TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
تفاسیر کا بیان
-
سورت بنی اسرائیل کی تفسیر
-
سورت فاتحہ کی تفسیر اور فضیلت کا بیان اس کو ام الکتاب بھی کہتے ہیں اس لئے کہ یہ سب سورتوں سے پہلے لکھی جاتی ہے اور نماز میں بھی سب سے پہلے اسی کو پڑھتے ہیں اور دین کے معنی ہیں جزا اچھی یا بری جس طرح کہتے ہیں کہ جیسا کرے گا ویسا بھرے گا مجاہد نے کہا کہ بالدین کے معنی ہیں حساب اسی طرح مدینین کے معنی ہیں حساب کئے گئے۔
-
ارشاد بارى تعالى واذ يرفع ابراهيم القواعد من البیت الخ کى تفسیر
-
ارشاد باری تعالیٰ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گاری کرو۔
-
ارشاد باری تعالیٰ واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی کی تفسیرمثابۃ کے معنی ہیں مرجع کے یعنی لوٹنے کی جگہ ۔
-
ارشاد باری تعالیٰ که ’’ اگر تم اپنے دل کی باتیں چھپاؤ یا ظاهر کرو ‘ الله تعالیٰ تمهاری سب باتوں کا تم سے حساب لے گا ‘ پھر جسے چاهے گا بخشے گا جسے چاهے گا عذاب کریگا اور الله سب کاموں پر قدرت رکھتا ہے ۔
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ آپ جہاں بھی جائیں اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف رکھیں اور تم لوگ جہاں بھی ہو اپنا چہرہ کعبہ کی طرف رکھو تاکہ لوگوں کو تمہارے مقابلہ میں گفتگو کی مجال نہ رہے۔ آخر آیت تک کی تفسیر
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ اگر تم خطرناک جگہ پر ہو تو جیسا موقع ہو نماز پڑھوسوار ہو کر یا پیادہ اور پھر جب امن قائمہو جائے تو جس طرح اللہ نے تمہیں سکھایا ہے اسی طرح پڑھو سعید بن جبیر نے کہا وسع کرسیہ میں کرسی سے مراد اللہ کا علم ہے بسطتہ سے مراد زیادتی اور فضیلت ہے افرغ سے مراد اتارنا ولا یو
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ اگر تم سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو۔ کی تفسیر کا بیان
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ اگر قرضدار نادار اور غریب ہو تو قرض خواہ کو لازم ہے کہ ذرا توقف کرے تاکہ وہ ادائیگی کے قابل ہو سکے اور اگر تم معاف کر دو تو اچھا ہے اگر تم جانتے ہو۔
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ اللہ کے راستہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں مت پڑو اور احسان کرو، اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے، تہلکہ اور ہلاکت کے ایک ہی معنی ہیں یعنی ہلاکت بربادی۔
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ ان نبیوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت بخشی تھی اے رسول انکی ہدایت کی پیروی کرو۔
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ ان یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنا لیا ہے کی تفسیر کا بیان
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ صاف نظر آئے تم کو دھاری سفید صبح کی جداد ھاری سے سیاہ سے پھر پورا کرو روزے کو رات تک اور نہ ملو عورتوں سے جب تک کہ تم معتکف ہو مسجدوں میں یہ حدیں ہیں اللہ کی سو ان کے نزدیک نہ جاؤ اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ اپنی آیات لوگوں کے لئے تاکہ وہ بچتے رہیں عاکف کے معنی ہیں اقامت
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ اے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کہہ دیجئے تورات کو لاؤ اور اس کو پڑھو اگر تم سچے ہو۔
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ تم کہو ہم اللہ پر ایمان لائے اور جو کچھ ہماری طرف نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے۔
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ عورتوں کے زبردستی وارث بن جاؤ الآیۃ ابن عباس کہتے ہیں لا تعضلوھن کے معنی ہیں ان پر جبرو قہرمت کرو حوبا کے معنی گناہ کے ہیں تعولوا کے معنی ایک طرف جھ جانا اور نحلہ کے معنی مہر کے ہیں ۔
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ جب تم نے عورتوں کو طلاق دی پھر پورا کر چکیں اپنی عدت کو تو اب نہ روکو ان کو اس سے کہ نکاح کر لیں اپنے انہی خاوندوں سے جبکہ آپس میں راضی ہو جائیں ۔
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ جس جگہ بھی آپ جائیں اپنا منہ نماز میں مسجد حرام یعنی کعبہ کی طرف کیجئے اور یہ بالکل حق ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں ہے۔ (اور) شطر کے معنی طرف کے ہیں ۔
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ پہنچانتے ہیں رسول کو جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بعض ان میں سے امر واقعی کو خوب جانتے ہیں اور اخفا کرتے ہیں لہذا تم شک کرنے والوں میں شمار نہ ہونا۔ کی تفسیر
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ حفاظت کرو نمازوں پر خصوصاً درمیانی نماز پر کی تفسیر کا بیان
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں پھر جو کوئی کعبہ کا طواف کرے یا عمرہ کا ارادہ کرے تو اگر کوئی ان دونوں کے درمیان سعی کرے (دوڑے) تو کوئی حرج نہیں ہے شعائر شعیرہ کی جمع ہے اس کے معنی ہیں نشانیاں علامتیں ابن عباس کہتے ہیں صفوان کا جو لفظ ہے اس کا مطلب ہے پتھر بعض کا قول ہے صفوان کے معنی چکنے پتھر کے ہیں اور اس کا واحد صفوانہ ہے جس طرح صفایہ بھی جمع ہے اور اس کا مفرد صفا ہے۔
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ ہر ایک کے لئے ایک قبلہ مقرر ہے جس کی طرف وہ منہ کرتا ہے سو تم نیک کاموں میں سبقت کرو تم جہاں کہیں ہو گے اللہ تم کو جمع فرما دے گا بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کی تفسیر
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ ہم بار بار تمہارے منہ کا آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں آخر تک
-
ارشاد باری تعالیٰ کہ یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ گھروں میں پشت کی طرف سے دیوار پھاند کر داخل ہوا جائے بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی پرہیزگاری کرے اور گھر میں دروازہ سے داخل ہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ فلاح پاؤ کی تفسیر۔
-
ارشاد خداوندی من کان عدوا لجبریل کی تفسیر، عکرمہ نے کہا کہ جبرغ، میک اور سرف کے معنی ہیں بندہ اور اہل بمعنی اللہ (یعنی تمام کے معنی ہیں اللہ کا بندہ) ۔
-
الله تعالیٰ کا قول که جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم واستبداد سے مخلوط نهیں کیا۔
-
الله تعالیٰ کا قول که غیب کے خزانے الله ہی کے پاس ہیں اور انکو سوائے خدا کے ‘کوئی نهیں جانتا۔
-
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ قسم ہے تیرے رب کی کہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے حتیٰ کہ آپس کے اختلاف میں تم کو حاکم نہ بنالیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ مگر کمزور آدمی عورتیں اور بچے جو کوئی بھی حیلہ نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی انہیں راستہ چلنے کی طاقت تھی (یعنی ان کا ٹھکانہ دوزخ نہیں ہے) ۔
-
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ وہ بہت سخت جھگڑالو ہے کی تفسیر کا بیان
-
اللہ تعالیٰ کا اس قول واذ قلنا ادخلوا ہذہ القریۃ فکلوا منھا حیث شئتم رغداً وادخلوا الباب سجدا وقولوا حطۃ نغفرلکم خطیکم وسنزید المحسنینکی تفسیر کا بیان رغداً کے معنی ہیں فراغت وسعت اور اچھی طرح کے۔
-
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پانی کھیتی میں جیسے چاہو آؤ مباشرت کرو لیکن اپنے لئے آگے کا خیال مد نظر رکھو۔
-
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ کسی کو اللہ کا شریک مت بناؤ حالانکہ تم جانتے ہو
-
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ آسمان اور زمین کی پیدائش میں آخر آیت تک کی تفسیر
-
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ اللہ سود کو مٹاتا ہے کی تفسیر
-
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ اے ایمان والو! تم پر قصاص فرض کیا گیا ہے مقتولین کے بارے میں آزاد کے بدلے آزاد عذاب الیم تک عفی کے معنی ہیں ترک یعنی معاف کیا گیا۔
-
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ بیوقوف لوگ جلدی کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس نے پرانے قبلہ کی طرف سے پھیر دیا اے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کہہ دیجئے کہ وہ قبلہ اور یہ قبلہ یعنی مشرق و مغرب سب اللہ کا ہے جسے چاہتا ہے ہدایت کی راہ بتاتا ہے کی تفسیر۔
-
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ جن عورتوں کے شوہر مر جائیں ان کو چاہئے کہ چار ماہ دس دن کی عدت پوری کریں اور جب عدت پوری ہو جائے آخر تک یعفون کے معنی ہیں کہ معاف کر دیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ حلال ہوا تم کو روزے کی رات میں بے حجاب ہونا اپنی عورتوں سے وہ پوشاک ہیں تمہاری اور تم پوشاک ہو ان کی اللہ کو معلوم ہے کہ تم خیانت کرتے تھے اپنی جانوں سے سو معاف کیا تم کو اور درگذر کیا تم سے پھر ملو تم اپنی عورتوں سے اور طلب کرو جو لکھ دیا اللہ نے تمہارے لئے۔
-
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ وہ لوگ آدمیوں سے لپٹ کر نہیں سوال کرتے ہیں الحاف الحاء اور احفاء کا مطلب یہ ہے کہ لپٹ کر کوشش سے مانگے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول المن و السلوی یعنی تر نجبین اور بٹیر یں
-
اللہ تعالیٰ کا قول جو لوگ معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے خوش ہوئے اور یہ بات اچھی سمجھی کہ ہماری بھی ان کے ساتھ تعریف کی جائے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول مگر وہ لوگ جو تائب ہو کر ایمان لے آئے اور نیک عمل کئے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو برائیوں کی جگہ نیکیاں عطا فرمائے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول که ’’ ہم نے یونس لوط اور تمام انبیاء کو تمام عالم پر فضیلت بخشی ہے۔ ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ (کافروں نے کہا) اے اللہ اگر یہ قرآن تیری طرف سے حق ہے تو پھر ہم پر آسمانوں سے پتھر برسایا ہمیں سخت عذاب دے ابن عیینہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں مطر سے عذاب ہی مراد لیا ہے غیث کے معنی باران رحمت کے ہیں جیسا کہ عرب کہتے ہیں اور اس آیت میں بھی ہے وینزل الغیث من بعد ما قنطوا ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ آپ اپنی بیویوں سے جسے چاہیں اور جب تک چاہیں علیحدہ رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جن کو الگ رکھا تھا اگر پسند کریں تو ان کو بھی طلب کریں آپ پر کوئی گناہ نہیں ابن عباس کہتے ہیں کہ"ترجی" ڈھیل دے " ارجہ" اسی سے ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ آپ اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا آپ لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ آپ ان کے لئے دعا مغفرت کریں یا نہ کریں اگر ستر بار بھی دعا کریں تو بھی اللہ نہیں بخشے گا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ آپ سے کلالہ کے متعلق پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے کہ اگر کوئی آدمی مر جائے اور اس کے اولاد نہ ہو صرف ایک بہن ہو تو اس کے مال کا نصف حصہ بہن کا ہے اور وہ اپنی بہن کا وارث ہے اگر بہن کے اولاد نہ ہو کلالہ کہتے ہیں جس کے باپ اور بیٹا نہ ہو یہ لفظ تکللہ النسب سے نکلا ہے یعنی نسب سے اس کے دونوں کنارے خراب کر دیئے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ آپ فرما دیجئے کہ حق آیا اور باطل گیا بیشک باطل تو جانے ہی کی چیز ہے زہق کے معنی ہیں ہلاک ہوا نابود ہوا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے فواحشات کو حرام کیا ہے کھلے ہوں یا چھپے
