حیض کا بیان۔

- حائضہ عورت طواف کعبہ کے علاوہ (باقی) تمام مناسک حج کے ادا کر سکتی ہے، ابراہیم نے کہا کہ حائضہ عورت کو ( ایک) آیت قرآن کی تلاوت کر نے میں کوئی حرج نہیں اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنبی کے لئے تلاوت کر نے میں کچھ حرج نہیں سمجھا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تمام اوقات میں اللہ کی یاد کیا کرتے تھے، ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتی ہیں کہ ہمیں ( عید کے دن) حکم دیا جاتا تھا کہ ہم حائضہ عورتوں کو بھی باہر لائیں، تاکہ وہ بھی مردوں کے ساتھ تکبیر کہیں اور دعا کریں، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو سفیان نے خبر دی کہ ہر قل نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط( جو اس کے نام لکھا تھا) منگوا یا اور اسے پڑھا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ بسم اللہ الرحیم، یا اہل الکتب تعالو الی کلمۃ، الی قولہ مسلمون اور عطاء نے جابر سے نقل کیا ہے کہ عائشہ کو حیض آیا اور انہوں نے طواف کعبہ کے علاوہ تمام مناسک ادا کیے، نماز بھی نہ پڑھتی تھیں اور حکم نے کہا کہ میں ( حالت) جنابت میں ذبح کر دیتا ہوں اور چونکہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ اس چیز کو نہ کھاؤ جس پر ( بوقت ذبح) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، ( لہذا بسم اللہ ضرور پڑھتا ہوں)