TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
ذبیحوں اور شکار کا بیان
-
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کی اللہ کے نام پر ذبح کرنا چاہئے
-
اس چیز (سے ذبح کرنے) کا بیان جو خون بہادے مثلابانس، پتھر اور لوہاوغیرہ
-
اس چیز کا بیان جواصنام اور بتوں پر ذبح کی جائے
-
اس شخص کا بیان جو ایسا کتا پالے کہ شکار یا جانور کی حفاظت کے لئے نہ ہو
-
اس شکار کا بیان جو دو یا تین دن تک غائب رہے
-
اعراب ( گنواروں) وغیرہ کے ذبح کا بیان
-
اگر ایک جماعت کو مال غنیمت ہاتھ لگے اور ان میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی کے حکم کے بغیر بکری یا اونٹ ذبح کردے، تو وہ رافع کی حدیث بناء پر نہیں کھایا جائے گا، جو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور طاؤس وعکرمہ نے چور کے ذبیحہ کے متعلق فرمایا کہ اس کو پھینک دو
-
اگر شکار کے پاس دوسرا کتا ہو
-
اگر کتا کھالے (تو کیا حکم ہے) اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا حلال ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جن شکاری جانوروں کو تم تعلیم دو جو تم کو اللہ نے تعلیم دی تو ایسے جانور جس شکار کو تمہارے لئے پکڑیں اسے کھاؤ اور اس پر اللہ کا نام بھی لو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے، جوارح سے مراد صوائد اور کو اسب اجترحوا بمعنی اکتسبوا آتا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کتے کا کھانا اسے خراب کریتا ہے، اس نے اپنے لئے رکھ چھوڑا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم کو ان کو سکھاتے ہو یہاں تک کہ وہ چھوڑ دیتا ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مکروہ سمجھا ہے اور عطاء نے کہا کہ اگر خون پی لے اور اس میں سے کھائے نہیں تو کھالو
-
اگر کسی قوم کا اونٹ بھاگ جائے اور ان میں سے کوئی شخص اسے تیر چلا کر مار ڈالے اور اس سے مقصد ان کی بھلائی ہو تو اس حدیث کی بناء پر جائز ہے، جو رافع نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ دریا کا شکار تمہارے لئے حلال ہے اور حضرت عمر نے فرمایا کہ صید سے مراد وہ ہے جو جال سے شکار کیا جائے اور طعام سے مراد وہ ہے جس کو دریا پھینک دے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ طافی (دریا میں خود مر کر تیرنے والا) حلال ہے، اور ابن عباس نے فرمایا کہ طعام سے مراد دریا میں مرا ہوا جانور ہے مگر وہ جو تجھے مکروہ معلوم ہو اور جریث کو یہودی نہیں کھاتے، لیکن ہم کھاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی شریح نے فرمایا کہ دریا کی تمام چیزیں مذبوح کے حکم میں ہیں، عطاء نے کہا کہ پرندے (جو پانی پر اترتے ہیں) کا ذبح کرنا میں مناسب سمجھتا ہوں اور ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء سے نہروں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر جو پانی جمع ہوگیا، اسے کے شکار کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ بھی دریائی شکار کے حکم میں ہے، انہوں نے کہا ہاں ! پھر یہ آیت تلاوت کی ھذا عذب فرات سائغ شرابہ وھذا ملح اجاج ومن کل تائکلون لحما طریا، اور حسن رضی اللہ عنہ دریائی کتوں کی کھال سے بنی ہوئی زین پر سوار ہوتے تھے اور شعبی نے کہا کہ اگر میرے گھر کے لوگ مینڈک کھاتے تو میں ان کو کھلادیتا، اور حسن بصری نے کچھوے میں کچھ حرج نہیں سمجھا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دریا کا شکار کھاؤ، اگرچہ اس کو یہودی، نصری یا مجوسی نے شکار کیا ہو، ابوالدرداء نے مری کے متعلق فرمایا کہ دھوپ اور مچھلیوں نے شراب کو ذبح کردیا (حلال کردیا ہے)