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ مخمصۃ کے معنی ہیں بھوک
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اب اللہ نے تم پر تخفیف کر دی اور جان لیا ہے کہ تم میں کچھ کمزوری پیدا ہوگئی ہے و اللہ مع الصابرین تک۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنی نماز نہ تو بالکل ہی زور سے پڑھو اور نہ بالکل آہستہ بلکہ درمیانی آواز سے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرایئے واخفض جناحک کے معنی ہیں کہ تم ان سے مہربانی سے پیش آؤ ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنے گھروں میں بیٹھ رہنے والے مومن اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے کی تفسیر کا بیان
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنے گھروں میں بیٹھ رہنے والے مومن اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے کی تفسیر کا بیان
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اس پاکیزہ درخت کی طرح جس کی جڑیں مضبوط اور جمی ہوئی ہوں اور اس کی شاخیں آسمان میں ہوں اور وہ اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ پھل لاتا ہو۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اسی طرح بنایا ہم نے تم کو امت وسط۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اسی طرح جب تمہارا رب ظالموں کی بستیاں پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ درد ناک اور سخت ہوتی ہے الرفد المرفود یعنی مدد جو کہ دی جائے عربوں کا مقولہ ہے کہ رفدتہ میں نے اس کی مدد کی رکنوا کا مطلب ہے جھکو مائل ہو جاؤ فلو کان کیوں نہ ہوئے اترفوا ہلاک کئے گئے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ زفیر کے معنی ہیں آواز خطرناک اور شھیق کے معنی ہیں ہلکی آواز ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان اہل کتاب کے پاس جملہ دلائل اور نشانیاں پیش کریں جب بھی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کو نہ مانیں گے آخر تک کی تفسیر
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر اللہ فضل اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تم پر نہ ہوتی تو تم پر سخت عذاب ہوتا اس چیز کے بدلہ میں جس میں تم پڑ گئے تھے مجاہد کہتے ہیں کہ تلقونہ کے معنی ہیں کہ تم ایک دوسرے سے نقل کرنے لگے تفیضون تم کہتے تھے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تم اللہ رسول اور آخرت کو پسند کرو تو اللہ نے تم میں سے نیک بیویوں کے لئے بڑا ثواب مقرر کر رکھا ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ واذکرن ما یلی فی بیوتکن من آیات اللہ والحکمۃ الخ میں آیات سے مراد قرآن اور الحکمۃ سے مراد سنت رسول ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تم بارش کی تکلیف سے یا مرض کی وجہ سے یا کسی زخم کی وجہ سے ہتھیار اتار کر رکھ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت کر کے آئے یا عورت سے مباشرت کی ہو صعیدا کے معنی ہیں سطح زمین، جابر کہتے ہیں کہ طاغوت وہ لوگ ہیں جن کے پاس کافر اپنے مقدمات لے جایا کرتے تھے زمانہ جاہلیت میں ہر قبیلہ میں ایک کاہن ہوتا تھا جن کے قبضہ میں شیطان بھی ہوتے تھے ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبت کے معنی جادو کے ہیں اور طاغوت سے مراد کاہن ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تم ڈرو کہ یتیم عورتوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تم کسی چیز کو چھپاؤ گے یا ظاہر کرو گے تو اللہ تعالیٰ کو تو سب کچھ معلوم ہے ان عورتوں پر اولاد ماں باپ اور بھائی بھتیجوں اور بھانجوں اور دوسری کل عورتوں اور لونڈیوں سے پردہ نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ان کو چاہئے کہ اللہ سے ڈرتی رہیں کیونکہ ہر چیز خدا کے سامنے ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تم کو سفر میں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو ۔ تیمموا کے معنی قصد اور ارادہ کے ہیں ۃآئین کے معنی قصد کرنے والے اممت اور تیمت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ لامستم اور تمسوھن اور دخلتمب بھن اور افضا ان سب کے معنی مباشرت (جماع) کے ہیں
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو معاف کردے تو تو غالب اور دانا ہے ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تجھ پر اپنی نعمت تمام کرنا چاہتا ہے جس طرح تیرے باپ یعقوب اور دادا ابراہیم و اسحق پر پوری کی ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک کہ آپ ان میں ہیں اور اللہ انہیں عذاب نہیں کرے گا کہ وہ استغفار کرتے رہتے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تعالیٰ تم کو تمہاری بیکار قسموں پر گرفت نہیں فرمائے گا
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تعالیٰ ذرہ بھر بھی ظلم پسند نہیں کرتا ہے مثقال کا مطلب وزن ہوتا ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی خلق اللہ سے مراد اللہ کا دین ہے جیسے خلق الاولین سے مراد دین الاولین ہے۔ فطرت سے مراد اسلام ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تمہارے لئے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ ایسا کام اب کبھی مت کرنا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھاتی ہے اور جو رحم کم کرتے ہیں غیغ کم ہوا گھٹایا کم کیا گیا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ نے ان تین آدمیوں پر بھی مہربانی فرمائی جو پیچھے رہ گئے تھے یہاں تک کہ زمین باوجود فراخ ہونے کے تنگ ہوگئی تھی اور ان کے اپنی جانیں باجھ معلوم ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ سوائے اللہ کے اور کہیں پناہ نہ ملے گی تو اللہ نے ان پر مہربانی کی تاکہ وہ اپنی توبہ پر قائم رہیں بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ نے بحیرہ سائبہ وصیلہ اور حام کو جائز نہیں رکھا ہے کی تفسیر اذقال اللہ الخ میں یقول کے معنی مستقبل کے لئے ہیں اور اذ زائد ہے مائدہ میں مائدہ اسم فاعل بمعنی مفعول ہے جیسے راضیۃ ( عیشۃ راضیۃ) اس میں مرضیتہ کے معنی مراد ہیں اور بائنہ بھی بمعنی مفعول ہے ابن عباس کہتے ہیں کہ متوفیک کے معنی ہیں میں تجھ کو موت دینے والا ہوں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے مس کا مطلب ہے دیوانگی اور جنوں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ نے مہر بانی فرمائی نبی پر اور مہاجرین وانصار پر جنہوں نے نبی کی مشکل اور پریشانی کے وقت میں بھی پیروی کی حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑ ھے ہو جانے والے تھے پھر اللہ نے ان پر اپنی مہربانی فرمائی بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ کے آگے ادب کے ساتھ کھڑے ہوقانتین کے معنی ہیں فرمانبردار ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ کے نزدیک اس کی کتاب میں زمین و آسمان کی پیدائش کے دن سے مہینوں کی گنتی بارہ ہے ان سے چار مہینے حرمت والے ہیں قیم کے معنی قائم مستقیم یعنی درست اور سیدھے کے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ کے نزدیک حیوانوں سے بھی وہ لوگ برے ہیں جو گونگے اور بہرے ہیں اور عقل نہیں رکھتے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان سے لڑتے رہو حتیٰ کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین خالص اللہ کا ہو جاوے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اس چیز میں کو انہوں نےء کھا پی لی و اللہ یحب المحسنین تک۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو دکھ پہنچایا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری دنیا اچھی بنا دے اور آخرت بھی اچھی بنا دے اور ہم کو دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھ کی تفسیر
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان کو (متبنیٰ) ان کے باپوں کے نام سے پکارو۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ انسان اکثر چیزوں میں جھگڑا کرنے والا ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ انہیں حسرت کے دن سے ڈرائیے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اور تم میں سے بعض کو نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم کو پچھلی جماعت میں بلاتا ہے اخری مونث ہے آخر کی ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم دو نیکیوں میں سے کسی ایک کے منتظر رہو ایک فتح اور دوسرے شہادت۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اور قتل کرو تم ان کو یہاں تک کہ فتنہ و فساد کا خاتمہ ہو جائے اور دین خالص اللہ کا غالب ہو اور زیادتی مت کرو مگر ظالموں پر کی تفسیر۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اور کہیں گے گواہ کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر دورغ بانی کی تھی خبردار ہو جاؤ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ظالموں پر اشھد شاہد کی جمع ہے جس طرح صاحب کی جمع اصحاب ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ایایمان والو! جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال کر دیا ہے اسے حرام مت ٹھہراؤ
