TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
جنازوں کا بیان
-
(یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے)
-
آخر میں کافور ملانے کا بیان ۔
-
اچانک موت کا بیان۔
-
اس شخص کا بیان جس نے مصیبت کے وقت غم کو ظاہر نہ کیا اور محمد بن کعب قرظی نے کہا کہ جزع نے مراد بری باتوں کا بولنا اور بدگمانی ہے اور یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اپنے رنج وغم کی شکایت اللہ سے کرتا ہوں ۔
-
اس شخص کا بیان جس کے نزدیک شہداء کا غسل جائز نہیں ۔
-
اس شخص کا بیان جو ارض مقدسہ یا اس کے علاوہ جگہوں میں دفن ہونا پسند کرے ۔
-
اس شخص کی فضیلت کا بیان جس کا بچہ مرجائے اور وہ صبر کرے اور اللہ بزرگ وبرترنے فرمایا کہ صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادے۔
-
امام کے پیچھے جنازہ پر دو یا تین صفیں بنانے کا بیان ۔
-
ایک قبر میں دو یا تین آدمیوں کو دفن کرنے کا بیان ۔
-
باب عورتوں کا جنازہ کے پیچھے جانے کا بیان ۔
-
باب کسی شخص کا عورت سے قبر کے پاس یہ کہنا کہ صبر کرو۔
-
بغیر عمامہ کے کفن کا بیان۔
-
بغیر کرتے کے کفن دینے کا بیان ۔
-
تمام مال سے کفن دینے کا بیان، عطاء زہری، عمرو بن دینار اور قتادہ اسی کے قائل ہیں اور عمربن دینار نے کہا کہ حنوط تمام مال سے دیا جائے گا جب کہ اتنا ہی مال ہو اور ابراہیم نے کہا کہ پہلے کفن دیا جائے ، پھر دین، اس کے بعد وصیت جاری کی جائے سفیان نے کہا کہ قبر کی اجرت اور غسل کی اجرت کفن میں ہی شامل ہے ۔
-
جب ایک کپڑے کے سواء اور کوئی کپڑا نہ ملے ۔
-
جب بچہ اسلام لے آئے اور مرجائے تو کیا اس پر نماز پڑھی جائے گی اور کیا بچے پر اسلام پیش کیا جاسکتا ہے اور حسن شریح، ابراہیم اور قتادہ نے فرمایا کہ دونوں میں سے ایک (ماں باپ میں سے) مسلمان ہو تو لڑکا مسلمان کے ساتھ ہوگا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کمزوری میں اپنی ماں کے ساتھ تھے اور اپنے والد کے ساتھ اپنی قوم کے دین پر نہ تھے اور فرمایا کہ اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا ۔
-
جب جنازہ دیکھ کر کھڑا ہو تو کب بیٹھے ؟
-
جب صرف ایسا کفن نہ ملے جس سے سر یا دونوں پاو
-
جب مشرک موت کے قریب لا الہ الا اللہ کہے ۔
-
جنازوں کا بیان اور اس شخص کا بیان جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو اور وہب بن منبہ سے کہا گیا کہ کیا لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی نہیں ہے ؟ وہب نے کہا کہ ضرور لیکن ہر کنجی کے دندانے ہوتے ہوں تو کھل جائے گا ورنہ نہیں کھلے گا۔
-
جنازوں کے پیچھے پیچھے جانے کا حکم ۔
-
جنازوں کے لئے صفوں کا بیان ۔
-
جنازہ پر سورت فاتحہ پڑھنے کا بیان اور حسن نے کہا کہ بچہ پر سورت فاتحہ پڑھے اور کہے ۔ اللہم اجعلہ لنا فرطا وسلفا واجرا۔
-
جنازہ پر میت کے کلام کرنے کا بیان ۔
-
جنازہ عورتوں کو نہیں بلکہ مردوں کو اٹھانا چاہیے ۔
-
جنازہ میں جلدی کرنے کا بیان، انس نے کہا تم جنازہ کے ساتھ چل رہے ہو تم اسکے آگے اس کے پیچھے اور اس کے دائیں اور اسکے بائیں بھی چلو اور ان کے علاوہ دوسروں نے بھی اس کے قریب قریب بیان کیا ۔
-
جنازہ کی چار تکبیروں کا بیان ۔ حمید نے کہا کہ ہم کو انس رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی تو تین تکبیریں کہیں، پھر سلام پھیرا اور ان سے کہا گیا تو قبلہ کی طرف کی منہ کیا پھر چوتھی تکبیر کہی اور سلام پھیرا۔
-
