TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
صحیح بخاری
انبیاء علیہم السلام کا بیان
-
آب زم زم کا بیان
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نکاح کرنے اور ان کا مدینہ میں آنے اور ان کی رخصتی کا بیان۔
-
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اے خدا میرے صحابہ کی ہجرت کو قبول فرما اور جو لوگ( بغیر ہجرت) مکہ میں انتقال کر گئے تھے ان کے لئے آپ کے کڑھنے کا بیان۔
-
آیت کریمہ (اور ہم نے) ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (رسول بنا کر بھیجا) کا بیان۔ حجر والوں نے رسولوں کو جھٹلایا حجر ثمود کی جگہ کا نام ہے رہا حرث حجر یہاں اس کے معنی حرام اور ممنوع چیز کے ہیں تو وہ کھیتی حجر محجور ہوئی اور حجر ہر وہ عمارت جسے تم بناؤ اور جو زمین تم (عمارت کے ذریعہ) گھیر لو تو وہ بھی حجر ہے اسی وجہ سے حطیم کعبہ کو حجر کہتے ہیں گویا حطیم محطوم کے معنی میں ہے جیسے قتیل مقتول کے معنی میں ہے اور گھوڑی کو حجر کہا جاتا ہے اور عقل کو حجر اور حجی کہتے ہیں رہا حجر الیمامہ تو وہ ایک منزل کا نام ہے۔
-
آیت کریمہ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے قرآن بغور سنا کے ماتحت جنات کا بیان
-
آیت کریمہ آپ کے رب کی مہربانی کا ذکر اس کے بندے زکریا پر جب انہوں نے اپنے رب کو چپکے سے پکارا انہوں نے کہا اے رب میری ہڈیاں کمزور ہو گئیں اور میرے سر میں بڑھاپا چکنے لگا سمیا تک کا بیان ابن عباس نے فرمایا سمیا کے معنی ہیں مثل رضیا پسندیدہ عتیا یعنی نا فرمان عتا یعتو اس کا باب ہے زکریا نے کہا اے میرے رب میرے لڑکا کیونکر ہو سکتا ہے لیال سویا تک سویا کے معنی صحیح پھر زکریا اپنی قوم کے پاس اپنے عبادت خانے سے نکل کر آئے اور ان سے اشارہ سے کہا کہ اپنے پروردگار کی پاکی صبح و شام بیان کرو اوحی یعنی اشارہ کیا اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لو یبعث حیاتک حفیا یعنی لطیف و مہربان عاقر میں مذکر و مونث برابر ہیں ۔
-
آیت کریمہ اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا قصہ بتاؤ۔ اور اس کا قول اور لیکن میرا دل مطئمن ہو جائے۔ کا بیان
-
آیت کریمہ اور فرعون کے خاندان میں اس مومن نے کہا جو (ابتک اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرو گے جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے آخر آیت تک کا بیان
-
آیت کریمہ اور وہ (مہاجرین کو) اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود حاجت مند ہوں کا بیان
-
آیت کریمہ اور کیا آپ تک موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے جب انہوں نے آگ دیکھی طوی تک کا بیان آنست یعنی میں نے آگ دیکھی ہے تاکہ میں اس میں سے کچھ آگ لے کر آؤں ابن عباس فرماتے ہیں کہ مقدس کے معنی ہیں بابرکت طوی ایک وادی کا نام ہے سیرتہا یعنی اس کی حالت النہی یعنی پرہیز گاری بملکنا بمعنی باختیار خود ہوا یعنی بد بخت فارغاً یعنی سوائے موسیٰ کی یاد کے ہر چیز سے خالی ہے ردئَ یعنی (مدد گار) تاکہ وہ میری تصدیق کرے اور کہا جاتا ہے کہ ردء کے معنی فریاد رس یا مدد گار کے ہیں یبطش اور یبطش دونوں طرح ہے یاتمرون یعنی وہ مشورہ کر رہے ہیں جذوۃ یعنی (سوختہ) لکڑی کا وہ موٹا ٹکڑہ جس میں لپٹ (تو) نہیں (ہاں آگ ہے) سنشد یعنی ہم عنقریب تمہاری مدد کریں گے جب تم کسی کے مدد گار ہو جاؤ تو گویا تم اس کے بازو ہو گئے دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص حرف ادا نہ کر سکتا ہو یا اس کی زبان میں لکنت ہو یا وہ ف زیادہ بولتا ہو تو وہ عقدہ ہے ازری یعنی میری پشت فیسحتکم یعنی تمہیں ہلاک و برباد کرے گا المثلی امثل کا مو
