TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
ایمان کا بیان
-
آدمی کے اسلام کی خوبی کا بیان
-
اپنے بھائی کے لئے وہی بات چاہنا جو اپنے لئے چاہے ایمان میں داخل ہے
-
ارشاد نبوی ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اور ایمان قول و فعل دونوں کو کہا جاتا ہے اور کم و بیش ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر فرمایا ہے تاکہ ایمان والوں کے ایمان پر ایمان بڑھ جائیں، اور ہم نے ان لوگوں کی ہدایت زیادہ کر دی، اور اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت کو بڑھا دیتا ہے، اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں ان کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے زیادہ کر دی، اور انہیں ان کا تقوی عنایت کر دیا، اور تاکہ ایمانداروں کا ایمان بڑھ جائے اور اللہ بزرگ و برتر کا ارشاد (ہے) تم میں سے کون ہے کہ جو اس ایمان کو بڑھا دے، پس جو لوگ ایمان والے ہیں ان کا ایمان اللہ تعالیٰ نے بڑھا دیا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ ان کو ڈراؤ
-
اس شخص کی فضیلت ( کا بیان) جو اپنے دین کے قائم رکھنے کے لئے گناہوں سے بچے
-
اگر (کوئی شخص) صدق دل سے اسلام نہ لایا ہو، بلکہ (کسی کے زبردستی) مسلمان کر لینے سے یا قتل کے خوف سے مسلمان ہوگیا ہو ( تو وہ شخص مومن نہیں ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ دیہاتی عرب کہتے ہیں آمنا ( ہم ایمان لائے اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (پس آمنا نہ کہو) لیکن اسلمنا (ہم اسلام لائے) کہو اور اگر (کوئی) سچ مچ اسلام لے آیا ہو تو وہ مومن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اللہ کے نزدیک دین مقبول اسلام ہی ہے
-
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوۃ دیں تو ان کے (قتل) کا عمل ترک کر دو
-
ان امور کا بیان جو ایمان میں داخل ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ یہ نیکی نہیں ہے کہ تم اپنے چہروں کو مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو، بلکہ نیکی وہ ہے جو خدا پر ایمان لائے المتقون تک (اور) یقیناً ایماندار کامیاب ہوں گے الآیۃ
-
انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے
-
اہل ایمان کا اعمال میں ایک دوسرے سے زیادہ ہونے کا بیان
-
ایمان کی کمی زیادتی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے بھی ثابت ہے اور ہم نے ان کی ہدایت زیادہ کر دی اور ایمان والوں کا ایمان بڑھ جائے (یہ بھی فرمایا ہے) کیونکہ کامل چیز میں سے کمی کی جائے گا تو اس کا نام نقصان ہے
-
ایک ظلم دوسرے ظلم سے کم ہے
-
بعض کا قول ہے کہ ایمان عمل ہے جس کی دلیل یہ آیت ہے اور یہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گۓ ہو اس کے عوض جو تم کیا کرتے تھے اور چند اہل علم نے اللہ تعالیٰ کے قول فوربک لنسئلنہم اجمعین عما کانو یعملون کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے مراد لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کے مثل عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے
-
ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھنا ایمان میں داخل ہے
-
جبرئیل کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایمان واسلام اور احسان و علم قیامت کے متعلق پوچھنا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان سے بیان کرنا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا کہ جبرئیل تمھیں تمہارا دین سکھانے آۓ تھے، آپ نے ان سب کو دین قرار دیا اور جو دین کی باتیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (قبیلہ) عبدالقیس کے لوگوں کو بیان فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے تو وہ کبھی قبول نہ کیا جائے گا
-
جنازوں کے ساتھ جانا ایمان ہے
-
جہاد کرنا ایمان کا جزو ہے
-
حدیث میں آیا ہے کہ اعمال نیت اور خیال کے مطابق ہوتے ہیں۔
-
حلاوت ایمان کا بیان
-
حیا جزو ایمان ہے
-
خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ کام ہے جو ہمیشہ کیا جائے
-
خمس کا ادا کرنا ایمان میں داخل ہے
-
دین بہت آسان ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے خدا تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ دین ہے جو سچا اور سیدھا ہے
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت رکھنا ایمان کا ایک جزو ہے
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھنا ایمان کا ایک جزو ہے
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور اس بات کا ثبوت کہ معرفت دل کا فعل ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ لیکن اللہ تم سے اس کا مواخذہ کرے گا جو تمہارے دلوں نے کیا ہو
-
رمضان کی راتوں میں نفل پڑھنا ایمان میں داخل ہے
-
زکوۃ کا ادا کرنا اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا کہ اللہ کی عبادت کریں خالص اسی کے عبادت گزار ہو کر اور سیدھے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں، یہی سیدھی راہ ہے
-
سلام کا رواج دنیا اسلام میں داخل ہے اور عمار نے کہا کہ تین باتوں کو جس شخص نے جمع کر لیا تو یقیناً اس نے ایمان (کے تمام شعبوں کو جمع کر لیا) اپنی ذات کے مقابلے میں انصاف کرنا اور تمام لوگوں کو (آشنا ہوں یا غیر آشنا) سلام کرنا اور تنگ دستی کے وقت خرچ کرنا
-
شب قدر میں قیام کرنا ایمان میں داخل ہے
-
شوہر کی ناشکری کا بیان اور (کفر کے مراتب مختلف ہیں) ایک کفر دوسرے کفر سے کم ہوتا ہے اس (مضمون) میں ابو سعید کی روایت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے
-
فتنوں سے بھاگنا دین داری ہے
-
گناہ جاہلیت کے کام ہیں، لیکن ان کے مرتکب کو اس وقت تک کافر نہیں کہا جائے گا جب تک وہ شرک نہ کرے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ (اے شخص) تو ایسا آدمی ہے جس میں جاہلیت کی باتیں پائی جاتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہ فرمائیں گے اس کے علاوہ جس کو چاہیں گے معاف فرما دیں گے، اور اگر مو 000
-
گناہ جاہلیت کے کام ہیں، لیکن ان کے مرتکب کو اس وقت تک کافر نہیں کہا جائے گا جب تک وہ شرک نہ کرے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ (اے شخص) تو ایسا آدمی ہے جس میں جاہلیت کی باتیں پائی جاتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف فرمائیں گے اس کے علاوہ جس کو چاہیں گے معاف فرما دیں گے، اور اگر مو 000
-
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں
-
منافق کی علامات کا بیان
-
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول اور ائمہ مسلمین اور عامۃ المسلمین کے لئے مخلص رہنا، دین ہے اور اللہ پاک کا قول اذا نصحو للہ ورسولہ
-
نماز ایمان میں داخل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ تمہارا ایمان ( نمازیں) جو تم نے بیت المقدس کی طرف پڑھی تھیں ضائع کر دے ( اس آیت میں نماز کو ایمان فرمایا گیا ہے)
-
کون سا اسلام افضل ہے
-
کھانا کھلانا بھی اسلام ہے
-
یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔
-
یہ بات بھی ایمان میں داخل ہے کہ کفر میں واپس جانے کو برا سمجھے جیسے (کوئی) آگ میں ڈالے جانے کو برا سمجھتا ہے