TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
صلح کا بیان
-
اگر لوگ ظلم کی بات پر صلح کر لیں تو وہ صلح مقبول نہیں ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول اگر وہ دونوں آپس میں صلح کر لیں اور صلح زیادہ بہتر ہے۔
-
امام کا اپنے ساتھیوں سے کہنا ہمارے ساتھ چلو صلح کرادیں ۔
-
جب امام کسی کو صلح کا اشارہ کرے اور وہ انکار کرے تو قاعدے کے مطابق فیصلہ کر دے۔
-
دیت میں صلح کرنے کا بیان۔
-
قرض اور نقد مال کے عوض صلح کرنے کا بیان۔
-
قرض خواہوں اور میراث والوں میں صلح کرانے اور قرض کا اندازے سے ادا کرنے کا بیان اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کاہ کہ اگر دو شریک یہ طے کر لیں ایک دین اور دوسرا نقد مال لے گا تو مضائقہ نہیں اور اگر ان میں سے کسی کا مال ہلاک ہو جائے تو اس کو اپنے ساتھی سے مطالبہ کا حق نہیں ۔
-
لوگوں کے درمیان صلح کرا دینے کے متعلق جو منقول ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان کی اکثر سر گوشیوں میں بھلائی نہیں ہوتی مگر جو شخص صدقہ یا اچھی باتوں کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے اور جس نے یہ خدا کی خوشنودی کی خاطر کیا تو عنقریب ہم اسے بہت بڑا اجر دیں گے اور امام کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جنگ کے مقامات پر جانے کا بیان۔
-
لوگوں کے درمیان صلح کرانے اور ان کے درمیان انصاف کرنے کی فضیلت کا بیان۔
-
مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان اسی مضمون میں ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم میں اور رومیوں میں صلح ہو جائے گی اور اسی باب میں سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور موسیٰ بن مسعود نے کہا کہ مجھ سے سفیان بن سعید نے بواسطہ ابواسحق براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول نقل کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے حدیبیہ کے دن تین باتوں پر صلح کی اگر مشرکوں میں سے کوئی شخص ان کے پاس آجائے تو اس کو واپس کر دیں گے اور مسلمانوں سے کوئی شخص مشرکوں کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کریں گے اور یہ کہ آئندہ سال مکہ میں داخل ہوں گے اور وہاں تین دن قیام کریں گے اور وہاں ہتھیار از قسم تلواروں و کمان غلاف میں رکھ کر ہی داخل ہوں گے ابوجندل اپنی بیڑیوں میں لڑکھڑاتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مشرکوں کے حوالہ کر دیا امام بخاری نے کہا کہ ممل نے بواسطہ سفیان ابوجندل کا ذکر نہیں کیا اور الا بحجلب السلاح کے الفاظ نقل کیے۔
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن بن علی کے متعلق فرمایا یہ میرا بیٹا ہے یہ سردار ہے اور شاید اللہ اس کے ذریعہ دو بڑی جماعتوں میں صلح کرادے گا اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو۔
-
وہ شخص جھوٹا نہیں (کہا جائے گا) جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولے۔
-
کس طرح (صلح نامہ) لکھا جائے ھذا ما صالح فلاں بن فلاں و فلاں بن فلاں (یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر فلاں بن فلاں نے صلح کی اور اگرچہ اس کو قبیلہ یا نسب کی طرف منسوب نہ کرے۔
-
کیا امام صلح کا اشارہ کر سکتا ہے۔