-
آیت کریمہ اور ہم نے داؤد کو سلیمان (جیسا بیٹا) عنایت فرمایا وہ کتنا بہترین بندہ تھا بے شک وہ اللہ کی طرف بہت رجوع ہونے والا تھا کا بیان اواب کے معنی رجوع کرنے والا منیب کے معنی میں ہے اور فرمان خداوندی اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ ملے اور آیت کریمہ اور ان لوگوں نے اس چیز کی پیروی کی جو سلیمان کے زمانہ میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور ہوا کو ہم نے سلیمان کا مطیع بنا دیا صبح کو ایک ماہ کی مسافت اور شام کو ایک ماہ کی مسافت طے کر لیتی تھی اور ہم نے ان کے واسطے لوہے کا چشمہ بہا دیا اسلنا لہ عین القطر کے معنی ہیں ہم نے ان کے لئے لوہے کا چشمہ بہا دیا اور کچھ جنات ان کے تابع کر دیئے تھے جو اللہ کے حکم سے ان کے سامنے کام کیا کرتے تھے مجاہد نے کہا محاریب یعنی وہ عمارت جو محل سے کم ہو اور مورتیاں اور ایسے لگن جیسے حوض یعنی جیسے اونٹوں کا حوض ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا (وہ لگن ایسے تھے) جیسے زمین کے (بڑے بڑے) گڑھے اور ایک جگہ جمی ہوئی بڑی بڑی دیکھیں شکور تک پس جب ہم نے ان پر موت کا حکم جاری کر دیا تو کسی چیز نے ان کی موت کو نہیں بتایا مگر گھن کے کیڑے نے جو ان کا عصا کھاتا تھا منساتہ یعنی ان کا عصا سو جب وہ گرے المھین تک اللہ کے ذکر کے مقابلہ میں مال کی محبت کو میں نے پسند کیا سو وہ ان کی گردنیں اور کونچیں کاٹنے لگے الاصفاد یعنی بندھن مجاہد کہتے ہیں کہ صافنات مشتق ہے، صفن الفرس سے جب گھوڑا ایک پاؤں اٹھا کر سم کی نوک پر کھڑا ہو جائے الجیاد یعنی تیز رفتار جسداً یعنی شیطان رخا (یعنی اچھی اور عمدہ) حیث اصاب یعنی جہاں چاہے فامنن یعنی تم دو بغیر حساب یعنی بغیر کسی تکلیف و مضائقہ کے۔
-
آیت کریمہ اور ہمارے بندہ داؤد کو جو قوت والے تھے یاد کیجئے بیشک وہ اللہ کی طرف بہت رجوع ہونے والے تھے وفصل الخطاب تک مجاہد کہتے ہیں کہ فصل الخطاب سے مراد فیصلہ میں سمجھ بوجھ ہے لا تشطط یعنی زیادتی نہ کر اور ہمیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے نعجہ ہیں نعجہ عورت کو کہا جاتا ہے اور وہ شاۃ(بکری) کے معنی میں بھی آتا ہے، اور میرے پاس ایک نعجہ (عورت یا بکری) ہے سو یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھے دے دے اکفلنیھا کفلھا زکریا کی طرح ایک ہی معنی ہیں یعنی اسے اپنے ساتھ ملا لیا وعزنی یعنی وہ مجھ پر غالب آ گیا اعزازتہ کے معنی ہیں میں نے اسے غالب کر دیا فی الخطاب یعنی گفتگو میں بیشک اس نے تیری نعجہ کو اپنی نعجہ کے ساتھ ملا لینے کی درخواست میں تجھ پر ظلم کیا اور اکثر شرکاء باہم ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں انما فتناہ تک ابن عباس نے فرمایا فتناہ کے معنی ہیں ہم نے انہیں آزمایا اور حضرت عمر نے فتناہ بتشدید تا پڑھا ہے پس انہوں نے اپنے پروردگار سے استغفار کیا اور سجدہ میں گر پڑے اور اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔
-
آیت کریمہ بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصہ) میں پوچھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں کا بیان
-