جنازہ کی خبر دینے کا بیان اور ابورافع نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے مجھے کیوں نہ خبر دی؟
-
جنازہ کے لئے کھڑے ہونے کا بیان
-
جنازے پر لوگوں کے ساتھ بچوں کے نماز پڑھنے کا بیان ۔
-
جنازے پر نماز کے طریقے کا بیان ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جنازہ پر نماز پڑھی اور فرمایا کہ اپنے ساتھی پر نماز پڑھو اور فرمایا نجاشی پر نماز پڑھو اور اسے صلوۃ کہا، حالانکہ نہ اس میں رکوع ہے اور نہ سجدہ اور نہ اس میں گفتگو کی جاتی ہے اور اس میں تکبیر اور سلام ہے اور ابن عمر طہارت ہی کی حالت میں نماز پڑھتے تھے آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت نماز نہ پڑھتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے حسن بصری نے کہا میں نے لوگوں کو (کہتے ہوئے) پایا کہ جنازہ پڑھانے کامستحق وہ شخص ہے جس کو لوگ فرض نماز میں امام بنانا پسند کریں اور جب عید کے دن یا جنازہ کے وقت بے وضو ہوجائے تو پانی مانگے تیمم نہ کرے اور جب جنازہ کے پاس اسحال میں پہنچے کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہو تو نماز میں انکے ساتھ تکبیر کہہ کر شریک ہوجائے اور ابن مسیب کہا کہ رات دن اور سفر حضر میں چار تکبیر کہے اور انس نے کہا کہ پہلی تکبیر نماز کے شروع کرنے کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ ان (منافقوں) میں سے کوئی مرجائے تو اس پر کبھی نماز نہ پڑھو اور اسمیں صفیں ہوتی ہیں اور امام ہوتا ہے ۔
-
جنازے میں مردوں کے ساتھ بچوں کے صف قائم کرنے کا بیان ۔
-
جنازے کے پیچھے چلنے کی فضیلت کا بیان ۔زید بن ثابت نے کہا کہ جب تم نے نماز پڑھ لی تو تونے پوری کرلی وہ چیز جو تجھ پر واجب ہے اور حمید بن بلال نے کہا کہ ہم جنازہ سے واپسی کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے لیکن جس نے نماز پڑھی پھر واپس ہوا تو اس کے لئے ایک قیراط ہے ۔
-
جو شخص جنازے کے ساتھ جائے تو جب تک جنازہ لوگوں کے کاندھوں سے نہ اتارا جائے نہ بیٹھے اور اگر بیٹھ جائے تو اسے کھڑا ہونے کا حکم دیا جائے ۔
-
خود کشی کرنے والے کا بیان ۔
-
دفن کئے جانے تک انتظار کا بیان۔
-
دفن کئے جانے کے بعد قبر پر نماز پڑھنے کا بیان ۔
-
دو کپڑوں میں کفن دینے کا بیان ۔
-
دوشنبہ کے دن مرنے کا بیان۔
-
رات کو دفن کرنے کا بیان اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رات کو دفن کئے گئے ۔
-
سلے ہوئے یا بغیر سلے ہوئے کرتے میں کفن دینے کا بیان اور کرتے کے علاوہ کفن دئیے جانے کا بیان ۔
-
شہید پر نماز پڑھنے کا بیان ۔
-
صبر صدمہ کے ابتداء میں معتبر ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کس قدر عمدہ دو عدل اور کیا ہی اچھا اس کے علاوہ ہیں مکہ میں وہ لوگ جنہیں مصیبت پہنچی اور انہوں نے اناللہ وانا الیہ راجعون کہا یہی لوگ ہیں جن پر ان کے سب کی طرف سے رحمتیں اور مہربانیاں ہوتی ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں اور اللہ کا قول کہ صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو۔ بے شک یہ بار ہے مگر ان لوگوں پر جو اللہ سے ڈرتے ہیں (بار نہیں)
-
طاق مرتبہ غسل دینا مستحب ہے ۔
-
عذاب قبر سے پناہ مانگنے کا بیان ۔
-
عذاب قبر کے متعلق جو حدیثیں منقول ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ اپنی جانوں کو نکالو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا ۔ ھون ھوان کے معنی میں ہے۔ اور ھون رفق کے معنی میں ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم انہیں دوبارہ عذاب دیں گے پھر برے عذاب کی طرف پھیر دیں گے اور اللہ تعالیٰ کا قول آل فرعون پر سخت مار پڑے گی ۔ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور جس دن قیامت قائم ہوگی کہا جائے گا آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کردو ۔
