TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
جھگڑوں کا بیان ۔
-
بعض لوگوں نے کم عقل اور ناداں کے معاملہ کو رد کر دیا، اگرچہ امام نے اس کو تصرفات سے نہ روکا ہو، اور بواسطہ جابر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے ممانعت سے پہلے صدقہ دینے والے کا صدقہ واپس کر دیا اس کے بعد آپ نے اس کی ممانعت فرما دی، امام مالک نے کہا کہ اگر کسی کا کسی پر قرض ہو اور اس کے پاس صرف غلام ہو اور کوئی چیز اس کے سوا نہ ہو، اور اس نے اس کو آزاد کر دیا تو اس کا آزاد کرنا جائز نہ ہوگا، اور جس نے کسی کم عقل بے وقوف آدمی کا مال بیچا اور اس کی قیمت اس کو دے کر حالت کی درستی اور حفاظت کا حکم دیا، اگر اس کے بعد بھی اس نے انپا مال ضائع کیا تو حاکم اسے تصرفات سے روک دے گا اس شخص سے جسے بیع میں دھوکا دیا جاتا تھا، آپ نے فرمایا کہ جب تم بیع کا معاملہ کرو تو کہہ دو کہ دھوکہ نہ دو اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا مال نہیں لیا ۔
-
تقاضا کرنے کا بیان ۔
-
جس شخص کی طرف سے شرارت کا اند یشہ ہو اس کے باندھنے کا بیان، اور ابن عباس نے عکرمہ کو قرآن سنن اور فرائض سکھا نے کے لئے قید کیا تھا ۔
-
جھگڑنے والوں میں سے ایک کا دوسرے کے متعلق گفتگو کر نے کا بیان ۔
-
حال معلوم ہونے کے بعد گناہ کر نے والوں اور جھگڑا کرنے والوں کو گھر سے نکال دینے کا بیان اور عمر نے ابوبکر کی بہن ( ام فروہ) کو نکال دیا جب انہوں نے نو حہ کیا ۔
-
حرم میں کسی کو باندھنے اور قید کرنے کا بیان اور نافع بن عبدالحارث نے مکہ میں صفوان بن امیہ سے قید خانہ کے لئے ایک گھر اس شرط پر خریدا کہ اگر حضرت عمر راضی ہو گئے تو بیع پوری ہوگئی اور اگر وہ راضی نہ ہوئے تو صفوان کو چار سو دینار ملیں گے اور ابن زبیر نے مکہ میں قید کیا ۔
-
قرض دار کا پیچھا کرنے کا بیان ۔
-
قرض دار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر نے اور مسلمان اور یہودی میں جھگڑا ہونے کا بیان ۔
-
میت کے وصی کے دعوی کرنے کا بیان ۔