آیت کریمہ جب لوط علیہ السلام کے پاس فرشتے آئے تو انہوں نے کہا کہ تم اجنبی لوگ ہو کا بیان برکنہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ تھے کیونکہ وہ ان کی قوت (بازو) تھے ترکنوا کے معنی تم مائل ہوتے ہو انکرھم نکرہم اور استنکرھم کے ایک ہی معنی ہیں یھرعون کے معنی دو دوڑتے تھے دابر کے معنی آخر صیحہ کے معنی ہلاک کرنے والی آواز للمتوسمین کے معنی دیکھنے والوں کے لبسبیل یعنی راستہ میں ۔
-
آیت کریمہ کا بیان (اور ہم نے) لوط کو رسول اللہ بن کر بھیجا) جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم کیوں بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہو، تم کیوں عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس للچاتے ہوئے آتے ہو؟ کچھ بھی نہیں تم تو جاہل لوگ ہو تو ان کی قوم کا جواب صرف یہ تھا کہ لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو بڑا تقدس جھاڑتے ہیں تو ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو ان کی بیوی کے علاوہ نجات دی ہم نے ان کی بیوی کو مقرر کر دیا تھا رہ جانے والوں میں سے اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) برساؤ برسایا پس کتنا برا تھا ڈرائے ہوؤں کا یہ برساؤ۔
-
آیت کریمہ کا بیان اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ نے تمہیں برگزیدہ کیا اور تمہیں پاک کیا اور دنیا جہاں کی عورتوں پر تمہیں برگزیدہ کیا اے مریم اپنے رب کی عبادت کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو یہ غیب کی خبریں ہیں جن کی ہم تم پر وحی بھیجتے ہیں اور آپ اس وقت ان کے پاس نہیں تھے جب وہ اپنے قلموں کو ( بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ کون مریم کا کفیل ہو اور آپ اس وقت ان کے پاس نہیں تھے جب وہ (اسی کفالت کے سلسلہ میں) جھگڑا کر رہے تھے کہا جاتا ہے یکفل یعنی ملاتا ہے کفلھا یعنی اسے ملایا یہ بغیر تشدید کے ہے اور کفالت دیون سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
-
آیت کریمہ کیا تم یعقوب کی وفات کے وقت موجود تھے۔ آخر آیت کا بیان
-
آیت کریمہاور کتاب میں اسمٰعیل کا ذکر کرو بیشک وہ وعدہ کے سچے ۔ کا بیان
-
آیت کریمہاور ہم نے داؤد کو زبور مرحمت فرمائی کا بیان زبر یعنی کتابیں ان کا مفرد زبور ہے زبرت یعنی میں نے لکھا اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بزرگی عنایت فرمائی اور ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا کہ) اے پہاڑو! ان کے ساتھ تسبیح پڑھو مجاہد کہتے ہیں کہ اوبی معہ یعنی ان کے ساتھ تسبیح پڑھو اور پرندوں کو بھی (حکم دیا) اور ہم نے ان کے لئے لوہا نرم کر دیا کہ زرہیں بناؤ سابغات یعنی زرہیں اور خاص انداز رکھو بنانے میں سرد کے معنی زرہ کی کیلیں اور حلقے (یعنی) نہ تو کیلوں کو باریک کرو کہ وہ ڈھیلی ہو جائیں اور نہ موٹا کرو کہ ٹوٹ جائیں اور اچھے عمل کرو بے شک میں تمہارے عمل کو دیکھ رہا ہوں ۔
-
آیت کریمہکیا تم یعقوب کی وفات کے وقت موجود تھے کا بیان
-
ابو طالب کے قصہ کا بیان
-
ابو عمرو قرشی حضرت عثمان بن عفان کے مناقب کا بیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی تھا کہ جس نے چاہ رومہ کھدوایا اس کے لئے جنت ہے اور اس کو حضرت عثمان نے کھدوایا تھا اور جس نے جیش عسرت کا سامان درست کر دیا وہ بھی جنت کا مستحق ہے اور اس کا حضرت عثمان نے تمام سامان تیار کیا تھا۔
-
اپنے نسب کو سب و شتم سے بچانے کو پسند کرنے کا بیان
-
ارشاد نبوی نیکو کار انصاریوں کی نیکی قبول کرو اور خطا کاروں سے درگزر کرو کا بیان