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ دریا کا شکار تمہارے لئے حلال ہے اور حضرت عمر نے فرمایا کہ صید سے مراد وہ ہے جو جال سے شکار کیا جائے اور طعام سے مراد وہ ہے جس کو دریا پھینک دے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ طافی (دریا میں خود مر کر تیرنے والا) حلال ہے، اور ابن عباس نے فرمایا کہ طعام سے مراد دریا میں مرا ہوا جانور ہے مگر وہ جو تجھے مکروہ معلوم ہو اور جریث کو یہودی نہیں کھاتے، لیکن ہم کھاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی شریح نے فرمایا کہ دریا کی تمام چیزیں مذبوح کے حکم میں ہیں، عطاء نے کہا کہ پرندے (جو پانی پر اترتے ہیں) کا ذبح کرنا میں مناسب سمجھتا ہوں اور ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء سے نہروں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر جو پانی جمع ہوگیا، اسے کے شکار کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ بھی دریائی شکار کے حکم میں ہے، انہوں نے کہا ہاں ! پھر یہ آیت تلاوت کی ھذا عذب فرات سائغ شرابہ وھذا ملح اجاج ومن کل تائکلون لحما طریا، اور حسن رضی اللہ عنہ دریائی کتوں کی کھال سے بنی ہوئی زین پر سوار ہوتے تھے اور شعبی نے کہا کہ اگر میرے گھر کے لوگ مینڈک کھاتے تو میں ان کو کھلادیتا، اور حسن بصری نے کچھوے میں کچھ حرج نہیں سمجھا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دریا کا شکار کھاؤ، اگرچہ اس کو یہودی، نصری یا مجوسی نے شکار کیا ہو، ابوالدرداء نے مری کے متعلق فرمایا کہ دھوپ اور مچھلیوں نے شراب کو ذبح کردیا (حلال کردیاہے)
-
ان روایات کا بیان جو شکار کرنے کے متعلق ہیں
-
پالتو گدھوں کے گوشت کے بیان میں، اس باب میں سلمہ کی روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے
-
پہاڑوں پر شکار کرنے کا بیان
-
جو جانور بھاگ جائے وہ بمنزلہ جنگلی جانور کے ہے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کو جائز کہا ہے ، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو چوپائے تمہارے ہاتھوں سے بھاگ جائیں وہ شکار کی طرح ہیں، اور اس اونٹ کے متعلق جو کنویں میں گر جائے، فرمایا کہ جہاں تک ممکن ہو اسے ذبح کر ڈالو، حضرت علی، ابن عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی خیال ہے
-
چہرہ پر داغ لگانے اور نشان کرنے کا بیان
-
خرگوش کا بیان
-
دارالحرب وغیرہ کے اہل کتاب کے ذبیحوں کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں، اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے، اور تمہارا کھانا ان کے حلال ہے اور زہری کا بیان ہے کہ عرب کے نصاری کے ذبیحوں کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر تم سن لو کہ اس نے غیر اللہ کا نام لیا تو نہ کھاؤ اور اگر نہ سنو تو اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال کیا ہے حالانکہ ان کا کفر معلوم ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے اور حسن وابراہیم نے کہا کہ اقلف (بغیر ختنہ کئے ہوئے) کے ذبیحہ کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے
-
دانت، ہڈی اور ناخن سے ذبح نہ کیا جائے
-
ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنے کا بیان، اور اس شخص کا بیان جوقصدا چھوڑ دے، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر بھول جائے تو کوئی حرج نہیں اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ نہ کھاؤ اس میں سے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو یہ فسق ہے اور بھول کر چھوڑنے والے کو فاسق نہیں کہا جائے گا، اللہ تعالیٰ کا قول وان الشیاطین لیوحون الی اولیائھم لیجادلوکم وان اطعتموھم انکم لمشرکون
-
