صلح کا بیان

- مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان اسی مضمون میں ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم میں اور رومیوں میں صلح ہو جائے گی اور اسی باب میں سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور موسیٰ بن مسعود نے کہا کہ مجھ سے سفیان بن سعید نے بواسطہ ابواسحق براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول نقل کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے حدیبیہ کے دن تین باتوں پر صلح کی اگر مشرکوں میں سے کوئی شخص ان کے پاس آجائے تو اس کو واپس کر دیں گے اور مسلمانوں سے کوئی شخص مشرکوں کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کریں گے اور یہ کہ آئندہ سال مکہ میں داخل ہوں گے اور وہاں تین دن قیام کریں گے اور وہاں ہتھیار از قسم تلواروں و کمان غلاف میں رکھ کر ہی داخل ہوں گے ابوجندل اپنی بیڑیوں میں لڑکھڑاتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مشرکوں کے حوالہ کر دیا امام بخاری نے کہا کہ ممل نے بواسطہ سفیان ابوجندل کا ذکر نہیں کیا اور الا بحجلب السلاح کے الفاظ نقل کیے۔