-
ارشادرسالت مآب اگر میں نے ہجرت نہ کی ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا کا بیان اس کو عبداللہ بن زید نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
-
اس باب میں کوئی سرخی نہیں ہے۔
-
اس باب میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
-
اس فرمان الٰہی کا بیان کہ اور کتاب میں مریم کا ذکر کیجئے جب وہ اپنے گھر والوں سے جدا ہو گئیں نبذناہ یعنی ہم نے اسے ڈال دیا وہ جدا ہو گئیں شرقیا یعنی وہ گوشہ جو مشرق کی طرف تھا فاجائھا یہ جئت کا باب افعال ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کے معنی الجاھا یعنی مجبو و مضطر کر دیا تساقط یعنی گرائے گی قصیا یعنی بعدی فریا یعنی بڑی بات۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ نسیاً کے معنی ہیں میں کچھ نہ ہوتی دوسرے لوگوں نے کہا کہ نسی حقیر کو کہتے ہیں ابووائل فرماتے ہیں کہ مریم اس بات کو جانتی تھیں کہ متقی ہی عقل مند ہوتا ہے یعنی بری باتوں سے بچتا ہے جبھی تو انہوں نے کہا کہ اگر تو پرہیز گار ہے وکیع اسرائیل اور ابواسحق نے براء سے نقل کیا ہے کہ سریا سریانی زبان میں چھوٹی نہر کو کہتے ہیں ۔
-
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
-
اسلم غفار مزینہ جہینہ اور اشجع کے تذکروں کا بیان
-
اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما کی منقبت کا بیان
-
اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے سامنے زوجہ فرعون کی مثال بیان کرتا ہے آخر آیت تک کا بیان
-
اللہ تعالیٰ کا فرماناور اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست بنایا ۔ اور بے شک ابراہیم (علیہ السلام) خدا کی عبادت کرنے والے تھے۔ اور بے شک ابراہیم (علیہ السلام) نرم دل اور بردبار تھے) کا بیان ابومیسرہ کہتے ہیں کہ اواہ کے معنی حبشی زبان میں رحیم کے ہیں ۔
-
انصار سے ارشاد نبوی تم صبر کرنا حتیٰ کہ مجھ سے حوض(کوثر) پر ملاقات ہو کا بیان۔ اس حدیث کو عبداللہ بن زید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
-
انصار سے فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم تم مجھے سب سے زیادہ محبوب ہونے کا بیان۔
-
انصار سے محبت رکھنے کا بیان
-
انصار کی اتباع کرنے کا بیان
-
انصار کے گھرانوں کی فضیلت کا بیان
-
انصار کے مناقب کا بیان اور آیت کریمہ اور جو لوگ دار ہجرت اور دار السلام یعنی مدینہ منورہ میں مہاجرین (کے آنے) سے پہلے قیام کئے ہوئے ہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دیا جائے تو وہ اس سے اپنے دلوں میں خلش نہیں پاتے۔
-
انصار کے وفود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکہ اور بیعت العقبہ میں جانے کا بیان
-
اہل یمن سے حضرت اسمٰعیل کی رشتہ داری کا بیان قبائل یمن میں سے اسام بن افصی بن حارثہ بن عمرو بن عامر ہیں جو قبیلہ خزاعہ کے نام سے مشہور ہیں ۔
-
بزرگی اور فخر کی باتوں کے بیان میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یا یھا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثی وجعلنا کم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم اور اس کا ارشاد ہے واتقو اللہ الذی تساء لون بہ والارحام ان اللہ کان علیکم رقیبا اور جاہلیت کے دعوؤں سے کیا چیز منع ہے شعوب کے معنی دور کا نسب ہیں اور قبائل کے معنی اس سے نزدیک کا نسب ہیں ۔
-
بنی اسرائیل میں ابرص نابینا اور ایک گنجے کا بیان !
