انبیاء علیہم السلام کا بیان

- آیت کریمہ اور کیا آپ تک موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے جب انہوں نے آگ دیکھی طوی تک کا بیان آنست یعنی میں نے آگ دیکھی ہے تاکہ میں اس میں سے کچھ آگ لے کر آؤں ابن عباس فرماتے ہیں کہ مقدس کے معنی ہیں بابرکت طوی ایک وادی کا نام ہے سیرتہا یعنی اس کی حالت النہی یعنی پرہیز گاری بملکنا بمعنی باختیار خود ہوا یعنی بد بخت فارغاً یعنی سوائے موسیٰ کی یاد کے ہر چیز سے خالی ہے ردئَ یعنی (مدد گار) تاکہ وہ میری تصدیق کرے اور کہا جاتا ہے کہ ردء کے معنی فریاد رس یا مدد گار کے ہیں یبطش اور یبطش دونوں طرح ہے یاتمرون یعنی وہ مشورہ کر رہے ہیں جذوۃ یعنی (سوختہ) لکڑی کا وہ موٹا ٹکڑہ جس میں لپٹ (تو) نہیں (ہاں آگ ہے) سنشد یعنی ہم عنقریب تمہاری مدد کریں گے جب تم کسی کے مدد گار ہو جاؤ تو گویا تم اس کے بازو ہو گئے دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص حرف ادا نہ کر سکتا ہو یا اس کی زبان میں لکنت ہو یا وہ ف زیادہ بولتا ہو تو وہ عقدہ ہے ازری یعنی میری پشت فیسحتکم یعنی تمہیں ہلاک و برباد کرے گا المثلی امثل کا مو

- آیت کریمہ اور ہم نے داؤد کو سلیمان (جیسا بیٹا) عنایت فرمایا وہ کتنا بہترین بندہ تھا بے شک وہ اللہ کی طرف بہت رجوع ہونے والا تھا کا بیان اواب کے معنی رجوع کرنے والا منیب کے معنی میں ہے اور فرمان خداوندی اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ ملے اور آیت کریمہ اور ان لوگوں نے اس چیز کی پیروی کی جو سلیمان کے زمانہ میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور ہوا کو ہم نے سلیمان کا مطیع بنا دیا صبح کو ایک ماہ کی مسافت اور شام کو ایک ماہ کی مسافت طے کر لیتی تھی اور ہم نے ان کے واسطے لوہے کا چشمہ بہا دیا اسلنا لہ عین القطر کے معنی ہیں ہم نے ان کے لئے لوہے کا چشمہ بہا دیا اور کچھ جنات ان کے تابع کر دیئے تھے جو اللہ کے حکم سے ان کے سامنے کام کیا کرتے تھے مجاہد نے کہا محاریب یعنی وہ عمارت جو محل سے کم ہو اور مورتیاں اور ایسے لگن جیسے حوض یعنی جیسے اونٹوں کا حوض ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا (وہ لگن ایسے تھے) جیسے زمین کے (بڑے بڑے) گڑھے اور ایک جگہ جمی ہوئی بڑی بڑی دیکھیں شکور تک پس جب ہم نے ان پر موت کا حکم جاری کر دیا تو کسی چیز نے ان کی موت کو نہیں بتایا مگر گھن کے کیڑے نے جو ان کا عصا کھاتا تھا منساتہ یعنی ان کا عصا سو جب وہ گرے المھین تک اللہ کے ذکر کے مقابلہ میں مال کی محبت کو میں نے پسند کیا سو وہ ان کی گردنیں اور کونچیں کاٹنے لگے الاصفاد یعنی بندھن مجاہد کہتے ہیں کہ صافنات مشتق ہے، صفن الفرس سے جب گھوڑا ایک پاؤں اٹھا کر سم کی نوک پر کھڑا ہو جائے الجیاد یعنی تیز رفتار جسداً یعنی شیطان رخا (یعنی اچھی اور عمدہ) حیث اصاب یعنی جہاں چاہے فامنن یعنی تم دو بغیر حساب یعنی بغیر کسی تکلیف و مضائقہ کے۔

- آیت کریمہ اور ہمارے بندہ داؤد کو جو قوت والے تھے یاد کیجئے بیشک وہ اللہ کی طرف بہت رجوع ہونے والے تھے وفصل الخطاب تک مجاہد کہتے ہیں کہ فصل الخطاب سے مراد فیصلہ میں سمجھ بوجھ ہے لا تشطط یعنی زیادتی نہ کر اور ہمیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے نعجہ ہیں نعجہ عورت کو کہا جاتا ہے اور وہ شاۃ(بکری) کے معنی میں بھی آتا ہے، اور میرے پاس ایک نعجہ (عورت یا بکری) ہے سو یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھے دے دے اکفلنیھا کفلھا زکریا کی طرح ایک ہی معنی ہیں یعنی اسے اپنے ساتھ ملا لیا وعزنی یعنی وہ مجھ پر غالب آ گیا اعزازتہ کے معنی ہیں میں نے اسے غالب کر دیا فی الخطاب یعنی گفتگو میں بیشک اس نے تیری نعجہ کو اپنی نعجہ کے ساتھ ملا لینے کی درخواست میں تجھ پر ظلم کیا اور اکثر شرکاء باہم ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں انما فتناہ تک ابن عباس نے فرمایا فتناہ کے معنی ہیں ہم نے انہیں آزمایا اور حضرت عمر نے فتناہ بتشدید تا پڑھا ہے پس انہوں نے اپنے پروردگار سے استغفار کیا اور سجدہ میں گر پڑے اور اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔

