چالیس روز تکبیر اولیٰ کے ساتھ با جماعت نماز پڑھنے والے کے لیے خوشخبری

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلّٰی لِلّٰہِ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا فِی جَمَاعَۃٍ یُدْرِکُ التَّکْبِیْرَۃَ الْاُوْلٰی کُتِبَ لَہ، بَرأَتَانِ بَرَاءَ ۃٌ مِّنَ النَّارِوَ بَرَاءَ ۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ۔ (رواہ الترمذی)-
" اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو آدمی چالیس روز تک اللہ تعالیٰ کے لیے جماعت کے ساتھ اس طرح نماز پڑھے کہ وہ تکبیر اولی بھی پائے تو اس کے لیے دو قسم کی نجات لکھی جاتی ہے ایک تو دوزخ سے نجات اور دوسری نفاق سے نجات۔" (جامع ترمذی ) تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو مسلسل چالیس روز تک یہ سعادت حاصل ہو جائے کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضاء کی خاطر جماعت سے نماز اس طرح پڑھے کہ اس کی تکبیر تحریمہ فوت نہ ہو یعنی وہ ابتداء سے نماز میں شریک رہے کہ جب امام تکبرتحریمہ کہے تو وہ بھی تکبیر کہے یا بعض علماء کے قول کے مطابق زیادہ سے زیادہ امام کے سبحانک اللہم پڑھنے تک جماعت میں شریک ہو جائے تو اس کے لیے بارگاہ رب العزت سے دو چیزوں سے نجات کا پروانہ عنایت فرما دیا جاتا ہے ایک تو دوزخ سے کہ اسے نشاء اللہ دوزخ کی آگ دیکھنا نصیب نہیں ہوگی اور دوسری نفاق سے۔
-