-
بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان
-
جاہلیت کی طرح گفتگو کرنے کی ممانعت
-
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان ہادوا کے معنی ہیں یہودی ہوں گے لین (قرآن میں جو) ھدنا ہے اس کے معنے ہیں ہم نے توبہ کی ہائد توبہ کرنے والے کو کہتے ہیں ۔
-
حبشیوں کا قصہ اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کہ اے بنی ارفدہ کا بیان
-
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان
-
حضرت ابوالحسن علی بن ابی طالب قرشی ہاشمی کے فضائل کا بیان رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا تھا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور حضرت عمر کا بیان ہے کہ آآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بوقت وفات ان سے راضی تھے۔
-
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولی بلال بن رباح کے فضائل کا بیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تھا میں نے جنت میں اپنے آگے آگے تمہاری جوتیوں کی آواز سنی ہے۔
-
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا بیان
-
حضرت ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم کے فضائل کا بیان
-
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا بیان
-
حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
-
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
-
حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہم نے ادریس (علیہ السلام) کو بلند مرتبہ عنایت کیا عبدان عبداللہ یونس زہری (دوسری سند)
-
حضرت اسامہ بن زید کے فضائل کا بیان
-
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا بیان۔
-
حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہاشمی کے فضائل کا بیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تھا (اے جعفر) تم صورت و سیرت میں میرے مشابہ ہو۔
-
حضرت حذیفہ بن یمان عبسی رضی اللہ عنہ کا بیان۔
-
حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل کا بیان نافع بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوہریرہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن کو اپنے سینہ اور گلے سے لگا لیا۔
-
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
-
حضرت زبیر بن عوام کے فضائل کا بیان ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری تھے اور سفید پوش کو حواری کہتے ہیں ۔
-
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
-
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان بنو زہرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ننہالی عزیز ہیں اور سعد بن مالک آپ کے ماموں تھے۔
-
حضرت سعد بن عبادہ کی منقبت کا بیان حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ وہ اس (واقعہ افک) سے پہلے نیک آدمی تھے۔
-
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
-
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کا بیان
-
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے اسلام کا بیان۔
-
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے اسلام کا بیان۔
-
حضرت طلحہ بن عبیداللہ کے فضائل کا بیان، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راضی تھے۔
-
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
-
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان۔
-
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
-
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
-
حضرت عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
-
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
-
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت کرنے پر سب کے متفق ہونے کا بیان
-
حضرت عمار و حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان
-
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام کا بیان۔
-
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں ۔
-
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
-
خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے یہ اہل کتاب (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو ایسا پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں لیکن جان بوجھ کر حق کو چھپاتے ہیں
-
خود کو اپنے باپ دادا کی طرف اسلام یا زمانہ جاہلیت میں منسوب کرنے کا بیان حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کریم ابن کریم ابن کریم ابن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ ہیں اور حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں عبدالمطلب کا فرزند ہوں (اس طرح کا انتساب اگر فخر کے طور پر نہ ہو تو جائز ہے) ۔
-