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ایسی باتیں مت پوچھو جن کے ظاہر ہونے سے تم کو رنج ہو۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے اللہ میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان سے بچانے کیلئے تیری پناہ مانگتی ہوں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی طرف آؤ جب وہ تمہیں تمہاری اصلاح کے لئے بلائیں اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوتا ہے اور بیشک تم سب اسی کی طرف جمع کئے جاؤ گے استجیبوا کے معنی قبول کرو یحییکم تم کو زندہ کرے یصلحکم تمہاری اصلاح کرے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے رسو ل! پہنچا دیجئے جو آپ کے اوپر آپ کے رب نے نازل کیا ہے ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے رسول دن کے اول و آخر حصوں میں اور رات کے وقت زیادہ نماز پڑھا کرو بیشک نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ یاد رکھنے والوں کے لے ایک یاد گار ہے زلفا کے معنی ساعت بساعت اور اسی سے ہے مزدلفہ کہ لوگ وہاں رات کی ساعتوں میں آتے ہیں زلف کے معنی ہیں منزل اور زلفی کا مطلب ہے قریب ازدلفوا کے معنی ہیں جمع ہو گئے ازلفنا کے معنی ہم نے جمع کیا اور یہ متعدی ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے رسول لوگ آپ سے عورتوں کی میراث کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دو اللہ اس بارے میں حکم دیتا ہے اور جو چیز تم پر کتاب الٰہی میں یتیم عورتوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے رسول! آپ سے مال غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ مال غنیمت ( کی تقسیم) اللہ اور رسول کےء ہاتھ ہے اور تم اللہسے ڈرو اور آپس میں صلح کرو ابن عباس کہتے ہیں کہ انفال سے لوٹ کا مال مراد ہے قتادہ کہتے ہیں ریحکم سے لڑائی مراد ہے نافلۃ کے معنی عطیہ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے رسول! جو خواب ہم نے تم کو دکھایا تھا اسے ہم نے لوگوں کے لئے باعث امتحان بنایا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے رسول! عفو کو اختیار کرو اور اچھی باتوں کا حکم دو اور جاہلوں سے چشم پوشی کرو عرف کے معنی ہیں معروف یعنی اچھا کام ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے لوگو ! میں تمہاری سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اس اللہ کی طرف سے جس کی حکومت زمین اور آسمان میں ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا ہے وہی مارتا ہے تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر جو امی ہیں اور اللہ اور اسکی باتوں پر یقین رکھتے ہیں اس کی اطاعت کرو تاکہ تم سیدھا راستہ پاؤ ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے مسلمانو! تم نبی کے گھر میں مت جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے بلایا جائے اور تم کو اس کے پکنے کا بھی انتظار نہیں کرنا چاہئے اور جب بلایا جائے جاؤ اور کھانے کے بعد باتوں میں دل لگا کر مت بیٹھے رہا کرو تمہارا یہ عمل نبی کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے اور وہ شرم کرتے ہیں مگر اللہ سچی بات کہنے سے نہیں شرماتا اور جب ان سے کچھ طلب کرو تو پردے کی آڑ سے مانگو یہ بات تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کا سبب ہے تمہارا یہ کام نہیں کہ نبی کو تکلیف دو اور ان کی بیویوں سے کبھی نکاح مت کرنا بے شک تمہارا یہ عمل خدا کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے " اناہ" کے معنی کھانا تیار ہونے کے میں یہ لفظ " انا، یانی، اناۃ" سے بنا ہے "لعل الساعۃ تکون قریبا " شاید قیامت عنقریب ہو جائے اگر قریبا کو ساعۃ کی صفت قرار دیا جائے تو قریۃ ہونا چاہئے اور اگر ظرف و بدل مانیں تو تائے تانیث کو ہٹا کر قریبا پڑھیں گے۔ ایسی حالت میں یہ واحد تثنیہ جمع سب ہی کے لئے ہوگا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے مشرکو! تم چار ماہ ذیقعدہ ذی الحجہ محرم اور (صفر) چین سے ملک میں چلو پھرو اور یاد رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکتے اور تعالیٰ کافروں کو ذلیل فرمائے گا فسیحوا کا مطلب ہے چلو پھرو۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے نبی اپنی ازواج سے کہہ دیجئے کہ اگر تم دنیا کا عیش اور اس کی بہار پسند کرتی ہو تو آؤ میں تمہیں مال دے کر خوشی سے رخصت کر دوں تبرج کے معنی بناؤ سنگھار دکھانا سنۃ اللہ استنہا اپنا طریقہ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے نبی! مسلمانوں کو کافروں سے لڑنے کی ترغیب دلائیے اگر تم بیس ثابت قدم ہو گئے تو تم دو سو (کافروں) پر غالب رہو گے اور اگر تم سو ثابت قدم ہو گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب رہو گے اس لئے کہ وہ کافر سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے ہمارے رب جس کو تو نے آگ میں داخل کیا بے شک وہ ذلیل ہو گیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے ہمارے رب ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو کار ساز بنالیتے ہیں انداداً ند کی جمع ہے اور ند کے معنی ہیں مقابل یا ہمسر یا شریک
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک حضرت یوسف اور ان کے برادر ان کے قصہ میں دریافت کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تم کو سات دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبی پر اے ایمان والو! تم بھی درود و رحمت اور سلام بھیجا کرو اور سلامتی کی دعا کیا کرو ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ صلوۃ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے پاس ان کی تعریف کرتے ہیں فرشتوں کی صلوۃ سے دعا مراد ہے ابن عباس کہتے ہیں کہ "یصلون" برکت کی دعا کرتے ہیں "لنغرینک" غالب کریں گے ہم تم کو ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ بے شک حجر والوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ پانچویں مرتبہ تہمت لگانے والا یہ کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ پر امن یعنی اونگھ نازل فرمائی۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیا حال ہوگا جب کہ ہم ہر فرقہ پر ایک ایک گواہ بنائیں گے اور اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو ان کا گواہ بنائیں گے مختال اور ختال کے ایک ہی معنی ہیں یعنی مغرور نطمس وجوھا کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کو مٹادیں اور سعیرا کے معنی ایندھن کے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ پیغمبر کو اور ایمانداروں کو مشرکین کے لئے استغفار نہ کرینی چاہئے ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تالیف قلب کے لئے بھی خرچ کرنا چاہئے مجاہد کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تالیف قلوب کے لئے مال خرچ کرتے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تجھ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تحقیق آیاتمہارے پاس رسول تم ہی میں سے کہ اس پر تمہاری تکلیف دشوار گزرتی ہے اور وہ تمہاری بھلائی کا حریص ہے اہل ایمان پر نہایت مہربانی اور رحم کرنے والا ہے روف رافہ سے بنا بمعنی بہت مہربان ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم اپنے گواہوں کو بلؤ یا لے آؤ۔ الخ
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم ان لوگوں سے اپنی بہت برائیاں سنو گے جن کو کہ تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور ان سے بھی جو کافرو مشرک ہیں کی تفسیر۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں کی تفسیر۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی اصلاح کے لئے پیدا کئے گئے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم کفار کے سرغنوں سے خوب لڑو کیونکہ ان کے معاہدوں کا کوئی اعتبار اور بھروسہ نہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی محبوب شے کو اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرو گے آخر آیت تک۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تمہارے اختیار میں کچھ نہیں ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تمہارے لئے نصف ہے جو تمہاری بیویوں نے چھوڑا ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تمہیں کیا ہے؟ کہ تم خدا کے راستہ میں نہیں لڑتے الظالم اھلھا تک کی تفسیر
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ثابت قدم رکھتا ہے اللہ ان ایمان والوں کو جو پکی بات کہتے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب ترکہ کی تقسیم کرنے کے وقت رشتہ دار یتیم اور مساکین حاضر ہو جائیں الآیۃ
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب تم اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے کہ جس کا تم کو ذرا بھی علم نہ تھا اور تم اس بات کو معمولی بات جانتے تھے حالانکہ وہ بات اللہ کے نزدیک بہت سخت تھی۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب تم پھر کر ان کے پاس جاؤ گے تو وہ بہانے کریں گے اور حلف اٹھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کر پس تم بھی درگزر کرنا کیونکہ وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے یہ ان کے کاموں کی سزاہے ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دیا تھا۔ کی تفسیر۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب تم نے اس بات کو سنا تھا تو مومن مردوں اور عورتوں نے آپس میں یہ گمان کیوں کیا اور یہ کیوں نہ کہا کہ یہ تو کھلا ہوا جھوٹ ہے یہ لوگ اپنے اس قول پر چار گواہ کیوں نہ لائے اور اگر یہ لوگ گواہ نہ لا سکیں تو خدا کے نزدیک یہی جھوٹے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب تم نے اس جھوٹی بات کو سنا تو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم بات کا یقین کس طرح کر لیں اور کیسے زبان پر لائیں معاذ اللہ! یہ تو کھلا جھوٹ ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب حضرت یوسف کے پاس بادشاہ کا آدمی آیا اور کہا کہ تم قید سے رہا ہوتے ہو یوسف نے کہا کہ پہلے ان عورتوں کے حالات بادشاہ سے معلوم کرو جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے میرا پروردگار ان کے فریب کو اچھی طرح جانتا ہے حاشا للہ وہ بالکل بے قصور ہے حاش تنزیہہ اور استثناء کے لئے بھی آتا ہے حصحص واضح ہو گیا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب غار میں دو میں سے ایک آپ تھے معنا کے معنی ناصرنا یعنی اللہ ہمارا مدد گار ہے سکینتہ بروزن فیلہ بمعنی سکون و اطمینان۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کہ میں اسی طرح چلتا رہوں گا جب تک دو دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں یا زمانہ تک اسی طرح چلتا رہوں گا حقبا زمانہ دراز احقاب اس کی جمع ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ وہاں سے آگے بڑھے تو اپنے ساتھی سے کہا کہ کھانا لاؤ ہم کو اس سفر سے تکان معلوم ہوتی ہے۔ "عجباً" تک "صنعا " کے معنی عمل "حولا " پھر جانا بدلنا ہٹنا۔ (قال ذلک ما کنا نبغ فارتدا علی اثارھما قصصا) " امرا و نکرا " دونوں کے ایک ہی معنی ہیں یعنی برا کام "ینقض" بمعنی گر جائے گی "لتخذت اور اتخذت" دونوں کے ایک ہی معنی ہوتے ہیں مشدد اور مخفف دونوں طرح معنی ایک ہی ہوں گے" رحما " رحم سے بنا ہے معنی ہیں بہت زیادہ رحم اور ہمدردی بعض اس کو "رحیم" سے مشتق کہتے ہیں مکہ کو " ام رحمتہ" کہتے ہیں کیونکہ رحمت وہاں نازل ہوتی ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ ہمارے بتائے ہوئے وقت پر آئے اور انکے رب نے ان سے باتیں کیں تو انہوں نے کہا اے میرے رب مجھے قوت دے کہ میں تیری طرف دیکھوں اللہ نے کہا تم دیکھ نہ سکو گے مگر پہاڑ کو دیکھو اگر اپنی جگہ قائم رہا تو شاید تو مجھے دیکھ سکے تو جب اللہ نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے جب افاقہ ہوا تو کہنے لگے تو پاک ہے میں توبہ کرتا ہوں اور پہلا ایمان والا ہوں ابن عباس کہتے ہیں کہ ارنی سے مراد ہے مجھے اپنے دیدار سے عزت عطاکر۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب وہ مجمع البحرین پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے اور مچھلی نے دریا میں اپنے چلنے کا نشان کر دیا سربا چلنے کا نشانیسرب کے معنی راستہ کے آتے ہیں سا رب بالنھار اسی سے نکلا ہے یعنی دن میں راستے چلے والا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب ہم کسی آیت کو منسوخ کر تے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کے مثل حکم دیتے ہیں کی تفسیر کا بیان
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے امیروں کو حکم دیتے ہیں آخر تک۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جس جگہ سے لوگ واپس لوٹیں اسی جگہ سے تم بھی لوٹ جاؤ۔ کی تفسیر
