نماز میں کنکریاں نہ ہٹانے کا حکم

وَعَنْ اَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ اَحَدُکُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَـلَا یَمْسَحُ الْحَصَا فَاِنَّ الرَّحْمَۃَ تُوَاجِھُہ، ۔ (رواہ احمد بن حنبل والترمذی، وابوداؤد و النسائی و ابن ماجۃ)-
" اور حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کو نین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو جائے تو اسے ہاتھ سے کنکری نہیں ہٹانی چاہیے کیونکہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے ۔ " (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی ِ سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح رحمت سامنے ہوتی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی دنیا سے منہ موڑ کر نماز کی حالت میں اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے سامنے رحمت الہٰی کا نزول ہوتا ہے اس لیے ایسے مقدس و باعظمت موقع پر نمازی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کنکریوں سے کھیل کرے یا اس قسم کا کوئی دوسرا فعل کر کے بے ادبی کا معاملہ کرے کہ جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے انوار فضل و رحمت سے محروم ہو جائے۔
-