داؤد علیہ السلام کا نماز روزہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہونے کا بیان داؤد علیہ السلام آدھی رات تک سوتے تہائی حصہ رات میں عبادت گزارتے اور پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے اور آپ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھا کرتے علی کہتے ہیں اور یہی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ سحر کے وقت آنحضرت میرے پاس ہمیشہ سوئے ہوئے ملے۔
-
دور جاہلیت میں قسامت کا بیان۔
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسمائے گرامی اور فرمان الٰہی کہمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں تیز ہیں اور اللہ کا فرمان میرے بعد ایک نبی آئے گا جس کا نام احمد ہوگا ۔ کا بیان
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف کا بیان
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی مخالفت) پر مشرکین کا (آپس میں عہد و پیمان کر کے) قسمیں کھانے کا بیان۔
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو مشرکین کے ہاتھوں تکالیف پہنچنے کا بیان۔
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی مدینہ میں تشریف آوری کا بیان۔
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبکر کے دروازہ کے علاوہ مسجد میں سب کے دروازے بند کر دو جس کو حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا بیان اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدر کہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے فضائل حضرت براء نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا (آپ نے زید سے فرمایا تم ہمارے بھائی اور آزاد کردہ غلام ہو۔
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اگر میں کسی کو خلیل بناتا جس کو ابوسعید نے نقل کیا ہے کا بیان
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب پر ابوبکر صدیق کی افضلیت کا بیان
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں خصوصاً آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام کے فضائل کا بیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنت کی عورتوں کی سردار ہو گی۔
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ داروں کا بیان جن میں ابوالعاص بن ربیع بھی ہیں ۔
-
زم زم اور عرب کی جہالت کا بیان
-
زمانہ جاہلیت کا بیان
-
زید بن عمرو بن نفیل کے قصہ کا بیان
-
سر کار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہاجرین و انصار کے درمیان اخوت قائم کرنا
-
شب اسراء کی حدیث اور آیت قرآنی ہے وہ ذات جو راتوں رات اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی کا بیان۔
-
شق القمر کا بیان۔
-
صحابہ کے فضائل کا بیان جس مسلمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ہے۔
-
طوفان کا بیان طوفان کبھی سیلاب کا ہوت ہے اور لوگوں کے زیادہ مرنے کو بھی طوفان کہتے ہیں القمل کے معنی چیچڑی جو چھوٹی جوں کی طرح ہوتی ہے حقیق کے معنی ہیں لائق اور حق سقط یعنی نادم ہوا جو شخص نادم ہوتا ہے تو وہ اپنے ہاتھ پر گر پڑتا ہے۔ واقعہ خضر و موسیٰ علیہما السلام۔
-
عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے اترنے کا بیان
-
غار والوں کا قصہ
-
فرمان الٰہی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں دنیا میں (اپنا) ایک خلیفہ بنانے والا ہوں کا بیان ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا لما علیھا حافظ یعنی مگر اس کا حفاظت کرنے والا ہے فی کبد کے معنی سخت پیدائش ریاشا کے معنی مال دوسرے لوگوں نے کہا ہے ریاش اور ریش ایک ہی ہیں یعنی ظاہری لباس ماتمنون کے معنی ہیں کہ تم منی عورتوں کے رحم میں ڈالتے ہو اور مجاہد نے کہا کہ آیت کریمہ بے شک وہ اس کے واپس کر دینے پر قادر ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ نطفہ کو پھر احلیل ذکر میں واپس کر دے جو چیز بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہے وہ جفت ہے آسمان بھی جفت ہے اور یکتا تو اللہ تعالیٰ ہے فی احسن تقویم کے معنی ہیں عمدہ پیدائش میں اسفل سافلین سے مومن مستثنیٰ ہے خسرو کے معنی گمراہی پھر اس سے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو مستثنیٰ کیا لازب کے معنی چپکنے والی ننشئکم یعنی جس صورت میں ہم چاہیں پیدا کر دیں نسبح بحمدک یعنی تیری عظمت بیان کرتے ہیں ابوالعالیہ نے کہا کہ فتلقی آدم من ربہ کلمات میں کلمات سے مراد ربنا ظلمنا انفسنا ہے فازلھما کے معنی ہیں کہ انہیں بہکا دیا یتسنہ کے معنی خراب ہو جاتا ہے اسن کے معنی متغیر مسنون کے معنی بھی متغیر حماء حماۃ کی جمع ہے سڑی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں یخصفان یعنی جنت کے پتوں کو جوڑنے لگے یعنی ایک پتہ کو دوسرے پتہ پر جوڑنے لگے سواتھما یعنی ان کی شرمگاہیں متاع الی حین یہاں حین سے مراد قیامت کے دن تک ہے اہل عرب کے نزدیک حین کے معنی ایک ساعت سے لے کر لا تعداد وقت کے آتے ہیں قبیلہ کے معنی اس کی وہ جماعت جس سے وہ خود ہے۔
-
فرمان الٰہی اور کیا آپ تک موسیٰ کا واقعہ پہنچا اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو کلام سے نوازا کا بیان