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جس دن جمع کردہ چاندی اور سونا دوزخ میں تپایا جائے گا اور پھر اس سے ان کے پہلو اور پیشانی اور پشتیں داغی جائیں گی اور ان سے کہا جائے گا یہ ہے وہ سرمایہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا لو اب اس مال کا ذائقہ چکھو۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جس قبلہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رہ چکے ہیں وہ تو اس لئے تھا کہ ہم کو معلوم ہو جائے کہ کون رسول کا اتباع کرتا ہے اور کون پیچھے ہٹتا جاتا ہے اور یہ قبلہ کا بدلنا لوگوں پر بڑا ثقیل ہے مگر جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی ہے اللہ ایسے نہیں ہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کر دیں اور واقعی اللہ تو ایسے لوگوں پر بہت ہی شفیق اور مہربان ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے وہ تم کو دوبارہ لو ٹنے کی جگہ واپس لے آئے گا ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جس وقت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرے رب مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے؟
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جن مردوں کا انتقال ہوجائے اور بیویاں چھوڑ جائیں کی تفسیر کا بیان
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کر رکھا تھا اب ان کو اللہ و رسول کی طرف سے صاف جواب دے دو ابن عباس کہتے ہیں کہ اذن یہ ہے کہ کسی کی بات سن کر اسے سچا جان لے تطھرھم وتزکیھم کے ایک ہی معنی ہیں کہ پاک کرتا ہے زکوۃ کے معنی اخلاص اور اطاعت کے ہیں لا یوتون الزکاۃ یعنی کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کی تصدیق نہیں کرتے یضاھن کے معنی ہیں ایسی باتیں کرتے ہیں جیسے اگلے کافر بناتے تھے
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جن کو مشرک پکار رہے ہیں وہ خدا کے یہاں وسیلہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو تم کو ملاقات کے وقت السلام علیکم کہے اسے یہ مت کہو کہ تو مومن نہیں ہے اور سلم سلم اور سلام سب کے ایک ہی معنی ہیں یعنی سلامتی ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو شخص رمضان کو پائے وہ پورے مہینے کے روزے رکھے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو شخص عمرہ کے بعد حج کا احرام باندھے کی تفسیر کا بیان
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو شخص فقیر ہو تو وہ اس (یتیم) کے مال میں سے اتنا جس قدر اس نے اس کی پرورش پر خرچ کیا ہو لے سکتا ہے ہیں اور جب ان کو مال دینے لگو تو ان پر گواہ کرلو الآیتہ بدارا کے معنی جلدی جلدی اعتدنا ہم نے تیار کر رکھا ہے یہ عتاد سے نکلا ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو عورت اپنے خاوند کے لڑنے یا منہ پھیرنے سے ڈرے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ شقاق کا معنی فساد اور جنگ ہے شح کا مطلب حرص اور خواہش نفسانی ہے اور کالمعلقۃ کا مطلب ہے کہ بیچ میں لٹکی ہوئی گویا نہ بیوہ نہ شوہر والی اور نشوزا کا مطلب ہے ناراضگی خفگی اور بغض وغیرہ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ اس عہد کے بدلہ میں جو اللہ سے کیا ہے اور اپنی قسموں کے بدلہ میں رقم حاصل کرتے ہیں انکے لئے کوئی حصہ نہیں یعنی آخرت میں ان کے لئے کوئی بھلائی نہیں الیم کے معنی دکھ دینے والا جیسے مولم یہ فعیل بمعنی مفعل ہے ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو اٹھتے بیٹھتے اور کروٹیں بدلتے یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی پیدائش میں اللہ کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور خون نہیں کرتے جو اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو بھی ایسا کریگا عذاب میں پڑے گا " اثاما " کے معنی عذاب عقوبت۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور خون نہیں کرتے جو اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو بھی ایسا کریگا عذاب میں پڑے گا اثاما کے معنی عذاب عقوبت۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ تم میں مالدار اور وسعت والے ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں محتاجوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نفقہ نہیں دیں گے انہیں معافی اور درگزر سے کام لینا چاہئے کیا تم یہ نہیں جانتے کہ اللہ تم کو بخش دے اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ خیرات کرنے والے مومنین کو طعنہ دیتے ہیں یلمزون کے معنی عیب لگاتے ہیں جھدھم اور جھدھم کے معنی ہیں کہ اپنی کوشش اور طاقت کے موافق ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے رہتے ہیں اور اسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے تو آپ ان کو درد ناک عذاب کی بشارت سنا دیجئے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ قیامت کے دن منہ کے بل دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ مکان و مرتبہ میں برے ہیں اور راستے سے گمراہ ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ یہودی ہوگئے ہم نے ان پر ناخن والے جانور حرام کردیے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو کسی مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا اس کی سزایہ ہے کہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جہنوں نے اللہ اور اس کے رسول کا کہنا نہیں مانا اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کی ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کئے جاہیں یا سولی دیئے جائیں یا ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں یا جلاوطن کئے جائیں محاربہ کے معنی کفر ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ چند مقررہ دنوں کے روزے فرض کئے گئے ہیں پھر جو کوئی تم سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں رکھ لے اور جن کو طاقت ہے روزہ کی ان کے ذمہ بدلہ ہے ایک فقیر کا کھانا پھر جو خوشی سے نیکی کرے تو اس کے لئے اچھا ہے اور روزہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو عطاء کا کہنا ہے کہ ہر بیماری میں روزہ چھوڑ سکتے ہیں جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے حسن بصری اور ابراہیم کہتے ہیں کہ اگر کسی دودھ پلانے والی یا حاملہ کو اپنی جان یا بچہ کی جان جانے کا اندیشہ ہو تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے پھر بعد میں قضا کرے اور بہت ضعیف یعنی شیخ کبیر اگر روزہ نہ رکھ سکے تو اسے چاہئے کہ فدیہ ادا کرے حضرت انس رضی اللہ عنہ جب بہت بوڑھے ہو گئے اور روزہ کی طاقت نہ رہی تو سال یا دو سال آپ نے روزہ نہیں رکھا اور بطور فدیہ ہر روز ایک مسکین کو گوشت روٹی کھلاتے رہے اس آیت میں سب لوگوں نے یطیقونہ پڑھا ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ حج اکبر کے دن لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے دست بردار ہیں تم اگر تم باز آ جاؤ تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم پھر جاؤ تو جان لو کہ تم اللہ کو ہر انہیں سکتے اور اے پیمبر تم کافروں کو درد ناک عذاب کی خبر دے دیجئے اذنھم کے معنی ہیں ان کو اطلاع دیدیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ حج کے زمانہ میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ کی تفسیر
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ خداداد مال میں جو لوگ کنجوسی کرتے ہیں تم ان کی کنجوسی کو ان کے لئے اچھا مت سمجھو آخر تک کی تفسیر سیطوقون کا مطلب یہ ہے کہ ان کے گلے میں طوق ڈالا جائے گا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ دوسرے وہ لوگ ہیں جو اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوئے اور انہوں نے اپنا نیک کام برے کام سے ملالیا قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ دیکھو یہ اپنے سینوں کو دہرا کرتے ہیں تاکہ اللہ سے راز کی باتیں چھپا لیں سن لو! اللہ تعالیٰ تم کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہو جب بھی تمہاری تمام پوشیدہ باتیں جانتا ہے اور وہ دلوں کے بھیدوں کو جاننے والا ہے دوسروں لوگوں نے کہا کہ حاق کے معنی گھیرلیا اور نزل کے معنی اترا ہے یوس بروزن فعول بمعنی نا امید مجاہد نے کہا فلا تیئس کے معنی ہیں افسوس مت کرو یثنون صدورھم کا مطلب ہے کہ سینوں کو دہرا کرتے ہیں لیستخفو منہ یعنی اگر ممکن ہو تو اللہ تعالیٰ سے چھپا لیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ رسول اس چیز پر ایمان لایا کہ جو اللہ کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے اصرا کے معنی عہد اور میثاق کے ہیں غفرانک اور مغفرتک کے ایک ہی معنی ہیں یعنی مغفرت۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ زیادہ کرتا ہے ان کے لئے عذاب اور اس میں ہمیشہ ذلیل رہیں گے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ شراب جوا اور بت اور فال کے تیر سب ناپاک اور شیطانی کام ہیں ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ ازلام سے مراد فال کھولنے کے تیر ہیں جن سے کہ قسمت کا حال معلوم کیا کرتے تھے اور نصب سے تھان مراد ہیں جن پر کافر لوگ قربانیاں کیا کرتے تھے دوسرے لوگوں نے کہا کہ ازلام زلم کی جمع ہے زلم کہتے ہیں بے پر کی تیر کا پھر انا مراد ہے اگر منع کی فال نکلتی تو وہ کام نہ کرتے اور اگر حکم کی فال نکلتی تو اس کام کو کرتے ان تیروں پر مشرکوں نے قسم قسم کی تصویریں بنا رکھی تھیں جن سے اپنی اپنی قسمت کا حال دریافت کیا کرتے تھے استقسام کے معنی کو متکلم کے صیغہ میں لے جاؤ تو کہیں گے قسمت اور قسوم مصدر ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ شراب، جوا اور بت اور فال کے تیر سب ناپاک اور شیطانی کام ہیں ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ ازلام سے مراد فال کھولنے کے تیر ہیں جن سے کہ قسمت کا حال معلوم کیا کرتے تھے اور نصب سے تھان مراد ہیں جن پر کافر لوگ قربانیاں کیا کرتے تھے دوسرے لوگوں نے کہا کہ ازلام زلم کی جمع ہے زلم کہتے ہیں بے پر کے تیر کا پھر انا مراد ہے اگر منع کی فال نکلتی تو وہ کام نہ کرتے اور اگر حکم کی فال نکلتی تو اس کام کو کرتے ان تیروں پر مشرکوں نے قسم قسم کی تصویریں بنا رکھی تھیں جن سے اپنی اپنی قسمت کا حال دریافت کیا کرتے تھے استقسام کے معنی کو متکلم کے صیغہ میں لے جاؤ تو کہیں گے قسمت اور قسوم مصدر ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ عنقریب تمہارا یہ عمل وبال ہوجائے گا "لزاما " کے معنی ہیں ہلاکت۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ فاذنو بحرب من اللہ کی تفسیر
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ قرآن فجر کا حاضر کیا گیا ہے۔ مجاہد کا بیان ہے کہ قرآن فجر سے مراد صبح کی نماز ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ قریب ہے اللہ تعالیٰ کہ انہیں معاف کر دے اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ قریب ہے کہ تمہارا رب تم کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ لوگ تمہارے لئے جمع ہوئے کی تفسیر۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ مت شرک کر اللہ کے ساتھ بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ مت قریب جاؤ فحش چیزوں کے جو ظاہر ہیں اور جو باطن ہیں