- فرمان الٰہی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں دنیا میں (اپنا) ایک خلیفہ بنانے والا ہوں کا بیان ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا لما علیھا حافظ یعنی مگر اس کا حفاظت کرنے والا ہے فی کبد کے معنی سخت پیدائش ریاشا کے معنی مال دوسرے لوگوں نے کہا ہے ریاش اور ریش ایک ہی ہیں یعنی ظاہری لباس ماتمنون کے معنی ہیں کہ تم منی عورتوں کے رحم میں ڈالتے ہو اور مجاہد نے کہا کہ آیت کریمہ بے شک وہ اس کے واپس کر دینے پر قادر ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ نطفہ کو پھر احلیل ذکر میں واپس کر دے جو چیز بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہے وہ جفت ہے آسمان بھی جفت ہے اور یکتا تو اللہ تعالیٰ ہے فی احسن تقویم کے معنی ہیں عمدہ پیدائش میں اسفل سافلین سے مومن مستثنیٰ ہے خسرو کے معنی گمراہی پھر اس سے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو مستثنیٰ کیا لازب کے معنی چپکنے والی ننشئکم یعنی جس صورت میں ہم چاہیں پیدا کر دیں نسبح بحمدک یعنی تیری عظمت بیان کرتے ہیں ابوالعالیہ نے کہا کہ فتلقی آدم من ربہ کلمات میں کلمات سے مراد ربنا ظلمنا انفسنا ہے فازلھما کے معنی ہیں کہ انہیں بہکا دیا یتسنہ کے معنی خراب ہو جاتا ہے اسن کے معنی متغیر مسنون کے معنی بھی متغیر حماء حماۃ کی جمع ہے سڑی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں یخصفان یعنی جنت کے پتوں کو جوڑنے لگے یعنی ایک پتہ کو دوسرے پتہ پر جوڑنے لگے سواتھما یعنی ان کی شرمگاہیں متاع الی حین یہاں حین سے مراد قیامت کے دن تک ہے اہل عرب کے نزدیک حین کے معنی ایک ساعت سے لے کر لا تعداد وقت کے آتے ہیں قبیلہ کے معنی اس کی وہ جماعت جس سے وہ خود ہے۔

- فرمان الٰہی اور یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیجئے میں ان کا تھوڑا سا قصہ تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں ہم نے انہیں حکومت دی تھی اور ہم نے ہر قسم کا سامان انہیں دیا سو وہ ایک راستہ پر (با ارادہ فتوحات) چلے میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ تک زبر کا مفرد زبرہ یعنی ٹکڑے یہاں تک کہ جب انہوں نے دو پہاڑوں کے درمیان برابر کر دیا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے صدفین کے معنی دو پہاڑ اور سدین کے معنی بھی دو پہاڑ خرجا کے معنی اجرت تو ذوالقرنین نے کہا اسے پھونکوحتیٰ کہ جب اسے آگ (کی طرح) سرخ کر دیا تو ذوالقرنین نے کہا کہ میرے پاس آؤ میں اس پر قطرہ ڈالدوں قطر کے معنی رانگ بعض کہتے ہیں کہ لوہا اور بعض کہتے ہیں کہ پیتل اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ تانبا نہ وہ اس پر چڑھنے کی طاقت رکھتے ہیں یظہر وہ کے معنی وہ اس کے اوپر چڑھیں استطاع اطعت لہ کا باب استفعال ہے اسی وجہ سے مفتوح پڑھا گیا ہے کہ اسطاع یسطیع اور بعض کہتے ہیں کہ استطاع یستطیع اور نہ وہ اس میں سوراخ کر سکتے ہیں ذوالقرنین نے کہا یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے اور جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر ڈالے گا دکاء کے معنی اسے زمین سے ملا دے گا ناقہ دکاء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کی کوہان نہ ہو اور دکداک وہ زمین ہے جو ہموار ہونے کی وجہ سے اتنی سخت ہوگئی ہو کہ اس پر پڑیاں جمی ہوں اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے اور اہم اس دن ان کی یہ حالت کردینگے کہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہو جائیں گے حتیٰ کہ یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے قتادہ کہتے ہیں کہ حدب کے معنی ہیں ٹیلہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں نے ایک دیوار منقش چادر کی طرح دیکھی ہے (کیا یہی سدسکندری ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تو نے اسے دیکھ لیا ہے۔