-
فرمان الٰہی اور ہم نے نجات دی ایوب کو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا اے پروردگار مجھے تکلیف پہنچ رہی ہے اور تو بڑا ارحم الراحمین ہے۔ کا بیان ارکض کے معنی ہیں تو مار یرکضون کے معنی ہیں دوڑتے ہیں ۔
-
فرمان الٰہی اور یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیجئے میں ان کا تھوڑا سا قصہ تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں ہم نے انہیں حکومت دی تھی اور ہم نے ہر قسم کا سامان انہیں دیا سو وہ ایک راستہ پر (با ارادہ فتوحات) چلے میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ تک زبر کا مفرد زبرہ یعنی ٹکڑے یہاں تک کہ جب انہوں نے دو پہاڑوں کے درمیان برابر کر دیا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے صدفین کے معنی دو پہاڑ اور سدین کے معنی بھی دو پہاڑ خرجا کے معنی اجرت تو ذوالقرنین نے کہا اسے پھونکوحتیٰ کہ جب اسے آگ (کی طرح) سرخ کر دیا تو ذوالقرنین نے کہا کہ میرے پاس آؤ میں اس پر قطرہ ڈالدوں قطر کے معنی رانگ بعض کہتے ہیں کہ لوہا اور بعض کہتے ہیں کہ پیتل اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ تانبا نہ وہ اس پر چڑھنے کی طاقت رکھتے ہیں یظہر وہ کے معنی وہ اس کے اوپر چڑھیں استطاع اطعت لہ کا باب استفعال ہے اسی وجہ سے مفتوح پڑھا گیا ہے کہ اسطاع یسطیع اور بعض کہتے ہیں کہ استطاع یستطیع اور نہ وہ اس میں سوراخ کر سکتے ہیں ذوالقرنین نے کہا یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے اور جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر ڈالے گا دکاء کے معنی اسے زمین سے ملا دے گا ناقہ دکاء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کی کوہان نہ ہو اور دکداک وہ زمین ہے جو ہموار ہونے کی وجہ سے اتنی سخت ہوگئی ہو کہ اس پر پڑیاں جمی ہوں اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے اور اہم اس دن ان کی یہ حالت کردینگے کہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہو جائیں گے حتیٰ کہ یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے قتادہ کہتے ہیں کہ حدب کے معنی ہیں ٹیلہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں نے ایک دیوار منقش چادر کی طرح دیکھی ہے (کیا یہی سدسکندری ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تو نے اسے دیکھ لیا ہے۔
-
فرمان الٰہی بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف (یہ پیغام دیکر) بھیجا کہ اپنی قوم کو ان پر درد ناک عذاب آنے سے پہلے ڈرائیے۔ آخر سورت تک اور آیت کریمہ اور ان کو نوح علیہ السلام کا قصہ پڑھا کر سنائیے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم اگر تمہیں میرا مقام اور احکام الٰہی کی تمہیں نصیحت کرنا شاق گزرتا ہے مسلمین تک کا بیان۔
-
فرمان خداوندی اور بیشک یونس پیغمبروں میں سے ہیں ملیم تک مجاہد نے کہا ملیم یعنی گناہگار المشحون یعنی بھری ہوئی اور لدی ہوئی سو اگر وہ تسبیح پڑھنے والے نہ ہوتے الایۃ فنبذناہ بالعراء یعنی ہم نے انہیں زمین میں ڈالا اور وہ بیمار تھے اور ہم نے ان کے قریب ایک بغیر تنا والا درخت جیسے کدور وغیرہ پیدا کر دیا یقطین بغیر تنا کے درخت جیسے کدور وغیرہ اور ہم نے یونس کو ایک لاکھ یا اس سے زیادہ آدمیوں کے پاس بھیجا پھر وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں کچھ دنوں تک نفع اندوز کیا اور (اے محمد) تم مچھلی والے کی طرح نہ ہوجانا جب انہوں نے خدا کو پکارا اور وہ سخت غمزدہ تھے مکظوم کظیم یعنی غمزدہ ۔
-
فرمان خداوندی اور رہے عاد تو انہیں بہت تیز اور سخت ہوا سے برباد کر دیا گیا صر صر کے معنی تیز ہوا ابن عیینہ کہتے ہیں کہ عاتیہ اس ہوا کو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے پاسبانوں سے سرکشی کرتی ہے وہ ہوا سات راتیں آٹھ دن تک مسلسل مسلط رہی حسوماً یعنی مسلسل لگاتار پس تم لوگوں کو وہاں گرا ہوا دیکھتے ہو گویا کہ وہ کھجور کے درختوں کی جڑیں (اور تنے) ہیں اعجاز یعنی اس کی جڑیں تو کیا تم ان کا نشان باقی دیکھتے ہو باقیہ کے معنی ہیں بقیہ بچا کھچا۔
-
فرمان خداوندی وہ اپنے بتوں کے پاس جمع بیٹھے تھے کا بیان متبر یعنی نقصان (رسیدہ) والیتبر وا یعنی وہ ہلاک کر دیں گے ماعلوا یعن وہ چیز جس پر ان کا قبضہ ہو جائے گا۔
-
فرمان خداوندی کا بیان کہ اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم کن فیکون تک یبشرک اور یبشرک ایک ہی معنی میں ہیں وجیھا یعنی شریف و معزز ابراہیم نے فرمایا المسیح یعنی صدیق مجاہد نے فرمایا الکھل یعنی بردبار الاکمہ جسے دن کو نظر آئے رات کو نہ آئے دوسرے لوگوں نے کہا کہ اکمتہ کے معنی مادر زاد نابینا۔
-
قبیلہ خزاعہ کا بیان
-
قحطانیوں کا بیان
-
قرشی عدوی ابوحفص حضرت عمر بن خطاب کے فضائل کا بیان
-
قریش کی خوبیوں کا بیان
-
قریش کی زبان میں قرآن مجید کے نزول کا بیان
-
قوم کے بھانجہ اور غلام کو اسی قوم میں شمار کرنے کا بیان
-