-
عورت اور مرد کے جنازے میں کہاں کھڑا ہو؟
-
عورت کا شوہر کے علاوہ کسی اور پر سوگ کرنے کا بیان ۔
-
عورت کی قبر میں کون اترے ۔
-
عورت کے بالوں کے کھولنے کا بیان ابن سیرین نے بیان کیا کہ میت کے بال کھولنے میں کوئی حرج نہیں ۔
-
عورتوں کے بال ان کی پیٹھ پر ڈال دئیے جائیں ۔
-
غیبت اور پیشاب سے قبر کے عذاب ہونے کا بیان ۔
-
قبر پر شاخ لگانے کا بیان ۔ بریدہ اسلمی نے وصیت کی کہ ان کی قبر پر دو شاخیں گاڑ دی جائیں اور ابن عمرنے عبدالرحمن کی قبر پر خیمہ دیکھا تو کہا کہ اے لڑکے اس کو الگ کردیا جائے اس لئے کہ اس کا عمل سایہ کرے گا اور خارجہ بن زید نے کہا میں نے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ جوان تھا ۔ حضرت عثمان کے عہد میں اور ہم میں زیادہ چھلانگیں لگانے والا وہ سمجھا جاتا تھا جو عثمان بن مظعون کی قبر کو چھلانگ لگائے یہاں تک کہ اس سے آگے بڑھ جائے ۔عثمان بن حکیم نے کہا کہ خارجہ بن زید نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے قبر پر بیٹھایا اور مجھ سے اپنے چچا زید بن ثابت کے واسطے سے بیان کیا انہوں نے اس کو اس لئے مکروہ سمجھا جو حدث کرے اور نافع نے کہا ابن عمر قبروں پر بیٹھتے تھے ۔ بظاہر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ قبر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوں گے کیوں کہ قبر کے اوپر بیٹھنا پسندیدہ نہیں مسلم شریف کی حدیث میں قبر کے اوپر بیٹھنے کی ممانعت بھی آئی ہے دیکھیں مشکوۃ عربی ص ۔)
-
قبر پر مسجد بنانے کا بیان ۔
-
قبر میں اذخر یا گھاس ڈالنے کا بیان ۔
-
قبر میں لحد اور شق کا بیان ۔
-
قبر کے پاس محدث کا نصیحت کرنا اور ساتھیوں کا اس کے چاروں طرف بیٹھنا۔یخرجون من الاجداث کے معنی ہیں وہ اپنی قبروں سے نکلیں گے ۔ بعثرت کے معنی ہیں ابھاری جائیں گی اور بعثرت حوضی کے معنی ہیں میں نے اس کے نچلے حصہ کو اوپر کیا اور اے قاض تیز دوڑنا اور اعمش نے الی نصب پڑھا ہے یعنی کسی بلند چیز کی طرف پہچنے میں سبقت کریں گے نصب واحد ہے اور نصب مصدر ہے اور ینسلون کے معنی نکلیں گے ۔
-
قبروں پر مسجدیں بنانے کی کراہت کا بیان ۔ اور جب حسن بن حسن علی نے انتقال کیا تو ان کی بیوی ان کی قبر پر ایک سال تک ایک خیمہ نصب کئے بیٹھی رہیں، پھر خیمہ اٹھا کر چلی گئیں، تو لوگوں نے ایک کو آواز دینے والے کو کہتے ہوئے سنا کہ کیا ان لوگوں نے جو چیز گم کی تھی اسے پالیا تو دوسروں نے جواب دیا بلکہ مایوس ہو کر لوٹے۔
-
قبروں کی زیارت کا بیان
-
لحد میں پہلے کون رکھا جائے ۔ (اور لحد اس لئے کہا جاتا ہے کہ ایک کنارے سے ہٹی ہوئی ہوتی ہے اور ہرظالم کو ملحد کہتے ہیں، ملحد سے مراد ہے ہٹنے کی جگہ اور اگر قبر سیدھی ہو تو اسے ضریح کہتے ہیں ۔
-
محرم کو کس طرح کفن دیا جائے ۔
-
مردوں کو برا بھلا کہنے کی ممانعت کا بیان۔
-
مردوں کی برائی کا بیان ۔
-
مردہ جوتوں کی آواز سنتا ہے ۔
-
مریض کے پاس رونے کا بیان ۔
-
مسلمانوں کی اولاد کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ جس کے تین نابالغ بچے مرجائیں تو اس کے لئے دوزخ سے حجاب ہوجاتے ہیں یا یہ فرمایا کہ وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے ۔
