TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
زکوۃ کا بیان
-
آزاد اور غلام پر صدقہ فطر واجب ہونے کا بیان، اور زہری نے کہا، تجارت کے غلاموں سے زکوٰۃ دی جائے اور ان کی طرف سے صدقہ فطر بھی دیا جائے ۔
-
آسمان کے پانی اور جاری پانی سے سیراب کی جانے والی زمین میں دسواں حصہ واجب ہے اور عمر بن عبدالعزیز نے شہد میں زکوٰۃ کو واجب نہیں سمجھا۔
-
اپنے بیٹے کو خیرات دینے کا بیان اس مال میں کہ اسے خبر نہ ہو۔ (حنفیہ کے ہاں نفلی صدقہ میں تو یہی حکم ہے البتہ زکواۃ یا کوئی اور صدقہ واجبہ اگر باپ اپنے بیٹے کو لاعلمی میں دیدے تو ادا نہیں ہوتا کیوں کہ زکواۃ اپنے بیٹے کو دینا درست نہیں ۔)
-
ازواج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کو صدقہ دینے کا بیان ۔
-
اس زمانہ سے پہلے صدقہ کرنے کا بیان جب کوئی خیرات لینے والا نہ رہے گا ۔
-
اس شخص کا بیان جس پر بنت مخاض (ایک سال کی اونٹنی) واجب ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو۔
-
اس شخص کا بیان جس نے اپنے خادم کو صدقہ دینے کا حکم دیا اور خود نہیں دیا اور ابوموسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ وہ بھی صدقہ دینے والوں میں شمار ہوگا ۔
-
اس شخص کا بیان جس نے حالت شرک میں صدقہ کیا پھر مسلمان ہوگیا۔
-
اس شخص کا بیان جس کو اللہ تعالیٰ کچھ بغیر سوال اور طمع کے دلادے (تولینا جائز ہے) اور ان کے مالوں میں مانگنے والے اور خاموش رہنے کا حق ہے ۔
-
اس شخص کا بیان جو صدقہ دینے میں عجلت کو پسند کرتا ہے ۔
-
اس شخص کا بیان جو مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے سوال کرے ۔
-
اس عورت کے اجر کا بیان جس نے اپنے شوہر کے گھر سے کسی کو کھانا کھلایا یا صدقہ دیا بشرطے کہ گھر کی تباہی کی نیت نہ ہو۔
-
اگرچہ کجھور کا ٹکڑا ہو یا تھوڑا سا صدقہ دے کر آگ سے بچو اور ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی رضاء جوئی کے لئے اور اپنے دل کو ٹھیک رکھ کر خرچ کرتے ہیں اس باغ کی طرح ہے جو اونچی جگہ پرہے من کل الثمراتتک۔
-
اللہ بزرگ وبرتر کا قول کہ جس نے دیا اور اللہ سے ڈر، اور اچھی باتوں کی تصدیق کی تو ہمیں اسے آسانی کی جگہ کے لئے آسان کردیں گے اور جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی آخر آیت تک اور فرشتوں کا کہنا کہ اے اللہ مال خرچ کرنے والوں کو اس کا بدل عطاء فرما۔
-
اللہ بزرگ وبرتر کا قول، اور گردن چھڑانے اور قرضداروں اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، اور ابن عباس سے منقول ہے ۔ آپ نے زکوٰۃ کے مال سے غلام آزاد کئے اور حج میں دئیے، اور حسن بصری نے کہا کہ اگر زکوٰۃ سے اپنے باپ کو خریدے تو جائز ہے اور مجاہدین اور اس شخص کو بھی دیا جاسکتا ہے، جس نے حج نہ کیا ہو پھر آیت انما الصدقات للفقراء آخرتک تلاوت کی ۔ ان میں سے جس کو بھی دیا جائے کافی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ خالد نے اپنی زرہیں خدا کی راہ میں خرچ کیں اور ابولاس سے منقول ہے کہ ہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے اونٹ پر سوار کرکے حج کرنے کے لئے بھیجا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول والعاملین علیھا اور صدقہ وصول کرنے کرنے والے سے امام کا محاسبہ کا بیان ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ لوگ سے چمٹ کر نہیں مانگتے اور اس کا بیان کہ کتنے مال سے آدمی مالدار ہوتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اس قدر مال نہ ملے جو اس کو بے پرواہ بنادے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان فقراء کے لئے جو خدا کے راستہ میں گھیرلیے گئے ہیں اور زمین میں چل نہیں سکتے ان کو سوال نہ کرنے کے سبب سے نادان لوگ غنی سمجھتے ہیں ۔ آخر آیت فان اللہ بہ علیم تک۔
-
امام کا صدقہ دینے والے کے لئے دعائے خیروبرکت کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان کے مالوں میں سے زکوٰۃ لے کر ان کو پاک کرو اور ان کو پاکیزہ بناو
-
اونٹ کی زکوٰۃ کا بیان اس کو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔
-
