تفاسیر کا بیان

- اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے مسلمانو! تم نبی کے گھر میں مت جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے بلایا جائے اور تم کو اس کے پکنے کا بھی انتظار نہیں کرنا چاہئے اور جب بلایا جائے جاؤ اور کھانے کے بعد باتوں میں دل لگا کر مت بیٹھے رہا کرو تمہارا یہ عمل نبی کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے اور وہ شرم کرتے ہیں مگر اللہ سچی بات کہنے سے نہیں شرماتا اور جب ان سے کچھ طلب کرو تو پردے کی آڑ سے مانگو یہ بات تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کا سبب ہے تمہارا یہ کام نہیں کہ نبی کو تکلیف دو اور ان کی بیویوں سے کبھی نکاح مت کرنا بے شک تمہارا یہ عمل خدا کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے " اناہ" کے معنی کھانا تیار ہونے کے میں یہ لفظ " انا، یانی، اناۃ" سے بنا ہے "لعل الساعۃ تکون قریبا " شاید قیامت عنقریب ہو جائے اگر قریبا کو ساعۃ کی صفت قرار دیا جائے تو قریۃ ہونا چاہئے اور اگر ظرف و بدل مانیں تو تائے تانیث کو ہٹا کر قریبا پڑھیں گے۔ ایسی حالت میں یہ واحد تثنیہ جمع سب ہی کے لئے ہوگا۔

- تفسیر سورت الرحمن! واقیمو الوزن سے مراد ترازو کی ڈنڈی ہے "عصف" کچی کھیتی کو کہتے ہیں جب کہ پختہ ہونے سے پہلے اس میں سے کچھ کاٹ لیا جائے تو یہ عصف ہے "والریحان" بمعنے روزی اور وہ دانہ جو کھایا جاتا ہے اور ریحان عربوں کے کلام میں رزق کو کہتے ہیں اور بعضوں نے کہا کہ عصف سے مراد وہ دانے ہیں جو کھائے گئے اور ریحان اس پختہ دانے کو کہتے ہیں جو نہیں کھائے گئے اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ عصف گیہوں کے پتوں کو کہتے ہیں اور ضحاک نے کہا عصف بمعنی سوکھی گھاس ہے ابومالک نے کہا عصف اس کو کہتے ہیں جو سب سے پہلے اگے نبطی زبان میں اس کو ھبود کہتے ہیں اور مجاہد نے کہا عصف بمعنی گیہوں کا پتہ ہے اور ریحان بمعنی رزق ہے "مارج" زرد اور سبز شعلے جو آگ سلگائے جانے پر بلند ہوتے ہیں اور بعض نے مجاہد سے نقل کیا کہ "رب المشرقین" سے مراد جاڑے میں آفتاب کے طلوع ہونے کی جگہ اور گرمی میں آفتاب کے طلوع ہونے کی جگہ ہے " رب المغربین" جاڑے میں آفتاب غروب ہونے کی جگہ اور گرمیوں میں اس کے غروب ہونے کی جگہ "لایبغیان" دونوں ملتے نہیں ہیں "منشات" وہ جہاز جن کے باد بان بلند کئے گئے ہوں اور جن کے بادبان بلند نہیں کئے گئے ہیں منشات نہیں ہیں اور مجاہد نے کہا نحاس سے مراد وہ تانبا جو پگھلا کر اس کے سروں پر ڈالا جائے گا اور ہو اس سے عذاب کئے جائیں گے خاف مقام ربہ کسی گناہ کا قصد کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اس کا ارادہ ترک کر دیتا ہے شواظ آگ کے شعلے مدھامتان گہرے سبز مائل بسیاہی وطین وہ مٹی جس میں ریت ملی ہو پس وہ کھنکھناتی ہے جس طرح ٹھیکری کھنکھناتی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں سڑا ہوا اس سے صل مراد لیتے ہیں صلصال بولا جاتا ہے جس طرح دروازہ بند کونے کے وقت بولتے ہیں صرالباب اور صرصر اس کی مثال ایسی ہے جیسے کببۃ بول کر