسکا کیا حکم ہے) ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر وہ عورت گھر سے باہر نکل گئی تو اسکو طلاق بتہ ہوجائے گی اگر باہر نہ نکلی تو کچھ بھی نہیں اور زہری نے کہا اگر کوئی شخص کہے کہ اگر میں ایسا ایسا نہ کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ہے (اس صورت میں) اس سے پوچھا جائے گا کہ اس قول سے قائل کی نیت کیا تھی، اگر وہ کوئی مدت بیان کردے کہ قسم کھاتے وقت دل میں اسکی نیت یہ تھی تو دینداری اور امانت کی وجہ سے اسکا اعتبار کیا جائے گا۔ ابراہیم نے کہا اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ مجھے تیری ضرورت نہیں تو اسکی نیت کا اعتبار ہوگا اور ہر قوم کی طلاق انکی زبان میں جائز ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ اگر تو حاملہ ہوجائے تو تجھ کو تین طلاق ہے، اس صورت میں قتادہ نے کہا اس کو ہر طہر میں ایک طلاق پڑے گی اور جب اسکا حمل ظاہر ہوجائے تو وہ اس سے جدا ہوجائے گی، اور اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ اپنے گھروالوں کے پاس چلی جاتوحسن نے اس صورت میں کہا کہ اس کی نیت کا اعتبار کیا جائے گا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ طلاق بوقت ضرورت جائز ہے اور آزاد کرنا اسی صورت میں بہتر ہے جب کہ خدا کی خوشنودی پیش نظر ہو۔زہری کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے تو میری بیوی نہیں ہے تو اسکی نیت کا اعتبار ہوگا، اگر اس نے طلاق کی نیت کی ہے تو طلاق ہوگی ورنہ طلاق نہ ہوگی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہیں، مجنون جب تک کہ وہ ہوش میں نہ آجائے، بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے اور سونے والا جب تک کہ نیند سے بیدار نہ ہوجائے اور حضرت علی نے کہا کہ تمام طلاقیں سوا مجنون کی طلاق کے جائز ہیں
-
زبردستی، نشہ اور جنون کی حالت میں طلاق دینے اور غلطی اور بھول کر طلاق دینے اور شرک وغیرہ کا بیان (اسکا حکم نیت پر ہے) اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی نیت کی ہو۔ شعبی نے یہ آیت تلاوت کی کہ اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمارا مواخذہ نہ کر اور اس امر کا بیان کہ وہمی شخص کا اقرار جائز نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جس نے (زناکا) اقرار کیا تھا فرمایا کہ کیا تو دیوانہ ہوگیا ہے اور علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری اونٹنیوں کے پہلوچیردئیے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ کو ملامت کرنے لگے دیکھا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں سرخ ہیں اور نشہ میں چور ہیں، پھر حمزہ نے کہا کیا تم میرے باپ کے غلام نہیں ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ وہ نشہ میں ہیں تو آپ وہاں سے روانہ ہوگئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل دئیے ۔عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجنون اور مست کی () طلاق نہیں ہوگی، ابن عباس نے کہا مست اور مجبور کی طلاق نہیں ہوتی اور عقبہ بن عامرنے کہا وہمی آدمی کی طلاق نہیں ہوتی، عطاء کا قول ہے اگر طلاق کے لفظ سے ابتدا کرے (اور اسکے بعد شرط بیان کرے) تو وقوع شرط کے بعد ہی طلاق ہوگی، نافع نے پوچھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی، اس شرط پر کہ وہ گھر سے باہر نکلے (تواسکا کیا حکم ہے) ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر وہ عورت گھر سے باہر نکل گئی تو اسکو طلاق بتہ ہوجائے گی اگر باہر نہ نکلی تو کچھ بھی نہیں اور زہری نے کہا اگر کوئی شخص کہے کہ اگر میں ایسا ایسا نہ کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ہے (اس صورت میں) اس سے پوچھا جائے گا کہ اس قول سے قائل کی نیت کیا تھی، اگر وہ کوئی مدت بیان کردے کہ قسم کھاتے وقت دل میں اسکی نیت یہ تھی تو دینداری اور امانت کی وجہ سے اسکا اعتبار کیا جائے گا۔ ابراہیم نے کہا اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ مجھے تیری ضرورت نہیں تو اسکی نیت کا اعتبار ہوگا اور ہر قوم کی طلاق انکی زبان میں جائز ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ اگر تو حاملہ ہوجائے تو تجھ کو تین طلاق ہے، اس صورت میں قتادہ نے کہا اس کو ہر طہر میں ایک طلاق پڑے گی اور جب اسکا حمل ظاہر ہوجائے تو وہ اس سے جدا ہوجائے گی، اور اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ اپنے گھروالوں کے پاس چلی جاتوحسن نے اس صورت میں کہا کہ اس کی نیت کا اعتبار کیا جائے گا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ طلاق بوقت ضرورت جائز ہے اور آزاد کرنا اسی صورت میں بہتر ہے جب کہ خدا کی خوشنودی پیش نظر ہو۔زہری کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے تو میری بیوی نہیں ہے تو اسکی نیت کا اعتبار ہوگا، اگر اس نے طلاق کی نیت کی ہے تو طلاق ہوگی ورنہ طلاق نہ ہوگی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہیں، مجنون جب تک کہ وہ ہوش میں نہ آجائے، بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے اور سونے والا جب تک کہ نیند سے بیدار نہ ہوجائے اور حضرت علی نے کہا کہ تمام طلاقیں سوا مجنون کی طلاق کے جائز ہیں
-
سوگ منانے والی عورت وہ کپڑے پہنے جو بننے سے پہلے رنگے گئے ہوں
-
سوگ والی عورت کے سرمہ لگانے کا بیان
-
طلاق اور دیگر امور میں اشارہ کرنے کا بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو پر عذاب نہیں کرے گا، لیکن اپنی زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی وجہ سے عذاب کرے گا، اور کعب بن مالک نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ سے فرمایا کہ نصف لے لو اور اسماء نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف میں نماز پڑھی، میں نے عائشہ سے نماز کی حالت میں پوچھا کہ کیا بات ہے (لوگ نماز پڑھ رہے ہیں) عائشہ نے سر سے آسمان کی طرف اشار کیا، میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہاں ! اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو اشارے آگے بڑھنے کا حکم دیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں اور ابوقتادہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ محرم کے شکار پر ابھارا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا ، لوگوں نے کہا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھا
-
طلاق اور دیگر امور میں اشارہ کرنے کا بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو پر عذاب نہیں کرے گا، لیکن اپنی زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی وجہ سے عذاب کرے گا، اور کعب بن مالک نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ سے فرمایا کہ نصف لے لو اور اسماء نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف میں نماز پڑھی، میں نے عائشہ سے نماز کی حالت میں پوچھا کہ کیا بات ہے (لوگ نماز پڑھ رہے ہیں) عائشہ نے سر سے آسمان کی طرف اشار کیا، میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہاں ! اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو اشارے سے آگے بڑھنے کا حکم دیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں اور ابوقتادہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ محرم کے شکار پر ابھارا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا ، لوگوں نے کہا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھا 000
-