بخیل کے تندرستی کی حالت میں صدقہ کرنے کی فضیلت کے بیان، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور خرچ کرو اس چیز سے جو ہم نے تم کو دی، قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کے پاس موت آئے آخر آیت تک۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے ایمان والوتم خرچ کرو اس چیز سے جو ہم نے تم کو دی قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ تو خرید وفروخت ہوگی اور نہ دوستی اور نہ شفاعت آخر آیت تک۔
-
بکریوں کی زکوٰۃ کا بیان ۔
-
پانچ اوسق (کجھور) سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے ۔
-
پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ۔
-
پاک کمائی سے خیرات کرنے کا بیان اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرگزار گناہ گار کو پسند نہیں کرتا تحقیق جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے نماز قائم کی اور زکواۃ دی ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے نزدیک ہے ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔
-
پھل توڑتے وقت کجھور کی زکوٰۃ لینے کا بیان اور کیا جائز ہے کہ بچہ کو چھوڑ دیا جائے تاکہ صدقہ کے کجھور میں سے لے لے۔
-
جب صدقہ محتاج کے حوالے کردیا جائے ۔
-
جب کسی مال دار آدمی کو صدقہ دے اور وہ نہ جانتا ہو۔
-
جس مال کی زکوۃ دی جاتی ہے تو وہ کنز نہیں ہے اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ اوقیہ سے کم میں زکواۃ نہیں
-
جس نے اپنے پھل، درخت، زمین یا کھیتی کو بیچا اور اس میں عشر یا زکوٰۃ واجب تھی، تو اب دوسرے مال سے زکوٰۃ دے یا پھل بیچے جس میں صدقہ واجب نہ تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ پھل اس وقت تک نہ بیچو جب تک کہ ان کا قابل انتفاع ہونا ظاہر نہ ہوجائے، چنانچہ قابل انتفاع ہونے کے بعد آپ نے منع نہیں فرمایا اور نہ کسی کی تخصیص فرمائی کہ زکوٰۃ اس پر واجب ہوئی ہو یا نہ واجب ہوئی ہو ۔
-
جہاں تک ہوسکے خیرات کرنے کا بیان ۔
-
چاندی کی زکوٰۃ کا بیان۔
-
خادم کے اجر کا بیان جب وہ اپنے مالک کے حکم سے خیرات کرے بشرطے کہ گھر بے گاڑنے کی نیت نہ ہو۔
-
دائیں ہاتھ سے صدقہ کرنے کا بیان ۔
-
رشتہ داروں کو زکوٰہ دینے کا حکم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لئے دو اجر ہیں ایک قرابت کا اور دوسرا صدقہ کا (ثواب ملے گا) ۔
-
رکاز میں پانچواں حصہ ہے مالک اور ابن ادریس نے کہا کہ رکاز جاہلیت کا دفینہ ہے کم ہو یا زیادہ اس میں پانچواں حصہ ہے، اور معدن رکاز نہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معدن کے متعلق فرمایا کہ اسمیں گر کر مرجانے والا تاوان کا مستحق نہیں اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے ۔ اور عمر بن عبدا لعزیز نے معدن میں ہردو سو درہم میں سے پانچ درہم (چالیس حصہ) لئے اور حسن نے کہا کہ وہ رکاز جو دارالحرب میں ہو اس کا پانچواں حصہ ہے اور دارالاسلام میں ہو تو اس میں زکوٰۃواجب ہے ۔ اور اگر دشمن کے ملک میں کوئی چیز پڑی ہوئی پائے، تو اس کا اعلان کرے، اور اگر دشمن کا مال ہو تو اسمیں پانچواں حصہ ہے اور لوگوں نے کہا کہ معدن جاہلیت کے دفینہ کی طرح رکاز ہے اس لئے کہ ارکز المعدنبولتے ہیں ۔ جب اس میں سے کوئی چیز نکلے تو اس کا جواب ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی چیز دی جائے یا اس کو بہت زیادہ نفع حاصل ہو یا پھل زیادہ آئے تو اس وقت بولتے ہیں ارکزت پھر انہوں نے خود ہی اس کے خلاف کیا اور کہا کہ معدن کے چھپانے میں کوئی حرج نہیں اور پانچواں حصہ ادا نہ کرے ۔
-
زکواۃ دینے پر بیعت کرنے کا بیان (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکواۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ۔
-
زکواۃ نہ دینے والے کے گناہ کا بیان ۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ سونا اور چاندی گاڑتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے، ماکنتم تکنزون، تک یعنی چکھو اس چیز کا مزہ جو خزانہ بنا کر رکھتے تھے ۔
-
زکوٰۃ اور صدقہ میں سے کتنا دیا جائے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک بکری صدقہ میں دی۔
-
زکوٰۃ میں اسباب لینے کا بیان، اور طاو
-
زکوٰۃ میں بوڑھی اور نہ عیب دار بکری اور نہ نرلیا جائے مگر یہ کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا لینا چاہے۔
-
زکوٰۃ میں بکری کا بچہ لینے کا بیان ۔