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ مسلمان عورتوں کو چاہئے کہ اپنے سینوں پر اوڑھنیاں ڈالے رہا کریں احمد بن شبیب ان کے والد یونس ابن شہاب عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان عورتوں پر رحم کرے جنہوں نے پہلی ہجرت کی تھی جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہیں (تاکہ سینہ وغیرہ نظر نہ آئے) تو انہوں نے اپنی چادریں پھاڑ کر اوڑھنیاں بنا لیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ مگر وہ (شیطان) جو باتوں کو چراتا ہے پاس اس کے پیچھے آگ کے شعلے لگتے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ منافقین دوزخ کے نیچے کے طبقہ میں رہیں گے ابن عباس کہتے ہیں یعنی دوزخ کے نیچے کی آگ نفقا سرنگ اور زمین دوز راستہ کو کہتے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ مومنوں میں ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو کہہ دیا اس میں پورے اترے اور بعض وقت کے منتظر ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی "نحبہ" اس کا عہد " اقطارھا " کناروں سے لاتوھا قبول کر لیں اس کو ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ میں ان کا گواہ تھا جب تک میں ان میں تھا اور جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان کا نگہبان اور گواہ تو ہے اور تو ہر چیز کو دیکھتا ہے
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ وظللنا علیکم الغمام وانزلنا علیکم المن والسلوی کلوا من طیبات ما رزقنکم وما ظلمونا ولکن کانوا انفسھم یظلموناس آیت کی تفسیر میں مجاہد کا بیان ہے کہ من ایک درخت کا گوند ہے (جسے ترنجبین کہتے ہیں) اور سلویٰ ایک پرندے کا نام ہے (جسے بٹیر کہتے ہیں) ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ وہ لوگ ان کے ساتھ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا نبیوں سے آخر تک کی تفسیر
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ وہ لوگ جن کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہیں جس حالت میں یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوں گے تو فرشتے پوچھیں گے کہ تم کس حال میں تھے ؟ یہ کہیں گے کہ ہم زمین میں کمزور تھے وہ جواب دیں گے کہ کیا تمہیں کوئی اور جگہ نہ ملی وہاں تم ہجرت کر کے چلے جاتے ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ وہ لوگ جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے مقتسمین سے وہ کافر مراد ہیں جنہوں نے رات حضرت صالح علیہ السلام کے مار ڈالنے کی قسم کھائی تھی مقتسمین کے معنی حلف اٹھانے والے لا اقسم کے معنی میں ہے اور لا زائد ہے مجاہد کہتے ہیں کہ تقاسموا کے معنی تحالفوا یعنی انہوں نے حلف اٹھایا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ڈرتے رہو اس دن سے جس دن اللہ کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔ کی تفسیر
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ کہدو ! کیا میں تمہیں وہ لوگ بتا دوں جو عمل کے اعتبار سے خسارا اور گھاٹے میں رہتے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ کہہ دو تم ان کو بلاؤ جن کو تم نے خدا کے سوا معبود بنایا ہے نہ وہ تم سے اس عذاب کو دور کر سکیں گے اور نہ تمہاری حالت کو بدل سکیں گے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ کہہ دیجئے اے اہل کتاب آؤ ایک کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ اللہ کے سوائے کسی کی بندگی نہ کریں گے ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ کیا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا الم تر کیف میں ہے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا یا الم تر الی الذین کے معنی ہوتے ہیں بوارع کے معنی ہلاکت بار یبور سے بنائے قوما بورا ہلاک ہونے والے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کا ایک باغ ہوآخر تک کی تفسیر
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم بغیر کچھ عمل کئے جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ وقت نہیں آیا جو پہلے لوگوں پر آیا تھا انہیں سختیاں اور اذیتیں برداشت کرنا پڑیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہر بات کا بدلہ اس کے مثل لیا جائیگا
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہر وہ چیز جو ماں باپ نے یا رشتہ داروں نے اور شوہروں نے چھوڑی ہے ہم نے اس کے وارث مقرر کئے ہیں ۔ موالی سے مراد اس کے اولیاء اور وارث ہیں عاقدت سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو بذریعہ قسم اپنا وارث بناتے یعنی حلیف اور مولی کے کئی معنی آئے ہیں چچا کا بیٹا غلام یا لونڈی کا مالک جو اس پر احسان کر کے اسے آزاد کر دے خود وہ غلام جو آزاد کیا جائے مالک دینی تعلق جس سے ہو۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں آسکتے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم لکھتے ہیں جو وہ کہتا ہے اور روز حساب اسے زیادہ عذاب دیں گے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی جس طرح نوح علیہ السلام اور دوسرے نبیوں کی طرف آخر آیت تک
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم کو معاف کر دیجئے
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ یہ ان کی نسل ہے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا بیشک وہ شکر گزار بندے تھے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ یہ تم نے اپنے لئے ایک حیلہ بنایا ہے سولت کے معنی اچھا بنا کر دکھانا ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ یہ رسول وہ ہیں جو تم کو آنے والے قیامت کے عذاب سے ڈراتے ہیں ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا اور اس کی ملاقات سے انکار کیا پس ان کے تمام اعمال اکارت گئے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ یہاں تک کہ جب رسول اللہ نا امید ہو گئے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اس عورت نے اپنے گھر میں یوسف کو فریب دیا جبکہ وہ اس کے گھر میں تھے اس نے دروازے بند کر لئے اور یوسف کو بلایا ہیت کے معنی آ جاؤ یہ عکرمہ نے کہا ہے سعید بھی یہی کہتے ہیں ہیت حورانی زبان کا لفظ ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اس عورت نے اپنے گھر میں یوسف کو فریب دیا جبکہ وہ اس کے گھر میں تھے اس نے دروازے بند کر لئے اور یوسف کو بلایا ہیت کے معنی آجاؤ یہ عکرمہ نے کہا ہے سعید بھی یہی کہتے ہیں ہیت حورانی زبان کا لفظ ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ مجھے رسوانہ کیجئے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے
-
اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ مگر جن مشرکوں سے تم نے صلح کا عہد کر رکھا تھا۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا اوپر والے جواب دیتے ہیں حق بات اور وہی بلند وبرتر اور اعلیٰ ہے ۔
-
اللہ تعالیٰ کا قول، کہ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ اس بات پر قادر ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بیان کہ آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے ۔
-
اللہ کا قول کہ اپنے حاکموں کی اطاعت کرو یعنی جو صاحب امر ہے ۔
-
اللہ کا قول کہ اللہ تعالیٰ کا تخت (حکومت) پانی پر ہے۔
-
اللہ کا قول کہ اے موسیٰ میں نے تجھے اپنے لئے بنایا ہے۔
-
اللہ کا قول کہ پانچویں مرتبہ عورت اس طرح کہے کہ الزام و تہمت لگانے والا اگر سچا ہو تو میرے اوپر خدا کی لعنت ہو۔
-
اللہ کا قول کہ جس طرح ہم نے پہلے پیدا کیا۔
-
اللہ کا قول کہ جن لوگوں نے یہ جھوٹ برپا کیا ہے وہ تم میں سے ایک گروہ ہے ان کی اسی تہمت کو اپنے حق میں برا مت جانو بلکہ وہ تمہارے لئے مفید ہے اور ان جھوٹ بولنے والوں میں سے ہر ایک کو ان کے گناہ کے موافق سزا ملے گی آخر آیت تک افاک جھوٹا۔
-
اللہ کا قول کہ جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں مگر ان کے سوا ان کا کوئی گواہ نہ ہو تو ان میں سے ایک کی گواہی یہ ہونی چاہئے کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر چار مرتبہ یہ کہدے کہ میں سچا ہوں اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔
-
اللہ کا قول کہ روز محشر وہ تم کو اس طرح نظر آئیں گے جیسے مدہوش اور نشہ میں بد مست ہیں ۔
-
اللہ کا قول کہ لکھ لیتے ہیں ہم اس کو جو کہتا ہے اور وہ ہمارے پاس تنہا آئے گا ابن عباس کہتے ہیں ہدا کے معنی گرجانا دھماکے سے اور ہدما کے معنی منہدم ہو کر گرنا۔
-
اللہ کا قول کہ ملزمہ سے اس طرح سزا ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہدے کہ اس کا شوہر کا ذب ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ اگر وہ سچا ہو تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔
-
اللہ کا قول کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی عبادت حالت تذبذب میں کیا کرتے ہیں اس طرح کہ اگر انہیں کچھ نفع ہو تو مطئمن ہو جاتے ہیں اور اگر کچھ نقصان ہو تو دین سے پھر جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان ہے اترفناھم ہم نے ان کی روزی زیادہ کی ہے۔
-
اللہ کا قول کہ کہیں شیطان تم کو جنت سے نہ نکلوا دے۔
-
اللہ کا قول کہ کیا آپ نے دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے انکار کیا اور کہا کہ مجھے وہاں بھی مال و اولاد ملے گا۔
-
اللہ کا قول کہ کیا وہ غیب پر مطلع ہو گیا یا اس نے اللہ سے کوئی عہد کرالیا ہے۔"عہداً" کے معنی مضبوط قرار ہے۔
-
اللہ کا قول کہ ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا فرعون اور اس کی فوج نے سر کشی کے طور پر ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا اس ایک معبود پر جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں ننجیک کے معنی ہیں کہ ہم تیری لاش کو اونچی جگہ پر رکھ دیں گے تاکہ لوگوں کو دیکھ کر عبرت حاصل ہو۔
-
اللہ کا قول کہ ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ تم ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا دو اور کوئی خوف و اندیشہ مت کرو فرعون نے اپنے لشکر سمیت انکا پیچھا کیا پھر انہیں دریا کی لہروں نے ڈھانک لیا اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کر کے ہدایت سے ہٹا لیا۔
-
اللہ کا قول کہ یہ دو گروہ ہیں جو اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔
-
تفسیر سورت احقاف اور مجاہد نے کہا تفیضون بمعنی تقولون (تم کہتے ہو) اور بعض نے کہا کہ اثرۃ اثرۃ سے مراد بقیہ علم ہے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ماکنت بدعا من الرسل سے مراد ہے کہ میں سب سے پہلا رسول نہیں ہوں اور دوسروں نے کہا کہ اراتیم میں ہمزہ استفہام وعید کے طور پرہے یعنی جو تم کہتے ہو اگر وہ صحیح ہے تو وہ عبادت کئے جانے کا مستحق ہے اور اراتیم سے آنکھ کا دیکھنا مقصود نہیں ہے بلکہ اس سے مراد علم ہے یعنی کیا تم جانتے ہو کیا تمہیں خبر ملی ہے اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو انہوں نے کوئی چیز پیداکی ہے ؟ (آیت) اور جس نے اپنے والدین سے کہا اف ہے تمہارے لئے کیا تم مجھے اس بات سے ڈراتے ہو کہ میں دوبارہ نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذرگئیں اور وہ اس کے ان کلمات سے پناہ مانگتے ہیں ۔ (آخر آیت تک)