فاطمہ بنت قیس کا واقعہ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ نکلیں مگر یہ کہ کھلم کھلا بے حیائی کا کام کریں اور یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں اور جو شخص اللہ کی حدود سے آگے بڑھے تو اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا، تو نہیں جانتا کہ شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی نئی صورت نکالے تو انہیں رہنے کے لئے اپنی وسعت کے مطابق جگہ دو، جس طرح تم رہتے ہو اور انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ تاکہ ان پر تنگی کرو اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو خرچہ دو، یہاں تک کہ وہ بچہ جنیں، آخر آیت بعد عسر یسراتک
-
لعان میں ابتداء مرد سے کرائی جائے۔
-
لعان کا بیان اور جو شخص لعان کے بعد طلاق دے اس کا بیان
-
لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرنے کا بیان
-
لعان کرنے والے کو قسم کھلانے کا بیان
-
لعان کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول والذین یرمون ازواجھم ولم یکن لھم شھداء الا انفسھم آخر آیت الصادقین تک (کہ جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں، ان کے پاس ان کی ذات کے علاوہ کوئی گواہ نہ ہو تو الخ) اگر گونگا اپنی بیوی پر لکھ کر یا اشارے سے یا کسی خاص اشارے سے تہمت لگائے تو وہ گفتگو کرنے والے کی طرح ہے، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرائض میں اشارہ کو جائز کہا ہے اور بعض اہل حجاز اور اہل علم کا یہی مذھب ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت مریم علیہا السلام نے اس کی طرف اشارہ کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم اس بچے سے کیسے گفتگو کرسکتے ہیں، جو ابھی جھولے ہی میں ہو، اور ضحاک کہتے ہیں کہ الارمزا سے مراد اشارہ ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ اس صورت میں نہ حد ہے نہ لعان ہے پھر کہا کہ لکھ کر یا کسی خاص اشارے سے طلاق دینا جائز ہے، حالانکہ طلاق اور قذف کے درمیان کوئی فرق نہیں، اگر کوئی شخص کہے کہ قذف تو صرف بولنے کے ساتھ ہوتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرح طلاق بھی بولنے کے ذریعہ واقع ہوتی ہے، ورنہ طلاق اور قذف باطل ہوجائے گا، اس طرح بہرے کا لعان کرنا جائز ہے ، شعبی اور قتادہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص کہے کہ تجھے طلاق ہے اور اپنی انگلیوں سے اشارہ کرے تو عورت بائن ہوجائے گی اور حماد نے کہا کہ گونگا اور بہرا اپنے سر سے اشارہ کردے تو جائز ہے، یعنی طلاق وغیرہ ہر چیز ثابت ہوجائے گی
-
لونڈی غلام کے نکاح میں ہو تو آزادی کے وقت اختیار کا بیان
-
لونڈی کی بیع سے طلاق نہیں ہوتی
-
مسجد میں لعان کرنے کا بیان
-
مشرک عورت مسلمان ہوجائے تو اس کے نکاح اور عدت کا بیان
-
مشرک یا نصرانی عورت ذمی یاحربی کے نکاح میں ہو اور وہ مسلمان ہوجائے
-
مطلقہ عورت کو اپنے گھر میں ڈر معلوم ہو کہ اس کے گھر میں کوئی داخل ہوجائے یا یہ خوف ہو کہ اس کے گھر والوں کو برا بھلا کہنا پڑے گا (تو وہ گھر سے نکل سکتی ہے)
-
مفقود الخبر کے مال ودولت اور اسکے اہل وعیال کا حکم اور ابن مسیب نے کہا کہ اگر کوئی شخص میدان جنگ میں گم ہوجائے تو اس کی بیوی ایک سال تک انتظار کرے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک لونڈی خریدی اور اس کے مالک کو تلاش کیا مگر وہ نہ ملا اور اس کا پتہ نہ چلا تو ایک درہم یا دو درہم لیتے اور کہتے یا اللہ یہ فلاں شخص کی طرف سے میں دے رہاہوں، اگر وہ آجائے گا تو اس کی قیمت میرے ذمہ واجب ہے، اور کہا کہ اس طرح لقطہ میں کیا کرو اور اس قیدی کے متعلق جس کی جگہ معلوم ہو زہری نے کہا کہ اس کی بیوی نکاح نہ کرے، اور نہ اس کا مال تقسیم ہوگا، اور جب اس کو خبر نہ ملے تو اس کے لئے وہی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا جو مفقود الخبر کی صورت میں اختیار کرتے ہیں
-
کنایہ اپنے بچے کی نفی کا بیان
-
یہ باب تزجمۃ الباب سے خالی ہے ۔