شکار پر بسم اللہ پڑھنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم پر مرواد حرام کیا گیا فلاتخشوھم واخشون تک اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ تمہیں شکار کے ذریعہ آزمائے گا، جہاں تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے تا آخر آیت اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ احلت لکم بھیمہ الانعام الاما یتلی علیکم آخر آیت فلاتخشوھم واخشون تک اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ العقود سے مراد وہ عہد ہیں جو حلال وحرام سے متعلق کیے جائیں اور الامایتلی علیکم سے مراد سور ہے اور یجرمنکم کے معنی یحملنکم (تمہیں ابھارے) کے ہیں اور شنآن سے مراد دشمنی ہے اور منخنقہ سے مراد وہ جانور ہے جس کا گلا گھونٹ کر مارا جائے ، موقوذہ سے مراد وہ ہے جس کو لاٹھی سے مارا جائے (چنانچہ عرب بولتے ہیں) یوقذھا فتموت اور متردیہ پہاڑ سے گر کر مر جانے والے کو اور نطیحہ وہ ہے جس کو بکری اپنے سینگوں سے مارے، اگر تو اس کو دم ہلاتا ہوا یا آنکھ پھڑکاتا ہوا پائے تو اسے ذبح کرکے کھالے
-
عورت اور لونڈی کے ذبیحہ کا بیان
-
گوہ کا بیان
-
گھوڑے کے گوشت کا بیان
-
مثلہ (ہاتھ پاؤں کاٹنے)، مصبورہ (باندھ کر مارنا) اور مجسمہ کی کراہت کا بیان
-
مجوس کے برتن اور مردار کا بیان
-
مردار کی کھالوں کا بیان
-
مرغی کھانے کے بیان میں
-
مشک کا بیان
-
معراض کے شکار کا بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے غلیل سے مارے ہوئے شکار کے متعلق فرمایا کہ وہ موقوذہ کے حکم میں ہے اور سالم، قاسم، مجاہد، ابراہیم عطاء اور حسن نے اس کو مکروہ سمجھا ہے اور حسن نے بستیوں اور شہروں میں غلیل چلانے کو مکروہ سمجھا اور اس کے سوا دوسری جگہوں میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا
-
منجمد یا پگھلے ہوئے گھی میں چوہاگر جانے کا بیان
-
نحر اور ذبح کا بیان اور ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ ذبح (حلق پر چھری پھیرنا) اور نحر (سینے پر برچھا مارنا) حلق کی جگہ اور نحر کی جگہ پر ہی ہوتا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر ذبح ہونے والے جانور کو نحر کرودں تو کیا یہ جائز ہے، انہوں نے کہا ہاں ، اللہ تعالیٰ نے گائے کا ذبح کرنا بیان کیا، اگر نحر کیے جانے والے جانور کو ذبح کردیا تو جائز ہے، اور نحر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، اور ذبح رگوں کا کاٹنا ہے ، میں نے پوچھا کیا رگیں پیچھے چھوڑ دی جائیں، یہاں حرام مغز کاٹ دیا جائے ، انہوں نے فرمایا میں اسے ٹھیک نہیں سمجھتا، اور نافع نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عمر نے حرام مغز کاٹنے سے منع فرمایا ہے ، وہ کہتے تھے کہ ہڈی تک پہنچا کر چھوڑ دیں، یہاں تک مرجائے، اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کرو اور بیان کیا کہ ان لوگوں نے اس کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے، اور سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ذبح حلق اور لبہ (دونوں) میں ہوجاتا ہے، حضرت ابن عمر، ابن عباس اور انس نے فرمایا کہ اگر سرکٹ جائے تو کوئی حرج نہیں
-
ٹڈی کھانے کا بیان
-
کمان سے شکار کرنے کا بیان اور حسن اور ابراہیم نے کہا اگر تم کسی شکار کو مارو اور اس کا ہاتھ یا پاؤں ٹوٹ کر جدا ہوجائے تو جو حصہ جدا ہوگیا، اس کو نہ کھاؤ اور باقی حصہ کو کھاؤ اور ابراہیم نے کہا کہ اگر اس کی گردن یا کمر میں مارا (اور مر گیا) تو اس کو کھالو اور اعمش نے زید سے نقل کیا کہ آل عبداللہ میں سے ایک شخص نیل گائے کا شکار نہ کرسکا تو عبداللہ نے حکم دیا کہ جہاں موقعہ ہو ماریں اور جو حصہ اس کا گر جائے، اس کو چھوڑ دو اور باقی کو کھاؤ
-
کنکری پھینکنے اور گولی مارنے کا بیان
-
ہر کچلی والی درندے کے کھانے (کی حرمت) کا بیان