کبکبۃ مراد لیتے ہیں فاکھۃ ونخل ورمان بعضوں نے کہا کہ رمان اور نخل ( انار کھجور) فواکہ میں سے نہیں ہے لیکن عرب اس کو فا کہہ شمار کرتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول کہ تمام نمازوں اور وسطی نماز کی حفاظت کرو تو اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کی نگہداشت کا حکم دیا پھر نماز وسطی کا دوبارہ تذکرہ کیا صرف اس کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے اسی طرح نخل اور رمان کا تذکرہ دوبارہ کیا اور اسی کی مثل یہ آیت ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں اور اکثر لوگ اللہ کو سجدہ کرتے ہیں پھر فرمایا کہ اور بہت سے لوگ ان پر عذاب ثابت ہو چکا ہے۔ من فی السموت ومن فی الارض کے ضمن میں تمام لوگوں کو ذکر ہو چکا ہے۔ لیکن کثیر من الناس علیحدہ کہا افنان سے مراد شاخیں ہیں وجنی الجنتین دان وہ پھل جو چنا جائے گا قریب ہوگا حسن نے کہا فبای الاء میں الاء سے مراد اس کی نعمتیں ہیں اور قتادہ نے کہا ربکما میں کما کا مرجع جن و انس ہیں اور ابوالدرداء نے کہا کل یوم ھو فی شان گناہ کو بخشتا ہے مصیبت کو دور کرتا ہے ایک قوم کو بلند کرتا ہے دوسری کو پست کرتا ہے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا برزخ سے مراد حاجز وروکنے والا ہے الانام خلق نضاختان جوش مارنے والے ذوالجلال عظمت والا اور دوسروں نے کہا مارج خالص آگ (جس میں دھواں نہ ہو) مرج الامیر رعیتہ اس وقت بولتے ہیں جب امیر ان کے درمیان تخلیہ کرا دے اس حال میں کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کی غرض سے دوڑے پڑتے ہوں مرج امر الناس لوگوں کا معاملہ مشتبہ ہو گیا مریج ملا ہوا مرج دو دریاؤں کو ملایا مرجعت (اب تک تو نے اپنے جانور چھوڑ دیئے) سے ماخوذ ہے سنفرغ لکم عنقریب ہم تمہارا محاسبہ کریں گے اس کو کوئی چیز کسی چیز کی طرف سے مشغول نہیں رکھ سکتی یہ اصطلاح کلام عرب میں مشہور ہے کہا جاتا ہے لاتفرغن لک میں تیرے لئے فارغ ہوں گا حالانکہ اسے کوئی کام نہیں کہتا ہے تیری غفلت پر تیرا مواخذہ کروں گا (آیت) ومن دونھما جنتان الخ۔

- تفسیر سورت الصافات اور مجاہد نے کہا "ویقذفون' بالغیب من مکان بعید میں مکان بعید سے مراد ہے ہر جگہ سے اور یقدفون من کل جانب میں یقدفون کے معنی ہیں وہ پھینکے جاتے ہیں واصب کے معنی ہمیشہ "لازب" بمعنی لازم "تا تو تناعن الیمین" میں الیمین سے مراد حق ہے یہ الفاظ کفار شیطان سے کہیں گے " غول" سے مراد پیٹ کی تکلیف ہے " یزفون" انکی عقلیں زائل نہ ہونگی " قرین" سے مراد شیطان ہے یھرعون تیز دوڑتے ہونگے یزفون تیز رفتاری سے چلتے ہونگے وبین الجنۃ نسباکفار قریش نے کہا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور انکی مائیں سردار جنوں کی بیٹیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنوں کو معلوم ہے کہ وہ حاضرکئے جائیں گے اور ابن عباس نے کہا کہ لنحن الصافون میں صافون سے فرشتے مراد ہیں اور صراط الجحیم سے مراد سوار الجحیم اور وسط الجحیم یعنی دوزخ کا درمیانی حصہ ہے لشوبا یعنی ان کے کھانے میں آمیزش ہوگی اور گرم پانی ملایا جائے گا مدحوار بھگایا ہوا ابیض مکنون سے مراد چھپا ہوا موتی ہے وترکنا علیۃ فی الاخرین سے مراد یہ ہے کہ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے یستسخرون وہ مذاق کرتے ہیں بعلا سے مراد ربا ہے یعنی سردار اور بیشک یونس علیہ السلام پیغمبر سے تھے ۔