-
تفسیر سورت اذا السماء انشقت ! مجاہد نے کہا کہ کتابہ بشمالہ سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی کتاب اپنی پیٹھ کے پیچھے سے لے گا وسق جانوروں کو جمع کر لیتی ہے ظن ان لن یحور اس نے گمان کیا کہ ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آئے گا۔
-
تفسیر سورت اذا جاء نصر اللہ!
-
تفسیر سورت اقتربت الساعۃمجاہد نے کہا مستمر بمعنے گزر جانے والا مزدجر بمعنے حد کو پہنچنے والا وازدجر دیوانہ مشہور کیا گیا دسر کشتیوں کی میخیں لمن کان کفر اس کا بدلہ لینے کے لئے جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا محتضر پانی کے پاس حاضر ہوتے تھے اور ابن جبیر نے کہا مھطعین سے مراد تیز دوڑنے والے خبب تیز چال چلنا اور دوسروں نے کہا فتعاطی اپنے ساتھ سے اس پر وعار کیا پھر ذبح کیا المحتظر درخت کی جلی ہوئی باڑ ازدجر باب افتعال سے ہے زجر سے مشتق ہے کفر ہم نے اس کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو کیا وہ اس بدلہ میں جو حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا گیا تھا مستقر عذاب حق اشر بمعنی اترانا اور شیخی کرنا ہے۔
-
تفسیر سورت الدخان اور مجاہد نے کہا رھوا سے مراد ہے خشک راستہ علی العالمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان کے سامنے تھے فاعتلوہ اس کو دھکے دو وزوجناھم بحور عین ہم ان کا نکاح بڑی آنکھوں والی حوروں سے کریں گے جنہیں دیکھ کر آنکھیں حیرت زدہ ہو جائیں گے ترجمون سے مراد قتل کرنا ہے اور رھوا بمعنی ساکنا ٹھہرا ہوا ہے اور ابن عباس نے کہا کہا کالمھل سے مراد ہے ایسا کالا جو تیل کی تلچھٹ کی طرح ہو اور دوسروں نے کہا کہ تبع سے مراد ملکوک یمن ہیں ان میں سے ہر ایک کو تبع کہا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اپنے ساتھی کے بعد آتا ہے اور سایہ کو بھی تبع کہتے ہیں اس لئے کہ وہ سورج کے بعد آتا ہے اور سایہ کو بھی تبع کہتے ہیں اس لئے کہ وہ سورج کے بعد آتا ہے یوم تاتی السماء بدخان مبین جس دن آسمان کھلا ہوا دھواں لے کر آئے گا قتادہ نے کہا کہ فارتقب سے مراد ہے فانتظر انتظار کر۔
-
تفسیر سورت الذین کفروا (محمد) اوزارھا ان کے گناہ یہاں تک کہ سوائے مسلم کے کوئی باقی نہ رہے گا عرفھا اس کو بیان ہے اور مجاہد نے کہا کہ مولی الذین امنوا سے مراد ان کا ولی ہے عزم الامر پختہ ارادہ کرنا فلا تھنوا تم کمزور اور سست نہ ہو جاؤ اور ابن عباس نے کہا کہ اضانھم سے مراد ان کا حسد ہے اسن بمعنی بدلنے والا۔ (آیت) اور تم اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو۔
-
تفسیر سورت الذین کفروا (محمد) اوزارھا ان کے گناہ یہاں تک کہ سوائے نمسلم کے کوئی باقی نہ رہے گا عرفھا اس کو بیان ہے اور مجاہد نے کہا کہ مولی الذین امنوا سے مراد ان کا ولی ہے عزم الامر پختہ ارادہ کرنا فلا تھنوا تم کمزور اور سست نہ ہو جاؤ اور ابن عباس نے کہا کہ اضانھم سے مراد ان کا حسد ہے اسن بمعنی بدلنے والا۔ (آیت) اور تم اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو۔
-
تفسیر سورت الرحمن! واقیمو الوزن سے مراد ترازو کی ڈنڈی ہے "عصف" کچی کھیتی کو کہتے ہیں جب کہ پختہ ہونے سے پہلے اس میں سے کچھ کاٹ لیا جائے تو یہ عصف ہے "والریحان" بمعنے روزی اور وہ دانہ جو کھایا جاتا ہے اور ریحان عربوں کے کلام میں رزق کو کہتے ہیں اور بعضوں نے کہا کہ عصف سے مراد وہ دانے ہیں جو کھائے گئے اور ریحان اس پختہ دانے کو کہتے ہیں جو نہیں کھائے گئے اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ عصف گیہوں کے پتوں کو کہتے ہیں اور ضحاک نے کہا عصف بمعنی سوکھی گھاس ہے ابومالک نے کہا عصف اس کو کہتے ہیں جو سب سے پہلے اگے نبطی زبان میں اس کو ھبود کہتے ہیں اور مجاہد نے کہا عصف بمعنی گیہوں کا پتہ ہے اور ریحان بمعنی رزق ہے "مارج" زرد اور سبز شعلے جو آگ سلگائے جانے پر بلند ہوتے ہیں اور بعض نے مجاہد سے نقل کیا کہ "رب المشرقین" سے مراد جاڑے میں آفتاب کے طلوع ہونے کی جگہ اور گرمی میں آفتاب کے طلوع ہونے کی جگہ ہے " رب المغربین" جاڑے میں آفتاب غروب ہونے کی جگہ اور گرمیوں میں اس کے غروب ہونے کی جگہ "لایبغیان" دونوں ملتے نہیں ہیں "منشات" وہ جہاز جن کے باد بان بلند کئے گئے ہوں اور جن کے بادبان بلند نہیں کئے گئے ہیں منشات نہیں ہیں اور مجاہد نے کہا نحاس سے مراد وہ تانبا جو پگھلا کر اس کے سروں پر ڈالا جائے گا اور ہو اس سے عذاب کئے جائیں گے خاف مقام ربہ کسی گناہ کا قصد کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اس کا ارادہ ترک کر دیتا ہے شواظ آگ کے شعلے مدھامتان گہرے سبز مائل بسیاہی وطین وہ مٹی جس میں ریت ملی ہو پس وہ کھنکھناتی ہے جس طرح ٹھیکری کھنکھناتی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں سڑا ہوا اس سے صل مراد لیتے ہیں صلصال بولا جاتا ہے جس طرح دروازہ بند کونے کے وقت بولتے ہیں صرالباب اور صرصر اس کی مثال ایسی ہے جیسے کببۃ بول کر کبکبۃ مراد لیتے ہیں فاکھۃ ونخل ورمان بعضوں نے کہا کہ رمان اور نخل ( انار کھجور) فواکہ میں سے نہیں ہے لیکن عرب اس کو فا کہہ شمار کرتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول کہ تمام نمازوں اور وسطی نماز کی حفاظت کرو تو اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کی نگہداشت کا حکم دیا پھر نماز وسطی کا دوبارہ تذکرہ کیا صرف اس کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے اسی طرح نخل اور رمان کا تذکرہ دوبارہ کیا اور اسی کی مثل یہ آیت ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں اور اکثر لوگ اللہ کو سجدہ کرتے ہیں پھر فرمایا کہ اور بہت سے لوگ ان پر عذاب ثابت ہو چکا ہے۔ من فی السموت ومن فی الارض کے ضمن میں تمام لوگوں کو ذکر ہو چکا ہے۔ لیکن کثیر من الناس علیحدہ کہا افنان سے مراد شاخیں ہیں وجنی الجنتین دان وہ پھل جو چنا جائے گا قریب ہوگا حسن نے کہا فبای الاء میں الاء سے مراد اس کی نعمتیں ہیں اور قتادہ نے کہا ربکما میں کما کا مرجع جن و انس ہیں اور ابوالدرداء نے کہا کل یوم ھو فی شان گناہ کو بخشتا ہے مصیبت کو دور کرتا ہے ایک قوم کو بلند کرتا ہے دوسری کو پست کرتا ہے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا برزخ سے مراد حاجز وروکنے والا ہے الانام خلق نضاختان جوش مارنے والے ذوالجلال عظمت والا اور دوسروں نے کہا مارج خالص آگ (جس میں دھواں نہ ہو) مرج الامیر رعیتہ اس وقت بولتے ہیں جب امیر ان کے درمیان تخلیہ کرا دے اس حال میں کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کی غرض سے دوڑے پڑتے ہوں مرج امر الناس لوگوں کا معاملہ مشتبہ ہو گیا مریج ملا ہوا مرج دو دریاؤں کو ملایا مرجعت (اب تک تو نے اپنے جانور چھوڑ دیئے) سے ماخوذ ہے سنفرغ لکم عنقریب ہم تمہارا محاسبہ کریں گے اس کو کوئی چیز کسی چیز کی طرف سے مشغول نہیں رکھ سکتی یہ اصطلاح کلام عرب میں مشہور ہے کہا جاتا ہے لاتفرغن لک میں تیرے لئے فارغ ہوں گا حالانکہ اسے کوئی کام نہیں کہتا ہے تیری غفلت پر تیرا مواخذہ کروں گا (آیت) ومن دونھما جنتان الخ۔
-
تفسیر سورت الصافات اور مجاہد نے کہا "ویقذفون' بالغیب من مکان بعید میں مکان بعید سے مراد ہے ہر جگہ سے اور یقدفون من کل جانب میں یقدفون کے معنی ہیں وہ پھینکے جاتے ہیں واصب کے معنی ہمیشہ "لازب" بمعنی لازم "تا تو تناعن الیمین" میں الیمین سے مراد حق ہے یہ الفاظ کفار شیطان سے کہیں گے " غول" سے مراد پیٹ کی تکلیف ہے " یزفون" انکی عقلیں زائل نہ ہونگی " قرین" سے مراد شیطان ہے یھرعون تیز دوڑتے ہونگے یزفون تیز رفتاری سے چلتے ہونگے وبین الجنۃ نسباکفار قریش نے کہا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور انکی مائیں سردار جنوں کی بیٹیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنوں کو معلوم ہے کہ وہ حاضرکئے جائیں گے اور ابن عباس نے کہا کہ لنحن الصافون میں صافون سے فرشتے مراد ہیں اور صراط الجحیم سے مراد سوار الجحیم اور وسط الجحیم یعنی دوزخ کا درمیانی حصہ ہے لشوبا یعنی ان کے کھانے میں آمیزش ہوگی اور گرم پانی ملایا جائے گا مدحوار بھگایا ہوا ابیض مکنون سے مراد چھپا ہوا موتی ہے وترکنا علیۃ فی الاخرین سے مراد یہ ہے کہ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے یستسخرون وہ مذاق کرتے ہیں بعلا سے مراد ربا ہے یعنی سردار اور بیشک یونس علیہ السلام پیغمبر سے تھے ۔
-
تفسیر سورت الطلاق اور مجاہد نے کہا کہ وہاں " امر ہا " سے مراد اس کام کا بدلہ ہے۔
-
تفسیر سورت الطور اور قتادہ نے کہا کہ مسطور بمعنی لکھا ہوا اور مجاہد نے کہا کہ طور ایرانی زبان میں پہاڑی کو کہتے ہیں رق منشور کتاب سقف المرفوع آسمان المسجور بھڑکایا ہوا اور حسن نے کہا کہ وہ بھڑکے گا یہاں تک کہ اس کا پانی خشک ہو جائے گا اور اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا اور مجاہد نے کہا کہ التناھم ہم نے کم کیا اور دوسروں نے کہا کہ تمور گھومے گا احلامھم ان کی عقلین ابن عباس نے کہا کہ البر بمعنی مہربان کسفا بمعنی ٹکڑے المنون بمعنی موت اور بعض نے کہا کہ یتنازعون سے مراد ہے ایک دوسرے کو دیں گے۔
-
تفسیر سورت الفتح اور مجاہد نے کہا کہ سیماھم فی وجوھہم میں سیما سے مراد چہرے کی نرمی اور ہئیت اور منصور نے بواسطہ مجاہد نقل کیا کہ اس سے مراد تواضع ہے شطأہ اپنی سوئی اپنی کلی فاستغلظ موٹا ہوا۔ سوق ساق کی جمع یعنی شاخ جو درختوں کو اٹھانے والی ہو اور دائرۃ السوء رجل السوء کی طرح ہے یعنی بری گردش دائر السوء سے مراد عذاب ہے تعزروہ تم اس کی مدد کرو شطہ بالی کا پٹھا کہ ایک دانہ سے دس آٹھ یا سات بالیان اگتی ہیں چنانچہ ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ فازرہ یعنی اس کو تقویت پہنچائی اور اگر وہ ایک ہوئی تو شاخ پر قائم نہ رہ سکتی یہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے اس لئے کہ آپ تنہا نکلے پھر آپ کے اصحاب کے ذریعہ آپ کو قوت پہنچائی جس طرح ایک دانہ کو اس کے ذریعہ قوت بہم پہنچاتا ہے۔ جو اس سے اگتی ہے۔ (آیت) بے شک ہم نے فتح دی آپ کو ظاہر فتح۔
-
تفسیر سورت المؤمن۔
-
تفسیر سورت بینہ "منفکین" دور ہونے والے قیمۃ قائم ہونے والا دین القیمتہ دین کو مونث کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔
-
تفسیر سورت تبت یدا ابی لہب وتب! تباب بمعنے خسران اور تتیب بمعنے تدمیر (ہلاک کر دینا) ہے۔
-
تفسیر سورت تحریم! اے نبی کیوں اپنی بیویوں کی رضاء جوئی کے لئے اس چیز کو اپنے اوپر حرام کرتے ہو جسے اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
-
تفسیر سورت جاثیہ "جاثیہ" گھٹنوں کے بل بیٹھنے والا اور مجاہد نے کہا "نستنسخ" کے معنی ہیں ہم لکھتے ہیں ننساکم ہم تمہیں چھوڑ دیں گے ۔ (آیت) اور ہمیں زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔
-
تفسیر سورت جمعہ (آیت) اور دوسرے جو ہنوزان میں شامل نہیں ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فاسعوا الی ذکر اللہ کے بجائے فامضوا الی ذکر اللہ پڑھا ہے۔
-
تفسیر سورت جنابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا لبدا سے مراد اعوان یعنی مدد گار ہے۔