-
مشرکین کی نابالغ اولاد کا بیان۔
-
مصلی اور مسجد میں جنازے پر نماز پڑھنے کا بیان ۔
-
مصیبت کے وقت اس طرح بیٹھ جانے کا بیان کہ غم کے اثرات ظاہر ہوں ۔
-
مصیبت کے وقت واویلا مچانے اور جاہلیت کی سی باتیں کرنے کی ممانعت کا بیان۔
-
منافقین پر نماز پڑھنے، اور مشرکین کے لئے دعا ومغفرت کرنے کی کراہت کا بیان ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو روایت کیا ہے ۔
-
میت پر صبح و شام کے وقت پیش کئے جانے کا بیان ۔
-
میت پر لوگوں کی تعریف کرنے کا بیان ۔
-
میت پر نوحہ کرنے کی کراہت کا بیان اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان عورتوں کو رونے دو ۔ ابوسلیمان پر جب تک کہ نقع یالقلقہ نہ ہو، نفع سے مراد مٹی اور تقلقہ سے مراد آواز ہے ۔
-
میت کا جب وہ جنازہ پر ہو یہ کہنے کا بیان کہ مجھے جلدی لے چلو۔
-
میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینے کا بیان، اور ابن عمر نے سعید بن زید کے بیٹے کو خوشبو لگائی اور ان کو اٹھایا اور نماز پڑھی اور وضو نہ کیا اور ابن عباس نے فرمایا کہ مسلم نہ تو زندگی میں اور نہ مرنے کے بعد نجس ہوتا ہے، اور سعید نے کہا کہ اگر نجس ہوتا تو میں اسے نہ چھوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مو
-
میت کے اشعار کس طرح کیا جائے اور حسن نے بیان کیا کہ پانچویں کپڑے سے دونوں رانوں اور دونوں سرین کو باندھ دیا جائے اس طرح کہ قمیص کے نیچے رہے ۔
-
میت کے پاس جب وہ کفن میں رکھ دیا گیا ہو موت کے بعد جانے کا حکم ۔
-
میت کے دائیں طرف سے غسل شروع کرنے کا بیان۔
-
میت کے گھر والوں کو اس کی موت کی خبر خود دے دینے کا بیان۔
-
میت کے لئے حنوط (خوشبو) کا بیان ۔
-
میت کے مقامات وضو سے ابتداء کرنے کا بیان۔
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی قبروں کا بیان، اقبرتہ، قبرت الرجل اقبر کے معنی ہیں میں نے اس کے لئے قبر بنائی، قبرتہ کے معنی ہیں میں نے اس کو قبر میں دفن کیا، کفاتا کے معنی ہیں کہ اسی پر زندگی بسر کریں گے اور مرنے کے بعد اسی میں دفن کئے جائیں گے ۔
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے لئے مرثیہ کہا۔
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ ہم تمہاری جدائی کے باعث غمزدہ ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آنکھیں رو رہی ہیں اور قلب غمگین ہے ۔
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا بیان کہ میت کو اس کے گھر والوں کی طرف سے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے جب کہ نوحہ کرنا اس کی عادت میں سے ہو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاو
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس نے کفن تیار رکھا تو آپ نے اس کو برا نہیں سمجھا ۔
-
نفاس والی عورت پر نماز پڑھنے کا بیان جب کہ وہ حالت نفاس میں مرجائے ۔
-
نوحہ اور رونے کی ممانعت اور اس سے روکنے کا بیان ۔
-
وہ شخص ہم میں سے نہیں جو اپنے گا لوں کو پیٹے ۔
-
وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گریبان چاک کرے ۔
-
کفن کے لئے سفید کپڑوں کا بیان ۔
-
کیا عورت مرد کے تہ بند کا کفن پہنائی جاسکتی ہے ۔
-
کیا عورت کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے ۔
-
کیا میت کو کسی عذر کی بناء پر قبر یا لحد سے نکالا جاسکتا ہے ؟
-
یہ ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔
-
یہودی کے جنازہ کے لئے کھڑے ہونے کا بیان ۔