- تفسیر سورت حم السجدہ!طاوس نے ابن عباس سے نقل کیا کہ ائتیا طوعا بمعنی اعطیا یعنی تم دونوں قالتا اتینا طائعین میں اتینا سے مراد اعطینا یعنی ہم نے دیا ہے اور منہال نے سعید سے نقل کیا انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ابن عباس سے کہا میں قرآن میں ایسی باتیں پاتا ہوں جو مجھ کو ایک دوسرے کے خلاف معلوم ہوتی ہیں اس دن ان کے درمیان رشتے ناطے نہیں ہوں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے اور ایک دوسرے پر متوجہ ہو کر آپس میں سوال کریں گے اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپائیں گے اور اے ہمارے رب ہم مشرک نہ تھے (ان آیات میں اختلاف ظاہر ہے) اور آیت ام السماء بناھا الخ میں آسمان کی پیدائش کو زمین کی پیدائش سے قبل بیان کیا پھر اللہ نے ائنکم لتکفرون بالذی الخ میں زمین کی پیدائش کو آسمان کی پیدائش کے بعد بتایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا وکان اللہ غفورا رحیما عزیزا حکیما سمیعا بصیرا (یعنی اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان تھا زبردست حکمت والا تھا سننے والا دیکھنے والا تھا) گویا پہلے (ان صفات سے متصف) تھا جو گزر چکا اب نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ فلا انساب بینھم کا تعلق نفحہ اولیٰ سے ہے تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں بے ہوش ہو جائیں گے بجز ان کے جن کو اللہ چاہے تو اس وقت ان کے درمیان نہ تو رشتے ناطے ہوں گے اور نہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے پھر دوسری بار پھونکے جانے پر ان میں سے بعض بعض سے سوال کریں گے اور اللہ تعالیٰ کا قول ما کنا مشرکین اور لا یکتمون اللہ الخ کی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اخلاص والوں کے گناہ بخش دے گا اور مشرکین کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے تو ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ وغیرہ بولیں گے اس وقت معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپائی نہیں جا سکتی اور زمین کو دو دن میں پیدا کیا پھر آسمان کو پیدا کیا پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کو دو دنوں میں برابر کیا پھر زمین کو بچھایا اور زمین کا بچھانا یہ ہے کہ اس سے پانی اور چرنے کی جگہ نکالی پہاڑ اور ٹیلے وغیرہ اور جو کچھ آسمان اور زمین کے درمیان ہے دوسرے دو دنوں میں پیدا کی اللہ تعالیٰ کے قول دحاھا کا یہی مطلب ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول کہ زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا اس کی صورت یہ ہے کہ زمین کو اور اس کے اندر کی تمام چیزوں کو چار دنوں میں پیدا کیا اور آسمان دو دنوں میں