-
تفسیر سورت حجرات اور مجاہد نے کہا کہ لا تقدموا سے مراد یہ ہے کہ فتویٰ یا جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سبقت نہ کیا کرو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نہ کہلوا دے امتحن خالص کر دیا ہے تنابزوا اسلام لانے کے بعد کافر نہ کہو یلتکم کم کر دے گا التبنا ہم نے کم کر دیا۔ (آیت) آپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو الخ تشعرون بمعنی تعلمون (تم جانتے ہو) اور شاعری اسی سے ماخوذ ہے۔
-
تفسیر سورت حشر! جلاء کے معنی ایک ملک سے دوسرے ملک میں نکال دینا۔
-
تفسیر سورت حشر! جلاءکے معنی ایک ملک سے دوسرے ملک میں نکال دینا۔
-
تفسیر سورت حم السجدہ!طاوس نے ابن عباس سے نقل کیا کہ ائتیا طوعا بمعنی اعطیا یعنی تم دونوں قالتا اتینا طائعین میں اتینا سے مراد اعطینا یعنی ہم نے دیا ہے اور منہال نے سعید سے نقل کیا انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ابن عباس سے کہا میں قرآن میں ایسی باتیں پاتا ہوں جو مجھ کو ایک دوسرے کے خلاف معلوم ہوتی ہیں اس دن ان کے درمیان رشتے ناطے نہیں ہوں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے اور ایک دوسرے پر متوجہ ہو کر آپس میں سوال کریں گے اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپائیں گے اور اے ہمارے رب ہم مشرک نہ تھے (ان آیات میں اختلاف ظاہر ہے) اور آیت ام السماء بناھا الخ میں آسمان کی پیدائش کو زمین کی پیدائش سے قبل بیان کیا پھر اللہ نے ائنکم لتکفرون بالذی الخ میں زمین کی پیدائش کو آسمان کی پیدائش کے بعد بتایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا وکان اللہ غفورا رحیما عزیزا حکیما سمیعا بصیرا (یعنی اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان تھا زبردست حکمت والا تھا سننے والا دیکھنے والا تھا) گویا پہلے (ان صفات سے متصف) تھا جو گزر چکا اب نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ فلا انساب بینھم کا تعلق نفحہ اولیٰ سے ہے تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں بے ہوش ہو جائیں گے بجز ان کے جن کو اللہ چاہے تو اس وقت ان کے درمیان نہ تو رشتے ناطے ہوں گے اور نہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے پھر دوسری بار پھونکے جانے پر ان میں سے بعض بعض سے سوال کریں گے اور اللہ تعالیٰ کا قول ما کنا مشرکین اور لا یکتمون اللہ الخ کی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اخلاص والوں کے گناہ بخش دے گا اور مشرکین کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے تو ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ وغیرہ بولیں گے اس وقت معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپائی نہیں جا سکتی اور زمین کو دو دن میں پیدا کیا پھر آسمان کو پیدا کیا پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کو دو دنوں میں برابر کیا پھر زمین کو بچھایا اور زمین کا بچھانا یہ ہے کہ اس سے پانی اور چرنے کی جگہ نکالی پہاڑ اور ٹیلے وغیرہ اور جو کچھ آسمان اور زمین کے درمیان ہے دوسرے دو دنوں میں پیدا کی اللہ تعالیٰ کے قول دحاھا کا یہی مطلب ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول کہ زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا اس کی صورت یہ ہے کہ زمین کو اور اس کے اندر کی تمام چیزوں کو چار دنوں میں پیدا کیا اور آسمان دو دنوں میں پیدا کئے گئے یعنی پہلے زمین کی تخلیق ہوئی اس کے بعد آسمان کی پھر زمین کی آبادی ہوئی لہذا آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے بعد اور زمین کی آبادی سے پہلے ہوئی باقی رہا کان اللہ غفورا رحیما تو اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ہی یہ رکھا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے اللہ تعالیٰ جس چیز کر بھی ارادہ کرتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے اس لئے قرآن میں تمہیں اختلاف نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ سارا کلام اللہ کی طرف سے ہے اور مجاہد نے کہا ممنون بمعنی محسوب (شمار کیا ہوا) ہے اقوتھا یعنی اس کی روزی ہے فی کل سماء امرھا یعنی وہ کام جس کا اللہ کی طرف سے حکما دیا گیا ہے نحسات نامبارک منحوس قیضنا لھم قرناء تتنزل علیھم الملائکۃ ہم نے ان کا ہم نشین مقرر کر دیا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں یعنی موت کے وقت اھتزت سر سبز ہوئی ربت بلند ہوئی دوسروں نے کہا کہ من اکمامھا سے یہ مراد ہے کہ جس وقت اپنے غلاف سے نکلتا ہے لیقولن ھذالی سے یہ مراد ہے کہ وہ کہیں گے کہ یہ میرے عمل کا بدلہ ہے اور میں اس کا سزا وار ہوں سواء للسائلین یعنی پوچھنے والوں کے لئے اس کا پورا اندازہ مقرر کیا فہدینا ہم سے مراد ہے کہ ہم نے اس کو بھلائی اور برائی کا راستہ بتا دیا جیسا کہ اللہ کا قول ھدیناہ النجدین اور ھدیناہ السبیل اور ہدایت کے معنی منزل مقصود کی طرف راہنمائی کے بھی ہیں اللہ کے قول اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ میں یہی مراد ہے یوزعون روکے جائیں گے من اکمامھا کم کی جمع ہے کلی کے اوپر کے چھلکے کو کہتے ہیں ولی حیمم قریبی دوست من محیص بھاگنے کی جگہ) حاص (بھاگا) سے مشتق ہے مریہ اور مریہ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی شک و شبہ اور مجاہد نے کہا اعملوا ماشئتم (جو چاہو کرو) وعید ہے اور ابن عباس نے کہا کہ التی ھی احسن سے مراد ہے غصہ کے وقت صبر کرنا اور برائی کے وقت معاف کرنا جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو محفوظ رکھے گا اور ان کے دشمن ان کے لئے نرم ہو جائیں گے گویا وہ قریبی دوست ہیں اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے کان تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھال گواہی دے گی بلکہ تم گمان کرتے تھے کہ اللہ تمہارے بہت کاموں کو نہیں جانتا ہے۔
-
تفسیر سورت حم زخرف اور مجاہد نے کہا کہ علی امۃ سے مراد علی امام ہے اور آیت وقیلہ یا رب کی تفسیر یہ ہے کہ کیا وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ ہم انکے بھید اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے اور نہ ان کی باتوں کو سنتے ہیں ؟ اور ابن عباس نے کہا کہ لو لا ان یکون الناس امۃ واحدۃ کی تفسیر یہ ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ کافر ہو جائیں گے تو کافروں کے لئے چاندی کی چھت اور چاندی کی سیڑھیاں اور چاندی کے تخت بنا دیتے مقرنین کے معنی ہیں طاقت رکھنے والے اسفونا انہوں نے ہم کو ناراض کر دیا ومن یعش جو شخص اندھا بنتا ہے اور مجاہد نے کہا کہ افنضرب عنکم الذکر صفحا یعنی کیا ہم نصیحت کرنے سے پہلو تہی کریں گے کہ تم قرآان کو جھٹلاتے ہو پھر کیا تم پر اس کا عذاب نہ ہوگا ؟ ومضی مثل الاولین یعنی پہلے لوگوں کا طریقہ گزر چکا مقرنین یعنی اونٹ گھوڑے خچر اور گدھوں کو تابع بنانے والے ینشاء فی الحلیۃ زیور میں جس کی نشوونما ہوئی یعنی لڑکیاں جنہیں تم اللہ کی اولاد کہتے ہو تم کیوں کر حکم لگاتے ہو لو شاء الرحمن ما عبدناھم اگر اللہ چاہتا تو ہم ان بتوں کی پرستش نہ کرتے ہم سے مراد بت ہیں اللہ فرماتا ہے ما لھم بذلک من علم (ان کو اس کا علم نہیں) میں لھم کی ضمیر اوثان کی طرف راجع ہے یعنی وہ بت نہیں جانتے فی عقبیہ سے مراد ہے اپنا لڑکا مقترنین ایک ساتھ چلتے ہیں سلفا سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کافروں سے پہلے گزری ہوئی قوم فرعون ہے اور مثلا سے مراد عبرت ہے یصدون چیختے ہیں مبرمون اتفاق کرنے والے اول العابدین سے اول المومنین مراد ہے یعنی سب سے پہلے ایمان لانے والے اننی براء مما تعبدون میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو عرب نحن منک البراء والخلاء (ہم تجھ سے بیزار اور علیحدہ ہیں) بولتے ہیں واحد تثنیہ جمع مذکر و مونث میں براء استعمال ہوتا ہے اس لئے کہ یہ مصدر ہے اور اگر بری کہا جائے تو تثنیہ میں برائیان اور جمع میں برئیوں کہا جائے گا اور عبداللہ نے اننی بری یا کے ساتھ قرات کی ہے زخرف کے معنی ہیں سونا ملائکتہ یخلفون کے معنی میں کہ وہ فرشتے ایک دوسرے کے خلیفہ ہوتے (آیت) اور وہ لوگ پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! چاہئے کہ تمہارا رب ہم کو موت دے دے الخ۔
-
تفسیر سورت حمٓ عٓسٓقٓ اور ابن عباس سے منقول ہے کہ عقیما سے مراد وہ عورت ہے جو بچہ نہ جنے روحا من امرنا سے مراد قرآن ہے اور مجاہد نے کہا یذرکم فیہ سے مراد یہ ہے کہ تم کو اس میں نسل در نسل بڑھاتا ہے لا حجۃ بینا ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں طرف خفی ذلیل جھکی ہوئی آنکھوں سے ان کے علاوہ دوسروں نے کہا فیظللن رواکد علی ظھرہ حرکت کرتی ہیں چلتی نہیں "شرعوا " نئی راہ نکالی آیت الا المودۃ فی القربی صرف قرابت کی محبت (کا خواہاں ہوں) ۔
-
تفسیر سورت زلزال(آیت) جس نے ذرہ برابر نیکی کی تو وہ اس کو دیکھ لے گا کہا جاتا ہے کہ اوحی لھا اوحی لھا وحی لھا وحی الیھا کے ایک ہی معنی ہیں ۔
-
تفسیر سورت زمر اور مجاہد نے کہا (افمن یتقی بوجہہ) کے معنی ہیں وہ جو اپنے چہرے کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح کیا وہ شخص جو آگ میں ڈال دیا جائے گا بہتر ہے یا وہ جو امن و سلامتی کے ساتھ آئیگا "ذی عوج" بمعنی لبس (متشبہ گڑبڑ) " ورجلا سلما لرجل" اس میں ان کے معبودان باطل اور معبود برحق کی مثال ہے یخوفونک بالذین من دونہ میں الذین من دونہ سے مراد بت ہیں خولنا ہم نے دیا والذی جاء بالصدق سے مراد قرآن اور صدق سے مراد مومن ہے جو قیامت کے دن آئے گا اور کہے گا کہ یہ وہ چیز ہے جو تو نے ہمیں دی اور ہم نے اس کے مطابق عمل کیا جو اس میں ہے متشاکسون شکس سخت کو جو انصاف پر رضا مندا نہ ہو رجلا سلما اور سالما سے مراد صالح ہے اشمازت نفرت کرنے لگے بماز تھم فوز سے مشتق ہے حافین چاروں طرف حلقہ باندھ کر گھوم رہے ہیں بحافیہ بجوانبہ (اس کے چاروں طرف) متشابھا اشتباہ سے ماخوذ نہیں ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تصدیق میں بعض کے مشابہ ہے (آیت) اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
-
تفسیر سورت سبح اسم ربک الا علیٰ !
-
تفسیر سورت صٓ
-
تفسیر سورت صف اور مجاہد نے کہا من انصاری الی اللہ کے معنی ہیں کون اللہ کے واسطے میری پیروی کرے گا اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مرصوص ایک حصہ دوسرے سے جڑا ہوا دوسروں نے کہا کہ سیسہ سے جڑا ہوا (آیت) میرے بعد جس کا نام احمد ہوگا۔
-
تفسیر سورت عبس ! عبس منہ بگاڑا اور روگردانی کی اور مطھرۃ سے مراد یہ ہے کہ اس کو صرف پاک لوگ یعنی فرشتے چھوتے ہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ فالمدبرات امرا کاموں کی تدبیر کر نے والے میں ملائکہ اور صحیفوں کو مطہرۃ قرار دیا ہے اس لئے کہ تطہیر صحیفوں پر واقع ہوتا ہے یعنی تطہیر صحیفوں کی صفت ہے تو اس کے اٹھانے والوں کی بھی صفت قرار دی گئی ہے سفرۃ سے مراد فرشتے ہیں واحد سافر ہے سفرت میں نے ان کے درمیان صلح کرادی اور فرشتے چونکہ وحی الہٰی لے کر نازل ہوتے ہیں اور اس کو پہنچاتے ہیں مثل سفیر کے ہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کراتے ہیں اور دوسروں نے کہا تصدی سے مراد یہ ہے کہ اس نے غفلت برتی اور مجاہد نے کہا لما یقض جس کا حکم دیا گیا اس کو کوئی پورا نہیں کرتا اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ترھقھا قترۃ اس کو سختی ڈھانک لے گی مسفرہ چمکنے والے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ بایدی سفرہ سفرۃ سے مرادلکھنے والے اور اسفار سے مراد کتابیں ہیں تلھی وہ مشغول ہو اکہا جاتا ہے کہ اسفار کا واحدسفر ہے ۔