مشرکین کی خواہش تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کوئی معجزہ دکھلائیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو شق القمر کا معجزہ دکھلایا۔
-
معراج کا بیان۔
-
مملکت حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کا بیان حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری ہجرت کی جگہ خواب میں دیکھی ہے وہاں کھجوروں کے درخت (بکثرت) ہیں اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان ہے اس کے بعد جس نے ہجرت مدینہ کی طرف کی اور اکثر وہ لوگ بھی جو حبشہ ہجرت کر گئے تھے واپس آ گئے ۔ اس مضمون میں ابوموسیٰ اور اسماء بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔
-
مندرجہ ذیل آیت کریمہ کا بیان اور بے شک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر کرو فخور تک ولا تصعر یعنی رخ نہ پھیرو۔
-
مندرجہ ذیل آیت کریمہ کا بیان اور کتاب میں مریم کا ذکر کیجئے جب وہ اپنے گھر والوں سے مشرقی مکان میں جدا ہو گئیں جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تمہیں ایک بات کی خوشخبری دیتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم اور نوح اور آل ابراہیم و آل عمران کو تمام جہانوں پر گزیدہ کیا بغیر حساب تک ابن عباس نے فرمایا کہ آل عمران سے آل ابراہیم آل عمران آل یاسین اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مومنین مراد ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمام لوگوں میں ابراہیم کے سب سے زیادہ قریب ان کے متبعین ہیں اور وہ مسلمان ہیں کہا جاتا ہے کہ آل یعقوب سے اہل یعقوب مراد ہیں جب آل کی تصغیر کر کے اصل کی طرف لے جائیں تو اہیل کہیں گے۔
-
مندرجہ ذیل آیت کریمہ کا بیان، اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ کیا اور ہم نے انہیں دس رات زیادہ کر کے پورا کیا پس ان کے پروردگار کا وقت چالیس راتیں پوری ہو گئیں اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہاروں سے کہا تم میری قوم میں میرے نائب ہو اور اصلاح کرتے رہنا، اور فساد کرنے والوں کے طریقہ کی پیروی نہ کرنا اور جب موسیٰ ہمارے وقت کے مطابق آئے اور انہیں ان کے رب نے کلام سے نوازا تو انہوں نے درخواست کی کہ اے پروردگار تو مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں اللہ نے کہا تو مجھے کبھی بھی نہیں دیکھ سکتا اول المو
-
موسیٰ کی وفات اور اس کے بعد کے حالات کا بیان
-
مہاجر کا مکہ میں حج ادا کرنے کے بعد ٹھہرنے کا بیان ۔
-
مہاجروں کے مناقب اور فضیلتوں کا بیان ان میں سے حضرت ابوبکر عبداللہ بن ابی قحافہ تیمی بھی ایک مہاجر ہیں باری تعالیٰ کا ارشاد ان حاجت مند مہاجرین کا بالخصوص حق ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے (جبراً و ظلما) جدا کر دیئے گئے وہ اللہ تعالیٰ فضل( یعنی جنت) اور رضا مندی کے طالب ہیں وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ( کے دین) کی مدد کرتے ہیں اور یہی لوگ ایمان کے سچے ہیں اور باری تعالیٰ کا یہ ارشاد (یعنی اگر تم ان محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی مدد نہ کرو گے پس اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا حضرت عائشہ صدیقہ! ابوسعید اور ابن عباس فرماتے ہیں کہ ابوبکر غار ثور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔
-
مہر نبوت کہاں تھی؟
-
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کنیت کا بیان
-
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا بیان
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان عبداللہ بن زید اور ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اگر میں نے ہجرت نہ کی ہوتی تو میں انصار میں ایک فرد ہوتا اور ابوموسیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جس میں کھجور کے درخت (بکثرت) ہیں تو میرے خیال میں آیا کہ وہ یمامہ یا ہجر ہے لیکن وہ مدینہ یعنی یثرب تھا۔
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اپنے اصحاب کے درمیان اخوت قائم کرائی عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کرایا جب کہ ہم مدینہ میں آئے اور ابوجحیفہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابوالدرداء کے درمیان بھائی چارگی قائم کرائی۔
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نکاح اور ان کی فضیلت کا بیان
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا (اے اللہ) انصار اور مہاجرین کی حالت درست فرما کا بیان۔
-
نجاشی (شاہ حبشہ) کی وفات کا بیان
-
نیند کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں سوجاتی اور دل بیدار رہتا تھا سعید بن میناء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
-
کعبہ کی تعمیر کا بیان
-
یزفون یعنی تیز چلنے کا بیان
-
یہ باب بھی سرخی سے خالی ہے۔
-
یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔
-
یہ باب عنوان سے خالی ہے۔
-
یہ بات ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