پیدا کئے گئے یعنی پہلے زمین کی تخلیق ہوئی اس کے بعد آسمان کی پھر زمین کی آبادی ہوئی لہذا آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے بعد اور زمین کی آبادی سے پہلے ہوئی باقی رہا کان اللہ غفورا رحیما تو اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ہی یہ رکھا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے اللہ تعالیٰ جس چیز کر بھی ارادہ کرتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے اس لئے قرآن میں تمہیں اختلاف نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ سارا کلام اللہ کی طرف سے ہے اور مجاہد نے کہا ممنون بمعنی محسوب (شمار کیا ہوا) ہے اقوتھا یعنی اس کی روزی ہے فی کل سماء امرھا یعنی وہ کام جس کا اللہ کی طرف سے حکما دیا گیا ہے نحسات نامبارک منحوس قیضنا لھم قرناء تتنزل علیھم الملائکۃ ہم نے ان کا ہم نشین مقرر کر دیا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں یعنی موت کے وقت اھتزت سر سبز ہوئی ربت بلند ہوئی دوسروں نے کہا کہ من اکمامھا سے یہ مراد ہے کہ جس وقت اپنے غلاف سے نکلتا ہے لیقولن ھذالی سے یہ مراد ہے کہ وہ کہیں گے کہ یہ میرے عمل کا بدلہ ہے اور میں اس کا سزا وار ہوں سواء للسائلین یعنی پوچھنے والوں کے لئے اس کا پورا اندازہ مقرر کیا فہدینا ہم سے مراد ہے کہ ہم نے اس کو بھلائی اور برائی کا راستہ بتا دیا جیسا کہ اللہ کا قول ھدیناہ النجدین اور ھدیناہ السبیل اور ہدایت کے معنی منزل مقصود کی طرف راہنمائی کے بھی ہیں اللہ کے قول اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ میں یہی مراد ہے یوزعون روکے جائیں گے من اکمامھا کم کی جمع ہے کلی کے اوپر کے چھلکے کو کہتے ہیں ولی حیمم قریبی دوست من محیص بھاگنے کی جگہ) حاص (بھاگا) سے مشتق ہے مریہ اور مریہ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی شک و شبہ اور مجاہد نے کہا اعملوا ماشئتم (جو چاہو کرو) وعید ہے اور ابن عباس نے کہا کہ التی ھی احسن سے مراد ہے غصہ کے وقت صبر کرنا اور برائی کے وقت معاف کرنا جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو محفوظ رکھے گا اور ان کے دشمن ان کے لئے نرم ہو جائیں گے گویا وہ قریبی دوست ہیں اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے کان تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھال گواہی دے گی بلکہ تم گمان کرتے تھے کہ اللہ تمہارے بہت کاموں کو نہیں جانتا ہے۔

- تفسیر سورت حم زخرف اور مجاہد نے کہا کہ علی امۃ سے مراد علی امام ہے اور آیت وقیلہ یا رب کی تفسیر یہ ہے کہ کیا وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ ہم انکے بھید اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے اور نہ ان کی باتوں کو سنتے ہیں ؟ اور ابن عباس نے کہا کہ لو لا ان یکون الناس امۃ واحدۃ کی تفسیر یہ ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ کافر ہو جائیں گے تو کافروں کے لئے چاندی کی چھت اور چاندی کی سیڑھیاں اور چاندی کے تخت بنا دیتے مقرنین کے معنی ہیں طاقت رکھنے والے اسفونا انہوں نے ہم کو ناراض کر دیا ومن یعش جو شخص اندھا بنتا ہے اور مجاہد نے کہا کہ افنضرب عنکم الذکر صفحا یعنی کیا ہم نصیحت کرنے سے پہلو تہی کریں گے کہ تم قرآان کو جھٹلاتے ہو پھر کیا تم پر اس کا عذاب نہ ہوگا ؟ ومضی مثل الاولین یعنی پہلے لوگوں کا طریقہ گزر چکا مقرنین یعنی اونٹ گھوڑے خچر اور گدھوں کو تابع بنانے والے ینشاء فی الحلیۃ زیور میں جس کی نشوونما ہوئی یعنی لڑکیاں جنہیں تم اللہ کی اولاد کہتے ہو تم کیوں کر حکم لگاتے ہو لو شاء الرحمن ما عبدناھم اگر اللہ چاہتا تو ہم ان بتوں کی پرستش نہ کرتے ہم سے مراد بت ہیں اللہ فرماتا ہے ما لھم بذلک من علم (ان کو اس کا علم نہیں) میں لھم کی ضمیر اوثان کی طرف راجع ہے یعنی وہ بت نہیں جانتے فی عقبیہ سے مراد ہے اپنا لڑکا مقترنین ایک ساتھ چلتے ہیں سلفا سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کافروں سے پہلے گزری ہوئی قوم فرعون ہے اور مثلا سے مراد عبرت ہے یصدون چیختے ہیں مبرمون اتفاق کرنے والے اول العابدین سے اول المومنین مراد ہے یعنی سب سے پہلے ایمان لانے والے اننی براء مما تعبدون میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو عرب نحن منک البراء والخلاء (ہم تجھ سے بیزار اور علیحدہ ہیں) بولتے ہیں واحد تثنیہ جمع مذکر و مونث میں براء استعمال ہوتا ہے اس لئے کہ یہ مصدر ہے اور اگر بری کہا جائے تو تثنیہ میں برائیان اور جمع میں برئیوں کہا جائے گا اور عبداللہ نے اننی بری یا کے ساتھ قرات کی ہے زخرف کے معنی ہیں سونا ملائکتہ یخلفون کے معنی میں کہ وہ فرشتے ایک دوسرے کے خلیفہ ہوتے (آیت) اور وہ لوگ پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! چاہئے کہ تمہارا رب ہم کو موت دے دے الخ۔

- تفسیر سورت زمر اور مجاہد نے کہا (افمن یتقی بوجہہ) کے معنی ہیں وہ جو اپنے چہرے کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح کیا وہ شخص جو آگ میں ڈال دیا جائے گا بہتر ہے یا وہ جو امن و سلامتی کے ساتھ آئیگا "ذی عوج" بمعنی لبس (متشبہ گڑبڑ) " ورجلا سلما لرجل" اس میں ان کے معبودان باطل اور معبود برحق کی مثال ہے یخوفونک بالذین من دونہ میں الذین من دونہ سے مراد بت ہیں خولنا ہم نے دیا والذی جاء بالصدق سے مراد قرآن اور صدق سے مراد مومن ہے جو قیامت کے دن آئے گا اور کہے گا کہ یہ وہ چیز ہے جو تو نے ہمیں دی اور ہم نے اس کے مطابق عمل کیا جو اس میں ہے متشاکسون شکس سخت کو جو انصاف پر رضا مندا نہ ہو رجلا سلما اور سالما سے مراد صالح ہے اشمازت نفرت کرنے لگے بماز تھم فوز سے مشتق ہے حافین چاروں طرف حلقہ باندھ کر گھوم رہے ہیں بحافیہ بجوانبہ (اس کے چاروں طرف) متشابھا اشتباہ سے ماخوذ نہیں ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تصدیق میں بعض کے مشابہ ہے (آیت) اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