-
زکوٰۃ میں لوگوں کے عمدہ اموال نہیں لئے جائیں گے ۔
-
زکوۃ کے واجب ہونے کا بیان، اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور ابن عباس کا بیان ہے کہ مجھ سے ابوسفیان نے بیان کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قصہ بیان کیا تو کہا کہ ہمیں نماز، زکوۃ، صلہ رحم، اور پاک دامنی کا حکم دیتے ہیں ۔
-
سوال سے بچنے کا بیان۔
-
شوہر اور زیر تربیت یتیم بچوں کو زکوٰۃ دینے کا بیان اس کو ابوسعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔
-
صدقہ اسی صورت میں جائز ہے کہ اس کی مالداری قائم رہے اور جس نے خیرات کیا اس حال میں کہ وہ آپ محتاج ہے یا اس کے گھر والے محتاج ہیں، یا اس پر دین ہے تو دین کا ادا کرنا صدقہ سے اور آزادی وہبہ سے زیادہ مستحق ہے اور وہ اس پر پھیر دیا جائے گا اسے حق نہیں کہ لوگوں کے مالوں کو تلف کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لوگوں کے مال لئے اور اس کا ارادہ اسے تلف کرنے کا ہے تو اللہ اسے برباد کرے گا بشرطے کہ وہ صبر میں مشہور ہو اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دے سکتا ہو، اگرچہ اسے احتیاج ہو، جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا کہ جب اپنا مال صدقہ کیا تو سارا مال دے دیا اور اسی طرح انصار نے مہاجرین کو ترجیح دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ۔ اس لئے کہ اسے حق نہیں کہ دوسروں کا مال صدقہ کی بناء پر تباہ کرے ۔ اور کعب بن مالک نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی توبہ کی (مقبولیت کے) سبب سے چاہتا ہوں کہ اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول پر نثار کرکے اس سے دست وبردار ہوجاو
-
صدقہ پر رغبت دلانے اور اس کی سفارش کرنے کا بیان ۔
-
صدقہ دینے والے اور بخیل کی مثال ۔
-
صدقہ فطر میں ایک صاع کجھور دے ۔
-
صدقہ فطر میں ایک صاع کھانا دے۔
-
صدقہ فطر میں جو ایک صاع دے ۔
-
صدقہ فطر کے آزاد اور غلام تمام مسلمانوں پر واجب ہونے کا بیان ۔
-
صدقہ فطر کے فرض ہونے کا بیان ۔ ابوالعالیہ، عطائ، اور ابن سیرین نے صدقہ فطر کو فرض سمجھا۔
-
صدقہ گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے ۔
-
صدقہ کے اونٹ اور اس کے دودھ سے مسافروں کے کام لینے کا بیان۔
-
صدقہ کے اونٹوں کا امام کا اپنے ہاتھوں سے نشان لگانے کا بیان ۔
-
عید کی نماز سے پہلے صدقہ دینے کا بیان ۔
-
گائے کی زکوٰۃ کا بیان ۔ ابوسعید کا بیان ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، البتہ میں جانوں گا اس کو جو اللہ کے پاس گائے لے کر آئے گا اور وہ بولتی ہوگی اور بعض نے کہا خوار کے بجائے جوار ہے، یجارون کے معنی ہیں وہ آواز بلند کرتے ہوں گے جس طرح گائے آواز بلند کرتی ہے۔
-
مال کا اس کے حق میں خرچ کرنے کا بیان ۔
-
مالداروں سے صدقہ لینے کا بیان اور فقراء کو دیا جائے جہاں بھی ہوں ۔
-
متفرق مال کو یکجا نہ کیا جائے اور نہ یکجا مال کو متفرق کیا جائے اور بہ سند سالم، ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مثل منقول ہے ۔
-
مسلمان پر اس کے غلام میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے ۔
-
مسلمان پر اس کے گھوڑے پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔
-
منقی ایک صاع دینے کا بیان ۔
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لئے صدقہ کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں ۔
-
کجھور کا اندازہ کرلینے کا بیان ۔
-
کسی مال میں دو شخص شریک ہوں تو دونوں زکوٰۃ دے کر اس میں برابر سمجھ لیں، طاو
-
کیا اپنے صدقہ کے مال کو خرید سکتا ہے ؟ اور غیروں کے صدقہ کو خریدنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس لئے کہ نبی نے صرف صدقہ دینے والے کو خریدنے سے منع فرمایا ہے اور دوسروں کو منع نہیں فرمایا ۔
-
ہر چھوٹے بڑے پر صدقہ فطر واجب ہونے کا بیان، ابوعمرو نے کہا، عمر رضی اللہ عنہ، علی ابن عمر رضی اللہ عنہ، جابر رضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ عنہ، طاو
-
ہر مسلمان پر صدقہ واجب ہے ۔ جو شخص (کوئی چیز) نہ پائے تو وہ نیک عمل کرے ۔
-
یتیموں پر صدقہ کرنے کا بیان ۔
-
یہ ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