-
تفسیر سورت علق! قتیبہ نے بواسطہ حماد یحییٰ بن عتیق حسن کا قول نقل کیا کہ مصحف میں سورت فاتحہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھو اور دو سورتوں کے درمیان خط کے طور پر (یعنی امتیاز کے لئے) ہو اور ماجد نے کہا کہ نادیہ سے مراد اس کا قبیلہ ہے زبانیہ بمعنے ملائکہ فرشتے ہیں اور کہا کہ رجعی بمعنے لوٹنا ہے لنسفعن کے معنی یہ ہیں کہ ہم ضرورت پکڑیں گے لنسفعن نون خفیفہ کے ساتھ ہے سفعت بیدہ بول کر مراد لیتے ہیں کہ میں نے پکڑا۔
-
تفسیر سورت عم یتسالون! مجاہد نے کہا کہ لایرجون حسابایعنی وہ اس سے نہیں ڈرتے ہیں لایملکون منہ خطاباوہ بغیر اس کی اجازت کے اس سے گفتگو نہیں کریں گے اور ابن عباس نے کہا کہ وھاجاسے مرادروشن ہے عطاء حسابا پوراپوابدلہ اعطانی احسبنی بول کریہ مراد لیتے ہیں کہ اس نے مجھ کو اتنا دیا جو کافی ہے (آیت) جس دن صور پھونکا جائے گا الخ ۔
-
تفسیر سورت ق
-
تفسیر سورت قل اعوذ برب الفلق! مجاہد نے کہا غاسق سے مراد رات ہے اذا وعقب مراد آفتاب کا غروب ہونا ہے ابین من فرق و فلق الصبح صبح کے نمو دار ہونے اور پھٹنے سے زیادہ واضح ہے فرق اور فلق کے ایک ہی معنی ہیں وقب جب ہر چیز میں داخل ہو گیا اور تاریکی پھیل گئی۔
-
تفسیر سورت قل اعوذ برب الناس اور ابن عباس نے وسو اس کی تفسیر میں منقول ہے کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو چھوتا ہے اگر اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے توبھاگ جاتا ہے اور اگر اللہ کا ذکر نہ کیا جائے تو اس کے قلب پر جم جاتا ہے۔
-
تفسیر سورت قل ہو اللہ احد! بعض کہتے ہیں کہ احد پر تنوین نہیں ہے اس سے مراد واحد ہے۔
-
تفسیر سورت قیامۃ(آیت) اس کے ساتھ زبان نہ ہلاؤ تاکہ جلد یاد ہو جائے اور ابن عباس نے کہا سدا بمعنی مہمل لیفجر امامہ سے مراد یہ ہے کہ عنقریب توبہ کروں عنقریب عمل کروں گا لا وزر بمعنے لا حصن کوئی بچاؤ کی صورت نہیں ہے۔
-
تفسیر سورت مدثر ابن عباس نے کہا عسیر بمعنے شدید سخت دشوار اور قسورہ کے معنی ہیں آدمیوں کا شور و غوغا اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس کا معنی شیر ہے اور ہر سخت چیز قسورہ ہے مسنتفرۃ خوفزدہ ہو کر بھاگنے والے۔
-
تفسیر سورت ممتحنہ اور مجاہد نے کہا کہ ولا تجعلنا فتنۃ کے معنی یہ ہیں کہ ہم کو ان کے ہاتھوں عذاب میں مبتلا نہ کر کہ وہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہیں تو ان پر یہ مصیبت نہ پہنچتی بعصم الکوافر اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا تھا کہ ان عورتوں کو جدا کر دیں جو حالت کفر میں مکہ میں رہ گئی تھیں ۔ (آیت) لاتتخذوا عدوی و عدوکم اولیائ
-
تفسیر سورت منافقون (آیت) وہ لوگ کہتے ہیں کہ بے شک تم اللہ کے رسول ہوا الخ
-
تفسیر سورت ن والقلم! اور قتادہ نے کہا "حرد" اپنے دل میں کوشش کرنا اور ابن عباس نے کہا "لضالون" ہم اپنے باغ کی جگہ بھول گئے اور دوسروں نے کہا ہے کہ "کالصریم" یعنی اس صبح کی طرح جو رات سے کٹ جاتی ہے اور وہ رات جو دن سے کٹ جاتی ہے نیز یہ چھوٹے چھوٹے ریگ کے تو دوں کو کہتے ہیں جو ریگ کے بڑے بڑے تو دوں سے کٹ گیا ہو اور صریم بمعنی مصروم بھی آتا ہے۔ جیسے قتیل اور مقتول (آیت) سخت خو ہے۔ اس کے علاوہ کمینہ ہے۔
-
تفسیر سورت نوح! " اطوارا " کبھی اس طرح اور کبھی اس طرح اور بولتے ہیں "عدا طورہ" یعنی وہ اپنے مرتبے سے تجاوز کر گیا اور کبار سے زیادہ مبالغہ ہے اور اسی طرح جمال جمیل ہے کہ اس میں مبالغہ زیادہ ہے اور کبار سے مراد کبیر ہے اور کبار تخفیف کے ساتھ بھی مستعمل ہے اور عرب رجل حسان وجمال حسان تخفیف کے ساتھ اور جمال تخفیف کے ساتھ بولتے ہیں ۔ دیارا سے ماخوذ ہے دوران سے فیعال کے وزن پر ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حی القیوم کے بجائے الحی القیام پڑھا اور یہ قمت سے ماخوذ ہے اور بعضوں نے کہا کہ دیارا سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص تبارا بمعنی ہلاکت اور ابن عباس نے کہا مدرا جو ایک دوسرے کے پیچھے آئے موسلا دھار وقارا سے مراد عظمت ہے۔
-
تفسیر سورت واقعہ! اور مجاہد نے کہا رجت بمعنی ہلائی جائے بست توڑے اور پیسے جائیں گے جس طرح ستو پیس کر باریک کیے جاتے ہیں المخضود جو بوجھ سے لدا ہوا ہو اور اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس میں کانٹا نہ ہو منضود کیلا عرب جو اپنے شوہروں سے محبت کرنے والی ہوں گی ثلثہ جماعت گروہ یحموم سیاہ دھواں یصرون ہمیشہ کرتے رہتے ہیں ھیم پیاسے اونٹ لمغرومون الزام دیئے گئے روح جنت اور خوش حالی ریحان رزق وننشاکم جس صورت میں ہم چاہیں پیدا کریں اور دوسروں نے کہا تفکھون تم تعجب کرتے ہو عربا مثقلہ ہے یعنی عین متحرک اور مضموم ہے اس کا واحد عروب ہے جیسے صبور اور صبر اہل مکہ اس کو عربہ اور اہل مدینہ غنجہ اور اہل عراق شکلہ کہتے ہیں اور کہا خافضۃ ایک قوم کو جہنم کی پستی میں لے جانے والی اور جنت کی طرف اوپر لے جانے والی موضونہ بنے ہوئے اسی سے وضین الناقتہ ماخوذ ہے اور کو ب وہ برتن ہے جس میں ٹونٹی اور دستہ نہ ہو اباریق وہ ہیں جن میں ٹوٹیاں اور دستے ہوں مسکوت بہتا ہوا فرش مرفوعہ ایک دوسرے کے اوپر بچھے ہوئے ہوں گے مترفین فائدہ اٹھانے والے ماتمنون نطفہ جو عورتوں کے رحم میں ٹپکاتے ہو للمقوین مسافروں کے لئے قی سے ماخوذ ہے۔ بمعنی چٹیل میدان بمواقع النجوم ستاروں کی جگہ یعنی قرآن کی محکم آیتوں کی قسم کھاتا ہوں اور بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد ستارے کے ڈوبنے کی جگہ ہے اور مواقع اور موقع موقع ایک ہی ہے مدھنون جھٹلانے والا ہیں جیسے لو یدھن فیدھنون میں ہے فسلام لک یعنی تجھ کو تسلیم کر لیا گیا ہے تو اصحاب یمین میں سے ہے اور اس میں ان کا لفظ نہیں لایا گیا ہے اور اس کی مثال یوں ہے جیسے تم کسی کو کہو انت مصدق مسافر عن قلیل یعنی تیری تصدیق کی جاتی ہے کہ تو عنقریب سفر کرنے والا ہے جب کہ اس نے خود کہا ہو کہ میں عنقریب سفر کرنے والا ہوں اور کبھی دعا کے طور پر بھی مستعمل ہوتا ہے جیسے فسقیا من الرجال (لوگ سیراب ہوں گے) اور سلام حالت رفع میں ہو تو دعا کے لئے ہوتا ہے تورون تم نکالتے ہو اور ریت بھڑکائی گئی لغوا باطل تاثیما جھوٹ۔ (آیت) وظل ممدود (اور پھیلا ہوا سایہ) ۔
-
تفسیر سورت والتین ! مجاہد نے کہا کہ، تین (انجیر) اور، زیتون، سے مراد ہے جسے لوگ کھاتے ہیں، فمایکذبک، کے معنی یہ بیان کئے جاتے ہیں کہ کوئی ہے جو تجھے جھٹلائے گا کہ لوگ اپنے اعمال کا بدلہ دئیے جائیں گے ؟ گویا یہ فرمایا کہ ثواب وعقاب کے متعلق کون شخص اسکی قدرت رکھتا ہے کہ تجھے جھٹلائے ۔
-
تفسیر سورت والشمّس وضحاہا اور مجاہد نے کہا بطغواھاسے مراد ہے اپنے گناہوں کے سبب اور لایخاف عقباھا کے معنی ہیں کہ وہ کسی سے بدلہ لینے سے نہیں ڈرتا ۔
-
تفسیر سورت والضحی مجاہد نے کہا، اذاسجی، جب برابر ہوجائے اور دوسروں نے کہا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب رات تاریک اور پرسکون ہوجائے، عائل، بچوں والا۔
-
تفسیر سورت واللیل اذا یغشی اور ابن عباس نے کہا کہ حسنی بمعنی خلف (ثواب) ہے اور مجاہد نے کہا تردی بمعنی مات (مرگیا) ہے اور تلظی بمعنی توہج (جوش مارتا) ہے اور عبیداللہ بن عمیرنے تتلظی پڑھا ہے ۔
-
تفسیر سورت والمرسلات اور مجاہد نے کہا جمالات بمعنی ڈوریاں ہیں ارکعو نماز پڑھو لا یصلون وہ نماز نہیں پڑھتے تھے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لا ینطقون اور و اللہ ربنا ما کنا مشرکین اور الیوم نختم کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ مختلف حالتوں میں ہوں گے کبھی تو وہ لوگ بولیں گے کبھی ان پر مہر لگائی جائے گی۔
-
تفسیر سورت والنازعات اور مجاہد نے کہا کہ آیۃ الکبری سے مراد حضرت موسیٰ کا عصا اور ان کا ہاتھ ہے اور کہا جاتا ہے کہ ناخرہ اور نخرکے ایک ہی معنی جیسے طامع اور طمع اور باخل وبخیل کے ایک معنی ہیں اور بعض نے کہا کہ نخرہ اور بض نے کہا کہ نخرہ کے معنے بوسیدہ اور باخرہ اس کھو کھلی ہڈی کو کہتے ہیں جس سے ہوا گذرے تو آواز پیدا ہو اور ابن عباس نے کہا کہ ایان مرسٰھا سے مراد ہے کہ کب اس کی انتہا کا وقت ہے اور مرسی السفینۃ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جہاں لنگر انداز ہوا۔
-
تفسیر سورت والنجم! اور مجاہد نے کہا ذومرۃ کے معنی ہیں قوت والا قاب قوسین دو کمانوں کے درمیان کا فاصلہ ضیزی ٹیڑھی واکدی اپنی بخشش روک لی رب الشعری شعری ایک ستارہ ہے جو زاء کے پیچھے طلوع ہونے والا الذی وفی جو کچھ اس پر فرض تھا اس کو پورا کیا ازفت الازفۃ قیامت قریب ہوئی سامدون برطمہ جو ایک کھیل ہے اور عکرمہ نے کہا کہ حمیری زبان میں اس کے معنی گانے کے ہیں اور ابراہیم نے کہا افتجادولونہ کیا تم اس سے جھگڑا کرتے ہو اور حسن نے افتمر رونہ پڑھا اس سے مراد یہ ہے کہ کیا تم انکار کرتے ہو مازاغ محمد کی نگاہ وما طغعی اور نہ اس سے آگے بڑھی جو اس نے دیکھی فتماروا جھٹلایا اور حسن نے کہا کہ اذا ھوی جب غائب ہونے لگے غروب ہونے لگے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اغنی واقنی دیا اور خوش ہو گیا۔
-
تفسیر سورت ویل للمطففین ! اور مجاہد نے کہا ران کے معنی گناہوں کا جم جانازنگ چڑھ جانا ہے ثوب بدلہ دیا گیا اور دوسروں نے کہا مطفف وہ ہے جو دوسروں کو پورابدلہ نہ دے ۔
-
تفسیر سورت کوثر ابن عباس نے کہا کہ شائنک بمعنی عدوک (تیرا دشمن) ہے۔
-
تفسیر سورت یٰسین اور مجاہد نے کہا کہ "فعززنا " کے معنی شددنا یعنی ہم نے قوت دی "یاحسرۃ علی العباد" افسوس ہے ان بندوں پر جنہوں نے رسولوں کا مذاق اڑایا " ان تدرک القمر" ان میں ایک کی روشنی دوسرے کی روشنی کو نہ چھپائے گی اور نہ ان کے لئے یہ مناسب ہے "سابق النھار" دونوں ایک دوسرے کو طلب کرتیہوئے آگے پیچھے دوڑتیہیں "نسلخ" ہم ان میں سے ایک کو دوسرے سے نکالتے ہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک چلتا رہتا ہے "من مثلہ" یعنی چوپائے کی طرح "فکھون" خوش و خرم "جند محضرون" حساب کے وقت فوج حاضر کی جائے گی عکرمہ سے منقول ہے کہ "مشحون" بھری ہوئی کو کہتے ہیں ابن عباس نے کہا کہ "طائر کم" سے مراد تمہاری مصیبتیں ہیں "ینسلون" باہر نکل پڑیں گے "مرقدنا " ہمارے نکلنے کی جگہ " احصیناہ" ہم نے اس کو محفوظ کر لیا اور "مکانتھم اور مکانھم" کے ایک ہی معنی ہیں اور سورج اپنے مقررہ راسۃ پر گردش کرتا ہے یہ اس کا مقرر کردہ انداز ہے جو قوی اور جاننے والا ہے ۔
-
غیر المغضوب علیھم ولا الضالین کی تفسیر کا بیان
-
مجاہد کہتے ہیں کہ محکمات سے حلال و حرام کی آیات مراد ہیں اور متشابہات سے وہ آیات جو ایک دوسرے سے ملتی ہوئی ہیں جیسے ومایضل بہ الا الفسقین یا جیسے ایجعل الرجس علی الذین لا یعقلون یا جیسے والذین اھتدو ازادھم ھدی کیونکہ ان سب کا مطلب یہ ہے کہ فاسق گمراہ ہوا کرتا ہے زیع شک ابتغاء الفتنۃ میں فتنہ کے معنی متشابہات کی پیروی کرنا ہے الراسخون فی العلم پکے علم والے جو کہیں گے کہ ایمان لائے ہم اللہ کی کتاب پر کیونکہ اس کا حکم اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔
-
یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