زکوۃ کا بیان

- رکاز میں پانچواں حصہ ہے مالک اور ابن ادریس نے کہا کہ رکاز جاہلیت کا دفینہ ہے کم ہو یا زیادہ اس میں پانچواں حصہ ہے، اور معدن رکاز نہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معدن کے متعلق فرمایا کہ اسمیں گر کر مرجانے والا تاوان کا مستحق نہیں اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے ۔ اور عمر بن عبدا لعزیز نے معدن میں ہردو سو درہم میں سے پانچ درہم (چالیس حصہ) لئے اور حسن نے کہا کہ وہ رکاز جو دارالحرب میں ہو اس کا پانچواں حصہ ہے اور دارالاسلام میں ہو تو اس میں زکوٰۃواجب ہے ۔ اور اگر دشمن کے ملک میں کوئی چیز پڑی ہوئی پائے، تو اس کا اعلان کرے، اور اگر دشمن کا مال ہو تو اسمیں پانچواں حصہ ہے اور لوگوں نے کہا کہ معدن جاہلیت کے دفینہ کی طرح رکاز ہے اس لئے کہ ارکز المعدنبولتے ہیں ۔ جب اس میں سے کوئی چیز نکلے تو اس کا جواب ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی چیز دی جائے یا اس کو بہت زیادہ نفع حاصل ہو یا پھل زیادہ آئے تو اس وقت بولتے ہیں ارکزت پھر انہوں نے خود ہی اس کے خلاف کیا اور کہا کہ معدن کے چھپانے میں کوئی حرج نہیں اور پانچواں حصہ ادا نہ کرے ۔

- صدقہ اسی صورت میں جائز ہے کہ اس کی مالداری قائم رہے اور جس نے خیرات کیا اس حال میں کہ وہ آپ محتاج ہے یا اس کے گھر والے محتاج ہیں، یا اس پر دین ہے تو دین کا ادا کرنا صدقہ سے اور آزادی وہبہ سے زیادہ مستحق ہے اور وہ اس پر پھیر دیا جائے گا اسے حق نہیں کہ لوگوں کے مالوں کو تلف کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لوگوں کے مال لئے اور اس کا ارادہ اسے تلف کرنے کا ہے تو اللہ اسے برباد کرے گا بشرطے کہ وہ صبر میں مشہور ہو اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دے سکتا ہو، اگرچہ اسے احتیاج ہو، جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا کہ جب اپنا مال صدقہ کیا تو سارا مال دے دیا اور اسی طرح انصار نے مہاجرین کو ترجیح دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ۔ اس لئے کہ اسے حق نہیں کہ دوسروں کا مال صدقہ کی بناء پر تباہ کرے ۔ اور کعب بن مالک نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی توبہ کی (مقبولیت کے) سبب سے چاہتا ہوں کہ اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول پر نثار کرکے اس سے دست وبردار ہوجاو