- تفسیر سورت عبس ! عبس منہ بگاڑا اور روگردانی کی اور مطھرۃ سے مراد یہ ہے کہ اس کو صرف پاک لوگ یعنی فرشتے چھوتے ہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ فالمدبرات امرا کاموں کی تدبیر کر نے والے میں ملائکہ اور صحیفوں کو مطہرۃ قرار دیا ہے اس لئے کہ تطہیر صحیفوں پر واقع ہوتا ہے یعنی تطہیر صحیفوں کی صفت ہے تو اس کے اٹھانے والوں کی بھی صفت قرار دی گئی ہے سفرۃ سے مراد فرشتے ہیں واحد سافر ہے سفرت میں نے ان کے درمیان صلح کرادی اور فرشتے چونکہ وحی الہٰی لے کر نازل ہوتے ہیں اور اس کو پہنچاتے ہیں مثل سفیر کے ہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کراتے ہیں اور دوسروں نے کہا تصدی سے مراد یہ ہے کہ اس نے غفلت برتی اور مجاہد نے کہا لما یقض جس کا حکم دیا گیا اس کو کوئی پورا نہیں کرتا اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ترھقھا قترۃ اس کو سختی ڈھانک لے گی مسفرہ چمکنے والے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ بایدی سفرہ سفرۃ سے مرادلکھنے والے اور اسفار سے مراد کتابیں ہیں تلھی وہ مشغول ہو اکہا جاتا ہے کہ اسفار کا واحدسفر ہے ۔

- تفسیر سورت واقعہ! اور مجاہد نے کہا رجت بمعنی ہلائی جائے بست توڑے اور پیسے جائیں گے جس طرح ستو پیس کر باریک کیے جاتے ہیں المخضود جو بوجھ سے لدا ہوا ہو اور اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس میں کانٹا نہ ہو منضود کیلا عرب جو اپنے شوہروں سے محبت کرنے والی ہوں گی ثلثہ جماعت گروہ یحموم سیاہ دھواں یصرون ہمیشہ کرتے رہتے ہیں ھیم پیاسے اونٹ لمغرومون الزام دیئے گئے روح جنت اور خوش حالی ریحان رزق وننشاکم جس صورت میں ہم چاہیں پیدا کریں اور دوسروں نے کہا تفکھون تم تعجب کرتے ہو عربا مثقلہ ہے یعنی عین متحرک اور مضموم ہے اس کا واحد عروب ہے جیسے صبور اور صبر اہل مکہ اس کو عربہ اور اہل مدینہ غنجہ اور اہل عراق شکلہ کہتے ہیں اور کہا خافضۃ ایک قوم کو جہنم کی پستی میں لے جانے والی اور جنت کی طرف اوپر لے جانے والی موضونہ بنے ہوئے اسی سے وضین الناقتہ ماخوذ ہے اور کو ب وہ برتن ہے جس میں ٹونٹی اور دستہ نہ ہو اباریق وہ ہیں جن میں ٹوٹیاں اور دستے ہوں مسکوت بہتا ہوا فرش مرفوعہ ایک دوسرے کے اوپر بچھے ہوئے ہوں گے مترفین فائدہ اٹھانے والے ماتمنون نطفہ جو عورتوں کے رحم میں ٹپکاتے ہو للمقوین مسافروں کے لئے قی سے ماخوذ ہے۔ بمعنی چٹیل میدان بمواقع النجوم ستاروں کی جگہ یعنی قرآن کی محکم آیتوں کی قسم کھاتا ہوں اور بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد ستارے کے ڈوبنے کی جگہ ہے اور مواقع اور موقع موقع ایک ہی ہے مدھنون جھٹلانے والا ہیں جیسے لو یدھن فیدھنون میں ہے فسلام لک یعنی تجھ کو تسلیم کر لیا گیا ہے تو اصحاب یمین میں سے ہے اور اس میں ان کا لفظ نہیں لایا گیا ہے اور اس کی مثال یوں ہے جیسے تم کسی کو کہو انت مصدق مسافر عن قلیل یعنی تیری تصدیق کی جاتی ہے کہ تو عنقریب سفر کرنے والا ہے جب کہ اس نے خود کہا ہو کہ میں عنقریب سفر کرنے والا ہوں اور کبھی دعا کے طور پر بھی مستعمل ہوتا ہے جیسے فسقیا من الرجال (لوگ سیراب ہوں گے) اور سلام حالت رفع میں ہو تو دعا کے لئے ہوتا ہے تورون تم نکالتے ہو اور ریت بھڑکائی گئی لغوا باطل تاثیما جھوٹ۔ (آیت) وظل ممدود (اور پھیلا ہوا سایہ) ۔